Explained with ayahs 165–168
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
سورة اٰلِ عِمْرٰن 119
عبداللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے پلٹنے لگا تو بعض مسلمانوں نے جا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج جنگ نہیں ہوگی، اس لیے ہم جا رہے ہیں، ورنہ اگر ہمیں توقع ہوتی کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
اس کے بعد کی آیت فباذن اللہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ جو کچھ ہوا حق تعالیٰ کے اذن و مشیت سے ہوا، جس میں بہت سی حکمتیں مستور ہیں، جن میں سے بعض کا بیان پہلے بھی، یعنی مؤمنین کا اخلاص اور منافقین کی منافقت ایسی واضح ہوجائے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے یہاں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں جو دیکھنے کی صورت متعارف ہے اس صورت میں دیکھ لیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں چناچہ یہ حکمت اس طرح واضح ہوگئی کہ اس شدت کے وقت منافقین الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور مخلص مومن معرکہ میں ڈٹے رہے۔
Read the full tafseer →وَقِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا، یہ منافقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے جن کو اس موقع پر جہاد کی دعوت دی گئی کہ اٹھو، اگر جنگ ہوگئی تو جہاد کا ثواب حاصل ہوگا اور دشمن ہماری جمعیت سے مرعوب ہوگیا تو دفاع کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ لیکن یہ لوگ جہاد کے لیے نہ اٹھے اور اپنے نفاق اور بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لیے انہوں نے یہ بات بنائی کہ ہمیں علم ہے کہ اس موقع پر لڑائی نہیں ہونی ہے۔ اگر ہمیں لڑائی کا علم ہوتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ قرآن نے ان کے بابت فرمایا کہ یہ بات کہتے وقت یہ ایمان سے زیادہ کفر سے قریب تر تھے، اور انہوں نے زبان سے وہ بات کہی جو ان کے دل میں نہیں تھی۔ دل میں وہ جو کچھ چھپائے ہوئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
167۔ 1 یعنی احد میں جو تمہیں نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کماحقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔
167۔ 2 لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے مگر آپ تو لڑائی کی بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکنے جا رہے ہو۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبد اللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبد اللہ بن حرام انصاری ؓ انہیں سمجھا بجھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
57: ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہذا یہ جنگ نہیں، خود کشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہوسکتے۔
58: یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔
Read the full tafseer →اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
1 جس کو جب چاہے غالب اور جب چاہے مغلوب کر دے۔ مغلوب کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اس وقت غالب کرنے پر قادر نہ تھا، بلکہ اس لئے ہے کہ تمہارے کسب و اختیار سے صورت حال ایسی پیدا ہوگئی کہ کلی غلبہ عطا کرنے میں مصلحت نہ تھی بہرحال جو کچھ ہوا اس کے حکم و مشیت سے ہوا جس کا سبب تم تھے اور حکمت یہ تھی کہ ایک طرف ہر مومن مخلص کے ایمان و اخلاص کا اور دوسری جانب ہر منافق کے نفاق کا درجہ ظاہر ہوجائے، کھرے کھوٹے اور کچے پکے میں کسی کو کچھ التباس نہ رہے۔
2 جنگ شروع ہونے سے پہلے جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر واپس جانے لگا، اس وقت کہا گیا تھا کہ عین موقع پر کہاں بھاگتے ہو، آؤ اگر…
Read the full tafseer →آیت 176 وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْاج۔
لِیَعْلَمَ کا معنی ہے تاکہ جان لے۔۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہرچیز کا جاننے والا ہے لہٰذا ایسے مقامات پر ترجمہ کیا جاتا ہے : تاکہ اللہ ظاہر کر دے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا ظاہر کردیا کہ کون مؤمن ہے اور کون منافق ! عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر چلا گیا تو سب پر ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ اب آئندہ اہل ایمان ان کی بات پر اعتبار تو نہیں کریں گے ‘ ان کی چکنی چپڑی باتیں کان لگا کر تو نہیں سنیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ بالکل واضح ہوجائے کہ Who is who what is what ?۔
وَقِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ…
