Aal-i-Imraan 3:154

Aal-i-Imraan · from ayah 154

3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ— وَطَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ ؕ— یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ ؕ— قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ؕ— یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ ؕ— یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا ؕ— قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِهِمْ ۚ— وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآئِفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآئِفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then after distress, He sent down upon you security [in the form of] drowsiness, overcoming a faction of you, while another faction worried about themselves, thinking of Allah other than the truth - the thought of ignorance, saying, "Is there anything for us [to have done] in this matter?" Say, "Indeed, the matter belongs completely to Allah." They conceal within themselves what they will not reveal to you. They say, "If there was anything we could have done in the matter, some of us would not have been killed right here." Say, "Even if you had been inside your houses, those decreed to be killed would have come out to their death beds." [It was] so that Allah might test what is in your breasts and purify what is in your hearts. And Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 16 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:154

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، "اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟" ان سے کہو "(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں" دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، "اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے" ان سے کہہ دو کہ، "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی۔ ہاں کچھ وه لوگ بھی تھے کہ انہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے، یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے پھر بھی جن کی قمست میں قتل ہونا تھا وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے، اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا، اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم پر طمانینت نازل کی، ایک اونگھ جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔ اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وہ لوگ اللہ کے بارے میں ناحق ایسے گمان کر رہے تھے جو جہالت کے خیالات تھے، وہ کہہ رہے تھے : کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے ؟ کہہ دو کہ : اختیار تو تمام تر اللہ کا ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ : اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا مقدر میں لکھا جاچکا تھا وہ خود باہر نکل کر اپنی اپنی قتل گاہوں تک پہنچ جاتے۔ اور یہ سب اس لیے ہوا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے، اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کا میل کچیل دور کردے۔ اللہ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی اور ایک گروہ کو اپنی جان کی پڑی تھی اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس نے غم کے بعد تم پر (تسکین کے لئے) غنودگی کی صورت میں امان اتاری جو تم میں سے ایک جماعت پر چھا گئی اور ایک گروہ کو (جو منافقوں کا تھا) صرف اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق گمان کرتے تھے جو (محض) جاہلیت کے گمان تھے، وہ کہتے ہیں: کیا اس کام میں ہمارے لئے بھی کچھ (اختیار) ہے؟ فرما دیں کہ سب کام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ کہتے ہیں کہ اگر اس کام میں کچھ ہمارا اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کئے جاتے۔ فرما دیں: اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) ہوتے تب بھی جن کا مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے، اور یہ اس لئے (کیا گیا) ہے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے اور جو (وسوسے) تمہارے دلوں میں ہیں انہیں خوب صاف کر دے، اور اللہ سینوں کی بات خوب جانتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس غم کے بعد اس نے تم پر ایک امن نازل فرمایا، جو ایک اونگھ تھی، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی اور کچھ لوگ وہ تھے جنھیں ان کی جانوں نے فکر میں ڈال رکھا تھا، وہ اللہ کے بارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے، کہتے تھے کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ کہہ دے بیشک معاملہ سب کا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ بات چھپاتے تھے جو تیرے لیے ظاہر نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے، کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اپنے لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل آتے اور تاکہ اللہ اسے آزمالے جو تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ اسے خالص کر دے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر امن بخشنے والی اونگھ طاری کردی۔ اور کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں صرف اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ اللہ کے متعلق ناحق اور جاہلیت کے سے گمان کرنے لگے تھے۔ وہ پوچھتے تھے کہ آیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی عمل دخل ہے ؟ آپ ان سے کہہ دیں کہ اس معاملہ میں جملہ اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں وہ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں جنہیں وہ آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتے۔ کہتے ہیں کہ اگر اس معاملہ (جنگ احد) میں ہمارا بھی کچھ عمل دخل ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے آپ ان سے کہئے کہ : اگر تم لوگ اپنے گھروں میں رہتے تب بھی جن لوگوں کے لیے مرنا مقدر ہوچکا تھا وہ یقینا اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے اور یہ شکست کا معاملہ تمہیں اس لیے پیش آیا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمائے اور جو کچھ (کھوٹ) تمہارے دلوں میں ہے اللہ تمہیں اس سے پاک کردے۔ اور اللہ دلوں کے خیالات تک کو خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر خدا نے تم پر غم کے بعد اطمینان نازل فرمایا یعنی نیند جو آ کر تم میں سے ایک گروہ کو چھا لیتی ہے اور ایک گروہ کو اپنی جانوں کی پڑی رہی۔ یہ خدا کے بارے میں خلافِ حقیقت زمانہ جاہلیت کے قسم کی بدگمانیوں میں مبتلا رہے۔ یہ کہتے رہے کہ بھلا ہمیں ان معاملات میں کیا دخل ؟ کہہ دو سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپائے ہوئے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ دل میں کہتے ہیں کہ اگر اس امر میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے جب بھی جن کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کے رہتے۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تم میں امتیاز کرے، جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو پرکھے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو صاف کرے اور اللہ کے سینوں کے بھیدوں سے خوب واقف ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس (خدائے مہربان) نے (اپنی خاص رحمت و عنایت سے) تم پر (جب کہ دشمن میدان سے نکل چکا تھا) امن کی ایک خاص کیفیت طاری کردی یعنی ایک ایسی اونگھ سی جو چھا رہی تھی، تم میں سے ایک گروہ پر، جب کہ ایک اور گروہ کو اپنی جانوں ہی کی فکر کھائے جارہی تھی، یہ لوگ گمان کر رہے تھے اللہ کے بارے میں ناحق طور پر جاہلیت کا گمان، یہ لوگ (اپنے خاص انداز میں) کہتے تھے کہ کیا اس کام میں ہمارا بھی کوئی (حصہ اور) اختیار ہے ؟ کہو اختیار تو سب اللہ ہی کیلئے (اور اسی کے ساتھ خاص) ہے، یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے بھی اس معاملہ میں کوئی شئی (رائے اور اختیار کی) ہوتی، تو ہم لوگ یہاں (اس میدان احد میں اس طرح) قتل نہ ہوتے، کہو کہ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی وہ لوگ خود بخود (اور ضرور بالضرور) نکل آتے اپنی قتل گاہوں کہ طرف، جن پر قتل ہونا لکھ دیا گیا تھا، اور (یہ سب کچھ اس لئے بھی ہوا کہ) تاکہ اللہ آزمائش کرے اسکی جو کچھ کہ ان کے سینوں کے اندر (چھپا ہوا) ہے، اور تاکہ اللہ چھانٹ (کر الگ کر) دے وہ کچھ، جو کہ تمہارے دلوں میں ہے (شوائب وساوس میں سے) اور اللہ خوب جانتا ہے دلوں کے (اندر چھپے بھیدوں اور) رازوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس نے اس غم کے بعد تمہارے اوپر راحت نازل کی (یعنی) غنودگی کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہورہا تھا۔ اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی یہ اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت خیالات جاہلیت کے خیالات قائم کررہے تھے یہ کہہ رہے تھے۔ کہ ہمارا کچھ اختیار چلتا ہے ؟ ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے۔ یہ لوگ دلوں میں ایسی چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہمارا اختیار چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم گھروں میں ہوتے (جب بھی) وہ لوگ تو جن کے لیے قتل مقدر ہوچکا تھا اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے۔ اور (یہ سب اس لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے باطن کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کردے۔۔ اور اللہ باطن کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) پھر اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا یعنی نیند جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جنہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے بارے میں ناحق جہالت والے گمان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی اختیار میں کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ کہہ دیجیے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کر رہے یہ (اپنے دل میں) کہتے ہیں کہ اگر اختیار میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے ان سے کہیے اگر تم سب کے سب اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے اور یہ (معاملہ جو پیش آیا) اس لیے تھا کہ اللہ اسے آزمالے جو کچھ تمہارے سینوں میں تھا اور تاکہ وہ بالکل پاک اور خالص کر دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت والی اونگھ طاری کردی۔ مگر ایک دوسرا گروہ جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنی جان ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ ان سے کہو (کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں (دراصل) یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے کہ اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ، (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, after inflict-ing this grief, He sent down an inner peace upon you - a sleep which overtook some of you. Those who were concerned merely about themselves, entertaining false notions about Allah - the notions of the Age of Ignorance - asked: 'Have we any say in the matter?' Tell them: 'Truly, all power of decision rests solely with Allah.' Indeed, they conceal in their hearts what they would not reveal to you, saying: 'If we had any power of decision, we would not have been slain here.' Say: 'Even if you had been in your houses, those for whom slaying had been appointed would have gone forth to the places where they were to be slain.' And all this happened so that Allah might test your secret thoughts and purge your hearts of all impurities. Allah knows well what is in the breasts of men.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, after the grief, He poured tranquility upon you - a drowsiness overtaking a group of you. Another group was worrying about their own selves, harboring thoughts about Allah that were untrue - thoughts of ignorance. They were saying, :Is there anything in our hands? Say, :The whole thing belongs to Allah. They conceal in their hearts what they do not disclose to you. They say, :If we had any say in the matter, we would not have been killed here. Say, :If you were in your homes, those destined to be killed would have come out all the way to their (final) resting -places. (All this was done) so that Allah may test your inner qualities and may purify what is in your hearts. Allah is All-Aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, after the grief, He poured tranquility upon you - a drowsiness overtaking a group of you. Another group was worrying about their own selves, harboring thoughts about Allah that were untrue - thoughts of ignorance. They were saying, :Is there anything in our hands? Say, :The whole thing belongs to Allah. They conceal in their hearts what they do not disclose to you. They say, :If we had any say in the matter, we would not have been killed here. Say, :If you were in your homes, those destined to be killed would have come out all the way to their (final) resting -places. (All this was done) so that Allah may test your inner qualities and may purify what is in your hearts. Allah is All-Aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then after the distress, He sent down security for you. Slumber overtook a party of you, while another party was thinking about themselves and thought wrongly of Allah -- the thought of ignorance. They said, "Have we any part in the affair" Say: "Indeed the affair belongs wholly to Allah." They hide within themselves what they dare not reveal to you, saying: "If we had anything to do with the affair, none of us would have been killed here." Say: "Even if you had remained in your homes, those for whom death was decreed would certainly have gone forth to the place of their death," but that Allah might test what is in your breasts; and to purify that which was in your hearts (sins), and Allah is All-Knower of what is in the breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, after grief, He sent down security for you. As slumber did it overcome a party of you, while (the other) party, who were anxious on their own account, thought wrongly of Allah, the thought of ignorance. They said: Have we any part in the cause? Say (O Muhammad): The cause belongeth wholly to Allah. They hide within themselves (a thought) which they reveal not unto thee, saying: Had we had any part in the cause we should not have been slain here. Say: Even though ye had been in your houses, those appointed to be slain would have gone forth to the places where they were to lie. (All this hath been) in order that Allah might try what is in your breasts and prove what is in your hearts. Allah is Aware of what is hidden in the breasts (of men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then after distress, He sent down upon you security [in the form of] drowsiness, overcoming a faction of you, while another faction worried about themselves, thinking of Allah other than the truth - the thought of ignorance, saying, "Is there anything for us [to have done] in this matter?" Say, "Indeed, the matter belongs completely to Allah." They conceal within themselves what they will not reveal to you. They say, "If there was anything we could have done in the matter, some of us would not have been killed right here." Say, "Even if you had been inside your houses, those decreed to be killed would have come out to their death beds." [It was] so that Allah might test what is in your breasts and purify what is in your hearts. And Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

