Explained with ayahs 159–164
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لئے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کردیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے ہیں ما صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ) 4۔ النسآء :155) میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لئے نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں یہ حضور ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
سورة اٰلِ عِمْرٰن 114
جن تیرا ندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر حضور نے فرمایا بل ظننتم انا نغل ولا نقسم لکم۔”اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
معارف و مسائل
مال غنیمت میں چوری گناہ عظیم ہے کسی نبی سے ایسے گناہ کا احتمال نہیں
آیت ماکان لنبی ان یغل، ایک خاص واقعہ کے متعلق آئی ہے، اس کے ضمن میں غلول، یعنی مال غنیمت کی چوری کا مسئلہ بھی آ گیا۔
واقعہ حسب روایت ترمذی یہ ہے کہ غزوہ بدر میں مال غنیمت میں ایک چادر گم ہوگئی، بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو، یہ کہنے والے یہ سمجھا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کا اختیار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں غلول کا گناہ عظیم ہونا اور قیامت کے روز اس کی سزائے شدید کا ذکر ہے اور یہ کہ کسی نبی کے متعلق یہ گمان کرنا کہ اس نے یہ گناہ کیا ہوگا نہایت بیہودہ جسارت ہے، کیونکہ انبیاء ہر گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
161 تا 163: لفط ’ غل ‘ کا صحیح مفہوم : ”غل یغل غلولا“ کے معنی خیانت، بد عہدی اور بےوفائی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل لفظ ’ نصح ‘ کا ضد ہے جس کے معنی خیر خواہی اور خیر سگالی کے ہیں۔ اصحابِ لغت میں سے زجاج نے مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ کی تشریح، جیسا کہ صاحب لسان العرب نے تصریح کی ہے، مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ یخون امتہ کے الفاظ سے کی ہے۔ لفظ غل جو قرآن میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے، غِش، عداوت، ضغن (کینہ) حقد اور حسد کے معنی استعمال ہوا ہے (لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا) اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں آئی۔
آنحضرت ﷺ پر منافقین کا الزام اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
161۔ 1 جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال دوسرے لپیٹ کرلے جائیں گے اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا کیا تمہیں قائد غزوہ محمد ﷺ کی امانت پر اطمینان نہیں۔ یاد رکھو کہ ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں کیونکہ خیانت، نبوت کے منافی ہے۔ اگر نبی ہی خائن ہو تو پھر اس کی نبوت پر یقین کیونکر کیا جاسکتا ہے ؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–161
55: شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی ؛ کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو بالآخر آنحضرت ﷺ ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا ؛ کیونکہ کوئی نبی مال غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →اس کے بعد بات نبوت اور خصائص نبوت کی طرف چلی جاتی ہے تاکہ اس موضوع کے بعد امانت ودیانت کے بارے میں کچھ ہدایات دی جائیں ‘ مثلاً یہ کہ مال غنیمت میں کسی قسم کی بددیانتی اور چوری سخت معیوب چیز ہے ۔ اور یہ کہ جو شخص بھی اجتماعی امانتوں میں بددیانتی کرے گا وہ اس کا حساب دے گا۔ اور ہر شخص کا حق اسے پورا پورا دیا جائے گا۔
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ
” کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرجائے ……اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر…
Read the full tafseer →2 اس سے غرض یا تو مسلمانوں کی پوری طرح خاطر جمع کرنا ہے، تاکہ یہ وسوسہ نہ لائیں کہ شاید حضرت نے ہم کو بظاہر معاف کردیا اور دل میں خفا ہیں پھر کبھی خفگی نکالیں گے ؟ یہ کام نبیوں کا نہیں کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ، یا مسلمانوں کو سمجھانا ہے کہ حضرت کی عظمت اور عصمت و امانت کو پوری طرح مستحضر رکھیں، آپ ﷺ کی نسبت کبھی کوئی لغو اور بیہودہ خیال نہ لائیں۔ مثلاً یہ گمان نہ کریں کہ غنیمت کا کچھ مال چھپا رکھیں گے ؟ (العیاذ باللہ) شاید یہ اس واسطے فرمایا کہ وہ تیرانداز غنیمت کے لئے مورچہ چھوڑ کر دوڑے تھے، کیا حضرت ﷺ ان کو حصہ نہ دیتے ؟ یا بعضی چیزیں چھپا رکھتے ؟ اور بعض روایات میں ہے کہ بدر کی لڑائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
