Explained with ayahs 149–153
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 110
جب مسلمانوں پر اچانک دو طرف سے بیک وقت حملہ ہوا اور ان کی صفحوں میں ابتری پھیل گئی تو کچھ لوگ مدینہ کی طرف بھاگ نکلے اور کچھ احد پر چڑھ گئے، مگر نبی ﷺ ایک انچ اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ دشمنوں کا چاروں طرف ہجوم تھا، دس بارہ آدمیوں کی مٹھی بھر جماعت پاس رہ گئی تھی، مگر اللہ کا رسول اس نازک موقع پر بھی پہاڑ کی طرح اپنی جگہ جما ہوا تھا اور بھاگنے والوں کو پکار رہا تھا اِلَیَّ عِبَاد اللہِ اِلَیَّ عِبَادَاللہِ ، اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اللہ کے بندو میری طرف آؤ۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 111
رنج ہزیمت کا، رنج اس خبر کا کہ نبی ﷺ شہید ہوگئے، رنج اپنے کثیر التعداد مقتولوں اور مجروحوں کا، رنج…
Read the full tafseer →ربط آیات۔
یہ آیات بھی غزوہ احد کے واقعہ مذکورہ سے متعلق ہیں، پہلی آیت میں اس غم کے ازالہ کا بیان ہے، تیسری آیت میں مکرر اس کا اظہار ہے کہ اس میں جو شکست پیش آئی وہ بھی کوئی سزا نہیں، بلکہ مومنین مخلصین اور منافقین میں تفرقہ کرنے کے لئے ایک آزمائش تھی اور پھر مکرر صحابہ کرام کی لغزش کی معافی کا اعلان ہے۔
خلاصہ تفسیر
وہ وقت یاد کرو جب تم (بھاگتے ہوئے جنگل کو) چڑھے چلے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول ﷺ تمہارے پیچھے کی جانب سے تم کو پکار رہے تھے (کہ ادھر آؤ ادھر آؤ مگر تم نے سنا ہی نہیں) سو اللہ نے اس کے بدلے میں غم دیا بسبب (تمہارے) غم دینے کے (رسول اللہ ﷺ کو) تاکہ (اس…
Read the full tafseer →’ اصعاد ‘ کا مفہوم : اصعاد کے اصل معنی کسی چڑھائی کی سمت میں جانے کے ہیں۔ اسی سے اصعد فی العدد کا محاورہ نکلا جس کے معنی کسی سمت میں منہ اٹھائے بھاگ کھڑے ہونے کے ہیں۔
غَمًّـا بِغَمٍّ کا مفہوم : غَمًّـا بِغَمٍّ میں ’ ب ‘ تلبس کے مفہوم میں ہے یعنی ایک غم تو شکست کا تھا ہی، اس کے ساتھ لپٹا ہوا ایک اور غم بھی سامنے آگیا، ہمارے نزدیک اس غم سے مراد وہ غم ہے جو اس دوران میں مسلمانوں کو کفار کی اڑائی ہوئی اس افواہ سے پہنچا کہ نبی ﷺ بھی شہید کردیے گئے۔ اس افواہ کا ذکر تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں بھی ہے اور قرآن کی اس آیت سے بھی اس کا اشارہ نکلتا ہے اس لیے کہ فرمایا ہے کہ تم اس بگ ٹٹ بھاگے چلے جا رہے…
Read the full tafseer →153۔ 1 کفار کے یکبارگی اچانک حملے سے مسلمانوں میں جو بھگدڑ مچی اور مسلمانوں کی اکثریت نے راہ فرار اختیار کی یہ اس کا نقشہ بیان کیا جا رہا ہے۔
153۔ 2 نبی ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور مسلمانوں کو پکارتے رہے، اللہ کے بندو ! میرے طرف لوٹ کر آؤ، اللہ کے بندو ! میری طرف لوٹ کے آؤ۔ لیکن سراسیمگی کے عالم میں یہ پکار کون سنتا۔
153۔ 3 فَاَثاَبَکُمْ تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم دیا، غما بغم بمعنی غما علی غم ابن جریر اور ابن کثیر کے اختیار کردہ راجح قول کے مطابق پہلے غم سے مراد، مال غنیمت اور کفار پر فتح و ظفر سے محرومی کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے مسلمانوں کی شہادت، ان کے زخمی ہونے،…
Read the full tafseer →50: یعنی اس قسم کے واقعات سے تمہارے اندر پختگی آئے گی، اور آئندہ جب کوئی تکلیف پیش آئے گی اس پر زیادہ پریشان اور مغموم رہنے کے بجائے تم صبر اور استقامت سے کام لو گے
Read the full tafseer →اس کے بعد اس شکست کے ایک منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ……………” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش تک تمہیں نہ تھا ‘ اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہا تھا ۔ “ یہ اس لئے یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کے پردہ احساس پر یہ نقش گہرائی کے ساتھ منقش ہوجائے ۔ وہ اپنی جگہ ‘ شرمندگی ‘ حیاء اور پشیمانی محسوس کریں ۔ اس کے اسباب پر غور کریں جو کمزوری ‘ باہم تنازع اور حکم عدولی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی ۔
