Explained with ayahs 181–184
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
سورة اٰلِ عِمْرٰن 130
یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انہی پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکہ میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اور اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مرد ود بارگاہ الہٰی ہے۔ اکثر اوقات اس ابتدائی مرحلہ کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلہ میں پیش آنے والے…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب پر آپ غمگین نہ ہوں، کیونکہ یہ معاملہ تو سبھی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Read the full tafseer →نبی ﷺ کی طرف التفات : پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو تم اس کا غمنہ کرو، نہ یہ بات تمہاری کسی کوتاہی کے سبب سے ہے اور نہ اس وجہ سے ہے کہ تم ان کے حسب منشا ان کو معجزہ نہیں دکھا رہے ہو بلکہ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ یہ لوگ تم پر ایمان نہیں لانا چاہتے۔ یہ معاملہ خاص تمہی کو نہیں پیش آیا ہے، تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے حالانکہ وہ معجزے، صحیفے اور روشن کتاب سب کچھ لے کر آئے تھے، خالی ہاتھ نہیں آئے تھے۔
یہاں تین لفظ استعمال ہوئے۔ بینات، زبر، کتاب منیر۔ بینات کے معنی واضح اور روشن کے ہیں۔ یہ لفظ آیات کی صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں جہاں کہیں یہ…
Read the full tafseer →184۔ 1 نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ یہودیوں کی ان کٹ حجتیوں سے بددل نہ ہوں، ایسا معاملہ صرف آپ ﷺ کے ساتھ نہیں کیا جا رہا ہے، آپ ﷺ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ……………” یہ لوگ اگر تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں ساتھ لائے تھے ۔ “
گویا نبی ﷺ پہلے رسول نہیں جن کو اہل کتاب یہودیوں نے جھٹلایاہو ‘ بنی اسرائیل اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہیں ۔ حالانکہ وہ رسول ان کے پاس صحیح دلائل لے کر آئے تھے ۔ انہوں نے معجزات پیش کئے تھے ۔ انہوں نے ایسے صحائف پیش کئے جن میں الٰہی ہدایات موجود تھیں ۔ یعنی زبور……اور انہوں نے کتاب منیر بھی پیش کی تھی…
Read the full tafseer →6 آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان ملعونوں کی کج بحثی اور ہٹ دھرمی سے ملول و دلگیر نہ ہوں اور نہ دوسرے مکذبین کی پروا کریں۔ آپ سے پہلے کتنے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو صاف نشانیاں (معجزات) چھو ٹے صحیفے اور بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ انبیائے صادقین کی تکذیب معاندین کی قدیم عادت رہی ہے۔ آپ کو کچھ انوکھی بات پیش نہیں آئی۔
Read the full tafseer →آیت 184 فَاِنْ کَذَّبُوْکَ
تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ معاملہ صرف آپ ﷺ ہی کے ساتھ نہیں ہوا۔
فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ
یہ تو اس راستے کا ایک عام تجربہ ہے ‘ جس سے آپ ﷺ ‘ کو بھی گزرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →182 اس آیت میں (بینات) سے مراد معجزات۔ زبر سے چھوٹی چھوٹی کتابیں اور نصیحت نامے اور کتاب منیر سے مراد ایسی جامع کتاب ہے جس میں اوامرو نواہی، اخلاقیات، قصص اور مواعظ سب کچھ موجود ہو۔ جیسے تورات اور قرآن کریم ہیں۔ یعنی یہود نے آتشیں قربانی پیش کرنے والے انبیاء کو قتل کیا اور بہت سے رسول جو معجزات، نصیحت نامے اور جامع کتابیں لے کر آئے تھے انہیں بھی جھٹلاتے رہے ہیں۔ پھر اگر آپ کو بھی جھٹلا رہے ہیں تو تعجب نہ ہونا چاہئے بلکہ آپ صبر سے کام لیجئے۔
Read the full tafseer →385 ۔ (اس لیے آپ کچھ غم نہ کریں، کہ یہ معاملہ تو سارے انبیاء ومرسلین کے ساتھ ہوتا آیا ہے) (آیت) ” بالبینت “۔ بینات دلائل عقلی اور معجزات سب کا جامع ہے۔ ای الحجج والمعجزات (کبیر) ای الحجج والبراھین القاطعۃ (ابن کثیر) (آیت) ” الزبر “۔ زبور کی جمع ہے، مراد وہ مختصر رسالے ہوتے ہیں، جن میں صرف اخلاقی موعظہ ہوتے ہیں، اس کی بہترین مثالیں اناجیل اربعہ ہیں۔ قیل الزبر المواعظ والزواجر (بیضاوی) (آیت) ” الکتب “۔ اصطلاح قرآنی میں اس سے مراد ایسی کتاب ہوتی ہے، جس میں احکام وشرائع سب ہوں، اور پوری طور پر ہادی ہو۔ والکتاب فی عرف القران مایتضمن الشرائع والاحکام (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–184
فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (الآیۃ) شرط ہے اس کا جواب شرط محذوف ہے جس کو مفسر علام نے فاصبر کہہ کر ظاہر کردیا ہے، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ یہ معاملہ تو سب ہی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Read the full tafseer →فان کذبوک اب اگر ان یہودیوں نے تم کو جھوٹا قرار دیا تو تم رنجیدہ نہ ہو۔
فقد کذب رسل من قبلک تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی گئی تھی۔ اس مطلب پر فان کَذَّبُوْکَ شرط ہے اور جزاء محذوف ہے اور فقد کذب رسل اس کے قائم مقام ہے (دوسرے پیغمبروں کی تکذیب کو دیکھ کر رسول اللہ کو اپنی تکذیب پر صبر کرنا اور رنجیدہ نہ ہونا چاہئے کیونکہ پہلے سے کافروں کا دستور ہی یہ چلا آیا ہے صرف موجود الوقت کافروں ہی کی یہ حرکت نہیں ہے) پس سبب کو ذکر کرکے اصل جزاء کو حزف کردیا۔ ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو تنہا یہ آپ کی تکذیب نہیں ہے بلکہ آپ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
(183۔ 184) اور یہود جھوٹ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتاب میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ جیسا کہ انبیاء کرام کے زمانہ میں غیب سے آگ آکر نذر ونیاز خداوندی کو کھاجایا کرتی تھی اسی طرح اب بھی یہ بات ظاہر نہ کرو۔
اے نبی کریم ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرما دیجیے کہ بہت سے انبیاء کرام مثلا حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ اوامرو نواہی، اور بہت سے دلائل اور خصوصیات کے ساتھ یہ قربانی والا معجزہ بھی لے کر آئے پھر کیوں تم نے حضرت یحییٰ ؑ اور زکریا ؑ کو قتل کیا۔
یہود بولے ہمارے آباؤ اجداد نے تو انبیاء کو ظلما قتل نہیں کیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اے نبی کریم ﷺ ان کی تکذیب سے…
Read the full tafseer →یہود کے تمسخر اور اعتراضات کا جواب دینے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس قسم کے شبہات پیدا کر کے اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ غم کی بات نہیں، کیونکہ آپ سے پہلے بہت سے انبیاء کے ساتھ وہ یہ سلوک کرچکے ہیں۔ ”البینات“ سے دلائل عقلیہ اور معجزات دونوں مراد ہیں۔ ”الزبر“ یہ زبور کی جمع ہے۔ اس سے وہ چھوٹے چھوٹے صحیفے مراد ہیں جن میں نیکی کی نصیحت، برائی سے روکنے اور حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی تھیں۔ داؤد ؑ کو جو کتاب دی گئی تھی، قرآن نے اسے بھی ”زبور“ کہا ہے، کیونکہ اس میں بھی انہی چیزوں کا پہلو نمایاں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں ”الکتاب“ سے مراد وہ بڑی کتاب ہے جس میں مسائل و احکام اور دوسری سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
آیت نمبر : 183 تا 184۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین “ محل جر میں ہے اور یہ اس الذین سے بدل ہے جو اس قول باری تعالیٰ میں ہے (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا “۔ یا یہ للعبید کی صفت ہے یا مبتدا کی خبر ہے یعنی ہم الذین قالوا “۔ اور کلبی وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت کعب بن اشرف، مالک بن صیف، وہب بن یہوذاء فخاص بن عازوراء اور ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا : کیا آپ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، حالانکہ اس نے ہم پر کتاب نازل کی ہے اور اس میں ہم سے عہد کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جو گمان کرتا ہو کہ وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” لتبلون “ الایہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بتایا کہ وہ ایمان والوں کو عنقریب آزمائیں گے اور دیکھیں گے کس طرح وہ صبر کرتے ہیں اپنے دین پر۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے اس بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد کعب بن اشرف ہے اور وہ ابھارتا تھا مشرکین کو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر اپنے شعروں میں اور ہو ہجو کرتا تھا نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی۔
