Explained with ayahs 159–164
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
سورة اٰلِ عِمْرٰن 114
جن تیرا ندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر حضور نے فرمایا بل ظننتم انا نغل ولا نقسم لکم۔”اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت…
Read the full tafseer →ربط آیات
غزوہ احد میں بعض مسلمانوں کی لغزش اور میدان چھوڑنے سے جو صدمہ اور غم رسول اللہ ﷺ کو پہنچا تھا، اگرچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے طبعی اخلاق اور عادات عفو و کرم کی بنا پر ان کو اس پر کوئی ملامت نہیں کی اور کوئی معاملہ سختی کا بھی نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کے ساتھیوں کی دلجوئی اور ان کے دلوں میں اس غلطی پر جو صدمہ اور اپنے قصور پر جو ندامت تھی ان سب کو دھو دینا منظور ہوا تو اس آیت میں آپ کو مزید لطف و کرم کی ہدایت اور صحابہ کرام سے معاملات میں مشورہ لینے کا حکم دیا۔
خلاصہ تفسیر
بعد اس کے (کہ صحابہ کرام سے ایسی لغزش ہوئی جس پر آپ کو ملامت اور مواخذہ کرنے کا حق تھا) خدا ہی کی رحمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
159 تا 160: فَبِمَا رَحْمَةٍ میں زبان کا وہی اسلوب استعمال ہوا ہے جو فبما نقضہم میثاقہم میں ہے۔ اہل نحو اس طرح کے مواقع میں عموماً ’ ما ‘ کو تاکید کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعض مواقع میں یہ محض فقرے کے آہنگ کو ٹھیک رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
فظ کا مفہوم : ’ فظ ‘ کے معنی درشت خو اور غلیظ القلب کے معنی سخت دل کے ہیں۔
منافقین کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے رویہ کی تصویب : یہ آیت بطور التفات وارد ہوئی ہے۔ اوپر سخت الفاظ میں منافقین پر جو تنقید ہوئی ہے اس کا اثر نبی ﷺ پر اور پھر قدرتی طور پر باحمیت مسلمانوں پر یہ پڑ سکتا تھا کہ آپ کا اور آپ کے مخلص صحابہ کا رویہ ان کے بارے میں سخت ہوجاتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
159۔ 1 نبی ﷺ جو صاحب خلق عظیم تھے، اللہ تعالیٰ اپنے اس پیغمبر پر ایک احسان کا ذکر فرما رہا ہے کہ آپ ﷺ کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور یہ نرمی دعوت و تبلیغ کے لئے نہایت ضروری ہے اگر آپ ﷺ کے اندر یہ نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس آپ ﷺ تندخو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کی بجائے آپ ﷺ سے دور بھاگتے۔ اس لئے آپ درگزر سے ہی کام لیتے رہئیے۔
159۔ 2 یعنی مسلمانوں کی طیب خاطر کے لئے مشورہ کرلیا کریں۔ اس آیت سے مشاورت کی اہمیت، افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ مشاورت کا یہ حکم بعض کے نزدیک وجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے (ابن کثیر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–161
55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →اس پیراگراف کا موضوع اور محور حقیقت نبوت اور ذات نبوی ہے ۔ اور اس محور کے متعلقہ حقائق کو اس میں لیا گیا ہے ۔ اس میں نظر آتا ہے کہ بڑے بڑے اصول چھوٹی چھوٹی عبارتوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اللہ کی رحمت کو مجسم کرکے نبی ﷺ کے اخلاق اور طرز عمل کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ آپ کی ذات کریمہ نہایت ہی مہربان ‘ نہایت ہی رحم دل ‘ نہایت ہی نرم اور نہایت ہی سہل شکل میں پیش کی گئی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ لوگ پروانوں کی طرح ان کے اردگرد جمع ہوتے ہیں ۔ آپ کے اردگرد ہر وقت ایک بڑی تعداد جمع رہتی ہے ۔ پھر اس محفل میں صاف صاف نظر آتا ہے کہ اس جماعت کا قیام جس کے نظام کے تحت ہے وہ اصول شوریٰ پر قائم ہے ۔
حکم دیا جاتا…
