Aal-i-Imraan 3:166

Aal-i-Imraan · from ayah 166

3:166

وَمَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟ۙوَمَاۤ اَصَابَكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what struck you on the day the two armies met was by permission of Allah that He might make evident the [true] believers.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 17 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:166

جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہیں جو کچھ اس دن پہنچا جس دن دو جماعتوں میں مڈ بھیڑ ہوئی تھی، وه سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ﻇاہری طور پر جان لے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں جو مصیبت اس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مومنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ مصیبت جو تم پر آئی جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُس دن جو تکلیف تمہیں پہنچی جب دونوں لشکر باہم مقابل ہو گئے تھے سو وہ اللہ کے حکم (ہی) سے تھے اور یہ اس لئے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرا دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو مصیبت تمہیں اس دن پہنچی جب دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور تاکہ وہ ایمان والوں کو جان لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن دونوں لشکروں میں مڈ بھیڑ ہوئی اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لیے بھی کہ اللہ مومنوں کو بھی دیکھ لے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن تمہیں جو مصیبت پہنچی یہ اللہ کے حکم سے پہنچی اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو ممیز کردے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو بھی کچھ مصیبت تمہیں (غزوہ احد میں) اس روز پہنچی جب کہ (کفر و اسلام کی) ان دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا تو وہ سب اللہ کے اذن سے تھا، اور (یہ اس لئے ہوا کہ) تاکہ اللہ دیکھ لے ایمان والوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو مصیبت تم پر اس روز پڑی جب کہ دونوں گروہ باہم مقابل ہوئے سو وہ اللہ کی مشیت سے ہوئی۔ تاکہ اللہ مومنین کو جان لے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو بھی مصیبت تم پر آئی ہے اس دن جب دونوں لشکر آپس میں بھڑ گئے تھے وہ اللہ کے اذن سے آئی ہے اور یہ اس لیے تھی کہ اللہ ظاہر کردے ایمان والوں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے (تم میں سے) مومن کون ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

What befell you on the day when the two hosts met was by the leave of Allah, and in order that He might mark out those who believe

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever you suffered on the day when the two troops faced each other was by the will of Allah, and in order to know the believers,

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever you suffered on the day when the two troops faced each other was by the will of Allah, and in order to know the believers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah, in order that He might test the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That which befell you, on the day when the two armies met, was by permission of Allah; that He might know the true believers;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what struck you on the day the two armies met was by permission of Allah that He might make evident the [true] believers.

— Saheeh International

What befell you, when the two armies confronted each other, was by the permission of God so that He would know who were the true believers

— Muhammad Sarwar

And what befell you on the day when the two armies met (at Ohud) was with Allah's knowledge, and that He might know the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And that which befell you on the day whereon the two hosts met was by Allah's leave, and that he might know the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

What ye suffered on the day the two armies Met, was with the leave of Allah, in order that He might test the believers,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:166

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 165–168

غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 166–167

سورة اٰلِ عِمْرٰن 119 عبداللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے پلٹنے لگا تو بعض مسلمانوں نے جا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج جنگ نہیں ہوگی، اس لیے ہم جا رہے ہیں، ورنہ اگر ہمیں توقع ہوتی کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 166–168

اس کے بعد کی آیت فباذن اللہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ جو کچھ ہوا حق تعالیٰ کے اذن و مشیت سے ہوا، جس میں بہت سی حکمتیں مستور ہیں، جن میں سے بعض کا بیان پہلے بھی، یعنی مؤمنین کا اخلاص اور منافقین کی منافقت ایسی واضح ہوجائے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے یہاں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں جو دیکھنے کی صورت متعارف ہے اس صورت میں دیکھ لیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں چناچہ یہ حکمت اس طرح واضح ہوگئی کہ اس شدت کے وقت منافقین الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور مخلص مومن معرکہ میں ڈٹے رہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

راہ حق کی آزمائشوں کی حکمت : اب یہ اس ابتلاء کی حکمت واضح کی جا رہی ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے خدا کے حکم سے پیش آیا ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ سچے مسلمانوں اور منافقوں کو اچھی طرح واضح کردے تاکہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ کون لوگ جماعت کے اندر قابل اعتماد ہیں کون لوگ نہیں مقصد یہ ہے کہ یہ آزمائش جماعتی تطہیر کے لیے ضروری تھی۔ اگر مخلصین اور منافقین دونوں اسی طرح رلے ملے رہتے تو معلوم نہیں مفسد عناصر کس وقت پوری جماعت کا بیڑا غرق کردیتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 166–167

