Explained with ayahs 165–168
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
سورة اٰلِ عِمْرٰن 115
اکابر صحابہ تو خیر حقیقت شناس تھے اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو سکتے تھے، مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود ہے اور اللہ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ ہے تو کسی حال میں کفار ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ اس لیے جب احد میں ان کو شکست ہوئی تو ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا اور انہوں نے حیران ہو کر پوچھنا شروع کیا کہ یہ کیا ہوا ؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے، اس کا وعدہ نصرت ہمارے ساتھ تھا، اس کا رسول خود میدان جنگ میں موجود تھا، اور پھر بھی ہم شکست کھا گئے ؟ اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئے تھے ؟ یہ آیات اسی حیرانی کو دور…
Read the full tafseer →واقعہ احد میں مسلمانوں کو عارضی شکست اور زخم و قتل کے مصائب پیش آنے کے بعض اسباب اور حکمتیں
آیتہ اولما اصابتکم آلایتہ، سابقہ آیات میں کئی جگہ اس مضمون کا ذکر آ چکا ہے، یہاں پھر اس کی تاکید مزید توضیح کے ساتھ بیان کی گئی ہے، کیونکہ مسلمانوں کو اس واقعہ سے سخت کلفت تھی یہاں تک کہ بعض حضرات کی زبان پر بھی آیا انی ھذا کہ یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی، جب کہ ہم رسول ﷺ کے ساتھ شریک جہاد ہیں۔
آیت مذکورہ میں اول تو یہ بات یاد دلائی کہ جتنی مصیبت تم پر آج پڑی ہے تم اس سے دوگنی اپنے مخالف پر اس سے پہلے غزوہ بدر میں ڈال چکے ہو، کیونکہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور غزوہ بدر میں مشرکین کے ستر…
Read the full tafseer →”اَ“ حرفِ استفہام ہے اور ’ و ‘ حرفِ ربط ہے، عربی زبان میں حرف استفہام کی اصلی جگہ جملہ کے آغاز ہی میں ہے مثلا افبھذا الحدیث انتم مدھنون، الواقعہ : 81۔ یہ حرف استفہام اظہار تعجب کے لیے ہے اور حرفِ ربط اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات بھی منجملہ ان اعتراضات کے ایک اعتراض ہے جن کے جواب اوپر دیے گئے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ : اوپر یہ بات گزر چکی ہے کہ کچھ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ جو شخص خدا کا رسول ہو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہونا چاہئے، جب وہ کسی مہم پر نکلیں تو ان کے ساتھ خدا کے فرشتوں کی مدد ہونی چاہئے، جب انہیں کوئی جنگ پیش آئے تو ضروری ہے کہ وہ اس…
Read the full tafseer →165۔ 1 یعنی احد میں تمہارے ستّر آدمی شہید ہوئے تو بدر میں تم نے ستّر کافر قتل کئے تھے اور ستّر قیدی بنائے تھے۔
165۔ 2 یعنی تمہاری اس غلطی کی وجہ سے جو رسول اللہ ﷺ کے تاکیدی حکم کے باوجود پہاڑی مورچہ چھوڑ کر تم نے کی تھی۔ جیسا کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے کافروں کے ایک دستے کو اس درے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
56: اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس میں کفار قریش کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہوئے تھے، جبکہ جنگ احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر ضرور تھی مگر کوئی مسلمان گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اس لحاظ سے بدر میں مسلمانوں نے کفار کو جو نقصان پہنچایا تھا وہ اس نقصان سے دگنا تھا جو کافروں نے احد میں مسلمانوں کو پہنچایا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا ‘ جو اس کا جھنڈا اٹھانے والے ہوں اور جو اس پر پختہ ایمان اور عقیدہ رکھنے والے ہوں ۔ لیکن اس نے اس وعدے کو ایک شرط سے مشروط کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی نصرت کے مستحق وہ اس وقت ہوں گے جب ان کے دلوں میں حقیقت ایمان اچھی طرح جاگزیں اور مستحکم ہوجائے ۔ اور وہ اپنی تنظیم اور طرزعمل میں ایمان کے تقاضے پورے کررہے ہوں ۔ اور ان کی وسعت اور طاقت کے اندر جو کچھ ہو وہ انہوں نے تیار کیا ہو۔ ان کی طاقت میں جس قدر ممکن ہو وہ جدوجہد کررہے ہوں ۔ یہ ہے سنت الٰہیہ اور سنت الٰہیہ کی کسی کے ساتھ خاص دوستی نہیں ہوتی نہ وہ کسی کی رورعایت کرتی…