After the sorrows you suffered, He sent you relief and some of you were encompassed by slumber. To some others of you, your lives were so important that you, like ignorant people, began thinking suspiciously of God saying, "Do we have any say in the matter?" (Muhammad), tell them, "All matters belong to God." They try to hide within their souls what they do not reveal to you. They say, "Had we had the matter in our hands, we would not have been killed there." Tell them, "Even if you had stayed in your own homes, your sworn enemies could have attacked you and slain you while you were in your beds. God wanted to test you and purge what existed in your hearts.

— Muhammad Sarwar

Then after sorrow He sent down security upon you, a calm coming upon a party of you, and (there was) another party whom their own souls had rendered anxious; they entertained about Allah thoughts of ignorance quite unjustly, saying: We have no hand in the affair. Say: Surely the affair is wholly (in the hands) of Allah. They conceal within their souls what they would not reveal to you. They say: Had we any hand in the affair, we would not have been slain here. Say: Had you remained in your houses, those for whom slaughter was ordained would certainly have gone forth to the places where they would be slain, and that Allah might test what was in your breasts and that He might purge what was in your hearts; and Allah knows what is in the breasts.

— Muhammad Habib Shakir

Then, after sorrow, He sent down unto you a security-- slumber coming over a section of you; While anot her section, concerned about themselves, bethought of Allah unjustly: the thought of paganism. They said: have we aught at all of the affair? Say thou: the affair is wholly Allah's. They hide within themselves that which they disclose not unto thee, saying: had we aught of the affair, we would not have been slain here. Say thou: had ye stayed in your houses, even then those decreed to be slain would surely have gone forth to their places of slaughter; and this happened in order that he might prove that which was in your breasts, and purge that which was in your hearts; and Allah is Knower of that which is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

After (the excitement) of the distress, He sent down calm on a band of you overcome with slumber, while another band was stirred to anxiety by their own feelings, Moved by wrong suspicions of Allah-suspicions due to ignorance. They said: "What affair is this of ours?" Say thou: "Indeed, this affair is wholly Allah's." They hide in their minds what they dare not reveal to thee. They say (to themselves): "If we had had anything to do with this affair, We should not have been in the slaughter here." Say: "Even if you had remained in your homes, those for whom death was decreed would certainly have gone forth to the place of their death"; but (all this was) that Allah might test what is in your breasts and purge what is in your hearts. For Allah knoweth well the secrets of your hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:154

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 154–155

تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن وامان کا نشان ہے جیسے سورة انفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت (اذ یغشیکم النعاس امنتہ منہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں لڑائی کے وقت انکی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، حضرت ابو طلحہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 112 یہ ایک عجیب تجربہ تھا جو اس وقت لشکر اسلام کے بعض لوگوں کو پیش آیا۔ حضرت ابو طلحہ ؓ جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں ہم پر اونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹی پڑتی تھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 154–155

احد کے مصائب سزا نہیں بلکہ آزمائش تھے اور جو لغزش بعض صحابہ کرام سے ہوئی وہ معاف کردی گئی ولیبتلی اللہ ما فی صدور کم آلایتہ سے معلوم ہوا کہ غزوہ احد میں جو مصائب اور تکالیف صحابہ کرام کو پیش آئیں وہ بطو سزا نہیں بلکہ بطور آزمائش تھیں، اس امتحان کے ذریعہ مؤ منین، مخلصین اور منافقین میں فرق کا اظہار کرنا تھا اور اثابکم غماً کے الفاظ سے جو اس کا سزا ہونا معلوم ہوتا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ صورت تو سزا ہی کی تھی مگر یہ سزا مربیانہ اصلاح کے لئے تھی، جیسے کوئی بات اپنے بیٹے کو، استاذ اپنے شاگرد کو کچھ سزا دیتا ہے تو عرف میں اس کو سزا بھی کہہ سکتے ہیں، مگر درحقیقت یہ تربیت اور اصلاح کی ایک صورت ہوتی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ امنۃ ‘ کا مفہوم : امنۃ کے معنی راحت، سکون اور اطمینان کے ہیں۔ نعاس اونگ اور نیند کو کہتے ہیں یہاں یہ بدلیت کے طریقے پر امنۃ کی گویا وضاحت ہے۔ نیند۔ اطمینا و راحت کا ذریعہ بھی ہے اور دل کے اطمینان اور دماغ کی یکسوئی کی شہادت بھی۔ جس کا ذہن پریشان اور دماغ منتشر ہو اس کی نیند اڑجایا کرتی ہے اور ایسے شخص کے لیے کوئی کام عز و حوصلہ اور استقلال و عزیمت کے ساتھ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ ہے دورانِ جنگ میں فوج کے لیے سونے کا موقع ملنا اور اس موقع سے فائدہ اٹھانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ چناچہ نیند کی اسی اہمیت کی وجہ سے دشمن فوج کے حوصلے کو پست کرنے والی تدابیر میں سے ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

154۔ 1 مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کردی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا پھر گر جاتی (صحیح بخاری) نعاسا امنۃ سے بدل ہے۔ طائفہ واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے (فتح القدیر) 154۔ 2 اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو اپنی جانوں کی فکر تھی۔ 154۔ 3 وہ یہ تھیں کہ نبی کریم ﷺ کا معاملہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