Read the full tafseer →9 مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں پر متنبہ فرمانے اور معافی کا اعلان سنانے کے بعد نصیحت کی تھی کہ آئندہ اس مار آستین جماعت کی باتوں سے فریب مت کھانا۔ اس آیت میں ان کے عفو تقصیر کی تکمیل کی گئی ہے چونکہ جنگ احد میں سخت خوفناک غلطی اور زبردست کوتاہی مسلمانوں سے ہوئی تھی، شاید آپ ﷺ کا دل خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ آئندہ ان سے مشو رہ لے کر کام نہ کیا جائے، اس لئے حق تعالیٰ نے نہایت عجیب و غریب پیرایہ میں ان کی سفارش کی اول اپنی طرف سے معافی کا اعلان کردیا، کیونکہ خدا کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ کا غصہ اور رنج خالص اپنے پروردگار کے لئے ہوتا ہے، پھر فرمایا (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ) 3 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
آیت 159 فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ ج۔
اس سورة مبارکہ کی یہ آیت بھی بڑی اہم ہے۔ جماعتی زندگی میں جو بھی امیر ہو ‘ صاحب امر ہو ‘ جس کے پاس ذمہ داریاں ہوں ‘ جس کے گرد اس کے ساتھی جمع ہوں ‘ اسے یہ خیال رہنا چاہیے کہ آخر وہ بھی انسان ہیں ‘ ان کے بھی کوئی جذبات اور احساسات ہیں ‘ ان کی عزت نفس بھی ہے ‘ لہٰذا ان کے ساتھ نرمی کی جانی چاہیے ‘ سختی نہیں۔ وہ کوئی ملازم نہیں ہیں ‘ بلکہ رضاکار volunteers ہیں۔ آنحضور ﷺ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ کوئی تنخواہ یافتہ سپاہی تو نہیں تھے۔ یہ لوگ ایمان کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے۔ اب بھی کوئی دینی جماعت وجود میں آتی ہے تو جو لوگ اس میں کام کر رہے ہیں وہ…
Read the full tafseer →153 مسلمانوں کو یہ ہدایات دینے کے بعد پھر سے غزوہ احد کے حالات اور نتائج کا ذکر شروع ہوا ہے۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جو سزا ملی وہ عبرت ناک تھی اور اس واقعہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نافرمانی کرنے والوں پر شدید گرفت فرماتے یا کم از کم ان سے خفا ہی ہوجاتے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ مومنوں کے حق میں بہت نرم دل تھے۔ ورنہ اگر آپ سخت دل ہوتے یا کم از کم اسی نافرمانی پر شدید گرفت فرماتے تو پھر مسلمان آپ کے قریب آنے سے ہی گریز کرنے لگتے۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان نافرمانی کرنے والوں کو اور راہ فرار اختیار کرنے والوں کو معاف کر ہی دیا تھا۔ اب اپنے…
Read the full tafseer →323 ۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ نرم رہے جو جنگ احد میں آپ ﷺ کی نافرمانی کرکے مسلمانوں کی شکست وتفضیح کا سبب بنے تھے، نافرمان سپاہیوں کے ساتھ، عین معرکہ جنگ میں خود رائی سے کام لینے والے سپاہیوں کے ساتھ، شفقت وملاطفت کا معاملہ قائم رکھنا دنیا کی جنگی تاریخ میں شاید اپنی نظیر آپ ہی ہو۔ (آیت) ” بما “۔ میں ما زائدہ تاکید کے لیے ہے۔ ترجمہ میں اسی لیے ” ہی “ لایا گیا ہے۔ وما مزیدۃ للتاکید والتنبیہ (بیضاوی) وما مزیدۃ للتاکید وعلیہ اجلۃ المفسرین وبہ الماثور عن قتادۃ (روح) صلۃ فیھا معنی التاکید (قرطبی) والدلالۃ علی ان لینہ لھم ما کان الابرحمۃ من اللہ (کشاف)
324 ۔ حضور انور ﷺ کے حلم و تحمل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
فَبِمَا رَحْمَۃ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ (الآیۃ) نبی ﷺ خلق عظیم کے پیکر تھے، اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر ایک احسان عظیم فرما رہے ہیں کہ آپ کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور نہ نرمی، دعوت و تبلیغ کے لیے نہایت ضروری ہے اگر آپ کے اندر یہ وصف نہ ہوتا بلکہ اس کے برعکس آپ ﷺ تندخو، سخت دل، تلخ سخن ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کے بجائے آپ ﷺ سے دور بھاگتے۔ اس لیے آپ عفو و درگذر سے کام لیتے رہیے۔
شَاوِرْھُمْ فِی الاآمْرِ ، یعنی مسلمانوں کی دل جوئی اور تطییب خاطر کے لیے ان سے مشورہ کرلیا کیجئے اس آیت سے مشورہ کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے…
