Explained with ayahs 159–164
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
سورة اٰلِ عِمْرٰن 115
اکابر صحابہ تو خیر حقیقت شناس تھے اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو سکتے تھے، مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود ہے اور اللہ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ ہے تو کسی حال میں کفار ہم پر فتح پا ہی نہیں سکتے۔ اس لیے جب احد میں ان کو شکست ہوئی تو ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا اور انہوں نے حیران ہو کر پوچھنا شروع کیا کہ یہ کیا ہوا ؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے، اس کا وعدہ نصرت ہمارے ساتھ تھا، اس کا رسول خود میدان جنگ میں موجود تھا، اور پھر بھی ہم شکست کھا گئے ؟ اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئے تھے ؟ یہ آیات اسی حیرانی کو دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
معارف و مسائل
مال غنیمت میں چوری گناہ عظیم ہے کسی نبی سے ایسے گناہ کا احتمال نہیں
آیت ماکان لنبی ان یغل، ایک خاص واقعہ کے متعلق آئی ہے، اس کے ضمن میں غلول، یعنی مال غنیمت کی چوری کا مسئلہ بھی آ گیا۔
واقعہ حسب روایت ترمذی یہ ہے کہ غزوہ بدر میں مال غنیمت میں ایک چادر گم ہوگئی، بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو، یہ کہنے والے یہ سمجھا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کا اختیار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں غلول کا گناہ عظیم ہونا اور قیامت کے روز اس کی سزائے شدید کا ذکر ہے اور یہ کہ کسی نبی کے متعلق یہ گمان کرنا کہ اس نے یہ گناہ کیا ہوگا نہایت بیہودہ جسارت ہے، کیونکہ انبیاء ہر گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
161 تا 163: لفط ’ غل ‘ کا صحیح مفہوم : ”غل یغل غلولا“ کے معنی خیانت، بد عہدی اور بےوفائی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل لفظ ’ نصح ‘ کا ضد ہے جس کے معنی خیر خواہی اور خیر سگالی کے ہیں۔ اصحابِ لغت میں سے زجاج نے مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ کی تشریح، جیسا کہ صاحب لسان العرب نے تصریح کی ہے، مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ یخون امتہ کے الفاظ سے کی ہے۔ لفظ غل جو قرآن میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے، غِش، عداوت، ضغن (کینہ) حقد اور حسد کے معنی استعمال ہوا ہے (لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا) اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں آئی۔
آنحضرت ﷺ پر منافقین کا الزام اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
164۔ 1 نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
56: اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس میں کفار قریش کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہوئے تھے، جبکہ جنگ احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر ضرور تھی مگر کوئی مسلمان گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اس لحاظ سے بدر میں مسلمانوں نے کفار کو جو نقصان پہنچایا تھا وہ اس نقصان سے دگنا تھا جو کافروں نے احد میں مسلمانوں کو پہنچایا۔
Read the full tafseer →یہ بھی ایک مقام ہے اور وہ بھی ایک مقام ہے اور ان دونوں مقامات کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ……………” یہ درجے ہیں اللہ کے نزدیک۔ “ ہر شخص اپنے مقام تک استحقاق کی بناپر پہنچتا ہے ۔ اس لئے اس معاملے میں نہ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی ہے اور نہ بےجا محبت اور طرفداری ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ……………” اور اللہ اپنے بندوں کے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ “
Read the full tafseer →4 یعنی نبی اور سب خلقت برابر نہیں، طمع وغیرہ کے پست اور ذلیل کام نبیوں سے نہیں ہوسکتے حق تعالیٰ سب کو جانتا ہے کہ کون کس درجہ کا ہے اور سب کے کام دیکھتا ہے کیا وہ ایسی پست طبیعت والوں کو منصب نبوت پر سرفراز فرمائیگا ؟ العیاذ باللہ :
Read the full tafseer →آیت 163 ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ ط
