Explained with ayahs 181–184
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
سورة اٰلِ عِمْرٰن 129
بائیبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے بھسم کردیتی تھی (قضاة 6 20۔ 21 و 13 19۔ 20)۔ نیز یہ ذکر بھی بائیبل میں آتا ہے کہ بعض مواقع پر کوئی نبی سوختنی قربانی کرتا تھا اور ایک غیبی آگ آکر اسے کھا لیتی تھی (احبار۔ 9 24۔ 2۔ تواریخ۔ 7 1۔ 2)۔ لیکن یہ کسی جگہ بھی نہیں لکھا کہ اس طرح کی قربانی نبوت کی کوئی ضروری علامت ہے، یا یہ کہ جس شخص کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانا تھا جو یہودیوں نے محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے تصنیف کرلیا تھا۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں انہی یہود کا ایک افتراء و بہتان کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے یہ حلیہ پیش کیا کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے زمانہ میں یہ طریقہ تھا کہ صدقات کے مال کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دیئے جاتے تھے اور آسمانی آگ ان کو آ کر جلا دیتی تھی، یہی علامت صدقات کی قبولیت کی ہوتی تھی، رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو حق تعالیٰ نے یہ خاص امتیاز عطا فرمایا تھا کہ اموال صدقات آسمانی آگ کی نذر کرنے کے بجائے مسلمان فقیروں و محتاجوں کو دیئے جاتے ہیں، چونکہ پچھلے انبیاء کے طرز مذکور کے یہ طرز خلاف تھا، اس لئے اس کو مشرکین نے بہانہ بنایا کہ اگر آپ نبی ہوتے تو آپ کو بھی یہ…
Read the full tafseer →بات جب منافقین کے ذکر سے یہود کے ذکر تک پہنچ گئی تو ان کی ایک اور شرارت کا حوالہ دے کر اس کی بھی لگے ہاتھوں تردید فرما دی اور ساتھ ہی پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ ابھی اس طرح کی بہت سی دل آزار باتیں تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دیکھنی اور سننی پڑیں گی۔ یہ تمہارے صبر و عزیمت کا امتحان ہے۔
یہود کی ایک شرارت : یہود کی جس شرارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چپ کرانے کے لیے یہ کہتے کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہے کہ ہم کسی شخص کے دعوائے رسالت کی اس وقت تک تصدیق ہی نہ کریں جب تک اس سے یہ معجزہ نہ صادر ہو کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو کھانے کے لیے قبولیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
183۔ 1 اس میں یہود کی ایک اور بات کی تکذیب کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ تم صرف اس رسول کو ماننا جس کی دعا پر آسمان سے آگ آئے اور قربانی اور صدقات کو جلا ڈالے۔ مطلب یہ تھا کہ اے محمد ﷺ آپ کے ذریعے سے اس معجزے کا چونکہ صدور نہیں ہوا۔ اس لئے حکم الٰہی آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری نہیں حالانکہ پہلے نبیوں میں ایسے نبی بھی آئے ہیں جن کی دعا سے آسمان سے آگ آتی اور اہل ایمان کے صدقات اور قربانیوں کو کھا جاتی۔ جو ایک طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ اللہ کی راہ میں پیش کردہ صدقہ یا قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی۔ دوسری طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
63: پچھلے انبیائے کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کوئی جانور قربان کرتا تو اس کو کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیتا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آکر اس قربانی کو کھا لیتی تھی۔ اس کو سوختنی قربانی کہا جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی شریعت میں یہ طریقہ ختم کردیا گیا اور قربانی کا گوشت انسانوں کے لیے حلال کردیا گیا۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ چونکہ آنحضرت ﷺ ایسی قربانی لے کر نہیں آئے اس لیے ہم ان پر ایمان نہیں لاتے۔ چونکہ یہ محض وقت گذاری کا ایک بہانہ تھا اور حقیقت میں ایمان لانا پیش نظر…
Read the full tafseer →یہاں قرآن کریم ان کی اس بات کا تاریخی حوالوں سے جواب دیتا ہے کہ انہوں نے جن انبیاء کو قتل کیا تھا ‘ انہوں نے تو ایسے معجزات دکھادیئے تھے ‘ جو خود انہوں نے طلب کئے تھے ۔
الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
” جو لوگ کہتے ہیں ” اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھالے ۔ “ تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے…
Read the full tafseer →4 بعضے رسولوں سے یہ معجزہ ظاہر ہوا تھا کہ قربانی یا کوئی چیز اللہ نام کی نیاز کی تو آسمان سے آگ آکر اس کو کھا گئی، یہ علامت تھی اس کے قبول ہونے کی، چناچہ موجودہ " بائبل " میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ایسا واقعہ مذکور ہے۔ اب یہود بہانہ پکڑتے تھے کہ ہم کو یہ حکم ہے کہ جس سے یہ معجزہ نہ دیکھیں اس پر یقین نہ لائیں اور یہ محض جھوٹے بہانے تھے اس قسم کا کوئی حکم ان کی کتابوں میں موجود نہ تھا، نہ آج موجود ہے اور نہ ہر ایک نبی کی نسبت یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کو یہ معجزہ ملا تھا۔ ہر پیغمبر کو حق تعالیٰ نے اوقات و احوال کے مناسب معجزات دئیے ہیں۔ لازم نہیں کہ ہر نبی ایک ہی معجزہ دکھلائے…
Read the full tafseer →آیت 183 اَلَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیْنَآ اَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُط
یہاں روئے سخن پھر یہود کی طرف ہوگیا ہے۔ نوع انسانی جب عہد طفولیت میں تھی تو خرق عادت چیزیں بہت ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اگر کوئی شخص اللہ کی جناب میں کوئی جانور ذبح کر کے پیش کرتا تو آسمان سے ایک آگ اترتی جو اسے بھسم کردیتی تھی اور یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہ قربانی قبول ہوگئی۔ جیسے ہابیل اور قابیل کے قصے میں آیا ہے کہ : اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ط المائدۃ : 27 جب…
Read the full tafseer →181 یہودیوں کا یہ قول صریح جھوٹ اور اللہ پر بہتان ہے۔ تورات میں یا موجودہ بائیبل میں کہیں بھی مذکور نہیں کہ جو نبی آتشیں قربانی کا معجزہ پیش نہ کرسکے وہ نبی نہ ہوگا البتہ اس حد تک یہ بات درست ہے کہ بعض انبیاء کو یہ معجزہ دیا گیا تھا۔ سب سے پہلے تو قابیل اور ہابیل کی قربانی کے قبول ہونے کا ہی یہ معیار مقرر ہوا تھا۔ پھر بعد میں حضرت الیاس، حضرت سلیمان اور حضرت یحییٰ (علیہم السلام) کو یہ معجزہ عطا ہوا تھا اور بیشتر انبیاء ایسے تھے جنہیں یہ معجزہ نہیں دیا گیا تھا۔ اب یہود سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک کسی نبی کے برحق ہونے کا یہی معیار ہے تو پھر جن انبیاء کو یہ معجزہ دیا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →382 ۔ (اور تمامتر جھوٹ کہتے ہیں)
383 ۔ یعنی مدعی نبوت کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ جو قربانی مذبح میں پیش کی جائے اسے آگ آسمان سے آکر جلاجائے۔ سوختنی قربانی کا ذکر توریت میں کثرت سے آیا ہے۔ (آیت) ” عھد الینا “۔ یعنی ہم نے نسل اسرائیل کا حکم دیا تھا۔
384 ۔ یعنی اگر تمہارا یہ دعوی صحیح ہے کہ مرتبہ نبوت اور اس خاص معجزہ کا ظہور لازم ملزوم ہیں تو آخرتمہاری قوم کے جن انبیاء نے یہ معجزہ دکھایا تم خود ان کے منکر کیوں رہے ؟ (آیت) ” جآء کم رسل “۔ یعنی خاص تمہاری ہی نسل وقوم کے پیغمبر جو تمہارے پاس آچکے ہیں۔ (آیت) ” بالذی قلتم “۔ توریت میں اس قسم کے متعدد واقعات مندرج ہیں مثلا ” ایلیا نبی نزدیک آیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–184
فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (الآیۃ) شرط ہے اس کا جواب شرط محذوف ہے جس کو مفسر علام نے فاصبر کہہ کر ظاہر کردیا ہے، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ یہ معاملہ تو سب ہی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Read the full tafseer →الذین قالوا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا کلبی نے بیان کیا ہے کہ کعب بن اشرف اور مالک بن حنیف اور وہب بن یہود اور زید بن تابوت اور فخاض بن عازوراء اور حیی بن اخطب نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا محمد تم دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ نے تم کو پیغمبر بنا کر ہمارے پاس بھیجا ہے اور تم پر کتاب اتاری ہے حالانکہ اللہ نے ہم کو تورات میں حکم دیدیا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرے تو تم اس پر ایمان نہ لانا تاوقتیکہ وہ ایسی قربانی تمہارے سامنے نہ لے آئے جس کو آگ (خود بخود آسمان سے اتر کر) کھالے پس اگر تم ایسی قربانی پیش کردو گے تو ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور ایمان لے آئیں گے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