Read the full tafseer →فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم پس اللہ ہی کی عظیم الشان رحمت (جو تم پر اور تمہاری امت پر ہے) کی وجہ سے تم مؤمنوں کے حق میں نرم دل ہو اور باوجودیکہ انہوں نے تمہارے حکم کے خلاف کیا پھر بھی ان کی تکلیف پر اللہ کی توفیق اور خدادا قلبی وجدان کے زیر اثر رنجیدہ ہوتے ہو۔ تمہاری یہ نرمی قلب باعث رحمت اس وجہ سے ہے کہ و لو کنت فظا غلیظ القلب اگر تم درشت رو زشت خو اور سخت دل ہوتے 1 ۔
لانفضوا من حولک تو وہ تمہارے آس پاس سے بچھڑ جاتے آپ کے پاس نہ رہتے اور دائرہ اسلام سے نکل جاتے اور جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتے اور متبعین کی تعداد کم ہونے سے تمہارا اجر کم ہوجاتا۔
فاعف عنھم پس ان پر جو تمہارا حق ہے اس سے…
Read the full tafseer →(159) اللہ ہی کی رحمت کی بنا پر آپ ان پر نرم دل رہے اور اگر آپ تند خویا سخت مزاج ہوتے تو یہ سب آپ ﷺ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ لہذا آپ کے اصحاب سے حسن نیت کے باوجود ظاہر اجو لغزش ہوگئی آپ اس سے درگزر فرمائیے اور ان کے لیے استغفار کیجیے اور لڑائی میں ان سے مشورہ لیجیے جب آپ ایک جانب اپنی رائے پختہ کرلیں تو دولت ونصرت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہاں جار مجرور ”بِرَحْمَۃٍ“ پہلے آنے سے ہی تاکید پیدا ہوگئی تھی، پھر ”مَا“ لا کر ”فَبِمَا رَحْمَةٍ“ میں تاکید مزید ہوگئی۔ ’ رَحْمَةٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی رحمت“ کیا ہے۔
2 وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ) احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 159۔
ماصلہ ہے اس میں تاکید کا معنی ہے ای فبرحمۃ، جیسا کہ اس قول میں ہے : عما قلیل، فبما نقضھم میثاقھم “۔ جند ما ھنالک مھزوم “۔ اور یہ علی الاطلاق زائدہ نہیں ہے، بلکہ اس پر رائدہ ہونے کا اطلاق سیبویہ نے کیا ہے اس حیثیت سے کہ اس کا عمل زائل ہوچکا ہے، ابن کیسان نے کہا ہے : ما نکرہ ہے اور با کے سبب محل جر میں ہے (آیت) ” ورحمۃ اس سے بدل ہے۔ اور آیت کا معنی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے جب احد کے دن پیٹھ پھیرنے والوں سے نرمی کی اور ان سے کوئی سختی نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ آپ نے یہ رویہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا کردہ توفیق کے ساتھ اختیار کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما استفہامیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
رسول اللہ ﷺ کی شفقت ومہربانی
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فبما رحمۃ من اللہ “ سے مراد ہے کہ اس رحمت کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لفظ آیت ” ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک فرمایا ترش روئی سے اور سختی سے اور آپ کو رؤف رحیم بنا دیا ایمان والوں کے لیے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ محمد ﷺ کی تعریف تورات شریف میں بھی یوں تھی کہ نہ تو آپ برے اخلاق والے ہوں گے اور نہ آپ سخت دل والے ہوں گے اور نہ آپ بازاروں میں چلانے والے ہوں گے اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معاف کردیں گے اور…
Read the full tafseer →[فَبِمَا رَحْمَۃٍ : تو اس رحمت کے سبب سے جو ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ہے ] [لِنْتَ : آپ ﷺ نرم ہوئے ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ] [وَلَـوْ کُنْتَ : اور اگر آپ ﷺ ہوتے ] [فَظًّا : بدمزاج ] [غَلِیْظَ الْقَلْبِ : دل کے سخت
لاَنْـفَضُّوْا : تو یقینا یہ لوگ منتشر ہوجاتے ] [مِنْ حَوْلِکَ : آپ ﷺ کے ارد گرد سے ] [فَاعْفُ : پس آپ ﷺ درگزر کریں ] [عَنْہُمْ : ان سے ] [وَاسْتَغْفِرْ : اور آپ ﷺ مغفرت مانگیں ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ] [وَشَاوِرْ : اور آپ ﷺ رائے لیں ] [ہُمْ : ان سے ] [فِی الْاَمْرِ : فیصلے میں ] [فَاِذَا : پھر جب ] [عَزَمْتَ : آپ ﷺ پختہ ارادہ کرلیں ] [فَتَوَکَّلْ : تو آپ ﷺ توکل کریں ]…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کریمانہ