جیسے نیکوکاروں کے درجے ہیں اسی طرح وہاں بدکاروں کے بھی درجے ہیں۔ سب بدکار برابر نہیں اور سب نیکوکار برابر نہیں۔
وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ
اب آگے جو آیت آرہی ہے ‘ یہ مضمون سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آچکا ہے۔ پہلی مرتبہ سورة البقرۃ کے پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا تھا : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط آیت 129 پھر اٹھارہویں رکوع کے آخر میں یہ الفاظ آئے تھے : کَمَآ اَرْسَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
158 یہاں پھر انہیں دو گروہوں کا تقابل پیش کیا جارہا ہے۔ جو غزوہ بدر یا احد میں نبرد آزما تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑ رہا تھا اور دوسرا اللہ کے دین کو کچلنے اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے لئے لڑ رہا تھا اور یہی دوسرا گروہ ہی اللہ کے غضب میں گرفتار ہوا اور بالآخر اپنا وجود ہی کھو بیٹھا اور اخروی زندگی میں جہنم اس کے مقدر ہوچکی ہے۔ لڑائی کے اعتبار سے دونوں کی سرگرمیاں ایک جیسی تھیں۔ مگر ان دونوں کے انجام ایک دوسرے کی عین ضد ہیں۔
Read the full tafseer →335 ۔ (اور اپنے اسی علم کامل کے مطابق جزا وسزا دینے والا ھم یعنی یہ سب لوگ رضاء حق پر چلنے والے ہیں۔ اور راہ حق کی مخالفت کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” ھم درجت “ یہ مختلف طبقہ اللہ کے ہاں محبوبیت اور مغضوبیت کے لحاظ سے ہوں گے۔ تقدیر کلام یوں ہے ھم ذو درجت یالھم درجت، معنی ھم درجت۔ ای ذو درجت اولھم درجت (قرطبی) وتقدیر الکلام لھم درجت عند اللہ (کبیر) (آیت) ” عند اللہ سے مراد ہے اللہ کی عدالت میں۔ ای فی حکم اللہ وعلمہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (الآیۃ) اس آیت میں نبی کے بشر اور انسان ہونے ہی کو اللہ ایک احسان کے طور پر بیان فرما رہے ہیں اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہوگا۔ دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس کے قریب ہوں گے، تیسرے، انسان کے لیے انسان کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے، اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے…
Read the full tafseer →ھم درجٰت مرضی خدا کا اتباع کرنے والے اور اللہ کی ناراضگی لے کر لوٹنے والے مختلف درجات والے ہیں مختلف مراتب ہیں ثواب و عذاب میں اوّل و دوئم کا بڑ اتفاوت ہے اس لیے ان لوگوں کو درجات فرمایا۔
عند اللہ اللہ کے نزدیک بعض مؤمن، بعض مؤمنوں سے اللہ کے زیادہ مقرب ہوں گے اور بعض کفار و نافرمان دوسرے کافروں اور نافرمانوں سے دوزخ کے زیادہ نچلے درجہ میں ہوں گے۔
و اللہ بصیر بما تعملون اور اللہ انکے اعمال سے واقف ہے پس اعمال کے موافق بدلہ دیا جائیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
(163۔ 164) جو ذات اقدس خمس لینے اور خیانت کے چھوڑنے میں رضائے حق میں تابع ہو وہ کیا اس شخص کی طرح ہوجائے گا جس پر خیانت کی بنا پر اللہ کا غصہ نازل ہوا۔ جو خیانت چھوڑے گا اس کے لیے جنت میں بلند درجات ہوں گے اور جو خیانت کا ایسا کام کرے گا اس کی اللہ کے ہاں سخت گرفت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔
2 جنگ احد کے دوران میں جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کرلے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تمہیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمہیں نبی ﷺ کی امانت پر اطمینان نہیں ! یاد رکھو ! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ”تقسیم میں ناانصافی“ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
آیت نمبر 162 تا 163۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افمن اتبع رضوان اللہ “۔ یعنی جو غلول کو ترک کرنے کا اور جہاد پر صبر کرنے (ڈٹے رہنے) کا ارادہ کرتا ہے۔ (آیت) ” کمن بآء بسخط من اللہ “۔ (اس کی طرح ہوسکتا ہے) جو کفر یا غلول یا جنگ میں حضور نبی مکرم ﷺ سے پیٹھ پھیرنے کا ارادہ کرتا ہے (آیت) ” وماوہ جھنم “۔ یعنی اس کا ٹھکانا جہنم ہے، یعنی اگر اس نے توبہ نہ کی یا اللہ تعالیٰ نے اسے معاف نہ کیا۔ (آیت) ” وبئس المصیر “ یعنی لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے، اور (آیت) ” رضوان “ کو را کے کسرہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے جیسا کہ عدوان اور عدوان “ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ھم درجت عنداللہ “۔ یعنی جس نے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
