Aal-i-Imraan 3:182

Aal-i-Imraan · from ayah 182

3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۟ۚذٰ لِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ‌ۚ

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 19 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:182

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تمہارے پیش کرده اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب تمہارے ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ ہے جو تم نے آگے بھیج رکھا تھا، ورنہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھ خود آگے بھیج چکے ہیں اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اس لیے کہ بیشک اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے اور اللہ یقینا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی کرنے والا نہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ بدلہ ہے تمہاری اس کمائی کا جو تم لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں آگے بھیجی تھی، اور یقینا اللہ (کسی بھی طرح کا) کوئی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ان (حرکتوں) کی وجہ سے ہوا جو تم آگے بھیج چکے ہو اور اس لیے کہ اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ تو اپنے بندوں کے حق میں ہرگز ظالم نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تمہارے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا

— محترمہ رفعت اعجاز

That is in recompense for what you have done.' Allah does no wrong to His servants.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is due to what your hands sent ahead and that Allah is not cruel to His servants.

— Muhammad Taqi Usmani

This is due to what your hands sent ahead and that Allah is not cruel to His servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is on account of that which your own hands have sent before (you to the judgment). Allah is no oppressor of (His) bondmen.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."

— Saheeh International

This is only the result of their deeds. God is not unjust to His servants.

— Muhammad Sarwar

This is for what your own hands have sent before and because Allah is not in the least unjust to the servants.

— Muhammad Habib Shakir

That is for that which your hands have sent on afore, for verily Allah is not a wronger of His bondmen.

— Abdul Majid Daryabadi

"This is because of the (unrighteous deeds) which your hands sent on before ye: For Allah never harms those who serve Him."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:182

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 181–184

کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 182–183

سورة اٰلِ عِمْرٰن 129 بائیبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے بھسم کردیتی تھی (قضاة 6 20۔ 21 و 13 19۔ 20)۔ نیز یہ ذکر بھی بائیبل میں آتا ہے کہ بعض مواقع پر کوئی نبی سوختنی قربانی کرتا تھا اور ایک غیبی آگ آکر اسے کھا لیتی تھی (احبار۔ 9 24۔ 2۔ تواریخ۔ 7 1۔ 2)۔ لیکن یہ کسی جگہ بھی نہیں لکھا کہ اس طرح کی قربانی نبوت کی کوئی ضروری علامت ہے، یا یہ کہ جس شخص کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانا تھا جو یہودیوں نے محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے تصنیف کرلیا تھا۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 181–182

دوسری آیت میں یہود کی ایک سخت گستاخی پر تنبیہ اور سزاء کا ذکر ہے، جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے زکوة و صدقات کے احکام قرآن سے بتلائے تو گستاخ یہود یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فقیر محتاج ہوگیا اور ہم مالدار ہیں جب ہی تو ہم سے مانگتا ہے (نعوذ باللہ من) ظاہر یہ ہے کہ اس بیہودہ قول کے موافق ان کا اعتقاد تو نہ ہوگا، مگر رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے کہا ہوگا کہ اگر قرآن کی یہ آیات صحیح ہیں تو ان سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ فقیر و محتاج ہے، ان کا یہ لغو استدلال تو بدایتا باطل ہونے کی وجہ سے قابل جواب نہ تھا، کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم صدقات کا اپنے نفع کے لئے نہیں خود اصحاب مال کے نفع دینی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 181–182

181-182۔ منافقین کا طنز اللہ جل شانہ کی شان میں :۔ لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا الایہ، یہ منافقین کے اس استہزا پر تہدید و وعید ہے جو وہ اپنی مجلسوں میں قرآن کی دعوت انفاق کا کیا کرتے تھے۔ قرآن جب یہ کہتا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے۔ تو یہ مناقین اس پر یہ فقرہ چست کرتے کہ ان دنوں اللہ میاں بہت غریب ہوگئے ہیں اور ہم ان سے زیادہ امیر ہیں کہ وہ ہم سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔ یہ منافقین زیادہ تر یہود میں سے تھے اس وجہ سے خدا پر طنز کرنے میں بھی انہوں نے بالکل یہود ہی کی ہمنوائی کی۔ سورة مائدہ میں یہود کا یہ قول جو نقل ہوا ہے کہ ید اللہ مغلولۃ، اس کی نوعیت بھی، جیسا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 182–183