51: جنگ احد میں جو غیر متوقع شکست ہوئی، اس پر صحابہ صدمے سے مغلوب ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے جانے کے بعد بہت سے صحابہ پر اونگھ مسلط فرما دی جس سے غم غلط ہوگیا۔ 52: یہ منافقین کا ذکر ہے وہ جو کہہ رہے تھے کہ : کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے ؟ اس کا ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کا اختیار نہیں چلتا اور یہ بات صحیح تھی ؛ لیکن ان کا اصل مقصد وہ تھا جو آگے قرآن کریم نے دہرایا ہے یعنی یہ کہ اگر ہماری بات مانی جاتی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جاتا تو اتنے سارے آدمیوں کے قتل کی نوبت نہ آتی . 53: اشارہ اس طرف ہے کہ اس طرح کے مصائب سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اس جنگ میں جن کو شہید ہونا تھا ہوچکے اور جن کو ہٹنا تھا، ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہے ان میں سے مخلص مسلمانوں پر حق تعالیٰ نے ایک دم غنودگی طاری کردی، لوگ کھڑے کھڑے اونگھنے لگے۔ حضرت طلحہ ؓ کے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار چھوٹ کر زمین پر گری، یہ ایک حسی اثر اس باطنی سکون و اطمینان کا تھا جو ایسے ہنگامہ رستخیز میں مومنین کے قلوب پر محض خدا کے فضل و رحمت سے وارد ہوا اس کے بعد دشمن کا خوف و ہراس سب کافور ہوگیا۔ یہ کیفیت عین اس وقت پیش آئی جب لشکر مجاہدین میں نظم و ضبط قائم نہ رہا تھا۔ بیسیوں لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھیں، سپاہی زخموں سے چور ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ کے قتل کی افواہ نے رہے سہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 154 ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً مِّنْکُمْ لا انسان کو نیند جو آتی ہے یہ اطمینان قلب کا مظہر ہوتی ہے کہ جیسے اب اس نے سب کچھ بھلا دیا۔ عین حالت جنگ میں ایسی کیفیت اللہ کی رحمت کا مظہر تھی۔ وَطَاءِفَۃٌ قَدْ اَہَمَّتْہُمْ اَنْفُسُہُمْ یَظُنُّوْنَ باللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِط ۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھی تو میدان جنگ کے راستے ہی سے واپس ہوگئے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمانوں کی جماعت میں کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے تو ان کا حال یہ تھا کہ اس وقت انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی کیفیت میں انہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

143 اتنے شدید قسم کے غموں کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر اونگھ طاری کرنا ایک نعمت غیر مترقبہ اور غیر معمولی امداد تھی۔ اونگھ سے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا سکون حاصل ہوجاتا ہے۔ بدن کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور غم یکدم بھول جاتے ہیں۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن عین جنگ کے دوران مجھے اونگھ نے آدبایا، تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی، میں اسے تھام لیتا، پھر گرنے کو ہوتی، پھر تھام لیتا۔ (بخاری کتاب التفسیر) 144 جو مسلمان غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔ سب ایک جیسے پختہ ایمان والے اولوالعزم اور بہادر نہ تھے بلکہ کچھ کمزور دل بھی تھے اور انصار میں سے کچھ منافقین بھی تھے۔ جو انصار کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

304 ۔ مسلمان تھکے ماندے تو تھے ہی، دوپہر کے وقت ان پر نیند کا غلبہ ہوا اس سے تازہ دم ہوگئے، تھکی ہوئی فوج کو نیند جیسی نعمت کے میسر آجانے کی قدر کوئی اہل فوج ہی کے دل سے پوچھے۔ 305 ۔ (اور مسلمانوں سے حجت اور تکرار کررہے تھے کہ تم سے جو وعدۂ فتح ونصرت تھا، وہ کیا ہوا ؟ ) مراد منافقین ہیں۔۔۔ مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے ہوئے تھے، اس لیے خطاب بھی ان سے اکثر مسلمانوں کے ساتھ مشترک ہی ہے۔ یعنی المنافقین (قرطبی) ھم المنافقون (بیضاوی) (آیت) ” اھمتھم انفسھم “۔ یعنی اس قسم کا سوچ بچار کہ دیکھئے یہاں سے بچ کر بھی جانا ہوگا، اپنی جان کی فکر بجائے خود کوئی بری چیز نہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ ان منافقین کو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 152–156