Read the full tafseer →7 پہلے سے احد کا قصہ چلا آتا تھا، درمیان میں جو کوتاہی ہوئی تھی اس کے عفو کا ذکر ہوا اور اسی کی مناسبت سے نبی کریم ﷺ کے اخلاق و حقوق یاد دلائے گئے۔ اب پھر احد کے قصہ کی طرف عود کیا جاتا ہے یعنی جنگ احد میں جو تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑا کیا اس پر تم تعجب سے کہتے ہو کہ مصیبت کہاں آگئی، ہم تو مسلمان مجاہد تھے جو خدا کے راستہ میں اس کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے نکلے تھے۔ خدا تعالیٰ پیغمبر کی زبانی نصرت و امداد کا و عدہ فرما چکا، پھر یہ مصیبت ہم پر کیونکر اور کدھر سے نازل ہوئی۔ ایسا کہتے وقت سوچنا چاہئیے کہ جس قدر تکلیف تم کو پہنچی اس سے دوچند تکلیف ان کو تم سے پہنچ چکی ہے احد میں تمہارے تقریباً ستر…
Read the full tafseer →آیت 165 اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَالا قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ط
یعنی یہ کیوں ہوگیا ؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی ‘ اب کیوں نہیں کی ؟
قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط۔
غلطی تم نے کی تھی ‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی ‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔
گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت 152 میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تو وعدہ اپنا پورا کرچکا تھا اور تم دشمن پر غالب آ چکے تھے ‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا ‘ بغیر سزادیے معاف کردیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
161 منافقین کی تو بات ہی الگ ہے۔ اکابر صحابہ کو چھوڑ کر مسلمان بھی یہ سمجھ رہے تھے کہ جب ہم حق کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ اپنا دفاع کر رہے ہیں اور اللہ کا رسول بہ نفس نفیس ہم میں موجود ہے تو کافر ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ پھر جب شکست سے دو چار ہونا پڑا تو انہیں سخت صدمہ بھی ہوا اور حیرانی بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں تمہیں فتح عظیم عطا فرمائی تھی۔ تم نے اپنے اس موجودہ نقصان سے کافروں کا دگنا نقصان کیا تھا اور اس وقت تم کمزور بھی تھے تو اللہ اگر اس حال میں تمہیں فتح عطا فرماسکتا ہے تو وہ تمہیں شکست بھی دلوا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر…
Read the full tafseer →338 ۔ (اس کے قبل بدر میں) (آیت) ” اصابتکم مصیبۃ “ یعنی احد میں جب تمہیں شکست ہوئی اور تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے (آیت) ’ اصبتم مثلیھا “۔ یعنی بدر میں جب مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے تھے اور ستر گرفتار۔ او میں وعطف کا ہے اور۔ ا۔ تفریح و استفہام کا۔ الھمزۃ للتفریع والتقریر والواو عاطفۃ (بیضاوی) الالف للاستفھام والواوللعطف (قرطبی)
339 ۔ یعنی تمہارے اپنے ہاتھوں ہوئی، ہمارا وعدہ فتح ونصرت تمہاری طاعت و اطاعت کے ساتھ مشروط تھا۔ جب تم نے اس کا لحاظ نہ رکھا تو اب وعدہ کہاں باقی رہا۔ (آیت) ” انی ھذا “۔ حیرت طبعی میں مسلمان بار بار استعجاب سے کہتے تھے کہ ہم صاحب ایمان بندہ، اللہ کی راہ میں لڑنے والے پھر…
Read the full tafseer →اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ (الآیۃ) اکابر صحابہ ؓ تو حقیقت شناس تھے ہی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوسکتے تھے مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسول ہمارے اندر موجود ہے، اور اللہ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ ہے تو کسی حال میں کفار ہمارے اوپر فتح نہیں پاسکتے، اس لیے احد میں جب شکست ہوئی تو ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا تو انہوں نے حیران ہو کر پوچھنا شروع کردیا کہ یہ کیا ہوا ؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے تھے اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئے تھے، یہ آیات اسی حیرانی کو دور کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں۔ جنگ احد میں مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہوئے اس کے برخلاف جنگ…