183۔ 1 اس میں یہود کی ایک اور بات کی تکذیب کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ تم صرف اس رسول کو ماننا جس کی دعا پر آسمان سے آگ آئے اور قربانی اور صدقات کو جلا ڈالے۔ مطلب یہ تھا کہ اے محمد ﷺ آپ کے ذریعے سے اس معجزے کا چونکہ صدور نہیں ہوا۔ اس لئے حکم الٰہی آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری نہیں حالانکہ پہلے نبیوں میں ایسے نبی بھی آئے ہیں جن کی دعا سے آسمان سے آگ آتی اور اہل ایمان کے صدقات اور قربانیوں کو کھا جاتی۔ جو ایک طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ اللہ کی راہ میں پیش کردہ صدقہ یا قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی۔ دوسری طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 182–183

63: پچھلے انبیائے کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کوئی جانور قربان کرتا تو اس کو کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیتا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آکر اس قربانی کو کھا لیتی تھی۔ اس کو سوختنی قربانی کہا جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی شریعت میں یہ طریقہ ختم کردیا گیا اور قربانی کا گوشت انسانوں کے لیے حلال کردیا گیا۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ چونکہ آنحضرت ﷺ ایسی قربانی لے کر نہیں آئے اس لیے ہم ان پر ایمان نہیں لاتے۔ چونکہ یہ محض وقت گذاری کا ایک بہانہ تھا اور حقیقت میں ایمان لانا پیش نظر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ……………” یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ “ پوری جزاء جس میں نہ ظلم ہے اور نہ ہی کوئی سنگدلی ہے۔ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلامٍ لِلْعَبِيدِ……………” اللہ اپنے بندوں کے لئے ظالم نہیں ہے ۔ “ یہاں بندوں کے لئے عبید کا لفظ استعمال کرنے سے انسان کی اصل حیثیت بتادی گئی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں غلاموں کا غلام ہے ۔ اور پھر بھی اگر وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر بےادبی کرتا ہے اور بندہ اور غلام ہوکر وہ کہتا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں تو یہ کس قدر گستاخی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انبیاء کے قتل جیسا شنیع کام ۔ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں پھر یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جو کمایا تھا سامنے آیا۔ خدا کے یہاں ذرہ برابر ظلم نہیں۔ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ) 4 ۔ النسآء :40) اگر بفرض محال ظلم کرنا خدا کی صفت ہوتی تو اس کی دوسری صفات کی طرح وہ بھی کامل ہی ہوتی اس لئے اگر معاذ اللہ خدا کو ظالم فرض کیا جائے تو پھر " ظالم " کیا " ظلام " ہی کہنا پڑیگا۔ اس کا ایک رتی ظلم بھی پہاڑوں سے کم نہیں ہوسکتا گویا " ظلام " کا صیغہ لا کر متنبہ کردیا کہ اس کی بارگاہ میں ادنیٰ سے ادنیٰ ظلم تجویز کرنا، انتہائی ظالم قرار دینے کا مرادف ہے (وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا) 17 ۔ الاسراء :43) ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 181–182

آیت 181 لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُ 7 ۔ یہ بات کہنے والوں میں منافقین بھی شامل ہوسکتے ہیں اور یہودی بھی۔ جب رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو انفاق مال کی ترغیب دیتے تھے کہ اللہ کو قرض حسنہ دو تو یہودیوں اور ان کے زیر اثر منافقوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کردیا کہ ہاں اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم سے قرض مانگ رہا ہے ‘ جبکہ ہم غنی ہیں ‘ ہمارے پاس دولت ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی جھلکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً تو گرفت نہیں کرتا لیکن ایک وقت آئے گا جس دن انہیں اپنے اس قول کی پوری سزا مل جائے گی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 181–182

180 یہ قول یہود کا ہے۔ پہلے (3: 75) میں بیان ہوچکا ہے کہ یہود میں سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے مال و دولت کی ہوس، زر پرستی اور بخل کا مرض پیدا ہوگیا تھا چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) تو یہود اپنے جذبہ بخل سے مغلوب ہو کر کہنے لگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اسی لیے تو وہ ہم سے قرضہ مانگتا ہے ان کے اسی جواب کو اللہ تعالیٰ نے یہاں حکایتاً نقل فرمایا ہے۔ یہود کا یہ جواب ان کے بخل کا ہی نہیں ان کے خبث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