آیت نمبر 156 تا 171 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ پھر اے گروہ اہل اسلام اللہ نے غم کے بعد تمہارے لیے امن یعنی قلبی اطمینان اور سکون اتارا۔ نزول رحمت کے وقت اس سکون کا وجدان صوفی کو ہوتا ہے۔ نعاسا یعنی اونگھ۔ یہ امنۃ سے بدل یا انزل کا مفعول ہے ممکن ہے کہ نعاس سے مراد وہ استغراقی کیفیت ہو جو نزول رحمت کے وقت صوفی کو حاصل ہوتی ہے اور وہ تمام ماسوا سے غافل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ کیفیت اونگھ سے بہت زیادہ مشابہ ہوتی ہے 1 ؂۔ یغشی طائفۃ منکم جو تمہارے ایک گروہ پر چھا گئی تھی یہ گروہ اہل ایمان کا تھا۔ بخاری وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو طلحہنے فرمایا : کہ احد کے دن جب ہم صف بند میدان میں تھے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(154) اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا کہ اہل صدق ویقین کو کفار سے بھاگنے کے بعد ایک اونگھ جیسے سکینت آگئی۔ (جنگ کی اس شدید افراتفری میں جب جسم وذہن پر شدید بوجھ ہوتا ہے اور جنگ کے مہیب شعلے اور تڑپتی لاشیں، زخمیوں کی چیخ و پکار کے اس سخت ترین ماحول میں کہ جب نیند اڑ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بطور سکینت نیند کے جھونکے دے کر تروتازہ کردیا۔ ابوطلحہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا، جن پر احد کے روز نیند چھا رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گرگئی، حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا، پھر گرتی تھی اور میں پھر پکڑتا تھا۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ۔۔ : ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کردی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہوگیا۔ ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں : ”ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گری جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گرجاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (أمنۃ نعاسًا) : 4562 ] ابو طلحہ ؓ ہی بیان فرماتے ہیں : ”میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 154۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “۔ امنۃ اور امن دونوں مساوی اور ہم معنی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امنۃ (راحت) اسباب خوف کے ساتھ ہوتی ہے اور امن خوف نہ ہونے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور یہ (امنۃ) منصوب ہے، انزل کے سبب، اور نعاصا اس (امنۃ) سے بدل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے مفعول لہ کی بنا پر نصب دی گئی ہے گویا کہ یہ کہا ہے : انزل علیکم للامنۃ نعاسا، (پھر تم پر راحت کے لئے غنودگی اتاری) ابن محیصن نے امنۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اللہ تعالیٰ نے احد کے دن ان غموں کے بعد مومنین پر غنودگی کے ساتھ فضل و احسان فرمایا یہاں تک کہ ان میں سے اکثر سو گئے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ مشرکین احد کے دن چلے گئے اس واقعہ کے (ختم ہونے کے) بعد جو ان مشرکوں کو اور مسلمانوں کو پیش آیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے آئندہ سال بدر کے مقام پر جنگ کرنے کا وعدہ کیا آپ نے ان سے فرمایا ہاں (وعدہ ہوگیا) لیکن مسلمان اس بات سے ڈر رہے تھے کہ وہ لوگ (یعنی مشرکین) پلٹ کر پھر مدینہ میں نہ آجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا (اس سے) اگر تم دیکھو کہ وہ اپنے اونٹوں پر پھر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے گھوڑوں سے الگ ہیں تو بلاشبہ یہ قوم جانے والی ہے اور اگر تم ان کو دیکھو کہ وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہیں اور اپنے اونٹوں سے الگ ہیں تو سمجھ لو کہ قوم مشرکین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ : اس بےچینی کے بعد ] [اَ مَنَۃً : ایک اطمینان ] [نُّـعَاسًا : جو ایک ایسی اونگھ تھی ] [یَّغْشٰی : جو چھاتی تھی ] [طَـآئِفَۃً : ایک گروہ پر ] [مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [وَطَائِفَۃٌ : اور ایک دوسرا گروہ تھا ] [قَدْ اَھمَّتْہُمْ : بےچین کیا تھا ان کو ] [اَنْـفُسُہُمْ : ان کی جانوں نے ] [یَظُنُّوْنَ : وہ لوگ گمان کرتے تھے ] [بِاللّٰہِ : اللہ سے ] [غَیْرَ الْحَقِّ : حق کے بغیر ] [ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِ : غلط سوچ کا گمان ] [یَـقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے تھے ] [ہَلْ : کیا ] [لَّـــنَا : ہمارے لیے ہے ] [مِنَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غم غلط کرنے کے لیے نیند کا غلبہ : مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچ گئی اور شکست کا جو سامنا ہوا (جو بہت بڑا غم تھا) اس غم کو غلط کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ بھیج دی اور اتنی زیادہ اونگھ سوار ہوئی کہ رنج و غم کی طرف توجہ ہی نہ رہے۔ علاج کرنے والوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور کسی طرح سے افاقہ نہیں ہوتا تو تکلیف سے بیخبر کرنے کے لیے کوئی ایسی دوا دیتے ہیں یا انجکشن لگا دیتے ہیں جس سے نیند آجائے اللہ جل شانہ نے ان حضرات پر نیند غالب فرما دی جس سے غم کا محسوس ہونا ختم ہوگیا (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–155

ترہیب مومنین از قبول مشورہ کفار ومنافقین۔ قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ حلیم۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں خدا پرستوں اور اللہ والوں کی راہ اور طریق پر چلنے کی ترغیب تھی اب ان آیات میں اعداء اللہ بد باطنوں کے کہا ماننے سے منع فرماتے ہیں تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں اور ان کے دھوکہ میں نہ آئیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ اگر تم کافروں کا کہا مانو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کرو گے تو یہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے تو پھر تم دنیا اور آخرت کے خسارہ اور نقصان میں جا پڑو گے اگر تم کافروں کی پناہ میں آگئے اور ان کی حکومت قبول کرلی جیسا کہ بعض منافقین تم کو مشورہ دیتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اس میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

229 نُعَاساً ، اَمَنَةً سے بدل ہے جب مسلمانوں کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی جو مخلص مسلمان میدان میں باقی تھے ان پر ایک دم غنودگی طار ہوگئی اور وہ کھڑے کھڑے ہی اونگھنے لگے۔ اور ان کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ چھوٹ کر زمین پر گرنے لگیں۔ عین لڑائی اور ہنگامہ کا رازار میں نیند کا ا آجانایہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی اس کا اثر یہ ہوا کہ تھکے ہارے، زخموں سے چور اور سہمے ہوئے مجاہدین کے دلوں سے خوف وہراس کا اثر کافور ہوگیا اور وہ تازہ دم ہو کر از سر نو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ طَائِفةٌ مِّنْکُم یہ غنودگی تمام مسلمانوں پر طاری نہیں ہوئی بلکہ صرف مخلص مومنین پر ان ھذہ الطائفۃ ھم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 154–155