(183۔ 184) اور یہود جھوٹ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتاب میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ جیسا کہ انبیاء کرام کے زمانہ میں غیب سے آگ آکر نذر ونیاز خداوندی کو کھاجایا کرتی تھی اسی طرح اب بھی یہ بات ظاہر نہ کرو۔
اے نبی کریم ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرما دیجیے کہ بہت سے انبیاء کرام مثلا حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ اوامرو نواہی، اور بہت سے دلائل اور خصوصیات کے ساتھ یہ قربانی والا معجزہ بھی لے کر آئے پھر کیوں تم نے حضرت یحییٰ ؑ اور زکریا ؑ کو قتل کیا۔
یہود بولے ہمارے آباؤ اجداد نے تو انبیاء کو ظلما قتل نہیں کیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اے نبی کریم ﷺ ان کی تکذیب سے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ : یہ ان کا دوسرا اعتراض ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں پیش کیا کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا ہے کہ اگر کوئی نبی یہ معجزہ پیش نہ کرے تو اس پر ایمان نہ لائیں۔ (رازی) حالانکہ ان کی کسی کتاب میں یہ حکم نہیں اور ان کے تمام انبیاء کو یہ معجزہ عطا بھی نہیں ہوا تھا، جیسا کہ اسی آیت میں اشارہ ہے : (قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ) یہاں ”رسل“ نکرہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تمام انبیاء کو نہیں، بلکہ بعض کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ جب کوئی سوختنی (جلائی جانے والی) قربانی (نذر) پیش کی جاتی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
آیت نمبر : 183 تا 184۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین “ محل جر میں ہے اور یہ اس الذین سے بدل ہے جو اس قول باری تعالیٰ میں ہے (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا “۔ یا یہ للعبید کی صفت ہے یا مبتدا کی خبر ہے یعنی ہم الذین قالوا “۔ اور کلبی وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت کعب بن اشرف، مالک بن صیف، وہب بن یہوذاء فخاص بن عازوراء اور ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا : کیا آپ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، حالانکہ اس نے ہم پر کتاب نازل کی ہے اور اس میں ہم سے عہد کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جو گمان کرتا ہو کہ وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی ہم میں سے صدقہ کرتا تھا اور وہ جب قبول ہوتا تھا تو اس پر آسمان سے آگ اترتی تھی جو اس کو کھا لیتی تھی۔
(2) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے جب کوئی قربانی پیش کرتا تھا تو لوگ باہر نکل آتے تھے اور دیکھتے تھے کہ قربانی قبول ہوتی ہے یا نہیں اگر وہ قبول ہوتی تو آگ نہ ہوتی تو لوگ پہچان لیتے کہ اس کی قربانی قبول نہیں جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو ان سے اہل کتاب نے قربانی لانے کا سوال کیا (تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →[ اَلَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [قَالُوْٓا : کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ نے ] [عَہِدَ اِلَـیْنَــآ : ہم سے عہد لیا ] [اَلاَّ نُؤْمِنَ : کہ ہم بات نہیں مانیں گے ] [لِرَسُوْلٍ : کسی رسول کی ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [یَاْتِیَنَا : وہ لائے ہمارے پاس ] [بِقُرْبَانٍ : ایک ایسی قربانی ] [تَاْکُلُہُ : کھاتی ہے جس کو ] [النَّارُ : آگ ] [قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [قَدْ جَآئَ کُمْ : آ چکے ہیں تمہارے پاس ] [رُسُلٌ : کچھ رسول ] [مِّنْ قَـبْلِیْ : مجھ سے پہلے ] [بِالْـبَــیِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [وَبِالَّذِیْ : اور اس کے ساتھ جو ] [قُلْتُمْ : تم لوگوں نے کہا ] [فَلِمَ : تو کیوں ] [قَتَلْتُمُوْہُمْ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
