Explained with ayahs 149–153
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی انکی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھی سے دوستی کرو مجھی پر بھروسہ کرو مجھی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا، بخاری مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
سورة اٰلِ عِمْرٰن 109
یعنی تم نے غلطی تو ایسی کی تھی کہ اگر اللہ تمہیں معاف نہ کردیتا تو اس وقت تمہارا استیصال ہوجاتا۔ یہ اللہ کا فضل تھا اور اس کی تائید و حمایت تھی جس کی بدولت تمہارے دشمن تم پر قابو پالینے کے بعد ہوش گم کر بیٹھے اور بلاوجہ خود پسپا ہو کر چلے گئے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحابہ کرام کا مقام بلند اور اس کی رعایتیں۔
یہ ظاہر ہے کہ غزوہ احد میں بعض صحابہ کرام کی رائے کی غلطی ہوئی تھی جس پر سابقہ متعدد آیات میں تنبیہ اور آئندہ کے لئے اصلاح حال کی ہدایات کا سلسلہ چلا آتا ہے، مگر اس عتاب اور تنبیہات کے اندر بھی صحابہ کرام کے ساتھ حق جل شانہ کی عنایات قابل دید ہیں، اول تو لیتلیکم فرما کر یہ ظاہر فرما دیا کہ عارضی شکست کی جو صورت پیش آئی یہ بطور سزا کے نہیں، بلکہ آزمائش کے لئے ہے، پھر صاف لفظوں میں خطا کی معافی کا اعلان فرما دیا۔ ولقد عقا عنکم
بعض صحابہ کرام کے ارادہ دنیا کا مطلب۔
آیات مذکور میں ارشاد ہوا ہے کہ اس وقت صحابہ کرام کے دو…
Read the full tafseer →’ حَسَّ یَحِسُّ ‘ کا مفہوم : ’ حس یحس ‘ کے معنی دشمن کو اس طرح قتل کرنے کے ہیں کہ اس کو بالکل پامال اور اس کا استیصال کردیا جائے۔ ’ باذنہ ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ شاندار نتیجہ صرف تمہاری تدبیر اور تمہاری قوت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت کا کرشمہ تھا۔
’ فشل ‘ کا مفہوم : فشل کے معنی سست پڑجانے، ڈھیلے پڑجانے اور کمزوری دکھانے کے ہیں۔
’ مَّا تُحِبُّوْنَ ‘ کا مفہوم : مَّا تُحِبُّوْنَ میں اشارہ فتح کی تمنا کی طرف ہے۔ قرآن نے بعض جگہ اس ابہام کو کھول دیا بھی دیا ہے۔ مثلاً سورة صف میں ہے ’ واخری تحبونہا نصر من اللہ و فتح قریب : اور دوسری ایک اور چیز بھی جس کو تم محبوب رکھتے ہو،…
Read the full tafseer →152۔ 1 اس وعدے پر بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کا نزول مراد لیا ہے۔ لیکن یہ رائے سرے سے صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا۔ باقی رہا وہ وعدہ جو اس آیت میں مذکور ہے تو اس سے مراد فتح و نصرت کا وہ عام وعدہ ہے جو اہل اسلام کے لئے اور اس کے رسول کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جا چکا حتٰی کہ بعض آیتیں مکہ میں نازل ہوچکی تھیں۔ اور اس کے مطابق ابتدائے جنگ میں مسلمان غالب و فاتح رہے جس کی طرف (اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ) 3:152 سے اشارہ کیا گیا ہے۔
152۔ 2 اس تنازع اور عصیان سے مراد 50 تیر اندازوں کا وہ اختلاف ہے جو فتح و غلبہ دیکھ کر ان کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–152
49: ”پسندیدہ چیز“ سے یہاں مراد مال غنیمت ہے جسے دیکھ کر عقبی ٹیلے کے اکثر حضرات اپنے امیر کے حکم کے خلاف ٹیلہ چھوڑ گئے تھے۔
Read the full tafseer →یہاں قرآن مجید نے جنگ کی اسٹیج کے تمام مناظر کو پوری طرح ‘ الفاظ کے ذریعہ منقش کردیا ۔ اس میں فتح اور شکست دونوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں ‘ الفاظ کی صورت میں ایک ریل چلتی نظر آتی ہے ‘ جس میں میدان جنگ کے تمام مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آتے چلے جاتے ہیں ‘ بلکہ دلی خیانت ‘ جسموں کے انداز اور ضمیر کی کھٹک تک صاف نظرآتے ہیں ۔ عبارات کے معانی کو اس طرح منتقل کرتی ہیں گویا ریل ہے جو مناظر دکھا رہی ہے ۔ ہر حرکت میں جدید تصویر ‘ متحرک اور زندہ نظرآتی ہے خصوصاً وہ منظر جب لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بھاگ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں پکار رہے ہیں ‘ لیکن وہ ایک نہیں سنتے ۔ دہشت زدہ ہیں ‘ پریشان ہیں ‘ جنگ چھوڑ…
