Aal-i-Imraan 3:160

Aal-i-Imraan · from ayah 160

3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ— وَاِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ بَعْدِهٖ ؕ— وَعَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۟اِنۡ يَّنۡصُرۡكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَـكُمۡ‌ۚ وَاِنۡ يَّخۡذُلۡكُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَنۡصُرُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

If Allah should aid you, no one can overcome you; but if He should forsake you, who is there that can aid you after Him? And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 17 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:160

اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں بے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے، اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بےیارو مددگار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے ؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا اور اگر وہ چھوڑ دے گا تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے اور اللہ ہی کے اوپر چاہئے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر اللہ تمہاری مدد پر ہو تو پھر کوئی بھی (خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو) تم پر غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے۔ والعیاذ بہ سبحانہ و تعالیٰ۔ تو پھر کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے اس کے بعد ؟ اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے، ایمان والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اگر اللہ تمہارے ساتھ دے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہارا ساتھ دے ؟ ۔ اور ایمان والوں کو تو چاہیے کہ صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو ! دیکھو) اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (تمہاری مدد سے دست کش ہوجائے) تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد ؟ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

— محترمہ رفعت اعجاز

If Allah helps you none shall prevail over you; if He forsakes you then who can help you? It is in Allah that the believers should put their trust.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If Allah helps you, there is none to overcome you. And if He abandons you, then, who is there to help you after that? In Allah the believers should place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani

If Allah helps you, there is none to overcome you. And if He abandons you, then, who is there to help you after that? In Allah the believers should place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If Allah helps you, none can overcome you; and if He forsakes you, who is there after Him that can help you And in Allah (Alone) let believers put their trust.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If Allah is your helper none can overcome you, and if He withdraw His help from you, who is there who can help you after Him? In Allah let believers put their trust.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If Allah should aid you, no one can overcome you; but if He should forsake you, who is there that can aid you after Him? And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

If God is your helper, no one can defeat you. However, if He abandons you, who would help you? The true believers trust in God.

— Muhammad Sarwar

If Allah assists you, then there is none that can overcome you, and if He forsakes you, who is there then that can assist you after Him? And on Allah should the believers rely.

— Muhammad Habib Shakir

If Allah succoureth you, there is none that can overcome you; if He abandon you, who is there that can succour you after Him? And in Allah let the believers trust.

— Abdul Majid Daryabadi

If Allah helps you, none can overcome you: If He forsakes you, who is there, after that, that can help you? in Allah, then, Let believers put their trust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:160

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 159–164

اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 157–161

سورة اٰلِ عِمْرٰن 114 جن تیرا ندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر حضور نے فرمایا بل ظننتم انا نغل ولا نقسم لکم۔”اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات واقعہ احد میں عارضی شکست اور مسلمانوں کی پریشانی پر حضرات صحابہ کرام کی تسلی کے لئے حضور ﷺ کی تسلی کے لئے حضور ﷺ کو چند امور کا حکم ہوا تھا جس سے رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا خطرہ تو زائل ہوگیا، لیکن ان حضرات کو اس واقعہ مغلوبیت سے حسرت بھی تھی، اس لئے متذکرہ بالا بارہ آیات میں سے پہلی آیت میں ان کی حسرت مغلوبیت کو دل سے اتارتے ہیں، نیز بدر کے روز مال غنیمت میں ایک چادر گم ہوگئی، بعض (کم سمجھ یا منافق) لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اور یہ امر حقیقتا ہو یا صورة خیانت ہے، نبی کی شان اس سے منزہ ہے لہٰذا دوسری تیسری اور چوتھی آیات کے اندر جناب رسول مقبول ﷺ کی عظیم الشان صفت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 159–160