یہ آیت ان کی جسمانی حرکات اور ان کی نفسیاتی کیفیات کی اس قدر مختصر الفاظ میں نقشہ کشی…
Read the full tafseer →1 یعنی تم بھاگ کر پہاڑوں اور جنگلوں کو چڑھے جا رہے تھے اور گھبراہٹ میں پیچھے مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے۔ اس وقت خدا کا پیغمبر بدستور اپنی جگہ کھڑا ہوا تم کو اس قبیح حرکت سے روکتا تھا اور اپنی طرف بلا رہا تھا۔ مگر تم تشویش و اضطراب میں آواز کہاں سننے والے تھے۔ آخر جب کعب بن مالک چلائے تب لوگوں نے سنا اور واپس آکر اپنے نبی ﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔
2 یعنی تم نے رسول کا دل تنگ کیا اس کے بدلے تم پر تنگی آئی۔ غم کا بدلہ غم ملا۔ تاکہ آگے کو یاد رکھو کہ ہر حالت میں رسول کے حکم پر چلنا چاہیے خواہ کوئی نفع کی چیز مثلا غنیمت وغیرہ ہاتھ سے جائے، یا کچھ بلا سامنے آئے۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے (فَاَثَابَكُمْ…
Read the full tafseer →آیت 153 اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلاَ تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْ اُخْرٰٹکُمْ
غزوۂ احد میں خالد بن ولید کے اچانک حملے سے ایک بھگدڑ سی مچ گئی تھی۔ بعض صحابہ رض نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا تھا اور انہوں نے اپنے جسموں کو ڈھال بن کر آنحضور ﷺ کی حفاظت کی۔ بہت سے لوگ سراسیمہ ہو کر اپنی جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑے ہوئے۔ بعض کوہ احد پر چڑھے جا رہے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ انہیں پکار پکار کر واپس بلا رہے تھے۔
فَاَثَابَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ مَآ اَصَابَکُمْ ط
یعنی ع رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج ! آدمی کو اگر…
Read the full tafseer →141 غما بغم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا معنی رنج کے بدلے رنج کیا جائے یعنی مسلمانوں نے رسول کی نافرمانی کرکے اسے رنج پہنچایا تو اس کے بدلے اللہ نے مسلمانوں کو شکست دے کر انہیں رنج پہنچایا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں کئی قسم کے رنج پہنچائے۔ ایک منافقوں کے واپس لوٹ جانے کا، دوسرا شکست کا، تیسرا اپنے شہیدوں کا، چوتھا اپنے مجروحین کا، پانچواں رسول کی شہادت کی خبر کا اور چھٹا اس جنگ کے انجام کا، اور تیسرا معنی یہ کہ اللہ نے جو تمہیں رسول کی شہادت کی افواہ کا غم پہنچایا وہ پہلے تمام قسم کے غموں سے بھاری تھا۔
142 اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا…
Read the full tafseer →301 ۔ (کہ ادھر آؤ۔ میں ادھر ہوں) یہ بیان ہورہا ہے مسلمان سپاہ کی بھگدڑ اور شدت بدحواسی کا۔ اور واقعی بات ہے کہ جب فوج میں بھگدڑ پڑتی ہے تو ایسی ہی بےحواسی پھیل جاتی ہے، نفسی نفسی کا عالم ہوتا ہے، کوئی کسی کی نہیں سنتا، ہر ایک کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑجاتی ہے۔ (آیت) ” اذ تصعدون “۔ یعنی جب بھاگتے ہوئے چڑھے جارہے تھے۔ (آیت) ” والرسول یدعوکم “۔ رسول اسلام (علیہ الصلوۃ والسلام) علاوہ اپنے دوسرے کمالات و فضائل کے ہمت و شجاعت میں بھی فرد اور بےعدیل تھے۔
302 ۔ یعنی اس رنج کے عوض میں جو تمہاری ذات سے رسول اللہ ﷺ کو اٹھانا پڑا تھا، تمہیں بھی ایک رنج دے دیا گیا۔ ای اثابکم غما بسبب غم اذ قتموہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–156
آیت نمبر 156 تا 171
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور…
Read the full tafseer →از تصعدون جب تم تیزی کے ساتھ چلے جا رہے تھے۔ اس فقرہ کا تعلق صرفکم سے ہے یبتلیکم سے یا عفا عنکم سے یا اذکر محذوف سے۔ ابو عبد الرحمن سلمی حسن اور قتادہ کی قراءت میں تَصْعَدُوْنَ بفتح تاء مجرد سے آیا ہے لیکن اجماعی قراءت بضم تاء باب افعال سے ہے مفضل نے کہا کہ صَعَدَ (صعود سے) اور اَصْعَدَ (اصعاد سے) اور صَعَّدَ (تصعید سے) سب ہم معنی ہیں۔ ابو حاتم نے کہا باب افعال سے اصعاد کا معنی ہے۔ اپنے منہ کے سامنے ہموار میدان میں جانا اور صعود کا معنی ہے پہاڑ پر چڑھنا مبردنے کہا اصْعَدَ یعنی دور چلا گیا بغوی نے لکھا ہے کہ واقعہ دونوں طرح ہو اتھا کوئی ہموار میدان میں دور نکل گیا تھا اور کوئی پہاڑ پر چڑھ گیا…