Read the full tafseer →6 نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ اگر صبرو استقلال سے کام لو گے، حق تعالیٰ تم کو غالب کرے گا۔ چناچہ خدا نے اپنا وعدہ ابتدائے جنگ میں سچا کر دکھایا، انہوں نے خدا کے حکم سے کفار کو مار مار کر ڈھیر کردیا۔ سات یا نو آدمی جنکے ہاتھ میں مشرکین کا جھنڈا یکے بعد دیگرے دیا گیا تھا، سب وہیں کھیت ہوئے آخر بدحواس ہو کر بھاگے مسلمان فتح و کامرانی کا چہرہ صاف دیکھ رہے تھے اور اموال غنیمت ان کے سامنے پڑے تھے کہ تیر اندازوں کی غلطی سے خالد بن الولید نے فائدہ اٹھایا اور یک بیک لڑائی کا نقشہ بدل دیا جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔
7 یعنی پیغمبر (علیہ السلام) نے جو حکم تیر اندازوں کو دیا تھا اس کا خلاف کیا…
Read the full tafseer →آیت 152 وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ ج
غزوۂ احد میں جو عارضی شکست ہوگئی تھی اور مسلمانوں کو زَک پہنچی تھی ‘ جس سے ان کے دل زخمی تھے اس کے ضمن میں اب یہ آیت ایک قول فیصل کے انداز میں آئی ہے کہ دیکھو مسلمانو ! تم ہم سے کوئی شکایت نہیں کرسکتے ‘ اللہ نے تم سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا تھا جبکہ تم انہیں اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے ‘ گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ تمہیں فتح حاصل ہوگئی تھی اور ہمارا وعدہ پورا ہوچکا تھا۔
حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ
فَشِلْتُمْ کا ترجمہ بعض مترجمین نے کچھ اور بھی کیا ہے ‘ لیکن میرے…
Read the full tafseer →139 براء بن عازب کہتے ہیں کہ احد کے دن آپ نے پچاس پیدل آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر کو مقرر کیا اور تاکید کی کہ تم اپنی جگہ سے نہ سرکنا۔ خواہ تم یہ دیکھو کہ پرندے ہم کو اچک لے جائیں جب تک میں تمہیں کہلا نہ بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی ہے اور اسے کچل ڈالا ہے تب بھی تم یہاں سے نہ ہلنا جب تک میں کہلا نہ بھیجوں ابتداء میں مسلمانوں نے کافروں کو مار بھگایا۔ میں نے خود مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے اور پنڈلیاں کھولے بھاگی جارہی تھیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا۔ اب غنیمت کا مال اڑاؤ، تمہارے ساتھی تو غالب آچکے۔ اب کیا دیکھ رہے ہو۔ عبداللہ…
Read the full tafseer →295 ۔ (غزوۂ احد کا اندر) پوری آیت میں بیان غزوۂ احد کے مختلف پہلوؤں کا ہے۔ یہاں ذکر اس وقت کا ہے جب تک مسلمان ابتداء معرکہ میں اطاعت احکام رسول اللہ ﷺ پر قائم تھے (آیت) ” تحسونھم “۔ سے اشارہ دشمنان دین مشرکین مکہ ہیں۔ حس کے معنی قتل کے ہیں۔ عبربہ عن القتل (راغب) ای تقتلونھم قتلا ذریعا (کشاف) قال ابو عبیدہ الحس الاشتغال بالقتل (قرطبی) (آیت) ” باذنہ “۔ میں اذن سے مراد اللہ کا حکم تکوینی ہے۔ ای بعلمۃ اوبقضاء ہ وامرہ (قرطبی) بتیسیرہ و توفیقہ (روح) ای بارادتہ (جلالین)
296 ۔ یعنی اپنی فتح اور غنیم کی شکست جس کا مشاہدہ تم برأی العین کررہے تھے۔ (آیت) ” حتی اذا فشلتم “ یعنی فتح وفیروزمندی کی کیفیت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–156
آیت نمبر 156 تا 171
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور…
Read the full tafseer →و لقد صدقکم اللہ وعدہ یعنی اللہ نے جو تم کو فتحیاب بنانے کا وعدہ بشرط صبروتقویٰ کیا تھا وہ اس نے پورا کیا آغاز جنگ میں تم کو فتح یاب کیا۔
اذ تحسونھم باذنہ جب اللہ کے حکم و فیصلہ کے مطابق تم کافروں کو بےدریغ تلوار سے کاٹ رہے تھے۔ ابو عبیدہ (رح) نے کہا حَسٌّ کا معنی ہے قتل کرکے بیخ و بن سے اکھاڑدینا۔ یہاں قتل عام مراد ہے۔ یہ لفظاَحَسَّہٗ سے نکلا ہے۔ اَحَسَّ کا معنی ہے حس کو باطل کردیا 2 ۔
حتی اذا فشلتم لیکن جب تم بزدل اور کمزور پڑگئے بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب تمہاری رائے کمزور پڑگئی اور تم مال غنیمت پر جھک پڑے (گویا کمزوری سے مراد ہے رائے کی کمزوری) کیونکہ مال کی حرص ضعف عقل کی…
