Explained with ayahs 176–180
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام
چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 127
یعنی زمین و آسمان کی جو چیز بھی کوئی مخلوق استعمال کر رہی ہے وہ دراصل اللہ کی ملک ہے اور اس پر مخلوق کا قبضہ و تصرف عارضی ہے۔ ہر ایک اپنے مقبوضات سے بہرحال بےدخل ہونا ہے اور آخر کار سب کچھ اللہ ہی کے پاس رہ جانے والا ہے۔ لہٰذا عقل مند ہے وہ جو اس عارضی قبضہ کے دوران میں اللہ کے مال کو اللہ کی راہ میں دل کھول کر صرف کرتا ہے۔ اور سخت بیوقوف ہے وہ جو اسے بچا بچا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
سورة آل عمران کے شروع میں یہودیوں کی بری خصلتوں اور شرارتوں کا ذکر تھا یہاں سے پھر اسی کی طرف عود کیا گیا، آیات مذکورہ سب اسی طرح کے مضامین پر مشتمل ہیں، درمیان میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی اور مسلمانوں کے لئے نصائح کا ذکر ہے
خلاصہ تفسیر
اور ہرگز نہ خیال کریں ایسے لوگ جو (ضروری مواقع میں) ایسی چیز (کے خرچ کرنے) میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات ان کے لئے کچھ اچھی ہوگی، (ہرگز نہیں) بلکہ یہ بات ان کے لئے بہت ہی بری ہے (کیونکہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ) وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنائے جائیں گے اس (مال) کا (سانپ بنا کر) جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور (بخل کرنا…
Read the full tafseer →منافقین کی کمزوری انفاق کے معاملے میں :۔ اہل نفاق جس طرح اپنی جان کے معاملے میں چور ہوتے ہیں اسی طرح اپنے مال کے معاملے میں بھی چور ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی اس کمزوری پر بھی تنبیہ فرمائی تاکہ مسلمان اس بیماری سے بھی ہوشیار رہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے سے دریغ کر رہے ہیں در آنحالیکہ وہ خدا ہی کا بخشا ہوا ہے اور خدا نے ان کو کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنے فضل سے بخشا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ اپنے مستقبل کی مصلحت کے لیے وہ کوئی بڑا مفید کام کر رہے ہیں۔ خدا کے حقوق و فرائض سے چرا چرا کر جو مال جمع کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے دن ان کی گردنوں کا بوجھل طو وق بنے گا…
Read the full tafseer →180۔ 1 اس میں اس بخیل کا بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا حتی کہ اس میں سے فرض زکوٰۃ بھی نہیں نکالتا، صحیح بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اس کے مالک کو ایک زہریلا اور نہایت خوف ناک سانپ بنا کر طوق کی طرح اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
Read the full tafseer →61: وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کا حکم دیں، انسان وہاں خرچ نہ کرے، مثلاً زکوٰۃ نہ دے، ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا، قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ : ”میں ہوں تیرا مال ! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ !“۔
Read the full tafseer →درس 28 ایک نظر میں
یہاں تک معرکہ احد کا بیان ختم ہوجاتا ہے لیکن جماعت مسلمہ اور اس کے اردگرد نواح میں پھیلے ہوئے دشمنان اسلام کے ساتھ معرکہ آرائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی ۔ خصوصاً یہودیوں نے مباحثے اور مجادلے شروع کر رکھے تھے ‘ تشکیک اور بےچینی پیدا کرنا ‘ سازشیں اور کینہ پروری اور گھات میں بیٹھ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرنا ۔ اس معرکے کے اردگرد یہ اس سورت کے اکثر مباحث پھیلے ہوئے ہیں اور گھومتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ نے قبیلہ بنی قینقاع کو مدینہ کے قرب و جوار سے جلاوطن کردیا تھا کیونکہ غزوہ بدر کے بعد وہ سخت بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع…