Read the full tafseer →(153) دشمنوں کے ڈر سے غزوہ احد میں صحابہ رسول اکرم ﷺ سے جنگ کی افراتفری میں اچانک جو علیحدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ جب تم ظاہری شکست سے پہاڑ کی طرف بھاگ رہے تھے اور رسول اکرم ﷺ کی طرف بوجوہ توجہ نہیں کررہے تھے اور نہ آپ کے پاس کھڑے ہورہے تھے اور رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے کی طرف سے جنگ کے اس شور وشغب میں بھی کمال حوصلہ سے تمہیں آوازیں دے رہے تھے، کہ مسلمانو ! ادھر آؤ میں رسول اللہ ﷺ ہوں مگر تم نے اپنی اس شدید پریشانی کے عالم میں، اس آوازئی رسول کو سنا ہی نہیں تو اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں غم پر غم دیا ایک غم خالد بن ولید کے دستہ کا اور دوسرا غم شکست کھا جانے اور…
Read the full tafseer →اِذْ تُصْعِدُوْنَ۔۔ : یہ بھاگتے ہوئے مسلمانوں کی کیفیت کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری پچھلی جماعت میں، جو ثابت قدم رہی تھی، تمہیں پکار رہے تھے کہ (اے اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ، میں یہاں ہوں، مگر تم دور دوڑے جا رہے تھے اور کسی کو نہ مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی سنتے تھے۔
فَاَثَابَكُمْ غَمًّـۢا بِغَمٍّ : یعنی تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم پہنچایا، ایک شکست کا غم اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ کا صدمہ، جو پہلے غم سے زیادہ سخت تھا، پس ”بغم“ کے معنی ”عَلٰی غَمٍّ“ ہیں اور بعض نے باء کو سببیت کے لیے مانا ہے، یعنی آپ ﷺ کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمہیں غم پہنچایا، مگر پہلا معنی زیادہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر ؛ 153۔
اذ قول باری تعالیٰ (آیت) ” ولقد عفاعنکم “۔ کے متعلق ہے، عام قرات ” تصعدون “ تا کے ضمہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہے، اور ابو رجا العطاردی، ابو عبدالرحمن سلمی، حسن اور قتادہ رحمۃ اللہ علہیم نے تا اور عین دونوں کو مفتوح پڑھا ہے۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 567) یعنی ” تصعدون الجبل “ (تم پہاڑ پر چڑھ رہے تھے) ابن محیصن اور شبل نے ” اذیصعدون ولا یلوون دونوں فعلوں کو یا کے ساتھ پڑھا ہے اور حن نے تلون ایک واؤ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوبکر بن عیاش نے عاصم سے ولا تلوون تا کو ضمہ کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ لغت شاذہ ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے، اور ابو حاتم نے کہا ہے : اصعدت (کہا جائے گا) جب…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” اذ تصعدون “ تا اور عین کی فتح کے ساتھ۔
(2) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” اذ تصعدون “ تا کے رفع اور عین کی کسرہ کے ساتھ۔
(3) ابن جریر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابی بن کعب ؓ سے روایت میں یوں ہے لفظ آیت ” اذ تصعدون فی الوادی “۔
(4) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ تصعدون “ سے مراد ہے کہ صحابہ ؓ غزوہ احد میں پہاڑوں میں بھاگے جا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے سے یوں پکار رہے تھے اللہ کے بندو ! میری طرف لوٹ…