Read the full tafseer →(152) غزوہ احد کے بارے میں جو مسلمانوں سے وعدہ فرمایا تھا، اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب احد کے دن ابتدائے قتال میں تم کفار کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے حکم سے قتل کررہے تھے لیکن لڑائی کے آخری مرحلہ میں جب تم خود ہی اختلاف رائے کے سبب کمزور ہوگئے اور لڑائی کے مسئلہ میں اور رسول اللہ ﷺ کے حکم میں مورچہ چھوڑنے کے اندر مختلف ہوگے اس کے باوجود کہ فتح اور غنیمت تمہیں مل گئی تھی، بعض تیر انداز اس مرحلے پر مورچہ چھوڑ جہاد سے صرف مال غنیمت ہی حاصل کرنا چاہتے تھے اور بعض جہاد اور مورچہ پر کھڑے رہنے میں آخرت کے طلب گار تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے ساتھی اسی مورچہ پر جمے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ۔۔ : جنگ احد میں پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کو اللہ کے حکم سے خوب کاٹتے رہے، حتیٰ کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین اور ان کی عورتوں نے بھاگنا شروع کردیا تو پچاس تیر انداز، جنھیں آپ ﷺ نے عبداللہ بن جبیر ؓ کی سرکردگی میں ایک پہاڑی پر متعین کیا تھا، تاکہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں، انھوں نے مال غنیمت دیکھ کر باہم جھگڑنا شروع کردیا۔ پچاس آدمیوں میں سے اکثر آپ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف دوڑ پڑے، اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 152۔
محمد بن کعب قرظی نے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف مراجعت فرما ہوئے اس حال میں کہ انہیں تکلیف اور اذیت پہنچی تھی تو بعض نے بعض کو کہا : کہاں سے یہ اذیت ہمیں پہنچی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ فتح ونصرت کا وعدہ فرمایا تھا تب یہ آیت نازل ہوئی، (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 565، اسباب النزول، صفحہ 83) اور یہ وہ ہے کہ انہوں نے مشرکوں کے علمبردار کو قتل کیا اور اس کے بعد علم پر ان میں سے سات افراد کو قتل کیا، اور ابتداء میں مسلمانوں کو کامیابی و کامرانی حاصل ہوئی مگر یہ کہ وہ مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے، اور بعض تیراندازوں نے بھی…
Read the full tafseer →(1) البیہقی نے دلائل میں عروہ رحمۃ اللہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا تھا اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائیں گے پانچ ہزار فرشتوں سے نشان لگائے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا بھی مگر جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور انہوں نے اپنی صف بندی کو چھوڑ دیا اور تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے عہد کو چھوڑ دیا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور انہوں نے دنیا کا ارادہ کرلیا تو ان سے فرشتوں کی مدد اٹھالی گئی اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونہم باذنہ “ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اپنا وعدہ اور ان کو…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ صَدَقَـکُمُ : اور یقینا سچ کردیا ہے تم سے ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَعْدَہٗ : اپنے وعدے کو ] [اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ : جب تم لوگ قتل کرتے تھے ان کو ] [بِاِذْنِہٖ : اس کی اجازت سے ] [حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [اِذَا فَشِلْتُمْ : جب تم لوگوں نے بزدلی کی ] [وَتَنَازَعْتُمْ : اور باہم اختلاف کیا ] [فِی الْاَمْرِ : اس فیصلے میں ] [وَعَصَیْتُم : اور تم نے حکم عدولی کی ] [مِّنْم بَعْدِ مَآ : اس کے بعد کہ جو (یعنی جب) ] [اَرٰٹکُمْ : اس نے دکھایا تم کو ] [مَّا : وہ ‘ جو ] [تُحِبُّونَ : تم لوگ پسند کرتے ہو ] [مِنْکُمْ مَّنْ : تم میں وہ بھی ہیں جو ] [یُّرِیْدُ : ارادہ کرتے ہیں ] [الدُّنْیَا : دنیا کا…
Read the full tafseer →غزوہ احد میں شکست کے اسباب کیا تھے ؟
