Explained with ayahs 156–158
باطل خیالات کی نشاندہی
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت وحیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضا و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
سورة اٰلِ عِمْرٰن 113
یعنی یہ باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قضاء الہٰی کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی۔ مگر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور سب کچھ تدبیروں ہی پر موقوف سمجھتے ہیں ان کے لیے اس قسم کے قیاسات بس داغ حسرت بن کر رہ جاتے ہیں اور وہ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں کہ کاش یوں ہوتا تو یہ ہوجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
زبط آیات
پچھلی آیتوں میں منافقین کا یہ قول بیان کیا گیا تھا کہ لوکان لنا من الامر شیء ما قتلناھما، یعنی اگر ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور ہماری رائے مانی جاتی تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے جس کو آگے بھی نقل کیا گیا ہے، ایسے اقوال کے سننے سے یہ احتمال تھا کہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شک و شبہات نہ پیدا ہوجائیں، اس لئے مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کو ایسے اقوال و احوال سے پرہیز کرنے کی اور موت وحیات کو صرف تابع تقدیر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جو (حقیقت میں) کافر ہیں (گو ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے ہوں) اور کہتے ہیں اپنے (ہم نسب یا ہم مشرک) بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تفسیر آیت 156 تا 158:۔ ’ لِ ‘ کا مفہوم : وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ میں ’ لِ ‘ اس طرح کا ہے جس طرح وقال الذین کفرو للذین امنوا لوکان خیرا ما سبقونا الیہ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ نئی دعوت کوئی خیر و برکت والی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہیں کرسکتے تھے) میں ہے۔ یعنی بابت اور متعلق کے معنی میں۔ ’ اخوان ‘ سے مراد بھائی بند اور تعلق و رشتہ کے لوگ ہیں۔ ’ غزی ‘ غازی کی جمع ہے۔ ’ لیجعل ‘ سے پہلے اس کا متعلق محذوف ہے۔ یعنی یہ بات جو ان کے ذہن میں گھسی ہوئی ہے یہ اس لیے گھسی ہوئی ہے کہ ان کی منافقت کی وجہ سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ یہ بدعقیدگی…
Read the full tafseer →156۔ 1 اہل ایمان کو اس فساد عقیدہ سے روکا جا رہا ہے جس کے حامل کفار اور منافقین تھے کیونکہ یہ عقیدہ بذدلی کی بنیاد ہے اس کے برعکس جب یہ عقیدہ ہو کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نیز یہ کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو اس سے انسان کے اندر عزم اور حوصلہ اور اللہ کی راہ میں لڑنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
156۔ 2 مذکورہ فساد عقیدہ دلی حسرت کا ہی سبب بنتا ہے کہ اگر وہ سفر میں یا میدان جنگ میں نہ جاتے بلکہ گھر میں ہی رہتے تو موت کی آغوش میں جانے سے بچ جاتے۔ درآنحالیکہ موت تو مضبوط قلعوں کے اندر بھی آجاتی ہے۔ اس لئے اس حسرت سے مسلمان ہی بچ سکتے ہیں جن کے عقیدے صحیح ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–161
55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →اب اس مضمون کا خاتمہ موت وحیات کی حقیقت کے بیان کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں کفار اور منافقین کے خیالات کس قدر کھوٹے ہیں ۔ اہل ایمان کو پکار کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا تصور حیات ‘ ان کے تصور حیات سے بالکل جدا کرلیں ۔ آخر میں مشکلات اور قربانیوں کی ایک مختلف قدر و قیمت بتائی جاتی ہے ۔ فرماتے ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ يُحْيِي…
Read the full tafseer →2 یعنی تم ان کافر منافقوں کی طرح ایسے لغو خیالات کو زنہار دل میں جگہ نہ دینا کہ گھر میں بیٹھے رہتے تو نہ موت آتی، نہ مارے جاتے۔