(3) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →[فَاِنْ : پھر اگر ] [کَذَّبُوْکَ : انہوں نے جھٹلایا آپ ‘ کو ] [فَقَدْ کُذِّبَ : تو جھٹلائے جا چکے ہیں ] [رُسُلٌ : بہتیرے رسول ] [مِّنْ قَـبْلِکَ : آپ سے پہلے ] [جَآئُ ‘ وْ : وہ لوگ آئے ] [ بِالْبَـیِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [وَالزُّبُرِ : اور صحیفوں کے ساتھ ] [وَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ : اور روشنی دینے والی کتاب کے ساتھ ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْکُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَآءُ وْ بالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ) اس میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے۔ وہ حضرات کھلے کھلے معجزات لے کر آئے ان کے پاس اللہ کے عطا فرمودہ صحیفے تھے اور خوب اچھی طرح واضح کرکے بیان کرنے والی کتاب تھی۔ اس سب کے باو جود جنہیں ایمان نہ لانا تھا وہ ایمان نہ لائے اور رسولوں کی تکذیب کرتے رہے اگر آپ کی تکذیب کی جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…
Read the full tafseer →280 یہ ایک طرف حضرت رسول خدا ﷺ کے لیے تسلی ہے اور دوسری طرف جھٹلانیوالوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے فرمایا اگر یہ اہل کتاب آپ پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ اس سے غمگین اور دلگیر نہ ہوں اس قسم کے ضدی اور متعنت لوگ پہلے رسولوں کے وقت بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی ان کی تکذیب کی حالانکہ وہ تمام پیغمبر دلائل و معجزات اور اللہ کی طرف سے نور ہدایت پھیلانے والی کتابیں لے کر آئے تھے اس لیے یہ معاملہ تو پہلے انبیاء (علیہ السلام) کو بھی پیش آچکا ہے۔ وفی ذالک کمال توبیخھم و توضیح صدقہ ﷺ و تسلیۃ لہ لیس فوقھا تسلیۃ (روح ج 4 ص 145) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے بخل اور حرص کا تذکرہ کرکے ان کی مذمت کی تھی۔ وہاں ان کی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس گستاخی کا بیان بھی تھا جس میں انہوں نے کہا۔ کہ اگر اللہ ہم سے قرض حسن مانگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں پر متنبہ کردیا تھا۔ کہ اس نے ان گستاخانہ کلمات کو تحریر کرلیا ہے۔ نیز یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد کے قتل انبیاء کے فعل کو بھی اس نے لکھ رکھا ہے۔ اور قیامت کے دن انہیں جلا دینے والے عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔ در اصل قبولیت اسلام کے خلاف اہل کتاب کی یہ حیلہ سازی تھی۔ وگرنہ وہ اسلام کی…
Read the full tafseer →فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَاۗءُوْ بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ 184
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
زبر
الزُّبْرَةُ : قطعة عظیمة من الحدید، جمعه زُبَرٌ ، قال : آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] ، وقد يقال : الزُّبْرَةُ من الشّعر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
ترکیب : وقتلہم معطوف ہے ماقالوا پر قتل مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف الانبیاء مفعول ذلک مبتداء بما قدمت خبر اے مستحق بما قدمت الذین قالوا بدل ہے پہلے الذین سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کی تاکید تھی کہ اللہ کی راہ میں مال صرف کرنا چاہیے ٗ بخل اچھا نہیں۔ اس کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی اور فرمایا کہ جو کوئی دیتا ہے اللہ کو دیتا ہے۔ اس پر مدینہ کے یہود نے سن کر مضحکہ کیا اور کہا کہ کیا اللہ فقیر ہے جو بندوں 1 ؎ سے مانگتا ہے۔ دوسرا شبہ تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے نبی ہیں تو ایسی قربانی کریں کہ جس کو آگ آسمان سے اتر کر کھا جاوے۔ خدا نے ہم سے عہد کیا ہے کہ اس وقت تک ہم کسی نبی کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ…