ربط آیات : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد ہی سے ہے۔ اس جنگ کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ اس جنگ کے دوران مسلمانوں کی کوتاہی کی بناء پر ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ابتدائی فتح حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ بہت سے اکابر صحابہ شہید ہوئے خود حضور ﷺ زخمی ہوگئے حتی کہ آپ کی شہادت کی خبر بھی مشہور ہوگئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی غلطی کو معاف فرما دیا۔ کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ فتح حاصل کرنے کے باوجود وہاں ٹھہر نہ سکے بلکہ واپس بھاگ گئے۔ آج کے درس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مہربانی فرما کر کس طرح ان کے غم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَۃً مِّنْكُمْ۝ 0 ۙ وَطَاۗىِٕفَۃٌ قَدْ اَہَمَّـتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللہِ غَيْرَ الْحَـقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِيَّۃِ۝ 0 ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ۝ 0 ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّہٗ لِلہِ۝ 0 ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ۝ 0 ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰہُنَا۝ 0 ۭ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ۝ 0 ۚ وَلِــيَـبْتَلِيَ اللہُ مَا فِيْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 152–155

ترکیب : صدق فعل اللّٰہ فاعل کم مفعول اول وعدہ مفعول ثانی۔ حتی متعلق ہے فعل محذوف سے ای دام ذلک ای وقت فشلکم والرسول جملہ موضع حال میں ہے بغم موضع نصب میں ہے صفت غم کی وقیل بسبب غم امنۃ اسم ہے امن کا ویقرء بالسکون فہو مصدر۔ نعاسا بدل ہے امنۃ سے اور عطف بیان بھی ہوسکتا ہے۔ یغشی صفت نعاسا کی وطائفۃ مبتدا قدا ھمتہم خبر شیء اسم کان والخبرلنا ما قتلنا جواب لوکان الی مضاجعہم متعلق ہے لبرز سے ولیبتلی اور معطوف ہے محذوف پر ای فعل ما فعل لیمیز ولیبتلی ولیمحص معطوف ہے ولیبتلی پر۔ تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ فتح دینے والا ہے اور نیز پہلے عموماً اسلام کی فتح مندی اور ظہور کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْـکُمْ مِّنْ م بَعْدِالْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَـآئِفَۃً مِّنْـکُمْ لا وَطَـآئِفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّونَ بِاللّٰہِ غَیْرَالْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ ط یَـقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّناَ مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ ط قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّـہٗ لِلّٰہِ ط یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالاَ یُبْدُوْنَ لَکَ ط یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا ط قُلْ لَّوْکُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَالَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِھِمْ ج وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَافِیْ صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : احد کے بارے میں تبصرہ جاری ہے۔ احد کے میدان سے ایک دفعہ ہٹنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ پر سکینت کا نزول۔ اُحد میں سراسیمگی اور پے درپے صدمات کے عالم میں اچانک اللہ کی رحمت کا نزول ہوا جہاں جہاں کوئی تھا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے اونگھ آئی جس سے کئی دنوں کی تھکاوٹ اور دماغ کا بوجھ ہلکا ہوا۔ صحابہ ؓ اس طرح تازہ دم ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حضرت طلحہ ؓ اپنی کیفیت ذکر کرتے ہیں : (کُنْتُ فِیْمَنْ تَغَشَّاہ النُّعَاسُ یَوْمَ أُحُدٍ حَتّٰی سَقَطَ سَیْفِيْ مِنْ یَدِيْ مِرَارًا یَسْقُطُ وَآخُذُہٗ وَیَسْقُطُ فَآخُذُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب ثم أنزل علیکم من…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مؤمنوں پر اونگھ کا نزول : 154: ثُمَّ اَنْزَ لَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآ پفَۃً مِّنْکُمْ وَطَآپفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْ ئٍ قُل اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالَا یُبْدُوْنَ لَکَ یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 154۔ : (آیت)” ثم انزل علیکم “۔ اے مسلمانوں کی جماعت (آیت)” من بعد الغم امنۃ “۔ تمہارے لیے امن اتارا (آیت)” الامن الامنۃ “ دونوں کا معنی ایک ہی یعنی قلبی سکون ، بعض نے کہا کہ امن کہا جاتا ہے خوف کے سبب کو زائل کرنا اور ” امنۃ “ کہتے ہیں خوف کے سبب کے باقی ہونے پر اطمینان حاصل ہونا جبکہ یہاں خوف کا سبب موجود تھا ۔ ” نعاسا “ ۔۔۔۔۔ امنۃ “ سے بدل ہے (آیت)” یغشی طائفۃ منکم “۔ حمزہ اور کسائی نے (تغشی) پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے نعاس کی طرف لوٹاتے ہوئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس دن اونگھ کی صورت میں ان کے دل کو اطمینان دیا گیا جو اطمینان والا ہوتا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 154–155