Read the full tafseer →6 ابتدائے سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود نصاریٰ ) سے متعلق تھا۔ درمیان میں خاص مناسبات و وجوہ کی بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات آگئیں۔ انہیں بقدر کفایت تمام کر کے یہاں سے پھر اہل کتاب کی شنائع بیان کی جاتی ہیں، چونکہ ان میں سے یہود کا معاملہ بہت مضرت رساں اور تکلیف دہ تھا، منافقین بھی اکثر ان ہی میں کے تھے، اور اوپر کی آیت میں آگاہ کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ اب خبیث کو طیب سے جدا کر کے رہیگا۔ سو یہ جدائی جس طرح جانی و بدنی جہاد کے وقت ظاہر ہوتی تھی اسی طرح مالی جہاد کے وقت بھی کھرا کھوٹا اور کچا پکا صاف طور پر الگ ہوجاتا تھا اس لئے بتلا دیا کہ یہود منافقین جیسے جہاد کے موقع سے بھاگتے ہیں، مال خرچ…
Read the full tafseer →آیت 180 وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُم ْ ط۔
ظاہر بات ہے کہ جب جنگ احد کے لیے تیاری ہو رہی ہوگی تو حضور ﷺ نے مسلمانوں کو انفاق مال کی دعوت دی ہوگی تاکہ اسباب جنگ فراہم کیے جائیں۔ لیکن جن لوگوں نے دولت مند ہونے کے باوجود بخل کیا ان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انہوں نے بخل کر کے جو اپنا مال بچالیا وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔ یہ مال اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تھا ‘ اس میں بخل سے کام لے کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔
بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَلِلّٰہِ…
Read the full tafseer →178 آیت نمبر 177 میں یہ بیان ہوا تھا کہ دنیا میں نعمتوں کی فراوانی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ مال و دولت اسی صورت میں اللہ کی نعمت کہلا سکتا ہے جب کہ اس سے مال کے حقوق ادا کردیئے جائیں اور اگر بخل سے کام لیا جائے تو یہی مال و دولت عذاب کا باعث بن جاتا ہے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس سے زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہوگا جس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا، میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →372 ۔ (صرف واجب کے موقع پر) البخل فی اللغۃ ان یمنع الانسان الحق الواجب علیہ (قرطبی) نزلت فی مانعی الزکوۃ المفروضۃ قالہ ابن مسعود و ابوہریرہ وابن عباس ؓ والشعبی و مجاھد (بحر)
373 ۔ (یعنی یہی شیوہ بخل) ھو ای البخل (مدارک)
374 ۔ (اور یہ طوق سانپ کی شکل میں ہوں گے ان کی گردنوں میں لپٹے ہوئے) حشر میں جب مجردات اور معانی مادی جسم اور شکل اختیار کرلیں گے۔ بخل اور منع زکوٰۃ حدیث میں آیا ہے کہ سانپ بن کر مجرموں کی گردن میں لپٹے گا۔ قال رسول اللہ ﷺ مامن احد لایودی زکوٰۃ مالہ الامثل لہ شجاع اقرع یطوقہ (ابن جریر عن ابن مسعود) (آیت) سیطوقون “ میں س تاکید کے لیے ہے۔ السین مزیدۃ للتاکید (روح)
375 ۔ (اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
آیت نمبر 181 تا 189
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی…
Read the full tafseer →و لا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ ھو خیرا لھم جو لوگ خدا داد مال میں بخل کرتے ہیں یعنی زکوٰۃ نہیں دیتے وہ بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں۔
الذین یبخلون کا فاعل ہے اور مفعول اوّل محذوف ہے اور مفعول دوئم خیراً ہے اور ھُوَ ضمیر فصل ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھُوَ کو مفعول اوّل کے قائم مقام قرار دیا جائے۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے مال دیا ہے اور وہ زکوٰۃ نہیں دیتے وہ اللہ کی اس عطا کو یا خداداد مال کو یا بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں۔ ما اٰتاھم اللہ سے خداداد مال مراد لینا اولیٰ ہے کیونکہ آگے آیا ہے کہ جس چیز میں انہوں نے بخل کیا تھا اس کا ان کی گردنوں میں طوق ڈالا جائے…
Read the full tafseer →(180) کفار ومنافقین کو اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت عطا فرمایا تھا اس میں وہ بخل کرتے تھے اللہ تعالیٰ اس کی مذمت فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عطا خداوندی پر یہ بخل ان کے لیے اچھا ہوگا ہرگز نہیں، بلکہ اللہ کی جانب سے ان کے اس بخل کے سبب یہ خالص سزا ہوگی کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں قیامت کے دن ان کے سونے اور چاندی کے طوق ڈالے جائیں گے۔
آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں یا یہ کہ اس دن تمام آسمان و زمین والے فنا ہوجائیں گے اور صرف واحد قہار کی بادشاہت باقی رہ جائے گی وہ ان کے بخل اور سخاوت کو بخوبی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 180۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یحسبن الذین “۔ اس میں الذین محل رفع میں ہے اور مفعول اول محذوف ہے خلیل، سیبویہ اور فراء نے کہا ہے : اس کا معنی البخل، خیرا لھم “ ، یعنی بخل کرنے والے یہ گمان نہ کریں (کہ) بخل ان کے لیے بہتر ہے۔ (1) (جامع البیان للطبری، جلد 3۔ 4، صفحہ، 6 23) اور چونکہ یبخلون بخل پر دلالت کر رہا ہے اس وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے اور یہ اس قول کی طرح : من صدق کان خیرالہ ای کان الصدق خیرالہ “۔ (جس نے سچھ بولا وہ سچ اس کے لیے بہتر ہے)
اور اسی سے شاعر کا قول ہے :
اذا نھی السفیہ جزی الیہ وخالف والسفیہ الی خلاف :
پس معنی ہے : جری الی…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “ سے وہ اہل کتاب مراد ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے بیان اللہ کی کتاب کے ساتھ بخل کیا (پھر فرمایا) ” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ “ یعنی عنقریب ان کو اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس کے ساتھ وہ بخل کرتے تھے کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ (آیت 37) یعنی اہل کتاب کہتے ہیں اور وہ خود بھی (اللہ کے احکام) چھپاتے ہیں اور لوگوں کو بھی چھپانے کا حکم دیتے ہیں۔
(2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم…
Read the full tafseer →[وَلاَ یَحْسَبَنَّ : اور ہرگز گمان نہ کریں ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یَبْخَلُوْنَ : کنجوسی کرتے ہیں ] [بِمَآ : اس میں جو ] [اٰتٰـٹہُمُ : دیا ان کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ہُـوَ : (کہ) یہ ] [خَیْرًا : بہتر ہے ] [لَّــہُمْ : ان کے لیے ] [بَلْ ہُوَ : بلکہ یہ ] [شَرٌّ : نقصان دہ ہے ] [لَّـہُمْ : ان کے لیے ] [سَیُطَوَّقُــوْنَ : عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے ] [مَا : (اس کا) جو ] [بَخِلُوْا : انہوں نے کنجوسی کی ] [بِہٖ : جس میں ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا ترکہ ]…
Read the full tafseer →جو لوگ بخیل ہیں وہ بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں
جو لوگ مومن نہ تھے وہ اللہ کی راہ میں جس طرح جان دینے سے بچتے تھے اسی طرح مال خرچ کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ اس آیت میں بخل کی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ عمل ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ تو ان کے لیے بہت ہی برا ہے اور اس کا برا انجام آخرت میں سامنے آئے گا، ان کا مال قیامت کے دن طوق بنا کر ان کے گلون میں ڈال دیا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
دشمنان اسلام کے چند مزعومات اور خیالات اور ان کے جوابات۔
قال تعالیٰ ولایحسبن۔۔ الی۔۔۔۔ خبیر۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے لیے عذاب عظیم اور عذاب الیم کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کافروں کے چند شبہات اور اوھام کا جواب ارشاد فرمایا کہ کافروں کو اپنی عیش و عشرت پر ناز تھا اور ان کا گمان یہ تھا کہ ہماری یہ خوشحالی اس امر کی دلیل ہے کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ ان کے جواب میں فرماتے ہیں اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہمارا ان کو ڈھیل دینا اور کفر پر فی الحال نہ پکڑنا کچھ ان کے لیے بھلا ہے خوب سمجھ لیں کہ جزایں نیست ہم ان کو اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ گناہوں میں خوب ترقی اور زیادتی…