غزوہ احد کے موقعہ پر مسلمانوں سے جو لغزش ہوگئی تھی اور میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے جس سے رسول اکرم ﷺ کو غم پہنچا اور تکلیف ہوئی اس پر آپ نے ان سے سختی کا معاملہ نہیں کیا۔ ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اللہ تعالیٰ شانہ نے آپ کے ان کریمانہ اخلاق اور آپ کی نرم مزاجی کی اس آیت میں تعریف فرمائی۔ نیز مسلمانوں کی بھی دلداری اور دل جوئی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اول تو دو مرتبہ اپنی طرف سے معافی کا اعلان فرمایا۔ جس کا ذکر پچھلے رکوع میں آچکا ہے پھر اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ بھی معاف فرما دیں اور نہ صرف یہ کہ خود معاف فرما دیں بلکہ ان کے لیے اللہ جل شانہ سے بھی استغفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
قال تعالی، فبما رحمۃ من اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ المومنون۔ آیت۔
احد کے دن جو بعض مسلمانوں سے لغزش ہوئی تو اس سے نبی کا دل رنجیدہ ہوا تو اندیشہ تھا کہ آپ ان کو ملامت کرتے اور آئندہ ان سے مشورہ نہ لیا کرتے اللہ نے صحابہ کی سفارش فرمائی کہ آپ ان کا قصور معاف فرمادیں اور حسب دستور ان سے معاملات میں مشورہ کیا کریں ان کی ساتھ تلطف اور نرمی کا معاملہ فرمائیں چناچہ نبی پر نور نے جنگ احد سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ فرمایا اور لغزش پر کوئی ملامت نہیں کی اس بارے میں یہ آئندہ کی آیتیں نازل ہوئیں پس اس لغزش اور عدول حکمی کے باوجود اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم ہوگئے اور آپ نے ان کو کوئی…
Read the full tafseer →243 یہاں سے وَعَلیَ اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ تک آنحضرت ﷺ نے ان سے نہایت ہی مشفقانہ سلوک فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے نیک سلوک کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کا یہ سلوک محض اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کے دل میں القا فرمایا کہ آپ ان سے رفق اور مہربانی کا سلوک کریں اگر اس موقعہ پر آپ ان صحابہ کا سختی سے نوٹس لیتے اور درشتی سے پیش آتے تو ان کے دل ٹوٹ جاتے اور ان کے دلوں میں نفرت کے جذبات انگڑائیاں لینے لگتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ آپ سے علیحدہ ہوجاتے۔ انہ (علیہ السلام) لما رفق بمن تولی یوم احد ولم یغنھم بین الرب تعالیٰ انہ انما فعل ذالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا کہ کافروں کے ساتھ مشابہت نہ کریں۔ وہ تمہیں بزدل بنا کر دین اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جہاد میں شریک ہونے والا لازماً ہی شہید نہیں ہوگا ، بلکہ اگر اس کی زندگی باقی ہے ، تو وہ میدان جنگ سے بھی زندہ سلامت واپس آئے گا۔ اور جس شخص کی موت لکھی جا چکی ہے وہ اگر اپنے گھر میں بھی بیٹھا ہوگا تو عین موقع پر اپنی قتل گاہ پر پہنچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اگر وہ راہ خداوندی میں شہید ہوگئے تو اللہ کی مہربانی ان کے شامل حال ہوگی۔ اور دنیا کے اس مال و متاع سے بہتر…
Read the full tafseer →فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ 0ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ 0۠ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ 0ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ 0ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ 159
لين