(154 ۔ 155) ۔ جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گذرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی اتاری جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الٰہی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کے عالم میں رہے اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے یہ مقولہ دبی زبان سے اس طرح چپکے چپکے کہتے تھے کہ آنحضرت کو معلوم نہ ہو۔ مگر اس مقولہ کے کہنے والے کے پہلو میں جو شخص تھے انہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 154 اللہ تبارک و تعالیٰ جنگ سے ان کی پسپائی کے وقت ان کا حال بیان کرتے ہئے ان پر عتبا کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (اذ تصعدون) یعنی جب تم تیزی سے بھاگے جا رہے تھے (ولا تلون علی احد) یعنی تم ایک دوسرے کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جنگ سے فرار اور نجات کے سوا تمہارا کوئی ارادہ نہ تھا اور حال یہ تھا کہ تم کسی بڑے خطرے سے بھی دوچار نہ تھے کیونکہ تم سب سے آخر میں تھے اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو دشمن کے قریب اور بلاواسطہ میدان جنگ میں تھے، بلکہ صورت حال یہ تھی (والرسول یدعوکم فی اخربکم) ” رسول تمہیں بلا رہے تھے، تمہارے پیچھے سیذ یعنی رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو بلا رہے تھے جو پہاڑوں پر چڑھ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 153–154

میدان احد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب کیفیت قول باری ہے (ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا لیغشی طائفۃ منکم ، اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمنان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ ادنگھنے لگے) حضرت طلحہ ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، قتادہ، ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا، مسلمانوں میں سے کچھ تو شکست کھاکرپیچھے ہٹ گئے، ساتھ ہی مشرکین کی طرف سے دوبارہ حملے کی دھمکی کی، ادھر جو مسلمان میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور دشمن سے دودوہاتھ ہونے کے لیے پوری طری تیار تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور وہ اونگھ گئے ، لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

318 معرکہ احد میں اہل ایمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے معرکہ احد میں ایمان والوں کیلئے ایک خاص انعام یعنی امن و سکون کی اونگھ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ گروہ مومنین مخلصین کا گروہ تھا، جن کو انکے صدق و اخلاص کی بنا پر خداوند قدوس کی طرف سے " نعاس امن " کی اس عظیم الشان نعمت سے میدان کارزار میں عین اس وقت نوازا گیا جبکہ مسلمانوں کی لاشیں خون میں لت پت تھیں۔ اور غم پر غم کی بنا پر خوف و سراسیمگی کی کیفیت چار سو پھیلی ہوئی تھی۔ تو " نعاس امن " کے اس انعام خداوندی سے ان کے غم و صدمے کی یہ کیفیت جاتی رہی۔ دشمن کے رعب سے وہ سبکسار ہوگئے اور جنگ کے تعب اور تھکان سے ہلکے ہو کر وہ تازہ دم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 154–155

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آزمائش کا مقصد تشریح : یہ آیات بذات خود اپنا مطلب بیان کر رہی ہیں اونگھ کے بارے یہ ہے کہ اطمینان اور سکون عطا کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ان پر نیند طاری کردی مگر یہ صرف ان لوگوں کو نصیب ہوئی جو دلوں کے مخلص اور پکے مسلمان تھے جو منافق تھے یا مخلص نہ تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے بالکل علیحدہ کردیا تھا۔ اونگھ کے بارے میں حضرت ابو طلحہ ؓ جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں مجھ پر اونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی میں اسے تھام لیتا پھر گرنے کو ہوتی پھر تھام لیتا۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) اس اونگھ سے صحابہ کرام تازہ دم ہوگئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 149–155

آیات 149- 155 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔ مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی ﷺ کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس طائفہ سے مراد پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ یعنی ان پر امن و اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور ان کو اونگھ آنے لگی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ اونگھ سے میری کیفیت یہ تھی کہ باربار تلوار مرے ہاتھ گرتی اور بڑی مشکل سے اس پر قابو پاتا۔ ( ابن کثیر)7 اس طائفہ سے منا فق اور ضعیف ال ایمان کے لوگ مراد ہیں جو محض مال غنیمت کے لالچ میں لٹرنکلے تھے۔ (قرطبی) ظن الجا ھلیہ یہ غیر الحق سے بدل ہے ینی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اوسلام اور اس کے حا ملین بس اب ہلاک ہوگئے۔ مسلمانوں کی کبھی مدد نہ ہوگی اور نہ یہ دعوت حق پر وان پڑھیگی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) یہ جملہ نظینون سے بدل ہے اور من الا مر سے مراد فتح اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:154) امنۃ۔ امن ۔ دلجمی۔ چین۔ امن سے نعاسا۔ اونگھ۔ نعسان۔ نیند سے بھرا ہوا آدمی۔ اونگھتا ہوا آدمی۔ نفس اور نعاس مصدر۔ اونگھنا۔ انعاس (افعال) کسی کو سلا دینا۔ امنۃ مؤنث ہے اور نعاس مذکر۔ لہٰذا فعل یغشی (جو نعاسا کے فورا بعد آیا ہے) میں ضمیر فاعل نعاسا کی طرف راجع ہے۔ امنۃ نعاسا کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) امنۃ۔ فعل انزل کا مفعول ہے اور نعاسا اس کا بدل ہے یعنی بدل اور مبدل منہ (امنۃ) مطلب وہ ذہنی اور جسمانی سکون کی تحصیل ہے جس سے گزشتہ وماغی اور جسمانی پریشانیاں اور تھکاوٹیں دور ہوجائیں۔ (2) نعاسا فعل انزل کا مفعول ہے اور امنۃ اس کا حال جو اس سے پہلے لایا گیا ہے مثال اس کی رأیت راکبا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 152–155

لغات القرآن آیت نمبر 152 تا 155 تحسونھم (تم ان کو کاٹ رہے تھے) فشلتم (تم نے بزدلی دکھائی) تنازعتم (تم باہم جھگڑپڑے) عصیتم (تم نے نافرمانی کی) ارٰکم (اس نے تمہیں دکھایا) صرف (پلٹ دیا) لیبتلی (تاکہ وہ آزمائے) تصعدون (تم چڑھے چلے جارہے تھے) لاتلون (تم پلٹ کر (نہ دیکھتے تھے) یدعوکم (تمہیں بلاتا ہے) اثاب (پلٹا) نعاس (اونگھ) ظن الجاھلیة (جاہلیت کے گمان) لبرز (البتہ وہ نکلتا) مضاجع (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 152 تا 155 سورة آل عمران کی آیات 152 ست 155 میں غزوۂ احد کے ان اسباب کو بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جیتی ہوئی بازی مسلمان ہار گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ بزدلی ، آپس کے جھگڑے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 154–155