Read the full tafseer →[اِذْ تُصْعِدُوْنَ : جب تم دوڑتے جاتے تھے ] [وَلاَ تَلْوٗنَ : اور نہیں گھماتے تھے (اپنی گردنوں کو) ] [عَلٰٓی اَحَدٍ : کسی ایک پر ] [وَّالرَّسُوْلُ : حالانکہ یہ رسول ﷺ ] [یَدْعُوْکُمْ : بلاتے تھے تم کو ] [فِیْ اُخْرٰٹکُمْ : تمہارے دوسرے (گروہ) میں ] [فَاَثَابَکُمْ : تو اس نے بدلے میں دیا تم کو ] [غَمًّام بِغَمٍّ : غم پر غم ] [لِّـکَیْلاَ تَحْزَنُوْا : تاکہ تم لوگ مت پچھتائو ] [عَلٰی مَا : اس پر جو ] [فَاتَـکُمْ : نکل گیا تم سے ] [وَلاَ مَآ : اور نہ اس پر جو ] [اَصَابَکُمْ : آ لگا تم کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [خَبِیْرٌ : باخبر ہے ] [بِمَا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →غَمًّا بِغَمٍّکی ایک تفسیر تو یہی ہے جو ابھی اوپر بیان ہوئی اور اس کے علاوہ مفسرین کے اور بھی چند اقوال اس کی تفسیر کے بارے میں بیان کیے گئے ہیں جن میں سے ایک قول یہ ہے کہ ایک غم تو مقتول اور مجروح ہونے اور مشرکین کے غالب ہونے کی وجہ سے تھا اور دوسرا غم وہ تھا جو رسول اکرم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑ جانے سے ہوا (اس صورت میں باء مصاحبت کے لیے ہوگی) مزید اقوال جاننے کے لیے روح المعانی کا مطالعہ کیا جائے۔
غم پہنچنے میں بھی حکمت :
پھر فرمایا (لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا مَآ اَصَابَکُمْ ) (تاکہ تم غمگین نہ ہو اس چیز پر جو تم سے جاتی رہے اور نہ اس مصیبت پر جو تم کو پہنچ جائے) مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
ترہیب مومنین از قبول مشورہ کفار ومنافقین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ حلیم۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں خدا پرستوں اور اللہ والوں کی راہ اور طریق پر چلنے کی ترغیب تھی اب ان آیات میں اعداء اللہ بد باطنوں کے کہا ماننے سے منع فرماتے ہیں تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں اور ان کے دھوکہ میں نہ آئیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ اگر تم کافروں کا کہا مانو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کرو گے تو یہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے تو پھر تم دنیا اور آخرت کے خسارہ اور نقصان میں جا پڑو گے اگر تم کافروں کی پناہ میں آگئے اور ان کی حکومت قبول کرلی جیسا کہ بعض منافقین تم کو مشورہ دیتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اس میں…
Read the full tafseer →27 اِذ ظرف صَرَفَکُمْ سے متعلق ہے اِذْ تُصْعِدُوْنَ متعلق بصرفکم (ابو السعود ص 98 ج 3) ۔ تُصْعِدُوْنَ جب تم وادیوں میں سے ہو کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (قرطبی ص 239 ج 4) تَلْوٗنَ ۔ لَیٌُّ سے ہے جس کے معنی گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنے کے ہیں۔ فِیْ اُخْرٰکُمْ پیچھے سے۔ یَدْعُوْکُمْ مِّنْ وَّرَائِکُمْ (روح ص 91 ج 4) جب اللہ نے تم کو کافروں سے پھیر کر منہزم کردیا تو تمہارا یہ حال تھا کہ تم بدحواسی کے عالم میں میدان سے وادیوں میں بھاگ رہے گے اور خوف وہراس کی وجہ سے ادھر ادھر گردن موڑ کی کسی طرف نہیں دیکھتے تھے اور خدا کا رسول تمہیں پیچھے سے واپس بلا رہا تھا۔ اس میں بھاگنے والون کے زبردست زجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منافقین کی بات ماننے سے منع فرمایا۔ اور اس سے پہلے سابقہ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کافروں اور منافقوں کی بات مانوگے تو وہ تمہیں الٹا جاہلیت کی طرف لے جائیں گے۔ اور تمہیں تمہارے پاکیزہ نظریات سے برگشتہ کردیں گے جو کہ تمہارے لیے سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ تمہیں مخالفین کے پراپیگنڈا سے متاثر نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر مکمل بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہی تمہارا آقا اور مددگار ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی بیان ہوچکا ہے۔ کہ کفار و مشرکین کے نظریات…
Read the full tafseer →اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓي اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْٓ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 153
صعد