Read the full tafseer →163 اللہ کو تو مومنوں اور منافقوں کی صورتحال کا پہلے ہی علم تھا۔ اس قسم کی آیات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال پیدا کردے جس سے دوسروں کو ان باتوں کا علم ہوجائے۔ چناچہ اس شکست میں بہت سے لوگوں کے پول کھل گئے اور جو شخص ایمان کے جس درجہ پر تھا نتھر کر سب کے سامنے آگیا۔
164 جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت واپس جانے لگا تو اسے مسلمانوں نے سمجھایا کہ آج مشکل پڑنے پر چھوڑ کر جارہے ہو۔ اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو کم از کم دفاع ہی کرو۔ دفاع کے یہاں دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل رہو۔ واپس نہ جاؤ۔ تاکہ مجموعی تعداد سے دشمن کسی حد تک مرعوب رہے اور…
Read the full tafseer →342 ۔ یعنی علانیہ اس کا امتحان ہوجائے کہ مومن کون کون ہے اور منافق کون کون ہے۔
343 ۔ یہ منافقین سے کہا گیا تھا۔ لھم میں ھم کی ضمیر انہی کی طرف ہے۔ ای للمنافقین (مدارک) (آیت) ” اوادفعوا “۔ یعنی اگر لڑتے نہیں ہو تو کم از کم اپنی شمولیت ہی سے مسلمانوں کی تعداد کافروں کی نظر میں بڑھائے رہو۔ ای کثروا سواد ناوان لم تقاتلوا معنا (قرطبی) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب منافقین کا تین سو کا گروہ آغاز جنگ میں مسلمانوں سے کٹ کر مدینہ کو واپس آرہا تھا۔
344 ۔ (لیکن یہ تو جنگ نہیں صریح خود کشی ہے) ولا یقال لمثلہ قتال ھو القاء بالانفس الی التھلکۃ (کشاف) منافقین کا کہنا یہ تھا کہ دشمن اول تو تعداد میں تم سے چوگنا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا (الآیۃ) اور اس شکست کا دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دے۔ عبد اللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے واپس ہونے لگا تو بعض مسلمانوں نے جاکر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا، مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں ہے بلکہ ہلاکت اور خودکشی ہے اگر کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہوتی تو ہم ضرور ساتھ چلتے ایسے غلط کام میں ہم آپ کا کیوں ساتھ دیں ؟ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے کی ان کی بات نہیں مانی گئی تھی عبد اللہ بن…
Read the full tafseer →و لیعلم الذین نافقوا یعنی تم پر یہ مصیبت مختلف مصالح کی وجہ سے آئی اور اس لیے بھی کہ اللہ مؤمنوں کو دیکھ لے اور ان لوگوں کو بھی دیکھ لے جنہوں نے نفاق کا برتاؤ کیا۔ یعنی لوگوں کی نظر میں دونوں گروہ الگ الگ آجائیں ان کا ایمان اور ان کا کفر پہچان لیا جائے۔
و قیل لھم تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ اوادفعوا اور منافقوں سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا (کم سے کم) دفعیہ ہی کرو مطلب یہ کہ اگر طاقت رکھتے ہو تو اللہ کی راہ میں کافروں سے جہاد کرو ورنہ مسلمانوں کی جماعت بڑھانے کے لیے اپنی جگہ جمے رہو، فرار نہ کرو تاکہ دشمنوں کی مدافعت ہی ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر سچے مؤمن ہو تو اخلاص کے ساتھ کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
(166۔ 167) رسول اکرم ﷺ اور ابو سفیان کی باہم جنگ میں جو تمہیں زخم اور شہادت وغیرہ ہوئی وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہوئی تاکہ مومنین کی جہاد پر بہادری اور منافقین کے راستہ ہی سے مدینہ لوٹ جانے کا اللہ تعالیٰ مظاہرہ کرا دے اور ان منافقوں سے عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا تھا کہ میدان جہاد میں آؤ اور دشمنوں کو اپنے گھروں اور بال بچوں سے دور کرو اور منافق ایمان اور مسلمانوں سے قریب تر ہونے کی بجائے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور کافر ان منافقین سے ان دنوں بہت زیادہ قریب تھے، یہ منافقین صرف اپنی زبانوں سے اسلام کی حمایت کی باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل کفر اور منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَوِ ادْفَعُوْا ۭ : نبی کریم ﷺ جنگ احد میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر احد کی طرف چلے، مقام شوط پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے لوٹ آیا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ رہو، تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں۔ اکثر مفسرین نے (اَوِ ادْفَعُوْا ۭ) کے یہی معنی کیے ہیں، مگر بعض نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ حمیت قومی اور حفاظت وطن کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو۔ (یہ معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، الغرض ! لوگوں نے ہر طرح انھیں واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب دیا جو آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