3 چونکہ منافقین ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے، اس لئے مسلمانوں کو اپنا بھائی کہا، یا اس لئے کہ نسبی طور پر وہ اور انصار مدینہ برادری کے بھائی بند تھے۔ اور چونکہ یہ بات خیر خواہی و ہمدردی کے پیرایہ میں کہتے تھے اس لئے لفظ اخوان سے تعبیر کیا گیا۔
4 یعنی خواہ مخواہ باہر نکل کر مرے۔ ہمارے پاس اپنے گھر پڑے رہتے تو کیوں مرتے یا کیوں مارے جا تے۔ یہ کہنا اس غرض سے تھا کہ سننے والے مسلمانوں کے دل میں حسرت و افسوس پیدا ہو کہ واقعی بےسوچے سمجھے نکل کھڑے ہونے اور لڑائی کی آگ میں…
Read the full tafseer →آیت 156 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ کَانُوْا غُزًّی لَّوْ کَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْا ج
ہر شخص کی موت کا وقت تو معین ہے۔ وہ اگر تمہاری گود میں بیٹھے ہوں تب بھی موت آجائے گی۔ چاہے وہ بہت ہی مضبوط پہرے والے قلعوں میں ہوں موت تو وہاں بھی پہنچ جائے گی۔ تو تم اس طرح کی باتیں نہ کرو۔ یہ تو کافروں کے انداز کی باتیں ہیں کہ اگر ہمارے پاس ہوتے اور جنگ میں نہ جاتے تو بچ جاتے۔ یہ ساری باتیں درحقیقت ایمان کے منافی ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فَاِنَّ لَوْ…
Read the full tafseer →149 یہاں کافروں سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ بظاہر ایمان لانے والے اور دلوں میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔
150 ایسا عقیدہ رکھنا یا ایسی بات زبان سے نکالنا عقیدہ تقدیر کے خلاف ہے جو ایمان بالغیب کا چھٹا جزو ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ لوگ کافر ہوئے۔ کیونکہ موت کا وقت بھی معین ہے اور جگہ بھی۔ کچھ بھی ہو موت اپنے وقت پر آئے گی اور آ کے رہے گی۔ اس کے وقت میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے اسی طرح جہاں مرنا مقدر ہے وہاں خود ہی انسان کسی حیلے بہانے جاپہنچتا ہے اور جب موت کا وقت نہ آیا ہو، تو انسان خواہ غزوات میں پوری زندگی گزار دے۔ اسے موت نہیں آتی۔ چناچہ حضرت خالد بن ولید جنہوں نے زندگی بھر…
Read the full tafseer →316 ۔ (لیکن زبان پر دعوی اسلام و ایمان کا رکھتے ہیں) مراد منافقین ہیں۔ یعنی المنافقین (بیضاوی) ھولآء المنافقون اصحاب عبداللہ بن ابی (ابن جریر عن السدی) (آیت) ” لاتکونوا کالذین کفروا “۔ ہدایت مومنین کو ہورہی ہے کہ تم اپنی گفتگو میں منافقین کے مثل نہ ہوجاؤ ان کی سی باتیں نہ کرنے لگو، اس قسم کی باتیں صرف ان ایمان سے محروموں کے شایان ہے۔ نھی تعالیٰ ال مومنین ان یکونوا مثلھم فی ھذہ المقالۃ الفاسدۃ (بحر) امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہاں منافقین پر (آیت) ” الذین کفروا “۔ کا اطلاق ہوا ہے، حالانکہ منافقین کو زبانی دعوی اسلام کا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ مجرد دعوائے اسلام ایمان کے لیے کافی نہیں جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–156
آیت نمبر 156 تا 171
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور…
Read the full tafseer →یا یھا الذینامنوا لا تکونوا کالذین کفروا اے اہل ایمان تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کفر کیا۔ کافروں سے مراد ہیں عبد اللہ بن ابی اور اسکے ساتھی منافق۔
منافقوں کی طرح نہ ہوجانے کا حکم اس لیے دیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم (کے افکار و اعمال اس کی) مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں سے ہوگا۔ اس حدیث کو حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ابو داؤد نے مرفوعاً اور حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے طبرانی نے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ خصوصاً ایسی مشابہت (سے تو اجتناب فرض ہے) جو موجب کفر ہو اس جگہ جس مشابہت کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ موجب کفر ہی ہے کیونکہ یہ تقدیر کا انکار ہے اور تقدیر کا انکار…
