Explained with ayahs 185–186
موت وحیات اور یوم حساب
تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ 26ښ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ 27ۚ) 55۔ الرحمن :2627) یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہوگا، جن انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مرجائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا، جب سب مرجائیں گے مدت ختم ہوجائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 131
یعنی ان کے طعن وتشنیع، ان کے الزامات، ان کے بیہودہ طرز کلام اور ان کی جھوٹی نشر و اشاعت کے مقابلہ میں بےصبر ہو کر تم ایسی باتوں پر نہ اتر آؤ جو صداقت و انصاف، وقار و تہذیب اور اخلاق فاضلہ کے خلاف ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
فکر آخرت سارے غموں کا علاج اور شبہات کا جواب ہے۔
چھٹی آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر کبھی کسی جگہ کافروں کو غلبہ ہی ہوجائے اور دنیا کی عیش و عشرت پوری پوری مل جائے اور مسلمانوں کو اس کے برعکس کچھ مصائب و مشکلات اور اسباب دنیا کی تنگی بھی پیش آجائے، تو یہ کوئی تعجب کی بات ہے نہ غمگین ہونے کی، کیونکہ اس حقیقت سے کسی مذہب و مشرب والے کو اور کسی فلسفہ والے کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دنیا کے رنج و راحت دونوں چند روزہ ہیں، کوئی جاندار موت سے نہیں بچ سکتا، اور دنیا کی راحت و مصیبت اکثر تو دنیا ہی میں حالات بدل کر ختم ہوجاتی ہیں اور بالفرض دنیا میں نہ بدلی تو موت پر سب کا خاتمہ ہوجانا یقینی…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو صبر اور تقوی کی تلقین : لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ اَمْوَالِكُمْ الایہ، یہ مسلمانوں کو معاندین کی تمام سرگرمیوں کے علی الرغم صبر اور تقوی پر جمے رہنے کی تلقین ہے۔ فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین کے ہاتھوں تمہیں جانی و مالی آزمائشیں بھی پیش آنی ہیں اور ان کی طرف سے تمہیں ابھی بہت سی دل آزار باتیں بھی سننی پڑیں گی۔ یہ در اصل تمہارے صبر اور تقوی کا امتحان ہے۔ اگر ان باتوں کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور تم نے حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھا تو یہی وہ عزیمت کا مقام ہے جو انبیائے اولو العزم اور ان کے جاں نثاروں کا خاص حصہ ہے اور جو بالآخر اس راہ میں کامیابی کی کلید ہے۔
Read the full tafseer →186۔ 1 اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمانے کا بیان ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 155 میں گزر چکا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے ابھی اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور جنگ بدر بھی نہیں ہوئی تھی کہ نبی ﷺ حضرت سعد بن عباد ؓ کی عیادت کے لئے بنی حارث بن خزرج میں تشریف لے گئے۔ راستے میں ایک مجلس میں مشرکین، یہود اور عبد اللہ بن ابی وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کی سواری کی جو گرد اٹھی، اس نے اس پر بھی ناگواری کا اظہار کیا اور آپ ﷺ نے انہیں ٹھہر کر قبول اسلام کی دعوت بھی دی جس پر عبد اللہ بن ابی نے گستاخانہ کلمات بھی کہے۔ وہاں بعض مسلمان بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →جب یہ حقیقت انسان کے اندر جگہ پکڑلیتی ہے اور جب نفس انسانی اپنے حساب و کتاب سے زندہ رہنے کی تڑپ نکال دیتا ہے ‘ کیونکہ ہر نفس نے بہرحال ایک دن مرنا ہے اور اسی طرح جب اس نے اپنی فہرست ترجیحات سے دنیا کے نظر فریب سامان کو بھی نکال دیا تو اس وقت پھر اللہ اہل ایمان سے بات کرتے ہیں کہ ان کے لئے مالی اور جانی آزمائشیں آنے والی ہیں ۔ اور اسی وقت پھر وہ ان قربانیوں کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ…
Read the full tafseer →1 یہ خطاب مسلمانوں کو ہے کہ آیندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑینگی قتل کیا جانا زخمی ہونا، قیدو بند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا اقارب کا چھوٹنا، اس طرح کی سختیاں پیش آئینگی، نیز اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دل آزار باتیں سننا پڑینگی۔ ان سب کا علاج صبر وتقویٰ ہے۔ اگر صبر و استقلال اور پرہیزگاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ بڑی ہمت اور اولوالعزمی کا کام ہوگا۔ جس کی تاکید حق تعالیٰ نے فرمائی ہے۔