ان آیات میں مسلمانوں کی اس عارضی شکست کے اسباب بیان فرمائے جو انہیں غزوہ احد میں پیش آگئی تھی۔ اور ابتداءً جو مسلمانوں کو غلبہ ہوا تھا اس کا بھی تذکرہ فرمایا، نیز مسلمانوں کو غم کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ایک آرام اور چین کی صورت پیش آگئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ کا غلبہ فرما دیا تھا تاکہ غم غلط ہوجائے اس کا بھی تذکرہ فرمایا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں کے ایک دستہ کو ایک پہاڑی پر مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم یہاں سے مت ٹلنا اور یہ کہ ہم برابر غالب ہی رہیں گے جب تک کہ تم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہوگے، اس وعدہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
ترہیب مومنین از قبول مشورہ کفار ومنافقین۔
قال تعالی۔ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔ حلیم۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں خدا پرستوں اور اللہ والوں کی راہ اور طریق پر چلنے کی ترغیب تھی اب ان آیات میں اعداء اللہ بد باطنوں کے کہا ماننے سے منع فرماتے ہیں تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں اور ان کے دھوکہ میں نہ آئیں چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو۔ اگر تم کافروں کا کہا مانو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کرو گے تو یہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے تو پھر تم دنیا اور آخرت کے خسارہ اور نقصان میں جا پڑو گے اگر تم کافروں کی پناہ میں آگئے اور ان کی حکومت قبول کرلی جیسا کہ بعض منافقین تم کو مشورہ دیتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اس میں…
Read the full tafseer →223 حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ احد کی ہنگامی شکست کی وجہ سے دشمنوں نے مسلمانوں کے سامنے جس شبہ کا اظہار کیا اور جس کی وجہ سے بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ واقعی اللہ نے تو ہمیں مدد اور نصرت کا وعدہ دیا تھا تو پھر ہمیں شکست کیوں ہوئی۔ قال ناس من اصحابہ من این اصابنا ھذا وقد وعدن اللہ النصر (مدارک ص 146 ج 1) اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کا اصل جواب ارشاد فرمایا ہے اور مسلمانوں کی اس ہنگامی شکست کی اصل وجہ بیان فرمائی ہے اس سے پہلے دو دفعہ اس شبہ کا جواب گذر چکا ہے جس کا حاصل صرف تسلی اور دلاسا ہے۔ صَدَقَ راست کرد یعنی سچ کردکھایا ای حقق (مدارک) حَسٌ کاٹنا اور قتل کرنا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منافقین کی بات ماننے سے منع فرمایا۔ اور اس سے پہلے سابقہ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کافروں اور منافقوں کی بات مانوگے تو وہ تمہیں الٹا جاہلیت کی طرف لے جائیں گے۔ اور تمہیں تمہارے پاکیزہ نظریات سے برگشتہ کردیں گے جو کہ تمہارے لیے سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ تمہیں مخالفین کے پراپیگنڈا سے متاثر نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر مکمل بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہی تمہارا آقا اور مددگار ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی بیان ہوچکا ہے۔ کہ کفار و مشرکین کے نظریات…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِـاِذْنِہٖ 0 ۚ حَتّٰٓي اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ 0 ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ 0 ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِـيَبْتَلِيَكُمْ 0 ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ 0 ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ 152
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