159 تا 160: فَبِمَا رَحْمَةٍ میں زبان کا وہی اسلوب استعمال ہوا ہے جو فبما نقضہم میثاقہم میں ہے۔ اہل نحو اس طرح کے مواقع میں عموماً ’ ما ‘ کو تاکید کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعض مواقع میں یہ محض فقرے کے آہنگ کو ٹھیک رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ فظ کا مفہوم : ’ فظ ‘ کے معنی درشت خو اور غلیظ القلب کے معنی سخت دل کے ہیں۔ منافقین کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے رویہ کی تصویب : یہ آیت بطور التفات وارد ہوئی ہے۔ اوپر سخت الفاظ میں منافقین پر جو تنقید ہوئی ہے اس کا اثر نبی ﷺ پر اور پھر قدرتی طور پر باحمیت مسلمانوں پر یہ پڑ سکتا تھا کہ آپ کا اور آپ کے مخلص صحابہ کا رویہ ان کے بارے میں سخت ہوجاتا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 160–161

161۔ 1 جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال دوسرے لپیٹ کرلے جائیں گے اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا کیا تمہیں قائد غزوہ محمد ﷺ کی امانت پر اطمینان نہیں۔ یاد رکھو کہ ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں کیونکہ خیانت، نبوت کے منافی ہے۔ اگر نبی ہی خائن ہو تو پھر اس کی نبوت پر یقین کیونکر کیا جاسکتا ہے ؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 156–161

55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حقیقت توکل کو مزید ذہن نشین کرانے کے لئے اور اس کے اصول کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لئے اگلی آیت میں ذرا تفصیل سے واضح کرکے اس حقیقت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ حقیقی قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ فتح و کامرانی اور شکست اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اگر نصرت چاہتے ہو تو اسی سے چاہو اور اگر شکست سے بچنا چاہتے ہو تو اسی کے آگے گڑگڑاؤ۔ اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ ‘ اسی پر بھروسہ کرو ‘ لیکن پوری تیاری کے بعد ‘ نتائج سے بےفکر ہوجاؤ اور نتائج و عواقب اللہ پر چھوڑ دو ۔ إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 پہلے آپ کو فرمایا تھا " بھروسہ کر اللہ پر " یہاں بتلایا کہ بھروسہ کے لائق ایسی ہی ذات ہوسکتی ہے جو سب سے زبردست اور غالب ہو سب مسلمانوں کو اس کی امداد پر توکل کرنا چاہئے۔ گویا مسلمانوں کی تقصیر خود معاف کرنے اور اپنے پیغمبر سے معاف کرا دینے کے بعد ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ کسی کے کہنے سننے میں نہ آئیں خالص خدا پر بھروسہ رکھیں، اس کی مدد ہوگی تو کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی، جیسے " بدر " میں دیکھ چکے، اور کسی مصلحت سے وہ مدد نہ کرے تو پھر کوئی مدد نہیں کرسکتا جیسا کہ احد میں تجربہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 159–160

آیت 159 فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ ج۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیت بھی بڑی اہم ہے۔ جماعتی زندگی میں جو بھی امیر ہو ‘ صاحب امر ہو ‘ جس کے پاس ذمہ داریاں ہوں ‘ جس کے گرد اس کے ساتھی جمع ہوں ‘ اسے یہ خیال رہنا چاہیے کہ آخر وہ بھی انسان ہیں ‘ ان کے بھی کوئی جذبات اور احساسات ہیں ‘ ان کی عزت نفس بھی ہے ‘ لہٰذا ان کے ساتھ نرمی کی جانی چاہیے ‘ سختی نہیں۔ وہ کوئی ملازم نہیں ہیں ‘ بلکہ رضاکار volunteers ہیں۔ آنحضور ﷺ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ کوئی تنخواہ یافتہ سپاہی تو نہیں تھے۔ یہ لوگ ایمان کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے۔ اب بھی کوئی دینی جماعت وجود میں آتی ہے تو جو لوگ اس میں کام کر رہے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

