Explained with ayahs 176–180
مشفق نبی کریم ﷺ اور عوام
چونکہ جناب رسول اللہ ﷺ لوگوں پر بیحد مشفق و مہربان تھے اس لئے کفار کی بےراہ روی آپ پر گراں گذرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے حضور ﷺ کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
سورة اٰلِ عِمْرٰن 125
یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو اس حال میں دیکھنا پسند نہیں کرتا کہ ان کے درمیان سچے اہل ایمان اور منافق، سب خلط ملط رہیں۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 126
یعنی مومن و منافق کی تمیز نمایاں کرنے کے لیے اللہ یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا کہ غیب سے مسلمانوں کو دلوں کا حال بتادے کہ فلاں مومن ہے اور فلاں منافق، بلکہ اس کے حکم سے ایسے امتحان کے مواقع پیش آئیں گے جن میں تجربہ سے مومن اور منافق کا حال کھل جائے گا۔
Read the full tafseer →ربط آیات
پچھلی آیت میں اس شبہ کا جواب تھا کہ جب کفار اللہ تعالیٰ کے نزدیم مبغوض اور مردود ہیں تو دنیا میں ان کو اموال و جائیدا اور عیش و عشرت کے سامان کیوں حاصل ہیں مذکورہ آیت میں اس کے بالمقابل اس شبہ کا ازالہ ہے کہ مومن مسلمان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں ان پر تکالیف و مصائب کیوں آتے ہیں، مقبولیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ راحتیں اور سامان راحت ان کو ملتا۔
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر تم ہو (کہ کفر و ایمان اور حق و باطل اور مومن و منافق میں اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے انعامات دینوی کے اعتبار سے کوئی امتیاز اور فرق نہیں، بلکہ مسلمانوں پر شدائد و مصائب کا نازل…
Read the full tafseer →واقعہ احد کی حکمت : مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الایہ، یہ اشارہ ہے اس حکمت کی طرف جو احد کی اس آزمائش میں اہل ایمان کے لیے مضمر تھی۔ فرمایا کہ اب تک مسلمانوں کی جماعت خام و پختہ، خبیث و طیب اور مخلص و منافق ہر قسم کے افراد پر مشتمل رہی ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھی کہ جو جماعت تمام دنیا کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بننے والی ہے وہ اس طرح صالح و فاسد کا ملغوبہ بنی رہے۔ چناچہ اس نے چاہا کہ اس کے فاسد عناصر کو اس سے الگ کیا جائے تاکہ مخلص اہل ایمان ابھر کر سامنے آئیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروان چڑھیں۔ اس کے لیے ایک شکل تو یہ تھی کہ تمام مسلمانوں کو غیب کا علم دے دیا…
Read the full tafseer →179۔ 1 اس لئے اللہ تعالیٰ ابتلا کی بھٹی سے ضرور گزارتا ہے تاکہ اس کے دوست واضح اور دشمن ذلیل ہوجائیں۔ مومن صابر، منافق سے الگ ہوجائے، جس طرح احد میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آزمایا جس سے ان کے ایمان، صبر و ثبات اور اطاعت کا اظہار ہوا اور منافقین نے اپنے اوپر جو نفاق کا پردہ ڈال رکھا تھا وہ بےنقاب ہوگیا۔
179۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے لوگوں کے حالات اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے ظاہر اور باطن نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں منکشف ہوجائیں اور تم جان سکو کہ کون منافق ہے اور کون مومن خالص۔
179۔ 3 ہاں البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–179
60: آیت 176 سے 178 تک اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہ کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں ؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح…
Read the full tafseer →یہاں یہ آیت قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ اللہ کی شان یہ نہیں ہے ‘ اس کی الوہیت کا تقاضا یہ نہیں ہے اور اس کی کائنات میں مروجہ سنت یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں منافقین کو اسی طرح چھپے ہوئے چھوڑدے ۔ حالت یہ ہے کہ منافقین بس دعوائے ایمان کریں ‘ اسلام کا اظہار کریں اور اسلامی صفوں میں چھپے رہیں حالانکہ ان کے دل ایمان کی تروتازگی سے خالی ہوں ‘ اور ان میں اسلام کی روح سرے سے نہ ہو۔ اس امت کو اللہ نے اس لئے برپا کیا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک عظیم کردار ادا کرے ۔ ایک عظیم نظام زندگی کا علم لے کر اٹھے ‘ اس زمین پر ایک منفرد صورت حال پیدا کردے ۔ ایک جدید نظام وجود میں آجائے ۔ اس مشن اور…