ترکیب : صدق فعل اللّٰہ فاعل کم مفعول اول وعدہ مفعول ثانی۔ حتی متعلق ہے فعل محذوف سے ای دام ذلک ای وقت فشلکم والرسول جملہ موضع حال میں ہے بغم موضع نصب میں ہے صفت غم کی وقیل بسبب غم امنۃ اسم ہے امن کا ویقرء بالسکون فہو مصدر۔ نعاسا بدل ہے امنۃ سے اور عطف بیان بھی ہوسکتا ہے۔ یغشی صفت نعاسا کی وطائفۃ مبتدا قدا ھمتہم خبر شیء اسم کان والخبرلنا ما قتلنا جواب لوکان الی مضاجعہم متعلق ہے لبرز سے ولیبتلی اور معطوف ہے محذوف پر ای فعل ما فعل لیمیز ولیبتلی ولیمحص معطوف ہے ولیبتلی پر۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ فتح دینے والا ہے اور نیز پہلے عموماً اسلام کی فتح مندی اور ظہور کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَدَقَـکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہٖ ج حَتّٰیٓ اِذَا فَشِلْـتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الْاَمْرِ وَعَصَیْـتُمْ مِّنْ م بَعْدِ مَآاَرٰ کُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ط مِنْـکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالدُّنْیَا وَمِنْـکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالْاٰخِرَۃَ ج ثُمَّ صَرَفَـکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ ج وَلَقَدْ عَفَا عَنْـکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ کردکھایا جبکہ تم ان کو تہِ تیغ کررہے تھے اللہ کے حکم سے، یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑگئے اور تم نے حکم میں اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ اس نے دکھادی تمہیں وہ چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
فہم القرآن
ربط کلام : احد میں ہونے والے افتراق کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آئندہ اس سے بچا جاسکے۔ مجاہدین کی صفوں میں اختلافات ہوں تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے خواب بیان فرمایا کہ میں نے رات کو اپنے گردو پیش بہت سی گائیں ذبح ہوتی دیکھی ہیں۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میری تلوار کو دندانے پڑگئے ہیں۔ میں پھر دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط کڑا پکڑا ہوا ہے جس کی آپ نے یوں تعبیر فرمائی کہ پہلے ہمیں فتح ہوگی اس کے بعد نقصان اٹھانا پڑے گا اور بعد ازاں ہم محفوظ ہوجائیں گے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام ]
اُحد کی…
Read the full tafseer →152: وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ تم سے پورا کردیا) اِذْتَحُسُّوْنَھُمْ (جب کہ تم ان کافروں کو بےدریغ قتل کر رہے تھے) ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حَسَّہٗ کا معنی قتل کرکے حس کو باطل کرنا۔ بِاِذْنِہٖ اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ اور علم سے۔ حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ (یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے) وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ اور تم (قیام و عدم قیام میں) جھگڑنے اور اختلاف کرنے لگے وَعَصَیْتُمْ (اور تم نے اپنے پیغمبر کے حکم کی خلاف ورزی کی) مرکز کو چھوڑ کر اور غنیمت میں مشغول ہو کر۔ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰکُمْ مَّاتُحِبُّوْنَ (اسکے بعد کہ اس نے تمہیں دکھا دیا وہ جو تم…
Read the full tafseer →152۔ (آیت)” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “۔ محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین غزوہ احد سے مدینہ کی طرف لوٹے تو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ اللہ نے تو ہم سے فتح یاب ہونے کا وعدہ کیا تھا تو پھر یہ مصیبت کہاں سے آئی ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ مدد اور تمہاری کامیابی کا وعدہ کیا تھا یہ کامیابی ابتدائی تھی جو کافروں کو پسا کردیا تھا (آیت)” اذ تحسونھم باذنہ “ یہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب اس طرح دی کہ احد کی پہاڑی کو پیٹھ پیچھے اور مدینہ چہرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–153
(149 ۔ 153) ۔ جب شیطان نے یہ خبر اڑا دی کہ حضور شہید ہوگئے تو بعض کچے مسلمان یہ کہنے لگے کہ اب ہم اپنے باپ دادا کے دین پر قائم ہوجائیں تو اچھا ہے ان لوگوں کی صلاح نہ ماننے کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ایسے لوگوں کا کہناماننے میں دین کا خسارہ ہے دنیا کا تو یہ کہ اللہ مسلمانوں کا حامی اور مددگار ہے۔ اس لئے آخر ان کو غلبہ ہوگا۔ اور جس طرح اب تم کو جان و مال کا خوف کافروں سے ہے۔ اگر تم کافروں میں شریک ہوگئے۔ تو وہی خوف تم کو مسلمانوں سے کرنا پڑے گا اور دین کا یہ نقصان کہ عقبیٰ میں اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور جن کافروں کا تم کو خوف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
