Explained with ayahs 181–184
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ) 3۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 128
یہ یہودیوں کا قول تھا۔ قرآن مجید میں جب یہ آیت آئی کہ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا، ”کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے“ ، تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے یہودیوں نے کہنا شروع کیا کہ جی ہاں، اللہ میاں مفلس ہوگئے ہیں، اب وہ بندوں سے قرض مانگ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
دوسری آیت میں یہود کی ایک سخت گستاخی پر تنبیہ اور سزاء کا ذکر ہے، جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے زکوة و صدقات کے احکام قرآن سے بتلائے تو گستاخ یہود یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فقیر محتاج ہوگیا اور ہم مالدار ہیں جب ہی تو ہم سے مانگتا ہے (نعوذ باللہ من) ظاہر یہ ہے کہ اس بیہودہ قول کے موافق ان کا اعتقاد تو نہ ہوگا، مگر رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے کہا ہوگا کہ اگر قرآن کی یہ آیات صحیح ہیں تو ان سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ فقیر و محتاج ہے، ان کا یہ لغو استدلال تو بدایتا باطل ہونے کی وجہ سے قابل جواب نہ تھا، کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم صدقات کا اپنے نفع کے لئے نہیں خود اصحاب مال کے نفع دینی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
181-182۔ منافقین کا طنز اللہ جل شانہ کی شان میں :۔ لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا الایہ، یہ منافقین کے اس استہزا پر تہدید و وعید ہے جو وہ اپنی مجلسوں میں قرآن کی دعوت انفاق کا کیا کرتے تھے۔ قرآن جب یہ کہتا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے۔ تو یہ مناقین اس پر یہ فقرہ چست کرتے کہ ان دنوں اللہ میاں بہت غریب ہوگئے ہیں اور ہم ان سے زیادہ امیر ہیں کہ وہ ہم سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔ یہ منافقین زیادہ تر یہود میں سے تھے اس وجہ سے خدا پر طنز کرنے میں بھی انہوں نے بالکل یہود ہی کی ہمنوائی کی۔ سورة مائدہ میں یہود کا یہ قول جو نقل ہوا ہے کہ ید اللہ مغلولۃ، اس کی نوعیت بھی، جیسا کہ ہم…
Read the full tafseer →181۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) 57:11 کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ! تو یہود نے کہا کہ اے محمد ﷺ تیرا رب فقیر ہوگیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے ؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
181۔ 2 یعنی مذکورہ قول جس میں اللہ کی شان میں گستاخی ہے اور اسی طرح ان کے (اسلاف) کا انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنا، ان کے سارے جرائم اللہ کی بارگاہ میں درج ہیں، جن پر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہونگے۔
Read the full tafseer →62: جب زکوٰۃ وغیرہ کے احکام آئے تو بعض یہودیوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اس قسم کے گستاخانہ جملے کہے تھے۔ ظاہر ہے کہ عقیدہ تو ان کا بھی یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ فقیر ہے، لیکن انہوں نے زکوٰۃ کے حکم کا مذاق اس طرح اڑایا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ جملے کا کوئی جواب دیا، بلکہ اس پر عذاب کی وعید سنائی۔
Read the full tafseer →اللہ کی ذات کے بارے میں بدترین خیالات یہودیوں کی تحریف شدہ کتب کے اندر بھی درج ہیں ۔ لیکن قرآن نے ان کا جو قول نقل کیا ہے یہ ان کا ذات باری کے متعلق نہایت گھٹیا تصور ہے……………” وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اسے لکھ لیں گے ۔ “ تاکہ ان کا محاسبہ کیا جاسکے ۔ ان کی یہ بات یونہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے گی اور نہ ہی اسے مہمل اور لغو بات سمجھ کر چھوڑدیاجائے گا ۔ ان کی اس گستاخی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے سابق کرتوتوں کا ایک حصہ بھی یہاں ذکر کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ان کے ہم قوم ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ یہ سابقہ گناہ ان کے کھاتے میں اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت بدستور وہی ہے ۔ وہ اسی طرح نافرمان…