167۔ 1 یعنی احد میں جو تمہیں نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کماحقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔ 167۔ 2 لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے مگر آپ تو لڑائی کی بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکنے جا رہے ہو۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبد اللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبد اللہ بن حرام انصاری ؓ انہیں سمجھا بجھا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 166–167

57: ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہذا یہ جنگ نہیں، خود کشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہوسکتے۔ 58: یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ تمام واقعات کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ ہر معاملہ جو پیش آتا اور ہر حادثہ جو واقعہ ہوتا ہے اس کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے ۔ ہر حرکت اور ہر سکوں کے پیچھے دست تقدیر ہوتا ہے اور اس کائنات میں جو وقوعہ بھی پیش آتا ہوتا ہے اس کی پشت پر تقدیر ہوتی ہے ۔ وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ……………” جو نقصان لڑائی کے دن جب دو گروہ متقابل ہوئے ‘ تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ۔ “ یہ نقصان محض اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ازخود پیش نہیں آیا۔ نہ وہ خوامخواہ بطور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 166–167

1 جس کو جب چاہے غالب اور جب چاہے مغلوب کر دے۔ مغلوب کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اس وقت غالب کرنے پر قادر نہ تھا، بلکہ اس لئے ہے کہ تمہارے کسب و اختیار سے صورت حال ایسی پیدا ہوگئی کہ کلی غلبہ عطا کرنے میں مصلحت نہ تھی بہرحال جو کچھ ہوا اس کے حکم و مشیت سے ہوا جس کا سبب تم تھے اور حکمت یہ تھی کہ ایک طرف ہر مومن مخلص کے ایمان و اخلاص کا اور دوسری جانب ہر منافق کے نفاق کا درجہ ظاہر ہوجائے، کھرے کھوٹے اور کچے پکے میں کسی کو کچھ التباس نہ رہے۔ 2 جنگ شروع ہونے سے پہلے جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر واپس جانے لگا، اس وقت کہا گیا تھا کہ عین موقع پر کہاں بھاگتے ہو، آؤ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 166 وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آسکتی تھی۔ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون ہیں اصل مؤمن ‘ حقیقی مؤمن جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ‘ ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 165–166

161 منافقین کی تو بات ہی الگ ہے۔ اکابر صحابہ کو چھوڑ کر مسلمان بھی یہ سمجھ رہے تھے کہ جب ہم حق کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ اپنا دفاع کر رہے ہیں اور اللہ کا رسول بہ نفس نفیس ہم میں موجود ہے تو کافر ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ پھر جب شکست سے دو چار ہونا پڑا تو انہیں سخت صدمہ بھی ہوا اور حیرانی بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں تمہیں فتح عظیم عطا فرمائی تھی۔ تم نے اپنے اس موجودہ نقصان سے کافروں کا دگنا نقصان کیا تھا اور اس وقت تم کمزور بھی تھے تو اللہ اگر اس حال میں تمہیں فتح عطا فرماسکتا ہے تو وہ تمہیں شکست بھی دلوا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

341 ۔ (اور اللہ کی ہر مشیت اللہ ہی جانتا ہے کتنی حکمتوں اور مصلحتوں کی سرمایہ دار ہوتی ہے) (آیت) ” باذن اللہ “ اذن یہاں مشیت کے معنی میں ہے۔ ای بقضاء ہ وقدرہ (قرطبی) المراد من الاذن قضاء اللہ بذلک (کبیر عن ابن عباس ؓ (آیت) ” یوم التقی الجمعن “ یعنی معرکہ احد میں مکہ کا ایک لشکر ابوسفیان کی کمان میں اور مدینہ کی فوج محمد رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں۔ المراد یوم احد (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 166–167

وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا (الآیۃ) اور اس شکست کا دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دے۔ عبد اللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے واپس ہونے لگا تو بعض مسلمانوں نے جاکر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا، مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں ہے بلکہ ہلاکت اور خودکشی ہے اگر کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہوتی تو ہم ضرور ساتھ چلتے ایسے غلط کام میں ہم آپ کا کیوں ساتھ دیں ؟ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے کی ان کی بات نہیں مانی گئی تھی عبد اللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ما اصابکم یوم التقی الجماعان فباذن اللہ اور جو مصیبت تم پر پڑی جس روز کہ ان دونوں گروہوں کا مقابلہ ہوا پس اللہ کے حکم اور تقدیر سے پڑی یعنی احد کے دن جب مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا اور مسلمانوں پر قتل و شکست کی مصیبت پڑی تو وہ بحکم خدا پڑی۔ ایک شبہ اذن یعنی اجازت خداوندی کا تعلق جائز امور سے ہوتا ہے جو امر غیر مشروع ہے اس کی اجازت اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اور جہاد سے فرار امر غیر مشروع ہے اس کا باذن الٰہی وقوع کیسے ممکن ہے۔ ازالہ اذن سے مراد ہے امر تکوینی یعنی وہ امر جس کی تعبیر کن فیکون سے کی ہے اور امر تکوینی کا تعلق مشروع اور غیر مشروع دونوں سے ہے ہاں امر تکلیفی یعنی حکم شرعی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 166–167

(166۔ 167) رسول اکرم ﷺ اور ابو سفیان کی باہم جنگ میں جو تمہیں زخم اور شہادت وغیرہ ہوئی وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہوئی تاکہ مومنین کی جہاد پر بہادری اور منافقین کے راستہ ہی سے مدینہ لوٹ جانے کا اللہ تعالیٰ مظاہرہ کرا دے اور ان منافقوں سے عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا تھا کہ میدان جہاد میں آؤ اور دشمنوں کو اپنے گھروں اور بال بچوں سے دور کرو اور منافق ایمان اور مسلمانوں سے قریب تر ہونے کی بجائے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور کافر ان منافقین سے ان دنوں بہت زیادہ قریب تھے، یہ منافقین صرف اپنی زبانوں سے اسلام کی حمایت کی باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل کفر اور منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَصَابَكُمْ۔۔ : یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 166–167

آیت نمبر : 166 تا 167۔ یعنی (وہ مصیبت) جو احد کے دن قتل، زخم اور ہزیمت کی صورت میں پہنچی، (آیت) ” فباذن اللہ “ تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں، اور یہ بھی کہا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر کے ساتھ پہنچی، قفال نے کہا ہے : پس وہ اللہ تعالیٰ کے تمہارے اور ان کے درمیان معاملہ آزاد چھوڑنے کے سبب پہنچی، نہ کہ اس نے اس کا ارادہ کیا اور یہ معتزلہ کی تاویل ہے، اور (آیت) ” فباذن اللہ میں فا داخل ہے کیونکہ ما بمعنی الذی ہے، یعنی وہ مصیبت جو تمہیں اس دن پہنچی جب دونوں لشکر مقابلے کے لئے نکلے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور قضا سے پہنچی۔ پس کلام شرط کے معنی کے مشابہ ہوگیا، جیسا کہ سیبویہ نے کہا ہے : الذی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 166–169

(1) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی (آیت یہ ہے) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون “۔ (2) سعید بن منصور وعبد بن حمید ابن ابی حاتم نے ابو الضحی (رح) سے اس آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ کے بارے میں سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت احد کے مقتولین کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ستر آدمی شہید ہوئے چار مہاجرین میں حمزہ بن عبد المطلب ؓ بنو ہاشم میں سے مصعب بن عمیر ؓ بنو عبد الدار میں سے عثمان بن شماس بنو مخزوم میں سے اور عبد اللہ بن حبش بنو اسد میں سے اور باقی سارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَـآ : اور جو ] [اَصَابَکُمْ : آپہنچی تم لوگوں کو ] [یَوْمَ : اس دن (جب) ] [الْـتَقَی : آمنے سامنے ہوئیں الْجَمْعٰنِ : دو جماعتیں ] [فَبِاِذْنِ اللّٰہِ : تو (وہ) اللہ کی اجازت سے ہے ] [وَلِیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں کو ] ترکیب :” فِبِاِذْنِ اللّٰہِ “ میں ” ھُوَ “ محذوف ہے یعنی یہ ” فَھُوَ بِاِذْنِ اللّٰہِ “ ہے اور ” ھُوَ “ کی ضمیر ” مَا “ کے لیے ہے۔ ” لَّا اتَّــبَـعْنٰـکُمْ “ میں ” لَا “ نافیہ نہیں ہے بلکہ یہ جوابِ شرط کا لام تاکید ہے۔ اس کے ساتھ الف زائدہ لکھنا قرآن مجید کی مخصوص املا ہے۔” ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 165–166

