Explained with ayahs 154–155
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن وامان کا نشان ہے جیسے سورة انفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت (اذ یغشیکم النعاس امنتہ منہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں لڑائی کے وقت انکی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، حضرت ابو طلحہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 112
یہ ایک عجیب تجربہ تھا جو اس وقت لشکر اسلام کے بعض لوگوں کو پیش آیا۔ حضرت ابو طلحہ ؓ جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں ہم پر اونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹی پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
احد کے مصائب سزا نہیں بلکہ آزمائش تھے اور جو لغزش بعض صحابہ کرام سے ہوئی وہ معاف کردی گئی
ولیبتلی اللہ ما فی صدور کم آلایتہ سے معلوم ہوا کہ غزوہ احد میں جو مصائب اور تکالیف صحابہ کرام کو پیش آئیں وہ بطو سزا نہیں بلکہ بطور آزمائش تھیں، اس امتحان کے ذریعہ مؤ منین، مخلصین اور منافقین میں فرق کا اظہار کرنا تھا اور اثابکم غماً کے الفاظ سے جو اس کا سزا ہونا معلوم ہوتا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ صورت تو سزا ہی کی تھی مگر یہ سزا مربیانہ اصلاح کے لئے تھی، جیسے کوئی بات اپنے بیٹے کو، استاذ اپنے شاگرد کو کچھ سزا دیتا ہے تو عرف میں اس کو سزا بھی کہہ سکتے ہیں، مگر درحقیقت یہ تربیت اور اصلاح کی ایک صورت ہوتی…
Read the full tafseer →’ امنۃ ‘ کا مفہوم : امنۃ کے معنی راحت، سکون اور اطمینان کے ہیں۔ نعاس اونگ اور نیند کو کہتے ہیں یہاں یہ بدلیت کے طریقے پر امنۃ کی گویا وضاحت ہے۔ نیند۔ اطمینا و راحت کا ذریعہ بھی ہے اور دل کے اطمینان اور دماغ کی یکسوئی کی شہادت بھی۔ جس کا ذہن پریشان اور دماغ منتشر ہو اس کی نیند اڑجایا کرتی ہے اور ایسے شخص کے لیے کوئی کام عز و حوصلہ اور استقلال و عزیمت کے ساتھ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ ہے دورانِ جنگ میں فوج کے لیے سونے کا موقع ملنا اور اس موقع سے فائدہ اٹھانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ چناچہ نیند کی اسی اہمیت کی وجہ سے دشمن فوج کے حوصلے کو پست کرنے والی تدابیر میں سے ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ اس کو…
Read the full tafseer →154۔ 1 مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کردی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا پھر گر جاتی (صحیح بخاری) نعاسا امنۃ سے بدل ہے۔ طائفہ واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے (فتح القدیر)
154۔ 2 اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو اپنی جانوں کی فکر تھی۔
154۔ 3 وہ یہ تھیں کہ نبی کریم ﷺ کا معاملہ…
Read the full tafseer →51: جنگ احد میں جو غیر متوقع شکست ہوئی، اس پر صحابہ صدمے سے مغلوب ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے جانے کے بعد بہت سے صحابہ پر اونگھ مسلط فرما دی جس سے غم غلط ہوگیا۔
52: یہ منافقین کا ذکر ہے وہ جو کہہ رہے تھے کہ : کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے ؟ اس کا ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کا اختیار نہیں چلتا اور یہ بات صحیح تھی ؛ لیکن ان کا اصل مقصد وہ تھا جو آگے قرآن کریم نے دہرایا ہے یعنی یہ کہ اگر ہماری بات مانی جاتی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جاتا تو اتنے سارے آدمیوں کے قتل کی نوبت نہ آتی .