آیت نمبر : 166 تا 167۔
یعنی (وہ مصیبت) جو احد کے دن قتل، زخم اور ہزیمت کی صورت میں پہنچی، (آیت) ” فباذن اللہ “ تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں، اور یہ بھی کہا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر کے ساتھ پہنچی، قفال نے کہا ہے : پس وہ اللہ تعالیٰ کے تمہارے اور ان کے درمیان معاملہ آزاد چھوڑنے کے سبب پہنچی، نہ کہ اس نے اس کا ارادہ کیا اور یہ معتزلہ کی تاویل ہے، اور (آیت) ” فباذن اللہ میں فا داخل ہے کیونکہ ما بمعنی الذی ہے، یعنی وہ مصیبت جو تمہیں اس دن پہنچی جب دونوں لشکر مقابلے کے لئے نکلے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور قضا سے پہنچی۔ پس کلام شرط کے معنی کے مشابہ ہوگیا، جیسا کہ سیبویہ نے کہا ہے : الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
(1) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی (آیت یہ ہے) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون “۔
(2) سعید بن منصور وعبد بن حمید ابن ابی حاتم نے ابو الضحی (رح) سے اس آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ کے بارے میں سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت احد کے مقتولین کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ستر آدمی شہید ہوئے چار مہاجرین میں حمزہ بن عبد المطلب ؓ بنو ہاشم میں سے مصعب بن عمیر ؓ بنو عبد الدار میں سے عثمان بن شماس بنو مخزوم میں سے اور عبد اللہ بن حبش بنو اسد میں سے اور باقی سارے…
Read the full tafseer →[وَلِیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جنہوں نے ] [نَافَقُوْا : نفاق کیا ] [وَقِیْلَ : اور کہا گیا ] [لَہُمْ : ان سے ] [تَـعَالَــوْا : تم لوگ آئو ] [قَاتِلُوْا : قتال کرو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [اَوِ ادْفَعُوْا : یا دفاع کرو ] [قَالُـوْا : انہوں نے کہا ] [لَـوْ نَعْلَمُ : اگر ہم جانتے ] [قِتَالاً : قتال کو ] [لاَّتَّــبَعْنٰــکُمْ : توہم ضرور پیروی کرتے تمہاری ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [لِلْکُفْرِ : کفر کے ] [یَوْمَئِذٍ : اس دن ] [اَقْرَبُ : زیادہ قریب تھے ] [مِنْہُمْ لِلْاِیْمَانِ : اپنے لیے ایمان کی بنسبت ] [یَـقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ]…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ (ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَءِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ) یعنی اس بات کے کہنے سے وہ اب ظاہر میں بھی کفر سے زیادہ قریب ہوگئے جبکہ اس سے پہلے ایمان کے جھوٹے دعوے کرکے مسلمانوں میں گھلے ملے رہنے کی وجہ سے ظاہر میں ایمان کے قریب تھے، اندر سے کافر تو پہلے ہی سے تھے لیکن ظاہر میں جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اس دعوے پر خود ان کے اپنے قول و فعل نے پانی پھیر دیا۔ ہر عقل مند ان کی باتوں کے پیش نظر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ یہ مومن نہیں ہیں، کیونکہ باتیں کافروں جیسی کر رہے ہیں۔
پھر فرمایا (یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ازالہ حسرت ہزیمت از دوستاں جواب شبہ دشمناں
قال تعالیٰ اولما اصابتکم مصیبۃ۔۔۔۔ الی صادقین۔
پہلے سے احد کا قصہ چلا آرہا ہے درمیان میں صحابہ کرام سے جو کوتاہی ہوئی اس پر تنبیہ فرمائی اب پھر قصہ احد کی طرف عود فرماتے ہیں جس سے مقصود مسلمانوں کی ایک حسرت کو زائل کرنا ہے اور منافقوں کے ایک شبہ کا جواب دینا ہے بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ دین اسلام دین حق ہے اور خدا کا رسول ہمارے ساتھ ہے اور ہم دین حق کی حمایت میں جہاد کررہے ہیں اور کفار کفر اور شرک کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہم پر کیسے فتح پائی۔
اور منافقوں نے یہ کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو احد میں شکست کیوں ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا جس وقت…
Read the full tafseer →254 دوسرا لِیَعْلَمَ پہلے لَیَعْلَمَ پر معطوف ہے اور اس کا عطف بِاِذْنِ اللہِ پر ہے از قبیل عطف سبب بر مسبب اور علم سے مراد اظہار ہے۔ عطف علی باذن اللہ من عطف السبب علی المسبب والمراد یظھر للناس ویثبت لدیھم ایمان المومن (روح ج 4 ص 117) یعنی اللہ تعالیٰ نے احد میں مسلمانوں کی شکست کا قضاء وقدر میں اس لیے فیصلہ فرمایا تاکہ مخلص مومن اور منافق ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون لوگ خلوص دل سے ایمان لائے ہیں اور کون لوگ منافق ہیں۔