Read the full tafseer →4 یعنی جس طرح خو شحالی اور مہلت دینا کفار کے حق میں مقبولیت کی دلیل نہیں، اسی طرح اگر مخلص مسلمانوں کو مصائب اور ناخوشگوار حوادث پیش آئیں (جیسے جنگ احد میں آئے) یہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک مغضوب ہیں، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس گول مول حالت پر چھوڑنا نہیں چاہتا جس پر اب تک رہے ہیں۔ یعنی بہت سے کافر ازراہ نفاق کلمہ پڑھ کر دھوکہ دینے کے لئے ان میں ملے جلے رہتے تھے جن کے ظاہر حال پر منافق کا لفظ کہنا مشکل تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے واقعات و حالات بروئے کار لائے جو کھرے کو کھوٹے سے اور پاک کو ناپاک سے کھلے طور پر جدا کردیں۔ بیشک خدا کو آسان تھا کہ تمام مسلمانوں…
Read the full tafseer →آیت 179 مَا کَان اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط۔
یہ آیت بھی فلسفۂ آزمائش کے ضمن میں بہت اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صالح بندوں کو تکالیف میں کیوں ڈالتا ہے ‘ حالانکہ وہ تو قادر مطلق ہے ‘ آن واحد میں جو چاہے کرسکتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات اللہ کی حکمت کے مطابق نہیں ہے کہ وہ تمہیں اسی حال میں چھوڑے رکھے جس پر تم ہو۔ ابھی تمہارے اندر کمزور اور پختہ ایمان والے گڈمڈ ہیں ‘ بلکہ ابھی تو منافق اور مؤمن بھی گڈمڈ ہیں۔ تو جب تک ان عناصر کو الگ الگ نہ کردیا جائے اور تمہاری اجتماعیت سے یہ تمام ناپاک عناصر نکال نہ دیے…
Read the full tafseer →176 یعنی اس حال میں پختہ ایمان والے مومن، کمزور ایمان والے اور منافقین سب ایک ہی اسلامی معاشرہ میں مل کر رہتے ہیں اور ایک ہی سطح کے سب مسلمان ہی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے درجات ایمان میں امتیاز صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ ان سب کو کسی ابتلاء میں ڈال دے اور اس طرح اچھے اور برے میں از خود امتیاز ہوجائے جیسا کہ غزوہ احد کے دوران مسلمان جب شکست سے دوچار ہوئے، تو ہر ایک کے ایمان کی پختگی، کمزوری اور منافقت کا ہر ایک کو پتہ چل گیا۔
177 ابتلاء کے علاوہ مسلمانوں کے ایمان کے مختلف درجات معلوم ہونے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ اپنے نبی کو ان کے احوال پر مطلع کردے۔ مگر یہ…
Read the full tafseer →368 ۔ (طرح طرح کے امتحانوں سے اور آزمائشوں کے ذریعہ سے) خطاب عام نوع انسانی سے ہے۔ علی ماانتم ایھا الناس (جلالین) (آیت) ” لیذر) میں ل تاکید نفی کے لیے ہے، واللام لتاکید النفی (مدارک) (آیت) ” ماانتم علیہ “۔ (یعنی مومنین ومنافقین کی ملی جلی ہوئی قوم) علی ماانتم علیہ من اختلاط ال مومن بالمنافق (قرطبی) من اختلاط ال مومن الخلص والمنافقین (مدارک) المعنی لایترککم مختلطین لا یعرف مخلصکم من منافقکم (بیضاوی) (آیت) ” الخبیث “ اور الطیب “ سے ظاہر مراد منافقین اور مومنین ہیں۔
369 ۔ (مثلا یہی کہ وہ بتلادے کہ فلاں فلاں شخص منافق ہیں اور فلاں فلاں مومن) یہ منافقین کے جواب میں ارشاد ہوا ہے جو مسلمانوں سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
آیت نمبر 181 تا 189
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی…
Read the full tafseer →ما کان اللہ لیذر المومنین لِیَذَر میں لام تاکید نفی کے لیے ہے یعنی اللہ ہرگز مؤمنوں کو نہیں چھوڑے گا۔
علی ما انتم علیہ اس حالت پر جس پر تم اس وقت ہو کہ مخلصوں کے ساتھ منافق مخلوط ہیں مخلص اور منافق کا کوئی امتیاز نہیں۔ انتم کا خطاب تمام مدعیان اسلام کو ہے جن میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے مخلص مؤمن بھی داخل ہیں اور منافق بھی۔
حتی یمیز الخبیث من الطیب بغیر ناپاک کو پاک سے جدا کئے یعنی بغیر اس کے کہ چھانٹ کر کافر کو مؤمن سے جدا کردے۔ خواہ وحی کے ذریعہ سے اطلاع دیدے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : یَحْذَرُ الْمُنَافِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْہِم سُوْرَۃٌ تُنَبِّءُہُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِِمْ قُلِ…