53: اشارہ اس طرف ہے کہ اس طرح کے مصائب سے…
Read the full tafseer →جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت…
Read the full tafseer →4 یعنی اس جنگ میں جن کو شہید ہونا تھا ہوچکے اور جن کو ہٹنا تھا، ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہے ان میں سے مخلص مسلمانوں پر حق تعالیٰ نے ایک دم غنودگی طاری کردی، لوگ کھڑے کھڑے اونگھنے لگے۔ حضرت طلحہ ؓ کے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار چھوٹ کر زمین پر گری، یہ ایک حسی اثر اس باطنی سکون و اطمینان کا تھا جو ایسے ہنگامہ رستخیز میں مومنین کے قلوب پر محض خدا کے فضل و رحمت سے وارد ہوا اس کے بعد دشمن کا خوف و ہراس سب کافور ہوگیا۔ یہ کیفیت عین اس وقت پیش آئی جب لشکر مجاہدین میں نظم و ضبط قائم نہ رہا تھا۔ بیسیوں لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھیں، سپاہی زخموں سے چور ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ کے قتل کی افواہ نے رہے سہے…
Read the full tafseer →آیت 154 ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً مِّنْکُمْ لا
انسان کو نیند جو آتی ہے یہ اطمینان قلب کا مظہر ہوتی ہے کہ جیسے اب اس نے سب کچھ بھلا دیا۔ عین حالت جنگ میں ایسی کیفیت اللہ کی رحمت کا مظہر تھی۔
وَطَاءِفَۃٌ قَدْ اَہَمَّتْہُمْ اَنْفُسُہُمْ یَظُنُّوْنَ باللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِط ۔
عبداللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھی تو میدان جنگ کے راستے ہی سے واپس ہوگئے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمانوں کی جماعت میں کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے تو ان کا حال یہ تھا کہ اس وقت انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی کیفیت میں انہیں…
Read the full tafseer →143 اتنے شدید قسم کے غموں کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر اونگھ طاری کرنا ایک نعمت غیر مترقبہ اور غیر معمولی امداد تھی۔ اونگھ سے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا سکون حاصل ہوجاتا ہے۔ بدن کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور غم یکدم بھول جاتے ہیں۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن عین جنگ کے دوران مجھے اونگھ نے آدبایا، تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی، میں اسے تھام لیتا، پھر گرنے کو ہوتی، پھر تھام لیتا۔ (بخاری کتاب التفسیر)
144 جو مسلمان غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ سب ایک جیسے پختہ ایمان والے اولوالعزم اور بہادر نہ تھے بلکہ کچھ کمزور دل بھی تھے اور انصار میں سے کچھ منافقین بھی تھے۔ جو انصار کے…
Read the full tafseer →304 ۔ مسلمان تھکے ماندے تو تھے ہی، دوپہر کے وقت ان پر نیند کا غلبہ ہوا اس سے تازہ دم ہوگئے، تھکی ہوئی فوج کو نیند جیسی نعمت کے میسر آجانے کی قدر کوئی اہل فوج ہی کے دل سے پوچھے۔
305 ۔ (اور مسلمانوں سے حجت اور تکرار کررہے تھے کہ تم سے جو وعدۂ فتح ونصرت تھا، وہ کیا ہوا ؟ ) مراد منافقین ہیں۔۔۔ مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے ہوئے تھے، اس لیے خطاب بھی ان سے اکثر مسلمانوں کے ساتھ مشترک ہی ہے۔ یعنی المنافقین (قرطبی) ھم المنافقون (بیضاوی) (آیت) ” اھمتھم انفسھم “۔ یعنی اس قسم کا سوچ بچار کہ دیکھئے یہاں سے بچ کر بھی جانا ہوگا، اپنی جان کی فکر بجائے خود کوئی بری چیز نہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ ان منافقین کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–156
آیت نمبر 156 تا 171
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور…
Read the full tafseer →ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ پھر اے گروہ اہل اسلام اللہ نے غم کے بعد تمہارے لیے امن یعنی قلبی اطمینان اور سکون اتارا۔ نزول رحمت کے وقت اس سکون کا وجدان صوفی کو ہوتا ہے۔
نعاسا یعنی اونگھ۔ یہ امنۃ سے بدل یا انزل کا مفعول ہے ممکن ہے کہ نعاس سے مراد وہ استغراقی کیفیت ہو جو نزول رحمت کے وقت صوفی کو حاصل ہوتی ہے اور وہ تمام ماسوا سے غافل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ کیفیت اونگھ سے بہت زیادہ مشابہ ہوتی ہے 1 ۔
یغشی طائفۃ منکم جو تمہارے ایک گروہ پر چھا گئی تھی یہ گروہ اہل ایمان کا تھا۔
بخاری وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو طلحہنے فرمایا : کہ احد کے دن جب ہم صف بند میدان میں تھے کہ ہم…
Read the full tafseer →(154) اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا کہ اہل صدق ویقین کو کفار سے بھاگنے کے بعد ایک اونگھ جیسے سکینت آگئی۔