Read the full tafseer →274 وَلَا یَحْسَبَنَّ سے وَ اللہُ بِمَاتَعْمَلُوْنَ خَبِیْر تک مضمون انفاق کا پہلی بار اعادہ ہے۔ یہاں جہاد میں خرچ کرنے کی ترغیب فرمائی ہے یعنی تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے ہو۔ یہ سب کچھ دیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے پھر اس کا دیا ہوا مال اسی کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرنا بہت بری بات ہے۔ آخر تم مرو گے اور سب کچھ دنیا میں چھوڑ جاؤ گے۔ باقی تو صرف اللہ ہی رہے گا۔ سورة آل عمران اور سورة بقرہ میں مضمون انفاق کی آیتوں سے اس آیت کا ربط اس طرح ہے۔ سورة بقرہ میں ایک جگہ فرمایا۔ وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پھر فرمایا مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا…
Read the full tafseer →ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر فرمایا ، اور ان کے فاسد عقیدے کو بیان کیا۔ یہاں پر زیادہ تر تذکرہ نصاری کا ہے۔ مگر مختصرا یہودیوں کا بھی کچھ بیان آیا ہے۔ اس کے بعد جنگ احد سے متعلق بہت کچھ آ چکا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی باتیں سمجھائی ہیں اور آخر میں خبیث اور طیب کے امتیاز کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھے اور برے عقیدے میں امتیاز پیدا کرکے چھوڑے گا اور واجح ہوجائے گا کہ سچے مومن کون ہیں ، اور گندے عقیدے والے منافق کون ہیں۔ اس طرح مالک ذوالجلال نے غزوہ احد میں شکست کی تکوینی حکمت بھی بیان فرما دی۔
جہاد بالمال : اللہ تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لیے جہاد…
Read the full tafseer →وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَيْرًا لَّھُمْ 0ۭ بَلْ ھُوَشَرٌّ لَّھُمْ 0ۭ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0ۭ وَلِلہِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 180ۧ
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
ترکیب : ماکان اللّٰہ خبر کان کی محذوف تقدیرہ ‘ ما کان اللہ مرید الآن یذر المومنین لیذر خبر نہیں ہوسکتی۔ یذر کی اصل یوذر تھی یدع کی مشابہت سے و حذف ہوا ورنہ یہاں کوئی علت حذف نہ تھی اور یذر کی ماضی نہیں آتی کیونکہ ترک اس کا کام دیتا ہے الذین یبخلون الخ فاعل لا یحسبن خیرا مفعول ثانی ہے ھو ضمیر فصل مفعول اول البخل محذوف یا ھو۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے احد کے معرکہ کا منافق بھی یہ کہتے تھے کہ اگر نبی برحق آنحضرت ﷺ ہوتے تو یہ حوادث پیش نہ آتے۔ نہ یہ مصائب اٹھانے پڑتے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں تسلی کرتا ہے کہ احد کے روز شکست کھانا بہت سے لوگوں کا قتل ہونا اور بہت کا زخمی ہونا اور پھر اس حالت میں ابو سفیان…
Read the full tafseer →وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَـبْخَلُوْنَ بِمَـآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِـہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ ط بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَابَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ ع
(گمان نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو ان کو اللہ نے اپنے فضل سے عطا کی ہے کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کریں گے ان کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایاجائے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے) (180)
بخل بھی نفاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
فہم القرآن
ربط کلام : مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے چاہییں۔ منافق مخلص مسلمانوں کو جہاد پر خرچ کرنے سے روکتے تھے اس لیے احد کے غزوہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بخل کی مذمت کی گئی ہے۔
