Explained with ayahs 156–158
باطل خیالات کی نشاندہی
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
سورة اٰلِ عِمْرٰن 114
جن تیرا ندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر حضور نے فرمایا بل ظننتم انا نغل ولا نقسم لکم۔”اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
زبط آیات
پچھلی آیتوں میں منافقین کا یہ قول بیان کیا گیا تھا کہ لوکان لنا من الامر شیء ما قتلناھما، یعنی اگر ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور ہماری رائے مانی جاتی تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے جس کو آگے بھی نقل کیا گیا ہے، ایسے اقوال کے سننے سے یہ احتمال تھا کہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شک و شبہات نہ پیدا ہوجائیں، اس لئے مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کو ایسے اقوال و احوال سے پرہیز کرنے کی اور موت وحیات کو صرف تابع تقدیر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جو (حقیقت میں) کافر ہیں (گو ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے ہوں) اور کہتے ہیں اپنے (ہم نسب یا ہم مشرک) بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تفسیر آیت 156 تا 158:۔ ’ لِ ‘ کا مفہوم : وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ میں ’ لِ ‘ اس طرح کا ہے جس طرح وقال الذین کفرو للذین امنوا لوکان خیرا ما سبقونا الیہ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ نئی دعوت کوئی خیر و برکت والی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہیں کرسکتے تھے) میں ہے۔ یعنی بابت اور متعلق کے معنی میں۔ ’ اخوان ‘ سے مراد بھائی بند اور تعلق و رشتہ کے لوگ ہیں۔ ’ غزی ‘ غازی کی جمع ہے۔ ’ لیجعل ‘ سے پہلے اس کا متعلق محذوف ہے۔ یعنی یہ بات جو ان کے ذہن میں گھسی ہوئی ہے یہ اس لیے گھسی ہوئی ہے کہ ان کی منافقت کی وجہ سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ یہ بدعقیدگی…
Read the full tafseer →157۔ 1 موت تو ہر صورت آنی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی مغفرت و رحمت کا مستحق قرار پائے تو یہ دنیا کے مال اسباب سے بہت بہتر ہے جس کے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اس لئے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے گریز نہیں، اس میں رغبت اور شوق ہونا چاہیے کہ اس طرح رحمت و مغفرت الٰہی یقینی ہوجاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–161
55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر…
Read the full tafseer →76 یعنی اسی کی راہ میں۔
Read the full tafseer →آیت 157 وَلَءِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
اگر دنیا میں دس پندرہ سال اور جی لیتے تو کیا کچھ جمع کرلیتے ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں شہادت کی موت دے دی ‘ تمہارے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوگی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
152 اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے یا خود مرجائے یعنی اسے گھر پر طبعی موت آئے دونوں صورتوں میں اللہ کے حضور ہی پیش ہونا ہے۔ اب منافق یا کافر کی زندگی یا تادیر زندہ رہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دنیوی مفادات اور مال و دولت جمع کرسکے۔ اس کے برعکس مومن کو دونوں صورتوں میں جو اللہ کی مغفرت اور رحمت میسر ہوگی وہ اس مال و دولت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ جسے یہ لوگ دن رات جمع کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنی آخرت کی فکر سے یکسر غافل ہیں۔
Read the full tafseer →321 ۔ (حظوظ دنیوی میں سے) مطلب یہ ہے کہ موت تو اپنے وقت موعود ہی پر آئے گی جہاد یا سفر فی سبیل اللہ سے خواہ مخواہ تو آنہ جائے گی البتہ اگر اس حالت میں وقت ہی پورا ہوگیا تو اجر اور ابدی زندگی کی نعمتیں بیشمار ہیں، (آیت) ” اومتم “۔ یعنی چاہے وہ موت طبعی ہی ہو لیکن مشغولی اس وقت اللہ کے کام میں ہو۔
