Explained with ayahs 159–164
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
سورة اٰلِ عِمْرٰن 115
اکابر صحابہ تو خیر حقیقت شناس تھے اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو سکتے تھے، مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود ہے اور اللہ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ ہے تو کسی حال میں کفار ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ اس لیے جب احد میں ان کو شکست ہوئی تو ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا اور انہوں نے حیران ہو کر پوچھنا شروع کیا کہ یہ کیا ہوا ؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے، اس کا وعدہ نصرت ہمارے ساتھ تھا، اس کا رسول خود میدان جنگ میں موجود تھا، اور پھر بھی ہم شکست کھا گئے ؟ اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئے تھے ؟ یہ آیات اسی حیرانی کو دور…
Read the full tafseer →رسول کریم ﷺ کا وجود باجود پوری انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے
آیت لقد من اللہ علی المومنین الآیتہ اسی مضمون کی ایک آیت 129 تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ میں گذر چکی ہے جس کی تفسیر و تشریح تفصیل کے ساتھ معارف القرآن جلد اول صفحہ 329 میں آ چکی ہے، اس کو دیکھ لیا جائے یہاں آیت میں ایک لفظ زائد ہے، لقد من اللہ علی المومنین، یعنی رسول اللہ ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرما کر حق تعالیٰ نے مومنین پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ اس کے متعلق پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق آنحضرت ﷺ رحمتہ للعالمین ہیں اور پورے عالم کے لئے آپ کا وجود نعمت کبری اور احسان عظیم ہے، اس جگہ اس کو صرف مؤمنین…
Read the full tafseer →بعثت نبوی کی برکات : یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام اہم اجزا کی تشریح ہوچکی ہے۔ نظم کے پہلو سے یہ آیت اسی حقیقت کو مثبت پہلو سے پیش کر رہی ہے جو اوپر والی آیت میں منفی پہلو سے ظاہر کی گئی۔ اوپر کی آیت میں، جیسا کہ بیان ہوا، نبی ﷺ کو ملت کے ساتھ بدخواہی و بےوفائی کے الزام سے بری قرار دیا گیا ہے، اس آیت میں اس عظیم احسان کا اظہار کیا گیا ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کی شکل میں تمام دنیا پر اور خاص طور پر قوم عرب پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ احسان یہاں تین مختلف پہلوؤں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کے اندر انہی کے اندر سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
164۔ 1 نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
56: اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس میں کفار قریش کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہوئے تھے، جبکہ جنگ احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر ضرور تھی مگر کوئی مسلمان گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اس لحاظ سے بدر میں مسلمانوں نے کفار کو جو نقصان پہنچایا تھا وہ اس نقصان سے دگنا تھا جو کافروں نے احد میں مسلمانوں کو پہنچایا۔
Read the full tafseer →اب یہ پیراگراف اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کی طرف۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کو رسول بناکر دراصل اللہ تعالیٰ نے مکہ مدینہ اور پوری دنیا کے اہل ایمان پر ایک عظیم احسان کیا ہے ۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ رسالت کی اس اسکیم پر غور کریں۔
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ
” درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات…
Read the full tafseer →5 یعنی انہی کی جنس اور قوم میں کا ایک آدمی رسول بنا کر بھیجا جس کے پاس بیٹھنا، بات چیت کرنا، زبان سمجھنا اور ہر قسم کے انوار و برکات کا استفادہ کرنا آسان ہے، اس کے احوال، اخلاق، سوانح زندگی، امانت و دیانت خدا ترسی اور پاکبازی سے وہ خوب طرح واقف ہیں اپنی ہی قوم اور کنبے کے آدمی سے جب معجزات ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں تو یقین لانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، فرض کرو کوئی جن یا فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو معجزات دیکھ کر یہ خیال کرلینا ممکن تھا کہ چونکہ جنس بشر سے جداگانہ مخلوق ہے شاید یہ خوارق اس کی خاص صورت نوعیہ اور طبیعت ملکیہ و جِنّیّہ کا نتیجہ ہوں، ہمارا اس سے عاجز رہ جانا دلیل نبوت نہیں بن…
Read the full tafseer →آیت 164 لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ
یعنی ان کی اپنی قوم میں سے۔
یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ج
