Explained with ayahs 156–158
باطل خیالات کی نشاندہی
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
سورة اٰلِ عِمْرٰن 114
جن تیرا ندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر حضور نے فرمایا بل ظننتم انا نغل ولا نقسم لکم۔”اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
زبط آیات
پچھلی آیتوں میں منافقین کا یہ قول بیان کیا گیا تھا کہ لوکان لنا من الامر شیء ما قتلناھما، یعنی اگر ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور ہماری رائے مانی جاتی تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے جس کو آگے بھی نقل کیا گیا ہے، ایسے اقوال کے سننے سے یہ احتمال تھا کہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شک و شبہات نہ پیدا ہوجائیں، اس لئے مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کو ایسے اقوال و احوال سے پرہیز کرنے کی اور موت وحیات کو صرف تابع تقدیر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جو (حقیقت میں) کافر ہیں (گو ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے ہوں) اور کہتے ہیں اپنے (ہم نسب یا ہم مشرک) بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تفسیر آیت 156 تا 158:۔ ’ لِ ‘ کا مفہوم : وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ میں ’ لِ ‘ اس طرح کا ہے جس طرح وقال الذین کفرو للذین امنوا لوکان خیرا ما سبقونا الیہ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ نئی دعوت کوئی خیر و برکت والی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہیں کرسکتے تھے) میں ہے۔ یعنی بابت اور متعلق کے معنی میں۔ ’ اخوان ‘ سے مراد بھائی بند اور تعلق و رشتہ کے لوگ ہیں۔ ’ غزی ‘ غازی کی جمع ہے۔ ’ لیجعل ‘ سے پہلے اس کا متعلق محذوف ہے۔ یعنی یہ بات جو ان کے ذہن میں گھسی ہوئی ہے یہ اس لیے گھسی ہوئی ہے کہ ان کی منافقت کی وجہ سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ یہ بدعقیدگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
159۔ 1 نبی ﷺ جو صاحب خلق عظیم تھے، اللہ تعالیٰ اپنے اس پیغمبر پر ایک احسان کا ذکر فرما رہا ہے کہ آپ ﷺ کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور یہ نرمی دعوت و تبلیغ کے لئے نہایت ضروری ہے اگر آپ ﷺ کے اندر یہ نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس آپ ﷺ تندخو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کی بجائے آپ ﷺ سے دور بھاگتے۔ اس لئے آپ درگزر سے ہی کام لیتے رہئیے۔
159۔ 2 یعنی مسلمانوں کی طیب خاطر کے لئے مشورہ کرلیا کریں۔ اس آیت سے مشاورت کی اہمیت، افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ مشاورت کا یہ حکم بعض کے نزدیک وجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے (ابن کثیر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–161
55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر…
Read the full tafseer →8 یعنی فرض کرو تم سفر یا جہاد میں نہ نکلے اور فی الحال موت سے بچ گئے مگر ضروری ہے کہ کبھی نہ کبھی مروگے یا مارے جاؤ گے پھر بہرحال خدا کے سامنے سب کو جمع ہونا ہے۔ اس وقت پتہ چل جائے گا کہ جو خوش قسمت اللہ کی راہ میں نیک کام کرتے ہوئے مرے یا مارے گئے تھے ان کو خدا تعالیٰ کی بخشش و مہربانی سے کیسا وافر حصہ ملا، جس کے سامنے تمہاری دنیا کی کمائی اور جمع کی ہوئی دولت و ثروت سب ہیچ ہے۔ الحاصل اگر منافقین ہی کا قول تسلیم کرلیا جائے کہ گھر سے نہ نکلتے تو نہ مارے جاتے، تب بھی سراسر خسارہ تھا، کیونکہ اس صورت میں اس موت سے محروم رہ جاتے جس پر ایسی ایسی لا کھوں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں، بلکہ جو حقیت…
Read the full tafseer →آیت 158 وَلَءِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِلَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ
چاہے تمہیں اپنے بستروں پر موت آئے اور چاہے تم قتل ہو ‘ ہر حال میں تمہیں اللہ کی جناب میں حاضر کردیا جائے گا۔ تمہاری آخری منزل تو وہی ہے ‘ خواہ تم بستر پر پڑے ہوئے دم توڑ دو یا میدان جنگ کے اندر جام شہادت نوش کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