Read the full tafseer →فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَـآئُ وْبِالْـبـَیـِّنٰتِ وَالزُّبُرِوَالْـکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔
(پس اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں (تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں) تم سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے۔ جو کھلی ہوئی نشانیاں، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے) (184)
نبی کریم ﷺ کی طرف التفات اور تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں یہ مضمون متعدد مواقع پر گز رچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں کو دل و دماغ کے ایسے احساسات کے ساتھ پروردگار پیدا فرماتا ہے جن میں دنیوی نفع و نقصان کا احساس ہمیشہ مغلوب رہتا ہے البتہ ! جو احساس ہمیشہ انھیں پریشان اور دل گرفتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
فہم القرآن
ربط کلام : موت اور فکر آخرت کے ذریعے نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کے جس جاہ و جلال اور مال پر اترا کر نبی ﷺ کی نبوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں خرافات بکتے ہو یہ تو ختم ہونے والی ہے۔
منکرین توحید و رسالت کا کردار بتلانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے موت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اے رسول ﷺ آپ کے مخالفوں نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہنا بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں مکمل جزا اور ان کے کردار کی انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ جسے جہنم کی ہولناکیوں سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوا۔ یہ دنیا کی…
Read the full tafseer →تسلیہ رسول اللہ ﷺ :
184: فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبلِکَ جَآ ئُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِوَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔ (پس اگر یہ آپ کو جھٹلا دیں پس جھٹلائے گئے بہت رسول آپ سے پہلے) اگر یہ یہود آپ کو جھٹلا دیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں۔ تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی گئی۔ جَآ ئُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ (جو کھلے ہوئے معجزات لائے تھے) وَالزُّبُرِ (کتابیں) یہ زبور کی جمع ہے اور یہ الزُّبُر سے نکلا جس کا معنی لکھنا ہے۔
قراءت : شامی نے وَبِالزُّبُرِ پڑھا۔ وَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ (اور روشن کتابیں) اول قول یہ ہے کہ اصل کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں۔ صرف اوصاف میں اختلاف کی وجہ سے…
Read the full tafseer →184۔ (آیت)” فان کذبوک ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ بالبینات والزبر “۔ ابن عامر نے ” بالزبر “ پڑھا ہے، اس کا معنی کتاب ہے ، مزبور کے معنی میں ہے یعنی لکھی ہوئی کتاب یہ رسول ورسل کی طرح ہے ، ” والکتاب المنیر “۔ واضح اور روشن کتاب لائے ، ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
(183 ۔ 184) ۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض نبیوں کا یہ معجزہ تھا کہ اللہ کی نیاز جس چیز پر کی جاتی تھی ان نبیوں کے معجزہ کے سبب سے آگ آسمانی اس نیاز کی چیز کو جلا دیتی تھی اور یہی نشانی تھی کہ وہ نیاز قبول ہوگئی۔ اب یہود نے نبی آخر الزمان پر جب ایمان لانے کو کہا جاتا تھا تو یہ بہانہ کرتے تھے کہ ہم کو تورات میں حکم ہے کہ جس نبی سے وہ آگ کا معجزہ ظاہر نہ ہو اس پر ہم ایمان نہ لائیں اگرچہ یہ بہانہ جھوٹا تھا تورات میں کہیں ایسا ذکر نہیں ہے کہ ہر نبی کے لئے وہ آگ کا معجزہ ضروری ہے لیکن یہود کو پورا قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ حد سے زیادہ زیادتی انہیں یاد دلائی جس کا اوپر کی آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
آیت 183-184
اللہ تعالیٰ ان افترا پروازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں : (ان اللہ عہد الینا) یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ (الا نومن لرسول حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار) ” ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھالے۔ “ پس انہوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء ومرسلین کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کردیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لئے وہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