آیت 161 وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط
غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کا چوری کرلینا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نے مال غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبی ﷺ ‘ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔ البتہ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دراصل منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے…
Read the full tafseer →157 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداًء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہوجانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ اموال غنیمت میں ہمارا حصہ…
Read the full tafseer →330 ۔ یعنی یہ شان نبوت کے بالکل منافی ہے۔ المراد ان النبوۃ والخیانۃ لایجتمعان (کبیر) والمعنی انہ لایمکن ذلک منہ لان الغلول معصیۃ والنبی ﷺ معصوم وھذا النفی اشارۃ الی انہ لاینبغی ان یتوھم فیہ ذلک (بحر) آیت کا پس منظر ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہورہا تھا تو ایک سرخ رنگ کا جبہ ذخیرہ سے غائب معلوم ہوا۔ اس پر کوئی بول اٹھا کہ رسول اللہ ﷺ نے لے لیا ہوگا، یہ قول اب اگر کسی منافق کا تھا تو اس بدبخت نے کھلا ہوا حملہ رسول اللہ ﷺ کی دیانت پر کردیا اور اگر کسی نومسلم کی زبان سے نکلا تھا تو وہ یقیناً اس غلط فہمی میں تھا کہ رسول اللہ کو بغیر اطلاع بھی تصرف کا حق حاصل ہے۔ آیت ہر مفروضہ کی تردید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّغُلَّ (الآیۃ) جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا کٰال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے سمیٹ لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا ؟ کیا تمہیں اپنے قائد محمد ﷺ پر اطمینان نہیں ؟ یاد رکھو ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن نہیں ہے کیوں کہ خیانت نبوت کے منافی ہے، اگر نبی ہی خائن ہو تو اس کی نبوت پر کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے ؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے۔ احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ جن تیر اندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے…
Read the full tafseer →و ما کان لنبی ان یغل مال غنیمت میں خیانت کرنا نبی ﷺ سے بعید ہے۔ غلول مال غنیمت میں خیانت کرنا۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے اس آیت کا نزول وحی کے متعلق ہوا مطلب یہ ہے کہ کسی لالچ یا خوف یا سہل انگاری کی وجہ سے وحی کا کچھ حصہ ظاہر نہ کرنا نبی ﷺ کے لیے جائز نہیں۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ کچھ طاقتور لوگوں نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ سے مال غنیمت کی طلب کی اس پرا اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا کہ کسی گروہ کو دے اور کسی کو نہ دے نبی کے لیے جائز نہیں بلکہ مساوات کے ساتھ سب کو تقسیم کرنا اس پر لازم ہے۔ ابو داؤد، ترمذی نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس…
Read the full tafseer →(161) مجاہدین نے احد کے دن غنیمت کے حاصل کرنے میں جو مورچہ چھوڑ دیا تھا اور بعض منافقوں کا گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ مال غنیمت میں کچھ تقسیم نہیں کرتے، اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی بھی نبی کے لیے یہ چیز ہرگز جائز نہیں کہ وہ مال غنیمت میں اپنی امت کے ساتھ خیانت کرے اور اگر کوئی بھی غنیمت میں سے کسی چیز کو رکھ لے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر لاد کر لائے گا اور وہاں اس کی سزا ملے گی، جہاں نہ کسی کی نیکیاں کم کی جائیں گی اور نہ گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا ،
شان نزول : (آیت) ”وما کان لنبی ان یغل“۔ (الخ)
ابوداؤد ؒ اور ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔
2 جنگ احد کے دوران میں جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کرلے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تمہیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمہیں نبی ﷺ کی امانت پر اطمینان نہیں ! یاد رکھو ! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ”تقسیم میں ناانصافی“ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 161۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) جب احد کے دن تیراندازوں نے اپنے مرکز کو خالی کیا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اس خوف سے کہ مسلمان مال غنیمت کے والی بن جائیں گے اور انہیں کوئی شے بھی نہیں دی جائے گی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا کہ نبی مکرم ﷺ تقسیم میں زیادتی نہیں کریں گے، پس تمہارا کوئی حق نہیں ہے کہ تم انہیں متہم کرو، اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض غزوات میں لشکر بھیجے پھر ان کے آنے سے پہلے مال غنیمت حاصل کرلیا، پس اسے لوگوں میں تقسیم کردیا، اور لشکروں کے لئے تقسیم نہ کیا، (یعنی انہیں کوئی حصہ نہ دیا) تو اللہ…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہوگیا تھا بعض لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے اس کو لے لیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “۔
(2) اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ یوں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” ما کان لنبی ان یغل “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کیوں نہیں یہ آیت ایک ٹکڑے کے بارے میں نازل ہوئی لوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس کو بدر کے دن اپنے لیے رکھ لیا تھا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ اتارا لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر…
Read the full tafseer →[وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے ] [لِنَبِیٍّ : کسی نبی کے لیے ] [اَنْ یَّغُلَّ : کہ وہ چھپائے (کچھ بھی) ] [وَمَنْ : اور جو کوئی ] [یَّـغْلُلْ : چھپائے گا ] [یَاْتِ : تو وہ لائے گا ] [بِمَا : اس کو جو ] [غَلَّ : اس نے چھپایا ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ثُمَّ : پھر ] [تُوَفّٰی : پور اپورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر نفس کو ] [مَّا : جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَہُمْ : اور وہ ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے ]
Read the full tafseer →جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن ساتھ لے کر آئے گا
تفسیر درمنثور صفحہ 51: ج 2 میں ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر مال غنیمت میں سے ایک سرخ چادر نہیں مل رہی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ غلول کرے ؟ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ غلول کا اصل معنی یہ ہے کہ خفیہ طریقہ سے کوئی چیز لے لی جائے۔ پھر یہ لفظ مال غنیمت میں سے کوئی چیز چرا لینے کے لیے مخصوص کردیا گیا اس کو غلول بھی کہا جاتا ہے۔ اور مطلق خیانت کو بھی غلول کہتے ہیں کیونکہ اس میں ایک طرح سے خفیہ طریقے پر دوسرے کا مال اپنا مال بنا لیا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
قال تعالیٰ وماکان لنبی ان یغل۔۔۔۔۔ الی۔۔ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ آیت۔
اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ ذرہ برابر بھی خیانت کرے منصب نبوت کے ساتھ خیانت جمع نہیں ہوسکتی لہذا لوگوں کو چاہیے کہ نبی کی عظمت و حرمت اور عصمت وامانت کو مستحضر رکھیں اور کوئی لفظ زبان سے ایسا نہ نکالیں جو منصب نبوت کے خلاف ہو اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔
1۔ ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ میں ابن عباس سے مروی ہے کہ بدر کے دن غنیمت میں سے ایک سرخ چادر گم ہوگئی اس پر کسی شخص نے کہا شاید رسول اللہ نے لے لی ہوگی یہ کہنے والا کوئی منافق تھا جیسا کہ بعض روایات میں خود ابن عباس سے…