یہود کی بیہودگی اور ان کے لیے عذاب کی و عید
لباب النقول صفحہ 61 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ایک دن یہودیوں کے بیت المدارس (یعنی مدرسہ) میں تشریف لے گئے وہاں ایک شخص کے پاس یہودی جمع تھے جس کا نام فخاص تھا فخاص نے کہا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی طرف کوئی محتاجی نہیں اور اللہ ہمارا محتاج ہے اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض کیوں مانگتا، تمہارا نبی یہ بتاتا ہے کہ اللہ قرض طلب کرتا ہے اس پر حضرت ابوبکر ؓ کو غصہ آگیا اور فخاص کے چہرے پر طمانچہ مار دیا۔ فخاص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! دیکھو تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیا کیا۔ آپ نے ابوبکر سے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…
Read the full tafseer →278 یہ پہلے اَلَّذِیْنَ قَالُوْا سے بدل ہے اور اس میں یہود کے ایک قول باطل اور ان کے ایک صریح بہتان کا شکوی ہے جہاں انہوں نے ازراہ تمسخر یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے جو بندوں سے خیرات مانگتا ہے وہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ پر یہ صریح بہتان بھی باندھا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں ہم کو یہ حکم دیا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ آسمان سے آگ آئے اور اس کی قربانی کو کھا جائے اس وقت تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طعن کرنا تھا کہ چونکہ آپ نے ایسا کوئی معجزہ نہیں دکھایا اس لیے آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں (عیاذاً باللہ) نیز وہ کہتے کہ پہلے پیغمبر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے بخل اور حرص کا تذکرہ کرکے ان کی مذمت کی تھی۔ وہاں ان کی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس گستاخی کا بیان بھی تھا جس میں انہوں نے کہا۔ کہ اگر اللہ ہم سے قرض حسن مانگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں پر متنبہ کردیا تھا۔ کہ اس نے ان گستاخانہ کلمات کو تحریر کرلیا ہے۔ نیز یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد کے قتل انبیاء کے فعل کو بھی اس نے لکھ رکھا ہے۔ اور قیامت کے دن انہیں جلا دینے والے عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔ در اصل قبولیت اسلام کے خلاف اہل کتاب کی یہ حیلہ سازی تھی۔ وگرنہ وہ اسلام کی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ عَہِدَ اِلَيْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُہُ النَّارُ 0 ۭ قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ بِالْبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِيْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 183
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124]
( ع ھ د ) العھد
( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
ترکیب : وقتلہم معطوف ہے ماقالوا پر قتل مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف الانبیاء مفعول ذلک مبتداء بما قدمت خبر اے مستحق بما قدمت الذین قالوا بدل ہے پہلے الذین سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کی تاکید تھی کہ اللہ کی راہ میں مال صرف کرنا چاہیے ٗ بخل اچھا نہیں۔ اس کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی اور فرمایا کہ جو کوئی دیتا ہے اللہ کو دیتا ہے۔ اس پر مدینہ کے یہود نے سن کر مضحکہ کیا اور کہا کہ کیا اللہ فقیر ہے جو بندوں 1 ؎ سے مانگتا ہے۔ دوسرا شبہ تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے نبی ہیں تو ایسی قربانی کریں کہ جس کو آگ آسمان سے اتر کر کھا جاوے۔ خدا نے ہم سے عہد کیا ہے کہ اس وقت تک ہم کسی نبی کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَـآ اَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُط قُلْ قَدْجَآئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْـبَـیِـّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
(یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ بیشک اللہ نے ہم سے اقرار لیا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لائے جس کو کھانے کے لیے آگ اترے۔ ان سے کہیے کہ تمہارے پاس مجھ سے پہلے کئی رسول آئے کھلی نشانیاں لے کر اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے انھیں قتل کیوں کیا اگر تم سچے ہو) (183)
یہود کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ پر فقر کا الزام لگا کر یہودی مسلمانوں میں بخل کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی ذات اور دین سے روکنے کے لیے قربانی کے جل کر خاکستر ہونے کی جھوٹی شرط پیش کرتے جس کی یہ کہہ کر تردید کی گئی ہے کہ پہلے انبیاء میں سے کچھ نے یہ معجزہ بھی دکھایا تھا پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟
یہودی کسی صورت بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ایسا ہی ان کا رویّہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ بات بات پر اعتراضات، ہر مسئلے کو سوالات کے ذریعے الجھانے اور بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے۔ جب نبی محترم ﷺ کے سامنے ہر طرح لا جواب ہوتے تو اللہ…
Read the full tafseer →183: اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَآ ئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا (وہ لوگ جنہوں نے کہا )
نحو : یہ پہلے اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓاسے بدل ہو کر مجرور ہے اور اعنی فعل سے منصوب بھی ہوسکتا ہے اور ہم کو مضمر مان کر مرفوع ہوگا۔
یہود کا باطل دعویٰ :
اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ (اللہ تعالیٰ نے تورات میں ہمیں حکم دیا) اور وصیت کی۔ اَلَّا نُؤْمِنَ کہ ہم ایمان نہ لائیں لِرَسُوْلٍ…
Read the full tafseer →(الذین قالوا ان اللہ عھد الینا “۔ کا شان نزول)
(تفسیر) 183۔:
(آیت)” الذین قالوا ان اللہ عھد الینا “۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول کعب بن اشرف مالک بن صیف ، وہب بن یہوذا ، زید بن تابوت وفخاض بن عازوراء حی بن اخطب کے بارے میں ہوا ، انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد ﷺ آپ کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمارے طرف رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی حالانکہ اللہ نے تورات میں یہ حکم دے دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعوی کرے تو تم اس پر ایمان نہ لانا (آیت)” ان لا نؤمن لرسول “۔ اور آپ کا گمان ہے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
(183 ۔ 184) ۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض نبیوں کا یہ معجزہ تھا کہ اللہ کی نیاز جس چیز پر کی جاتی تھی ان نبیوں کے معجزہ کے سبب سے آگ آسمانی اس نیاز کی چیز کو جلا دیتی تھی اور یہی نشانی تھی کہ وہ نیاز قبول ہوگئی۔ اب یہود نے نبی آخر الزمان پر جب ایمان لانے کو کہا جاتا تھا تو یہ بہانہ کرتے تھے کہ ہم کو تورات میں حکم ہے کہ جس نبی سے وہ آگ کا معجزہ ظاہر نہ ہو اس پر ہم ایمان نہ لائیں اگرچہ یہ بہانہ جھوٹا تھا تورات میں کہیں ایسا ذکر نہیں ہے کہ ہر نبی کے لئے وہ آگ کا معجزہ ضروری ہے لیکن یہود کو پورا قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ حد سے زیادہ زیادتی انہیں یاد دلائی جس کا اوپر کی آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
آیت 183-184
اللہ تعالیٰ ان افترا پروازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں : (ان اللہ عہد الینا) یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ (الا نومن لرسول حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار) ” ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھالے۔ “ پس انہوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء ومرسلین کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کردیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لئے وہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