مسلمانوں کو تسلی اور منافقوں کی بد حالی کا بیان مسلمانوں کو جو غزوہ احد میں وقتی طور پر شکست ہوئی اور اس سلسلہ میں تکلیف پہنچی اس مصیبت پر کچھ لوگوں کے منہ سے یہ نکلا انی ھذا (یہ مصیبت کہاں سے آئی) اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کو جواب میں فرما دیں کہ یہ اسباب ظاہرہ تمہاری اپنی جانوں کی طرف سے ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور پہاڑی پر جن تیر اندازوں کو بٹھا دیا گیا تھا انہوں نے باو جود تاکیدی حکم کے اس جگہ کو چھوڑ دیا۔ اور مال غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے (قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا) بھی فرمایا کہ تم کو جو تکلیف پہنچی ہے گذشتہ سال غزوہ بدر میں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 165–168

ازالہ حسرت ہزیمت از دوستاں جواب شبہ دشمناں قال تعالیٰ اولما اصابتکم مصیبۃ۔۔۔۔ الی صادقین۔ پہلے سے احد کا قصہ چلا آرہا ہے درمیان میں صحابہ کرام سے جو کوتاہی ہوئی اس پر تنبیہ فرمائی اب پھر قصہ احد کی طرف عود فرماتے ہیں جس سے مقصود مسلمانوں کی ایک حسرت کو زائل کرنا ہے اور منافقوں کے ایک شبہ کا جواب دینا ہے بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ دین اسلام دین حق ہے اور خدا کا رسول ہمارے ساتھ ہے اور ہم دین حق کی حمایت میں جہاد کررہے ہیں اور کفار کفر اور شرک کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہم پر کیسے فتح پائی۔ اور منافقوں نے یہ کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو احد میں شکست کیوں ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا جس وقت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

253 یَوْمَ الْتَقیَ الْجَمْعَانِ (جس دن دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی) سے جنگ احد مراد ہے اور اِذْن اللہ سے اللہ کے ارادہ اور اس کی قضاء وقدر کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ احد کی شکست تمہاری اپنی ہی بعض عملی خامیوں کا نتیجہ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شکست کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی شفقت و رحمت سے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے فرمایا کہ احد میں جو وقتی شکست ہوئی تھی۔ اس کے بارے میں اللہ کا ارادہ اور فیصلہ یہی تھا کہ وہ واقع ہو کیونکہ اس میں کئی مصلحتیں پوشیدہ تھیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 165–168

ربط آیات : اس درس کی آیت بھی واقعہ احد کے سلسلہ ہی کی کڑیاں ہیں۔ پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں یا کافروں کی بات ماننے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوگئی تھی ان کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں اور آئندہ اس کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کے مسئلہ کو بیان فرمایا۔ پھر خداوند کریم نے اپنے اس عظیم احسان کا تذکرہ فرمایا جو اس نے بنی نوع انسان پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص کیا۔ اور وہ احسان یہ ہے کہ انہی کی نسل اور خاندان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِـاِذْنِ اللہِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 166 ۙ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 166–167

ترکیب : لما کلمہ تقیید بمعنی شرط اصبتم الخ موضع رفع میں صفت ہے مصیبۃ کی قلتم الخ جملہ شرطیہ اور تمام جملہ محل استفہام یا محض جواب وما بمعنی الذی جملہ مبتداء فباذن اللّٰہ خبر ولیعلم معطوف ہے محذوف پر للکفر اور للایمان کا لام اقرب سے متعلق ہے یقولون جملہ مستانفہ ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ ضمیر اقرب سے ای قربوا الی الکفر قائلین۔ تفسیر : پہلے منافقین کے اول شبہ کا جواب دیا کہ نبی کی شان خیانت نہیں۔ یہاں منافقین کے دوسرے شبہ کا جواب دیتا ہے جو کہ وہ ضعفا اہل اسلام کے دل میں احد کی ہزیمت سے ڈالتے تھے۔ وہ یہ کہ اگر یہ رسول برحق ہیں تو ان کو احد کے روز ہزیمت کیوں ہوئی ؟ اور باوجود وعدہ غلبہ اسلام کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 166–168

وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا صلے ج وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْفَعُوْا ط قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالاً لَّااتَّـبَعْنٰـکُمْ ط ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ج یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْاَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (اور جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : احد کے واقعات پر تبصرہ رواں ہے تاکہ امت آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی منافقین کا ردّ عمل اور کردار بتلایا گیا ہے۔ اُحد کے دن کفار کے ساتھ ٹکراؤ میں مسلمانوں کو جو کچھ پیش آیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدّر میں اسی طرح لکھا تھا اور دوسرا معنٰی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف برسر پیکار ہوئے جس کے نتیجے میں تمہیں زخم اور پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرما تھا کہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان حد فاصل قائم ہوجائے۔ جب مخلص مسلمان منافقوں کو سمجھا رہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غزوئہ احد قضاء کا فیصلہ ہے : 166: وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ اْلْمُؤْمِنِیْنَ اور وہ جو تمہیں پہنچا ) ۔ یہ مَا۔ الذی کا معنی دیتا ہے۔ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ : (اور تاکہ جان لے اللہ مؤمنین کو) نحو : مَامبتداء فَبِاِذْنِ اللّٰہِ یہ خبر جو کائن سے متعلق ہے۔ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ۔ (جس دن دو گروہ آپس میں لڑے) تمہارا گروہ اور مشرکین کی جماعت مقام احد میں فَبِاِذْنِ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوا) اذن سے مراد علم و قضاء ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 166۔: (آیت)” وما اصابکم یوم التقی الجمعان “۔ احد کے میدان میں مسلمانوں پر قتل ، زخموں اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، ” فباذن اللہ “ اللہ کی قضاء اور قدرت سے ” ولیعلم المؤمنین “ تاکہ خالص مؤمن اور منافقین میں تمیز ہو سکے ، بعض نے کہا تاکہ دونوں گروہ دیکھے جائیں گے کون اچھا ہے اور کون اچھا نہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 165–168

(165 ۔ 168) ۔ احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اس لڑائی میں تمہارے ستر آدمی جو شہید ہوئے تو ان کا زیادہ رنج کیا تم بھی تو بدر میں لڑائی میں مخالفوں کو اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو کہ ستر آدمی ان کے مارے اور ستر کو پکڑ لائے اور یہ جو تم کہتے کہ اتنی بڑی مصیبت ہم لوگوں پر کیوں آئی تو یہ مصیبت تم میں ہی کے بعض لوگوں کے سبب سے آئی کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اور برخلاف حکم اللہ تعالیٰ کے رسول کے تیر اندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں مصلحت تھی کہ کامل ایمان دار اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 165–168

آیت 165-168 جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پ ڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لئے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قد اصبتم مثلیھا) ” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند “ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لئے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہئی اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔ (قلتم انی ھذا) ” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی ؟ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 162–167

قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

355 ہر کام اللہ کی مشیت اور اس کے اذن سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو مصیبت تم لوگوں کو پہنچتی ہے وہ اللہ ہی کے اذن سے پہنچتی ہے۔ اللہ کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے اذن و مشیت سے ہوتا ہے کہ اس میں دوسری بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں تھیں۔ جن کے تقاضے اس کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے تھے۔ سو ظاہری سبب اس شکست و ہزیمت کا تم لوگ خود بنے ہو مگر اصل اور حقیقت کے اعتبار سے یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا کہ اس کے پیچھے بڑی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما تھیں۔ اور اس کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے اذن و حکم اور ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے کہ بادشاہی بہرحال اسی کی ہے اور حکم و تصرف بھی اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 166–167

آزمائش کا مقصد، منافق کی پہچان تشریح : اس آیت میں عبداللہ بن ابی کا حال بیان کیا گیا ہے، کیونکہ وہ تین سو آدمیوں کو لیکر واپس چلا گیا تھا تو اس نے اپنی اس منافقانہ حرکت پر حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کھرے کھوٹے کی پہچان کرنا تھی سو ہوگئی اور پھر اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں یہی منافقوں کی نشانی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 156–171