155 جیسا کہ میدان بدر میں اللہ نے مسلمانوں کی کئی طرح سے مدد فرمائی تھی۔ اسی طرح آج احد میں بھی تمہاری مدد کرکے تمہیں غالب کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے دل و جان سے کوشش کرو۔ 156 جیسا کہ غزوہ احد میں کچھ وقت کے لیے ہوا، اور جس کی وجہ اللہ کے رسول کی نافرمانی تھی۔ اس آیت میں بتلایا یہ جارہا ہے کہ بھروسہ تو صرف اس پر کیا جاسکتا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور اور سب اسباب پر غالب اور حاکم ہو اور ایسی ذات چونکہ صرف ایک اللہ ہی کی ہے، لہذا وہی بھروسہ کے قابل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

328 ۔ (جیسا کہ معرکہ بدر میں تم نے دیکھ لیا اور وہ ثمرہ طاعت کا تھا) المقصود من الایۃ الترغیب فی الطاعۃ والتحذیر عن المعصیۃ (کبیر) 329 ۔ (جیسا کہ معرکہ احد میں تمہیں تجربہ ہوگیا اور وہ ثمرہ خود رائی کا تھا) (آیت) ” من بعدہ “ یعنی اس کی ترک نصرت کے بعد ای من بعد خذلانہ (کشاف) آیت سے یہ بھی استنباط کیا گیا ہے کہ ایمان ثمرہ ہوتا ہے اعانت الہی کا اور کفر خذ لان الہی کا۔ احتج الاصحاب بھذہ الایۃ ان الایمان لا یحصل الاباعانۃ اللہ والکفر لا یحصل الابخذلانہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–161

وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّغُلَّ (الآیۃ) جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا کٰال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے سمیٹ لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا ؟ کیا تمہیں اپنے قائد محمد ﷺ پر اطمینان نہیں ؟ یاد رکھو ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن نہیں ہے کیوں کہ خیانت نبوت کے منافی ہے، اگر نبی ہی خائن ہو تو اس کی نبوت پر کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے ؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے۔ احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ جن تیر اندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ینصرکم اللہ فلاغالب لکم اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر کوئی تم پر غلبہ پانے والا نہیں کیونکہ جو اللہ کی طرف سے مدد یافتہ ہو وہ کسی سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اللہ کا عاجز اور کمزور ہونالازم آئے گا جو قطعاً محال ہے۔ و ان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم اور اگر وہ تم کو بےمدد چھوڑ دے اور اپنی مدد کو روک دے تو پھر کون تمہاری مدد کرسکتا ہے (استفہام انکاری ہے) یعنی کوئی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ بندوں کے تمام افعال اللہ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے اگر وہ بےمدد چھوڑ دے تو پھر کسی کی طرف سے مدد کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ من بعدہ اس کے مدد نہ کرنے کے بعد۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم نے اللہ سے مدد کی طلب چھوڑ دی تو کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(160) غزوہ بدر کے طریقہ پر اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھ دیں تو پھر تمہارا کوئی بھی دشمن تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور اگر احد کے طریقہ پر مغلوب کردیں تو کون ہے جو اس مغلوبیت کے بعد تمہارا ساتھ دے، مومنوں پر تو یہ چیز لازم ہے کہ فتح ونصرت میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہاں جار مجرور ”بِرَحْمَۃٍ“ پہلے آنے سے ہی تاکید پیدا ہوگئی تھی، پھر ”مَا“ لا کر ”فَبِمَا رَحْمَةٍ“ میں تاکید مزید ہوگئی۔ ’ رَحْمَةٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی رحمت“ کیا ہے۔ 2 وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ) احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 160۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم “۔ یعنی تم اسی پر توکل کرو کیونکہ اگر وہ تمہاری مدد فرمائے اور تمہارے دشمن سے تمہاری حفاظت کرے تو تم ہر گز مغلوب نہ ہو گے۔ (آیت) ” وان یخذلکم “ اور اگر وہ اپنا تعاون تمہارے ساتھ چھوڑ دے۔ (آیت) ” فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ “۔ یعنی اس کے بعد کوئی بھی تمہاری مدد نہ کرے گا، یعنی اس کے تمہیں چھوڑنے کے بعد، کیونکہ اس نے فرمایا ہے : (آیت) ”‘ وان یخذلکم “۔ اور الخذلان کا معنی ہے مدد اور تعاون چھوڑ دینا، اور المخذول : جسے چھوڑ دیا گیا ہو، جس کی کی پرواہ نہ کی جائے، اور خذلت الوحشیۃ یعنی وحشی جانور چراگاہ میں اپنے بچے کے پاس ٹھہر گیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابو داؤد وعبد حمید اور ترمذی نے اس کو حسن کہا وابن جریر ابن ابی حاتم نے مقسم کے طریق سے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے تو لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا ہرگز تم کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا وہ شخص جو تیری مدد چھوڑ دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ تیری مدد چھوڑ دے تو ہرگز تم کو لوگ فائدہ نہیں پہنچا سکتے (اور فرمایا) لفظ آیت ” فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ “ یعنی تو میرے حکم کو نہ چھوڑ لوگوں کے لیے اور چھوڑ دے لوگوں کو میرے حکم (کو پورا کرنے کے) کے لیے (اور فرمایا) ” وعلی اللہ “ اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنْ : اگر ] [یَّـنْصُرْکُمُ : مدد کرے تمہاری ] [اللّٰہُ : اللہ ] [فَلاَ غَالِبَ : تو کوئی بھی غلبہ پانے والا نہیں ہے ] [لَــکُمْ : تم لوگوں پر ] [وَاِنْ : اور اگر ] [یَّخْذُلْــکُمْ : وہ ساتھ چھوڑ دے تمہارا ] [فَـمَنْ ذَا الَّذِیْ : تو کون ہے وہ جو ] [یَّـنْصُرُکُمْ : مدد کرے گا تمہاری ] [مِّنْم بَعْدِہٖ : اس کے بعد ] [وَعَلَی اللّٰہِ : اور اللہ پر ہی ] [فَلْیَتَوَکَّلِ : چاہیے کہ توکل کریں ّ ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ] خ ذ ل خَذَلَ (ن) خَذْلًا : ساتھ چھوڑ دینا ‘ حمایت ترک کرنا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ مَخْذُوْلٌ (اسم المفعول) : حمایت چھوڑا ہوا ‘ بےبس۔ { فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ مدد فرمائے تو کوئی غالب نہیں ہوسکتا پہلی آیت میں ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں) اس آیت شریفہ میں اللہ پر تو کل کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا ہے کہ کسی قوم پر غالب ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد ہی اصل چیز ہے قلت اور کثرت اور اسباب سے اس کا حقیقی تعلق نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب ہونے والا نہیں۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی۔ مسلمان تھوڑے تھے سامان حرب بھی معمولی تھا دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان کے پاس سامان بھی بہت تھا لیکن دشمن مغلوب ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–160

قال تعالی، فبما رحمۃ من اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ المومنون۔ آیت۔ احد کے دن جو بعض مسلمانوں سے لغزش ہوئی تو اس سے نبی کا دل رنجیدہ ہوا تو اندیشہ تھا کہ آپ ان کو ملامت کرتے اور آئندہ ان سے مشورہ نہ لیا کرتے اللہ نے صحابہ کی سفارش فرمائی کہ آپ ان کا قصور معاف فرمادیں اور حسب دستور ان سے معاملات میں مشورہ کیا کریں ان کی ساتھ تلطف اور نرمی کا معاملہ فرمائیں چناچہ نبی پر نور نے جنگ احد سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ فرمایا اور لغزش پر کوئی ملامت نہیں کی اس بارے میں یہ آئندہ کی آیتیں نازل ہوئیں پس اس لغزش اور عدول حکمی کے باوجود اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم ہوگئے اور آپ نے ان کو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