Read the full tafseer →او لما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا اور جب تم پر ایسی مصیبت پڑی کہ اس سے دوگنی تم (دشمنوں پر) ڈال چکے تھے تو اب تم کہتے ہو کہ یہ کدھر سے آئی۔ مصیبت سے مراد ہے سترّ آدمیوں کا قتل اور شکست جو احد کے دن واقع ہوئی اور دوگنی مصیبت ڈالنے سے مراد ہے بدر کی لڑائی میں کافروں کا قتل اور قید ہونا۔
امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت براء کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن مشرکوں نے ہمارے ستر آدمی مارے پھر بدر کے دن رسول اللہ اور صحابہ نے ایک سو چالیس مشرکوں پر مصیبت ڈالی۔ سترّ کو قتل کیا اور سترّکو قید۔ میں کہتا ہوں قیدی کو بھی اللہ نے مقتول کے حکم میں قرار دیا کیونکہ مسلمان ان کو قتلکر…
Read the full tafseer →(165) اور اب پھر احد کے دن کی پریشانی کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرماتے ہیں تمہیں احد میں ایسی شکست ہوئی جس سے دو چند مکہ والوں کو بدر میں ہوئی تھی اور پھر حیرانی سے کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں، پھر اس قدر پریشانی کہاں سے ہوئی اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ مورچہ چھوڑ کر جو تم سے لغزش ہوئی اس بنا پر عارضی شکست ہوئی، اللہ تعالیٰ سزا وغیرہ سب پر قادر ہے۔
شان نزول : (آیت) ”اولما اصابتکم“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے فرمایا کہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر جو چھوڑدیا تھا اس کی گرفت احد میں ہوئی کہ ستر صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے رسول اکرم ﷺ کے سامنے کے دندان مبارک شہید…
Read the full tafseer →اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ : یعنی احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید کیے تھے اور قیدی بھی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے کہ جب گرفتار کرنے والے کی مرضی ہو اسے قتل کر ڈالے۔
2 ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ : یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے، یا خود تمہارے پسند کرنے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر) پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ تمہاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے، جس کا ارتکاب تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر کیا۔ (قرطبی) دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمہارے فدیہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ قرآن نے یہاں (ھو من عند…
Read the full tafseer →آیت نمبر 165۔
اس میں الف استفہام کے لئے ہے اور واؤ عطف کے لئے۔ (آیت) ” مصیبۃ “ اس سے مراد غلبہ ہے (آیت) ” قد اصبتم مثلیھا “۔ یعنی بدر کے دن تم اس سے دگنی پہنچا چکے ہو، اس طرح کہ تم نے ان میں سے ستر افراد قتل کئے اور ستر کو تم نے قیدی بنایا، اور قیدی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے، کیونکہ قید کرنے والا اگر چاہے تو اپنے قیدی کو قتل کرسکتا ہے، یعنی تم نے انہیں بدر کے دن اور احد کے دن بھی ابتدا میں شکست سے دو چار کیا اور اس میں تم نے تقریبا بیس افراد قتل کئے (گویا) تم نے ان میں سے دونوں دنوں میں افراد قتل کئے اور انہوں نے تم سے احد کے دن (کچھ افراد) شہید کئے۔
(آیت) ” قلتم انی ھذا “۔ یہ شکست اور قتل…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اولما اصابتکم مصیبۃ “ سے مراد ہے کہ بلاشبہ تم نے بدر کے دن مشرکوں کو دگنی تکلیف پہنچائی جتنی انہوں نے تم کو احد کے دن پہنچائی۔
(2) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے بدر کے دن مشرکوں میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا “ مسلمان کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مرجاتے ہیں جبکہ یہ مشرک ہیں فرمادیجئے ” قل ھو من عند انفسکم “ یہ تمہاری جانب سے ہے جو تم نے نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کی تھی یہ اس کی سزا ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس…
Read the full tafseer →[اَوَلَمَّـآ : تو کیا جب ] [اَصَابَتْـکُمْ : آپہنچی تم کو ] [مُّصِیْـبَـۃٌ : کوئی مصیبت ‘] [قَدْ اَصَبْتُمْ : (حالانکہ) تم لوگ پہنچا چکے ہو ] [مِّثْـلَیْہَا : اس (مصیبت) سے دوگنا ] [قُـلْتُمْ : (تو) تم لوگوں نے کہا ] [اَنّٰی ہٰذَا : یہ کہاں سے ہے
قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ہُوَ : یہ ] [مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے پاس سے ہے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْـرٌ : قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
مسلمانوں کو تسلی اور منافقوں کی بد حالی کا بیان
مسلمانوں کو جو غزوہ احد میں وقتی طور پر شکست ہوئی اور اس سلسلہ میں تکلیف پہنچی اس مصیبت پر کچھ لوگوں کے منہ سے یہ نکلا انی ھذا (یہ مصیبت کہاں سے آئی) اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کو جواب میں فرما دیں کہ یہ اسباب ظاہرہ تمہاری اپنی جانوں کی طرف سے ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور پہاڑی پر جن تیر اندازوں کو بٹھا دیا گیا تھا انہوں نے باو جود تاکیدی حکم کے اس جگہ کو چھوڑ دیا۔ اور مال غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے (قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا) بھی فرمایا کہ تم کو جو تکلیف پہنچی ہے گذشتہ سال غزوہ بدر میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ازالہ حسرت ہزیمت از دوستاں جواب شبہ دشمناں
قال تعالیٰ اولما اصابتکم مصیبۃ۔۔۔۔ الی صادقین۔
پہلے سے احد کا قصہ چلا آرہا ہے درمیان میں صحابہ کرام سے جو کوتاہی ہوئی اس پر تنبیہ فرمائی اب پھر قصہ احد کی طرف عود فرماتے ہیں جس سے مقصود مسلمانوں کی ایک حسرت کو زائل کرنا ہے اور منافقوں کے ایک شبہ کا جواب دینا ہے بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ دین اسلام دین حق ہے اور خدا کا رسول ہمارے ساتھ ہے اور ہم دین حق کی حمایت میں جہاد کررہے ہیں اور کفار کفر اور شرک کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہم پر کیسے فتح پائی۔
اور منافقوں نے یہ کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو احد میں شکست کیوں ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا جس وقت…
Read the full tafseer →252 یہ مومنین کے لیے زجر ہے جنگ احد میں مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہوئے اور وقتی طور پر ان کو شکست بھی ہوئی تو اس پر مسلمانوں نے حیرت واستعجاب سے کہا کہ یہ شکست کہاں سے آگئی ہم اللہ کے مسلمان بندے، اس کے پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے والے اس کی توحید کی خاطر مشرکین سے جہاد کرنیوالے ہم مومن ہمارے مد مقابل مشرک اور ہم میں خدا کا نبی موجود پھر ہم سے اللہ کا وعدہ فتح ونصرت بھی لیکن ان سب باتوں کے باوجود پھر بھی شکست ہم کو ای من این اصابنا ھذا الانھزام والقتل ونحن نقاتل فی سبیل اللہ ونحن مسلمون وفینا النبی والوحی وھم مشرکون (قرطبی ج 4 ص 265) اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا کہ جب تم پر مصیبت آئی یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ربط آیات : اس درس کی آیت بھی واقعہ احد کے سلسلہ ہی کی کڑیاں ہیں۔ پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں یا کافروں کی بات ماننے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوگئی تھی ان کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں اور آئندہ اس کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کے مسئلہ کو بیان فرمایا۔ پھر خداوند کریم نے اپنے اس عظیم احسان کا تذکرہ فرمایا جو اس نے بنی نوع انسان پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص کیا۔ اور وہ احسان یہ ہے کہ انہی کی نسل اور خاندان…
Read the full tafseer →اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا 0ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى ہٰذَا 0ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 165
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
ترکیب : اذ ظرف ہے من کا مَن انفسہم صفت ہے رسولا کی یتلوا اور یزکیہم اور یعلمہم الکتاب جملہ حال ہیں رسولا سے وان مخففہ ہے مثقلہ سے۔