منافق مسلمانوں کو صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دلبرداشتہ اور منع ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتے۔ ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دور بھاگتے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح وہ مال خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھنے کے روییّ پر گامزن تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک مہم چلائی اور زبان درازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہا…
Read the full tafseer →منکرین زکوٰۃ کا انجام :
180: وَلَا یَحْسََبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھَُوَ شَرٌّ لَّھُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔
نحو : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری جو زکوٰۃ سے انکار کرنے والے تھے۔
( ہرگز نہ گمان کریں جو لوگ بخل کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے رکھا ہے اپنے فضل سے کہ یہ بخل کرنا ان کے حق میں اچھا ہے۔
نحو : جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا۔ انہوں نے مضاف محذوف مانا یعنی لا تحسبن بخل الباخلین تم بخل کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →(بخل اور زکوۃ نہ دینے والوں کی مذمت)
(تفسیر) 180۔:
(آیت)” ولا یحسبن ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ ھو خیرا لھم “۔ بخل کرنے والے لوگ بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں ، (آیت)” بل ھو “۔ بلکہ وہ بخل ” شرلھم سیطوقون “۔ ان کو طوق بنا کر ڈالا جائے گا ، (آیت)”۔ مابخلوا بہ یوم القیامۃ “ زکوۃ میں سے جو انہوں نے نہیں دی ، اس کو سانپ کی شکل بنا کر ان کے گلے میں ڈال دی جائے گی جو اس کو قدم کے اوپر سے کاٹے گا ، یہ قول ابن مسعود ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، ابی وائل (رح) ، شعبی (رح) ، امام سدی (رح) ، کا قول ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(176 ۔ 180) ۔ کافر اور منافق جب کوئی مخالف کی بات کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ کو اس کا بڑا رنج ہوا کرتا تھا اس لئے اس لڑائی کے موقع سے جب عبد اللہ بن ابی ایک تہائی لشکر لے کر مدینہ واپس چلا آیا تو آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں اپنے رسول کی یوں تسلی فرمائی۔ کہ یہ لوگ اس طرح کی مخالفت کے سبب سے اللہ کے دین کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اس مخالفت کے سبب سے ان ہی کو وقت مقرر پر وہ سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جو اللہ کے ارادہ میں ان کے لئے قرار پا چکا ہے اور یہ منکر حکم الٰہی یہ نہ سمجھیں کہ اللہ نے ان کو جیتے جی کچھ مہلت جو دے رکھی ہے اس میں ان کے حق…
Read the full tafseer →آیت 180
یعنی جو لوگ بخل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال، جاہ، علم اور دیگر چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ہے اور ان کو حکم دیا کہ ان چیزوں میں سے اس کے بندوں پر اتناضرور خرچ کریں جس سے خود ان کو نقصان نہ پہنچے۔ مگر انہوں نے بخل کیا اور ان چیزوں کو بندوں پر خرچ کرنے سے روک رکھا اور سمجھتے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لئے بہتر ہے (یہ ان کے لئے بہتر نہیں) بلکہ یہ تو ان کے دین و دنیا و آخرت کے لئے بدترین چیز ہے۔ (سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ) یعنی جس چیز کے بارے میں انہوں نے بخل کیا، اللہ تعالیٰ اسے طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈال دے گا اور اس سبب سے انہیں عذاب میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–180
نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے
قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے…
Read the full tafseer →383 بخیلوں کیلئے ان کا بخل بہت برا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے بخشے میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے جمع کئے ہوئے مال کا انجام ان کیلئے بہت برا ہوگا۔ اور یہ اس لئے کہ اس واہب مطلق نے ان کو جن نعمتوں سے اپنے فضل وکرم سے نوازا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو اس کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے برضا ورغبت خرچ کرتے۔ اس طرح شکر نعمت کے تقاضے بھی پورے ہوتے اور یہ دولت ان کیلئے آخرت کا ذخیرہ اور وہاں کی کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ بھی بن جاتی۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس بخل کا طریقہ اپنا کر اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنے…