246 ۔ فتح وشکست اور نصرت وخذلان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مدد کرنے پر آتا ہے تو بےسروسامانی کے باوجود غلبہ عطا فرما دیتا ہے اور بڑی بڑی طاقت ور اور کثیر فوجوں کو مغلوب کردیتا ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا بےسروسامان اور مٹھی بھر مسلمانوں نے اللہ کی تائید وامداد سے مشرکین کی عظیم فوج کو شکست فاش دیدی لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہاری امداد اور نصرت سے دست کش ہوجائے تو پھر زمین و آسمان میں کوئی تمہارا ناصروغمخوار اور یارومددگار نہیں ہوگا جیسا کہ جنگ احد میں ہوا۔ اس لیے حقیقی اعتماد اور بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہونا چاہئے۔ وَعَلیَ اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ اور ایمان والوں کو تو اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 159–160

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا کہ کافروں کے ساتھ مشابہت نہ کریں۔ وہ تمہیں بزدل بنا کر دین اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جہاد میں شریک ہونے والا لازماً ہی شہید نہیں ہوگا ، بلکہ اگر اس کی زندگی باقی ہے ، تو وہ میدان جنگ سے بھی زندہ سلامت واپس آئے گا۔ اور جس شخص کی موت لکھی جا چکی ہے وہ اگر اپنے گھر میں بھی بیٹھا ہوگا تو عین موقع پر اپنی قتل گاہ پر پہنچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اگر وہ راہ خداوندی میں شہید ہوگئے تو اللہ کی مہربانی ان کے شامل حال ہوگی۔ اور دنیا کے اس مال و متاع سے بہتر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللہُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ۝ 0 ۚ وَاِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِہٖ۝ 0 ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۝ 160 نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 159–160

ترکیب : فبما رحمۃ بازائدہ ہے اخفش کہتا ہے جائز ہے کہ مانکرہ ہو بمعنی شیء اور رحمۃ بدل ہو اس سے اور ب لنت سے متعلق ہو۔ فاذا عزمت شرط فتوکل جواب ان ینصر شرط فلا غالب جواب۔ تفسیر : احد کی لڑائی میں جو کچھ لوگ بھاگے اور بعض نے بھاگنے کا ارادہ کیا۔ اس پر اہل اسلام میں انگشت نمائی ہونے لگی اور خاص لوگ ان کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے اور مشوروں میں بھی ان کو شریک نہ کیا جاتا تھا۔ نہ کسی بات میں ان سے صلاح لی جاتی تھی۔ یہ بات ان کی دل شکنی کا باعث تھی اور چونکہ یہ بات بتقضائے بشریت ان سے سرزد ہوگئی تھی اس کو خدا نے معاف کردیا تھا۔ اس لئے یہاں اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ تم فضلِ الٰہی سے رحم دل ہو۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہَ فَلاَ غَالِبَ لَـکُمْ ج وَاِنْ یَّخْذُلْـکُمْ فَمَنْ ذَاالَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّن م بَعْدِہٖ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے گا تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو پھر اس کے بعد کون تمہاری مدد کرے گا ؟ اور اللہ ہی کے اوپر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں) (160) گزشتہ آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی تقسیم ایک ہی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ پسند نہیں کرتا اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ‘ اس میں منافقوں کے پروپیگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے بنیادی عقیدہ سمجھایا گیا ہے کہ عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور مومنوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ رسول محترم ﷺ ہر کام کرنے سے پہلے اس پر غور و خوض اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ احد میں بھی ایسا ہی کیا گیا لیکن چند ساتھیوں کی کمزوری کی وجہ سے آپ اور مسلمانوں کو مالی ‘ جانی نقصان اٹھانا پڑا جس پر کمزور مسلمانوں نے غیر محتاط انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور منافقوں نے اسے ایک دوسرے انداز میں اچھالا۔ اس موقعہ پر یہ بنیادی اصول بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خبردار ‘ اللہ پر توکل مت توڑو : 160: اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْم بَعْدِہٖ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے) جیسا کہ بدر کے دن اس نے تمہاری مدد کی۔ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ (تو پھر تم پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا) اور اللہ تعالیٰ کی مدد اسی کو ملتی ہے جو اپنی قوت و طاقت سے براءت کا اظہار کرے اور اپنے رب کی قدرت کو مضبوطی سے تھام لے۔ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ (اور اگر وہ تمہیں بغیر مدد چھوڑ دے) جیسا کہ احد کے دن چھوڑا فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْم بَعْدِہٖ (تو پھر کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 160۔: (آیت)” ان ینصرکم اللہ “۔ جس کی اللہ مدد کرے یا اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے تمہاری مدد کی اور تم سے دشمنوں کو روکا (آیت)” فلا غالب لکم “۔ بدر کے دن کی طرح تم پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا (آیت)” وان یخذلکم “۔ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر تمہاری کون مدد کرے گا جیسا کہ وقتی طور پر احد کی جنگ میں ہوا ، خذلان کہا جاتا ہے مدد سے ناامیدا ہو کر بیٹھ جانا ، (آیت)” فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ “۔ اس کی مدد کے بغیر تمہاری کون مدد کرسکتا ہے (آیت)” وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “۔ (متوکلین کی صفات) بعض حضرات نے کہا کہ توکل کہا جاتا ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی نہ کرنا ، بعض حضرات نے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 159–160