Read the full tafseer →1 یعنی محض اتنا ہی نہیں کہ یہود انتہائی بخل کی وجہ سے پیسہ خرچ کرنا نہیں جانتے، بلکہ جب خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم سنتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ کلمات بکنے سے بھی نہیں شرماتے۔ چناچہ جب آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) 2 ۔ البقرۃ :245) نازل ہوئی، کہنے لگے اللہ ہم سے قرض مانگتا ہے تو اللہ فقیر محتاج ہے اور ہم غنی مالدار ہیں، حالانکہ ایک غبی اور کوڑھ مغز بھی سمجھ سکتا ہے کہ انفاق فی وجوہ الخیر کو قرض سے تعبیر فرمانے میں انتہائی رحمت و شفقت کا اظہار تھا۔ ظاہر ہے کہ خدا اپنا دیا ہوا مال ہم سے ہماری مصالح میں ہمارے ہی دنیاوی و اخروی فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
آیت 181 لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُ 7 ۔
یہ بات کہنے والوں میں منافقین بھی شامل ہوسکتے ہیں اور یہودی بھی۔ جب رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو انفاق مال کی ترغیب دیتے تھے کہ اللہ کو قرض حسنہ دو تو یہودیوں اور ان کے زیر اثر منافقوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کردیا کہ ہاں اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم سے قرض مانگ رہا ہے ‘ جبکہ ہم غنی ہیں ‘ ہمارے پاس دولت ہے۔
سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا
ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی جھلکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً تو گرفت نہیں کرتا لیکن ایک وقت آئے گا جس دن انہیں اپنے اس قول کی پوری سزا مل جائے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
180 یہ قول یہود کا ہے۔ پہلے (3: 75) میں بیان ہوچکا ہے کہ یہود میں سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے مال و دولت کی ہوس، زر پرستی اور بخل کا مرض پیدا ہوگیا تھا چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) تو یہود اپنے جذبہ بخل سے مغلوب ہو کر کہنے لگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اسی لیے تو وہ ہم سے قرضہ مانگتا ہے ان کے اسی جواب کو اللہ تعالیٰ نے یہاں حکایتاً نقل فرمایا ہے۔ یہود کا یہ جواب ان کے بخل کا ہی نہیں ان کے خبث…
Read the full tafseer →377 ۔ یہ کہنے والے یہود تھے اور ان یہ قول بہ طور مضحکہ و تمسخر کے تھا۔ یہود کا ایک قبیلہ بنی قینقاع کے نام سے نواح مدینہ میں آباد تھا یہ زرگروں اور مہاجنوں ساہوکاروں کا گروہ تھا۔ انہی نے آیۃ کریمہ (آیت) ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ سن کر بہ طور تعریض وتضحیک اس قسم کی بدگوئی شروع کردی تھی، یہود کی بدتمیزوں اور گستاخانہ طنز و تمسخر کو کوئی آج سمجھنا چاہے تو آریہ سماجیوں کا مناظرانہ لٹریچر اٹھا کر پڑھ لے !
378 ۔ یعنی فرشتوں کے ہاتھ سے ان لوگوں کے نامہ اعمال میں لکھا کر رہیں گے اور ایسی گستاخانہ پھبتیوں کو ہرگز نظر انداز نہ ہونے دیں گے۔ (آیت) ” سنکتب۔ س یہاں بھی تاکید کے لیے ہے۔ السین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
آیت نمبر 181 تا 189
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی…
Read the full tafseer →لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سنی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ فقیر ہے ہم سے قرض مانگتا ہے یہ بات یہودیوں نے اس وقت کہی تھی جب آیت : من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا نازل ہوچکی تھی اس پر آیت : لقد سمع اللہ نازل ہوئی حسن نے فرمایا فرمایا : کہ اس کلام کا قائل حیی بن اخطب تھا۔
سنکتب ما قالوا ہم لکھتے ہیں ان کے قول کو یعنی اعمال نامے لکھنے والے فرشتے ہمارے حکم سے لکھ لیتے ہیں اسی کی مثل ہے آیت : وَ اِنَّا لَہٗ کَاتِبون…
Read the full tafseer →(181) فخاص بن عاز وراء اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ مفلس ہے، ہم سے قرض چاہتا ہے اور ہم اس کے قرض کے محتاج نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم ان کے اس قول کو نامہ اعمال میں محفوظ کرکے رہیں گے اور اسی طرح ان کا حضرات انبیاء کو ناحق قتل کرنا اور زمانہ یہودیت میں جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کے عوض سخت ترین عذاب چکھائیں گے۔
شان نزول : (آیت) ”لقد سمع اللہ“۔ (الخ)
ابن اسحاق ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہودیوں کو فخاص نامی ایک شخص کے پاس جمع پایا وہ شخص کہنے لگا اے ابوبکر ؓ ہمیں اللہ کی طرف کسی قسم کی احتیاج نہیں وہ ہمارا محتاج ہے…
Read the full tafseer →لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ : اوپر کی آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر زور دیا، اب ان آیات میں یہود کے اعتراضات کا بیان اور ان کا جواب دینا مقصود ہے۔ دراصل یہود یہ اعتراضات نبوت پر طعن کی غرض سے کرتے تھے۔ کتب تفسیر میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) [ البقرۃ : 245 ] ”کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض“ نازل ہوئی تو بعض یہود نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا : ”لو جی، اللہ میاں بھی فقیر ہوگئے ہیں اور بندوں سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔“ تو ان کے جواب میں یہ آیت اتری۔ (ابن کثیر) دراصل اس قسم کے اعتراضات وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