Read the full tafseer →247 ۔ یہاں سے لے کر وَاللہُ بَصِیْرٌ بِمَایَعْمَلُوْنَ تک منافقین کے لیے زجر اور ان کا شکوہ ہے جنگ بدر کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کیا جارہا تھا اس وقت ایک جبہ یا چادر ذخیرہ غنیمت سے غائب پایا گیا تو بعض منافقین نے کہہ دیا کہ رسول نے لے لیا ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بطور زجر فرمایا کہ مال غنیمت سے اس طرح بلا اطلاع کوئی چیز لے لینا تو صریح خیانت ہے اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرلے۔ جواب کے اس طرز سے اشارہ فرمادیا کہ نبوت اور خیانت کسی ایک شخص میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ خیانت ایک جرم اور کبیرہ گناہ ہے اور انبیاء (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تذکرہ فرمایا تھا۔ کہ آپ کا حسن اخلاق کامیابی کی دلیل ہے۔ اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں بھی اللہ کا عام قانون یہی ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ۔ کہ تبلیغ اسلام کا فریضہ اچھے طریقے سے اور خوش اخلاقی سے انجام دو ۔ حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ تم ایک اکھڑ مزاج اور ظالم قوم کے پاس جا رہے ہو۔ فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی۔ لہذا فرعون کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرجائے۔ غرضیکہ اسلام نے ہمیشہ خوش خلقی کی تعلیم دی ہے۔
حضور ﷺ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ 0 ۭ وَمَنْ يَّغْلُلْ يَاْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۚ ثُمَّ تُوَفّٰي كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 161
غل ( خيانت)
: ما يلبس بين الثّوبین، فالشّعار : لما يلبس تحت الثّوب، والدّثار : لما يلبس فوقه، والْغُلَالَةُ : لما يلبس بينهما . وقد تستعار الْغُلَالَةُ للدّرع کما يستعار الدّرع لها، والْغُلُولُ : تدرّع الخیانة، والغِلُّ : العداوة . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] ، وَلا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنا إِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ الحشر/ 10] . وغَلَّ يَغِلُّ : إذا صار ذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ترکیب : لنبی خبر ماکان ان یغل اسم ومن شرطیہ یات جواب۔ افمن من بمعنی الذی مرفوع ہے بسبب مبتداء ہونے کے۔ کمن باء خبر ھم مبتداء درجات ای ذو درجات خبر۔
تفسیر : عصمتِ آنجناب۔ : پہلے تھا کہ ان کو مشورہ میں شریک کرلیا کرو مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان کردیا کہ اگر نبی ایسے امور میں مشورہ نہ کرے اور مصالح اور اسرار سلطنتِ آسمانی تم پر ظاہر نہ کرے کہ جو تمہارے فہم سے بالا ہیں تو تم کو یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ پیغمبر نے خیانت کرلی۔ کس لئے کہ نبی خدا کا امین ہے۔ اس کی شان خیانت نہیں کیونکہ نبی کو حق الیقین ہے کہ جو کوئی دنیا میں خیانت کرے گا قیامت کو اس کی خیانت ظاہر کی جاوے گی اور پھر ہر شخص کو اس کے…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ج ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔
(اور ایک نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے دن آئے گا۔ پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پوراپورا بدلہ ملے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے) (161)
غلول کا مفہوم اور یہاں اس سے مراد ؟
غَلَّ یَغُلُّ کا مصدر ہے غَلُوْلٌ۔ عام طور پر مال غنیمت میں کسی طرح کی خیانت یا چوری پر غلولکا لفظ بولا جاتا ہے۔ لیکن یہ لفظ عام خیانت، بدعہدی اور بےوفائی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ نَصَحَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ منافقین رسول محترم ﷺ کو پریشان اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بدر کے موقع پر ایک قیمتی چادر سامان میں آگے پیچھے ہوگئی تو منافقوں نے یہ کہہ کر بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے اس کو اپنے لیے رکھ لیا ہوگا۔
بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن یہ بدگمانی آپ کی ذات اطہر کے بارے میں تھی اس لیے سخت اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی وضاحت کی گئی۔ اگر اس موقعہ پر یا وہ گوئی کرنے والوں کی زبانیں بند نہ کی جاتیں تو آئندہ چل کر کسی بڑی خیانت کا الزام بھی آپ کی ذات پر چسپاں کیا جاسکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور…
Read the full tafseer →مقام نبوت غلول (خیانت) کے منافی :