389 یہود کی بہانہ جو طبیعتوں کا ایک بہانہ : سو انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے سامنے کوئی ایسی قربانی پیش کرے جن کو آسمانی آگ آ کر کھاجائے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے بعض انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے دور میں ہوا کرتا تھا کہ ان میں کوئی شخص جب کوئی قربانی یا نذر و نیاز پیش کرتا تو اس کے قبول ہونے کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ ایک آسمانی آگ آکر اس کو کھا جاتی تھی۔ اور اگر ایسی آگ نہ آتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ قربانی اور نذر ونیاز قبول نہیں ہوئی۔ اب یہود کی بہانہ جو طبیعتوں نے اس بات کو اپنے لئے ایک بہانہ کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
یہود کی حجت بازی
تشریح : یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ لیا ہے کہ جب تک آپ ہمیں وہ معجزہ نہ دکھائیں جو ہمارے پیغمبر نے ہمیں دکھایا تھا ہم آپ پر ایمان نہ لائیں گے۔ معجزہ یہ تھا کہ آپ قربانی کریں اور آسمان سے آگ آکر اسے کھا جائے تو اس پر اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو کہا کہ ان کو کہو اگر اس معجزہ کے دکھانے پر ہی تم مجھ پر ایمان لاسکتے ہو تو پھر تم نے ان نبیوں کو کیوں قتل کیا جنہوں نے تم کو یہ آگ والا معجزہ دکھایا تھا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی کتاب میں کبھی حکم نہیں آیا کہ تم صرف آگ والا معجزہ دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 4 یہود کے تمسخر اور شبہات کا جواب دینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس قسم کے شہبات پیدا کر کے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کررہے ہیں تو یہ غم کی بات نہیں کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے انبیا ( علیہ السلام) کے ساتھ وہ یہی سلوک کرچکے ہیں۔ (کبری) البینات سے دلائل عقلیہ اور معجزات دونوں مراد ہیں۔ الزبر یہ زبور کی جمع ہے اس سے وہ چھو ٹے چھوٹے صحیفے مراد ہیں جو مواعظ و زواجر اور حکم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ حضرت داود ( علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی قرآن نے اسے بھی زبور کہا ہے کیونکہ اس میں بھی رواجر ومواعظ کا پہلو نمایاں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں الکتاب سے مراد وہ بڑی کتاب ہے جو احکام وشرئع سب پر…
Read the full tafseer →(3:184) الزبر۔ کتابیں۔ اور اق۔ زبور کی جمع صحائف۔
الکتب المنیر۔ موصوف وصفت۔ روشن کتاب۔ یعنی جس میں شریعت کے احکام درج ہوں۔ بعض نے الزبر سے صحیفے مراد لیا ہے اور الکتاب المنیر سے توراۃ اور انجیل ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
لغات القرآن آیت نمبر 183 تا 185
عھد (وعدہ کیا) حتی یا تینا (جب تک نہ لائے ہمارے پاس) بقربان (قربانی) تاکله النار (اس کو آگ کھالے) کذب (جھٹلایا گیا) زبر (صحیفے) الکتاب المنیر (روشن کتاب) ذائقة الموت (موت کا مزہ چکھنا ہے) زحزح ( بچا لیا گیا) ادخل (داخل کردیا گیا) متاع الغرور (دھوکے کا سامان) تشریح : آیت نمبر ا 83 تا 185
یہود جو ہر طرح اسلام کا مذاق اڑانے میں سب سے آگے رہتے تھے انہوں نے ایک نئی بات کہنا شروع کردی کہ ہم ایمان تو لے آئیں مگر دشواری یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک آنے والا نبی ایک قربانی کا جانور پیش نہ کردے جس کو آسمان سے آکر غیبی آگ کھا جائے اس وقت تک ہم اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