Read the full tafseer →وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (الآیۃ) موت تو بہرحال آنی ہی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پائے تو دنیا کے مال و اسباب سے بہتر ہے جسکے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اسلیے اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز نہیں بلکہ اس میں شوق ورغبت ہونا چاہیے کہ اس طرح اللہ کی رحمت و مغفرت یقینی ہوجاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔
Read the full tafseer →ولئن قتلتم فی سبیل اللہ اومتم اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے بھی گئے یا مرگئے نافع حمزہ اور کسائی کے نزدیک مِتُّمْ مِتُّ مِتْنَا ہر جگہ بکسر میم باب خاف یخاف (سمع یسمع) سے ہے اور ابن کثیر و ابو عمرو ابن عامر و ابوبکر کے نزدیک بضم میم۔ باب نصر ینصر سے ہے حفص کے نزدیک مُتُّمْ یہاں دونوں جگہ نصر ینصر سے بضم میم ہے۔ باقی مقامات پر مِتُّ مِتْنَا بکسر میم۔
لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ خیر مما یجمعون یہ کلام جواب قسم ہے اور جزاء شرط کے قائم مقام ہے یعنی سفر اور جہاد کو موت اور زندگی میں دخل نہیں اللہ ہی حیات بخش اور موت آفریں ہے لیکن ظاہری طور پر اگر سفر و جہاد موت کا سبب نظر آتا بھی ہے تب بھی ایسی موت جس…
Read the full tafseer →(157) اے گروہ منافیقن اگر تم اپنے گھروں میں ہی میں ایمان قبول کرکے مرتے تو یہ چیز تمہارے گناہوں کی مغفرت اور رحمت خداوندی کا باعث ہوجاتی ؟ اور تمہارے دنیاوی اموال سے بہتر ہوتی۔
Read the full tafseer →یعنی اگر تمہارا مرنا یا قتل ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقیناً تمہارے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنے گا اور یہ مغفرت و رحمت اس مال و متاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں، یہ ان کے شبہ کا دوسرا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
آیت نمبر 157 تا 158۔
جواب الجزاء محذوف ہے، اور یہ جواب قسم کے سبب اس سے مستغنی ہے اور جواب قسم اس قول میں ہے : (آیت) ” لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ “۔ اور جواب قسم کے سب مستغنی ہونا اولی اور بہتر ہے کیونکہ اس کے لئے صدر کلام (ضروری) ہے اور اس کا معنی ہے۔ لیغفرن لکم “ وہ ضرور بہ ضرور تمہاری مغفرت فرما دے گا۔
اور اہل حجاز کہتے ہیں : متم، میم کے کسرہ کے ساتھ جیسا کہ نمتم ہے، یہ مات یمات سے ماخوذ ہے جیسا کہ خفت یخاف ہے، اور سفلی مضرکہتے ہیں : متم، یہ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے جیسا کہ صمتم، اور یہ مات یموت سے ماخوذ ہے، جیسا کہ تیرا قول : کان یکون اور قال، یقول، یہ کو فیوں کا قول ہے اور یہ اچھا ہے، اور قولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
رسول اللہ ﷺ کی شفقت ومہربانی
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فبما رحمۃ من اللہ “ سے مراد ہے کہ اس رحمت کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لفظ آیت ” ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک فرمایا ترش روئی سے اور سختی سے اور آپ کو رؤف رحیم بنا دیا ایمان والوں کے لیے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ محمد ﷺ کی تعریف تورات شریف میں بھی یوں تھی کہ نہ تو آپ برے اخلاق والے ہوں گے اور نہ آپ سخت دل والے ہوں گے اور نہ آپ بازاروں میں چلانے والے ہوں گے اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معاف کردیں گے اور…
Read the full tafseer →[وَلَئِنْ : اور اگر ] [قُتِلْتُمْ : تم لوگ قتل کیے جاتے ہو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [اَوْ مُــتُّمْ : یا مرتے ہو ] [لَـمَغْفِرَۃٌ : تویقینا مغفرت ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَرَحْمَۃٌ : اور رحمت ] [خَیْـرٌ : بہتر ہے ] [مِّمَّا : اس سے جو ] [یَجْمَعُوْنَ : یہ لوگ جمع کرتے ہیں ]
ل ی ن
لَانَ (ض) لَـیْنًا : نرم ہونا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
لَــیِّنٌ (صفت) : نرم ‘ ملائم۔ { فَقُوْلَا لَــہٗ قَوْلًا لَّــیِّــنًا } (طٰہٰ :44) ” تو تم دونوں کہنا اس سے نرم بات۔ “
لِیْنَـۃٌ (اسم ذات) : کھجور کا درخت (عجوہ کھجور کے علاوہ) ۔ { مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت دنیاوی سامان سے بہتر ہے :