(جنگ کی اس شدید افراتفری میں جب جسم وذہن پر شدید بوجھ ہوتا ہے اور جنگ کے مہیب شعلے اور تڑپتی لاشیں، زخمیوں کی چیخ و پکار کے اس سخت ترین ماحول میں کہ جب نیند اڑ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بطور سکینت نیند کے جھونکے دے کر تروتازہ کردیا۔ ابوطلحہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا، جن پر احد کے روز نیند چھا رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گرگئی، حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا، پھر گرتی تھی اور میں پھر پکڑتا تھا۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ۔۔ : ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کردی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہوگیا۔ ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں : ”ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گری جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گرجاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (أمنۃ نعاسًا) : 4562 ] ابو طلحہ ؓ ہی بیان فرماتے ہیں : ”میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 154۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “۔ امنۃ اور امن دونوں مساوی اور ہم معنی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امنۃ (راحت) اسباب خوف کے ساتھ ہوتی ہے اور امن خوف نہ ہونے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور یہ (امنۃ) منصوب ہے، انزل کے سبب، اور نعاصا اس (امنۃ) سے بدل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے مفعول لہ کی بنا پر نصب دی گئی ہے گویا کہ یہ کہا ہے : انزل علیکم للامنۃ نعاسا، (پھر تم پر راحت کے لئے غنودگی اتاری) ابن محیصن نے امنۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اللہ تعالیٰ نے احد کے دن ان غموں کے بعد مومنین پر غنودگی کے ساتھ فضل و احسان فرمایا یہاں تک کہ ان میں سے اکثر سو گئے،…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ مشرکین احد کے دن چلے گئے اس واقعہ کے (ختم ہونے کے) بعد جو ان مشرکوں کو اور مسلمانوں کو پیش آیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے آئندہ سال بدر کے مقام پر جنگ کرنے کا وعدہ کیا آپ نے ان سے فرمایا ہاں (وعدہ ہوگیا) لیکن مسلمان اس بات سے ڈر رہے تھے کہ وہ لوگ (یعنی مشرکین) پلٹ کر پھر مدینہ میں نہ آجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا (اس سے) اگر تم دیکھو کہ وہ اپنے اونٹوں پر پھر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے گھوڑوں سے الگ ہیں تو بلاشبہ یہ قوم جانے والی ہے اور اگر تم ان کو دیکھو کہ وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہیں اور اپنے اونٹوں سے الگ ہیں تو سمجھ لو کہ قوم مشرکین…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ : اس بےچینی کے بعد ] [اَ مَنَۃً : ایک اطمینان ] [نُّـعَاسًا : جو ایک ایسی اونگھ تھی ] [یَّغْشٰی : جو چھاتی تھی ] [طَـآئِفَۃً : ایک گروہ پر ] [مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [وَطَائِفَۃٌ : اور ایک دوسرا گروہ تھا ] [قَدْ اَھمَّتْہُمْ : بےچین کیا تھا ان کو ] [اَنْـفُسُہُمْ : ان کی جانوں نے ] [یَظُنُّوْنَ : وہ لوگ گمان کرتے تھے ] [بِاللّٰہِ : اللہ سے ] [غَیْرَ الْحَقِّ : حق کے بغیر ] [ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِ : غلط سوچ کا گمان ] [یَـقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے تھے ] [ہَلْ : کیا ] [لَّـــنَا : ہمارے لیے ہے ] [مِنَ…
Read the full tafseer →غم غلط کرنے کے لیے نیند کا غلبہ :
مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچ گئی اور شکست کا جو سامنا ہوا (جو بہت بڑا غم تھا) اس غم کو غلط کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ بھیج دی اور اتنی زیادہ اونگھ سوار ہوئی کہ رنج و غم کی طرف توجہ ہی نہ رہے۔ علاج کرنے والوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور کسی طرح سے افاقہ نہیں ہوتا تو تکلیف سے بیخبر کرنے کے لیے کوئی ایسی دوا دیتے ہیں یا انجکشن لگا دیتے ہیں جس سے نیند آجائے اللہ جل شانہ نے ان حضرات پر نیند غالب فرما دی جس سے غم کا محسوس ہونا ختم ہوگیا (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