255 قِیْلَ لَھُمْ کا عطف نَافَقُوْا پر ہے یا یہ استیناف ہے اور ھُمْ ضمیر اَّلَّذِیْنِ نَافَقُوْا کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ربط آیات : اس درس کی آیت بھی واقعہ احد کے سلسلہ ہی کی کڑیاں ہیں۔ پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں یا کافروں کی بات ماننے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوگئی تھی ان کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں اور آئندہ اس کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کے مسئلہ کو بیان فرمایا۔ پھر خداوند کریم نے اپنے اس عظیم احسان کا تذکرہ فرمایا جو اس نے بنی نوع انسان پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص کیا۔ اور وہ احسان یہ ہے کہ انہی کی نسل اور خاندان…
Read the full tafseer →وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ نَافَقُوْا 0 ۚۖ وَقِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَوِ ادْفَعُوْا 0 ۭ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّااتَّبَعْنٰكُمْ 0 ۭ ھُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِيْمَانِ 0 ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِھِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ 0 ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُوْنَ 167 ۚ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
نِّفَاقُ
، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ترکیب : لما کلمہ تقیید بمعنی شرط اصبتم الخ موضع رفع میں صفت ہے مصیبۃ کی قلتم الخ جملہ شرطیہ اور تمام جملہ محل استفہام یا محض جواب وما بمعنی الذی جملہ مبتداء فباذن اللّٰہ خبر ولیعلم معطوف ہے محذوف پر للکفر اور للایمان کا لام اقرب سے متعلق ہے یقولون جملہ مستانفہ ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ ضمیر اقرب سے ای قربوا الی الکفر قائلین۔
تفسیر : پہلے منافقین کے اول شبہ کا جواب دیا کہ نبی کی شان خیانت نہیں۔ یہاں منافقین کے دوسرے شبہ کا جواب دیتا ہے جو کہ وہ ضعفا اہل اسلام کے دل میں احد کی ہزیمت سے ڈالتے تھے۔ وہ یہ کہ اگر یہ رسول برحق ہیں تو ان کو احد کے روز ہزیمت کیوں ہوئی ؟ اور باوجود وعدہ غلبہ اسلام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا صلے ج وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْفَعُوْا ط قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالاً لَّااتَّـبَعْنٰـکُمْ ط ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ج یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْاَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
(اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
بدر میں مسلمانوں کے ساتھ منافق شامل نہیں تھے اس لیے مسلمان پوری یکسوئی کے ساتھ جان توڑ کر لڑے۔ احد کا معاملہ نہایت ہی مختلف تھا کہ پہلے دن کی مشاورت سے لے کر دونوں جماعتوں کے مد مقابل آنے تک منافقوں کی بھاری تعداد مسلمانوں کے ساتھ شامل رہی۔ منافق ایک سوچی سمجھی گہری سازش کے تحت اس وقت مسلمانوں کو چھوڑ کر الگ ہوئے جب اہل مکہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ منافقین نے جان بوجھ کر مسلمانوں میں ہر قسم کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمان بددل ہو کر کفار کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں۔ ایک طرف مسلمان ذلیل ہوں اور دوسری طرف منافقت…
Read the full tafseer →167: وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْ فَعُوْا قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعْنٰـکُمْ ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَپذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ (تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے ان لوگوں کو جو منافق ہیں) یعنی یہ اس لئے ہوا کہ مومن و منافق کا امتیاز ہو۔ تاکہ ان کا ایمان اور نفاق معلوم ہوجائے۔ وَقِیْلَ لَھُمْ (اور ان کو کہا گیا) یعنی منافقین کو کہا گیا تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (آئو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد…