اللِّينُ : ضدّ الخشونة، ويستعمل ذلک في الأجسام، ثمّ يستعار للخلق وغیره من المعاني، فيقال : فلان لَيِّنٌ ، وفلان خشن، وكلّ واحد منهما يمدح به طورا، ويذمّ به طورا بحسب اختلاف المواقع . قال تعالی: فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ [ آل عمران/ 159] ، وقوله : ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكْرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ترکیب : فبما رحمۃ بازائدہ ہے اخفش کہتا ہے جائز ہے کہ مانکرہ ہو بمعنی شیء اور رحمۃ بدل ہو اس سے اور ب لنت سے متعلق ہو۔ فاذا عزمت شرط فتوکل جواب ان ینصر شرط فلا غالب جواب۔
تفسیر : احد کی لڑائی میں جو کچھ لوگ بھاگے اور بعض نے بھاگنے کا ارادہ کیا۔ اس پر اہل اسلام میں انگشت نمائی ہونے لگی اور خاص لوگ ان کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے اور مشوروں میں بھی ان کو شریک نہ کیا جاتا تھا۔ نہ کسی بات میں ان سے صلاح لی جاتی تھی۔ یہ بات ان کی دل شکنی کا باعث تھی اور چونکہ یہ بات بتقضائے بشریت ان سے سرزد ہوگئی تھی اس کو خدا نے معاف کردیا تھا۔ اس لئے یہاں اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ تم فضلِ الٰہی سے رحم دل ہو۔…
Read the full tafseer →فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَ نْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِیْ الْاَمْرِ ج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔
(یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم خو ہیں اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ سو ان سے درگزر کریں ان کے لیے مغفرت چاہیں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں۔ پس جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) (159)
آنحضرت ﷺ کے کریمانہ اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
فہم القرآن
ربط کلام : احد میں درّہ والوں کی کوتاہی اور صحابہ کے منتشر ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا۔ جس پر نبی کریم ﷺ نے صبر و حوصلہ کا مظاہرہ فرمایا۔ اس پر آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کی تعریف کی گئی اور خطا کرنے والوں کو معاف کردینے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی بخشش کی دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔
اُحد میں تین سو منافقوں کا واپس لوٹنا، درّے والوں کا درّہ خالی کرنا ‘ گھمسان کے رن میں صحابہ کی اکثریت کا آپ کو تنہا چھوڑ جانا ‘ اس قدر ذاتی اور جماعتی نقصان کا اٹھانا۔ ان میں کوئی ایک معاملہ بھی نبی کریم ﷺ کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایسے موقعہ پر بڑے سے بڑا بہادر اور حوصلہ مند انسان کا پِتّہ پانی ہوجایا…
Read the full tafseer →رحمت و شفقت دونوں جمع کردیں :
159: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمت کی وجہ سے تم مؤمنوں پر نرم دل ہوئے) ۔ مَا ؔ تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ یہ زائدہ ہے اور اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ مؤمنوں پر آپ کی نرمی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے۔ اور رحمتؔ کا یہاں مطلب آپ کے جوش پر کنٹرول اور نرمی کی توفیق دینا اور ان کے ساتھ مہربانی والا معاملہ…
Read the full tafseer →159۔ (آیت)” فبمارحمۃ من اللہ “ اللہ کی رحمت سے ، ماصلہ ہے جیسا کہ (آیت)” فبما نقضھم “ میں ما بمعنی صلۃ کے ہے، (آیت)” لنت لھم “ یعنی تم نرم دل ہو اچھے اخلاق کی وجہ سے اور تمہاری کثرت نرمی کی وجہ سے اگر تم ان کی طرف غصہ یا درشت لہجہ استعمال کرتے تو وہ بچھڑ جاتے ، (آیت)” ولو کنت فظا “ اگر تم سخت برے اخلاق والے ہوتے ، ” غلیظ القلب “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ کلام میں سخت رو اور فعل میں سخت دل ہیں۔ (آیت)” لانفضوا من حولک “۔ وہ آپ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور آپ سے جدا ہوجائیں گے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے (آیت)” فضضتھم فانفضوا “۔ اس کا معنی ہے کہ ہم نے ان کو جدا کیا وہ ہم سے جدا ہوگئے ، (آیت)” فاعف عنھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