(تنبیہ) بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت بدر سے پہلے نازل ہوئی، قتال کا حکم اس کے بعد ہوا، تاہم صبر وتقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–187
آیت 186 لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف
یہ وہی مضمون ہے جو سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت 155 اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں ‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے اور بغیر…
Read the full tafseer →185 یہ انتباہ کرکے مسلمانوں کو اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کے لیے آمادہ کیا جارہا ہے اور آزمائش کے فوائد پہلے بتلائے جاچکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ ابتلاء سے صبر و استقامت کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اخلاقی کمزوریوں کا علاج ہوتا ہے۔ درجات بلند ہوتے ہیں اور مومنوں اور منافقوں میں امتیاز ہوجاتا ہے۔
186 یہود اور مشرکین کے ہاتھوں مسلمانوں کو جو تکالیف پہنچیں ان کی فہرست بڑی طویل ہے، اور کتاب و سنت میں جا بجا مذکور ہیں۔ ان کا حصران حواشی میں ممکن نہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دور نبوی میں ہجرت نبوی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی آپ کی زندگی انہیں لوگوں سے دکھ اٹھاتے گزری تو بےجا نہ ہوگا، اور مسلمانوں…
Read the full tafseer →389 ۔ (اے مسلمانو ! ) یعنی نقصان مال اور نقصان جان دونوں طرح تمہاری آزمائش ہوگی (آیت) ” وانفسکم “۔ اس سے رد نکل آیا ان فلاسفہ ومتکلمین کا جنہوں نے مادئین کی طرح نفس کو صرف جسم مادی ومرئی کے مرادف قرار دیا ہے۔ وھذ الایۃ دلیل علی ان النفسھی الجسم المعاین وان مافیہ المعنی الباطل کما قال بعض اھل الکلام و الفلاسفۃ (مدارک)
390 ۔ (سوصبر وثبات، تحمل و استقامت کی عادت برابر قائم رکھنا چاہیے) (آیت) ” اذی کثیرا “ میں دین کی تحقیر، پیغمبر کی توہین وغیرہ سب چیزیں آگئیں۔ قرآن مجید کی یہ پیش گوئی آج تک کیسی صحیح آتی ہے۔ یہود کی، مسیحیوں کی، ہندوؤں کی زبانوں سے اپنے پیغمبر، اپنے دین اور اپنی کتاب کے بارے میں…
Read the full tafseer →لَتُبْلَوُنَّ فِی اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ (الآیۃ) اے مسلمانو ! تمہیں مال اور جان کی آزمائش پیش آکر رہے گی اور اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔
اہل ایمان کی آزمائش : اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمایا جائے گا جیسا کہ سورة بقرہ میں آیت 155 میں گزر چکا ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین سے تکلیف پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی طرف سے دین اسلام کی تحقیر پیغمبر اسلام کی توہین اور ان کی طعن وتشنیع اور ان کے الزامات اور ان کا بیہودہ طرز کلام سننا پڑے گا لہٰذا تم ان کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام…
Read the full tafseer →لتبلون فی اموالکم و انفسکم تمہاری ضرور آزمائش کی جائے گی مالوں اور جانوں (کے سلسلہ) میں یعنی اوامر تکلیفیہ دے کر جیسے زکوٰۃ، صدقات، روزہ، نماز، حج اور جہاد یا تکالیف میں مبتلا کرکے جیسے (طرح طرح کی) مصیبتیں مالی تباہیاں آفات تجارتی گھاٹا، بیماریاں اور دوستوں عزیزوں کی موت۔
و لتسمعن من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم من الذین اشرکوا اذًی کَثیرا اور تم ضرور سنو گے ان لوگوں سے جن کو کتاب تم سے پہلے دی گئی اور مشرکوں سے دکھ کی باتیں بہت۔ یعنی رسول اللہ کی ہجا، دین پر طعنے ‘ مسلمانوں کے خلاف کافروں کو ترغیب اللہ نے اس بات کی اطلاع پہلے سے اس لیے دیدی کہ آئندہ ہونے والے واقعات سے وہ تنگدل نہ ہوں، صبر…