Read the full tafseer →167۔ (آیت)” ولیعلم الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی سبیل اللہ “ اللہ کے دین کے سربلندی اور اس کی اطاعت کی وجہ سے لڑو۔ ” اودفعوا “ یعنی تم اپنے اہل و عیال اور بچوں کی طرف سے ہی دفاع کرلو ، امام سدی (رح) فرماتے ہیں چلو لڑو نہیں مسلمانوں کی جماعت مین شامل ہوجاؤ کہ ان کی تعداد بڑھ جائے اور تم اپنی جگہ جمے رہو ، فرار اختیار نہ کرو ، (آیت)” قالوا لو نعلم قتالا لاتبعناکم “۔ عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی تھے جو احد کے دن تین سو کے قریب لے کر واپس چلا گیا تھا ، اس وقت انہوں نے کہا تھا ، ھم للکفر یومئذ اقرب “ اس دن انہوں نے ایسا فعل کیا جو کفر کے قریب ہے ۔ ” منھم للایمان “ ان میں سے بعض ایمان کے قریب تھے، (آیت)”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
(165 ۔ 168) ۔ احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اس لڑائی میں تمہارے ستر آدمی جو شہید ہوئے تو ان کا زیادہ رنج کیا تم بھی تو بدر میں لڑائی میں مخالفوں کو اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو کہ ستر آدمی ان کے مارے اور ستر کو پکڑ لائے اور یہ جو تم کہتے کہ اتنی بڑی مصیبت ہم لوگوں پر کیوں آئی تو یہ مصیبت تم میں ہی کے بعض لوگوں کے سبب سے آئی کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اور برخلاف حکم اللہ تعالیٰ کے رسول کے تیر اندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں مصلحت تھی کہ کامل ایمان دار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
آیت 165-168
جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پ ڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لئے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قد اصبتم مثلیھا) ” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند “ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لئے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہئی اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔
(قلتم انی ھذا) ” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی ؟ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–167
قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں…
Read the full tafseer →356 احد کی شکست کا ایک اہم مقصد، منافقوں کی چھانٹی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھ لے منافقون کو یعنی تاکہ ان لوگوں کا وہ نفاق سامنے آجائے جسے انہوں نے اپنے باطن میں چھپا رکھا تھا اور سچے ایمان والوں کا صدق و اخلاص بھی مزید نکھر جائے کہ مصائب و مشکلات کی یہ بھٹی ہی ایسی ہوتی ہے جس سے کھرے اور کھوٹے کے درمیان صحیح طور پر تمیز ہوجاتی ہے۔ سو احد کے اس واقعہ میں جو کچھ پیش آیا وہ اسی ابتلاء و آزمائش کے لئے پیش آیا تاکہ سچے مسلمان اور منافق باہم چھٹ کر الگ ہوجائیں اور ہر کوئی کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ کون لوگ جماعت کے اندر قابل اعتماد ہیں اور کون نہیں۔ سو اس اعتبار سے یہ آزمائش جماعتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
آزمائش کا مقصد، منافق کی پہچان
تشریح : اس آیت میں عبداللہ بن ابی کا حال بیان کیا گیا ہے، کیونکہ وہ تین سو آدمیوں کو لیکر واپس چلا گیا تھا تو اس نے اپنی اس منافقانہ حرکت پر حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کھرے کھوٹے کی پہچان کرنا تھی سو ہوگئی اور پھر اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں یہی منافقوں کی نشانی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ف 3 یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیئت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔4 آنحضرت ﷺ جنگ احد میں ایک ہزار کی جمیعت لے کر احد کی طرف چلے۔ مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے سے لوٹ آیا۔ عبد الہ بن عمر و بن حرا انصاری ؓ ۔ اخو نبی سلمہ۔ حضرت جابر ؓ کے والد ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ تو رہو تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرات نہ کرے۔ اکثر مفسرین نے اوادفعوا کے…
Read the full tafseer →(3:167) اوادفعوا۔ اوادفعوا۔ یا دفاع کرو اپنا۔
لو نعلم قتالا۔ اگر ہم جانتے کہ یہ ایسی جنگ ہے جو عام طور پر ان معنوں میں لی جاتی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے (لیکن اپنے سے چار گنا مسلح اور ہر سازو سامان سے لیس لشکر کے ساتھ ٹکر لینا جنگ نہیں خود کشی ہے۔
ولکن ما انتم علیہ لیس بقتال بل القاء بالنفس الی التہلکۃ (بیضاوی) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : اگر ہمیں یقین ہوتا کہ جنگ ضرور ہوگی تو ہم ضرور شامل ہوجاتے لیکن ہمیں تو اس امر کا یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔
لا اتبعنکم۔ لام تاکید کے لئے ہے ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔
ہم للکفر ۔۔ للایمان۔ اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ نزدیک تھے۔
تکتمون۔ مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا اور برخلاف حکم اللہ کے رسول کے تیراندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں یہ مصلحت تھی کہ کامل ایماندار اور منافقوں کا اچھی طرح پردہ کھل جاوے۔ وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے گھروں میں آن بیٹھے اور کچھ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کے وقت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–174
[65] یعنی جنگ احد میں۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں ترک جہاد کو کفر سے تعبیر کیا ہے ، یعنی وہ لوگ جو وقت آنے پر حیل وتدابیر تراشتے رہتے ہیں ‘ ان کی دوں ہمتی انہیں میدان جہاد میں نکلنے نہیں دیتی ، انہیں اپنے ایمان کی تجدید کرنا چاہئے ،
مسلمان روز ازل سے توحید کا اقرار کرچکا ہے ، اس کے لئے ناممکن ہے کہ ایک لمحہ بھی کفر سے موالات رکھے ، کم از کم اس کے دل میں ضرور کفر و استبداد کے خلاف جذبات نفرت و حقارت موجزن رہتے ہیں اور اگر یہ بھی نہیں تو قرآن حمید کی یہ ڈانٹ سن رکھیں (آیت) ” ھم للکفر یومئذ اقرب منھم لل ایمان “۔
یعنی
اس دن وہ لوگ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور جس دن دو جماعتیں باہم نبرد آزما ہوئیں اور آپس میں بھڑیں اس دن جو نقصان تم کو پہنچا اور جو مصیبت تم پر پڑی یعنی میدان احد میں پس وہ تو قضائے الٰہی اور مشیت ایزدی سے پڑی اور اس لئے پڑی تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پرکھ لے اور اس لئے بھی یہ نقصان پہونچا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نمایاں کر دے جنہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی ہے اور ان منافقین سے اتنا ہی تو کہا گیا تھا کہ آئو اگر ہمت ہو تو اللہ کی راہ میں لڑ و یا ہمت نہ ہو تو کم از کم دشمن کی مدافعت ہی کرو اور اپنی تعدادکو دکھا کر ان کو مرغوب ہی کرو کہ مسلمانوں کی کثرت دیکھ کر ان کافروں کے پائوں اکھڑ جائیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جابجا تسکین کی گئی تو اس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہییہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصدا مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بےانتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصدا گناہ کرے پھر اس پر کرے جرات، وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے۔
Read the full tafseer →ہر نقصان سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اس طرح نقصان کا بھی تم کو فائدہ ہوا :
305: میدان احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے اور تقریباً اتنے ہی زخمی اور ہزیمت و پریشانی اس پر زائد تھی یہ بہت بڑا نقصان ہے لیکن اس کا ایک فائدہ بھی تم کو ہوا کہ مومن و منافق کی پہچان ہوگئی اور کمزور ایمان والوں کا بھی پتہ چل گیا۔ منافق کیا ہے ؟ اس کی پہچان نبی کریم ﷺ کے الفاظ میں پچھلے حاشیہ میں کرا دی گئی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ سے اتنا مزید سمجھا جاسکتا ہے کہ :
نافقوا جس کا اصل نق ہے اور نفق کے معنی ہیں گزر گیا اور ختم ہوا۔ اس لئے یہ مادہ نق خرچ کرنے کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اسی سے نفق ہے جس کے معنی جاری راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
Immediately later, in verse 166, the words fa bi idhnillahi: فَبِإِذْنِ اللَّـه indicate that whatever happened there was with the leave and will of Allah Almighty operating behind which are many wise divine arrangements, some of them having been explained earlier. One such wise arrangement is that Allah will 'see' His true believers, and the hypocrites too, that is, the sincerity of Muslims and the hypocrisy of the hypocrites will become so clear that everybody could see it for himself. Here, the reference to Allah's knowing or seeing means seeing in the perspective of our own…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
119. When 'Abd Allah b. Ubayy decided to withdraw from the battlefield with his men several Muslims attempted to persuade him not to do so. Ibn Ubayy replied that he was sure that there would be no fighting that day, and he assured them that had he expected fighting to take place, he would have gone along with them.
Read the full tafseer →