(159 ۔ 160) ۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی تیاری کے وقت پہلے آنحضرت ﷺ کی یہ صلاح تھی کہ اس لڑائی کے لئے مدینہ کے باہر جانا چاہیے پھر بعض صحابہ کے صلاح و مشورہ کے سبب سے آپ باہر نکلے اور لڑائی شروع شروع میں تو اچھی رہی اور پھر آخر کو اس میں کچھ لغزش آئی اب ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ کے باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی اس پر بھی تم مسلمانوں سے نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی کہ یہ اللہ کی ایک رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح و مشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال…
Read the full tafseer →آیت 159
یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لئے نہایت نرم دل ہوگئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے اس لئے وہ آپ کے اردگرد جمع ہوگئے اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ (ولو کنت فظا) یعنی اگر آپ بد اخلاق ہوتے (غلیظ القلب) یعنی سخت دل ہوتے (لانفضوا من حولک) ” تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے “ کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔ اے پیغمبر ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو) یہاں یہ کہا گیا ہے کہ حرف، ما، صلہ کے معنی دے رہا ہے یعنی فبرحمۃ من اللہ قتادہ سے اس قول کی روایت کی گئی ہے جیسا کہ یہ ارشاد باری ہے (عما قلیل لیصبحن ناد مین جلد ہی یہ لوگ نادم ہوجائیں گے) نیز قول باری ہے (فبما نقضھم میثاقھم، ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے میثاق کو توڑدینے کی بناپر) اس پر اہل لغت کا اتفاق ہے ان کا قول ہے کہ یہ حرف تاکید کے معنی دیتا ہے اور اس سے الفاظ کی نشست میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اعشیٰ کا شع رہے۔
؎ اذھبی ماالیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجم…
Read the full tafseer →337 تند خوئی اور سنگدلی کا طبعی نتیجہ تنفر و انتشار۔ والعیاذ باللہ : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمت کی بنا پر اپ ان کے لیے نرم ہوگئے ورنہ آپ اگر کہیں تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ کبھی کے آپ کے پاس سے چھٹ گئے ہوتے کہ تندخوئی اور سنگدلی کا طبعی نتیجہ اور لازمی اثر بہرحال یہی ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تندخوئی و سنگدلی کی خصلت کس قدر نفرت و دوری پیدا کرنے والی خصلت ہے اور جب نبی اکرم ﷺ کی بےنظیر ہستی اور بےمثال شخصیت کیلئے بھی اس خصلت کا یہ اثر و نتیجہ ہے تو پھر دوسروں کے بارے میں کہنا ہی کیا ۔ والْعِیَاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
رسول اللہ ﷺ کی نرم مزاجی اور نصرت الٰہی
تشریح : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد سے ہی ہے مگر اس میں نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ صفت ایک راہنما اور رسول کے لیے ضروری ہے۔ جیسا کہ صحابہ کی نافرمانی کی وجہ سے بےحد نقصان ہوا مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کی نافرمانی کو درگزر کرتے ہوئے معاف کردیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام سپاہی واپس آپ کے پاس جمع ہوگئے اور یوں شکست فتح میں بدل گئی۔ اللہ رب العزت نے آپ کی نرم مزاجی کی تعریف بھی کی اور نصیحت بھی کی کہ ایک مبلغ اور راہبر میں ان صفات کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ اول سخت کلامی اور بدمزاجی سے بچنا دوسرے انتقام نہ لینا تیسرے امت کی خطاؤں اور لغزشوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 10 احد کے دن مسلما نوں نے خوفناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا۔ پھر جب آنحضرت ﷺ کی دعوت سے دوبارہ ج جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی بلکہ حسن سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حسن خلق اللہ تعالیٰ ج کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے ورنہ مسلمانوں کی شیراز ہ بندی ناممکن تھی۔ (قرطبی۔ رازی )
