Explained with ayahs 165–168
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
سورة اٰلِ عِمْرٰن 120
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 155۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
اس کے بعد کی آیت فباذن اللہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ جو کچھ ہوا حق تعالیٰ کے اذن و مشیت سے ہوا، جس میں بہت سی حکمتیں مستور ہیں، جن میں سے بعض کا بیان پہلے بھی، یعنی مؤمنین کا اخلاص اور منافقین کی منافقت ایسی واضح ہوجائے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے یہاں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں جو دیکھنے کی صورت متعارف ہے اس صورت میں دیکھ لیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں چناچہ یہ حکمت اس طرح واضح ہوگئی کہ اس شدت کے وقت منافقین الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور مخلص مومن معرکہ میں ڈٹے رہے۔
Read the full tafseer →یہ ان کے دل کا راز کھول دیا کہ یہ خود تو سخن سازی کر کے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن ان کے جو بھائی بند جہاد میں شریک اور شہید ہوئے، ان کی بابت انہوں نے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ ہوتے، مقصد یہ ہے کہ اصل چیز جو ان کے لیے مانع ہوئی وہ ہے تو موت کا خوف لیکن انہوں نے بات یہ بنائی کہ وہ اس لیے نہیں اٹھ رہے ہیں کہ جنگ ونگ کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔
آخر میں فرمایا کہ اگر یہ موت و زندگی کے مواقع سے ایسے ہی باخبر ہیں تو وہ اپنے آپ کو موت سے بچائیں۔
Read the full tafseer →168۔ 1 یہ منافقین کا قول ہے ' اگر ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت ٹال کر دکھاؤ ' مطلب یہ کہ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔ موت بھی جہاں اور جیسے اور جس جگہ آنا ہے ہر صورت میں آکر رہے گی۔ اس لئے جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے گریز و فرار یہ کسی کو موت کے شکنجے سے نہیں بچا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–173
59: جب کفار مکہ احد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت ﷺ نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا احد کے نقصان کی تلافی کے لیے جنگ احد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ احد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ احد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت ﷺ کی اس دعوت پر لبیک…
Read the full tafseer →اہل اسلام کے دلوں کے اندر سکون پیدا کرنے ‘ ان کے دلوں اور ان کے ضمیر کو ‘ ان سنن الٰہیہ پر مطمئن کرنے کے بعد جو اس کائنات میں جاری اور ساری ہیں ‘ انہیں یہ بتانے کے بعد کہ تمام کام اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ‘ اور یہ سمجھانے کے بعد کہ اللہ کی تقدیر کے پیچھے اللہ کی حکمت اور تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنے کے بعد کہ موت کے لئے وقت مقرر ہے ‘ اس کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور جنگ میں شریک نہ ہونا اسے موخر نہیں کرسکتا اور جنگ میں شرکت سے موت پہلے نہیں آسکتی اور یہ سمجھانے کے بعد کوئی محافظ موت سے حفاظت نہیں دے سکتا اور کوئی تدبیر موت کو روک نہیں سکتی ‘ غرض ان تمام امور کے بعد…
Read the full tafseer →6 یعنی خود نامرد بن کر بیٹھ رہے اور اپنی برادری کے بھائیوں (انصار مدینہ) کو کہتے ہیں کہ ہماری بات مان کر گھر میں بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے۔
7 یعنی اگر گھر میں بیٹھ رہنے سے جان بچ سکتی ہے تو دیکھیں موت کو گھر میں کس طرح نہ آنے دینگے۔ اگر یہاں رہ کر بھی موت پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر بہادروں کی طرح میدان میں عزت کی موت کیوں نہ مریں۔
Read the full tafseer →آیت 168 اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
کیا تم اپنے آپ سے موت کو ٹال لو گے ؟ خود موت سے بچے رہو گے ؟ کیا موت تمہیں اپنے گھروں میں نہیں آئے گی ؟
Read the full tafseer →168 یعنی ایک تو خود جہاد میں حصہ نہ لیا۔ دوسرے ان کے جو بھائی جہاد میں حصہ لے رہے تھے انہیں ملامت شروع کردی کہ تم ہماری بات مان لیتے تو آج ہمارے بھائی بند مارے نہ جاتے۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تمہیں موت سے بچنے اور بچانے کا طریقہ آتا ہے اور اس پر اتنا یقین ہے تو خود تمہیں موت آئے گی اس وقت ایسا کوئی طریقہ استعمال کرکے دیکھ لینا۔ ایسی باتیں دراصل اللہ کی تقدیر پر اعتراض کے ضمن میں آتی ہیں۔ لیکن منافقوں میں ایمان تھا کہاں کہ ان کی ایسی باتوں پر تعجب کیا جائے۔