یہ انقلاب نبوی ﷺ کے اساسی منہاج کے چار عناصر ہیں ‘ جنہیں قرآن اسی ترتیب سے بیان کرتا ہے : تلاوت آیات ‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ اللہ نے اس کو تبدیل کیا ہے۔ اس پر سورة البقرۃ آیت 151 کے ذیل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →158۔ ا من کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے (1) احسان کرنا، (2) احسان جتلانا، (3) کاٹنا اور کٹنا اور جب یہ لفظ احسان کرنے کے معنی میں آئے تو اس سے مراد کوئی بہت بڑا احسان ہوتا ہے۔ اور وہ بہت بڑا احسان وحی الٰہی اور اس کی روشنی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں اور بصارت عطا فرمائی ہے۔ لیکن جب تک کوئی خارجی روشنی نہ ہو۔ مثلاً سورج، چاند، ستاروں یا چراغ اور قمقموں کی روشنی نہ ہو، آنکھ کی بصارت کام نہیں دیتی۔ وہ اندھیرے میں بھی کام تو کرتی ہے مگر بہت کم اور انسان بھٹکتا اور ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ نے سمجھنے سوچنے کے لیے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔…
Read the full tafseer →336 ۔ اللہ کی بہترین نعمت ہونے کے لحاظ سے بعثت رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے تو سارے عالم پر۔ مسلمانوں کی تخصیص ذکر کی وجہ ظاہر ہے کہ بعثت سے فائدہ اٹھانے والے یہی لوگ تھے۔ (آیت) ” من انفسھم “۔ یعنی انہی کی جنس میں سے اس میں مومنین کے لیے بڑی بشارت ہے کہ پیغمبر بھی بس تمہارے ہی جیسے ایک بشر ہیں۔ ارادبہ ال مومنین کلھم ومعنی من انفسہم انہ واحد منھم وبشر مثلھم (قرطبی) رسول اللہ ﷺ کی تلاوت آیات، تزکیہ تقوی، تعلیم کتاب و حکمت پر حاشیہ پارۂ اول کی آیت کے ذیل میں گزر چکے۔
337 ۔ (آیت) ” فی ضلل مبین “ قرآنی دستور العمل اور محمد ﷺ نمونہ عمل سے قبل دنیا پر عقائد، معاملات، عبادات اخلاق ہر اعتبار سے اندھیرا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (الآیۃ) اس آیت میں نبی کے بشر اور انسان ہونے ہی کو اللہ ایک احسان کے طور پر بیان فرما رہے ہیں اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہوگا۔ دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس کے قریب ہوں گے، تیسرے، انسان کے لیے انسان کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے، اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے…
Read the full tafseer →لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم بیشک اللہ نے مؤمنوں پر احسان کیا جب کہ ان کے اندر انہی میں سے ایک عظیم الشان پیغمبر مبعوث فرمایا۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک المؤمنین سے مراد ہیں صرف حضور ﷺ کے خاندان (قریش) کے مؤمن کیونکہ نعمت بعثت اگرچہ تمام مؤمنوں کے لیے عمومی ہے لیکن قریش کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا اور حضور ﷺ کی ذات سے خصوصی بزرگی ملی۔ اس لیے قریش پر یہ اللہ کا خصوصی احسان تھا کہ ان میں سے اللہ کا پیغمبر مبعوث ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا : کہ لوگ قریش کے تابع ہیں (عام) مؤمن قریشی مؤمنوں کے اور (عام) کافر قریشی کافروں کے 1 ۔
رسول اللہ نے فرمایا : یہ امر یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
(163۔ 164) جو ذات اقدس خمس لینے اور خیانت کے چھوڑنے میں رضائے حق میں تابع ہو وہ کیا اس شخص کی طرح ہوجائے گا جس پر خیانت کی بنا پر اللہ کا غصہ نازل ہوا۔ جو خیانت چھوڑے گا اس کے لیے جنت میں بلند درجات ہوں گے اور جو خیانت کا ایسا کام کرے گا اس کی اللہ کے ہاں سخت گرفت ہوگی۔
Read the full tafseer →لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کے بشر ہونے اور انسانوں ہی میں سے ہونے کو ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے ہی میں اللہ کا پیغام پہنچائے گا، جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہوگا، دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس سے قریب ہوں گے اور تیسرے انسان کے لیے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے، لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں، نہ فرشتوں میں وہ کمزوریاں اور ضرورتیں پائی جاتی ہیں جو انسان میں ہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لیے اگر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 164۔
اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرما کر ان پر اپنے احسان عظیم کو بیان فرمایا ہے اور اس میں احسان کرنے کے معنی میں کئی اقوال ہیں : ان میں ایک یہ ہے کہ (آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہو ” بشر مثلھم، یعنی آپ انکی مثل بشر ہیں، پس جب دلائل واضح ہیں کہ آپ ان کی مثل بشر ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” من انفسھم “۔ ای منھم۔ یعنی آپ ان میں سے ہیں۔