Read the full tafseer →بخل کا انجام
تشریح : سورة ٔآل عمران کی ابتدا میں یہود و نصارٰی کا ذکر ہے، درمیان میں غزوہ احد، اب یہاں سے پھر اہل کتاب کا ذکر کیا جارہا ہے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کو واضح کرکے بتایا جارہا ہے کہ یہ مال و متاع جو بھی کسی کو عطا کیا گیا ہے یہ سب اللہ کا عطا کیا ہوا ہے وہ جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے اور جن کو دیا گیا ہے ان کو چاہیے کہ فراخ دلی سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں کیونکہ بچا کر رکھنا ان کے کام ہرگز نہ آئے گا مرنے کے بعد یہ مال یہاں رہ جائے گا اور آخرت میں وہ تمام جمع شدہ مال انکے گلوں میں لٹکایا جائے گا اس لیے بخل کرنے کا صرف نقصان ہی ہے فائدہ ہرگز نہیں، اس لیے اللہ رب العزت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–180
آیات 172- 180
اسرارو معارف
الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔
یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔
صاحب تفسیر…
Read the full tafseer →ف 5 اور برتر غیب جہاد کے سلسلہ میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو حفاظت جان کی خاطر اس سے فرار کرتے ہیں بیس ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جارہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ (کبیر) مقصد یہ ہے کہ ان منافقین کو جس طرح اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے۔ جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال بن جائے گا۔ ؟ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گیا…
Read the full tafseer →(3:180) یبخلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ (باب سمع) بخل کرتے ہیں۔ بخل مصدر۔ بخل ۔ کنجوسی۔ بخیل بصیغہ مبالغہ بہت بڑا کنجوس۔ بخل (سمع) ۔ بخل (کرم) کے مفعول اول پر علی یا عن آتا ہے (سیوطی) اور دوسرے مفعول پر (اگر مذکور ہو تو ) باء آتی ہے۔ جیسے بخل علیہ بہ۔ اس نے اس کو وہ چیز دینے میں کنجوسی کی لیکن آیۃ ہذا میں یبخلون اور بخلوا کے بعد ایک ہی مفعول مذکور ہے اور اس پر ہر وہ جگہ باء آئی ہے۔
ھو سے مراد ان کا بخیلی کا فعل ہے۔
سیطوقون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ س مستقبل قریب کے لئے آتا ہے۔ تطویق (تفعیل) مصدر۔ طوق کی طرح ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ طوق۔ گردن بند۔ گھیرا۔ طاقت۔ وسعت۔ قابو۔ رسی کا بل۔ طوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
لغات القرآن آیت نمبر 178 تا 180
نملی (ہم ڈھیل دیتے ہیں) لیزدادوا (تاکہ وہ بڑھ جائیں) لیذر (البتہ وہ چھوڑے) حتی یمیز (جب تک وہ جدا نہ کردے) الخبیث (گندگی) الطیب (پاکیزگی) لیطلعکم (تاکہ وہ تمہیں بتادے) یجتبی (وہ منتخب کرتا ہے) یبخلون (وہ کنجوسی کرتے ہیں) سیطوقون (عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے) میراث (ملکیت) ۔
تشریح : آیت نمبر 178 تا 180
کفار اپنی عیش و عشرت کی زندگی پر فخر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب ہم اس دنیا میں اس قدر عیش و آرام کے ساتھ ہٰن تو آخرت میں بھی ہم اس سے زیادہ راحت و آرام میں ہوں گے۔ اگر اللہ ہم سے ناراض ہوتا تو کیا ہمیں یہ عیش و آرام نصیب ہوتا یقیناً اللہ ہم سے بہت خوش ہے۔
اللہ…
Read the full tafseer →بخیل کا انجام : بخل کے معنی ہیں :” واجب کا ادا نہ کرنا “۔ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی روز قیامت میں وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
[67] یعنی مومنین کو منافقین سے۔