آیت نمبر : 181 تا 182۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ اللہ تعالیٰ نے کفار بالخصوص یہود کے قول کی قباحت (اور برائی) ذکر فرمائی۔ اور اہل تفسیر نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرض حسنا “۔ (البقرہ : 245) (کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن) تو یہودیوں میں سے ایک گروہ نے کہا۔۔ ان میں سے حی بن اخطب تھا، یہ حسن کے قول کے مطابق ہے اور حضرت عکرمہ ؓ نے کہا ہے : وہ فخاص بن عازوراء تھا۔ (آیت) ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 548 دارالکتب العلمیہ) (بےشک اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم غنی…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ابوبکر ؓ بیت المدارس میں داخل ہوئے وہاں ایک یہودی کو پایا کہ جس کے گرد لوگ جمع ہو رہے تھے جس کو فخاص کہا جاتا تھا اور یہ آدمی ان کے بڑے علماء میں سے تھا ابوبکر ؓ نے (اس سے) فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے فخاص ! اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم ! تم خوب جانتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جیسے تم اپنی کتاب تورات میں لکھا ہوا پاتے ہو فخاص نے کہا اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! ہمیں کوئی حاجت نہیں اللہ کی طرف اور ہم نہیں عاجزی کرتے اس کی طرف جیسا کہ وہ عاجزی کرتا ہے ہماری طرف اور ہم تو اس سے غنی ہیں…
Read the full tafseer →[لَقَدْ سَمِعَ : بیشک سن لیا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [قَوْلَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی بات جنہوں نے ] [قَالُوْآ : کہا ] [اِنَّ : کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [فَقِیْرٌ : فقیر ہے ] [وَّنَحْنُ : اور ہم ] [اَغْنِیَـآئُ : مالدار ہیں ] [سَنَـکْتُبُ : ہم لکھ لیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [وَقَتْلَہُمُ : اور (لکھیں گے) ان کا قتل کرنا ] [الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [وَّنَـقُوْلُ : اور ہم کہیں گے ] [ذُوْقُوْا : تم لوگ چکھو ] [عَذَابَ الْحَرِیْقِ : بھڑکائی گئی آگ کا عذاب ]
ز ب ر
زَبُرَ (ک) زَبَارَۃً : بڑے جسم والا ہونا ‘ موٹا ہونا ‘ مضبوط ہونا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
یہود کی بیہودگی اور ان کے لیے عذاب کی و عید
لباب النقول صفحہ 61 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ایک دن یہودیوں کے بیت المدارس (یعنی مدرسہ) میں تشریف لے گئے وہاں ایک شخص کے پاس یہودی جمع تھے جس کا نام فخاص تھا فخاص نے کہا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی طرف کوئی محتاجی نہیں اور اللہ ہمارا محتاج ہے اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض کیوں مانگتا، تمہارا نبی یہ بتاتا ہے کہ اللہ قرض طلب کرتا ہے اس پر حضرت ابوبکر ؓ کو غصہ آگیا اور فخاص کے چہرے پر طمانچہ مار دیا۔ فخاص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! دیکھو تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیا کیا۔ آپ نے ابوبکر سے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
277 یہ ترغیب علی الانفاق اور تخویف اخروی کے بعد منافقین یہود کا شکوی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی اَقْرَضُوْا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا سے ترغیب دی تو وہ ازراہ استہزاء و تمسخر کہنے لگے کہ اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں کیونکہ وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا۔ یہ تخویف اخروی ہے اور یہاں سین تاکید کے لیے ہے اور لکھنے کی نسبت اللہ کی طرف مجازی ہے یعنی جو کچھ انہوں نے کہا ہے ہم ضرور کراماً کاتبین کو اسے لکھنے کا حکم دیں گے اور اسے ضرور قلمبند کرلیا جائے گا۔ ای نا مر الحفظۃ باثبات قولھم الخ (قرطبی ج 4 ص 494) ۔ والسین للتاکید ای لن یفوتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