آیت 152
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نصرت کا وعدہ پورا کردیا، پس تمہیں کفار کیم قابلے میں فتح و نصرت عطا کی حتی کہ تمہیں ان کی گردنوں پر اختیار دے دیا تھا اور تم نے ان کی گردنیں مارنا شروع کردیں یہاں تک کہ تم خو داپنے لئے ہزیمت کا سبب بن گئے اور تم خود اپنے مقابلے میں دشمن کی اعانت کا باعث بن گئے۔ پس جب تم بزدلی، کمزوری اور سستی کا شکار ہوگئے ” وتنازعتم فی الامر) اور تم نے جھگڑے میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو چھوڑ دیا جو اتحاد اور عدم اختلاف کے بارے میں تھا۔ پس تم اختلافات میں پڑے گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہم تو اسی مقام پر ڈٹے رہیں گے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں معتین فرمایا ہے…
Read the full tafseer →اطاعت امیرضروری ہے
قول باری ہے (ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذتحسونھم باذنہ۔ اللہ نے (تائید نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کردیا، ابتداء میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کررہے تھے) آیت میں یہ خبردی گئی ہے کہ مسلمانوں سے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں فتح ونصرت کاپیشگی وعدہ فرمایا گیا تھا، اور یہ وعدہ اس وقت تک قائم رہاجب تک انھوں نے اپنے کام میں اختلاف نہیں کیا چنانچہ غزوہ احد کے موقعہ پر بالکل یہی ہوا۔ مسلمان شروع میں اپنے دشمنوں پر غالب آگئے انھیں شکست دے دی اور انھیں جانی نقصان بھی پہنچایا۔ حضور ﷺ نے تیراندازوں کو ایک درے پر جمے رہنے کا حکم دیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ وہ کسی بھی…
Read the full tafseer →304 اللہ کا وعدہ بہرحال اور قطعی طور پر سچا : سو ارشاد فرمایا گیا اور یقینا اللہ نے سچا کر دکھایا تم لوگوں سے اپنا وعدہ جو کہ اس نے تمہاری نصرت و امداد کے بارے میں تم سے فرمایا تھا { وََاِنْ تَصْْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا } الآیۃ (آل عمران : 120) ۔ یعنی " اگر تم لوگوں نے صبر اور تقویٰ کو اپنائے رکھا، تو ان کی چالوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا "۔ روایات میں ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو عارضی شکست سے دوچار ہونا پڑا تو ان میں سے بعض کے دلوں میں اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے کہ اگر واقعی ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا گیا تھا تو پھر ہمیں اس شکست سے…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی آزمائش
تشریح : اس آیت میں احد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مسلمانوں کی آزمائش تھی اور حق تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے جو خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ہی ہے۔” توبہ کا مطلب ہے ” لوٹ آنا انسان جب گناہ کرکے پشیمان ہوتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ آئندہ ایسے نہیں کروں گا تو گویا وہ نیکی کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی ناراضی دور کرکے رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–155
آیات 149- 155
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا………وھو خیر الناصرین۔
مومنین کو ہمیشہ ارشادات نبوی ﷺ کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر کفار کی بات پر کان دھریں گے تو وہ مومنوں کو بھی کھینچ کر کفر کی دلدل میں پھینک دیں گے جو ایک عظیم نقصان ہے اور جس کی عملی صورت احد میں ظاہر ہوئی کہ کفار نے علی الاعلان کہا کہ ہمیں واپس اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