161: وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ ۔ (مال غنیمت میں خیانت کرنا پیغمبر ﷺ سے بعید ہے) یَّغْلُلْ خیانت کرنے کے معنی میں ہے۔
قراءت : ابو عمرو، مکی، عاصم نے یَغُلَّپڑھا اور دیگر قراء نے یُغَلَّپڑھا ہے
کہا جاتا ہے : غلّ شیئا من المغنم غلولا واغلّ اغلالاً ۔ جب مال غنیمت میں سے کوئی چیز خفیہ لی جائے۔ اغلّہ بولتے ہیں جب کسی کی نسبت خیانت کی طرف کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے مناسب نہیں یعنی مقام نبوت غلول کے منافی ہے۔ جنہوں نے اسے مجہول پڑھا تو اس…
Read the full tafseer →(آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ کا شان نزول)
161۔ (آیت)” وما کان لنبی ان یغل “۔ عکرمہ ؓ اور مقسم ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت کا شان نزول اس سرخ دھاری دار چادر کے متعلق ہوا جو بدر کے دن گم ہوگئی تھی ، اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ نے لے لی ، کلبی (رح) ، اور مقاتل (رح) ، کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول غزوہ احد کی مال غنیمت کے متعلق ہوا جب مال غنیمت جمع کرنے کے لیے تیر اندازوں نے گھاٹی کے مرکز کو چھوڑ دیا تھا ، اور کہنے لگے کہ ہم کو خوف ہے کہ کہیں آپ ﷺ یہ نہ ارشاد فرما دیں کہ جس نے جو چیز لی ہو وہ اسی کی ہے اور بدر کی لڑائی کی طرح آج بھی مال غنیمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
(161 ۔ 164) ۔ ابو داؤد اور ترمذی و طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 2 اس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کچھ چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعض مسلمانوں نے یہ بد گمانی کی کہ شاید آنحضرت کے کام میں وہ چیز آگئی ہوگی۔ دوسرے بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا اور جنگ کی بےعنوانیوں کو اس لڑائی کے ذکر میں تذکرہ فرمانے سے یہ مراد ہے کہ اس لڑائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
آیت 161
یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا تھا۔ اخلاق واطوار کے لحاظ سے انہیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
خیانت بہت بڑاجرم ہے
قول باری ہے (وماکان لنبی ان یغل ۔ کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کرجائے) ایک قرات، می لفظ (یغل) کو حرف یاء کی رفع کے ساتھ پڑھاگیا ہے جس کے معنی یخان ، خیانت کیا جائے کے ہیں، حضور ﷺ کے ساتھ خیانت کیے جاتے کا خصوصی طور سے ذکر ہوا ہے۔ اگرچہ سب انسانوں کے ساتھ خیانت ممنوع ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ خیانت کرنا کسی اور کے ساتھ خیانت کرنے کے مقابلے میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ قول بارے ہے (فاجتنبوالرجس من الاوثان واجتنبواقول الزور۔ تبوں کی گندگی سے بچو اورجھوٹ بولنے سے پرہیز کرو) اگرچہ برقسم کی گندگی سے ہمیں بچنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن بت برستی کی گندگی،…
Read the full tafseer →342 خیانت کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہوسکتا : کہ نبوت اور خیانت دونوں یکجا نہیں ہوسکتیں کہ نبوت کا شرف سب سے بڑا اور سب سے عظیم الشان شرف ہے جس سے اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے کسی بندے کو اپنے کرم خاص سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے۔ وہاں خیانت جیسی گھٹیا خصلت راہ پا ہی نہیں سکتی۔ ترمذی وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر ایک چادر کہیں گم ہوگئی تو بعض لوگوں نے کہا کہ شاید اللہ کے رسول نے لے لی ہو تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ترمذی کتاب التفسیر) ۔ نیز اس ارشاد ربانی کے عموم میں یہ بات بھی داخل ہے بلکہ اس کے الفاظ و کلمات کریمہ کے ظاہر اور تبادر کے زیادہ قریب ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
رسول اللہ ﷺ کی شان اور خوبیاں
تشریح : یہ آیات بھی غزوہ ٔ احد کے بارے میں ہیں جب آنحضرت ﷺ نے تیر اندازوں سے پوچھا کہ تم نے غلطی کیوں کی ؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے سوچا ہمارے لیے مال غنیمت بچے گا ہی نہیں۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ نبی تمہارے ساتھ مال غنیمت میں خیانت کریں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں دیانت، امانت اور انصاف کے سوا کوئی فیصلہ کرے۔ پیغمبر بھلا ان لوگوں کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا ؟ وہ تو ہر معاملہ میں پوری طرح اللہ کی رضا کا تابع ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کی فرمانبرداری ہی کا حکم دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–171