Read the full tafseer →(156) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! لڑائی میں عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کی طرح مت ہوجاؤ کہ وہ راستہ ہی میں سے مدینہ منورہ لوٹ گئے اور پھر اپنے منافق ساتھیوں سے آکر کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ (صحابہ کرام ؓ اجمعین) محمد ﷺ کے ساتھ کسی سفر یا جہاد میں نہ جاتے اور مدینہ میں ہمارے ساتھ رہتے تو سفر اور جہاد میں نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔
ان کا یہ خیال اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے لیے افسوس و حسرت کا باعث کردیا، سفر میں بھی اللہ تعالیٰ زندہ رکھتا ہے اور اقامت میں بھی موت دے دیتا ہے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا۔۔ : غُزًّى : یہ ”غَازٍ“ کی جمع ہے، جو ”غَزَا یَغْزُ“ سے اسم فاعل ہے، بمعنی لڑنے والے، جیسے ”رَاکِعٌ“ کی جمع ”رُکَّعٌ“ آتی ہے۔ مسلمانوں کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے نفاق کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ گندہ عقیدہ صرف دل ہی میں نہیں رکھتے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے جو بھائی جہاد کے سفر میں فوت ہوگئے یا لڑتے ہوئے مارے گئے، اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے۔ ان کا یہ عقیدہ اور قول اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں حسرت و افسوس کا باعث بنائے رکھے گا۔ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے اس لیے روکا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 156۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین کفر “۔ مراد منافقین ہیں۔
(آیت) ” وقالوا لاخوانھم “۔ یعنی جو نفاق میں یا نسب میں (ان کے بھائی تھے) اور ان سرایا میں گئے جنہیں حضور نبی مکرم ﷺ نے بئر معونہ کی طرف بھیجا (انہیں کہتے تھے)
(آیت) ” لو کانو عندنا ما ماتوا وما قتلوا “۔
ترجمہ ؛ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔
تو اس میں مسلمانوں کو انکی مثل قول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” اذا ضربوا “ یہ زمانہ ماضی کے لئے ہے، یعنی اذ ضربوا “ ، (جب انہوں نے سفر کیا) کیونکہ کلام میں شرط کا معنی ہے اس حیثیت سے کہ (آیت) ” الذین “ مبہم غیر…
Read the full tafseer →(1) الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وقالوا لاخوانہم اذا ضربوا فی الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قول عبد اللہ بن ابی سلول اور منافقوں کا ہے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تکونوا کالذین کفروا وقالوا لاخوانہم “ سے عبد اللہ بن ابی کے منافق ساتھ مراد ہیں (اور) ” اذا ضربوا فی الارض “ سے تجارت مراد ہے (کہ یہ لوگ جب تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں) ۔
(3) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لو کانوا عندنا ما توا وما قتلوا “ یہ کافروں کا قول ہے جب کوئی آدمی (لڑائی میں) شہید…
Read the full tafseer →[یٰٓـــاَیـُّــھا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تَـکُوْنُوْا : تم لوگ مت ہوجانا ] [کَالَّذِیْنَ : ان کی مانند جنہوں نے ] [کَفَرُوْا : کفر کیا ] [وَقَالُــوْا : اور کہا ] [لِاِخْوَانِہِمْ : اپنے بھائیوں کے لیے ] [اِذَا : جب ] [ضَرَبُوْا : وہ لوگ نکلے ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [اَوْ : یا ] [کَانُوْا : وہ لوگ تھے ] [غُزًّی : جنگ کرنے والے ] [لَّــوْ : (کہ) اگر ] [کَانُوْا : وہ لوگ ہوتے ] [عِنْدَنَا : ہمارے پاس ] [مَا مَاتُوْا : تو وہ نہ مرتے ] [وَمَا قُـتِلُوْا : اور نہ ہی وہ قتل کیے جاتے ] [لِـیَجْعَلَ : (یہ اس لیے) کہ بنائے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [ذٰلِکَ : اس کو ]…
Read the full tafseer →کافروں کی طرح نہ ہوجاؤ جن کو جہاد میں جانا پسند نہیں