تفسیر : الہام اور نبوت کی ضرورت : فرمایا تھا کہ نبی کی شان غلول و خیانت نہیں۔ یہاں اس بات کو اور بھی ثابت کرتا ہے کہ خدا نے تو تم پر رسول بھیج کر (جو تم میں پیدا ہوا ہے) جس کے وقائعِ عمر یہ سے تم خوب واقف ہو کہ اس نے کبھی کوئی برائی یا خیانت نہیں کی۔ نہ کبھی جھوٹ بولا نہ دنیا کی محبت اس کی طرف آئی اور وہ اہل ایمان کو کتاب الٰہی بھی پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور حکمت سکھاتا ہے اور اس سے پہلے جو کچھ عرب کی حالت خراب تھی ظاہر ہے بڑا احسان کیا ہے۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔
(تحقیق اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے) (164)
آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیوں ؟
یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احد کی شکست اور اس کے عوامل پر تبصرہ جاری ہے اس میں مسلمانوں کی انتظامی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی جا رہی ہے۔
اُحد کی شکست کے اسباب میں دو سبب بڑے نمایاں تھے۔ منافقوں کا کردار اور مسلمانوں کا نبی ﷺ کے حکم پر پوری طرح عمل کرنے کی بجائے درہ چھوڑنا۔ لہٰذا مختلف انداز اور الفاظ میں منافقوں کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ ناقابل اعتماد اور آستین کے سانپ ہیں۔ ان سے ہر وقت بچنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے سبب پر تبصرہ کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مسلمان ہو اور اللہ کا رسول تم میں موجود ہے لیکن تم نے رسول کے حکم کی…
Read the full tafseer →165: اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَاقُلْ ھُوَمِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچی) اس مصیبت سے مراد احد میں ستر صحابہ کا شہید ہونا ہے۔ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا (تم اس سے دوگنا پہنچا چکے) بدر کے دن ستّر کفار قتل اور ستّر قید ہوئے۔
نحو : یہ جملہ موضع رفع میں مصیبت کی صفت ہے۔
قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا : (تم نے کہا یہ کہاں سے ہے) قُلْ ھُوَمِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ (تم کہہ دو ! کہ یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے ہے) کیونکہ مدینہ سے نکل کر لڑنا تم نے پسند کیا۔ یا اس لئے کہ تم نے مرکز کو…
Read the full tafseer →165۔ (آیت)” اولما “ حین کے معنی میں ہے یعنی جب (آیت)” اصابتکم مصیبۃ “ اس سے جنگ احد مراد ہے ۔ قد اصبتم مثلیھا “ اس سے قبل تمہیں اس جیسی بدر میں پہنچ چکی ہے ، مشرکین نے احد کے دن مسلمانوں کے ستر مجاہدین شہید کئے جبکہ مسلمانوں نے بدر میں ستر کافروں کو مارا اور ستر کو قید کر کے لائے تھے ۔
(آیت)” قلتم انی ھذا “ کہ یہ تکلیف اور شکست اور مسلمانوں کا قتل ہونا کہاں سے آئی حالانکہ ہم تو مسلمان ہیں اور آپ ﷺ ہم میں موجود ہیں ۔ (آیت)” قل ھو من عند انفسکم “۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام ناپسند گزرا جو آپ کی قوم نے کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
(165 ۔ 168) ۔ احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اس لڑائی میں تمہارے ستر آدمی جو شہید ہوئے تو ان کا زیادہ رنج کیا تم بھی تو بدر میں لڑائی میں مخالفوں کو اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو کہ ستر آدمی ان کے مارے اور ستر کو پکڑ لائے اور یہ جو تم کہتے کہ اتنی بڑی مصیبت ہم لوگوں پر کیوں آئی تو یہ مصیبت تم میں ہی کے بعض لوگوں کے سبب سے آئی کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اور برخلاف حکم اللہ تعالیٰ کے رسول کے تیر اندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں مصلحت تھی کہ کامل ایمان دار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
آیت 165-168
جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پ ڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لئے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قد اصبتم مثلیھا) ” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند “ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لئے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہئی اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔
(قلتم انی ھذا) ” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی ؟ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–167
قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں…