آیات 156- 171 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔ اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔ یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 166–167

ف 3 یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیئت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔4 آنحضرت ﷺ جنگ احد میں ایک ہزار کی جمیعت لے کر احد کی طرف چلے۔ مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے سے لوٹ آیا۔ عبد الہ بن عمر و بن حرا انصاری ؓ ۔ اخو نبی سلمہ۔ حضرت جابر ؓ کے والد ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ تو رہو تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرات نہ کرے۔ اکثر مفسرین نے اوادفعوا کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:166) ولیعلم میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے (تاکہ تمیز کرے اللہ تعالیٰ مؤمنین اور منافقین میں ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 165–177

لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177 اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 165 تا 177 غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 165–168

احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا اور برخلاف حکم اللہ کے رسول کے تیراندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں یہ مصلحت تھی کہ کامل ایماندار اور منافقوں کا اچھی طرح پردہ کھل جاوے۔ وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے گھروں میں آن بیٹھے اور کچھ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کے وقت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 165–166

(ف 1) ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ عارضی شکست پر گھبراؤ نہیں ۔ یہ سب کچھ خدائے متعال کی مرضی و ارادے سے ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ ایمان دار اور منافق میں امتیاز ہوجائے اور تم دوست اور دشمن کو پہچان لو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 165–166

ف 1 اور جب تم کو میدان احد میں ایک تکلیف پہنچی حالانکہ تم اس تکلیف کی دو مثل بدر میں اپنے مخالفوں کو پہنچا چکے ہو تو کیا یوں کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے اور کدھر سے آگئی آپ فرما دیجیے کہ یہ مصیبت آ کہاں سے گئی یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے آئی اور تمہارے ہی ہاتھوں کی بدولت آئی ۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (تیسیر) جس طرح ایک شکست خوردہ فوج کو صدمہ و حیرانی اور تعجب ہوتا ہے وہی صورت احد میں بھی مسلمانوں کو پیش آئی ۔ یہں تعجب کی وجہ اس قدر اور بھی تھی کہ علاوہ جلیل القدر صحابہ کے جو حقیقت شناس تھے عام لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب خدا کا رسول ہم میں موجود ہے پھر ہم اسلام کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 165–168

ف 2۔ اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جابجا تسکین کی گئی تو اس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہییہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصدا مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بےانتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصدا گناہ کرے پھر اس پر کرے جرات، وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میدان احد میں جو کچھ تم کو پیش آیا وہ باذن اللہ تھا : 304: دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے روز جو نقصان تم کو پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے کچھ شہید ہوئے اور بعض زخمی ہوئے۔ تم میں سے کچھ کے قدم ایسے اکھڑے کہ وہ دوبارہ اپنے لشکر کے ساتھ مل ہی نہ سکے۔ تم میں سے بعض نے عقیدہ کی کمزوری بھی دکھائی۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا۔ اس کی مشیت کے فیصلے کبھی ٹلطی نہیں ہوتے۔ اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی۔ جو کچھ ہوا وہ تمہاری کوتاہی کا نتیجہ تھا تاہم اس سارے نقصان میں تمہارے لئے کچھ فوائد بھی مخفی تھے وہ یہ کہ تم میں ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی تم کو معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 166–168

Immediately later, in verse 166, the words fa bi idhnillahi: فَبِإِذْنِ اللَّـه indicate that whatever happened there was with the leave and will of Allah Almighty operating behind which are many wise divine arrangements, some of them having been explained earlier. One such wise arrangement is that Allah will 'see' His true believers, and the hypocrites too, that is, the sincerity of Muslims and the hypocrisy of the hypocrites will become so clear that everybody could see it for himself. Here, the reference to Allah's knowing or seeing means seeing in the perspective of our own…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 166–167

119. When 'Abd Allah b. Ubayy decided to withdraw from the battlefield with his men several Muslims attempted to persuade him not to do so. Ibn Ubayy replied that he was sure that there would be no fighting that day, and he assured them that had he expected fighting to take place, he would have gone along with them.

Read the full tafseer →