احد مدینہ منورہ سے کچھ دور نہیں تھا اور منافقین اگرچہ ابن ابی کی سرکردگی میں لوٹ کر چلے گئے تھے مگر پھر بھی دور نزدیک سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے جب مشرکین نے درہ سے حملہ کیا ، اور ان کی ساری فوج پلٹی تو وقتی طور پر ایک افراتفری کا عالم ضرور بپا ہوا…
Read the full tafseer →ف 1 جنگ احد میں ج پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلما نوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کے سر قلم کرتے رہے حتی کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین نے بھاگنا شروع کیا تو پچاس سوار جن کو آنحضرت ﷺ نے عبدا للہ بن جبیر ؓ کی سرکردی میں متعین کیا تھا کہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں انہوں نے مال غنیمت دیکھ کر با ہم جھگڑا شروع کردیا اور ان میں سے اکثر آنحضرت کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غمیت کی طرف دوڑ پڑے۔ اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ آور ہونے کا موقع مل گیا اور مسلما نوں کو بہت بڑا نقصان اٹھا نا پڑا اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ّابن کثیر۔ کبیر) جنگ کے بعد جب آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →(3:152) تحسونھم۔ تحسون مضارع جمع مذکر حاضر (باب نصر) ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول ۔ الحاسۃ۔ اس قوت کو کہتے ہیں جس سے عوارض حسبیہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق شاعرہ خمسہ (یعنی سمع۔ بصر۔ شم۔ ذوق۔ لمس) پر ہوتا ہے۔ حسست (نصر) واحسست محسوس کرنا۔ احسست (افعال) دو طرح استعمال ہوتا ہے۔:
(1) قوت حس سے کسی چیز تک پہنچنا (محسوس کرنا)
(2) کسی کے حاسہ پر مارنا جیسے کبدتہ ۔ میں نے اس کے جگر پر مارا۔ اور حاسہ پر مارنے سے کبھی انسان مر بھی جاتا ہے اس لئے حسستہ بمعنی قتلتہ بھی آجاتا ہے۔ آیۃ ہذا میں انہی معنوں میں استعمال ہوا یعنی جب تم کافروں کو قتل کر رہے تھے۔
فشلتم۔ ماضی معروف جمع مذکر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
لغات القرآن آیت نمبر 152 تا 155
تحسونھم (تم ان کو کاٹ رہے تھے) فشلتم (تم نے بزدلی دکھائی) تنازعتم (تم باہم جھگڑپڑے) عصیتم (تم نے نافرمانی کی) ارٰکم (اس نے تمہیں دکھایا) صرف (پلٹ دیا) لیبتلی (تاکہ وہ آزمائے) تصعدون (تم چڑھے چلے جارہے تھے) لاتلون (تم پلٹ کر (نہ دیکھتے تھے) یدعوکم (تمہیں بلاتا ہے) اثاب (پلٹا) نعاس (اونگھ) ظن الجاھلیة (جاہلیت کے گمان) لبرز (البتہ وہ نکلتا) مضاجع (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 152 تا 155
سورة آل عمران کی آیات 152 ست 155 میں غزوۂ احد کے ان اسباب کو بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جیتی ہوئی بازی مسلمان ہار گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ بزدلی ، آپس کے جھگڑے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس رعب کے سبب سے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھے، اول اول مسلمانوں کی فتح ہوگئی تھی لیکن تیر اندازوں نے لوٹ کے لالچ سے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی، اس سبب سے یہ شکست خود تمہارے ہاتھوں ہوئی، اور تمام صدمے پر صدمے سہنے پڑے۔ خیر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارا قصور معاف کیا۔ مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے جو رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچایا، اس کے بدلے تم کو ہر میت کے غم میں مبتلا کیا۔
Read the full tafseer →[53] جنگ احد میں رسول اکرم ﷺ نے ایک خاص گھاٹی پر جو نقشہ جنگ میں بڑی اہمیت رکھتی تھی پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ متعین کردیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اس مورچے سے کسی حال میں نہ ہلیں۔ لیکن جب مسلمانوں کے جرأت مندانہ مقابلے نے دشمن کے پاؤں اکھاڑ دیئے تو یہ دستہ مال غنیمت لوٹنے کی
طمع میں بےقابو ہوگیا اور بجز دس آدمیوں کے مورچہ چھوڑ کر لوٹ مار شروع کردی۔ دشمنوں نے جب یہ حال دیکھا تو اس گھاٹی کی طرف سے ہلہ بول دیا اور دیکھتے دیکھتے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور فتح شکست میں بدل گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