(159 ۔ 160) ۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی تیاری کے وقت پہلے آنحضرت ﷺ کی یہ صلاح تھی کہ اس لڑائی کے لئے مدینہ کے باہر جانا چاہیے پھر بعض صحابہ کے صلاح و مشورہ کے سبب سے آپ باہر نکلے اور لڑائی شروع شروع میں تو اچھی رہی اور پھر آخر کو اس میں کچھ لغزش آئی اب ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ کے باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی اس پر بھی تم مسلمانوں سے نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی کہ یہ اللہ کی ایک رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح و مشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 160 اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمہاری مدد کرے (فلا غالب لکم) تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، خواہ دنیا کے تمام شوگوں سے جمع ہو کر لوگ تمہارے خلاف کیوں نہ آجائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سرو سامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کرسکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کرسکتا ہے۔ (وان یخذلکم) ” اور اگر وہ تمہیں مدد نہ کرے “ یعنی تمہیں تمہارے نفس کے حوالے کر دے (فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ) ” پس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 160–161

خیانت بہت بڑاجرم ہے قول باری ہے (وماکان لنبی ان یغل ۔ کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کرجائے) ایک قرات، می لفظ (یغل) کو حرف یاء کی رفع کے ساتھ پڑھاگیا ہے جس کے معنی یخان ، خیانت کیا جائے کے ہیں، حضور ﷺ کے ساتھ خیانت کیے جاتے کا خصوصی طور سے ذکر ہوا ہے۔ اگرچہ سب انسانوں کے ساتھ خیانت ممنوع ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ خیانت کرنا کسی اور کے ساتھ خیانت کرنے کے مقابلے میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ قول بارے ہے (فاجتنبوالرجس من الاوثان واجتنبواقول الزور۔ تبوں کی گندگی سے بچو اورجھوٹ بولنے سے پرہیز کرو) اگرچہ برقسم کی گندگی سے ہمیں بچنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن بت برستی کی گندگی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

340 اللہ کے سوا کوئی بھی مدد نہیں کرسکتا : سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا کوئی بھی نہیں جو اللہ کے مقابلے میں اور اس کے بعد تمہاری مدد کرسکے۔ بھلا خالق کے مقابلے میں مدد کرنے کا یارا کس کو ہوسکتا ہے۔ لہذا تم لوگ ہمیشہ ہر وقت اور ہر حال میں اسی پر توکل کرو اور اسی کا بھروسہ رکھو۔ اور وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور طرح طرح کے فرضی، وہمی اور بےحقیقت سہاروں پر تکیہ کر رکھا ہے۔ اور اس طرح وہ محرومی کی راہ پر چل رہے ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو مدد بہرحال اللہ ہی کی مدد ہے۔ وہ اگر مدد کرے تو اور کسی کی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ اور اس کی مدد اگر شامل حال نہ ہو تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 159–160