الصُّعُودُ : الذّهاب في المکان العالي، والصَّعُودُ والحَدُورُ لمکان الصُّعُودِ والانحدار، وهما بالذّات واحد، وإنّما يختلفان بحسب الاعتبار بمن يمرّ فيهما، فمتی کان المارّ صَاعِداً يقال لمکانه : صَعُودٌ ، وإذا کان منحدرا يقال لمکانه : حَدُور، والصَّعَدُ والصَّعِيدُ والصَّعُودُ في الأصل واحدٌ ، لكنِ الصَّعُودُ والصَّعَدُ يقال للعَقَبَةِ ، ويستعار لكلّ شاقٍّ.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
ترکیب : صدق فعل اللّٰہ فاعل کم مفعول اول وعدہ مفعول ثانی۔ حتی متعلق ہے فعل محذوف سے ای دام ذلک ای وقت فشلکم والرسول جملہ موضع حال میں ہے بغم موضع نصب میں ہے صفت غم کی وقیل بسبب غم امنۃ اسم ہے امن کا ویقرء بالسکون فہو مصدر۔ نعاسا بدل ہے امنۃ سے اور عطف بیان بھی ہوسکتا ہے۔ یغشی صفت نعاسا کی وطائفۃ مبتدا قدا ھمتہم خبر شیء اسم کان والخبرلنا ما قتلنا جواب لوکان الی مضاجعہم متعلق ہے لبرز سے ولیبتلی اور معطوف ہے محذوف پر ای فعل ما فعل لیمیز ولیبتلی ولیمحص معطوف ہے ولیبتلی پر۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ فتح دینے والا ہے اور نیز پہلے عموماً اسلام کی فتح مندی اور ظہور کا…
Read the full tafseer →اِذْتُصْعِدُوْنَ وَلَاتَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰ کُمْ فَاَثَابَـکُمْ غَمًّا م بِغَمٍّ لِّـکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلاَ مَـآاَصَابَـکُمْ ط وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔
(یاد کرو ! جب تم دور بھاگے جارہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول (کریم۔ ) تمہیں تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے پس اللہ نے تمہیں غم پر غم پہنچایا تاکہ تم دل شکستہ نہ ہوا کرو کسی نقصان پر اور نہ کسی مصیبت پر اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کررہے ہو) ( 153)
زمین میں دو رتک دوڑے چلے جانے یا کسی چڑھائی کی سمت میں جانے کو ” اصعاد “ کہتے ہیں۔ ابو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احد میں سرزد ہونے والی کمزوریوں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے کہ جب اکثر صحابہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور رسول معظم انہیں واپس بلا رہے تھے۔
معرکۂ احد کی ابتدا میں میدان صحابہ کرام ؓ کے ہاتھ رہا کفار نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ صحابہ اسلحہ ایک طرف رکھ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید نے اتنی مستعدی اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا کہ درّہ پر مامور دس اصحاب کو ان کے سالار سمیت شہید کرتے ہوئے غنیمت لوٹنے والوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ افرا تفری کے عالم میں صحابہ کا جس طرف منہ ہوا بھاگناشروع کردیا لیکن رسول…
Read the full tafseer →153: اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰکُمْ فَاَثَا بَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَا تَکُمْ وَلَا مَآ اَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ اِذْ تُصْعِدُوْنَ جب تم ہموار زمین پر چلنے میں تیزی کر رہے تھے۔ (الاصعادچٹیل زمین میں جانا دور نکل جانا )
نحو : منصوب ہے صرفکم یا لیبتلیکم یا اذکروا محذوف کے ساتھ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ (اور تم کسی کی طرف گردن موڑ کر نہ دیکھتے تھے) اور نہ متوجہ ہوتے تھے دشمن کے خوف اور انتہائی شکست کی تعبیر ہے۔ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ (اور رسول اللہ ﷺ تمہیں آوازیں دے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 153۔:
(آیت)” اذ تصعدون “۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف کردیا ، جب تم بھاگے جا رہے تھے شکست کھا کر ، عبدالرحمن سلمی ، حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، ” تصعدون “ تاء کے فتحہ کے ساتھ اور عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ، معروف قرات تاء کے ضمہ عین کے کسرہ کے ساتھ ہے ، اصعاد کا معنی ہے ہموار میدان میں جانا ، صعود کا معنی ہے پہاڑ پر چڑھنا اور بعض دور نکل گئے، ابو حاتم کہتے ہیں کہ ” یقال اصعدت کہا جاتا ہے جب کوئی چہرے کے سامنے ہموار میدان میں جائے ” وصعدت “ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پہاڑ پر چڑھے ، مبرد فرماتے ہیں کہ ” اصعد “ جب وہ دور چلا گیا یہ دونوں قراتیں صحیح ہیں ، کبھی کبھار ” منھزمین “ کے لیے مصعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–153