1 حضرت شاصاحب (رح) فرماتے ہیں : شاید حضرت ﷺ کا دل مسلما نوں سے خفا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ اب سے ان سے مشورہ نہ پو چھئے۔ سو حق تعالیٰ نے سفارش کی کہ اول مشو رہ لینا بہتر ہے جیسے ایک بات ٹھہر چکے پھر پس وپیش نہ کرے۔ ( اس آیت میں آنحضر ﷺ کو حکم دیا رہا ہے…
Read the full tafseer →(3:159) فبما۔ ما۔ زائدہ ہے اور تاکید کے لئے آیا ہے۔ یعنی یہ صرف اللہ کی رحمت کی وجہ سے ہے کہ باوجود مخالفین کے قصور کے آپ کا رویہ ان کی طرف لطف و محبت کا ہے۔
لنت۔ ماضی واحد مذکر حاضر لین مصدر ۔ تو نے نرمی کی۔ تو نے نرم مزاجی سے کام لیا لان یلین (ضرب)
فظا۔ بدکلام۔ بدخو۔ بداخلاق۔ لفظ کی اصل وضع اس گندے پانی کے لئے ہے جو غلاظت سے بھری ہوئی آنتوں کے اندر ہوتا ہے
غلیظ القلب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ سخت دل والا۔ بد اخلاق۔ بدخو۔
لانفضوا۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ انفضوا (باب انفعال) انفضاص سے ہے۔ متفرق ہونا۔ تتربتر ہونا۔ وہ ضرور منتشر ہوگئے ہوتے۔ لو۔ یہ چھ طریق پر مستعمل ہے۔
(1) زمانہ ماضی میں شرط کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
تشریح : آیت نمبر 159 تا 160
غزوۂ احد میں مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ کا رنجیدہ ہونا لازمی بات تھی اور آپ کو اس لغرش پر اپنے صحابہ کو تنبیہہ کرنا چاہئے تھی اور آئندہ ان سے مشورہ کبھی نہ لینا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اس واقعہ سے رنجیدہ نہ ہوں اور اب کی خطا کو معاف فرمادیں اور اپنے مزاج کے مطابق ان سے نرمی کا معاملہ فرمائیں اور پہلے کی طرح آپ ان سے مختلف امور میں مشورہ بھی لیتے رہا کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احد سے واپس لوٹ کر اپنے کے ساتھ انتہائی شفقت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
مشورہ لینے کا حکم
ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ ! باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی، اس پر بھی تم مسلمانوں سے جو نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی، یہ اللہ کی رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے۔ اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح ومشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال نہ لانا چاہیے۔ آئندہ حسب عادت صحابہ سے مشورہ طلب امور میں مشورہ کرلیا کرو تاکہ ان کا جی خوش ہو، اور امت کے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاوے کہ مشورہ لینا مشروع ہے۔ ہاں بعد مشورہ کے ہر طرح کا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے۔ کہ بغیر مدد اللہ کے کسی کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–160
[60] یعنی منافقین۔
Read the full tafseer →بادشاہ اقلیم وعفو :
(ف 2) عسکری قانون یہ ہے کہ جو لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں ، انہیں جان سے مار دیا جائے ، مگر شہنشاہ اخلاق چونکہ صرف سالار عسکر ہی نہیں تھے ‘ طبیب امراض قلوب بھی تھے ‘ اس لئے لوگوں کو معاف کردیا اور خندہ پیشانی سے پیش آئے ، اس آیت میں اسی خلق عظیم کی تشریح ہے کہ آپ رحمت خداوندی کے مظہر اتم ہیں اور بالخصوص خدائے رحیم نے آپ ﷺ کو لوائے عفو واخلاص دے کر بھیجا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہزاروں پروانے آپ ﷺ کے گردا گرد جمع ہیں اور اکتساب ضو میں مصروف ہیں ، پس آپ ﷺ ان سے عفو و استغفار کا سلوک روا رکھیں اور ہر بات میں ان سے مشورہ کرلیں تاکہ ایک طرف ان کی دلجوئی ہوجائے اور دوسری طرف یہ لوگ…