رسول اللہ ﷺ کی نرم مزاجی اور نصرت الٰہی تشریح : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد سے ہی ہے مگر اس میں نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ صفت ایک راہنما اور رسول کے لیے ضروری ہے۔ جیسا کہ صحابہ کی نافرمانی کی وجہ سے بےحد نقصان ہوا مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کی نافرمانی کو درگزر کرتے ہوئے معاف کردیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام سپاہی واپس آپ کے پاس جمع ہوگئے اور یوں شکست فتح میں بدل گئی۔ اللہ رب العزت نے آپ کی نرم مزاجی کی تعریف بھی کی اور نصیحت بھی کی کہ ایک مبلغ اور راہبر میں ان صفات کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ اول سخت کلامی اور بدمزاجی سے بچنا دوسرے انتقام نہ لینا تیسرے امت کی خطاؤں اور لغزشوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 156–171

آیات 156- 171 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔ اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔ یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 160–161

ف 2 اوپر کی آیات میں جہاد احدم میں جو تیر اندازی اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طر لپک پڑے تھے بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے حکم عدولی کی وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے جب کمزور ساعذر پیش کیا ہمیں ابدیشہ ہوا کہ ہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان مال غنیمت پر قبضہ کرلیں اور ہم محروم رہ جائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اظننتم انا نغل ولا نقسم کہ تم نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ ہم مال غنیمت میں غلول کریں گے اور مساوی تقسیم نہیں کرنیگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی غلول شان نبوت کے منافی ہے۔ کبیر) بعض علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ بدر کی لڑائی میں کوئی چیز غنیمت سے گم ہوگئی تو کسی شاید آپ ﷺ نے اپنے لیے رکھ لی ہوگی۔ اس پر یہ آیت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:160) یخذلکم۔ مضارع معروف واحد مذکر غائب لام پر جزم حرف ان کی وجہ سے ہے۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ان یخذلکم۔ اگر وہ تمہیں بےمدد چھوڑ دے۔ تمہاری مدد نہ کرے۔ خذلان سے جس کے معنی ہیں ایسے شخص کا عین موقعہ پر ساتھ چھوڑ کر الگ ہوجانا جس کے متعلق گمان ہو کہ وہ پوری پوری مدد کرے گا۔ لہٰذا ساتھ چھوڑ دینا۔ دغا دینا۔ قرآن حکیم میں ہے وکان الشیطن للانسان خذولا (25:29) اور شیطان انسان کو عین موقعہ پر دغا دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 159–160

تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 غزوۂ احد میں مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ کا رنجیدہ ہونا لازمی بات تھی اور آپ کو اس لغرش پر اپنے صحابہ کو تنبیہہ کرنا چاہئے تھی اور آئندہ ان سے مشورہ کبھی نہ لینا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اس واقعہ سے رنجیدہ نہ ہوں اور اب کی خطا کو معاف فرمادیں اور اپنے مزاج کے مطابق ان سے نرمی کا معاملہ فرمائیں اور پہلے کی طرح آپ ان سے مختلف امور میں مشورہ بھی لیتے رہا کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احد سے واپس لوٹ کر اپنے کے ساتھ انتہائی شفقت و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 159–160

مشورہ لینے کا حکم ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ ! باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی، اس پر بھی تم مسلمانوں سے جو نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی، یہ اللہ کی رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے۔ اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح ومشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال نہ لانا چاہیے۔ آئندہ حسب عادت صحابہ سے مشورہ طلب امور میں مشورہ کرلیا کرو تاکہ ان کا جی خوش ہو، اور امت کے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاوے کہ مشورہ لینا مشروع ہے۔ ہاں بعد مشورہ کے ہر طرح کا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے۔ کہ بغیر مدد اللہ کے کسی کام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 160–161