(149 ۔ 153) ۔ جب شیطان نے یہ خبر اڑا دی کہ حضور شہید ہوگئے تو بعض کچے مسلمان یہ کہنے لگے کہ اب ہم اپنے باپ دادا کے دین پر قائم ہوجائیں تو اچھا ہے ان لوگوں کی صلاح نہ ماننے کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ایسے لوگوں کا کہناماننے میں دین کا خسارہ ہے دنیا کا تو یہ کہ اللہ مسلمانوں کا حامی اور مددگار ہے۔ اس لئے آخر ان کو غلبہ ہوگا۔ اور جس طرح اب تم کو جان و مال کا خوف کافروں سے ہے۔ اگر تم کافروں میں شریک ہوگئے۔ تو وہی خوف تم کو مسلمانوں سے کرنا پڑے گا اور دین کا یہ نقصان کہ عقبیٰ میں اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور جن کافروں کا تم کو خوف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
آیت 152
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کردیا، پس تمہیں کفار کیم قابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمہیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کردیں یہاں تک کہ تم خو داپنے لئے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہوگئے ” وتنازعتم فی الامر) اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑے گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں معتین فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
میدان احد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب کیفیت
قول باری ہے (ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا لیغشی طائفۃ منکم ، اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمنان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ ادنگھنے لگے) حضرت طلحہ ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، قتادہ، ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا، مسلمانوں میں سے کچھ تو شکست کھاکرپیچھے ہٹ گئے، ساتھ ہی مشرکین کی طرف سے دوبارہ حملے کی دھمکی کی، ادھر جو مسلمان میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور دشمن سے دودوہاتھ ہونے کے لیے پوری طری تیار تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور وہ اونگھ گئے ، لیکن…
Read the full tafseer →314 { تُصْعِدُوْنَ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : " تُصْعِدُوْنَ " " اِصْعَاد " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں " الذِّہَابُ فِیْ صَعِیْد الاَرْض وَالاِبْعَادُ فِیْہ " (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ یعنی " کھلی زمین میں چلنا اور اس میں دور نکل جانا " اور یہ اس وقت کا منظر پیش فرمایا جا رہا ہے جب حضرات صحابہ کرام سراسیمگی کے عالم میں میدان سے دور بھاگے جا رہے تھے۔ کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور سب افراتفری اور بھاگادوڑی کی کیفیت سے دوچار تھے جو کہ ایسے مواقع کا ایک طبعی نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اس افراتفری اور گھبراہٹ کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔
315 احد کی افراتفری کا ایک نمونہ و مظہر : سو…
Read the full tafseer →رسول کی نافرمانی کا نتیجہ اور صبر کا حکم
تشریح : یہ آیت بھی غزوہ احد سے ہی متعلق ہے۔ جیسا کہ تمام واقعات بیان کئے جا چکے ہیں اس آیت میں دوبارہ بیان کئے گئے ہیں۔ سبق اس میں یہی دیا گیا ہے کہ کبھی بھی مصیبت اور پریشانی میں گھبرا کر بدحواس نہیں ہونا چاہئے۔ جیسا کہ تم بدحواس ہو کر میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ کیونکہ تمہاری نیتیں صاف تھیں اور یہ بات اللہ کے علم میں ہے، اس لیے اللہ رب العزت نے تم سب کو معاف کردیا، تم پر رحم کیا اور تمہاری مدد کی۔ اگلی آیات میں یہی بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