381 ۔ یہ عین اس کی صفت عدل کا تقاضا ہوگا کہ ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، نہ یہ کہ اس میں ذرا بھی شائبہ ظلم ہو۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کو ظالم، جابر سب ہی کچھ مانا ہے، یہاں ان عقائد کی بھی پوری تردید ہوگئی (آیت) ” بماقدمت ایدیکم “۔ حشر میں عذاب تو صرف متشکل ہو کر سامنے آجائے گا ورنہ ہوگا تو حقیقۃ ان مجرموں کی دنیوی کرتوتوں ہی کا ثمرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 182–184

فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (الآیۃ) شرط ہے اس کا جواب شرط محذوف ہے جس کو مفسر علام نے فاصبر کہہ کر ظاہر کردیا ہے، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ یہ معاملہ تو سب ہی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذالک بما قدما ایدیکم یہ عذاب ان اعمال کی سزا میں ہے جو تم نے پہلے کیے تھے یعنی قتل انبیاء اور دوسرے گناہ۔ اَیْدَی (ید کی جمع۔ ہاتھ) بول کر اشخاص اور نفوس مراد لئے کیونکہ اکثر حسی افعال ہاتھوں سے ہی ہوتے ہیں اور دل کے کاموں کا اظہار ہاتھوں اور پاؤں کی حرکات سے ہی ہوتا ہے۔ و ان اللہ لیس بظلام للعبید اور یہ عذاب تم پر اس وجہ سے بھی ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ا اللہ ظالم نہیں اور نفی ظلم کے لیے عدل لازم ہے اور عدل کا تقاضا ہے کہ نیک کو ثواب اور بد کو عذاب دیا جائے پس اللہ کے ظالم نہ ہونے کا تقاضا ہے کہ کافروں کو عذاب دیا جائے۔ ایک شبہ پر مسلک اشاعرہ ظلم کی نفی اللہ کی ذات کے لیے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ : اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”ظَلاَّمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی بہت ظلم کرنے والا ہے۔ بظاہر معنی یہ ہوا کہ ”اللہ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں“ گویا کم ظلم کرسکتا ہے۔ اس کا ایک جواب استاد مرحوم مولانا محمد عبدہ ؓ نے دیا ہے : ”اس مبالغے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی نفی کے یہ معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعوذ باللہ رتی برابر بھی ظلم صادر ہو تو وہ ”ظَلاَّمٌ“ ٹھہرے گا اور اللہ تعالیٰ کی ذات ظلم سے منزہ ہے۔“ یہ جواب بھی اچھا ہے، مگر اس سے قوی جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مبالغے کے صیغے پر نفی آئے تو اس سے مراد مبالغہ کی نفی نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 181–182

آیت نمبر : 181 تا 182۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ اللہ تعالیٰ نے کفار بالخصوص یہود کے قول کی قباحت (اور برائی) ذکر فرمائی۔ اور اہل تفسیر نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرض حسنا “۔ (البقرہ : 245) (کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن) تو یہودیوں میں سے ایک گروہ نے کہا۔۔ ان میں سے حی بن اخطب تھا، یہ حسن کے قول کے مطابق ہے اور حضرت عکرمہ ؓ نے کہا ہے : وہ فخاص بن عازوراء تھا۔ (آیت) ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 548 دارالکتب العلمیہ) (بےشک اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم غنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 182–183

(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی ہم میں سے صدقہ کرتا تھا اور وہ جب قبول ہوتا تھا تو اس پر آسمان سے آگ اترتی تھی جو اس کو کھا لیتی تھی۔ (2) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے جب کوئی قربانی پیش کرتا تھا تو لوگ باہر نکل آتے تھے اور دیکھتے تھے کہ قربانی قبول ہوتی ہے یا نہیں اگر وہ قبول ہوتی تو آگ نہ ہوتی تو لوگ پہچان لیتے کہ اس کی قربانی قبول نہیں جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو ان سے اہل کتاب نے قربانی لانے کا سوال کیا (تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذٰلِکَ : یہ ] [بِمَا : اس سبب سے جو ] [قَدَّمَتْ : آگے بھیجا ] [اَیْدِیْـکُمْ : تمہارے ہاتھوں نے ] [وَاَنَّ : اور یہ کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [لَـیْسَ : نہیں ہے ] [بِظَلاَّمٍ : ذرّہ برابر بھی ظلم کرنے والا ] [لِّلْعَبِیْدِ : بندوں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 181–183