Read the full tafseer →(186) کفار رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کو جو تکالیف پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں۔ اپنے اموال کے ختم ہوجانے بیماریوں اور قتل ہر قسم کی تکالیف سے آزمائے جاؤ گے اور یہود و نصاری اور مشرکین عرب سے گالی گلوچ طعن وتشنیع اور اللہ تعالیٰ پر الزامات سنو گے، اگر ان الزامات اور اس طرح کی دیگر تکالیف میں صبر کرکے اللہ کی نافرمانی سے بچو گے تو یہ صبر بہترین کاموں اور بہت تاکیدی امور سے ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ولتسمعن من الذین“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ اور ابن منذر ؒ نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ (آیت) ”ان اللہ فقیرا“۔ سے یہاں تک حضرت ابوبکرصدیق ؓ اور فخاص کے مابین جو…
Read the full tafseer →یہ خطاب نبی ﷺ اور عام مسلمانوں سے ہے کہ آئندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور تمہیں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی، جیسے اموال کا تلف ہوجانا اور بیمار پڑجانا وغیرہ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے تمہیں انتہائی دل آزار اور جگر خراش طعن و تشنیع، بےہودہ گفتگو اور جھوٹے الزامات سننا پڑیں گے، جیسا کہ منافقین نے ہر طرح ستایا۔ سورة منافقون اور سورة توبہ میں تفصیل دیکھ لیں، نیز کعب بن اشرف یہودی نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی ہجو کی اور اپنے قصائد میں مسلمان خواتین کا نام لے کر تشبیب کہی۔ مگر ان کا علاج یہ ہے کہ تم صبر، یعنی ثابت قدمی اور استقلال سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 186۔
یہ خطاب حضور نبی رحمت ﷺ اور آپ کی امت کو ہے اور معنی یہ ہے : تم آزمائے جاؤ گے اور یقینا تمہارا امتحان لیاجائے گا اور مالوں میں مصائب کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی تکلیف کے ساتھ اور تمام شرعی پابندیاں لگانے کے ساتھ، اور جانوں میں آزمائش موت، امراض میں مبتلا کرنے اور دوست احباب کے فوت ہونے کے ساتھ ہوتی ہے چونکہ مالوں کے سبب مصائب زیادہ ہوتے ہیں اس لئے پہلے ذکر اموال کا فرمایا (آیت) ” ولتسمعن “۔ اگر کہا جائے : (آیت) ” لتبلون “ میں واؤ کیوں ثابت رہی اور (آیت) ” ولتسمعن “ سے کیوں حذف کردی گئی تو جواب یہ ہے کہ (آیت) ” لتبلون “ میں واؤ کا ماقبل مفتوح ہے پس اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” لتبلون “ الایہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بتایا کہ وہ ایمان والوں کو عنقریب آزمائیں گے اور دیکھیں گے کس طرح وہ صبر کرتے ہیں اپنے دین پر۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے اس بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد کعب بن اشرف ہے اور وہ ابھارتا تھا مشرکین کو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر اپنے شعروں میں اور ہو ہجو کرتا تھا نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی۔
(3) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →[لَتُـبْـلَوُنَّ : تم لوگوں کو لازماً آزمایا جائے گا ] [فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ : تمہارے اموال میں ] [وَاَنْفُسِکُمْ : اور تمہاری جانوں میں ] [وَلَـتَسْمَعُنَّ : اور تم لوگ لازماً سنو گے ] [مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی
الْـکِتٰبَ : کتاب ] [مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [وَمِنَ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں سے جنہوں نے ] [اَشْرَکُوْٓا : شرک کیا
اَذًی کَثِیْرًا : بہت زیادہ اذیت (کی باتیں) ] [وَاِنْ تَصْبِرُوْا : اور اگر تم لوگ ثابت قدم رہے ] [وَتَـتَّقُوْا : اور تم لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ] [فَاِنَّ : تو یقینا ] [ذٰلِکَ : یہ ] [مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ : حوصلے کے کاموں…
Read the full tafseer →جانوں اور مالوں میں تمہاری ضرور آزمائش ہوگی
اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کو بتادیا ہے کہ صبر اور آزمائش کے جو واقعات تمہارے سامنے آئے یہ نہ سمجھو کہ یہ آخری ہیں انکے بعد بھی ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے، جن سے تمہاری آزمائش ہوتی رہے گی، یہ آزمائش جانوں میں بھی ہوگی اور مالوں میں بھی ہوگی، ہمت اور حوصلہ کے ساتھ سب کو برداشت کرتے رہو، نیز اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہیں ایذا پہنچاتے رہیں گے اور ان سے ایسی باتیں سنو گے جن سے تمہیں دکھ پہنچے گا، دشمن اپنی حرکت سے باز نہ آئے گا، تمہیں ان کی ایذاؤں سے اور بدزبانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ صبر اختیار کرو اور تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دو تمہارے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…