آیات 156- 171
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………………اوقتلتم لا لی اللہ تحشرون۔
اسی بات ک وآگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومنین کو زیب نہیں دیتا کہ کفار کی سی حرکت کرے یا ان کی طرح سوچے اور بات کرے کیونکہ کافر کے اقوال وافعال بھی اس کے لئے اپنے اندر سزا کی کیفیت رکھتے ہیں جس طرح منافقین کا قول ہے کہ اگر ہمارے پاس ہمارے یہ بھائی رہتے اور اطاعت رسول ﷺ میں سفر اختیار نہ کرتے ، نہ جہاد میں حصہ لیتے تو ہرگز قتل نہ ہوتے اور نہ ان کی یوں موت آتی۔
یہ سوچ ، ایک کرب ہے ، ایک حسرت ہے جو دل کو جلارہی ہے ایک چبھن ہے جس سے دل بےقرار ہے اور یہ صرف کافر کا حصہ ہے ورنہ موت اور زندگی اللہ کے دست قدرت میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ف 2 اوپر کی آیات میں جہاد احدم میں جو تیر اندازی اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طر لپک پڑے تھے بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے حکم عدولی کی وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے جب کمزور ساعذر پیش کیا ہمیں ابدیشہ ہوا کہ ہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان مال غنیمت پر قبضہ کرلیں اور ہم محروم رہ جائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اظننتم انا نغل ولا نقسم کہ تم نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ ہم مال غنیمت میں غلول کریں گے اور مساوی تقسیم نہیں کرنیگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی غلول شان نبوت کے منافی ہے۔ کبیر) بعض علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ بدر کی لڑائی میں کوئی چیز غنیمت سے گم ہوگئی تو کسی شاید آپ ﷺ نے اپنے لیے رکھ لی ہوگی۔ اس پر یہ آیت…
Read the full tafseer →(3:161) ان یغل۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ صیغہ واحد مذکر غائب غل یغل (باب نصر) سے غلل غلول۔ صرف مال غنیمت میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔ ان یغل کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔
غل طوق جمع اغلال۔ اذ الاغلال فی اعناقھم (40:71) جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔ کنایہ کے طور پر مغلول الید کنحوس شخص کو کہا جاتا ہے ولا تجعل یدک معلولۃ الی عنقک (17:29) اور اپنے ہاتھ کو گردن سے بندھا ہوا نہ کرلو یعنی بہت تنگ نہ کرلو۔
توفی۔ پورا دیا جائے گا۔ توفیۃ سے وفی مادہ۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
لغات القرآن آیت نمبر 161 تا 164
ان یغل (یہ کہ وہ خیانت کرے (غلول۔ مال غنیمت میں خیانت کرنا) من یغلل (جو خیانت کرے گا) سخط (غصہ کیا) من اللہ (اللہ نے احسان کیا) ضلٰلٍ مبین (کھلی گمراہی) ۔
تشریح : آیت نمبر 161 تا 164
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن مال غنیمت میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی۔ بعض منافقین نے جو ہر وقت مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی بدخواہی میں آگے آگے رہتے تھے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت سیدھے سادھے مسلمانوں کے دلوں میں لغو اور فضول وسوسے پیدا کرنا شروع کردیئے تھے کہ مال غنیمت کی سرخ چادر رسول اللہ نے چھپا کر رکھ لی ہے۔ ان آیتوں میں فرمایا جارہا ہے کہ نبی کی شان تو ان باتوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں۔ (1) ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کوئی چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعضے مسلمانوں نے یہ بدگمانی گی کہ شاید وہ چیز آنحضرت ﷺ کے کام میں آگئی ہوگی۔
(2) دوسری بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں بےعنوانیوں کی سزا میں یہ تمہاری شکست ہو کر ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ستر قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑنے کی صلاح مسلمانوں میں جم گئی تو حضرت جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