شان نزول : اس سے پہلے درس میں یہودیوں کے بخل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ سے متعلق ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ حجور نبی کریم (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت خود مدینہ طیبہ اور اس کے ارد گرد یہودی کثیر تعداد میں آباد تھے۔ خیبر یہودیوں کا خاص گڑھ تھا۔ اس کے علاوہ جوار مدینہ میں بنی قریظہ ، بنی نضیر اور بنی قینقاع کی بستیاں تین تین چار میل کے فاصلے پر آباد تھیں۔ ان آیات کے شان نزول کے متعلق جو واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اسے امام بیضاوی ، صاحب تفسیر مظہری اور ابن جریر وغیرہ نے محمد بن اسحاق مورخ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو دعوت اسلام کا…
Read the full tafseer →لَقَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ 0 ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ 0 ۙ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 181
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
ترکیب : وقتلہم معطوف ہے ماقالوا پر قتل مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف الانبیاء مفعول ذلک مبتداء بما قدمت خبر اے مستحق بما قدمت الذین قالوا بدل ہے پہلے الذین سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کی تاکید تھی کہ اللہ کی راہ میں مال صرف کرنا چاہیے ٗ بخل اچھا نہیں۔ اس کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی اور فرمایا کہ جو کوئی دیتا ہے اللہ کو دیتا ہے۔ اس پر مدینہ کے یہود نے سن کر مضحکہ کیا اور کہا کہ کیا اللہ فقیر ہے جو بندوں 1 ؎ سے مانگتا ہے۔ دوسرا شبہ تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے نبی ہیں تو ایسی قربانی کریں کہ جس کو آگ آسمان سے اتر کر کھا جاوے۔ خدا نے ہم سے عہد کیا ہے کہ اس وقت تک ہم کسی نبی کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَـآئُ م سَنَـکْتُبُ مَاقَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِحَقٍّ لا ج وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّـلْعَبِیْدِ ۔
(اللہ نے سن لی ہے ان لوگوں کی بات جنھوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے ان کی بات اور ساتھ ہی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی اور ہم کہیں گے اب چکھو آگ کا عذاب۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی ہی کرتوت ہے اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ظالم نہیں) (181 تا 182)
حق و باطل کی کشمکش میں جذبہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں میں بخل کا ماحول پیدا کرنے کے لیے یہودیوں نے منافقوں کو یہ کہہ کر مالی تعاون سے منع کیا کہ مسلمانوں کا رب کنگال ہوگیا ہے اور ہم مال و دولت والے ہیں یہاں بخل کی مذمت اور اس گستاخی کی سزا سنائی گئی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فنحاص یہودی عالم کے پاس بیت المدراس میں گئے۔ اسے کہنے لگے اللہ سے ڈرتے ہوئے مسلمان ہوجاؤ۔ کیونکہ تو جانتا ہے کہ آپ ﷺ سچے رسول ہیں اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ فنحاص نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے محتاج نہیں۔ البتہ وہ ضرور ہمارا محتاج ہے اگر وہ ہمارا محتاج نہ ہوتا تو ہم سے قرضے کا مطالبہ نہ کرتا۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ غصے میں آئے اور اس کے…
Read the full tafseer →یہود کا بدترین جارحانہ مقولہ :
181: لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآئُ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنچْبِیَآ ئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ (بیشک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ فقیر اور ہم غنی ہیں) یہ بات یہود نے کہی جبکہ یہ ارشاد ربانی ان کے کان میں پڑا۔ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا (البقرہ : 245)ـ کہ کون اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتا ہے۔ یہود کہنے لگے محمد ﷺ کا خدا ہم سے قرض مانگتا ہے پس پھر تو ہم غنی اور وہ فقیر ہے۔
قَدْ سَمِعَ کا معنی یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →(حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی صداقت پر آیات کا نزول)
(تفسیر) 181۔: حسن (رح) ، اور مجاہد (رح) ، اللہ کا قول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ یہود کہنے لگے (نعوذ باللہ) اللہ فقیر ہوگیا وہ ہم سے قرضہ مانگتا ہے اور ہم امیر ہیں ، حسن (رح) ، کا قول ہے کہ یہ کہنے والا حی بن اخطب تھا ، عکرمہ ؓ ، سدی (رح) ، مقاتل (رح) ، محمد بن اسحاق (رح) ، کے بیان کے مطابق جب آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو ایک تحریر دے کر بنی قینقاع کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور تحریر میں ان کو اسلام لانے نماز پڑھنے زکوۃ ادا کرنے اور اللہ کے لیے قرض حسنہ دینے کی دعوت دی ، حسب الحکم ایک روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