152 اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا خود مرجائے یعنی اسے گھر پر طبعی موت آئے دونوں صورتوں میں اللہ کے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ اب منافق یا کافر کی زندگی یا تادیر زندہ رہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دنیوی مفادات اور مال و دولت جمع کرسکے۔ اس کے برعکس مومن کو دونوں صورتوں میں جو اللہ کی مغفرت اور رحمت میسر ہوگی وہ اس مال و دولت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ جسے یہ لوگ دن رات جمع کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنی آخرت کی فکر سے یکسر غافل ہیں۔
Read the full tafseer →322 ۔ سو مومن کے لیے تو کوئی خوف وہراس کی بات ہی نہیں) (آیت) ” متم “ یعنی طبعی موت سے اپنے وطن میں وفات پاگئے۔ (آیت) ” قتلتم “۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں مارے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
فَبِمَا رَحْمَۃ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ (الآیۃ) نبی ﷺ خلق عظیم کے پیکر تھے، اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر ایک احسان عظیم فرما رہے ہیں کہ آپ کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور نہ نرمی، دعوت و تبلیغ کے لیے نہایت ضروری ہے اگر آپ کے اندر یہ وصف نہ ہوتا بلکہ اس کے برعکس آپ ﷺ تندخو، سخت دل، تلخ سخن ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کے بجائے آپ ﷺ سے دور بھاگتے۔ اس لیے آپ عفو و درگذر سے کام لیتے رہیے۔
شَاوِرْھُمْ فِی الاآمْرِ ، یعنی مسلمانوں کی دل جوئی اور تطییب خاطر کے لیے ان سے مشورہ کرلیا کیجئے اس آیت سے مشورہ کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے…
Read the full tafseer →و لئن متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون اور اللہ کی راہ میں اگر تم مرگئے یا مارے گئے خواہ کسی طور پر ہو تو اللہ ہی کی طرف تمہارا حشر ضرور ہوگا کسی دوسرے کے پاس جانا نہ ہوگا اس لیے تم کو امکانی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ کی محبت تم کو حاصل ہوتا کہ مرنے کے بعد تم فراق کے قید خانہ سے چھوٹ کر بار گاہ محبوب تک پہنچ جاؤ۔
Read the full tafseer →(158) یاد رکھو موت خواہ سفر یا اقامت یا جہاد کہیں بھی آئے مرنے کے بعد آخرکار تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے جمع کیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ۔۔ الخ : اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت، یعنی فی سبیل اللہ کا ذکر تھا، جس پر رحمت و مغفرت کی خوش خبری تھی، اب یہاں عمومی موت اور قتل کا ذکر ہے (جس طرح بھی واقع ہو) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے، اگر تمہاری زندگی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور اسی کی راہ میں موت ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
آیت نمبر 157 تا 158۔
جواب الجزاء محذوف ہے، اور یہ جواب قسم کے سبب اس سے مستغنی ہے اور جواب قسم اس قول میں ہے : (آیت) ” لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ “۔ اور جواب قسم کے سب مستغنی ہونا اولی اور بہتر ہے کیونکہ اس کے لئے صدر کلام (ضروری) ہے اور اس کا معنی ہے۔ لیغفرن لکم “ وہ ضرور بہ ضرور تمہاری مغفرت فرما دے گا۔
اور اہل حجاز کہتے ہیں : متم، میم کے کسرہ کے ساتھ جیسا کہ نمتم ہے، یہ مات یمات سے ماخوذ ہے جیسا کہ خفت یخاف ہے، اور سفلی مضرکہتے ہیں : متم، یہ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے جیسا کہ صمتم، اور یہ مات یموت سے ماخوذ ہے، جیسا کہ تیرا قول : کان یکون اور قال، یقول، یہ کو فیوں کا قول ہے اور یہ اچھا ہے، اور قولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
رسول اللہ ﷺ کی شفقت ومہربانی
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فبما رحمۃ من اللہ “ سے مراد ہے کہ اس رحمت کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لفظ آیت ” ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک فرمایا ترش روئی سے اور سختی سے اور آپ کو رؤف رحیم بنا دیا ایمان والوں کے لیے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ محمد ﷺ کی تعریف تورات شریف میں بھی یوں تھی کہ نہ تو آپ برے اخلاق والے ہوں گے اور نہ آپ سخت دل والے ہوں گے اور نہ آپ بازاروں میں چلانے والے ہوں گے اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معاف کردیں گے اور…