Read the full tafseer →ف 1 باوجود اس کے کہ ان لوگوں سے کچھ کوتاہیاں ہوئیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کی آپ پر اور مسلمانوں پر یہ مہربانی ہے کہ آپ ان کے حق میں نرم دل واقع ہوئے اور ان پر نرم دل رہے اور ان کو کوئی ملامت نہیں کی اور اگر آپ کہیں تند خو اور سخت دل ہوتے تو بات بات پر سخت گیری فرماتے تو یہ کبھی کے آپ کے پاس منتشر ہوچکے ہوتے پھر جب آپ کا برتائو ان سے مہربانی آمیز رہا اور آپ نے ان کی لغزش پر ان کو کچھ نہیں فرمایا تو اپنا حق ان کو دل سے بھی معاف کردیجیے اور زبان سے بھی ان کے لئے استغفار کردیجیے تاکہ ان کے لئے زیادہ موجب شفقت اور تسلی خاطر کا سبب ہو اور آئندہ بھی بدستور ان سے اہم اور مخصوص باتوں میں مشورہ کرتے رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
ف 1۔ نرم خوئی کو رحمت کا سبب اس لیے فرمایا کہ خوش اخلاقی عبادت ہو اور عبادت کی توفیق خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہوتی ہے۔
2۔ یہ جو کہا گیا کہ خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے تو مراد ان سے وہ امور ہیں جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ورنہ بعد وحی کے پھر مشوروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
3۔ لفظ عزم میں کوئی قید نہیں لگائی اس سے معلوم ہوا کہ امور انتظامیہ متعلقہ بالرائے میں کثرت رائے کا ضابطہ محض بےاصل ہے ورنہ یہاں عز میں یہ قید ہوتی کہ بشرطیکہ آپ کا عزم کثرت رائے کے خلاف نہ ہو۔ اور مشورہ وعزم کے بعد جو توکل کا حکم فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ تدبیر منافی نہیں توکل کے کیونکہ مشورہ وعزم کا داخل تدبیر ہونا…
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کے نرم مزاج ہونے کی قرآنی شہادت :
292 : ” لِنْتَ “ لین سے ہے اور یہ خشونت کی ضد ہے۔ اس کا استعمال اجسام پر بھی ہوتا ہے اور اخلاق پر بھی ہوتا ہے اور اخلاق پر بھی۔ قرآن کریم نے یہ وضاحت کردی ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی جماعت میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہے اور پھر بعض کسی صفت میں بڑھے ہوئے تھے تو بعض کسی دوسری صفت میں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ اپنے فطری خلق عظیم اور نرم مزاجی اور عملی زندگی کے ہر پہلو کے لحاظ سے فضیلت رکھتے تھے اور اس کی ایک شہادت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مجھے دوسرے انبیاء کرام پر فوقیت نہ دیا کرو اور یہ جملہ آپ ﷺ نے اس وقت ہی ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Even though, the mistake made by Muslims and the abandonment of the battle front by them had caused grief to the Holy Prophet, he did not reproach them for this because of his high morals and his natural way of forgiving and forgetting. He did not even deal with them sternly as may have been in order. But, Allah Almighty willed to see that the Companions ؓ of His Messenger ﷺ are comforted and the sense of shock and shame they had for their mistake is washed away. So, in this verse, the Holy Prophet ﷺ is being asked to deal with them more gently and affectionately and consult with them in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
114. When the archers, whom the Prophet had posted to defend the army against any attack from the rear, saw that the spoils of the enemy were being collected, they feared that the spoils might fall in their entirety to the lot of the soldiers who were then collecting them, and that they might, therefore, be deprived of their share. It was this idea which had impelled them to leave their posts. When the Prophet returned to Madina after the battle he asked them to explain the cause of their disobedience. When he had heard their unconvincing stories he told them: 'You thought that we would act…
Read the full tafseer →