Read the full tafseer →353 غزوہ بدر کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو مسلمانوں کی شکست خوردگی کے اثرات کے ازالے کے طور پر ان سے فرمایا گیا کہ اس سے پہلے تم لوگ [ بدر میں اپنے دشمنوں کو ] دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ سو احد میں اگر تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے تو بدر میں ان کے ستر صنادید مارے گئے اور ستر قیدی بن کر تمہارے ہاتھ لگے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسی صورت حال میں تمہارا احد کی اس عارضی شکست سے چیخ اٹھنا اور شکوہ سنج ہوجانا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اس میں اصل کمزوری اور کوتاہی خود تمہاری اپنی ہی طرف سے تھی۔ اور اس میں بھی تمہارے لیے بڑے عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت بھی ہیں۔ تو پھر تمہارا یہ حال کیوں ہے ؟…
Read the full tafseer →مصیبت پر شکایت
تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کی غلط فہمی دور کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کو تو اللہ کی مدد ملی ہوئی ہے وہ ہرگز شکست نہیں کھاسکتے تو ان کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہتا تو تمہیں فتح دلا دیتا مگر تم نے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو اس کی وجہ سے تمہیں بتایا گیا کہ اعمال اپنی جگہ ہیں ان کا بدلہ تو ملنا ضروری ہے یہ جو پریشانی تمہیں اٹھانی پڑی اس کے ذمہ دار تم خود ہو اور پھر یہ بھی تو سوچو کہ غزوہ بدر میں تم نے بھی تو دشمن کو اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اور تکلیف پہنچائی تھی۔ اب تمہیں خود اپنی ہی وجہ سے تکلیف پہنچی ہے تو تم حیران کیوں ہو رہے ہو ؟ بدر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی احد کے دن جبکہ مسلمانوں کے ستر افراد شہید ہوگئے۔ (ابن کثیر )
1 یعنی جنگ بدر میں جب مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے تھے اور اتنے ہی قید بن کر آئے تھے۔ (ابن کثیر)2 (ای بذ نو بکم لو بلختیار رکم (القدیر) یعنی تمہاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو وجہ سے اور آنحضرت ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے جس کا تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر ارتکاب کیا ( قرطبی) دوسری صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمہارے فدیہ کو اختیار کرنے سے۔ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قید یوں کے بارے میں صحا بہ ؓ کر اختیار دیا تھا کہ اگر تم فدیہ لینا چاہتے ہو تو اس کے بدلے آئندہ تمہارے ستر آدمی شہید ہوں گے۔ چناچہ صحانہ کرام ؓ نے اسے منظور کرلیا…
Read the full tafseer →(3:165) اصابتکم۔ ماضی واحد مؤنث غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر ۔ وہ (مصیبت) تم کو پہنچی۔ اصبتم۔ تم نے پہنچائی۔ اصاب یصیب (ضرب) لازم اور متعدی ہر دو طرح مستعمل ہے۔ اصابۃ سے جس کے معنی پہنچانا۔ پالینا۔ مصیبۃ۔ وہ مشکل جو آپہنچے۔
اولما۔ میں واؤ عطف کے لئے ہے اور ہمزہ استفہام کے لئے۔ لما جب الما کیا جب۔
آیت کا شروع کا جملہ کچھ اس طرح ہوگا۔ اولما اصابتکم مصیبۃ قلتم انی ھذا (و) قد اصبتم مثلہا۔ کیا جب ّاحد میں) تم کو مصیبت (بصورت قتال و ہزیمت) پہنچتی تو تم پکار اٹھے کہاں سے آپڑی یہ مصیبت (حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور نبی کریم ﷺ ہم میں موجود ہیں ۔ ( حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بدر کے غزوہ میں) تم نے اس سے دوگنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا اور برخلاف حکم اللہ کے رسول کے تیراندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں یہ مصلحت تھی کہ کامل ایماندار اور منافقوں کا اچھی طرح پردہ کھل جاوے۔ وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے گھروں میں آن بیٹھے اور کچھ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کے وقت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔
Read the full tafseer →[62] اشارہ ہے جنگ احد کی طرف جس میں ستر (70) مسلمان شہید ہوئے۔
[63] مراد ہے جنگ بدر جس میں مسلمانوں نے ستر مشرکین کو قتل کیا اور ستر کو گرفتار۔