Read the full tafseer →[وَلَئِنْ : اور اگر ] [مُّـتُّمْ : تم لوگ مرتے ہو ] [اَوْ قُتِلْتُمْ : یا قتل کیے جاتے ہو ] [لَاِالَی اللّٰہِ : تو اللہ کی طرف ہی ] [تُحْشَرُوْنَ : اکٹھا کیے جائو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت دنیاوی سامان سے بہتر ہے :
پھر فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں اگر قتل ہوگئے یا اللہ کی راہ میں مرگئے تو یہ کوئی نقصان کا سودا نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا سبب ہے اور اللہ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جو کچھ ایسی باتیں کرنے والے جمع کرتے ہیں۔ دنیا کے لالچی دنیا ہی کے لیے سوچتے ہیں اور اسی دنیا کو دوسروں کے لیے پسند کرنے کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ مزید زندگی پالیتے کچھ پیسہ اور کما لیتے اور یہ پیسہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کے سامنے کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم مرگئے یا مقتول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ممانعت از مشابہت کفار۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین آمنو لا تکونو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تحشرون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کا یہ مقولہ نقل فرمایا تھا کہ لو کان لنا من الامرشئی ما قتلنا ھھنا۔ آیت۔ یہ مقولہ ان منافقین کا تھا جو جنگ احد میں شریک تھے جس کی تردید گزرچکی اب ان آیات میں اسی قسم کا ایک اور مقولہ منافقین کا ذکر کرتے ہیں وہ مقولہ یہ ہے کہ، لوکانو عندنا ماماتو۔ آیت۔ لیکن یہ مقولہ ان منافقین کا ہے کہ جو جنگ میں شریک نہ تھے چونکہ اس قوسم کے اقوال سے کمزور مسلمانوں کو ایسے اقوال اور احوال میں کافروں کی مشابہت اور موافقت سے منع فرماتے ہیں کہ مبادا ایسی باتوں کے سننے سے ایمان والوں کا قدم نہ پھسل…
Read the full tafseer →242 اگر تم طبعی موت مرجاؤ یا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہوجاؤ تو تمہارے لیے خوف وہراس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ تم موت اور قتل کے بعد خدائے غفور روحیم کی بارگاہ میں حاضر کیے جاؤ گے جو تمہیں اپنی رحمت اور بخشش سے نوازے گا آخرت میں خدا کی رحمت ومغفرت کے امیدوار صرف تم ایمان والے ہو کفار، مشرکین اور منافقین آخرت میں رحمت ومغفرت کے بجائے خدا کے غضب و عقاب کا موردبنیں گے۔ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا سے یہاں تک خطاب ایمان والوں سے ہے لیکن اس سے منافقین کا زجر بھی مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ ایک بات یہ کہ اے مسلمانو ! صبر و استقلال سے کام لینا اور اللہ کے فرستادہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنا۔ اور دوسری بات یہ کہ کافروں کا کہنا نہ ماننا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور خاص طور پر منافقین کے غلط پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہونے کی تلقین کی ہے۔ غزوہ احد میں تین سو منافق ابتداء ہی میں لشکر اسلام سے علیحدہ ہوگئے جو کہ صریح غداری تھی۔ پھر ان میں سے جو لوگ شریک جنگ بھی ہوئے ، وہ بھی دل شکستگی کے ساتھ ، گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِالَى اللہِ تُحْشَرُوْنَ 158
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست،
الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے
حشر
الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي :
«النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال :
حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ترکیب : غزًی مشدد جمع غاز والقیاس غزٰۃ کقاض و قضاۃ لیکن فعل کے وزن پر صحیح پر محمول ہو کر آیا ہے۔ لو کانوا شرط ما ماتوا جواب جملہ مقولہ ہے قالوا لاخوانہم کا لیجعل کالام محذوف سے متعلق ہے اے اوقع ذلک فی قلوبہم لیجعلہ حسرۃ اور جعل بمعنی صیّرممکن ہے کہ لام عاقبت ہو۔ ولئن شرط متم جمہور بضم میم پڑھتے ہیں وھوالقیاس لان الفعل منہ یموت اور بعض نے بالکسر پڑھا ہے لمغفرت جواب۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ منافق کہتے ہیں اگر جنگ میں ہم کو کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ اس کا جواب دے کر یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم ایسے سست اعتقاد اور عالم اسباب پر توکل کرنے والے نہ بنو جیسا کہ منکران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