آیات 149- 155
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔
مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی ﷺ کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا…
Read the full tafseer →ف 4 یہ شکست کھائے ہوئے مسلمان کی کیفیت کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ میدان جنگ تمہیں پکا رہے تھے الی عباد اللہ مگر تم پہاڑ پر چڑھے چلے رہے تھے اور کسی کی بات پر دھیان نہیں دے رہے تھے۔ یعنی ایک شکست کا غم سے سخت تر تھا۔ پس بغم کے معنی علیٰ غم ہیں اور بعض نے با کو سببیت کے لیے مانا ہے یعنی آنحضرت ﷺ کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمہیں غم پہنچا۔ مگر پہلے معنی زیادہ صحیح ہیں۔ ( ابن کثیر۔ شوکانی)6 یعنی تمہیں دوہرے غم میں مبتلا کردیا تاکہ تمہیں نہ تو مال غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے رانج ہو اور نہ شکست ہی پر کببدہ خاطر ہو۔ کیونکہ متواتر سختیوں سے انسان تحمل مشاق کا عادی ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →(3:153) تصعدون۔ باب افعال اصعاد سے مضارع جمع مذکر حاضر اصعد یصعد زمین پر نشیب سے بلندی کی طرف یا بلندی سے نشیب کی طرف ۔ چلنا۔ یہاں مراد احد کی بلندی کی طرف بھاگ رہے تھے۔ یا دور بھاگ رہے تھے۔ صعود بلند مقام کی طرف چڑھنا۔
ولاتلون رلی احد۔ لوی (ضرب) رسی کا بٹنا۔ کسی چیز کو خمیدہ کرنا۔
لووا رؤسھم (62:5) تو وہ سر پھیر لیتے ہیں۔ یلون السنتھم بالکتاب کتاب (توراۃ) کو زبان موڑ موڑ کر پڑھتے ہیں۔
محاورہ ہے فلان لا یلوی علی احد۔ وہ کسی کی طرف گردن موڑ کر بھی نہیں دیکھتا یہ سخت ہزیمت اٹھا کر بھاگ اٹھنے کے موقعہ پر بولا جاتا ہے۔ اسی سے ہے اذ تصعدون ولا تلون علی احد جب تم دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
لغات القرآن آیت نمبر 152 تا 155
تحسونھم (تم ان کو کاٹ رہے تھے) فشلتم (تم نے بزدلی دکھائی) تنازعتم (تم باہم جھگڑپڑے) عصیتم (تم نے نافرمانی کی) ارٰکم (اس نے تمہیں دکھایا) صرف (پلٹ دیا) لیبتلی (تاکہ وہ آزمائے) تصعدون (تم چڑھے چلے جارہے تھے) لاتلون (تم پلٹ کر (نہ دیکھتے تھے) یدعوکم (تمہیں بلاتا ہے) اثاب (پلٹا) نعاس (اونگھ) ظن الجاھلیة (جاہلیت کے گمان) لبرز (البتہ وہ نکلتا) مضاجع (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 152 تا 155
سورة آل عمران کی آیات 152 ست 155 میں غزوۂ احد کے ان اسباب کو بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جیتی ہوئی بازی مسلمان ہار گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ بزدلی ، آپس کے جھگڑے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس رعب کے سبب سے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھے، اول اول مسلمانوں کی فتح ہوگئی تھی لیکن تیر اندازوں نے لوٹ کے لالچ سے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی، اس سبب سے یہ شکست خود تمہارے ہاتھوں ہوئی، اور تمام صدمے پر صدمے سہنے پڑے۔ خیر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارا قصور معاف کیا۔ مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے جو رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچایا، اس کے بدلے تم کو ہر میت کے غم میں مبتلا کیا۔
Read the full tafseer →[54] جنگ احد میں جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مضطرب ہو کر بھاگنے لگی تو نبی اکرم ﷺ چند جانثاروں کے حلقے میں کھڑے پکار رہے تھے۔ الیَّ عباد اللہ الیَّ عباد اللہ (اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اللہ کے بندو میری طرف آؤ) ۔
[55] یعنی رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کر کے آپ کو جو غم پہنچایا تھا اس کے بدلے تم کو شکست کے غم میں مبتلا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
عصیاں رسول ﷺ کا نتیجہ :