ترہیب مومنین از قبول مشورہ کفار ومنافقین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ حلیم۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں خدا پرستوں اور اللہ والوں کی راہ اور طریق پر چلنے کی ترغیب تھی اب ان آیات میں اعداء اللہ بد باطنوں کے کہا ماننے سے منع فرماتے ہیں تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں اور ان کے دھوکہ میں نہ آئیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ اگر تم کافروں کا کہا مانو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کرو گے تو یہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے تو پھر تم دنیا اور آخرت کے خسارہ اور نقصان میں جا پڑو گے اگر تم کافروں کی پناہ میں آگئے اور ان کی حکومت قبول کرلی جیسا کہ بعض منافقین تم کو مشورہ دیتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اس میں…
Read the full tafseer →229 نُعَاساً ، اَمَنَةً سے بدل ہے جب مسلمانوں کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی جو مخلص مسلمان میدان میں باقی تھے ان پر ایک دم غنودگی طار ہوگئی اور وہ کھڑے کھڑے ہی اونگھنے لگے۔ اور ان کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ چھوٹ کر زمین پر گرنے لگیں۔ عین لڑائی اور ہنگامہ کا رازار میں نیند کا ا آجانایہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی اس کا اثر یہ ہوا کہ تھکے ہارے، زخموں سے چور اور سہمے ہوئے مجاہدین کے دلوں سے خوف وہراس کا اثر کافور ہوگیا اور وہ تازہ دم ہو کر از سر نو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ طَائِفةٌ مِّنْکُم یہ غنودگی تمام مسلمانوں پر طاری نہیں ہوئی بلکہ صرف مخلص مومنین پر ان ھذہ الطائفۃ ھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
ربط آیات : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد ہی سے ہے۔ اس جنگ کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ اس جنگ کے دوران مسلمانوں کی کوتاہی کی بناء پر ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ابتدائی فتح حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ بہت سے اکابر صحابہ شہید ہوئے خود حضور ﷺ زخمی ہوگئے حتی کہ آپ کی شہادت کی خبر بھی مشہور ہوگئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی غلطی کو معاف فرما دیا۔ کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ فتح حاصل کرنے کے باوجود وہاں ٹھہر نہ سکے بلکہ واپس بھاگ گئے۔ آج کے درس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مہربانی فرما کر کس طرح ان کے غم…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَۃً مِّنْكُمْ 0 ۙ وَطَاۗىِٕفَۃٌ قَدْ اَہَمَّـتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللہِ غَيْرَ الْحَـقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِيَّۃِ 0 ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ 0 ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّہٗ لِلہِ 0 ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ 0 ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰہُنَا 0 ۭ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ 0 ۚ وَلِــيَـبْتَلِيَ اللہُ مَا فِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
ترکیب : صدق فعل اللّٰہ فاعل کم مفعول اول وعدہ مفعول ثانی۔ حتی متعلق ہے فعل محذوف سے ای دام ذلک ای وقت فشلکم والرسول جملہ موضع حال میں ہے بغم موضع نصب میں ہے صفت غم کی وقیل بسبب غم امنۃ اسم ہے امن کا ویقرء بالسکون فہو مصدر۔ نعاسا بدل ہے امنۃ سے اور عطف بیان بھی ہوسکتا ہے۔ یغشی صفت نعاسا کی وطائفۃ مبتدا قدا ھمتہم خبر شیء اسم کان والخبرلنا ما قتلنا جواب لوکان الی مضاجعہم متعلق ہے لبرز سے ولیبتلی اور معطوف ہے محذوف پر ای فعل ما فعل لیمیز ولیبتلی ولیمحص معطوف ہے ولیبتلی پر۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ فتح دینے والا ہے اور نیز پہلے عموماً اسلام کی فتح مندی اور ظہور کا…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْـکُمْ مِّنْ م بَعْدِالْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَـآئِفَۃً مِّنْـکُمْ لا وَطَـآئِفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّونَ بِاللّٰہِ غَیْرَالْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ ط یَـقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّناَ مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ ط قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّـہٗ لِلّٰہِ ط یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالاَ یُبْدُوْنَ لَکَ ط یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا ط قُلْ لَّوْکُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَالَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِھِمْ ج وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَافِیْ صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احد کے بارے میں تبصرہ جاری ہے۔ احد کے میدان سے ایک دفعہ ہٹنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ پر سکینت کا نزول۔