[61] جنگ ختم ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان تیر اندازوں سے جنہیں آپ نے عقب کی حفاظت کے لئے بٹھایا تھا مورچہ چھوڑنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے جواب میں کچھ عذر پیش کئے جو نہایت کمزور تھے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا۔ تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیں گے۔ یہاں اشارہ اسی معاملے کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی (علیہ السلام) انتہا درجہ کا دیانت دار ہوتا ہے ، اس کی طرف ادنی خیانت کا انتساب بھی گناہ ہے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ ہمیں ہمارے مقررہ حق سے کچھ زاید دیا جائے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی (علیہ السلام) اس نوع کی غیر منصفانہ تقسیم کا ارتکاب نہیں کرسکتا ۔
لفظ غلول بہرحال عام ہے نبی (علیہ السلام) ہر نوع کی خیانت سے بالا ہے ۔
حل لغات :
یغل : مصدر غلول ، خیانت ، بددیانتی ۔
بآء ، لوٹا ۔ پھرا ۔
ماوی : ٹھکانا ، جگہ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
ف 3 اور نبی کی یہ شان نہیں اور نہ اس کے لئے کسی طرح یہ زیبا ہے کہ وہ معاذ اللہ کسی قسم کی کوئی خیانت کرے خواہ و مال غنیمت میں ہو یا خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کی ہو یا کسی کی خفیہ اور راز دارانہ بات میں ہو یا کسی کا قصور معاف کردینے میں ہو کیونکہ خیانت تو قیامت کے دن ذلت و رسوائی کا موجب ہے بھلا رسول ﷺ سے ایسا کام کس طرح سر زد ہوسکتا ہے جو قیامت میں ذلت و رسوائی کا سبب ہے اور خیانت و ذلت و رسوائی کا سبب اس طرح ہوگی کہ جو شخص خیانت کا مرتکب ہوگا وہ اپنی خیانت کردہ چیز کو قیامت میں لے کر حاضر ہوگا اور اس خیانت کی ہوئی چیز کو خواہ وہ اشیاء میں سے ہو یا اعمال میں سے قیامت کے دن حاضر کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ف 4۔ انبیاء علیم السلام کا امین ہونا یہاں دلیل سے ثابت کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →نبی اور خیانت ، عقل کے ناخن لو تم کون ہو اور کیا کہہ رہے ہو ؟
297: ” غل “ یغل کے معنی نقل کئے گئے ہیں اذا خان یعنی غل جس کا مضارع یغل آتا ہے اس کے معنی ہیں خیانت کرنا۔ لفظ ” غل “ جو قرآن کریم میں متعدد جگہ پر استعمال ہوا ہے وہ خیانت ‘ غشی ‘ عداوت ‘ کینہ ‘ حسد کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہ ساری چیزیں ہی نبوت کے منصب کے خلاف ہیں اور ان میں سے ہر ایک نبوت کے منافی ہے اس لئے کسی ایک کا بھی نبی مرتکب نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگوں نے اس کو غنیمت کی خیانت کے ساتھ خاص کیا ہے۔ لیکن چونکہ الفاظ عام ہیں اور قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر استعمال کئے گئے ہیں اور کسی جگہ بھی ان کو غنیمت کے مال کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
Commentary:
The verse مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ translated as, 'And it is not (conceivable) for a prophet to misappropriate the spoils - 161', has a particular back-ground of its revelation. As a corollary, the problem of 'Ghulul', that is, misappropriation in the spoils, comes into focus.
Misappropriation in the spoils: A sin which cannot be ascribed to any prophet by any stretch of imagination:
The background, as narrated by al-Tirmidhi, is that a sheet was found missing from the spoils collected in the battle of Badr. Some people said that the sheet may have been, perhaps, taken by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–161
114. When the archers, whom the Prophet had posted to defend the army against any attack from the rear, saw that the spoils of the enemy were being collected, they feared that the spoils might fall in their entirety to the lot of the soldiers who were then collecting them, and that they might, therefore, be deprived of their share. It was this idea which had impelled them to leave their posts. When the Prophet returned to Madina after the battle he asked them to explain the cause of their disobedience. When he had heard their unconvincing stories he told them: 'You thought that we would act…
Read the full tafseer →