(1) ابن المنذر ابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں لفظ آیت ” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم “ روایت کیا ہے کہ خاص کر عرب کے لیے ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عظیم ذات کی طرف سے بڑا احسان ہے کہ اس امت نے نہ دعا کی اور نہ رغبت کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رحمت بنا دیا جو ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہیں اور ان کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی کو) اس قوم کی طرف بھیجا جو علم نہ رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →[ہُمْ : ان کے (لیے) ] [دَرَجٰتٌ: درجات ہیں ] [ عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے پاس ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اس جیسا نہیں جو ناراضگی کا مستحق ہو
ان دونوں آیتوں میں اللہ کی رضا تلاش کرنے والے اور اللہ کے غصہ کے مستحق ہوجانے والے کے درمیان جو فرق ہے وہ بیان فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اللہ کے طالب اور وہ لوگ جو اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔ اس مضمون کو بیان فرمانے کے لیے استفہام انکاری کا طریقہ اختیار فرمایا تاکہ سننے والے خود بھی غور کرلیں۔ اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے والوں کے ذیل میں جنت کا ذکر نہیں فرمایا۔ کیونکہ وہ تو حاصل ہو ہی جائے گی اور صرف اللہ کی رضا کے طالب ہونے پر اکتفا فرمایا کیونکہ اللہ کی رضا جنت سے بھی بڑی چیز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
قال تعالیٰ وماکان لنبی ان یغل۔۔۔۔۔ الی۔۔ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ آیت۔
اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ ذرہ برابر بھی خیانت کرے منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی لہذا لوگوں کو چاہیے کہ نبی کی عظمت و حرمت اور عصمت وامانت کو مستحضر رکھیں اور کوئی لفظ زبان سے ایسا نہ نکالیں جو منصب نبوت کے خلاف ہو اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔
1۔ ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ میں ابن عباس سے مروی ہے کہ بدر کے دن غنیمت میں سے ایک سرخ چادر گم ہوگئی اس پر کسی شخص نے کہا شاید رسول اللہ نے لے لی ہوگی یہ کہنے والا کوئی منافق تھا جیسا کہ بعض روایات میں خود ابن عباس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
249 یہ ماقبل ہی کا تتمہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی جو شخص اپنے ہر قول وفعل میں رضائے الٰہی کا طالب ومتلاشی ہے جیسا کہ ہر پیغمبر کی شان ہے کیا وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو غضب الٰہی کا مستحق ہو کر جہنمی ہوچکا ہو جیسا کہ خائن اور دوسرے مجرموں کا حال ہے مطلب یہ کہ یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں تو پھر یہ کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر جس کی زندگی کا مقصد ہی رضائے الٰہی کی طلب ہو وہ خیانت ایسے جرم کا ارتکاب کرے جو سراسر غضب الٰہی اور عذاب خداوندی کا موجب ہے۔ ھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللہِ ۔ اللہ کے یہاں ان کے درجات مختلف ہیں جو لوگ اللہ کی رضا پر چلنے والے ہیں ان کے انعام واکرام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تذکرہ فرمایا تھا۔ کہ آپ کا حسن اخلاق کامیابی کی دلیل ہے۔ اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں بھی اللہ کا عام قانون یہی ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ۔ کہ تبلیغ اسلام کا فریضہ اچھے طریقے سے اور خوش اخلاقی سے انجام دو ۔ حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ تم ایک اکھڑ مزاج اور ظالم قوم کے پاس جا رہے ہو۔ فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی۔ لہذا فرعون کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرجائے۔ غرضیکہ اسلام نے ہمیشہ خوش خلقی کی تعلیم دی ہے۔