اُحد میں سراسیمگی اور پے درپے صدمات کے عالم میں اچانک اللہ کی رحمت کا نزول ہوا جہاں جہاں کوئی تھا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے اونگھ آئی جس سے کئی دنوں کی تھکاوٹ اور دماغ کا بوجھ ہلکا ہوا۔ صحابہ ؓ اس طرح تازہ دم ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حضرت طلحہ ؓ اپنی کیفیت ذکر کرتے ہیں :
(کُنْتُ فِیْمَنْ تَغَشَّاہ النُّعَاسُ یَوْمَ أُحُدٍ حَتّٰی سَقَطَ سَیْفِيْ مِنْ یَدِيْ مِرَارًا یَسْقُطُ وَآخُذُہٗ وَیَسْقُطُ فَآخُذُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب ثم أنزل علیکم من…
Read the full tafseer →مؤمنوں پر اونگھ کا نزول :
154: ثُمَّ اَنْزَ لَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآ پفَۃً مِّنْکُمْ وَطَآپفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْ ئٍ قُل اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالَا یُبْدُوْنَ لَکَ یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 154۔ :
(آیت)” ثم انزل علیکم “۔ اے مسلمانوں کی جماعت (آیت)” من بعد الغم امنۃ “۔ تمہارے لیے امن اتارا (آیت)” الامن الامنۃ “ دونوں کا معنی ایک ہی یعنی قلبی سکون ، بعض نے کہا کہ امن کہا جاتا ہے خوف کے سبب کو زائل کرنا اور ” امنۃ “ کہتے ہیں خوف کے سبب کے باقی ہونے پر اطمینان حاصل ہونا جبکہ یہاں خوف کا سبب موجود تھا ۔ ” نعاسا “ ۔۔۔۔۔ امنۃ “ سے بدل ہے (آیت)” یغشی طائفۃ منکم “۔ حمزہ اور کسائی نے (تغشی) پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے نعاس کی طرف لوٹاتے ہوئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس دن اونگھ کی صورت میں ان کے دل کو اطمینان دیا گیا جو اطمینان والا ہوتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
(154 ۔ 155) ۔ جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گذرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی اتاری جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الٰہی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کے عالم میں رہے اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے یہ مقولہ دبی زبان سے اس طرح چپکے چپکے کہتے تھے کہ آنحضرت کو معلوم نہ ہو۔ مگر اس مقولہ کے کہنے والے کے پہلو میں جو شخص تھے انہوں نے اس…
Read the full tafseer →آیت 154
اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہئے ان پر عتبا کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (اذ تصعدون) یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے (ولا تلون علی احد) یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمہارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب اور بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی (والرسول یدعوکم فی اخربکم) ” رسول تمہیں بلا رہے تھے، تمہارے پیچھے سیذ یعنی رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
میدان احد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب کیفیت
قول باری ہے (ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا لیغشی طائفۃ منکم ، اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمنان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ ادنگھنے لگے) حضرت طلحہ ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، قتادہ، ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا، مسلمانوں میں سے کچھ تو شکست کھاکرپیچھے ہٹ گئے، ساتھ ہی مشرکین کی طرف سے دوبارہ حملے کی دھمکی کی، ادھر جو مسلمان میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور دشمن سے دودوہاتھ ہونے کے لیے پوری طری تیار تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور وہ اونگھ گئے ، لیکن…
Read the full tafseer →318 معرکہ احد میں اہل ایمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے معرکہ احد میں ایمان والوں کیلئے ایک خاص انعام یعنی امن و سکون کی اونگھ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ گروہ مومنین مخلصین کا گروہ تھا، جن کو انکے صدق و اخلاص کی بنا پر خداوند قدوس کی طرف سے " نعاس امن " کی اس عظیم الشان نعمت سے میدان کارزار میں عین اس وقت نوازا گیا جبکہ مسلمانوں کی لاشیں خون میں لت پت تھیں۔ اور غم پر غم کی بنا پر خوف و سراسیمگی کی کیفیت چار سو پھیلی ہوئی تھی۔ تو " نعاس امن " کے اس انعام خداوندی سے ان کے غم و صدمے کی یہ کیفیت جاتی رہی۔ دشمن کے رعب سے وہ سبکسار ہوگئے اور جنگ کے تعب اور تھکان سے ہلکے ہو کر وہ تازہ دم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آزمائش کا مقصد