Read the full tafseer →(179) مشرکین نے رسول اکرم ؓ سے کہا کہ آپ ہم سے یہ کہتے ہیں کہ تم میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی تو بتایئے کہ ہم میں سے کون مومن ہے اور کون کافر، اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں اے گروہ منافقین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت عدم امتیاز پر جس پر تم سب ہو کر نہیں رکھنا چاہتا کہ مومن کافر اور کافر مومن معلوم ہو بلکہ مشیت الہی میں یہ ہے کہ شقی سعید (نیک بخت، بدبخت) سے اور کافر مومن سے اور منافق مخلص سے ممتاز اور نمایاں ہوجائے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ حکمت کے تحت ایسے امور پر مطلع نہیں کرتا کہ کون ایمان لائے گا اور کون انکار کرے گا لیکن اس ذات الہی نے اپنی مشیت سے رسول اکرم ﷺ کو اس چیز کے لیے منتخب…
Read the full tafseer →مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ چناچہ جنگ احد میں کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ ہو کر سامنے آگئے۔ رازی لکھتے ہیں : ”اس آیت کا تعلق بھی قصۂ احد سے ہے۔ چناچہ اس حادثہ میں قتل و ہزیمت اور پھر اس کے بعد ابو سفیان کے چیلنج کے جواب میں مسلمانوں کا نکلنا وغیرہ، سب ایسے واقعات تھے جن سے کفر ونفاق اور ایمان و اخلاص الگ الگ ہو کر سامنے آگئے اور مومن اور منافق میں امتیاز ہوگیا۔ چونکہ منافقین کا مومنوں کے ساتھ ملا جلا رہنا حکمت الٰہی کے خلاف تھا، اس لیے یہ تمام واقعات پیش آئے۔
2ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْب : یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آزمائش کے ذریعے سے مخلص مومنوں اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 179۔
ابو العالیہ نے کہا ہے : مومنین نے عرض کی کہ انہیں ایسی علامت اور نشانی عطا کی جائے جس کے ساتھ وہ مومن اور منافق کے درمیان فرق کرسکیں، تو اللہ عزوجل، نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ماکان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ الایہ (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 402) اس آیت کا مخاطب کون ہیں ؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت ضحاک ؓ مقاتل ؓ کلبی ؓ اور اکثر مفسرین رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : اس میں خطاب کفار اور منافقین کو ہے (2) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 407) یعنی اللہ تعالیٰ کی شان نہیں ہے کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑے رکھے جس حال پر کفر، نفاق اور نبی…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ منافقوں نے کہا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ان کو چاہیے ہم کو بتائیں کون ہم میں سے ایمان لائے گا اور کون ہم میں سے کافر رہے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔
(2) ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) کافروں کے لیے فرماتے ہیں لفظ آیت ” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب “ پس وہ تمیز کرے گا مگر سعادت والوں کو شقاوت والوں سے (یعنی مسلمانوں کو کافروں سے الگ کر دے گا) ۔
(3) عبد بن حمید وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[مَا کَانَ : نہیں ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [لِـیَذَرَ : کہ وہ چھوڑ دے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کو ] [عَلٰی مَـآ : اس پر ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [عَلَیْہِ : جس پر ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [یَمِیْزَ : وہ نمایاں کر دے ] [الْخَبِیْثَ : ناپاک کو ] [مِنَ الطَّـیِّبِ : پاکیزہ سے ] [وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [لِیُطْلِعَکُمْ : کہ وہ آگاہ کرے تم لوگوں کو ] [عَلَی الْغَیْبِ : غیب پر ] [وَلٰــکِنَّ : اور لیکن ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَجْتَبِیْ : منتخب کرتا ہے ] [مِنْ رُّسُلِہٖ : اپنے رسولوں میں سے ] [مَنْ : جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [فَاٰمِنُوْا : پس تم لوگ ایمان لائو ]…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اچھے اور برے لوگوں میں امتیاز فرمائے گا
منافقین مخلص مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے تھے ان کے ظاہری دعو وں کی وجہ سے اور بعض نمازوں میں حاضر ہونے کی وجہ سے ظاہری طور پر یہ امتیاز نہ ہو پاتا تھا کہ منافق کون ہے اور مخلص کون ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ تم کو اس حالت پر نہیں رکھنا چاہتا جس پر تم اب ہو بلکہ اللہ پاک کی طرف سے ایسے شدائد اور مصائب پیش آتے ہیں اور پیش آئیں گے کہ ناپاک لوگ یعنی منافقین کا پاک لوگوں (یعنی مومن مخلصین) سے امتیاز ہوجائے کیونکہ مصیبت کے وقت اپنے پرائے کا اچھی طرح پتہ چل جاتا ہے۔