Read the full tafseer →347 ۔ (اور ہماری ہی طرح جنگ سے علیحدہ رہے) (آیت) ” لاخوانھم “۔ اخوان۔ سے مراد اخوان دینی واعتقادی نہیں۔ بلکہ اخوان نسبی ووطنی ہیں۔ ذکر منافقین کی زبان سے مسلمان شہداء کا ہورہا ہے۔ فی النسب لافی الدین ھم شھداء احد (معالم) وھم اخوۃ نسب مجاورۃ لا اخوۃ الدین (قرطبی) ل۔ واسطہ کا ہے، معناہ لاجل اخوانھم (قرطبی) اخوان اور ل دونوں پر حاشیہ اوپر قریب ہی گزر چکا ہے۔
348 ۔ یعنی اگر تمہارا نظر یہ یہ ہے کہ موت معرکہ جنگ ہی میں جانے سے ہوئی ہے تو تم بہرحال جنگ سے احتراز کیے ہوئے ہو، دیکھنا ہے کہ موت سے کب تک بچے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ (الآیۃ) اس آیت میں شہداء کے خاص فضائل کا بیان ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی تفصیل وارد ہوئی ہے، یہاں شہداء کی پہلئ فضیلت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مردے نہیں بلکہ دائمی زندگی کے مالک ہوگئے ہیں، یہاں پر بظاہر ان کا مرنا اور قبر میں دفن ہونا تو مشاہد ہے پھر قرآن کی متعدد آیات میں ان کو مردہ کہنے اور مردہ سمجھنے سے جو منع کیا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ اگر کہا جائے کہ حیات برزخٰ مراد ہے، تو وہ ہر شخص مومن و کافر کو حاصل ہے مرنے کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے اور قبر میں سوال و جواب کے بعد مومنین صالحین کے لیے سامان راحت اور کفار و فجار…
Read the full tafseer →الذین قالوا لاخوانھم وقعدوا لو اطاعونا ماقتلوا یہ وہی لوگ ہیں کہ خود تو جنگ سے بیٹھ رہے اور اس حالت میں اپنے ان نسبی بھائیوں کے متعلق جو جنگ میں مارے گئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے یعنی ہماری طرح جنگ سے بیٹھ رہتے تو جس طرح ہم نہیں مارے گئے وہ بھی نہ مارے جاتے۔
قل فادروا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ اب تو اپنی جانوں سے موت کو دفع کرو اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ تدبیر تقدیر کو ٹال دیتی ہے۔
Read the full tafseer →(168) اور یہ منافقین مدینہ منورہ میں بیٹھے ہوئے بطور بزدلی اور سازش کے یہ باتیں بنا رہے تھے کہ اگر محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی بھی مدینہ ہی میں بیٹھے رہتے تو جہاد میں مارے نہ جاتے، محمد ﷺ آپ ان منافقین سے فرما دیجیے اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو جہاد سے بھاگنے کے باوجود اپنے سے موت کو دور کرو۔
Read the full tafseer →جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین نے اس قسم کا اظہار کیا، تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جاسکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمہیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذرا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھاؤ۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 168۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین قالوا لاخوانھم “۔ اس کا معنی ہے لاجل اخوانھم یعنی اپنے بھائیوں کے واسطے اور یہ وہ شہداء تھے جو قبیلہ خزرج میں سے قتل کئے گئے تھے اور وہ نسب اور مجاورت کے اعتبار سے بھائی تھے نہ کہ دین کے اعتبار سے، یعنی انہوں نے شہداء کے بارے میں کہا : اگر وہ بیٹھے رہتے مدینہ طیبہ میں تو نہ مارے جاتے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا : یعنی یہ منافقین کی جانب سے ان کے بارے یہ اشکال اور اشتباہ ہے وہ لوگ جو شہید کردیئے گئے ہیں کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو وہ نہ قتل کیے جاتے۔
اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لو اطاعونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
(1) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی (آیت یہ ہے) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون “۔