وَلَئِنْ قُتِلْـتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْمُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ وَلَئِنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْـتُمْ لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔
(اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے یا مرگئے تو اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ اور اگر تم مرگئے یا قتل ہوگئے ہرحال میں اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے) (157 تا 158)
ایک نوید جانفزا
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں سے خطاب فرماکر ایک نہایت دلنواز بات فرمائی گئی ہے کہ ان کافروں اور منافقوں کو تو چھوڑو زندگی اور موت کے بارے میں ان کے تصورات دنیا میں بھی ان کے لیے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
فہم القرآن
ربط کلام : احد میں درّہ والوں کی کوتاہی اور صحابہ کے منتشر ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا۔ جس پر نبی کریم ﷺ نے صبر و حوصلہ کا مظاہرہ فرمایا۔ اس پر آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کی تعریف کی گئی اور خطا کرنے والوں کو معاف کردینے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی بخشش کی دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔
اُحد میں تین سو منافقوں کا واپس لوٹنا، درّے والوں کا درّہ خالی کرنا ‘ گھمسان کے رن میں صحابہ کی اکثریت کا آپ کو تنہا چھوڑ جانا ‘ اس قدر ذاتی اور جماعتی نقصان کا اٹھانا۔ ان میں کوئی ایک معاملہ بھی نبی کریم ﷺ کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایسے موقعہ پر بڑے سے بڑا بہادر اور حوصلہ مند انسان کا پِتّہ پانی ہوجایا…
Read the full tafseer →جس کو مقصود ملا اس کو زاد کی ضرورت نہیں :
158: وَلَپنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْتُمْ لَاِ الَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (اگر تم مر جائو یا قتل کردیے جائو تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف تمہارا حشر ہوگا) یعنی وسیع رحمت، عظیم ثواب دینے والی ذات کی طرف تمہیں اکٹھا کیا جائے گا۔
لطیف نکتہ :
یہاں اسم باری تعالیٰ لا یا گیا اور اس سے قبل آنے والے حرف پر لام تاکید کا داخل کر کے ایک عجیب شان کلام میں پیدا کردی جو دلیل سے بےنیاز ہے۔ یعنی خواہ موت کسی طریق سے ہو اللہ ہی کی طرف تمہارا حشر ضرور ہونا ہے۔ کسی دوسرے کے پاس جانا نہ ہوگا۔ اس لئے تابحد امکان اس کا قرب حاصل کرلو تاکہ کل قید فراق سے چھوٹ کر اس محبوب کی بارگاہ…
Read the full tafseer →158۔ (آیت)” ولئن متم اوقتلتم لا الی اللہ تحشرون “۔ آخر ہی کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
(156 ۔ 158) ۔ اوپرذکر تھا کہ احد کی شکست کے وقت کچے مسلمان طرح طرح کی پریشانی اور ہراسگی کی باتیں کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان کا سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت کہیں نہیں ٹلتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہوجائے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت اور افسوس کے کلمات ان منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
آیت 156-158
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں : (اذا ضربوا فی الارض) یعنی جب تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے ہیں (اوکانوا غزی) یا وہ غزوات کے لئے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر پر اعتراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔ اے پیغمبر ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو) یہاں یہ کہا گیا ہے کہ حرف، ما، صلہ کے معنی دے رہا ہے یعنی فبرحمۃ من اللہ قتادہ سے اس قول کی روایت کی گئی ہے جیسا کہ یہ ارشاد باری ہے (عما قلیل لیصبحن ناد مین جلد ہی یہ لوگ نادم ہوجائیں گے) نیز قول باری ہے (فبما نقضھم میثاقھم، ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے میثاق کو توڑدینے کی بناپر) اس پر اہل لغت کا اتفاق ہے ان کا قول ہے کہ یہ حرف تاکید کے معنی دیتا ہے اور اس سے الفاظ کی نشست میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اعشیٰ کا شع رہے۔