پس وہ آپ ﷺ کے ساتھ مشرف ومکرم ہوئے ہیں پس یہ بھی ایک احسان ہے اور یہ قول بھی ہے : (آیت) ” من انفسھم “ تاکہ وہ آپ کی حالت کو پہچان سکیں اور ان پر آپ کا طریقہ اور سنت مخفی نہ رہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
(1) ابن المنذر ابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں لفظ آیت ” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم “ روایت کیا ہے کہ خاص کر عرب کے لیے ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عظیم ذات کی طرف سے بڑا احسان ہے کہ اس امت نے نہ دعا کی اور نہ رغبت کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رحمت بنا دیا جو ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہیں اور ان کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی کو) اس قوم کی طرف بھیجا جو علم نہ رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →[لَـقَدْ مَنَّ : احسان کیا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں پر ] [اِذْ : جب ] [بَعَثَ : اس نے بھیجا ] [فِیْہِمْ : ان میں ] [رَسُوْلاً : ایک رسول ] [مِّنْ اَنْفُسِہِمْ : ان کے اپنوں میں سے ] [یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ : وہ پڑھ کر سناتا ہے ان کو ] [اٰیٰـتِہٖ : اس کی آیات ] [وَیُزَکِّیْہِمْ : اور وہ تزکیہ کرتا ہے ان کا ] [وَیُـعَلِّمُہُمُ : اور وہ تعلیم دیتا ہے ان کو ] [الْـکِتٰبَ : کتاب کی ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی ] [وَاِنْ کَانُوْا : اور بیشک وہ تھے ] [مِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ : لازماً ایک کھلی گمراہی میں ]
ترکیب :” یَتْلُوْا ‘ یُزَکِّیْ…
Read the full tafseer →اپنا رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا
اللہ جل شانہٗ بہت بڑا کریم ہے، صدیوں سے لوگ شرک اور کفر کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، بجز خال خال چند افراد کے اللہ کے ماننے والے دنیا میں رہے ہی نہ تھے جو لوگ اپنے خیال میں اللہ کو مانتے اور جانتے تھے وہ بھی عموماً مشرک تھے عرب اور عجم سب پر شیاطین کا تسلط تھا۔ پوری دنیا کفر کی آما جگاہ بنی ہوئی تھی ایسے موقعہ پر اللہ جل شانہٗ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کی ذات گرامی سے تاریکیاں چھٹ گئیں ایمان کا نور پھیل گیا۔ لاکھوں افراد جو کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق دوزخ ہوچکے تھے انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ خود اور ان کی قیامت تک کی آنے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
قال تعالیٰ وماکان لنبی ان یغل۔۔۔۔۔ الی۔۔ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ آیت۔
اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ ذرہ برابر بھی خیانت کرے منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی لہذا لوگوں کو چاہیے کہ نبی کی عظمت و حرمت اور عصمت وامانت کو مستحضر رکھیں اور کوئی لفظ زبان سے ایسا نہ نکالیں جو منصب نبوت کے خلاف ہو اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔
1۔ ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ میں ابن عباس سے مروی ہے کہ بدر کے دن غنیمت میں سے ایک سرخ چادر گم ہوگئی اس پر کسی شخص نے کہا شاید رسول اللہ نے لے لی ہوگی یہ کہنے والا کوئی منافق تھا جیسا کہ بعض روایات میں خود ابن عباس سے…
Read the full tafseer →250 یہ بھی وَمَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ہی سے متعلق ہے یعنی پیغمبر کی بعثت تو اللہ تعالیٰ کی ایک بہترین نعمت اور اس کا عظیم احسان ہے جو اس نے مومنین پر فرمایا ہے اس لیے تمہیں تو اس نعمت عظمیٰ کا شکریہ ادا کرنا اور اللہ کے پیغمبر کا اتباع کرنا چاہئے نہ کہ اس قسم کی غلط باتیں پیغمبر کی ذات کی طرف منسوب کرنے لگو۔حضور ﷺ کی بعثت اگرچہ سارے جہان کے لیے بہترین نعمت تھی لیکن اس نعمت سے فائدہ اٹھانے والے چونکہ صرف مؤمنین ہی ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ اور پھر مِنْ اَنْفُسِہِمْ کا اضافہ کر کے اپنی مزید رحمت و شفقت کی طرف اشارہ فرمایا۔ رسول کی بعثت بھی اللہ کی رحمت اور نعمت تھی کیونکہ…
Read the full tafseer →ربط آیات : گذشتہ درس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی وضاحت فرمائی تھی۔ کہ نبی کی شان کے شایاں نہیں کہ وہ مال غنیمت میں سے کوئی چیز از خود اپنے پاس رکھ لے۔ وہ تو جماعت کا سربراہ ہے۔ اس کو اللہ نے اجازت دی ہے کہ جو چیز چاہے سر عام اپنی تحویل میں لے۔ لہذا اسے کیا ضرورت ہے کہ کوئی چیز خفیہ طور پر لے لے۔ اللہ کا پیغمبر ایسا نہیں کرسکتا۔ اللہ نے لوگوں کی تردید فرمائی جو اس قسم کا گمان کر رہے تھے۔ آج کے درس میں ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اپنے رسول کو اہل ایمان کے لیے بطور نعمت پیش کیا ہے۔ آپ کے اوصاف حمیدہ اور آپ کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے۔