پھر فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں اگر قتل ہوگئے یا اللہ کی راہ میں مرگئے تو یہ کوئی نقصان کا سودا نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا سبب ہے اور اللہ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جو کچھ ایسی باتیں کرنے والے جمع کرتے ہیں۔ دنیا کے لالچی دنیا ہی کے لیے سوچتے ہیں اور اسی دنیا کو دوسروں کے لیے پسند کرنے کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ مزید زندگی پالیتے کچھ پیسہ اور کما لیتے اور یہ پیسہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کے سامنے کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم مرگئے یا مقتول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ممانعت از مشابہت کفار۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین آمنو لا تکونو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تحشرون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کا یہ مقولہ نقل فرمایا تھا کہ لو کان لنا من الامرشئی ما قتلنا ھھنا۔ آیت۔ یہ مقولہ ان منافقین کا تھا جو جنگ احد میں شریک تھے جس کی تردید گزرچکی اب ان آیات میں اسی قسم کا ایک اور مقولہ منافقین کا ذکر کرتے ہیں وہ مقولہ یہ ہے کہ، لوکانو عندنا ماماتو۔ آیت۔ لیکن یہ مقولہ ان منافقین کا ہے کہ جو جنگ میں شریک نہ تھے چونکہ اس قوسم کے اقوال سے کمزور مسلمانوں کو ایسے اقوال اور احوال میں کافروں کی مشابہت اور موافقت سے منع فرماتے ہیں کہ مبادا ایسی باتوں کے سننے سے ایمان والوں کا قدم نہ پھسل…
Read the full tafseer →241 لَئِنْ قَتَلْتُمْ کی جزا محذوف ہے۔ یعنی فلا تحزنوا۔ اور مَغْفِرۃ ةٌالخ جزاء محذوف کی علت ہے اور یَجْمَعُوْنَ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کی طرف راجع ہے کفار اور منافقین چونکہ دنیا کے بندے تھے ان کی ساری دوڑ دھوپ بس صرف دنیوی فوائد کے لیے تھے اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ ان کی عمریں بہت لمبی ہوں اور وہ دنیا میں رہ کر خوب مزے کریں۔ سفر میں مرنے والوں اور اللہ کی راہ میں شہید ہونیوالوں کے بارے میں ان کا مذکورہ قول جہاں ان کے باطنی خیالات اور قلبی رجحانات کو طشت ازبام کرتا ہے وہاں اس سے یہ بھی ممکن تھا کہ کہیں مسلمانوں کے دلوں میں کم ہمتی یا جہاد سے جی چرانے کا وسوسہ پیدا ہوجائے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ ایک بات یہ کہ اے مسلمانو ! صبر و استقلال سے کام لینا اور اللہ کے فرستادہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنا۔ اور دوسری بات یہ کہ کافروں کا کہنا نہ ماننا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور خاص طور پر منافقین کے غلط پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہونے کی تلقین کی ہے۔ غزوہ احد میں تین سو منافق ابتداء ہی میں لشکر اسلام سے علیحدہ ہوگئے جو کہ صریح غداری تھی۔ پھر ان میں سے جو لوگ شریک جنگ بھی ہوئے ، وہ بھی دل شکستگی کے ساتھ ، گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ قُتِلْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرَحْمَۃٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ 157
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ترکیب : غزًی مشدد جمع غاز والقیاس غزٰۃ کقاض و قضاۃ لیکن فعل کے وزن پر صحیح پر محمول ہو کر آیا ہے۔ لو کانوا شرط ما ماتوا جواب جملہ مقولہ ہے قالوا لاخوانہم کا لیجعل کالام محذوف سے متعلق ہے اے اوقع ذلک فی قلوبہم لیجعلہ حسرۃ اور جعل بمعنی صیّرممکن ہے کہ لام عاقبت ہو۔ ولئن شرط متم جمہور بضم میم پڑھتے ہیں وھوالقیاس لان الفعل منہ یموت اور بعض نے بالکسر پڑھا ہے لمغفرت جواب۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ منافق کہتے ہیں اگر جنگ میں ہم کو کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ اس کا جواب دے کر یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم ایسے سست اعتقاد اور عالم اسباب پر توکل کرنے والے نہ بنو جیسا کہ منکران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
وَلَئِنْ قُتِلْـتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْمُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ وَلَئِنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْـتُمْ لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔
(اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے یا مرگئے تو اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ اور اگر تم مرگئے یا قتل ہوگئے ہرحال میں اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے) (157 تا 158)
ایک نوید جانفزا
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں سے خطاب فرماکر ایک نہایت دلنواز بات فرمائی گئی ہے کہ ان کافروں اور منافقوں کو تو چھوڑو زندگی اور موت کے بارے میں ان کے تصورات دنیا میں بھی ان کے لیے عذاب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق قتل ہوں یا طبعی موت مریں ان کے لیے حسرتیں ہیں مسلمان شہید ہوں یا فطری موت مریں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دنیا کی کوئی دولت مقابلہ نہیں کرسکتی۔
یہاں تجزیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص جو اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے میدان کار زار میں اترتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے یا اسے اللہ تعالیٰ کی سمع و اطاعت میں طبعی موت آجاتی ہے اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کی فرو گزاشتوں کو اپنے کرم سے معاف فرمائیں گے اور اس کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اپنی رحمت سے نوازیں گے۔ یہ اجر وثواب دنیا کی دولت و ثروت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جس کو…
Read the full tafseer →یہ مغفرت و رحمت لاکھوں زندگیوں سے بہتر ہے :
157: وَلَپنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْمُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جائو یا مر جائو) ۔
قراءت : کوفی قراء نافع، حمزہ، کسائی نے مِتُّمْ مِتّ باب سمع سے ہر جگہ پڑھا۔ مگر عاصم نے اس طرح نہیں پڑھا، حفص نے اس سورت کے علاوہ دیگر مقامات پر کسرہ سے پڑھا ہے گویا انہوں نے اس کو قتلتم کے ساتھ ملادیا ہے۔ باقی تمام قراء نے میم کے ضمہ مُتُّمْ باب نصر سے تمام قرآن مجید میں پڑھا ہے اس کی نظیر مات یموت اور مات یمات ہے۔ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 157۔ـ:
(آیت)” ولئن قتلتم فی سبیل اللہ اومتم “۔ نافع (رح) ، حمزہ (رح) ، اور کسائی (رح) ، نے ” متم “ میم کے کسرہ کے ساتھ ، بعض نے میم کے ضمہ کے ساتھ اس صورت میں اس کا مصدر مات یموت سے ہوگا ، یہ اس طرح ہے جیسے کوئی کہے ، ” قال یقول “۔ اور جو حضرات کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ مصدر ” مات یمات “ سے ہے ، ” خاف یخاف “ کی طرح (آیت)” لمغفرۃ من اللہ “ اس کے انجام میں بخشش ہے (آیت)” ورحمۃ خیر مما یجمعون “۔ ان سے مراد مال غنیمت ہے، بعض حضرات نے ” تجمعون “ پڑھا ہے ، حفص (رح) اور عاصم (رح) ، نے ” یجمعون “ یاء ساتھ پڑھا ہے جو مغفرت مسلمانوں کو حاصل ہوئی وہ بہتر ہے اس چیز سے جو لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
(156 ۔ 158) ۔ اوپرذکر تھا کہ احد کی شکست کے وقت کچے مسلمان طرح طرح کی پریشانی اور ہراسگی کی باتیں کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان کا سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت کہیں نہیں ٹلتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہوجائے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت اور افسوس کے کلمات ان منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
آیت 156-158
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں : (اذا ضربوا فی الارض) یعنی جب تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے ہیں (اوکانوا غزی) یا وہ غزوات کے لئے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر پر اعتراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔ اے پیغمبر ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو) یہاں یہ کہا گیا ہے کہ حرف، ما، صلہ کے معنی دے رہا ہے یعنی فبرحمۃ من اللہ قتادہ سے اس قول کی روایت کی گئی ہے جیسا کہ یہ ارشاد باری ہے (عما قلیل لیصبحن ناد مین جلد ہی یہ لوگ نادم ہوجائیں گے) نیز قول باری ہے (فبما نقضھم میثاقھم، ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے میثاق کو توڑدینے کی بناپر) اس پر اہل لغت کا اتفاق ہے ان کا قول ہے کہ یہ حرف تاکید کے معنی دیتا ہے اور اس سے الفاظ کی نشست میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اعشیٰ کا شع رہے۔