؎ اذھبی ماالیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
331 ایمان والوں کے ایک خاص تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ! خبردار کہیں تم ان کافروں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے بھائیوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ یعنی ان منافق لوگوں کی طرح جو کہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر اندر سے کافر ہیں۔ (روح، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ پس تم ان کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا اور خبردار کہیں ان کی طرح نہیں ہوجانا کہ ایسے لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس ارشاد ربانی کے ذریعے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو کفار و منافقین کی روش کی تقلید اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
منافقوں کی چال اور موت وحیات کا مسئلہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ منافقین کا پورا زور اس بات پر رہا کہ مسلمانوں کو بد دل اور دین سے پھیر دینے کا انتظام کیا جائے۔ اوپر کی آیات میں موت وحیات کی بات انہوں نے کی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت وحیات کا مالک تو صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔ کہیں بھی، کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے انسان مرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی لوح محفوظ (کتاب) میں لکھا جا چکا ہے اور جو جہاد میں مرے وہ خوش نصیب ہے کیونکہ شہید کے درجات اتنے بلند ہیں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مرنا اور اللہ کی طرف واپس تو ضرور جانا ہے تو کیوں نہ عزت و احترام، رحمتوں، برکتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 9 اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت کا ذکر تھا جس پر رحمت و مغفرت کی خوشخبری تھی۔ اب یہاں عمومی موت وقتل کا ذکر ہے ( یای سبب کا ن) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے۔ اگر تمہاری جو زند گی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور موت اسی کی راہ میں ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پا و گے۔ (شو کانی ک۔ المنار )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(3:157) متم۔ ماضی معروف جمع مذکر حاضر۔ موت مصدر۔ باب نصر۔ یا اگر تم مرجاؤ۔ ماضی بمعنی مضارع۔ اصل میں نصرتم کے وزن پر متتم تھا۔ پہلی ہر دو تاکو تاء ثالث میں مدغم کیا متم ہوگیا۔ مصدر میں واؤ کی رعائیت سے میم کو ضمہ دیا گیا متم ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تشریح : آیت نمبر 156 تا 158
سورۂ آل عمران کی آیات 156 ست 158 میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ اپنی گفتار میں اور انداز میں منافقین اور کافروں کی مشابھت اختیار نہ کریں۔ بلکہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے اس میں ایک لمحہ کا بھی فرق نہیں ہوسکتا۔ کفار اور منافقین کا یہ کہنا کہ اگر تم ہمارے پاس ہوتے تو ہماری حفاظت میں ہوتے اور تمہیں اس طرح موت نہ آتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارا جانا دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے کیونکہ انسان دنیا کی چند روز زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت ٹلتا نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال جمع کرنے سے بہتر ہے۔ جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہو وے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت وافسوس کے کلمات منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق اور منافق اچھی طرح لوگوں کو معلوم ہوجاویں اور اس طرح کے کلمات سے منافقوں کا رنج اور افسوس وغم اور بڑھے۔ غرض آیت میں کفار سے مراد وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–160
[60] یعنی منافقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
بہترین پونجی :