(2) سعید بن منصور وعبد بن حمید ابن ابی حاتم نے ابو الضحی (رح) سے اس آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ کے بارے میں سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت احد کے مقتولین کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ستر آدمی شہید ہوئے چار مہاجرین میں حمزہ بن عبد المطلب ؓ بنو ہاشم میں سے مصعب بن عمیر ؓ بنو عبد الدار میں سے عثمان بن شماس بنو مخزوم میں سے اور عبد اللہ بن حبش بنو اسد میں سے اور باقی سارے…
Read the full tafseer →[اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [قَالُوْا : کہا ] [لِاِخْوَانِہِمْ : اپنے بھائیوں کے لیے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [قَـعَدُوْا : وہ (خود) بیٹھ رہے ] [لَــوْ : اگر ] [اَطَاعُوْنَا : وہ لوگ اطاعت کرتے ہماری ] [مَا قُتِلُوْا : تو وہ قتل نہ کیے جاتے ] [قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [فَادْرَئُ وْا : تو تم لوگ ہٹا لو ] [عَنْ اَنْفُسِکُمُ : اپنی جانوں سے ] [الْمَوْتَ : موت کو ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [صٰدِقِیْنَ : سچ کہنے والے ]
ل ح ق
لَحِقَ (س) لَحْقًا : کسی سے جڑ جانا ‘ مل جانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَلْحَقَ (افعال) اِلْحَاقًا : کسی کو کسی سے ملا دینا۔ { اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ }…
Read the full tafseer →جنگ میں شرکت نہ کرنے سے موت سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا :
منافقین کا مزید حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا) کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو لڑائی سے جان بچا کر بیٹھ رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا (جو ان کے نسب میں رشتہ دار تھے) کہ ہم نے تو پہلے ہی رائے دے دی تھی کہ جنگ نہ کی جائے ہماری بات مان لیتے تو مقتول نہ ہوتے ان کے جواب میں بطور سرزنش اور توبیخ کے ارشاد فرمایا (قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) کہ آپ فرما دیجیے موت سے کہاں بچاؤ ہے لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھ رہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ازالہ حسرت ہزیمت از دوستاں جواب شبہ دشمناں
قال تعالیٰ اولما اصابتکم مصیبۃ۔۔۔۔ الی صادقین۔
پہلے سے احد کا قصہ چلا آرہا ہے درمیان میں صحابہ کرام سے جو کوتاہی ہوئی اس پر تنبیہ فرمائی اب پھر قصہ احد کی طرف عود فرماتے ہیں جس سے مقصود مسلمانوں کی ایک حسرت کو زائل کرنا ہے اور منافقوں کے ایک شبہ کا جواب دینا ہے بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ دین اسلام دین حق ہے اور خدا کا رسول ہمارے ساتھ ہے اور ہم دین حق کی حمایت میں جہاد کررہے ہیں اور کفار کفر اور شرک کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تو انہوں نے ہم پر کیسے فتح پائی۔
اور منافقوں نے یہ کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو احد میں شکست کیوں ہوئی چناچہ فرماتے ہیں کیا جس وقت…
Read the full tafseer →258 یہ اَلَّذِینَ نَافَقُوْا سے بدل ہے اور منصوب ہے کیونکہ مبدل منہ محل نصب میں ہے، منصوب علی الذم او علی انہ نعت اللذین نافقوا او بدل منہ (روح ج 4 ص 120) اور لِاِخْوَانِھِم میں اخوت سے نسبی یا قرب و جوار اور وطنیت کی اخوت مراد ہے اور اخوان سے وہ مومنین مراد ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ معناہ لاجل اخوانھم وھم الشہداء المقتولون من الخزرج وھم اخوۃ نسب ومج اور ۃ لا اخوۃ الدین ای قالوا لھؤلاء الشھداء لو قعدوا ای بالمدینۃ ما قتلوا (قرطبی ج 4 ص 267) یعنی منافقوں نے ان شہداء کے بارے میں جو احد میں شہید ہوئے اور جو نسب کے اعتبار سے ان کے قبیلہ اور بھائی بند تھے یہ کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ربط آیات : اس درس کی آیت بھی واقعہ احد کے سلسلہ ہی کی کڑیاں ہیں۔ پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں یا کافروں کی بات ماننے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوگئی تھی ان کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں اور آئندہ اس کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کے مسئلہ کو بیان فرمایا۔ پھر خداوند کریم نے اپنے اس عظیم احسان کا تذکرہ فرمایا جو اس نے بنی نوع انسان پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص کیا۔ اور وہ احسان یہ ہے کہ انہی کی نسل اور خاندان…
Read the full tafseer →چھپائے
اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا 0 ۭ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 168