؎ اذھبی ماالیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
331 ایمان والوں کے ایک خاص تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ! خبردار کہیں تم ان کافروں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے بھائیوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ یعنی ان منافق لوگوں کی طرح جو کہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر اندر سے کافر ہیں۔ (روح، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ پس تم ان کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا اور خبردار کہیں ان کی طرح نہیں ہوجانا کہ ایسے لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس ارشاد ربانی کے ذریعے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو کفار و منافقین کی روش کی تقلید اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
منافقوں کی چال اور موت وحیات کا مسئلہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ منافقین کا پورا زور اس بات پر رہا کہ مسلمانوں کو بد دل اور دین سے پھیر دینے کا انتظام کیا جائے۔ اوپر کی آیات میں موت وحیات کی بات انہوں نے کی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت وحیات کا مالک تو صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔ کہیں بھی، کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے انسان مرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی لوح محفوظ (کتاب) میں لکھا جا چکا ہے اور جو جہاد میں مرے وہ خوش نصیب ہے کیونکہ شہید کے درجات اتنے بلند ہیں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مرنا اور اللہ کی طرف واپس تو ضرور جانا ہے تو کیوں نہ عزت و احترام، رحمتوں، برکتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 7 اس میں ان کے شبہ کا اصل جواب ہے کہ موت وحیات تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے پس جنگ یا سفر سے گریز کرنا موت سے نہیں بچا سکتا8 یعنی اگر تمہارا مرنا یا قتل ج ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقینا تمہارے لیے مغفرت اور حمت کا سبب بنے اور یہ مغفرت و رحمت اس مال ومتاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں یہ ان کی شبہ کا دوسرا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(3:157) متم۔ ماضی معروف جمع مذکر حاضر۔ موت مصدر۔ باب نصر۔ یا اگر تم مرجاؤ۔ ماضی بمعنی مضارع۔ اصل میں نصرتم کے وزن پر متتم تھا۔ پہلی ہر دو تاکو تاء ثالث میں مدغم کیا متم ہوگیا۔ مصدر میں واؤ کی رعائیت سے میم کو ضمہ دیا گیا متم ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تشریح : آیت نمبر 156 تا 158
سورۂ آل عمران کی آیات 156 ست 158 میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ اپنی گفتار میں اور انداز میں منافقین اور کافروں کی مشابھت اختیار نہ کریں۔ بلکہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے اس میں ایک لمحہ کا بھی فرق نہیں ہوسکتا۔ کفار اور منافقین کا یہ کہنا کہ اگر تم ہمارے پاس ہوتے تو ہماری حفاظت میں ہوتے اور تمہیں اس طرح موت نہ آتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارا جانا دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے کیونکہ انسان دنیا کی چند روز زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت ٹلتا نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال جمع کرنے سے بہتر ہے۔ جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہو وے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت وافسوس کے کلمات منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق اور منافق اچھی طرح لوگوں کو معلوم ہوجاویں اور اس طرح کے کلمات سے منافقوں کا رنج اور افسوس وغم اور بڑھے۔ غرض آیت میں کفار سے مراد وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–160
[60] یعنی منافقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
بہترین پونجی :