یہود کی بیہودگی اور ان کے لیے عذاب کی و عید لباب النقول صفحہ 61 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ایک دن یہودیوں کے بیت المدارس (یعنی مدرسہ) میں تشریف لے گئے وہاں ایک شخص کے پاس یہودی جمع تھے جس کا نام فخاص تھا فخاص نے کہا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی طرف کوئی محتاجی نہیں اور اللہ ہمارا محتاج ہے اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض کیوں مانگتا، تمہارا نبی یہ بتاتا ہے کہ اللہ قرض طلب کرتا ہے اس پر حضرت ابوبکر ؓ کو غصہ آگیا اور فخاص کے چہرے پر طمانچہ مار دیا۔ فخاص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! دیکھو تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیا کیا۔ آپ نے ابوبکر سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 181–187

قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔ ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔ شان نزول۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 181–182

277 یہ ترغیب علی الانفاق اور تخویف اخروی کے بعد منافقین یہود کا شکوی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی اَقْرَضُوْا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا سے ترغیب دی تو وہ ازراہ استہزاء و تمسخر کہنے لگے کہ اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں کیونکہ وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا۔ یہ تخویف اخروی ہے اور یہاں سین تاکید کے لیے ہے اور لکھنے کی نسبت اللہ کی طرف مجازی ہے یعنی جو کچھ انہوں نے کہا ہے ہم ضرور کراماً کاتبین کو اسے لکھنے کا حکم دیں گے اور اسے ضرور قلمبند کرلیا جائے گا۔ ای نا مر الحفظۃ باثبات قولھم الخ (قرطبی ج 4 ص 494) ۔ والسین للتاکید ای لن یفوتنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 181–182

شان نزول : اس سے پہلے درس میں یہودیوں کے بخل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ سے متعلق ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ حجور نبی کریم (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت خود مدینہ طیبہ اور اس کے ارد گرد یہودی کثیر تعداد میں آباد تھے۔ خیبر یہودیوں کا خاص گڑھ تھا۔ اس کے علاوہ جوار مدینہ میں بنی قریظہ ، بنی نضیر اور بنی قینقاع کی بستیاں تین تین چار میل کے فاصلے پر آباد تھیں۔ ان آیات کے شان نزول کے متعلق جو واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اسے امام بیضاوی ، صاحب تفسیر مظہری اور ابن جریر وغیرہ نے محمد بن اسحاق مورخ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو دعوت اسلام کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللہَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۝ 182 ۚ قدم وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] وقوله : لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ الحجرات/ 1] ، قيل : معناه لا تَتَقَدَّمُوهُ. وتحقیقه : لا تسبقوه بالقول والحکم بل افعلوا ما يرسمه لکم كما يفعله العباد المکرمون، وهم الملائكة حيث قال : لا يَسْبِقُونَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 181–184

ترکیب : وقتلہم معطوف ہے ماقالوا پر قتل مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف الانبیاء مفعول ذلک مبتداء بما قدمت خبر اے مستحق بما قدمت الذین قالوا بدل ہے پہلے الذین سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کی تاکید تھی کہ اللہ کی راہ میں مال صرف کرنا چاہیے ٗ بخل اچھا نہیں۔ اس کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی اور فرمایا کہ جو کوئی دیتا ہے اللہ کو دیتا ہے۔ اس پر مدینہ کے یہود نے سن کر مضحکہ کیا اور کہا کہ کیا اللہ فقیر ہے جو بندوں 1 ؎ سے مانگتا ہے۔ دوسرا شبہ تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے نبی ہیں تو ایسی قربانی کریں کہ جس کو آگ آسمان سے اتر کر کھا جاوے۔ خدا نے ہم سے عہد کیا ہے کہ اس وقت تک ہم کسی نبی کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَـآئُ م سَنَـکْتُبُ مَاقَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِحَقٍّ لا ج وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّـلْعَبِیْدِ ۔ (اللہ نے سن لی ہے ان لوگوں کی بات جنھوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے ان کی بات اور ساتھ ہی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی اور ہم کہیں گے اب چکھو آگ کا عذاب۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی ہی کرتوت ہے اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ظالم نہیں) (181 تا 182) حق و باطل کی کشمکش میں جذبہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 182–183