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
ترکیب : الذین الخ صفت ہے الذین نافقوا کی لو اطاعونا شرط ماقتلوا جواب جملہ مقولہ قالوا کا۔ الذین قتلوا مفعول اول لاتحسبن کا امواتا مفعول ثانی۔ یرزقون صفت احیاء ‘ و یستبشرون معطوف ہے فرحین پر کیونکہ اسلم فاعل اس جگہ مشابہ فعل مضارع ہے۔ من خلفہم متعلق ہے یلحقوا سے۔ الا خوف ای بان لا خوف علیہم ان مصدریہ ہے اور موضع جملہ کا بدل ہے الذین سے بدل الاشتمال۔
تفسیر : یہ بھی منافقوں کا ایک شبہ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روکنے کے لئے تھا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی نسبت جو کہ جنگ میں شہید ہوگئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو مارے نہ جاتے۔ چونکہ حیات ایک مرغوب چیز اور مرنے سے ڈرنا ایک طبعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا صلے ج وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْفَعُوْا ط قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالاً لَّااتَّـبَعْنٰـکُمْ ط ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ج یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْاَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
(اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
بدر میں مسلمانوں کے ساتھ منافق شامل نہیں تھے اس لیے مسلمان پوری یکسوئی کے ساتھ جان توڑ کر لڑے۔ احد کا معاملہ نہایت ہی مختلف تھا کہ پہلے دن کی مشاورت سے لے کر دونوں جماعتوں کے مد مقابل آنے تک منافقوں کی بھاری تعداد مسلمانوں کے ساتھ شامل رہی۔ منافق ایک سوچی سمجھی گہری سازش کے تحت اس وقت مسلمانوں کو چھوڑ کر الگ ہوئے جب اہل مکہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ منافقین نے جان بوجھ کر مسلمانوں میں ہر قسم کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمان بددل ہو کر کفار کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں۔ ایک طرف مسلمان ذلیل ہوں اور دوسری طرف منافقت…
Read the full tafseer →ابن ابی کا مقولہ :
168 : اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِن کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (وہ جنہوں نے کہا) مراد عبداللہ بن ابی اور اس کا گروہ ہے۔ لِاِخْوَانِہِمْ (اپنے نسبی بھائیوں کے متعلق) مراد احد کے دن قبائل انصار میں قتل ہوجانے والے وَقَعَدُوْا (اور وہ بیٹھ رہے) یعنی یہ کہا اور خود قتال سے بیٹھ رہے۔ لَوْ اَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا (اگر وہ ہماری بات مانتے تو یہ قتل نہ ہوتے) یعنی اگر ہمارے بھائی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر لوٹنے میں ہماری بات مان لیتے اور گھر میں بیٹھے رہتے تو وہ اسی طرح قتل سے بچ جاتے…
Read the full tafseer →168۔ (آیت)” الذین قالوا لاخوانھم “۔ انہوں نے اپنے نسبی بھائیوں سے کہا نہ کہ دینی بھائیوں سے جو احد میں شہید کیے گئے تھے ’ وقعدوا “ یعنی ہماری طرح جنگ سے بیٹھے رہتے ، (آیت)” لو اطاعونا “ اور وہ آپ ﷺ کو چھوڑ کر چلے جاتے اور گھروں میں بیٹھے رہتے ، ” ماقتلوا قل “ اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے ” فادرئؤا “ کہ اب تم اپنی جانوں سے موت کو دفع کرو (آیت)” عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین “۔ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو کر کے دکھا دو حالانکہ تقدیر کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
(165 ۔ 168) ۔ احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اس لڑائی میں تمہارے ستر آدمی جو شہید ہوئے تو ان کا زیادہ رنج کیا تم بھی تو بدر میں لڑائی میں مخالفوں کو اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو کہ ستر آدمی ان کے مارے اور ستر کو پکڑ لائے اور یہ جو تم کہتے کہ اتنی بڑی مصیبت ہم لوگوں پر کیوں آئی تو یہ مصیبت تم میں ہی کے بعض لوگوں کے سبب سے آئی کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اور برخلاف حکم اللہ تعالیٰ کے رسول کے تیر اندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں مصلحت تھی کہ کامل ایمان دار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
آیت 165-168