احسان خداوندی : ارشاد ہوتا ہے لقد من اللہ علی المومنین۔ تحقیق…
Read the full tafseer →لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ 0 ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 164
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
ترکیب : اذ ظرف ہے من کا مَن انفسہم صفت ہے رسولا کی یتلوا اور یزکیہم اور یعلمہم الکتاب جملہ حال ہیں رسولا سے وان مخففہ ہے مثقلہ سے۔
تفسیر : الہام اور نبوت کی ضرورت : فرمایا تھا کہ نبی کی شان غلول و خیانت نہیں۔ یہاں اس بات کو اور بھی ثابت کرتا ہے کہ خدا نے تو تم پر رسول بھیج کر (جو تم میں پیدا ہوا ہے) جس کے وقائعِ عمر یہ سے تم خوب واقف ہو کہ اس نے کبھی کوئی برائی یا خیانت نہیں کی۔ نہ کبھی جھوٹ بولا نہ دنیا کی محبت اس کی طرف آئی اور وہ اہل ایمان کو کتاب الٰہی بھی پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور حکمت سکھاتا ہے اور اس سے پہلے جو کچھ عرب کی حالت خراب تھی ظاہر ہے بڑا احسان کیا ہے۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔
(تحقیق اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے) (164)
آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیوں ؟
یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
فہم القرآن
ربط کلام : اکثریت کی رائے کا احترام کرنا، ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کردینا۔ انسان کو شرف انسانیت سے سرفراز فرمانا ‘ توحید کی دولت سے مالا مال کرنا اور بھٹکتے ہوئے انسان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا رسول معظم ﷺ ہی کی ذات اور قیادت کا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بطور احسان ذکر فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ دنیا میں ہدایت کا مؤثر ‘ مدلل ‘ قابل اعتماد اور براہ راست ذریعہ انبیاء کی…
Read the full tafseer →تصدیق کے لئے آسانی کردی :
164: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ٰایٰتِہٖ وَیُزَکِّیھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (تحقیق اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر احسان فرمایا) یعنی ان مؤمنوں پر جو آپ کی قوم میں سے آپ پر ایمان لائے ان میں سے ایمان والوں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ آپ کی بعثت سے فائدہ ان کو پہنچا۔ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ (جب کہ ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث فرمایا) یعنی انکی جنس میں سے جو انکی طرح عربی ہیں یا…
Read the full tafseer →164۔ (آیت)” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم “۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ المؤمنین سے عرب کے تمام مؤمن مراد ہیں ، کیونکہ بنو تغلب کے علاوہ باقی ہر عربی قبیلہ کا قریش سے کچھ نہ کچھ نسبی تعلق ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام مؤمنین ہیں ، اس صورت میں (آیت)” من انفسھم “ سے مراد ایمان اور شفقت کے ہیں نسب کے اعتبار سے معنی مراد نہیں ، اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لقد جاء کم رسول من انفسکم “۔۔۔۔۔۔ یتلوا علیھم ایاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا “۔ یہ (آیت)” قد کانوا “ ۔ کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
(161 ۔ 164) ۔ ابو داؤد اور ترمذی و طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 2 اس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کچھ چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعض مسلمانوں نے یہ بد گمانی کی کہ شاید آنحضرت کے کام میں وہ چیز آگئی ہوگی۔ دوسرے بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا اور جنگ کی بےعنوانیوں کو اس لڑائی کے ذکر میں تذکرہ فرمانے سے یہ مراد ہے کہ اس لڑائی میں…
Read the full tafseer →آیت 164
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انہیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا : (لقد من اللہ لعیالمومنین اذبعث فیھم رسولا من انفسھم) ” یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انہی میں سے “ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لئے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–167
قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں…