Read the full tafseer →283 یہاں تیسری بار مضمون انفاق و قتال کا لف و نشر مرتب کے طور پر اعادہ کیا گیا ہے۔ فرمایا ابھی تم پر مال و جان کے سلسلے میں کئی امتحانات آئیں گے۔ مال میں امتحان یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر کارہائے خیر میں مال خرچ کرنے کا حکم ہوگا۔ یا مال پر آفات و بلیات آئیں گی اور جان میں ابتلاء یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہوگا۔ قتل و جراح، قید و بند اور دیگر مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ای لتختبرن (فی اموالکم) بالانفاق فی سبیل اللہ و بما یقع فیھا من الافات (وفی انفسکم) بالقتل والاسر والجراح و ما یرد علیھا من انواع المصائب (مدارک ج 1 ص 155) ۔ اس لیے ان امتحانات کے لیے تیار ہوجاؤ اور ان تکالیف…
Read the full tafseer →ربط آیات : گذشتہ دروس میں پیغمبر خدا ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو اہل کتاب کی ایذا رسانیوں کے خلاف تسلی دی گئی تھی۔ کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ اس سے دل برداشتہ نہ ہوں ، کیونکہ یہ لوگ تو ہمیشہ سے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کرتے رہے ہیں حالانکہ وہ پیغمبر اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں ، کتاب اور نصیحت آموز باتیں لے کر آتے رہے۔ فرمایا اہل کتاب کی بےہودہ باتوں سے قطع نظر آپ تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں۔ نیز فرمایا کہ ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور اس گھاٹی کو عبور کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے وہاں ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔…
Read the full tafseer →لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ اَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ 0 ۣ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَذًى كَثِيْرًا 0 ۭ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 186
بلی
يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
ترکیب : کل نفس گرچہ نکرہ ہے مگر اس مقام پر مبتدا اور ذائقۃ الموت خبر انما کاف ہے اور اس لئے اجور کم کو فعل کی وجہ سے نصب ہوا اور اگر بمعنی الذی ہوتا تو اجورکم کو رفع ہوتا فمن زحزح الخ شرط فقد فاز جواب ومن الذین اشرکوا معطوف ہے من الذین اوتوا الکتاب پر اذی موصوف کثیرا صفت مفعول ہیں لتسمعن کا۔
تفسیر : قرآن میں مخالفوں کے ایذا پر صبر کرنا جابجا ہے : پہلے تھا کہ اگر یہود نے آپ کی تکذیب کی تو کچھ نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ یہاں جو کچھ کرتے ہیں کرلیں آخر ہر شخص کو مرنا ہے کس لئے کہ جسم کی رطوبت غریزیہ 1 ؎ کو اس کی حرارت غریزیہ فنا کرتے خود بھی فنا ہوجاتی ہے…
Read the full tafseer →لَـتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِـکُمْ وَاَنْـفُسِکُمْ قف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا ط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَـتَّـقُـوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔
(تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور سنوگے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تم سے پہلے اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک یہ عزیمت کے احوال میں سے ہے) (186)
مزید آزمائشوں کی خبر