389 یہود کی بہانہ جو طبیعتوں کا ایک بہانہ : سو انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے سامنے کوئی ایسی قربانی پیش کرے جن کو آسمانی آگ آ کر کھاجائے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے بعض انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے دور میں ہوا کرتا تھا کہ ان میں کوئی شخص جب کوئی قربانی یا نذر و نیاز پیش کرتا تو اس کے قبول ہونے کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ ایک آسمانی آگ آکر اس کو کھا جاتی تھی۔ اور اگر ایسی آگ نہ آتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ قربانی اور نذر ونیاز قبول نہیں ہوئی۔ اب یہود کی بہانہ جو طبیعتوں نے اس بات کو اپنے لئے ایک بہانہ کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
یہود کی حجت بازی
تشریح : یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ لیا ہے کہ جب تک آپ ہمیں وہ معجزہ نہ دکھائیں جو ہمارے پیغمبر نے ہمیں دکھایا تھا ہم آپ پر ایمان نہ لائیں گے۔ معجزہ یہ تھا کہ آپ قربانی کریں اور آسمان سے آگ آکر اسے کھا جائے تو اس پر اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو کہا کہ ان کو کہو اگر اس معجزہ کے دکھانے پر ہی تم مجھ پر ایمان لاسکتے ہو تو پھر تم نے ان نبیوں کو کیوں قتل کیا جنہوں نے تم کو یہ آگ والا معجزہ دکھایا تھا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی کتاب میں کبھی حکم نہیں آیا کہ تم صرف آگ والا معجزہ دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 2 یہ ان کا دوسرا شبہ ہے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے سلسلہ میں پیش کیا کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا ہے کہ اگر کوئی نبی یہ معجزہ پیش نہ کرے تو اس پر ایمان نہ لائیں۔ (کبیر) حالانکہ ان کی کسی کتاب میں یہ حکم نہیں ہے۔ ہاں بعض انبیا ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کے بارے میں یہ ضرور مذکور ہے کہ جب کوئی سوختی قربانی (نذر) پیش کی جاتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ اس قربانی (نذر) کی علامت قبولیت کے طور پر آسمان سے آگ اترتی جو اسے جلا ڈالتی جیسا کہ حضرت ایلیا ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے متعلق مذکور ہے۔ (کبیر، ابن کثیر)3 یہ ان کی اس شبہ کا جواب…
Read the full tafseer →(3:183) الذین۔ یعنی وہ لوگ جن کو ذوقوا عذاب الحریق کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
لغات القرآن آیت نمبر 183 تا 185
عھد (وعدہ کیا) حتی یا تینا (جب تک نہ لائے ہمارے پاس) بقربان (قربانی) تاکله النار (اس کو آگ کھالے) کذب (جھٹلایا گیا) زبر (صحیفے) الکتاب المنیر (روشن کتاب) ذائقة الموت (موت کا مزہ چکھنا ہے) زحزح ( بچا لیا گیا) ادخل (داخل کردیا گیا) متاع الغرور (دھوکے کا سامان) تشریح : آیت نمبر ا 83 تا 185
یہود جو ہر طرح اسلام کا مذاق اڑانے میں سب سے آگے رہتے تھے انہوں نے ایک نئی بات کہنا شروع کردی کہ ہم ایمان تو لے آئیں مگر دشواری یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک آنے والا نبی ایک قربانی کا جانور پیش نہ کردے جس کو آسمان سے آکر غیبی آگ کھا جائے اس وقت تک ہم اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
یہود کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام ونشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے، کوئی بھی معجزہ ہو۔ جب نبی نے معجزہ دکھایا، اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت ماننا لازم ہوگیا، اور جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء ( علیہم السلام) کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ قتل انبیاء (علیہم السلام) کو اس مقولہ پر ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[69] یہ کہنے والے یہود تھے۔ انہوں نے جب قرآن کی یہ آیت سنی کہ ( مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے) تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اللہ محتاج ہوگیا ہے جبھی تو وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
سوختی قربانی :