(ف 1) احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ضعیف ال ایمان لوگ ڈگمگا گئے ، انہیں شک نے آگھیرا کہ خدا نے جو نصرت واعانت کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ پورا نہیں ہوا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ، اس میں کبھی تخلف نہیں ہوا ، کیا تم نے جب تک پارس اطاعت کو ملحوظ رکھا ، کامیاب نہیں رہے ؟ اولا تو ایسا ہوا کہ مسلمان مخالفین پر چھا گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میدان حرب اب انہیں کا حصہ ہے ، وہ لوگ جنہیں حضور ﷺ نے تیر اندازی کے لئے درہ پر متعین کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ آخر تک تم یہیں رہنا ۔ ان میں بعض لوگ غنیمت کے لالچ ہیں ایک ہوگئے اور لگے مال غنیمت لوٹنے ، خالد بن…
Read the full tafseer →ف 2 اور اے مسلمانو ! وہ وقت یاد کرو جب تم جنگلوں اور پہاڑوں کی چڑھائی کی طرف چلے جا رہے تھے اور کسی کو پلٹ کر دیکھتے تک بھی نہ تھے اور رسول تمہارے پیچھے کی جانب کھڑا تم کو پکار رہا تھا کہ اے اللہ کے بندو میرے پاس آئو مگر تم نے سنا ہی نہیں سو اللہ تعالیٰ نے رسول کو رنج پہنچانے کے سبب تم کو رنج دیا یعنی تم نے رسول کو غم دیا اور اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے تم کو غم دیا اور تم کو تربیت فرمائی تاکہ آئندہ تم کسی چیز کے فوت ہوجانے اور ہاتھ سے نکل جانے پر غمگین نہ ہوا کرو اور نہ کسی مصیبت پر جو تمکو پیش آجائے آئندہ مغموم ہو اور اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے جو تم کرتے ہو باخبر ہے۔
اصعاد کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ف 2۔ جب کفار میدان سے واپس ہوگئے تو اس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہوگیا۔
Read the full tafseer →غزوہ احد کا تیسرا مرحلہ جس میں لشکر اسلام کو ہزیمت کا سامنا ہوا :
279: ہ وہ وقت ہے جب خالد بن ولید کی معیت میں لشکر کفار نے جبل عینین پر رہ گئے صحابہ کرام کی چھوٹی سی جماعت کو شہید کرتے ہوئے لشکر اسلام پر پیچھے سے حملہ کردیا تھا۔ ایسی حالت میں جب مسلمان فتح کے زعم میں ایک طرف سے لشکر کفار کو دبائے چلے جا رہے تھے۔ دوسری طرف سے ان پر اچانک حملہ نے ان کے اوسان خطا کردیئے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا ہوا ؟ وہ چھوٹی سی جماعت جس کے ختم ہونے کا امکان بدر کے دن بھی تھا اور جو اللہ کے فضل و کرم اور اپنے استقلال کے نتیجہ میں میدان کار زار فتح و کامرانی کے ساتھ لوٹی تھی۔ آج پھر بہت بڑے امتحان…
Read the full tafseer →These verses form part of the several previous verses relating to the battle of Uhud. The first verse here mentions the sorrows of the sahabah, the noble Companions ؓ of the Holy Prophet ﷺ . The long succeeding verse describes the antidote. The third verse reiterates that the form of defeat they faced was no punishment. It was a test to separate the true and sincere Muslims from the hypocrites. Finally comes the repeated proclamation that the mistake made by the noble Companions has been forgiven.
Commentary :
In the first verse here, the Holy Qur'an describes the exit of the Companions from…
Read the full tafseer →110. When subjected to a sudden two-pronged attack the Muslims scattered; some fled to Madina while others climbed Mount Uhud. Despite this, the Prophet (peace be on him) did not move from his position. The enemy surrounded him on all sides and only a small party of ten to twelve followers was left with him. Even at that critical moment his feet remained firm and he continued to summon his fleeing followers towards himself. (See Waqidi, Maghazi, vol. 1, pp. 237, 240 and 241 - Ed.)
111. The 'grief referred to in this verse had many causes: (i) by the setback the Muslims suffered on the…
Read the full tafseer →