تدبیر سے تقدیر کے نہ ٹلنے کا ذکر شان نزول : جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گزرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی طاری کردی جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الہٰی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگئی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کی حالت میں رہے، اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح (تجویز) مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے۔ یہ بات دبی زبان سے کہتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ کو معلوم نہ ہو، حضور تک یہ چرچا نہیں پہنچا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 154–155

[56] جو پکے مسلمان تھے وہ رسول اکرم ﷺ کی آواز سنتے ہی چونک اٹھے۔ انہیں محسوس ہوا جیسے اچانک ان پر ایک مدہوشی کی سی حالت طاری ہوگئی اور اس مدہوشی میں سارا خوف و ہراس فراموش ہوگیا۔ چناچہ وہ فوراً پلٹے اور نہ صرف دشمنوں کو میدان جنگ سے بھگا دیا بلکہ آٹھ میل تک ان کے تعاقب میں بڑھے چلے گئے۔ [57] یعنی منافقین کا گروہ۔ [58] اسلام سے قبل کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ [59] یعنی ہم تو شروع ہی سے اس جنگ کے خلاف تھے کسی نے ہماری نہ سنی ورنہ یہ مصیبت پیش نہ آتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

سکون خاطر کی حیران کن مثال : (ف 1) باوجود ان مصائب کے جن سے مسلمانوں کو غزوہ احد میں گزرنا پڑا ، سکون خاطر کی یہ حالت ہے کہ عین حالت جنگ میں نیند نے آگھیرا کیا ، اس سے بہتر طمانیت قلب کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے ؟ میدان جنگ میں جہاں اچھوں اچھوں کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں ، اللہ والے کچھ اس طرح داد شجاعت دے رہے ہیں کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹ رہی ہیں ، اونگھ رہے ہیں اور نبرد آزمائیاں ہو رہی ہیں ، اس طرح نیند کا آجانا اللہ کا خاص فضل تھا جس کا ان آیات میں اظہار ہے ، اس سے مسلمان کچھ دیر کے بعد بالکل تازہ دم ہوگئے اور تمام کوفت بھول گئے ۔ حل لغات : نعاس ۔ اونگھ ، جھپکی ۔ ظن الجاھلیۃ : زمانہ جاہلیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 پھر اس مذکورہ رنج و غم کے بعد امن و اطمینان اور راحت نازل فرمائی جو ایک اونگھ تھی یعنی امن و راحت کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اونگھ بھیجی کہ سب لوگ جس حالت میں تھے اونگھنے لگے اس اونگھ کا اثر یہ ہوا کہ یہ غنودگی تم میں سے ایک جماعت پر تو پوری طرح چھا گئی اور مسلمانوں پر تو اس غنودگی کا پورا غلبہ ہوگیا اور ایک جماعت وہ تھی جس کو اپنی جانوں ہی کی فکر پڑی ہوئی تھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹے اور ناروا اور غیر واقع خیالات باندھ رہے تھے جو محض جاہلوں جیسے احمقانہ خیالات تھے۔ (تیسیر) امنۃ نعاسآ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی غنودگی نازل فرمائی جو امن و سکون والی تھی اور جس سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 153–154

ف 2۔ جب کفار میدان سے واپس ہوگئے تو اس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

احد کی ان مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ : 280: غم بالائے غم یعنی متواتر غم ہی غم۔ فتح کا شکست سے بدل جانے کا غم۔ ساتھیوں کا میدان احد شہید ہونے کا غم۔ قدم اکھڑجانے کا غم۔ مجاہدین کے ذخمہ ہونے کا غم۔ ایسی مشکل گھڑیوں میں ایک مزید مشکل کا اضافہ اس طرح ہوا کہ عبد اللہ بن قمیہ جو قریش کا مشہور بہادر تھا اپنے ہی لشکر کو چیرتا پھاڑتا ہوا آگے بڑھا اور نبی ﷺ کے قریب آگیا اور تلوار کا وار کیا اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغفر کی دو کڑیا چہرہ اقدس پر تلوار ماری اس کے صدمہ سے مغر کی دو کڑیا چہرہ مبارک میں چبھ کر رہ گئیں۔ اس طرح آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ یہ دیکھ کر جاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 154–155

The Hardships at Uhud: A Test, not Punishment : The noble Companions as evident from: وَلِيَبْتَلِيَ اللَّـهُ مَا فِي صُدُورِ‌كُمْ (154), were actually tested through their sufferings at the battle of Uhud. This was no punishment. The objective was to make true and sincere Muslims distinct from the hypocrites. The mode was a 'test of inner qualities'. The eloquent Qur'anic expression أَثَابَكُمْ (He awarded you sorrow), which is suggestive of punishment, can be resolved by saying that the outward form was, no doubt, that of punishment but the real purpose was a sort of affectionate…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

112. A strange phenomenon was then experienced by certain Muslim soldiers. Abu Talhah, who took part in the battle, states that the Muslims were seized by such drowsiness that their swords were slipping from their hands. (For several Traditions stating this incident, including one related by Abu Talhah, see Waqidi, Maghazi, vol. 1, pp. 295-6 - Ed.)

Read the full tafseer →