حضور ﷺ…
Read the full tafseer →ھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 163
درج
الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228]
( د ر ج ) الدرجۃ
: کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امدیاد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق مزدلہ رفیع یعنی
بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ترکیب : لنبی خبر ماکان ان یغل اسم ومن شرطیہ یات جواب۔ افمن من بمعنی الذی مرفوع ہے بسبب مبتداء ہونے کے۔ کمن باء خبر ھم مبتداء درجات ای ذو درجات خبر۔
تفسیر : عصمتِ آنجناب۔ : پہلے تھا کہ ان کو مشورہ میں شریک کرلیا کرو مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان کردیا کہ اگر نبی ایسے امور میں مشورہ نہ کرے اور مصالح اور اسرار سلطنتِ آسمانی تم پر ظاہر نہ کرے کہ جو تمہارے فہم سے بالا ہیں تو تم کو یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ پیغمبر نے خیانت کرلی۔ کس لئے کہ نبی خدا کا امین ہے۔ اس کی شان خیانت نہیں کیونکہ نبی کو حق الیقین ہے کہ جو کوئی دنیا میں خیانت کرے گا قیامت کو اس کی خیانت ظاہر کی جاوے گی اور پھر ہر شخص کو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔
(تحقیق اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے) (164)
آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیوں ؟
یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
فہم القرآن
ربط کلام : اکثریت کی رائے کا احترام کرنا، ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کردینا۔ انسان کو شرف انسانیت سے سرفراز فرمانا ‘ توحید کی دولت سے مالا مال کرنا اور بھٹکتے ہوئے انسان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا رسول معظم ﷺ ہی کی ذات اور قیادت کا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بطور احسان ذکر فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ دنیا میں ہدایت کا مؤثر ‘ مدلل ‘ قابل اعتماد اور براہ راست ذریعہ انبیاء کی…
Read the full tafseer →ثواب و عذاب میں تفاوت ہے :
163: ھُمْ دَرجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (ان کے درجات ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں) ان میں تفاوت و فرق ہے جیسا درجات میں ہوتا ہے۔ یا وہ درجات والے ہیں مطلب یہ ہے کہ ثواب پانے والوں اور سزا پانے والوں کے درجات میں فرق ہے یا ثواب و عذاب میں تفاوت و فرق ہے۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں ان کو دیکھنے والے ہیں) ان کے اعمال و درجات سے واقف ہے پس انہی اعمال کے حساب سے بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →163۔ (آیت)” ھم درجات عنداللہ “۔ اللہ کے ہاں ان کے درجات مختلف ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور جو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹا تو ان دونوں کے درجات اللہ کے ہاں مختلف ہیں جس نے اللہ کی رضا مندی کی اسے ثواب عظیم سے نوازا گیا اور جس نے اللہ کی ناراضگی کی اتباع کی اسے دردناک عذاب ملا۔ (آیت)” واللہ بصیر بما یعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
(161 ۔ 164) ۔ ابو داؤد اور ترمذی و طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 2 اس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کچھ چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعض مسلمانوں نے یہ بد گمانی کی کہ شاید آنحضرت کے کام میں وہ چیز آگئی ہوگی۔ دوسرے بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا اور جنگ کی بےعنوانیوں کو اس لڑائی کے ذکر میں تذکرہ فرمانے سے یہ مراد ہے کہ اس لڑائی میں…
Read the full tafseer →آیت 163
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں، اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں ق سم کے اشخصا مساوی نہیں ہوسکتے (افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا لایستون) (السجدہ :18/32) ” بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو فاسق ہے ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھم درجت عند اللہ) ” لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں “ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–167
قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں…
Read the full tafseer →346 لوگوں کے مختلف درجات کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے مختلف درجات ہیں : یعنی ان دونوں گروہوں کے آپس میں اور پھر ہر گروہ کے آپس میں۔ سو یہ سب لوگ اپنے اپنے عمل و کردار کے مطابق بڑے مختلف درجات میں ہوں گے۔ کوئی اعلیٰ علیین میں ہوگا اور کوئی قعر سجین میں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کِل سُوْئٍ وَّشّر ۔ بہرکیف اس دنیا میں لوگ جیسے اور جس طرح بھی ہوں اور دنیا والے جو بھی کہیں اور سمجھیں، اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے ہی مختلف درجات ہیں اور ہوں گے۔ ان کے ایمان و اخلاص، صدق و صفا، عمل و کردار اور راہ حق میں تفانی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
رسول اللہ ﷺ کی شان اور خوبیاں
تشریح : یہ آیات بھی غزوہ ٔ احد کے بارے میں ہیں جب آنحضرت ﷺ نے تیر اندازوں سے پوچھا کہ تم نے غلطی کیوں کی ؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے سوچا ہمارے لیے مال غنیمت بچے گا ہی نہیں۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ نبی تمہارے ساتھ مال غنیمت میں خیانت کریں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں دیانت، امانت اور انصاف کے سوا کوئی فیصلہ کرے۔ پیغمبر بھلا ان لوگوں کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا ؟ وہ تو ہر معاملہ میں پوری طرح اللہ کی رضا کا تابع ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کی فرمانبرداری ہی کا حکم دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
ف 3 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں دیا نتدار اور خائن برابر نہیں ہوسکتے تو پیغمبر جس کا درجہ بہت بلند ہے وہ یہ کام کیسے کرسکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ نبی اور دسری مخلوق ایک جیسی نہیں طمع کے کام تو ادنی نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہوسکتے۔ (مو ضح )
Read the full tafseer →(3:163) ہم۔ ضمیر جمع مذکر غائب اس کا اشارہ ان دو گروہوں کے افراد کی طرف ہے جن کا بیان آیۃ ما قبل میں ہوا ہے یعنی گروہ اول من اتبع رضوان اللہ اور گروہ ثانی من باء بسخط من اللہ۔ یعنی ان ہر دو گروہ کے افراد کے الگ الگ درجے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
لغات القرآن آیت نمبر 161 تا 164
ان یغل (یہ کہ وہ خیانت کرے (غلول۔ مال غنیمت میں خیانت کرنا) من یغلل (جو خیانت کرے گا) سخط (غصہ کیا) من اللہ (اللہ نے احسان کیا) ضلٰلٍ مبین (کھلی گمراہی) ۔
تشریح : آیت نمبر 161 تا 164
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن مال غنیمت میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی۔ بعض منافقین نے جو ہر وقت مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی بدخواہی میں آگے آگے رہتے تھے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت سیدھے سادھے مسلمانوں کے دلوں میں لغو اور فضول وسوسے پیدا کرنا شروع کردیئے تھے کہ مال غنیمت کی سرخ چادر رسول اللہ نے چھپا کر رکھ لی ہے۔ ان آیتوں میں فرمایا جارہا ہے کہ نبی کی شان تو ان باتوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں۔ (1) ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کوئی چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعضے مسلمانوں نے یہ بدگمانی گی کہ شاید وہ چیز آنحضرت ﷺ کے کام میں آگئی ہوگی۔
(2) دوسری بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں بےعنوانیوں کی سزا میں یہ تمہاری شکست ہو کر ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ستر قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑنے کی صلاح مسلمانوں میں جم گئی تو حضرت جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