جنگ احد پر تبصرہ کے سلسلے میں اس سے پہلے یہ بات ہم پڑھ چکے ہیں کہ جنگ احد مسلمانوں کے لیے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احد میں مالی، جانی نقصان اور یہودیوں کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کے لیے غلط ثبوت کا مطالبہ مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ اس لیے انہیں تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ دنیا ہر کسی کے لیے آزمائش ہے خاص کر انبیاء اور مومنوں کے لیے اسے امتحان گاہ اور کڑی آزمائش کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ مومن کا مال اور اس کی جان آزمائش کی بھٹی میں اس لیے جھونکے جاتے ہیں تاکہ مال کا حق ادا کرنے کے بعد مومن کا مال خالص ہوجائے۔ مومنوں کو اس لیے آزمایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بن کر زندگی بسر کریں۔ آزمائش اور امتحان کا یہ بھی مقصد ہے کہ…
Read the full tafseer →شدائد سہنے کے عادی بنو :
186: لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ لَتُبْلَوُنَّ (ضرور اللہ کی قسم تمہاری آزمائش ہوگی) فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ (تمہارے اموال میں) ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کا حکم دے کر اور اس پر آفات کے ذریعہ وَاَنْفُسِکُمْ ( اور تمہارے نفسوں میں) قتل قید، زخم اور نفوس پر قسم قسم کے جو مصائب و مواقع خوف آتے رہتے ہیں۔
نفس جو آنکھوں سے نظر آئے :
آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نفس آنکھوں…
Read the full tafseer →(شان نزول)
(تفسیر) 186۔ :
(آیت)” لتبلون فی اموالکم وانفسکم “۔ عکرمہ ؓ ، مقاتل (رح) ، کلبی (رح) ، ابن جریج (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابی بکر اور فخاض بن عاز وراء کے متعلق نازل ہوئی ، اس کا واقعہ یہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فخاض بن عاز وراء بنو قینقاع کے سردار کے پاس کچھ مالی تعاون کے لیے بھیجا اور ایک تحریر بھی لکھ دی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا کہ میرے بغیر تیری میں کچھ حرکت نہ کر بیٹھنا یہاں تک کہ آپ میرے پاس لوٹ آئے ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ گردن میں تلوار لٹکائے فخاض کے پاس پہنچے اور اس کو تحریر نامہ دیا ، جب اس نے پڑھا تو کہنے لگا کہ تیرا رب محتاج ہوگیا کہ وہ ہم سے مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
(185 ۔ 186) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دہرمی پر صبر اور درگذر کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ ان کی ہٹ دہرمی کچھ نئی ہے۔ بلکہ ان کے بڑوں سے بھی ہوتی آئی ہے یہ آیتیں اس ہدایت کی تکمیل میں نازل فرما کر فرمایا کہ یہ تو آخر سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں اچھے اور بڑے کسی کو قیام نہیں موت سب کے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھے برے جو مرگئے ان کو تو دنیا کی بھلائی برائی کا نتیجہ معلوم ہوگیا جو رہ گئے ہیں ان کو بھی یہی موقع پیش آنے والا ہے۔ فقط آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اور آنکھ کا بند ہونا کچھ دور نہیں۔ کوئی اس میں آگے ہے کوئی پیچھے اور جب بھلائی برائی کا نتیجہ وقت…
Read the full tafseer →آیت 186
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اموال میں اللہ کی راہ میں واجب اور مستحب نفقات کے ذریعے سے آزمایا جائے گا اور خو دان کو ایسی بوجھل تکالیف میں مبتلا کیا جائے گا جو اکثر لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، جہاد میں مشقت، قتل، اسیری اور زخموں سے واسطہ پڑتا ہے اور مثلاً امراض جو خود اسے یا اس کے کسی محبوب فرد کو لاحق ہوجاتے ہیں۔
(ولتسبعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوآ اذی کثیراً ) یعنی تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے خود تمہاری ذات، تمہارے دین، تمہاری کتاب اور تمہارے رسول کے بارے میں طعنے سننے پڑیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…
Read the full tafseer →398 اہل ایمان کی ابتلاء و آزمائش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ [ ایمان والو ] تم لوگوں کی آزمائش ضرور بالضرور ہوگی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی " کہ تم سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو بھی کہا جائے گا اور جان پیش کرنے کو بھی۔ کہ جہاد فی سبیل اللہ میں ان دونوں کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح فقر و افلاس اور بیماری و مصیبت کے ذریعے بھی تمہاری آزمائش ہوگی۔ تاکہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز ہو سکے۔ اور ہر ایک کے باطن کی کیفیت نکھر کر سامنے آجائے۔ پس تم نے اے مسلمانو ایسے ہر موقع پر اطاعت شعاری و فرمانبرداری، صبر و برداشت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–187