تشریح : یہ آیات بذات خود اپنا مطلب بیان کر رہی ہیں اونگھ کے بارے یہ ہے کہ اطمینان اور سکون عطا کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ان پر نیند طاری کردی مگر یہ صرف ان لوگوں کو نصیب ہوئی جو دلوں کے مخلص اور پکے مسلمان تھے جو منافق تھے یا مخلص نہ تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے بالکل علیحدہ کردیا تھا۔ اونگھ کے بارے میں حضرت ابو طلحہ ؓ جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں مجھ پر اونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی میں اسے تھام لیتا پھر گرنے کو ہوتی پھر تھام لیتا۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر)
اس اونگھ سے صحابہ کرام تازہ دم ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
آیات 149- 155
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔
مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی ﷺ کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا…
Read the full tafseer →ف 7 اس طائفہ سے مراد پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ یعنی ان پر امن و اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور ان کو اونگھ آنے لگی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ اونگھ سے میری کیفیت یہ تھی کہ باربار تلوار مرے ہاتھ گرتی اور بڑی مشکل سے اس پر قابو پاتا۔ ( ابن کثیر)7 اس طائفہ سے منا فق اور ضعیف ال ایمان کے لوگ مراد ہیں جو محض مال غنیمت کے لالچ میں لٹرنکلے تھے۔ (قرطبی) ظن الجا ھلیہ یہ غیر الحق سے بدل ہے ینی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اوسلام اور اس کے حا ملین بس اب ہلاک ہوگئے۔ مسلمانوں کی کبھی مدد نہ ہوگی اور نہ یہ دعوت حق پر وان پڑھیگی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) یہ جملہ نظینون سے بدل ہے اور من الا مر سے مراد فتح اور…
Read the full tafseer →(3:154) امنۃ۔ امن ۔ دلجمی۔ چین۔ امن سے
نعاسا۔ اونگھ۔ نعسان۔ نیند سے بھرا ہوا آدمی۔ اونگھتا ہوا آدمی۔ نفس اور نعاس مصدر۔ اونگھنا۔ انعاس (افعال) کسی کو سلا دینا۔ امنۃ مؤنث ہے اور نعاس مذکر۔ لہٰذا فعل یغشی (جو نعاسا کے فورا بعد آیا ہے) میں ضمیر فاعل نعاسا کی طرف راجع ہے۔
امنۃ نعاسا کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں :
(1) امنۃ۔ فعل انزل کا مفعول ہے اور نعاسا اس کا بدل ہے یعنی بدل اور مبدل منہ (امنۃ) مطلب وہ ذہنی اور جسمانی سکون کی تحصیل ہے جس سے گزشتہ وماغی اور جسمانی پریشانیاں اور تھکاوٹیں دور ہوجائیں۔
(2) نعاسا فعل انزل کا مفعول ہے اور امنۃ اس کا حال جو اس سے پہلے لایا گیا ہے مثال اس کی رأیت راکبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
لغات القرآن آیت نمبر 152 تا 155
تحسونھم (تم ان کو کاٹ رہے تھے) فشلتم (تم نے بزدلی دکھائی) تنازعتم (تم باہم جھگڑپڑے) عصیتم (تم نے نافرمانی کی) ارٰکم (اس نے تمہیں دکھایا) صرف (پلٹ دیا) لیبتلی (تاکہ وہ آزمائے) تصعدون (تم چڑھے چلے جارہے تھے) لاتلون (تم پلٹ کر (نہ دیکھتے تھے) یدعوکم (تمہیں بلاتا ہے) اثاب (پلٹا) نعاس (اونگھ) ظن الجاھلیة (جاہلیت کے گمان) لبرز (البتہ وہ نکلتا) مضاجع (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 152 تا 155
سورة آل عمران کی آیات 152 ست 155 میں غزوۂ احد کے ان اسباب کو بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جیتی ہوئی بازی مسلمان ہار گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ بزدلی ، آپس کے جھگڑے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
تدبیر سے تقدیر کے نہ ٹلنے کا ذکر
شان نزول : جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گزرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی طاری کردی جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الہٰی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگئی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کی حالت میں رہے، اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح (تجویز) مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے۔ یہ بات دبی زبان سے کہتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ کو معلوم نہ ہو، حضور تک یہ چرچا نہیں پہنچا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