بہت سے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خیر کا کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں اور جو لوگ خیر کے کاموں میں لگیں ان کو طعنے دیتے ہیں۔ اور جو خیر انہیں نصیب ہو اسے نقصان سے تعبیر کرتے ہیں جو لوگ حب دنیا میں غرق ہوں انہیں دوسروں کے آخرت کے اعمال نہیں بھاتے۔ اللہ کے لیے جو ان کی جانی یا مالی قربانی ہو وہ انہیں اچھی نہیں لگتی۔ منافقین کا یہی حال تھا انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی (نسب میں ان کے بھائی ہوتے تھے اور منافقین ظاہری طور پر دینی بھائی بھی کہلاتے تھے) جو سفر میں گئے یا جہاد میں شریک ہوئے یہ اگر یہیں ہمارے پاس رہتے، سفر میں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ممانعت از مشابہت کفار۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین آمنو لا تکونو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تحشرون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کا یہ مقولہ نقل فرمایا تھا کہ لو کان لنا من الامرشئی ما قتلنا ھھنا۔ آیت۔ یہ مقولہ ان منافقین کا تھا جو جنگ احد میں شریک تھے جس کی تردید گزرچکی اب ان آیات میں اسی قسم کا ایک اور مقولہ منافقین کا ذکر کرتے ہیں وہ مقولہ یہ ہے کہ، لوکانو عندنا ماماتو۔ آیت۔ لیکن یہ مقولہ ان منافقین کا ہے کہ جو جنگ میں شریک نہ تھے چونکہ اس قوسم کے اقوال سے کمزور مسلمانوں کو ایسے اقوال اور احوال میں کافروں کی مشابہت اور موافقت سے منع فرماتے ہیں کہ مبادا ایسی باتوں کے سننے سے ایمان والوں کا قدم نہ پھسل…
Read the full tafseer →238 اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے منافقین مراد ہیں وھم المنافقون کعبداللہ بن ابی و اصحابہ (روح ص 99 ج 4) لِاِخْوَانِھِمْ میں لام بمعنی فِیْ ہے اور اخوان سے یہاں مذہبی بھائی مراد ہیں یعنی منافقین اور اگر اخوت سے نسبی اخوت مراد ہو تو اس میں وہ مخلص مومنین بھی شامل ہوں گے جو ان کے ہم نسب تھے۔ ای فی حق اخوانھم فی النسب او فی النفاق (مدارک ص 184 ج 1) اس آیت لَااِلیَ اللہِ تُحْشَرُوْنَ تک ایمان والوں کو خطاب ہے اور ان کو ان منافقین کی طرح ہونے سے روکا گیا ہے جن کا تقدیر پر بھی ایمان نہیں تھا اور وہ اپنے ان مذہبی بھائیوں (منافقوں، یا نسبی بھائیوں (مسلمانوں) کے حق میں جو کسی تجارتی یا دوسرے سفر میں مرگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ ایک بات یہ کہ اے مسلمانو ! صبر و استقلال سے کام لینا اور اللہ کے فرستادہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنا۔ اور دوسری بات یہ کہ کافروں کا کہنا نہ ماننا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور خاص طور پر منافقین کے غلط پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہونے کی تلقین کی ہے۔ غزوہ احد میں تین سو منافق ابتداء ہی میں لشکر اسلام سے علیحدہ ہوگئے جو کہ صریح غداری تھی۔ پھر ان میں سے جو لوگ شریک جنگ بھی ہوئے ، وہ بھی دل شکستگی کے ساتھ ، گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِي الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْا 0 ۚ لِيَجْعَلَ اللہُ ذٰلِكَ حَسْرَۃً فِيْ قُلُوْبِھِمْ 0 ۭ وَاللہُ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 156
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ترکیب : غزًی مشدد جمع غاز والقیاس غزٰۃ کقاض و قضاۃ لیکن فعل کے وزن پر صحیح پر محمول ہو کر آیا ہے۔ لو کانوا شرط ما ماتوا جواب جملہ مقولہ ہے قالوا لاخوانہم کا لیجعل کالام محذوف سے متعلق ہے اے اوقع ذلک فی قلوبہم لیجعلہ حسرۃ اور جعل بمعنی صیّرممکن ہے کہ لام عاقبت ہو۔ ولئن شرط متم جمہور بضم میم پڑھتے ہیں وھوالقیاس لان الفعل منہ یموت اور بعض نے بالکسر پڑھا ہے لمغفرت جواب۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ منافق کہتے ہیں اگر جنگ میں ہم کو کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ اس کا جواب دے کر یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم ایسے سست اعتقاد اور عالم اسباب پر توکل کرنے والے نہ بنو جیسا کہ منکران…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِیْ الْاَرْضِ اَوْکَانُوْا غُزًّی لَّوْکَانُوْا عِنْدَنَا مَامَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْاج لِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں کے بابت جبکہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں اور ان کو موت آجاتی ہے کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے، یہ خیال ان کے اندر اس لیے پیدا ہوا کہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین نے اپنے عزیزوں کی موت پر حسرت وافسوس کا اظہار کیا جس پر مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ تمہیں منافقوں اور بزدلوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ موت وحیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