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ پر فقر کا الزام لگا کر یہودی مسلمانوں میں بخل کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی ذات اور دین سے روکنے کے لیے قربانی کے جل کر خاکستر ہونے کی جھوٹی شرط پیش کرتے جس کی یہ کہہ کر تردید کی گئی ہے کہ پہلے انبیاء میں سے کچھ نے یہ معجزہ بھی دکھایا تھا پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ یہودی کسی صورت بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ایسا ہی ان کا رویّہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ بات بات پر اعتراضات، ہر مسئلے کو سوالات کے ذریعے الجھانے اور بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے۔ جب نبی محترم ﷺ کے سامنے ہر طرح لا جواب ہوتے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ید کی اضافت آلہ عمل کی وجہ سے : 182: ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (یہ ان اعمال کے سبب ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے) ذٰلِکَ اس سے انکی وہ سزا جو ذکر ہوچکی اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ عذاب ان اعمال کفریہ اور معاصی کے بدلے میں ہے جو تم نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یدؔ کی طرف اضافت اعمال کی اس لئے کہ اکثر اعمال ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں اور تغلب کے طور پر تمام اعمال کو واقع شمار کر کے ید کی طرف نسبت کردی اور اس لئے بھی کہ کسی چیز کے حکم دینے والے کو فاعل کہا جاتا ہے پس ہاتھوں کا تذکرہ پختہ ثبوت کیلئے ہے یعنی اس نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

182۔ (آیت)” ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید “۔ اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ بغیر گناہ کے عذاب دے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 181–182

(181 ۔ 182) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں متعدد معتبر طریقوں سے جو اس آیت کی شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت میں من الذی یقرض اللہ اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سارا قصہ بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 181–182

آیت 181-182 اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انہوں نے جو بدزبانی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیاء کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہر زہ گوئی۔۔۔” اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں “۔۔۔ کے بدلے میں کہا جائے گا :” ذوقوا عذاب الحریق) ” یعنی بدن سے دل تک جلا ڈلانے والے عذاب کا مزا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 181–187

قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 181–182

386 یہود بےبہبود کا ایک انتہائی بیہودہ قول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے سن لی بات ان [ بدبخت اور منحوس ] لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے [ والعیاذ باللہ ] اور ہم مالدار " سو یہ قول یہود بےبہبود کا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ { مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَناً فَیُضَاعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً } الآیۃ (البقرۃ :245) نازل ہوئی تو یہود بےبہبود نے کہا کہ محمد کا رب غریب اور محتاج ہوگیا ہے جو اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 181–182

یہود کی کم عقلی تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت آئی کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے گا ؟ تو اس پر بجائے غور کرنے کے اور عمل کرنے کے الٹا یہود نے مذاق اڑانا شروع کردیا یہ کہہ کر کہ لو اللہ فقیر ہوگیا اور ہم مالدار ہوگئے کہ اللہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ ان بیوقوفوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں آئی کہ سب کچھ اللہ کا ہی ہے اس نے ہمیں دیا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں اس عطا کئے ہوئے مال کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی ترکیب بتا رہا ہے نہ تو اس کو ہمارے مال کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری مدد کی ضرورت ہے یہ تو اس نے حکمت کی بات بتائی ہے کہ اگر تم اللہ کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 181–189

آیات 181- 189 اسرارو معارف لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس مبالغہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی نفی کے یہ معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعوذباللہ رتی برابر بھی ظلم صادر ہو تو وہ ظلام ٹھہرے گا اور اور اللہ تعالیٰ کی ذات ظلم سے منزہ ہے (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:182) قدمت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ تقدیم مصدر۔ پہلے کرچکے یا پہلے بھیج چکے۔ وان۔ والامران۔ قرنہ حقیقت تو یہ ہے۔ ظلام۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہاں حق تعالیٰ شانہ کی ذات عالی سے نفی ظلم کے سلسلہ میں مبالغہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے یہاں ظلام میں مبالغہ کمیت کے لحاظ سے ہے نہ کہ کیفیت کے لحاظ سے ۔ یعنی ذرا سا ظلم بھی نہیں کرتا۔ یہ مطلب نہیں کہ زیادہ ظلم نہیں کرتا اور تھوڑا سا ظلم کرلیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 181–182

لغات القرآن آیت نمبر 181 تا 183 سمع اللہ (اللہ نے سن لیا) اغنیاء (مال دار (غنی کی جمع) ذوقوا (تم چکھو (ذق) عذاب الحریق ( بھڑکتی آگ کا عذاب) ظلام (بہت زیادہ ظالم) عبید (بندے) ۔ تشریح : آیت نمبر 181 تا 183 سورة آل عمران کی ابتداء ہی سے خطاب اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے ہو رہا تھا۔ درمیان میں غزوۂ احد سے متعلق ارشاد فرمایا گیا۔ اب پھر سلسلہ کلام اہل کتاب کی طرف ہے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ اور ان کی برائی بیان کی گئی جو مال میں کنجوسی اختیار کرتے ہیں۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 181–182