[56] جو پکے مسلمان تھے وہ رسول اکرم ﷺ کی آواز سنتے ہی چونک اٹھے۔ انہیں محسوس ہوا جیسے اچانک ان پر ایک مدہوشی کی سی حالت طاری ہوگئی اور اس مدہوشی میں سارا خوف و ہراس فراموش ہوگیا۔ چناچہ وہ فوراً پلٹے اور نہ صرف دشمنوں کو میدان جنگ سے بھگا دیا بلکہ آٹھ میل تک ان کے تعاقب میں بڑھے چلے گئے۔
[57] یعنی منافقین کا گروہ۔
[58] اسلام سے قبل کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔
[59] یعنی ہم تو شروع ہی سے اس جنگ کے خلاف تھے کسی نے ہماری نہ سنی ورنہ یہ مصیبت پیش نہ آتی۔
Read the full tafseer →سکون خاطر کی حیران کن مثال :
(ف 1) باوجود ان مصائب کے جن سے مسلمانوں کو غزوہ احد میں گزرنا پڑا ، سکون خاطر کی یہ حالت ہے کہ عین حالت جنگ میں نیند نے آگھیرا کیا ، اس سے بہتر طمانیت قلب کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے ؟ میدان جنگ میں جہاں اچھوں اچھوں کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں ، اللہ والے کچھ اس طرح داد شجاعت دے رہے ہیں کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹ رہی ہیں ، اونگھ رہے ہیں اور نبرد آزمائیاں ہو رہی ہیں ، اس طرح نیند کا آجانا اللہ کا خاص فضل تھا جس کا ان آیات میں اظہار ہے ، اس سے مسلمان کچھ دیر کے بعد بالکل تازہ دم ہوگئے اور تمام کوفت بھول گئے ۔
حل لغات :
نعاس ۔ اونگھ ، جھپکی ۔ ظن الجاھلیۃ : زمانہ جاہلیت…
Read the full tafseer →ف 1 پھر اس مذکورہ رنج و غم کے بعد امن و اطمینان اور راحت نازل فرمائی جو ایک اونگھ تھی یعنی امن و راحت کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اونگھ بھیجی کہ سب لوگ جس حالت میں تھے اونگھنے لگے اس اونگھ کا اثر یہ ہوا کہ یہ غنودگی تم میں سے ایک جماعت پر تو پوری طرح چھا گئی اور مسلمانوں پر تو اس غنودگی کا پورا غلبہ ہوگیا اور ایک جماعت وہ تھی جس کو اپنی جانوں ہی کی فکر پڑی ہوئی تھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹے اور ناروا اور غیر واقع خیالات باندھ رہے تھے جو محض جاہلوں جیسے احمقانہ خیالات تھے۔ (تیسیر)
امنۃ نعاسآ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی غنودگی نازل فرمائی جو امن و سکون والی تھی اور جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ف 2۔ جب کفار میدان سے واپس ہوگئے تو اس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہوگیا۔
Read the full tafseer →احد کی ان مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ :
280: غم بالائے غم یعنی متواتر غم ہی غم۔ فتح کا شکست سے بدل جانے کا غم۔ ساتھیوں کا میدان احد شہید ہونے کا غم۔ قدم اکھڑجانے کا غم۔ مجاہدین کے ذخمہ ہونے کا غم۔ ایسی مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ اس طرح ہوا کہ عبد اللہ بن قمیہ جو قریش کا مشہور بہادر تھا اپنے ہی لشکر کو چیرتا پھاڑتا ہوا آگے بڑھا اور نبی ﷺ کے قریب آگیا اور تلوار کا وار کیا اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغفر کی دو کڑیا چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغر کی دو کڑیا چہرہ مبارک میں چبھ کر رہ گئیں۔ اس طرح آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ یہ دیکھ کر جاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
The Hardships at Uhud: A Test, not Punishment :
The noble Companions as evident from: وَلِيَبْتَلِيَ اللَّـهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ (154), were actually tested through their sufferings at the battle of Uhud. This was no punishment. The objective was to make true and sincere Muslims distinct from the hypocrites. The mode was a 'test of inner qualities'.
The eloquent Qur'anic expression أَثَابَكُمْ (He awarded you sorrow), which is suggestive of punishment, can be resolved by saying that the outward form was, no doubt, that of punishment but the real purpose was a sort of affectionate…
Read the full tafseer →112. A strange phenomenon was then experienced by certain Muslim soldiers. Abu Talhah, who took part in the battle, states that the Muslims were seized by such drowsiness that their swords were slipping from their hands. (For several Traditions stating this incident, including one related by Abu Talhah, see Waqidi, Maghazi, vol. 1, pp. 295-6 - Ed.)
Read the full tafseer →