(ف 1) امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کعب اشرف ‘ کعب بن اسد اور دوسرے اکابر یہود حضور انور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ توراۃ میں لکھا ہے جب تک کوئی نبی سوختی قربانی کا معجزہ نہ دکھائے ، قابل تسلیم نہیں ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذبیحر ایک مخصوص مکان میں رکھا جائے جس کی چھت نہ ہو ۔ آسمان سے آگ نازل ہو جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور وہ آکر اس ذبیحہ کو جلا دے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
اس نوع کا مطالبہ یہودیوں کی طرف سے بعید نہیں اس لئے کہ وہ سخت جامد اور ادہام پرست تھے ، مگر مشکل یہ ہے کہ توراۃ میں سرے سے نبوت کا یہ معیار ہی مذکور نہیں اور قرآن حکیم کے الفاظ یہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
ف 1 یہ یہود ایسے غلط گو لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبیوں کی معرفت ہم کو یہ حکم دے رکھا ہے اور ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی مدعی نبوت پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے کوئی خاص معجزہ یعنی کوئی ایسی قربانی اور نذر و نیاز نہ لائے کہ اس کو آسمانی آگ کھاجائے یعنی آسمان سے آگ نازل ہو اور وہ آگ اس نیاز کو جلادے چونکہ آپ نے یہ خاص معجزہ دکھایا نہیں اس لئے ہم لوگ آپ پر ایمان نہیں لائے۔
اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ بلاشبہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس بکثرت روشن دلائل اور واضح معجزات لے کر آئے اور بعینہ یہ معجزہ بھی لے کر آئے جس کو تم کہہ رہے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
ف 3۔ پہلے بعض انبیاء کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا غیر جاندار اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی غیب سے ایک آگ نمودا رہوئی اور اس چیز کو جلا دیا۔
Read the full tafseer →بےدلیل باتیں بنانے والوں کے جو منہ میں آئے وہ بےدھڑک کہہ دیتے ہیں :
333 : مدینے کے علمائے یہود جب دعوت اسلام کے خلاف تمام دلیلوں میں ہار چکے تو آخر ڈھونڈ ڈھانڈ کر یہ بات نکالی کہ ہمیں تورات میں سو ختنی قربانی کا حکم دیا گیا ہے اس لئے ہم اس نبی کو سچا مانیں گے جو سو ختنی قربانی کے عمل کے ساتھ آیا ہو اور یہ بات بالکل ان کی بناوٹی تھی تورات میں بلاشبہ سو ختنی قربانی کا ذکر ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح ان لوگوں نے بیان کیا ہے تورات آج بھی موجود ہے اور اس میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں۔ توراۃ میں جو کچھ ہے اس میں سو ختنی قربانی سے مقصود یہ ہے کہ یہودی جانوروں کی قربانی کر کے ان کے کچھ حصے آگ میں جلایا…
Read the full tafseer →The fourth verse (183) takes up the case of a false accusation made by these very Jews who came up with an excuse in order to reject the prophethood of the Messenger of Allah. Their contention was that, during the period of past prophets, there used to be a method under which charities and offerings were placed in the centre of an open ground or on top of a hill where heavenly fire came and burnt these to ashes. This used to symbolize that offerings were accepted. But, to the Holy Prophet ﷺ and to his community, Allah Almighty had given the unique distinction that charities were not left to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
129. The Bible mentions at several places that the token of Divine acceptance of a person's sacrificial offering was the appearance of a mysterious fire which consumed the offering. (See Judges 6: 20-1 and 13: 19-20; 2 Chronicles 7: 1-2.) The Bible does not state, however, that the consuming fire was an indispensable token of prophethood and that anyone not endowed with that miracle could not be a Prophet. The Jews in discussing the claim of Muhammad (peace be on him) to be a Messenger of God brought up the question of this miraculous sign, and used it as a pretext for denying that claim.…
Read the full tafseer →