عصیاں رسول ﷺ کا نتیجہ :
(ف 1) احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ضعیف ال ایمان لوگ ڈگمگا گئے ، انہیں شک نے آگھیرا کہ خدا نے جو نصرت واعانت کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ پورا نہیں ہوا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ، اس میں کبھی تخلف نہیں ہوا ، کیا تم نے جب تک پارس اطاعت کو ملحوظ رکھا ، کامیاب نہیں رہے ؟ اولا تو ایسا ہوا کہ مسلمان مخالفین پر چھا گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میدان حرب اب انہیں کا حصہ ہے ، وہ لوگ جنہیں حضور ﷺ نے تیر اندازی کے لئے درہ پر متعین کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ آخر تک تم یہیں رہنا ۔ ان میں بعض لوگ غنیمت کے لالچ ہیں ایک ہوگئے اور لگے مال غنیمت لوٹنے ، خالد بن…
Read the full tafseer →ف 1 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو تم سے اپنا وعدئہ نصرت و فتح کو اس وقت سچا کرچکا تھا اور تم کو اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جس وقت تم ان کافروں کو خدا کے حکم سے ابتدائے جنگ ہی میں کاٹ رہے تھے اور قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے خود ہی بزدلی اور کمزوری دکھائی اور تم نے نامردی کی اور پیغمبر ﷺ کے حکم کی تعمیل میں باہم جھگڑنے اور اختلاف کرنے لگے اور باوجود اس کے کہ تمہاری محبوب اور دل خواہ چیز تم کو آنکھوں سے دکھا دی تم نے پیغمبر کی عدول حکمی کی اور ان کے کہنے پر نہ چلے تمہاری اس وقت یہ حالت تھی کہ بعض تم میں سے وہ تھے جو دنیا حاصل کرنا چاہتے تھے اور بعض وہ تھے جو صرف آخرت چاہتے تھے اور آخرت…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس آیت سے صحابہ کے حال پر بڑی عنایت معلوم ہوئی کہ عتاب میں بھی چند درچند تسلیاں فرمائیں ایک یہ کہ سزا نہ تھی بلکہ اس میں بھی تمہاری مصلحت تھی پھر مواخذہ آخرت سے بےفکر کردیا۔
Read the full tafseer →واقعہ یاد کرو جب کہ ہم نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا تھا اور تن کفار کو تہ تیخ کر رہے تھے :
274: وہ وعدہ الٰہی کیا تھا جو پورا ہوا ؟ پیچھے آپ پڑھ گئے ہیں کہ اللہ تعلای نے ارشاد فرمایا کہ ’ وہ وقت یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین ہزار ملا ئ کہ سے مدد فرمائے گا۔ “ یہاں ارشاد ہوا کہ ” اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے اپنا وعدہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا وہ اللہ نے پورا کر دکھایا۔ وعدہ کیا تھا کہ ملائکہ تمہاری نصرت کریں گے اور ملائک معاون مددگار رہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا لیکن جنگ کرنے والے کافروں کی تہ تیخ تم مسلمان کر رہے تھے۔
یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ…
Read the full tafseer →Commentary:
The High Station of the Noble Companions:
As obvious, the noble Companions made an error of judgement during the battle of Uhud which forms the subject of admonition and correction in the previous continuity of verses. But, equally worth noticing here are the graces of Allah Almighty showered on the noble Companions side by side with the element of warning. To begin with, by saying لِيَبْتَلِيَكُمْ (so that He may test you) it was made clear that this temporary setback did not come as punishment, rather, it was to test them. Then, comes the statement, وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
109. The failure of the Muslims was of such a serious nature that had God not pardoned them they might have been obliterated there and then. It was out of God's grace, support and patronage that after the Muslims had been overpowered by the enemy the latter were seized with perplexity and confusion, and withdrew.
Read the full tafseer →