[61] جنگ ختم ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان تیر اندازوں سے جنہیں آپ نے عقب کی حفاظت کے لئے بٹھایا تھا مورچہ چھوڑنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذر پیش کئے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا۔ تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیں گے۔ یہاں اشارہ اسی معاملے کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مجاہدین جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں وہ ان سے یقینا بہتر ہیں جو گھروں میں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔
مجاہدین کی نسبت ارشاد ہے کہ (آیت) ” ھم درجت “ یعنی وہ اپنی جانفروشیوں کی قیمت آپ ہیں ، وہ مجسمہ اجر وثواب ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 4 بھلا ایک ایسا شخص جو رضائے الٰہی کا ہر وقت جویاں اور رضائے حق کا بالکل تابع ہوگیا وہ اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو غضب الٰہی کا مستحق ہوا اور خدا کا غصہ اور غضب لے کر واپس آیا اور اس بدبخت کا ٹھکانا جہنم ہو اور وہ جہنم بازگشت کی بری جگہ ہے ۔ یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے اس قسم کے لوگوں کے اللہ کے ہاں الگ الگ مختلف درجات ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ان اعمال کو جو یہ کرتے رہتے ہیں خوب دیکھتے ہیں اس لئے ہر شخص کے ساتھ اس کے عمل کے موافق سلوک کیا جائے گا۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نبی اور سب خلق برابر نہیں طمع کے کام ادنیٰ نبیوں سے نہیں ہوتے۔ (موضح القرآن)
ہم ابھی عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ ان ہی کی جنس سے تو اس میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ ان کے نسب سے یعنی قریش ہے بعض نے کہا کہ عرب سے بعض کہا کہ بنی آدم سے اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ مومنین اس جگہ عام ہے اور انفسھم کی ضمیر اسی طرف عائد ہے پس صفت عام کے ساتھ تفسیر کرنا اوفق ہے۔
Read the full tafseer →سچوں کی سچائی ظاہر ہوگی تو جھوٹوں کا جھوٹ بھی کھل جائے گا :
300 : رضائے الٰہی کی اتباع کرنے والا اور اللہ کی ناراضگی لے کر لوٹنے والے مختلف درجات رکھتے ہیں اور ان کے مراتب بھی مختلف ہیں۔ ثواب و عذاب میں اول و دوم کا بڑا تفاوت ہے گویا اس طرح اس حقیقت کی طرف اشارہ کردیا کہ دنیا میں سچے انسان کی زندگی جھوٹے انسان سے اپنی ہر بات میں اس درجہ مختلف ہوتی ہے کہ ممکن ہی نہیں کسی طرح کا دھوکا ہو سکے۔ ایک بدکار آدمی بناوٹ سے اپنے آپ کو کتنا ہی نیک ظاہر کرے لیکن بناوٹ ہے کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور کر بیٹھے گا کہ اصلیت آشکار ہوجائے گی۔ اس لئے قرآن کریم نے دونوں کا تقابل بہت سے مقامات پر کر کے حقیقت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
Commentary:
The verse مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ translated as, 'And it is not (conceivable) for a prophet to misappropriate the spoils - 161', has a particular back-ground of its revelation. As a corollary, the problem of 'Ghulul', that is, misappropriation in the spoils, comes into focus.
Misappropriation in the spoils: A sin which cannot be ascribed to any prophet by any stretch of imagination:
The background, as narrated by al-Tirmidhi, is that a sheet was found missing from the spoils collected in the battle of Badr. Some people said that the sheet may have been, perhaps, taken by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
115. The more high ranking Companions were too well aware of reality to fall prey to any misunderstandings. The ordinary believers, however, had thought that as long as God's Messenger was in their midst and as long as they enjoyed God's support and help the unbeliever, could never triumph over them. Hence, when they suffered defeat at the Battle of Uhud, their expectations were shaken and they began to wonder why things had taken the course they had. They wondered why they had been defeated even though they had fought for the sake of God's true religion with God's support, and the Messenger…
Read the full tafseer →