جان و مال کی آزمائش، اہل کتاب کا عہد
تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ تمہاری نیکی، تقوٰی اور ایمان کو آزمایا جائے گا کبھی جان کے نقصان سے کبھی مال اور عزت و وقار کے نقصان سے۔ کیونکہ اہل کتاب ہر صورت تمہیں پریشان کریں گے۔ ان کی طرف سے دی گئی تکالیف سے ہرگز پریشان نہ ہونا بلکہ پورے صبر، سکون، ہمت اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سب کچھ برداشت کرکے ثابت قدم رہنا۔ کیونکہ یہ بڑے حوصلے، کا میابی اور نجات کا راستہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو یہ اعتراض کرنا تو یاد رہا کہ آگ کا معجزہ دکھائیں۔ ان کو اپنا وہ عہد کیوں بھول گیا جس کا ذکر بائبل میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 6 یہ خطاب نبی ﷺ اور عام مسلمانوں سے ہے آئندہ بھی جان ومال میں تمہارا آزمائش ہوگی اور تمہیں ہر قسم کی قربانیا پیش کرنا ہوں گی جیسے اموال کا تلف ہوجاتا بیمار پڑنا وغیرہ اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے تمہیں انتہائی دل آزار اور جگر خراش طعن وتشنیع بیہودہ گفتگو اور جھوٹے الزامات سننا پڑیں گے جسیا کہ منافقین نے ہر طرح سے ستایا ہے اور کعب بن اشرف یہودی نے آپ ﷺ اور صحابہ ؓ کی بجو اور مسلمان خواتین کی تشبیب میں قصائص نظم کئے۔ مگر ان سب کا علاج یہ ہے کہ تم صبر ثابت قدمی اور استقلال سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کا نقوی ٰ اپنے دلوں میں رکھو۔ اگر صبر وتقویٰ سے ان آزمائشوں کا مقابلہ کروگے تو یہ نہایت ہمت…
Read the full tafseer →(3:186) لتبلون۔ مضارع مجہول بلام تاکید ونون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر بلاء سے بلی مادہ۔ بلاء سے ماضی جب باب سمع سے آتی ہے تو اس کے معنی بوسیدہ ہونے کے آتے ہیں۔ بلی الثوب کپڑا بوسیدہ اور پرانا ہوگیا۔ اور جب اس کی ماضی باب نصر سے آتی ہے تو امتحان اور آزمائش کے معنی ہوتے ہیں مثلاً انا بلانھم کما بلونا اصحت الجنۃ (68:17) تحقیق ہم نے آزمایا ان کو جیسا کہ ہم نے اصحاب الجنۃ کو آزمایا تھا۔
لتبلون۔ یقینا تم ضرور آزمائے جاؤ گے۔ فی۔ کے باب میں۔
لتسمعن۔ سمع سے مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقلیہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ضرور سنو گے۔
اذی۔ ہر وہ ضرر جو کسی جاندار کی روح یا جسم کو پہنچے۔
اذیت دینے والی باتیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
لغات القرآن آیت نمبر 186 تا 189
لتبلون (البتہ ضرور تم آزمائے جاؤگے) لتسمعن (البتہ تم ضرور سنو گے) عزم الامور (البتہ تم اس کو ظاہر کرو گے) لا تکتمونه (تم اس کو نہ چھپاؤ گے) نبذوہ (انہوں نے اس کو پھینک دیا) لم یفعلو (انہوں نے نہیں کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 186 تا 189
آخرت کی کامیابی اور ناکامی اور دائمی جزا وسزا کا حال سنا کر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! ابھی جان دونوں ہی سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اللہ کی راہ میں تمہاری جانیں اور مال دونوں ہی طلب کئے جائیں گے۔ تمہیں کفار اور یہودیوں کی ابھی بہت سی تکلیف دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی لیکن اگر تم نے صبر وتقویٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
موت کی حقیقت
یہ آیتیں اس ہدایت کی تکمیل میں نازل فرما کر فرمایا کہ یہ تو آخر سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں اچھے برے کسی کو قیام نہیں۔ موت سب کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ اچھے برے جو مر گئے ان کو تو دنیا کی بھلائی برائی کا نتیجہ معلوم ہوگیا جو رہ گئے ہیں ان کو بھی یہی موقع پیش آنے والا ہے، فقط آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اور آنکھ کا بند ہونا کچھ دور نہیں کوئی اس میں آگے ہے کوئی پیچھے۔ اور جب برائی بھلائی کا نتیجہ وقت مقررہ پر سامنے آنے والا ہے تو بھلوں کو ہر طرح کی آزمائش کا موجب اجر جاننا اور اس پر صبر کرنا چاہیے کہ دنیا میں بڑی ہمت اور عقبیٰ میں بڑے اجر کا کام ہے۔ دنیا کی حقیقت اس مبارک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →(ف 2)