(181 ۔ 182) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں متعدد معتبر طریقوں سے جو اس آیت کی شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت میں من الذی یقرض اللہ اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سارا قصہ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
آیت 181-182
اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انہوں نے جو بدزبانی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیاء کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہر زہ گوئی۔۔۔” اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں “۔۔۔ کے بدلے میں کہا جائے گا :” ذوقوا عذاب الحریق) ” یعنی بدن سے دل تک جلا ڈلانے والے عذاب کا مزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
386 یہود بےبہبود کا ایک انتہائی بیہودہ قول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے سن لی بات ان [ بدبخت اور منحوس ] لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے [ والعیاذ باللہ ] اور ہم مالدار " سو یہ قول یہود بےبہبود کا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ { مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَناً فَیُضَاعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً } الآیۃ (البقرۃ :245) نازل ہوئی تو یہود بےبہبود نے کہا کہ محمد کا رب غریب اور محتاج ہوگیا ہے جو اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
یہود کی کم عقلی
تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت آئی کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے گا ؟ تو اس پر بجائے غور کرنے کے اور عمل کرنے کے الٹا یہود نے مذاق اڑانا شروع کردیا یہ کہہ کر کہ لو اللہ فقیر ہوگیا اور ہم مالدار ہوگئے کہ اللہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ ان بیوقوفوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں آئی کہ سب کچھ اللہ کا ہی ہے اس نے ہمیں دیا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں اس عطا کئے ہوئے مال کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی ترکیب بتا رہا ہے نہ تو اس کو ہمارے مال کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری مدد کی ضرورت ہے یہ تو اس نے حکمت کی بات بتائی ہے کہ اگر تم اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 7 اوپر کی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ پر زور دیا۔ اب ان آیات میں یہود کے شبہات کا بیان اور ان کا رفع کرنا مقصود ہے۔ دراصل یہود یہ شہبات نبو پر طعن کی غرض سے کرتے تھے۔ (رازی) کسب تفسیر میں ہے کہ جب آیت من ذا الذی یقرض اللہ ذصا حسنا نازل ہوئی تو بعض یہود نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا فوجی ! اللہ میاں بھی فقیہ ہوگئے ہیں اور بندوں سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر۔ کبیر) یہود اس قسم کے شہبات عوام کو انفاق فی سبیل اللہ سے متنفر کرنے کی غرض سے وارد کرتے تھے ورنہ وہ بھی خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت اس قسم کے خیالات کا اظہار کفر ہے (قرطبی)8 یعنی ان کی…
Read the full tafseer →(3:181) ذوقوا۔ تم چکھو۔ ذوق سے (باب نصر) امر جمع مذکر حاضر۔ ذائقۃ۔ مزا چکھنے والا۔
حریق۔ جلا دینے والا۔ فاعل اور مفعول دونوں کے لئے آتا ہے۔ یعنی جلانے والا۔ اور جلا ہوا۔ محرق بھی فاعل آتا ہے جیسے تپ محرقہ اردو میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
لغات القرآن آیت نمبر 181 تا 183
سمع اللہ (اللہ نے سن لیا) اغنیاء (مال دار (غنی کی جمع) ذوقوا (تم چکھو (ذق) عذاب الحریق ( بھڑکتی آگ کا عذاب) ظلام (بہت زیادہ ظالم) عبید (بندے) ۔ تشریح : آیت نمبر 181 تا 183
سورة آل عمران کی ابتداء ہی سے خطاب اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے ہو رہا تھا۔ درمیان میں غزوۂ احد سے متعلق ارشاد فرمایا گیا۔ اب پھر سلسلہ کلام اہل کتاب کی طرف ہے۔
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ اور ان کی برائی بیان کی گئی جو مال میں کنجوسی اختیار کرتے ہیں۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
زکوٰۃ پر یہود کا اعتراض