Read the full tafseer →347 بعثت پیغمبر ایک عظیم الشان انعام خداوندی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بعثت نبوی اہل ایمان پر قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام ہے کہ اس عظیم الشان پیغمبر اور اس کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے اللہ نے ان لوگوں کو حیوانیت وبہیمیت کے قعر مذلت سے نکال کر انسانیت کے شرف سے آگاہ و مشرف فرمایا۔ اور ان کو ان عظیم الشان اور بےمثال تعلیمات مقدسہ سے نوازا، جو ان کو اس دنیا میں حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی راہ پر ڈالنے والی اور آخرت میں جنت کی ابدی اور سدابہار نعمتوں سے ہمکنارو سرفراز کرنے والی ہیں۔ سو اس طرح بعثت رسول کی نعمت ایسی عظیم الشان نعمت ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت ممکن ہی نہیں۔ سو جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
رسول اللہ ﷺ کی شان اور خوبیاں
تشریح : یہ آیات بھی غزوہ ٔ احد کے بارے میں ہیں جب آنحضرت ﷺ نے تیر اندازوں سے پوچھا کہ تم نے غلطی کیوں کی ؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے سوچا ہمارے لیے مال غنیمت بچے گا ہی نہیں۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ نبی تمہارے ساتھ مال غنیمت میں خیانت کریں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں دیانت، امانت اور انصاف کے سوا کوئی فیصلہ کرے۔ پیغمبر بھلا ان لوگوں کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا ؟ وہ تو ہر معاملہ میں پوری طرح اللہ کی رضا کا تابع ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کی فرمانبرداری ہی کا حکم دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 4 اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمی ٰ ہونے کی اعتبار سے آنحضرت ﷺ کو وجود تمام دنیا کے لیے احسان ہے مگر استفادہ کے پیش نظر یہاں سرف مومنین پر احسن کا ذکر ہے۔ (رازی) من انفسھم یعنی انہی کی جنس سے ان جیسے بشر ہیں۔ ، (قرطبی) او پر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ خیانت اور غلول ایک نبی کی شان سے بعید ہے اور نبوت و خیانت یکیجا جمع نہیں ہوسکتے تو اب اس آیت میں سی کی مزید تاکید فرمائی کہ آنحضرت ﷺ کو ایک پاکیزہ اور اعلی نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ ان کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں کتاب وسنت کی تعلیم دی جائے اور ذائل سے پاک کیا جائے۔ پھر ایسی پاکیزہ ہوہستی کی طرف جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر…
Read the full tafseer →(3:164) من۔ مصدر۔ بڑا احسان کیا۔
ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ (14:11) لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس پر احسان فرماتا ہے۔ بعض نے اس کے معنی غیر مقطوع غیر محدود کئے ہیں فلہم اجر غیر ممنون (95:6) ان کے لئے ابے انتہا اجر ہے۔ من سے شبنمی گوند بھی مراد ہے وانزلنا علیکم المن والسلوی (2:57) اور ہم نے تم پر من اور سلوی اتارا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
لغات القرآن آیت نمبر 161 تا 164
ان یغل (یہ کہ وہ خیانت کرے (غلول۔ مال غنیمت میں خیانت کرنا) من یغلل (جو خیانت کرے گا) سخط (غصہ کیا) من اللہ (اللہ نے احسان کیا) ضلٰلٍ مبین (کھلی گمراہی) ۔
تشریح : آیت نمبر 161 تا 164
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن مال غنیمت میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی۔ بعض منافقین نے جو ہر وقت مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی بدخواہی میں آگے آگے رہتے تھے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت سیدھے سادھے مسلمانوں کے دلوں میں لغو اور فضول وسوسے پیدا کرنا شروع کردیئے تھے کہ مال غنیمت کی سرخ چادر رسول اللہ نے چھپا کر رکھ لی ہے۔ ان آیتوں میں فرمایا جارہا ہے کہ نبی کی شان تو ان باتوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں۔ (1) ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کوئی چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعضے مسلمانوں نے یہ بدگمانی گی کہ شاید وہ چیز آنحضرت ﷺ کے کام میں آگئی ہوگی۔
(2) دوسری بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں بےعنوانیوں کی سزا میں یہ تمہاری شکست ہو کر ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ستر قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑنے کی صلاح مسلمانوں میں جم گئی تو حضرت جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