اے صاحب ایمان لوگو ! تمہاری سوچ اور زبان کفار جیسی نہیں ہونی چاہیے جنہوں نے اپنے رشتے داروں کو یہ کہا کہ اگر تم قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے ہاں ٹھہرے رہتے تو قتل ہونے سے بچ جاتے دراصل یہ لوگ اپنی حد سے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔ کیونکہ موت وحیات کے فیصلے صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کسی نیک کی نیکی ‘ برے کی برائی ‘ دانش مند کی دانش مندی اور محتاط کی احتیاط موت کو ٹال…
Read the full tafseer →حسرتناک قول کی ممانعت :
156: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِ خْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْکَانُوْا غُزًّی لَّوْکَانُوْا عِنْدَ نَا مَا مَا تُوْا وَمَا قُتِلُوْالِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ وَاللّٰہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اے ایمان والو ! تم کافروں کی طرح نہ بنو) جیسا عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھیوں نے کہا۔ وَقَالُوْا لِاِ خْوَانِھِمْ (وہ اپنے بھائیوں کو کہنے لگے) یعنی اپنے نسبی بھائیوں کے حق میں کہنے لگے یا نفاق میں جو ان کے ہم پیالہ ہیں۔ اِذَا ضَرَبُوْا فِی…
Read the full tafseer →156۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین کفروا “۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ (آیت)” وقالوا لاخوانھم “۔ جو اس کے بھائی منافق اور کافر تھے ، بعض نے کہا کہ جو اس کے نسبی بھائی تھے وہ مراد ہے ، (آیت)” اذا ضربوا فی الارض “ جب وہ تجارت وغیرہ کے لیے ملک میں چلیں پھریں ۔
(آیت)” اوکانو غزی “ غزاۃ جمع ہے غاز کی مطلب یہ ہے کہ سفر پر ہوں یا جہاد پر مارے جائیں یا مرجائیں ۔ (آیت)” لوکانوا عندنا ما ماتوا وما قتلوا لیجعل اللہ ذلک “۔ یعنی ان کے گمان اور ان کے قول کے مطابق ” حسرۃ ۔۔۔۔۔ بصیرا “۔ ابن کثیر (رح) ، حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، نے ” یعلمون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
(156 ۔ 158) ۔ اوپرذکر تھا کہ احد کی شکست کے وقت کچے مسلمان طرح طرح کی پریشانی اور ہراسگی کی باتیں کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان کا سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت کہیں نہیں ٹلتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہوجائے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت اور افسوس کے کلمات ان منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
آیت 156-158
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں : (اذا ضربوا فی الارض) یعنی جب تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے ہیں (اوکانوا غزی) یا وہ غزوات کے لئے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر پر اعتراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔ اے پیغمبر ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو) یہاں یہ کہا گیا ہے کہ حرف، ما، صلہ کے معنی دے رہا ہے یعنی فبرحمۃ من اللہ قتادہ سے اس قول کی روایت کی گئی ہے جیسا کہ یہ ارشاد باری ہے (عما قلیل لیصبحن ناد مین جلد ہی یہ لوگ نادم ہوجائیں گے) نیز قول باری ہے (فبما نقضھم میثاقھم، ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے میثاق کو توڑدینے کی بناپر) اس پر اہل لغت کا اتفاق ہے ان کا قول ہے کہ یہ حرف تاکید کے معنی دیتا ہے اور اس سے الفاظ کی نشست میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اعشیٰ کا شع رہے۔
؎ اذھبی ماالیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