زکوٰۃ پر یہود کا اعتراض شان نزول : ان آیات کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آیت (من ذالذی یقرض اللہ) اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے۔ فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا۔ فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا انہوں نے سارا قصہ بیان کیا۔ فخاص اس بات کے کہنے سے منکر ہوگیا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تصدیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 181–184

[69] یہ کہنے والے یہود تھے۔ انہوں نے جب قرآن کی یہ آیت سنی کہ ( مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے) تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اللہ محتاج ہوگیا ہے جبھی تو وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 182–183

سوختی قربانی : (ف 1) امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کعب اشرف ‘ کعب بن اسد اور دوسرے اکابر یہود حضور انور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ توراۃ میں لکھا ہے جب تک کوئی نبی سوختی قربانی کا معجزہ نہ دکھائے ، قابل تسلیم نہیں ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذبیحر ایک مخصوص مکان میں رکھا جائے جس کی چھت نہ ہو ۔ آسمان سے آگ نازل ہو جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور وہ آکر اس ذبیحہ کو جلا دے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس نوع کا مطالبہ یہودیوں کی طرف سے بعید نہیں اس لئے کہ وہ سخت جامد اور ادہام پرست تھے ، مگر مشکل یہ ہے کہ توراۃ میں سرے سے نبوت کا یہ معیار ہی مذکور نہیں اور قرآن حکیم کے الفاظ یہ ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان گستاخ لوگوں کا وہ گستاخانہ قول سن لیا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قرض حسنہ طلب کرنے پر کہا تھا کہ اللہ محتاج و مفلس ہے اور ہم غنی اور مالدار ہیں ہم ان کی کہی ہوئی بات کو یقیناً ان کے نامۂ اعمال میں لکھ دیں گے اور اسی طرح ان گستاخ لوگوں کا یہ جانتے ہوئے کہ قتل انبیاء ناجائز ہے۔ پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو قتل کرنا بھی لکھا جائے گا اور ان کو سزا دیتے وقت ہم کہیں گے کہ لو اب آتش سوزاں کے عذاب کا مزہ چکھو اور اس وقت ہم یہ بھی کہیں گے یہ عذاب ان افعال و اقوال کفری کی پاداش میں ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے اور تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے تھے اور یہ امر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 181–183

ف 3۔ پہلے بعض انبیاء کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا غیر جاندار اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی غیب سے ایک آگ نمودا رہوئی اور اس چیز کو جلا دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو اپنے کئے کی اور تم کو اپنے کئے کی سزا بھگتنا ہوگی ، اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا : 332: قرآن کریم کے الفاظ بالکل صاف صاف بتا رہے ہیں کہ یہود کو جس سزا دیئے جانے کا ذکر ہے وہ ان کے اپنے کئے کے نتیجہ میں ہے نہ کہ ان کے پہلوں کے کئے ہوئے گناہوں کی پاداش میں اور اس میں ذلک بما قدمت ایدیکم کے الفاظ اس بات کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ تم جو کچھ اپنے ہاتھوں اپنے لئے مہیا کرچکے ہو یہ اس کا نتیجہ ہے پھر جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی پوری تفصیل تفسیر ، سیرۃ ، تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں موجود ہے اور پیچھے تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدے کر کے ان معاہدوں کا کیا اور ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 181–182

The second verse (18) warns Jews against their grave act of effrontery and mentions its punishment. According to the background of the event, when the Holy Prophet ﷺ presented the Qur'anic injunctions relating to Zakah and Sadaqat (charities), the arrogant Jews started saying that Allah had surely become poor and needy while they were rich, or else why would He go about asking us to give? We seek refuge with Allah from such effrontery. Obviously, they would have hardly believed in the absurd statement they made but, in all likelihood, they would have said so to prove that the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 182–183

129. The Bible mentions at several places that the token of Divine acceptance of a person's sacrificial offering was the appearance of a mysterious fire which consumed the offering. (See Judges 6: 20-1 and 13: 19-20; 2 Chronicles 7: 1-2.) The Bible does not state, however, that the consuming fire was an indispensable token of prophethood and that anyone not endowed with that miracle could not be a Prophet. The Jews in discussing the claim of Muhammad (peace be on him) to be a Messenger of God brought up the question of this miraculous sign, and used it as a pretext for denying that claim.…

Read the full tafseer →