پھر فرمایا (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
دشمنان اسلام کے چند مزعومات اور خیالات اور ان کے جوابات۔
قال تعالیٰ ولایحسبن۔۔ الی۔۔۔۔ خبیر۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں کافروں کے لیے عذاب عظیم اور عذاب الیم کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کافروں کے چند شبہات اور اوھام کا جواب ارشاد فرمایا کہ کافروں کو اپنی عیش و عشرت پر ناز تھا اور ان کا گمان یہ تھا کہ ہماری یہ خوشحالی اس امر کی دلیل ہے کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ ان کے جواب میں فرماتے ہیں اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہمارا ان کو ڈھیل دینا اور کفر پر فی الحال نہ پکڑنا کچھ ان کے لیے بھلا ہے خوب سمجھ لیں کہ جزایں نیست ہم ان کو اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ گناہوں میں خوب ترقی اور زیادتی…
Read the full tafseer →271 حضرت شیخ نے فرمایا کہ یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ مومنوں پر اللہ کی آزمائشیں کیوں آتی ہیں تو جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ مومن اور منافق آپس میں ملے جلے رہیں اور ان میں کوئی امتیاز نہ ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا فرما دیتا ہے تاکہ منافق ظاہر ہو کر مخلص مومنوں سے جدا ہوجائیں۔ مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ سے وہ حالت مراد ہے جس میں مخلص مومنین میں منافقین ملے ہوئے ہوں۔ من اختلاط المومنین المخلصین والمنافقین (مدارک ج 1 ص 153) ۔ اَلخَبِیْث سے منافق اور اَلطَّیِّب سے مخلص مومن مراد ہے منافق کو اس کے کفر و نفاق کی باطنی نجاست و خباثت کی…
Read the full tafseer →گذشتہ درس میں نافرمان لوگوں کی مالی آسودگی اور ان کو اللہ کی طرف سے مہلت دینے کا تزکرہ تھا۔ اللہ کریم نے فرمایا کہ اگر ایسے لوگوں کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوجائیں ، لمبی عمر مل جائے اور وہ کفر ، شرک اور برائی کا ارتکاب کرتے رہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب بن گئے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ معصیت میں دور تک چلے جائیں ، اور پھر اس کی انتہا یہ ہوگی کہ وہ عذاب مہین کا شکار ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ اگر انہیں کسی وقت تکلیف آجائے وہ مصیبت کا شکار ہوجائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے مقبول بندے نہیں…
Read the full tafseer →مَا كَانَ اللہُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْہِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ 0ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللہَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0۠ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ 0ۚ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌ 179
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
ترکیب : ماکان اللّٰہ خبر کان کی محذوف تقدیرہ ‘ ما کان اللہ مرید الآن یذر المومنین لیذر خبر نہیں ہوسکتی۔ یذر کی اصل یوذر تھی یدع کی مشابہت سے و حذف ہوا ورنہ یہاں کوئی علت حذف نہ تھی اور یذر کی ماضی نہیں آتی کیونکہ ترک اس کا کام دیتا ہے الذین یبخلون الخ فاعل لا یحسبن خیرا مفعول ثانی ہے ھو ضمیر فصل مفعول اول البخل محذوف یا ھو۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے احد کے معرکہ کا منافق بھی یہ کہتے تھے کہ اگر نبی برحق آنحضرت ﷺ ہوتے تو یہ حوادث پیش نہ آتے۔ نہ یہ مصائب اٹھانے پڑتے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں تسلی کرتا ہے کہ احد کے روز شکست کھانا بہت سے لوگوں کا قتل ہونا اور بہت کا زخمی ہونا اور پھر اس حالت میں ابو سفیان…
Read the full tafseer →مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَـآ اَنْـتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَالْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِـہٖ مَنْ یَّشَآئُ ص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِـہٖ ج وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَـکُمْ اَجْرٌعَظِیْمٌ۔