331 ایمان والوں کے ایک خاص تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ! خبردار کہیں تم ان کافروں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے بھائیوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ یعنی ان منافق لوگوں کی طرح جو کہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر اندر سے کافر ہیں۔ (روح، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ پس تم ان کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا اور خبردار کہیں ان کی طرح نہیں ہوجانا کہ ایسے لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس ارشاد ربانی کے ذریعے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو کفار و منافقین کی روش کی تقلید اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
منافقوں کی چال اور موت وحیات کا مسئلہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ منافقین کا پورا زور اس بات پر رہا کہ مسلمانوں کو بد دل اور دین سے پھیر دینے کا انتظام کیا جائے۔ اوپر کی آیات میں موت وحیات کی بات انہوں نے کی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت وحیات کا مالک تو صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔ کہیں بھی، کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے انسان مرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی لوح محفوظ (کتاب) میں لکھا جا چکا ہے اور جو جہاد میں مرے وہ خوش نصیب ہے کیونکہ شہید کے درجات اتنے بلند ہیں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مرنا اور اللہ کی طرف واپس تو ضرور جانا ہے تو کیوں نہ عزت و احترام، رحمتوں، برکتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →ف 4 مراد منافقین ہیں جو ظاہر میں مسلمان اور درحقیقت کافر ہیں۔ ( وحیدی) ان کی طرح مت بنو یعنی ان جیسے خیا لات دل میں نہ لا و اور ان کی طرح یہ عقیدہ مت رکھو۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بئر معونہ کی طرح ایک دستہ بھیجا وہ شہید ہوگیا تو اس پر منافقین نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس قسم کے خیالات دم لانے سے منع فرمادیا۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر) اسی قسم کے خیالات کا اظہار شہدا احد کے متعلق بھی کیا گیا۔ (دیکھئے آیت 168)
5 اپنے مسلمان بھائی بندوں کے حق میں یعنی لام سببیت ہے اور ان کو اپنا بھائی کہنا نسبی رشتہ داری کی بنا پر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخوان سے ان کے…
Read the full tafseer →(3:156) غزی۔ جمع غازی واحد۔ غازی کی جمع غزاۃ بھی ہے غزو مصدر۔ غزا یغزو (نصر) ۔
ضربوا فی الارض۔ ای سافروا فی الارض لتجارۃ وغیرہا۔ یعنی تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرتے۔ ضربوا میں فاعل اخوانھم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تشریح : آیت نمبر 156 تا 158
سورۂ آل عمران کی آیات 156 ست 158 میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ اپنی گفتار میں اور انداز میں منافقین اور کافروں کی مشابھت اختیار نہ کریں۔ بلکہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے اس میں ایک لمحہ کا بھی فرق نہیں ہوسکتا۔ کفار اور منافقین کا یہ کہنا کہ اگر تم ہمارے پاس ہوتے تو ہماری حفاظت میں ہوتے اور تمہیں اس طرح موت نہ آتی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارا جانا دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے کیونکہ انسان دنیا کی چند روز زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت ٹلتا نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال جمع کرنے سے بہتر ہے۔ جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہو وے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت وافسوس کے کلمات منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق اور منافق اچھی طرح لوگوں کو معلوم ہوجاویں اور اس طرح کے کلمات سے منافقوں کا رنج اور افسوس وغم اور بڑھے۔ غرض آیت میں کفار سے مراد وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–160