[68] یعنی تمہیں یہ بتادے کہ فلاں فلاں شخص منافق ہیں اور فلاں فلاں مومن۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں سرمایہ داری کی مخالفت نہایت موثر انداز میں بیان کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ مال و دولت کا وہ حصہ جو خدا کی راہ میں خرچ نہ ہو ‘ قیامت کے دن ان کے لئے طوق وسلاسل ہوجائے گا ۔
(ف 2) اس آیت میں اشتراکیت کا وہ بلند اصول بتایا گیا ہے جس تک ہنوز ہمارے سوشلسٹ نہیں پہنچ سکے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے کہ میراث وملک حقیقۃ صرف رب السموت کے لئے ہے ، البتہ دنیاداروں کو بطور امانت کے سپرد کردیا گیا ہے ‘ تاکہ وہ اس کا صحیح استعمال کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
ف 2 اور وہ لوگ جو ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائی ہے یہ نہ سمجھیں اور ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ بخل کرنا اور بخل کی روش اختیار کرنا ان کے حق میں کچھ اچھا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ بخل کرنا ان کے لئے بہت برا ہے کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ اس مال کا طوق بناکر پہنائے جائیں گے جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا یعنی وہی چیز جس میں بخل کیا تھا قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہوگی اور آسمانوں کی اور زمین کی تمام میراث اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آخر میں سب آسمان و زمین اور جو کائنات ان کے اندر ہے ان سب کا وارث وہی ہوگا اور تم لوگ جو اعمال کرتے ہو ان سب…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس طوق پہنائے جانے کی کیفیت حدیث بخاری میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو خدا تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوة نہ دے تو اس کا وہ مال قیامت کے روز ایک زہریلے سانپ کی شکل بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔
Read the full tafseer →منافق خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیل بناتے ہیں :
326: منافقین پر جنہوں نے مصلحت وقت دیکھ کر دعوت اسلام کا ساتھ دیا تھا راہ حق میں مال و دولت کا خرچ کرنا بہت شاق گزرتا تھا۔ وہ خود بھی بخل کرتے تھے اور دوسروں کو بھی بخل کی تلقین کرتے تھے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چونکہ اس جگہ بخل کی مذمت کی گئی ہے اس لئے یہ سمجھنا ہوگا کہ بخل کیا ہے ؟ بخل جود کی ضد ہے اور جود یعنی سخاوت سے سب واقف ہیں اور بخل کے معنی ہوئے مال وہاں سے روکنا جہاں سے روکنا مناسب نہیں (راغب) اور بخل کے شرعی معنی ہیں کہ جو چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی پر واجب و ضروری ہو اس کو خرچ نہ کرے۔ اس لئے بخل…
Read the full tafseer →Anomalies in the conduct of Jews were mentioned at the beginning of Surah 'Al-` Imran (21-25). The text now reverts back to the same subject. The verses cited above carry related topics. In between, there are words of comfort for the Holy Prophet ﷺ as well as those giving good counsel to Muslims.
Commentary
The first (180) of the seven verses (180-186) appearing here repudiates miserliness and carries a warning for those who practice it.
The Definition of Miserliness and the punishment it brings
In the terminology of the Shari` ah of Islam, miserliness (بُخل Bukhl) refers to the act of not…
Read the full tafseer →127. Everything in the heavens and the earth belongs to God alone. Hence the possession and use of anything by man is purely transient. For everyone will be dispossessed of his temporary belongings, and everything will ultimately return to and abide with God. If anyone therefore spends openheartedly in the way of God out of his temporary possessions he does so from property which, ultimately, belongs to God alone. Anyone who hoards his possessions and fails to spend them in the way of God is indeed stupid.
Read the full tafseer →