(اللہ تعالیٰ کی (یہ سنت) نہیں کہ وہ چھوڑے رکھتا مومنوں کو اس حال پر جس پر تم تھے جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاک سے اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر آگاہ کردے۔ البتہ ! اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے توا للہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
فہم القرآن
ربط کلام : مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے چاہییں۔ منافق مخلص مسلمانوں کو جہاد پر خرچ کرنے سے روکتے تھے اس لیے احد کے غزوہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بخل کی مذمت کی گئی ہے۔
منافق مسلمانوں کو صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دلبرداشتہ اور منع ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتے۔ ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دور بھاگتے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح وہ مال خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھنے کے روییّ پر گامزن تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک مہم چلائی اور زبان درازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہا…
Read the full tafseer →179: مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآ ئُ فَـٰـامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔
لِیَذَرَ کی لام تاکید نفی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرگز مؤمنوں کو اس حالت پر جس میں تم اس وقت ہو کہ مخلص و منافق ملے جلے رہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (یہاں تک کہ نا پاک پاک سے جدا کر دے) یعنی یہاں تک کہ منافق مخلص سے الگ ہوجائے۔
نحو و…
Read the full tafseer →(شان نزول)
179۔ (آیت)” ما کان ۔۔۔۔۔ من الطیب “۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق آئمہ کے اقوال مختلف ہیں ۔ کلبی (رح) نے کہا کہ قریش نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ آپ کو گمان ہے کہ جو آپ ﷺ کی مخالفت کرے گا وہ جہنم میں جائے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور جو آپ ﷺ کے دین کی پیروی کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور اللہ اس سے روضی ہوگا ، ہمیں خبر دیجئے کہ جو آپ پر ایمان لائے اور جو آپ پر ایمان نہ لائے اس کا کیا انجام ہوگا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔
امام سدی (رح) کا قول ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری امت اپنی شکلوں میں طینی حالت میں لائی گئی جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(176 ۔ 180) ۔ کافر اور منافق جب کوئی مخالف کی بات کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ کو اس کا بڑا رنج ہوا کرتا تھا اس لئے اس لڑائی کے موقع سے جب عبد اللہ بن ابی ایک تہائی لشکر لے کر مدینہ واپس چلا آیا تو آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں اپنے رسول کی یوں تسلی فرمائی۔ کہ یہ لوگ اس طرح کی مخالفت کے سبب سے اللہ کے دین کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اس مخالفت کے سبب سے ان ہی کو وقت مقرر پر وہ سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جو اللہ کے ارادہ میں ان کے لئے قرار پا چکا ہے اور یہ منکر حکم الٰہی یہ نہ سمجھیں کہ اللہ نے ان کو جیتے جی کچھ مہلت جو دے رکھی ہے اس میں ان کے حق…
Read the full tafseer →آیت 179
یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ وہ اہل ایمان کو پرکھے بغیر خلط ملط حالت میں چھوڑ دے۔ وہ ان کو پرکھے گا اور پاک کو ناپاک میں سے، مومن کو منافق میں سے اور سچے کو جھوٹے میں سے علیحد کرے گا۔ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ اپنے بندوں کو اس غیب پر مطلع کرے جس کا علم اس نے اپنے بعض بندوں (رسولوں) کو عطا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمئاش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہوجائے۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور نیک اطاعت، ان کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ ایمان اور تقویٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–180
نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے
قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
376 کافروں کیلئے رسوا کُن عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے جو کہ ان کے اس کبر و غرور کے لائق اور عین مناسب ہے جس کی بنا پر انہوں نے حق کو ماننے اور اس کے آگے جھکنے سے انکار کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کبر و غرور کا نتیجہ و انجام بہت برا اور سراسر محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار والوں کو ان کے کفر و انکار کے باوجود جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ ان کے لئے خیر نہیں شر ہے۔ ایسی ڈھیل ان کے لئے خیر نہیں شر ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کا پیمانہ اچھی طرح لبریز ہوجائے تاکہ ان کی کشتی جب ڈوبے تو پھر…
Read the full tafseer →تشریح : آیت میں سب کچھ صاف اور آسان الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ آخر میں بہترین اجر وثواب کی خوش خبری دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی عظمت بیان کرو وہ تم کو بخش دے گا۔ (مسند احمد)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–180
آیات 172- 180
اسرارو معارف
الذین استجابوا للہ والرسول………………ان کنتم مومنین۔
یہ جملہ فضائل ان لوگوں کو حاصل ہیں جنہوں نے لاکھوں مشکلات کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے منہ نہ موڑا۔ یہی لوگ نیک بھی ہیں اور پرہیزگار بھی۔ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
قرآن حکیم ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اس لئے اصولی باتیں بیان فرماتا ہے کہ مصائب دنیا بھی دراصل ترقی درجات کا سبب بن جاتے ہیں کہ جس قدر مشکلات میں اطاعت کرے گا اسی قدر اجر میں زیادتی ہوگی۔ چونکہ مثالی اور معیاری مومن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اس لئے ذکر ان کا کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں ارشاد ہے۔
صاحب تفسیر…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمہیں براہ راست غیب پر مطلع کر دے اور اتم بروں کو اچھوں سے الگ پہچان لو بلکہ منصب رسالت کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے انتخاب فرماتا ہے اور اسے بذریعہ وحی اپنے غیب سے جتنی باتوں کا علم دینا چاہے دے دیتا ہے۔ (کذافی الروح) علم غیب پ ربحث کے لیے دیکھئے ( سورت انعام آیت 59)4 قریش کے کافر اور مدینہ کے منافق کہتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو نام بنام کیوں نہیں بتاتا فلاں مامن ہے فلاں کافر ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی) فرمایا کہ تمہیں غیب کی باتوں سے کیا اسروکار۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے تمہارا کام تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر…
Read the full tafseer →(3:179) لیذر۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل لام ہے وذر مصدر کہ چھوڑ دے۔ ہر دو باب ضرب ۔ نصر سے آتا ہے۔ یوذر کی واؤ حذف ہوگئی۔ یذر ہوگیا۔ لام کے عمل سے منصوب ہوکر لیذر ہوگیا۔
لیطلعکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اطلاع (باب افعال) سے مصدر طلع مادہ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ کہ وہ تم کو واقف کردے۔ تم کو آگاہ کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
لغات القرآن آیت نمبر 178 تا 180
نملی (ہم ڈھیل دیتے ہیں) لیزدادوا (تاکہ وہ بڑھ جائیں) لیذر (البتہ وہ چھوڑے) حتی یمیز (جب تک وہ جدا نہ کردے) الخبیث (گندگی) الطیب (پاکیزگی) لیطلعکم (تاکہ وہ تمہیں بتادے) یجتبی (وہ منتخب کرتا ہے) یبخلون (وہ کنجوسی کرتے ہیں) سیطوقون (عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے) میراث (ملکیت) ۔
تشریح : آیت نمبر 178 تا 180
کفار اپنی عیش و عشرت کی زندگی پر فخر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب ہم اس دنیا میں اس قدر عیش و آرام کے ساتھ ہٰن تو آخرت میں بھی ہم اس سے زیادہ راحت و آرام میں ہوں گے۔ اگر اللہ ہم سے ناراض ہوتا تو کیا ہمیں یہ عیش و آرام نصیب ہوتا یقیناً اللہ ہم سے بہت خوش ہے۔
اللہ…
Read the full tafseer →اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو قیامت کی تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