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی (علیہ السلام) انتہا درجہ کا دیانت دار ہوتا ہے ، اس کی طرف ادنی خیانت کا انتساب بھی گناہ ہے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ ہمیں ہمارے مقررہ حق سے کچھ زاید دیا جائے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی (علیہ السلام) اس نوع کی غیر منصفانہ تقسیم کا ارتکاب نہیں کرسکتا ۔ لفظ غلول بہرحال عام ہے نبی (علیہ السلام) ہر نوع کی خیانت سے بالا ہے ۔ حل لغات : یغل : مصدر غلول ، خیانت ، بددیانتی ۔ بآء ، لوٹا ۔ پھرا ۔ ماوی : ٹھکانا ، جگہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے اور تمہارے ساتھ دے تو تم پر کوئی فتح حاصل نہیں کرسکتا اور کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ نہ دے اور تم سے اپنا ہاتھ اٹھا لے تو دوسرا ایسا کون ہے جو اس کے دستکش ہوئے، پیچھے تمہاری مدد کرسکے اور تمہارا ساتھ دیکر تم کو غالب کرسکے لہٰذا مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ (تیسیر) آیت میں مسلمانوں کو تسلی دینا اور شکست کی وحشت کو دور کرنا مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ تم کسی کے بہکانے میں نہ آئو کامیابی اور کامرانی ہوتی ہے تو ہماری مدد سے اور شکست و ناکامی ہوتی ہے تو ہماری سرپرستی اور ساتھ چھوڑ دینے سے ہوتی ہے اور جب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 160–161

ف 4۔ انبیاء علیم السلام کا امین ہونا یہاں دلیل سے ثابت کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کو ہدایت کہ اگر تم اللہ کے ہو جائو اور اللہ تمہارا ہوجائے ، پھر کا ہے کا غم : اب مسلمانون کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تم اللہ کے ہوگئے تو اللہ یقینا تمہاری مدد کرے گا اور اگر وہ تمہارا مدد گار ہو تو پھر تم پر کون غلبہ پانے والا ہے ؟ یعنی کوئی بھی تم پر غلبہ نہیں پا سکے گا کیونکہ جو مدد الٰہی کو حاصل کرلے وہ کسی سے مغلوب ہو ہی نہیں سکتا ورنہ اللہ کا واجز اور کمزور ہونا لازم آئے گا اور یہ قطعاََ محال ہے۔ آج فی زماننا مسلمانوں کو اپنا تجزیہ کرنا ضروری اور لازمی ہے کہ وہ دنیا میں کس پہلوپر غالب ہے اور کس پر مغلوب۔ اور مغلوب ہے تو کیسے ؟ اور کیوں ؟ اور پھر اس سے کیا لازم آتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the first verse (16o) here, the recurring sense of grief that gripped the noble Companions after what happened at the battle of Uhud is being removed through elegant counsel. Verses 161-164 declare that the station of Allah's messenger is free of failings, that he exhibits the highest standard of trustworthiness, and that the very presence of his on the face of the earth is a great blessing and a favour shown to the people of the world. Verses 165-167 explain the reason why Muslims faced hardships at Uhud, while refuting the view of the hypocrites alongwith it in verse 168. Towards the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 157–161

114. When the archers, whom the Prophet had posted to defend the army against any attack from the rear, saw that the spoils of the enemy were being collected, they feared that the spoils might fall in their entirety to the lot of the soldiers who were then collecting them, and that they might, therefore, be deprived of their share. It was this idea which had impelled them to leave their posts. When the Prophet returned to Madina after the battle he asked them to explain the cause of their disobedience. When he had heard their unconvincing stories he told them: 'You thought that we would act…

Read the full tafseer →