جب اہل ایمان کو غزوہ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پ ڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لئے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قد اصبتم مثلیھا) ” پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند “ یعنی تمہارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دو چند مصیبت پڑچکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمہارے لئے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہئی اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔
(قلتم انی ھذا) ” تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی ؟ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
شہداء زندہ میں اور اپنے رب سے رزق پا رہے ہیں
قول باری ہے (ولاتحسبن الذین قتلوافی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربھم یرزقون۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں)
بعض لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد جنت میں ان کا زندہ ہونا ہے اس لیے کہ موت کے بعد ان کی روحوں کی واپسی اگر جائز ہوتی تو پھر، تناسخ اور، اواگون، کے نظریے کو درست ماننا ضروری ہوجاتا۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ شہداء پر موت طاری ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں زندہ کردیتا اور ان کے استحقاق اپنی نعمتوں سے انھیں نواز تا ہے حتی کہ پورے عالم کے…
Read the full tafseer →362 منافقوں کی منافقت کے ایک اور مظہر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ خود تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن اپنے ان (ہم نسب) بھائیوں کے لیے [ جو کہ اللہ کی راہ میں کام آئے ] ان کی لیے یہ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے اور جنگ میں شریک نہ ہوتے بلکہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے یا اس طرح میدان کارزار میں شریک ہونے کی بجائے راستے سے ہی واپس ہوجاتے، جیسا کہ ہم نے کیا، تو آج یہ لوگ اس انجام سے دوچار نہ ہوتے، جس سے یہ اب ہوئے ہیں۔ سو اس طرح یہ لوگ تو اپنے تئیں اپنے آپ کو چالاک اور ہوشیار سمجھ رہے تھے اور ان مجاہدوں کو جو جہاد میں کام آئے یہ لوگ بیوقوف اور خسارے والا قرار دے…
Read the full tafseer →منافقانہ باتیں
تشریح : یہ آیت بھی عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں وضاحت کرتی ہے۔
شہید زندہ ہوتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 8 جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین اس قسم کا اظہار کیا تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جاسکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمہیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذارا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھا و۔
Read the full tafseer →(3:168) الذین۔ سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں جو کہتے تھے کہ یہ کوئی جنگ ہے یہ تو خودکشی ہے۔
للاخوانھم۔ میں یا تو اخوان سے مراد یا تو منافقین ہیں جو جنگ احد میں قتل ہوئے یا وہ مسلمان جو جنگ احد میں شہید ہوئے تو اس صورت میں وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔
وقعدوا۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حال یہ کہ وہ خود پیچھے بیٹھے رہے اور لڑائی میں شریک نہ ہوئے۔ قعدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب قعود مصدر۔ جو قاعد (ایک بیٹھنے والا) کی جمع بھی ہے ۔
فادرء وا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ درء مصدر باب فتح۔ تم ہٹالو۔ تم دفع کرو۔ تم دور کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–177
لغات القرآن آیت نمبر 165 تا 177
اصبتم (تم نے پہنچادیا) مثلیھا (اس سے دوگنا) ادفعوا (دور کرو) اقرب (زیادہ قریب) قعدوا (بیٹھے رہے) لواطاعونا (اگر ہماری بات مانتے) ادرء وا (تم دور کرو) یرزقون (رزق دیئے جاتے ہیں) فرحین (خوش ہوتے ہیں) یستبشرون (بشارت وخوش خبری دیتے ہیں) لم یلحقوا (نہیں ملے) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) یسارعون ( دوڑتے ہیں) حظ (حصہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 165 تا 177