[67] یعنی مومنین کو منافقین سے۔
[68] یعنی تمہیں یہ بتادے کہ فلاں فلاں شخص منافق ہیں اور فلاں فلاں مومن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
امتیاز حق و باطل :
(ف 1) یہ آیت بھی سیاق احد میں ہے مقصد یہ ہے کہ یہ تمام مصائب جو اس جنگ میں برداشت کرنے پڑے ہیں ‘ یہ سب اس لئے تھے ، تاکہ حق و باطل میں فرق ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ زیادہ دیر تک منافقین کم ہمت لوگ مسلمانوں میں طے جلے رہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہیں ۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق الگ الگ اور ممتاز ہوجائیں ۔
(آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “ کہہ کر یہ بتایا ہے مخلص وغیر مخلص میں جو اختلاف ہے ‘ یہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہے یہ نہیں جانتے تھے کہ کون دل میں ایمان کی پونجی مستتر رکھتا ہے اور کون ہے جس کا دل خبث ونفاق سے متعفن ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →ف 1 اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کو اس ملی جلی حالت میں رہنے دے جس پر تم سب اس وقت ہو یعنی مخلص اور منافق سب مخلوط ہوں بلکہ مصائب و شدائد کا نزول اس وقت تک ضروری ہے جب تک اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے متمیز اور جدا نہ کردے یعنی منافق کو مخلص مسلمان سے الگ نہ کردے اور نہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے اور نہ اس کا یہ ارادہ ہے کہ وہ ایسے امور غیبیہ پر تم کو عام طور سے مطلع کردے اور اس قسم کے امور سے تم کو آگاہ کردے مگر ہاں وہ جس کو چاہے اپنے منتخب کردہ رسولوں میں سے اس قسم کی باتوں سے مطلع کردے لہٰذا تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لے آئو اور ہر قسم کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ جو فرمایا سب رسولوں پر ایمان لاو حالانکہ مقام مقتضی ہے ذکر ایمان بہ محمد ﷺ کو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ پر بھی ایمان جب ہی متحقق ہوگا جب سب کو مانے کیونکہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کی حالت ایسی ہی نہیں رہے گی بلکہ پاک ناپاک سے الگ کردیا جائے گا :
323: یمز میز کے معنی ہیں ملتی جلتی چیزوں کو الگ الگ کردینا۔ الْخَبِیْثَ وہ چیز جس سے کراہت کی جائے بوجہ اس سے ردی ہونے کے خواہ محسوس ہو یا معقول اور اس میں باطل اعتقاد ، جھوٹ ، باتیں اور برے فعل سب شامل ہوجاتے ہیں الطَّیِّبِ 1ؕ طیب وہ ہے جو جہل ، فسق اور برے اعمال کی نجاست سے پاک ہو اور علم ایمان اور اچھے اعمال کے زیور سے آراستہ ہو۔ (راغب)
اس آیت میں جنگ احد میں جو زخم آئے ان کے فوائد بتائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ واقعات سے جو مفید بات ہو اس کو لے کر باقی کو چھوڑ دینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے کمزوریوں کو بار بار دہراتے…
Read the full tafseer →The previous verse (178) answered the question about disbelievers as to why they, being the detested ones in the sight of Allah, are in possession of all sort of wealth, property and other means of luxurious living?
The present verse (179), in sharp contrast, removes the doubt about true believers as to why they, being the favoured servants of Allah, are tested with all sorts of hardships? Being favoured required that they should have been the ones living in comfort surrounded by its paraphernalia!
Commentary
The wisdom of making a believer distinct from a hypocrite through practical…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
125. That is, God does not want to see the Muslim community in a hotch-potch condition with the true men of faith indistinguishable from the hypocrites.
126. This means that God does not resort to revelation to provide information as to whether specific individuals are true men of faith or hypocrites. God creates, instead, certain situations in which the faith of those who profess to believe is severely tested. The result is that the man of faith stands out clearly from the hypocrite.
Read the full tafseer →