یہود کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام ونشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے، کوئی بھی معجزہ ہو۔ جب نبی نے معجزہ دکھایا، اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت ماننا لازم ہوگیا، اور جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء ( علیہم السلام) کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ قتل انبیاء (علیہم السلام) کو اس مقولہ پر ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[69] یہ کہنے والے یہود تھے۔ انہوں نے جب قرآن کی یہ آیت سنی کہ ( مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے) تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اللہ محتاج ہوگیا ہے جبھی تو وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
(ف 1)
اس آیت میں حیات فانی کی بےثباتی کا نقشہ کھینچا ہے کہ ہر شخص جرعہ موت سے کام ودہن تر کرے گا ، اس لئے وہ جو مقصود اصلی ہے نظروں سے اوجھل نہ ہو ، عمر عزیز کا ایک ایک لمحہ نصب العین کی طرف اقدام میں صرف ہو ۔ وہ شخص جو دائمی واخروی زندگی میں آگ کے عذاب سے بچ گیا اور جنت کے زینوں پر چڑھ گیا ، جان لیجئے کہ وہ کامیاب ہے اور جس کی ساری تگ ودو دنیا کے حصول تک محدود رہی ‘ وہ دھوکے میں ہے ۔
دنیا کو (آیت) ” کہنا درست واقعہ ہے ، بڑے بڑے سمجھ دار لوگ دنیا کی صحیح حیثیت سمجھنے سے قاصر ہیں ، قرآن حکیم کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کو نصب العین کا درجہ نہ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
ف 1 یہ یہود ایسے غلط گو لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبیوں کی معرفت ہم کو یہ حکم دے رکھا ہے اور ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی مدعی نبوت پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے کوئی خاص معجزہ یعنی کوئی ایسی قربانی اور نذر و نیاز نہ لائے کہ اس کو آسمانی آگ کھاجائے یعنی آسمان سے آگ نازل ہو اور وہ آگ اس نیاز کو جلادے چونکہ آپ نے یہ خاص معجزہ دکھایا نہیں اس لئے ہم لوگ آپ پر ایمان نہیں لائے۔
اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ بلاشبہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس بکثرت روشن دلائل اور واضح معجزات لے کر آئے اور بعینہ یہ معجزہ بھی لے کر آئے جس کو تم کہہ رہے ہو…
Read the full tafseer →ف 4۔ جب اوروں کی بھی تکذیب ہوچکی ہے تو آپ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں پھر غم کیا ؟۔
5۔ یعنی بعض معجزے لائے بعض چھوٹی کتابیں اور بعض بڑی کتابیں جیسے تورات، انجیل۔ اور چونکہ کتاب سے بڑی کتاب مراد ہے اور بڑی کتاب شان اور مضامین میں زیادہ ہوگی اس لیے اس کی صفات میں منیر فرمایا کہ اس میں شان و مضامین دونوں کے اعتبار سے معنی ظہور کے زیادہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →پیغمبرِ اسلام ﷺ سے خطاب کہ یہود نے آپ ﷺ کو جھٹلا کر کوئی نیا کام نہیں کیا :
335: اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ نہ یہ باتن تمہاری کسی کوتاہی کے سبب ہے اور نہ اس وجہ سے کہ تم کو ان کے حسب منشاء معجزہ نہیں دیا جا رہا کیونکہ آپ ﷺ نے ان کے سامنے کوئی ایسا دعویٰ پیش نہیں کیا بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اور جب کوئی ایک بات پہلے ہی ٹھان لے کہ مجھے یہ نہیں کرنا ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں پھر یہ معاملہ خاص تمہیں کو پیش نہیں آیا۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے حالانکہ وہ…
Read the full tafseer →In the fifth verse (184), the Holy Prophet ﷺ has been comforted by saying that he should not grieve at being falsified by his adversaries for this is something faced by all prophets in the past.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
130. Whoever considers the effects of his actions in this earthly life to be of crucial significance, and sees in them the criteria of right and wrong, the criteria of that which leads either to one's ultimate salvation or to one's doom, falls prey to a serious misconception. The fact that a person is outstandingly successful in life does not necessarily prove that he is either not prove that he has either strayed from the right way or is out of favour with God. The earthly results of a man's actions are often quite different from the ones he will see in the Next Life. What is of true…
Read the full tafseer →