یعنی مال و دولت کا حصول گناہ نہیں البتہ اللہ کے امتحانوں میں پورا نہ اتروا معصیت وکجروی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مسلمان کے لئے کڑی مصیبتیں آئیں گی ، وہ مجبور ہے کہ برداشت کرے ، شرک وکفر کے حلقوں سے اسے دکھ پہنچے گا ، مگر وہ صبر اور استقامت سے کام لے ، یہی بات اللہ کو پسند ہے اور یہی عزیمت ہے ۔
حل لغات :
زحزح : دور کیا گیا ، ہٹا دیا ۔
متاع الغرور : فریب والا سودا ۔
Read the full tafseer →ف 1 اے مسلمانو ! بلاشبہ تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے نقصان کے سلسلہ میں ابھی اور آزمائے جائوگے اور یقیناً تم کو ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دے گئے ہیں یعنی اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں ابھی اور بہت سی تکلیف دہ اور دل آزار باتیں سننی پڑیں گی اور اگر تم نے ان آئندہ آنے والے مصائب پر صبر کیا اور ان باتوں کو برداشت کیا اور تقوے کے پابند رہے تو یقین جانو ! یہ صبر وتقویٰ بڑے اہم اور تاکیدی احکام میں سے ہیں اور یہ ہمت اور اولو العزمی کے کاموں میں سے ہیں۔ (تیسیر)
چونکہ اوپر فنحاص اور حضت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ گزر چکا ہے اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ ابھی اور قسم کی دل خراش…
Read the full tafseer →ف 7۔ آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حوادث تم پر وقتا فوقتا واقع ہوا کریں گے اس کو مجازا آزمانا کہہ دیا ورنہ اللہ تعالیٰ آزمانے کے حقیقی معنی سے پاک ہیں کیونکہ وہ عالم الغیب ہیں۔
8۔ صبر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تدبیر نہ کرو یا مواقع انتقام میں انتقام نہ لو یا مواقع قتال میں قتال نہ کرو بلکہ حوادث میں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ اس میں تمہارے لیے منافع ومصالح ہیں اور تقوی یہ کہ خلاف شرع امور سے بچو گوتدبیر بھی کی جائے۔
Read the full tafseer →جان و مال کی آزمائش میں تم بھی مبتلا ہو گے اور اہل باطل کی تلخ کلامی بھی سننا ہوگی :
339: کسی یہودی کی اس دریدہ دہنی پر کہ ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء “ اچھا ! بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو غصہ آگیا اور یہ بات بولنے والے کو طمانچہ رسید کردیا کہ کیسی بکواس کر رہے ہو ؟ یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو بتلایا گیا کہ دین کے لئے جان و مال کی قربانیوں سے اور کفار و مشرکین اور اہل کتاب کی بد زبانی کی ایزاؤں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ سب ان کی آزمائش ہے اور اس میں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر سے اور برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
Thoughts of the Hereafter heal all sorrows and remove all doubts
The sixth verse (185) puts a sharp focus on the ultimate reality of things in a situation when sometime somewhere disbelievers come to enjoy ascendency one way or the other and they have all the luxury they can think of in this world. Contrary to this, Muslims have to face some hardships, some difficulties and a certain paucity of worldly means. There is nothing surprising about it and certainly no occasion to be grieved, for no follower of a faith or philosophy can ignore the reality of life that sorrow and happiness in this…
Read the full tafseer →131. Muslims should not lose their self-control in the face of the Jews' invidious taunts and slander. The Jews' accusations, debased talk and false propaganda should not provoke the Muslims into adopting a posture either inconsistent with truth and justice or with the dignity, decorum and high standards of moral conduct that become men of faith.
Read the full tafseer →