غزوۂ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتماعی غلطی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تکلیف اٹھا نا پڑی اس پر اہل ایمان نے تو صبر اور برداشت سے کام لیا لیکن مناقفین کو بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا اور برخلاف حکم اللہ کے رسول کے تیراندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں یہ مصلحت تھی کہ کامل ایماندار اور منافقوں کا اچھی طرح پردہ کھل جاوے۔ وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے گھروں میں آن بیٹھے اور کچھ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کے وقت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–174
[65] یعنی جنگ احد میں۔
Read the full tafseer →(ف 1) قعود استعارہ ہے تخلف عن الجہاد سے ، یعنی وہ منافقین جو جہاد میں شریک نہیں ہوتے اور طرح طرح کے فلسفے چھانٹتے ہیں ، جن کی حیثیت فریب نفس سے زیادہ نہیں ، وہ کہتے ہیں اگر مجاہدین جہاد میں شرکت نہ اختیار کرتے تو ضرور بچ جاتے آج بھی منافقین اور پست ہمت لوگوں کا یہی وطیرہ ہے ۔ جہاد اور قربانی کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں اور جب مجاہدین پابجولاں کشاں کشاں جیلوں میں جاتے ہیں تو یہ ناصح مشفق بن کر نہایت ہمدردانہ انداز میں کہتے ہیں کہ اس شورش کا کیا صلہ ملا ؟ یہی ناکہ یہ لوگ قید وبند کی سختیاں جھیلیں گے ۔
قرآن حمید نے ان کے ان اعذار باردہ کو اس لئے دوبارہ سہ بارہ ذکر کیا ہے ‘ تاکہ مسلمان ہر زمانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
ف 4 یہ منافق ایسے لوگ ہیں جو خود تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو میدان میں شہید ہوئے انہوں نے یوں کہا کہ اگر وہ لوگ ہمارا کہا مان لیتے اور ہمارے منع کرنے سے میدان میں نہ جاتے تو وہ بےکار اور بےفائدہ نہ مارے جاتے۔
اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے اچھا اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ میدان میں جانے سے ہی آدمی مرتا ہے اور گھر میں بیٹھنے سے نہیں مرتا تو تم اپنے اوپر سے موت کو رفع کردینا اور موت کو ٹلا دینا (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر موت کا کوئی وقت مقرر نہیں اور موت کسی نظم کے ماتحت نہیں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کے حکم کو کسی کے مرنے جینے میں … دخل نہیں ہے بلکہ محض اتنی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جابجا تسکین کی گئی تو اس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہییہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصدا مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بےانتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصدا گناہ کرے پھر اس پر کرے جرات، وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے۔
Read the full tafseer →اب تم ان سخن سازو کے دل کا حال سن لو کہ وہ کیا ہے :
309: اللہ تعالیٰ نے اب ان کے دلوں کا حال کھول دیا ان کا عمل اس کی تصدیق کرتا ہوا لوگوں نے اپنی آنگھوں سے دیکھ لیا اور بعد میں آنے والوں نے اپنے کانوں سے سن لیا۔ فرمایا کہ یہ خود تو سخن سازی کر کے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن ان کے جو بھائی بند جہاد میں شریک ہو کر شہید ہوگئے ان کی بابت انہوں نے کہا کہ اگر ہو ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ ہوتے۔ مثل ہے کہ ” دروغ گورا حافظ بنا شد “ اور اس کو یوں بھی کہتے ہیں کہ ” جھوٹ کے پاؤں کہاں “ مظلب یہ ہے کہ اصل چیز جو ان کے لئے مانع ہوئی وہ تو ہے ” موت کا خوف “ لیکن انہوں نے بات یہ بنائی کہ ” وہ اس لئے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
Immediately later, in verse 166, the words fa bi idhnillahi: فَبِإِذْنِ اللَّـه indicate that whatever happened there was with the leave and will of Allah Almighty operating behind which are many wise divine arrangements, some of them having been explained earlier. One such wise arrangement is that Allah will 'see' His true believers, and the hypocrites too, that is, the sincerity of Muslims and the hypocrisy of the hypocrites will become so clear that everybody could see it for himself. Here, the reference to Allah's knowing or seeing means seeing in the perspective of our own…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
120. For an explanation see Surah 2. n. 155 above.
Read the full tafseer →