(ف 1) خدا کی راہ میں مر جانا اور جان سے کھیل جانا بہترین زاد راہ ہے جو آخرت کی کٹھن منزل میں ہمارے کام آئے گا ، وہ لوگ جو دنیا کی لذات میں ” خود فراموشی “ کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے نصب العین کو بھول جاتے ہیں ‘ ایسے بیوقوف مسافر کی طرح ہیں جو راہ کی دلچسپیوں میں پڑ کر مقصود سفر کر کھو دیتے ہیں ، اور جو شاہد مقصود تک پہنچنے کے لئے اپنی پوری قوتوں کے ساتھ کوشاں ہوتے ہیں ، وہ قطعی ساحل مراد پر پہنچ کر رہتے ہیں ، ان دو آیتوں میں شہادت کے اس متاع ثمین کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
Read the full tafseer →ف 2 ورنہ حقیقت حال یہ ہے کہ جلاتا اور مارتا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ وہ سب دیکھ رہا ہے اور تمہارا کوئی عقیدہ یا عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں مار دیئے جائو یا تم اپنی موت سے مر جائو تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وہ بخشش جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور وہ مہربانی جو تم کو حاصل ہونیوالی ہے وہ مغفرت و رحمت یقینا دنیا کی ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چیزیں یہ کافر جمع کیا کرتے ہیں اور اگر تم ویسے بھی اپنی موت سے مرگئے یا مار دیئے گئے تب بھی کیا ہے۔
بہرحال تم سب یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائو گے اس سے بچ کر تو کہیں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
ف 1۔ نرم خوئی کو رحمت کا سبب اس لیے فرمایا کہ خوش اخلاقی عبادت ہو اور عبادت کی توفیق خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہوتی ہے۔
2۔ یہ جو کہا گیا کہ خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے تو مراد ان سے وہ امور ہیں جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ورنہ بعد وحی کے پھر مشوروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
3۔ لفظ عزم میں کوئی قید نہیں لگائی اس سے معلوم ہوا کہ امور انتظامیہ متعلقہ بالرائے میں کثرت رائے کا ضابطہ محض بےاصل ہے ورنہ یہاں عز میں یہ قید ہوتی کہ بشرطیکہ آپ کا عزم کثرت رائے کے خلاف نہ ہو۔ اور مشورہ وعزم کے بعد جو توکل کا حکم فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ تدبیر منافی نہیں توکل کے کیونکہ مشورہ وعزم کا داخل تدبیر ہونا…
Read the full tafseer →تم قتل کردیے جاؤ یا طبعی موت مرو انجام کار اللہ کے ہاں جمع ہوں گے :
291 : طبعی موت مرنے یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے سے دنیوی طور پر جو فرق ہے ذرا واضح کرو ؟ موت تو بہرحال دونوں کو آگئی اور مرنے والے کو آخر دنیوی لحاظ سے کیا فرق پڑا۔ اس جسد عنصری سے روح کا پرواز کر جانا موت کہلاتا ہے تو نتیجتاً موت کی صورت تو دونوں طرح واقع ہوگئی۔ ہاں ! دینی لحاظ سے یہ فرق ہوا کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا بامقصد مرا اور اس طرح کی موت سے اس کو ابدی زندگی نصیب ہوگئی اور بھی ایسی جس میں کسی طرح حزن و ملال نہ رہا۔ اس لیے سچا مومن وہی ہے جو موت سے نہ ڈرے اور کبھی اس ڈر سے راہ حق سے قدم پیچھے نہ ہٹائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
The saying of the hypocrites in verse 156 here is an extension of what was cited in verse 154 earlier: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا :"If we had any say in the matter, we would have not been killed here." Since there were chances that sincere Muslims may be affected by such doubt-creating devices used by hypocrites, Muslims were asked through these verses to remain unconcerned with such sayings and doings and adhere to the belief that the span of life and the time of death are ordained by Allah alone.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
114. When the archers, whom the Prophet had posted to defend the army against any attack from the rear, saw that the spoils of the enemy were being collected, they feared that the spoils might fall in their entirety to the lot of the soldiers who were then collecting them, and that they might, therefore, be deprived of their share. It was this idea which had impelled them to leave their posts. When the Prophet returned to Madina after the battle he asked them to explain the cause of their disobedience. When he had heard their unconvincing stories he told them: 'You thought that we would act…
Read the full tafseer →