(ف 1) خدا کی راہ میں مر جانا اور جان سے کھیل جانا بہترین زاد راہ ہے جو آخرت کی کٹھن منزل میں ہمارے کام آئے گا ، وہ لوگ جو دنیا کی لذات میں ” خود فراموشی “ کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے نصب العین کو بھول جاتے ہیں ‘ ایسے بیوقوف مسافر کی طرح ہیں جو راہ کی دلچسپیوں میں پڑ کر مقصود سفر کر کھو دیتے ہیں ، اور جو شاہد مقصود تک پہنچنے کے لئے اپنی پوری قوتوں کے ساتھ کوشاں ہوتے ہیں ، وہ قطعی ساحل مراد پر پہنچ کر رہتے ہیں ، ان دو آیتوں میں شہادت کے اس متاع ثمین کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
ف 1 اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا اور ان لوگوں کی سی باتیں نہ کرنا جو کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں یعنی منافق ہیں اور اپنے بھائیوں کے متعلق جب وہ بھائی کہیں ملک میں سفر کو نکلیں یا وہ کسی غزوے میں غازی بن کر شریک ہوں اور اتفاقاً وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے بھائی ہمارے ہی پاس رہتے اور سفر میں یا جہاد میں نہ جاتے تو یہ لوگ نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ بات اس لئے کہتے ہیں اور اس کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اس بات کو موجب حسرت بنا دے اور ان کے قلوب میں پشیمانی اور افسوس کا سبب کر دے۔ (تیسیر)
غزی غازی کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
ف 1۔ نرم خوئی کو رحمت کا سبب اس لیے فرمایا کہ خوش اخلاقی عبادت ہو اور عبادت کی توفیق خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہوتی ہے۔
2۔ یہ جو کہا گیا کہ خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے تو مراد ان سے وہ امور ہیں جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ورنہ بعد وحی کے پھر مشوروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
3۔ لفظ عزم میں کوئی قید نہیں لگائی اس سے معلوم ہوا کہ امور انتظامیہ متعلقہ بالرائے میں کثرت رائے کا ضابطہ محض بےاصل ہے ورنہ یہاں عز میں یہ قید ہوتی کہ بشرطیکہ آپ کا عزم کثرت رائے کے خلاف نہ ہو۔ اور مشورہ وعزم کے بعد جو توکل کا حکم فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ تدبیر منافی نہیں توکل کے کیونکہ مشورہ وعزم کا داخل تدبیر ہونا…
Read the full tafseer →طبعی موت مرنا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنا ہو سکتا ہے :
290 : اس آیت نمبر 156 اور آیت 157 کا مضمون ملتا جلتا ہے دونوں آیات میں مُتُّمْ اور قُتِلْتُمْ کے الفاظ بھی موجود ہیں اور دونوں کا مضمون بھی مشترک ہے تاہم ایک باریک فرق نظر آتا ہے اس آیت زیرنظر میں یعنی آیت نمبر 156 میں فرمایا کہ اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے جاؤں یا طبعی موت مر جاؤ یعنی اس جگہ مر جانے سے مراد بھی اللہ کی راہ میں ہی مر جانا ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں کام کرتا ہوا انسان قتل بھی ہو سکتا ہے اور طبعی موت بھی مر سکتا ہے۔ بلاشبہ صحابہ کرام ؓ میدان کارزار میں بھی قتل ہوئے لیکن کثیر تعداد ان صحابہ کرام ؓ کی تھی جو طبعی موت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
The saying of the hypocrites in verse 156 here is an extension of what was cited in verse 154 earlier: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا :"If we had any say in the matter, we would have not been killed here." Since there were chances that sincere Muslims may be affected by such doubt-creating devices used by hypocrites, Muslims were asked through these verses to remain unconcerned with such sayings and doings and adhere to the belief that the span of life and the time of death are ordained by Allah alone.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
114. When the archers, whom the Prophet had posted to defend the army against any attack from the rear, saw that the spoils of the enemy were being collected, they feared that the spoils might fall in their entirety to the lot of the soldiers who were then collecting them, and that they might, therefore, be deprived of their share. It was this idea which had impelled them to leave their posts. When the Prophet returned to Madina after the battle he asked them to explain the cause of their disobedience. When he had heard their unconvincing stories he told them: 'You thought that we would act…
Read the full tafseer →