[64] یعنی تمہارے اپنے ہاتھوں سے آئی کہ تم نے رسول اکرم ﷺ کی شدید ممانعت کے باوجود مورچہ چھوڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
(ف 1) ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ عارضی شکست پر گھبراؤ نہیں ۔ یہ سب کچھ خدائے متعال کی مرضی و ارادے سے ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ ایمان دار اور منافق میں امتیاز ہوجائے اور تم دوست اور دشمن کو پہچان لو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
ف 1 اور جب تم کو میدان احد میں ایک تکلیف پہنچی حالانکہ تم اس تکلیف کی دو مثل بدر میں اپنے مخالفوں کو پہنچا چکے ہو تو کیا یوں کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے اور کدھر سے آگئی آپ فرما دیجیے کہ یہ مصیبت آ کہاں سے گئی یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے آئی اور تمہارے ہی ہاتھوں کی بدولت آئی ۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (تیسیر)
جس طرح ایک شکست خوردہ فوج کو صدمہ و حیرانی اور تعجب ہوتا ہے وہی صورت احد میں بھی مسلمانوں کو پیش آئی ۔ یہں تعجب کی وجہ اس قدر اور بھی تھی کہ علاوہ جلیل القدر صحابہ کے جو حقیقت شناس تھے عام لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب خدا کا رسول ہم میں موجود ہے پھر ہم اسلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جابجا تسکین کی گئی تو اس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہییہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصدا مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بےانتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصدا گناہ کرے پھر اس پر کرے جرات، وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے۔
Read the full tafseer →احد کو مصیبت ہم پر کہاں سے پڑی ؟ جواب ملتا ہے کہ تمہارے اپنے ہاتھوں سے :
303: جماعتی زندگی میں کمزور و قوی دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور یقینا اس وقت بھی تھے۔ جنگ احد میں جب ہوا کا رخ بدلا تو ان کو تعجب ہوا کہ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ ان کو بتایا جا رہا ہے۔ کہ نتائج اعمال کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ” قلتم انی ھذا “ کی یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی ہے ؟ یہ سراسر تمہارے اع ال کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ جماعتی زندگی میں جن لوگوں کے سپرد قومی کام ہوتے ہیں اگر وہ کوئی کوتاہی کریں تو خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح جیسے جسم کے کسی حصہ رکو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے یا بےچین ہوجاتا…
Read the full tafseer →The Wisdom behind the hardships of the Muslims at Uhud
The subject of verse 165, أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم translated as, And how is it that, when you suffered a hardship the twice of which you had inflicted upon them...° has appeared in several previous verses. Here, it comes for the sake of emphasis and further clarification because Muslims were very much disturbed as a result of this incident, so much so that some of them could not resist wondering why should they be suffering in that manner (أَنَّىٰ هَـٰذَا) while they were in the company of the Holy Prophet ﷺ ، doing Jihad.
In this verse,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
115. The more high ranking Companions were too well aware of reality to fall prey to any misunderstandings. The ordinary believers, however, had thought that as long as God's Messenger was in their midst and as long as they enjoyed God's support and help the unbeliever, could never triumph over them. Hence, when they suffered defeat at the Battle of Uhud, their expectations were shaken and they began to wonder why things had taken the course they had. They wondered why they had been defeated even though they had fought for the sake of God's true religion with God's support, and the Messenger…
Read the full tafseer →