شان نزول : ان آیات کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آیت (من ذالذی یقرض اللہ) اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے۔ فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا۔ فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا انہوں نے سارا قصہ بیان کیا۔ فخاص اس بات کے کہنے سے منکر ہوگیا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تصدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[69] یہ کہنے والے یہود تھے۔ انہوں نے جب قرآن کی یہ آیت سنی کہ ( مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 245۔ ) 2 ۔ البقرة :245) (کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے) تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اللہ محتاج ہوگیا ہے جبھی تو وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) بعض دفعہ یہودی سرمایہ داری کے نشے میں بےخود ہو کر ایسے کلمات کہہ جاتے ہیں جس سے خداوند ذوالجلال کی توہین مترشح ہوتی ، مثلا جب حضرت ابوبکر ؓ کو حضور ﷺ نے دعوت تامہ دے کر قبیلہ بنی قینقاع کی طرف بھیجا ، جس میں لکھا تھا کہ تم اسلام قبول کرلو اور صلوۃ وزکوۃ ادا کرو ، تو انہوں نے از راہ مزاح کہا ۔ ” کیا خدا فقیر ہے کہ اسے ہمارے صدقات کی ضرورت ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ سخت گستاخی ہے ۔ یاد رکھو تمہاری اس گستاخی کا علاج سخت ترین عذاب ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ جلال میں اس نوع کے کلمات بہت برے ہیں ۔
حل لغات :
یطوقون : مادہ تطویق ، طوق پہنانا ۔
بغیر حق : نادرست طور پر ، ناحق ، ناجائز ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
ف 2 اور وہ لوگ جو ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائی ہے یہ نہ سمجھیں اور ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ بخل کرنا اور بخل کی روش اختیار کرنا ان کے حق میں کچھ اچھا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ بخل کرنا ان کے لئے بہت برا ہے کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ اس مال کا طوق بناکر پہنائے جائیں گے جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا یعنی وہی چیز جس میں بخل کیا تھا قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہوگی اور آسمانوں کی اور زمین کی تمام میراث اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آخر میں سب آسمان و زمین اور جو کائنات ان کے اندر ہے ان سب کا وارث وہی ہوگا اور تم لوگ جو اعمال کرتے ہو ان سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
ف 3۔ پہلے بعض انبیاء کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا غیر جاندار اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی غیب سے ایک آگ نمودا رہوئی اور اس چیز کو جلا دیا۔
Read the full tafseer →یہودیت اور منافقت کا جوڑ :
آیت 116 تک اہل کتاب کا حال چلا آ رہا تھا خصوصاً یہود کا پھر آیت 117 سے منافقین کا بیان شروع ہوگیا جو آیت 180 تک چلتا رہا اور اب آیت 181 سے پھر موضوع اہل کتاب کی طرف منتقل ہورہا ہے اور خصوصاً یہود کی طرف گویا یہودیت سے منافقت کو گھیرے میں لے رکھا ہے یا منافقت یہودیت کی لپیٹ میں ہے اور اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہودیت اور منافقت کا مزاج ملتا جلتا ہے۔
جن لوگوں نے اللہ کے فقیر ہونے کی پھبتی کسی ہے ان کی بات اللہ نے سن لی ہے :
329: منافقین کے جس گروہ کا ذکر پیچھے ہو رہا تھا بڑے حامی اور جنگ احد کے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن جو بالکل منافقوں کی طرح اندرونی دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
The second verse (18) warns Jews against their grave act of effrontery and mentions its punishment. According to the background of the event, when the Holy Prophet ﷺ presented the Qur'anic injunctions relating to Zakah and Sadaqat (charities), the arrogant Jews started saying that Allah had surely become poor and needy while they were rich, or else why would He go about asking us to give? We seek refuge with Allah from such effrontery. Obviously, they would have hardly believed in the absurd statement they made but, in all likelihood, they would have said so to prove that the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →128. This statement was made by the Jews. On the revelation of the Qur'anic verse (2: 245): 'Who of you will lend Allah a goodly loan?', the Jews began to ridicule it and said: 'Look, God has now gone bankrupt and has begun to beg of His creatures for loans.' (For this statement made by the Jews see the Tradition mentioned by Ibn Kathir in his comments on this verse - Ed.)
Read the full tafseer →