[61] جنگ ختم ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان تیر اندازوں سے جنہیں آپ نے عقب کی حفاظت کے لئے بٹھایا تھا مورچہ چھوڑنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذر پیش کئے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا۔ تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیں گے۔ یہاں اشارہ اسی معاملے کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →نوع انسانی کا سب سے بڑا محسن :
(ف 2) اس آیت میں اللہ نے اس احسان عظیم کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں نے کونین کی لذتوں کو حاصل کیا ،
حضور ﷺ کی آمد سے پہلے مطلع عالم پر جہل وجمود کے تاریک بادل چھا رہے تھے ، دنیا اخلاقی برائیوں کی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ، ایران سے لے کر روم تک انسانیت کا کہیں نام ونشان نہ تھا ، ہندوستان جو حکمت و دانائی کے لئے ہمیشہ سے مشہور ہے ‘ اس وقت عقیم ہوچکا تھا ۔ زبردست زیردستوں کا خون چوس رہے تھے اور زیر دست نہایت انکسار کے ساتھ زندگی کے دن گزار رہے تھے ، علم کا آفتاب غروب ہوچکا تھا ، سارے عرب میں چند لوگ تھے جو لکھنا…
Read the full tafseer →ف 5 حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا جبکہ ان ہی میں سے ان میں ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر بھیجا کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کو سنوارتے اور سدھارتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاق رذیلہ اور صفات ضمیمہ سے پاک کرتے ہیں اور کتاب الٰہی کی تعلیم دیتے ہیں اور فہم و دانش کی باتیں سکھاتے ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ آپ کی بعثت اور آپ کی توجہات خصوصی سے قبل کفر و شرک کی صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ (تیسیر)
اس آیت کی تفسیر پہلے اور دوسرے پارے میں گذر چکی ہے۔ احسان کی عظمت تو اس سے ظاہر ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا اظہار فرمایا اور اللہ تعالیٰ جس احسان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ ان ہی کی جنس سے تو اس میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ ان کے نسب سے یعنی قریش ہے بعض نے کہا کہ عرب سے بعض کہا کہ بنی آدم سے اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ مومنین اس جگہ عام ہے اور انفسھم کی ضمیر اسی طرف عائد ہے پس صفت عام کے ساتھ تفسیر کرنا اوفق ہے۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ رحمت عام بھی ہیں اور رحمت خاص بھی :
301: اس آیت کے پہلے جزء میں ارشاد ہے کہ ” اللہ “ کا مومنوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ایک رسول ان میں بھیج دیا۔ “ اس کے متعلق پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق نبی اعظم و آخر ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں اس لئے پورے عالم کے لئے آپ ﷺ کا وجود نعمت کبریٰ ہے اور احسان عظیم ہے اس جگہ اس کو صرف مومنوں کے لئے احسان فرمانا اپنے اندر کیا حکمت رکھتا ہے ؟
سو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح قرآن کریم کا سارے عالم کے لئے ہدایت ہونا تسلیم ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی تصریح موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس کو ” ھدی للمتقین “ بھی فرمایا گیا ہے…
Read the full tafseer →The Prophet of Islam: a great blessing for the Humanity
Verse 164 speaks of the great favour Allah has shown to the Muslims by sending the Holy Prophet ﷺ towards them. The basic functions assigned to him are also mentioned in the same verse. These are the same functions which were attributed to him in the prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as referred to by the Holy Qur'an in Surah al-Baqarah. The details of these functions have already been discussed in the first volume of this book under the said verse (2:129).
What is new in the present verse is the statement: 'And Allah has surely…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
115. The more high ranking Companions were too well aware of reality to fall prey to any misunderstandings. The ordinary believers, however, had thought that as long as God's Messenger was in their midst and as long as they enjoyed God's support and help the unbeliever, could never triumph over them. Hence, when they suffered defeat at the Battle of Uhud, their expectations were shaken and they began to wonder why things had taken the course they had. They wondered why they had been defeated even though they had fought for the sake of God's true religion with God's support, and the Messenger…
Read the full tafseer →