[60] یعنی منافقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
بہترین پونجی :
(ف 1) خدا کی راہ میں مر جانا اور جان سے کھیل جانا بہترین زاد راہ ہے جو آخرت کی کٹھن منزل میں ہمارے کام آئے گا ، وہ لوگ جو دنیا کی لذات میں ” خود فراموشی “ کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے نصب العین کو بھول جاتے ہیں ‘ ایسے بیوقوف مسافر کی طرح ہیں جو راہ کی دلچسپیوں میں پڑ کر مقصود سفر کر کھو دیتے ہیں ، اور جو شاہد مقصود تک پہنچنے کے لئے اپنی پوری قوتوں کے ساتھ کوشاں ہوتے ہیں ، وہ قطعی ساحل مراد پر پہنچ کر رہتے ہیں ، ان دو آیتوں میں شہادت کے اس متاع ثمین کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
ف 1 اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا اور ان لوگوں کی سی باتیں نہ کرنا جو کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں یعنی منافق ہیں اور اپنے بھائیوں کے متعلق جب وہ بھائی کہیں ملک میں سفر کو نکلیں یا وہ کسی غزوے میں غازی بن کر شریک ہوں اور اتفاقاً وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے بھائی ہمارے ہی پاس رہتے اور سفر میں یا جہاد میں نہ جاتے تو یہ لوگ نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ بات اس لئے کہتے ہیں اور اس کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اس بات کو موجب حسرت بنا دے اور ان کے قلوب میں پشیمانی اور افسوس کا سبب کر دے۔ (تیسیر)
غزی غازی کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →ف 5۔ اوپر منافقین کا قول نقل کیا تھا چونکہ ایسے اقوال سننے سے احتمال ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس قسم کے وساوس پیدا ہونے لگیں اس لیے حق تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے اقوال اور ایسے احوال سے ممانعت فرماتے ہیں۔
6۔ اس سفر سے دینی کام کے لیے سفر کرنا مراد ہے۔
Read the full tafseer →جس طرح کفر و نفاق برا ہے اس طرح ان کی مصاحبت بھی بری ہے :
288 : فرمایا یہ محاورہ عام ہے کہ ” صحبت صالح ترا صالح کند و صحبت طالع ترا طالع کند “ کہ اچھی صحبت کا اثر بھی اچھا ہی ہوتا ہے اور اس طرح بری صحبت کا اثر بھی یقینا برا ہی ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو کافروں اور منافقوں کی سی باتوں اور ان کی مصاحبت سے بھی روکا گیا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ کفر و نفاق کی صحبت سے تم بھی ان باتوں اور ان افعال کے مرتکب ہوجاؤ گے اور اس طرح کفر و نفاق تم کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ فرمایا کہ یہ کفار و منافقین ایسے لوگ ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں کہ ان کے بھائی بند دوست و احباب تجارت کے لیے یا اپنے اسلامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
The saying of the hypocrites in verse 156 here is an extension of what was cited in verse 154 earlier: لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا :"If we had any say in the matter, we would have not been killed here." Since there were chances that sincere Muslims may be affected by such doubt-creating devices used by hypocrites, Muslims were asked through these verses to remain unconcerned with such sayings and doings and adhere to the belief that the span of life and the time of death are ordained by Allah alone.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
113. Such ideas had no solid ground. God's decree regarding the time of one's death cannot be deferred. Those who lack faith in God and think that everything is dependent on their own scheming and effort rather than on the overpowering Will of God become victims of perpetual remorse, since they never cease to reflect how a slightly different circumstance or slightly altered strategy could have led to an altogether different and wholesome result.
Read the full tafseer →