Aal-i-Imraan 3:144

Aal-i-Imraan · from ayah 144

3:144

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ— قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ؕ— اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِكُمْ ؕ— وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْـًٔا ؕ— وَسَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْنَ ۟وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Muhammad is not but a messenger. [Other] messengers have passed on before him. So if he was to die or be killed, would you turn back on your heels [to unbelief]? And he who turns back on his heels will never harm Allah at all; but Allah will reward the grateful.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 15 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:144

محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور محمد تو ایک رسول ان سے پہلے اور رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں، پھر اگر وہ وفات فرما جائیں یا شہید کر دیئے جائیں تو کیا تم اپنے (پچھلے مذہب کی طرف) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے (یعنی کیا ان کی وفات یا شہادت کو معاذ اللہ دینِ اسلام کے حق نہ ہونے پر یا ان کے سچے رسول نہ ہونے پر محمول کرو گے)، اور جو کوئی اپنے الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ عنقریب (مصائب پر ثابت قدم رہ کر) شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول، بیشک اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے تو کیا اگر وہ فوت ہوجائے، یا قتل کردیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

محمد ﷺ ایک رسول ہی ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (اسلام چھوڑ دو گے ؟) اور اگر کوئی الٹے پاؤں پھر بھی جائے تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور شکرگزاروں کو اللہ تعالیٰ جلد ہی اچھا بدلہ عطا کرے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

محمد تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا گئے یا قتل کردئیے گئے تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤ گے جو پیٹھ پیچھے پھرجائے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو صلہ عطا فرمائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور محمد ﷺ نہیں ہیں مگر ایک رسول ان سے پہلے بھی گزر چکے ہیں بہت سے رسول، تو کیا اگر وہ مرجائیں، یا قتل کر دئیے جائیں، تو تم لوگ (راہ حق و صواب سے) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور (یاد رکھو کہ) جو کوئی پھر گیا (راہ حق و صواب سے) تو وہ (یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا) اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا، اور اللہ (ضرور اور) جلد ہی نوازے گا شکر گزاروں کو ان کے (صلہ و) بدلہ سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور محمد ﷺ تو بس ایک رسول ہی ہیں۔ ان کے قبل اور بھی رسول گزر چکے ہیں۔ سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے۔ اور جو کوئی بھی الٹے پاؤں چلا جائے جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔ اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا قتل کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے ؟ اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Muhammad is no more than a Messenger, and Messengers have passed away before him. If, then, he were to die or be slain will you turn about on your heels? Whoever turns about on his heels can in no way harm Allah. As for the grateful ones, Allah will soon reward them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

MuHammad is but a messenger, there have been messengers before him. So, if he dies or is killed, would you turn back on your heels? Whoever turns back on his heels can never harm Allah in the least. Allah shall soon reward the grateful.

— Muhammad Taqi Usmani

MuHammad is but a messenger, there have been messengers before him. So, if he dies or is killed, would you turn back on your heels? Whoever turns back on his heels can never harm Allah in the least. Allah shall soon reward the grateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Muhammad is no more than a Messenger, and indeed Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will reward the grateful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Muhammad is but a messenger, messengers (the like of whom) have passed away before him. Will it be that, when he dieth or is slain, ye will turn back on your heels? He who turneth back on his heels doth no hurt to Allah, and Allah will reward the thankful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Muhammad is not but a messenger. [Other] messengers have passed on before him. So if he was to die or be killed, would you turn back on your heels [to unbelief]? And he who turns back on his heels will never harm Allah at all; but Allah will reward the grateful.

— Saheeh International

Muhammad is only a Messenger. There lived other Messengers before him. Should (Muhammad) die or be slain, would you then turn back to your pre-Islamic behavior? Whoever does so can cause no harm to God. God will reward those who give thanks.

— Muhammad Sarwar

And Muhammad is no more than an apostle; the apostles have already passed away before him; if then he dies or is killed will you turn back upon your heels? And whoever turns back upon his heels, he will by no means do harm to Allah in the least and Allah will reward the grateful.

— Muhammad Habib Shakir

And Muhammad is naught but an apostle; apostles have surely passed away before him. Will ye then, if he dieth or be slain, turn round on your heels! And whosoever turnoth round on his heels, hurteth not Allah at all. And anon shall Allah recompense the grateful.

— Abdul Majid Daryabadi

Muhammad is no more than a messenger: many Were the messenger that passed away before him. If he died or were slain, will ye then Turn back on your heels? If any did turn back on his heels, not the least harm will he do to Allah; but Allah (on the other hand) will swiftly reward those who (serve Him) with gratitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:144

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 144–148

رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 103 جب نبی ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو اکثر صحابہ کی ہمتیں چھوٹ گئیں۔ اس حالت میں منافقین نے (جو مسلمانوں کے ساتھ ہی لگے ہوئے تھے) کہنا شروع کیا کہ چلو عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں تاکہ وہ ہمارے لیے ابوسفیان سے امان لے دے۔ اور بعض نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر محمد ﷺ خدا کے رسول ہوتے تو قتل کیسے ہوتے، چلو اب دین آبائی کی طرف لوٹ چلیں۔ انہی باتوں کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر تمہاری ”حق پرستی“ محض محمد ﷺ کی شخصیت سے وابستہ ہے اور تمہارا اسلام ایسا سست بنیاد ہے کہ محمد ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی تم اسی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے جس سے نکل کر آئے تھے تو اللہ کے دین کو تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور محمد ﷺ نرے رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں جس پر قتل یا موت ممکن نہ ہو) آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں (اسی طرح آپ بھی ایک روز گزر ہی جائیں گے) سو اگر آپ کا انتقال ہوجاوے یا آپ شہید ہوجاویں تو کیا تم لوگ (جہاد یا اسلام سے) الٹے پھر جاؤ گے (جیسا کہ اس واقعہ میں بعضے مسلمان میدان جنگ سے بھاگ پڑے تھے اور منافقین ترغیب ارتداد کی دے رہے تھے) اور جو شخص (جہاد یا اسلام سے) الٹا پھر جاوے گا تو اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہ کرے گا (بلکہ اپنا ہی کچھ کھو دے گا) اور اللہ تعالیٰ جلد ہی (نیک) عوض دے گا، حق شناس لوگوں کو (جو ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد رکھ کر اس کی اطاعت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ عقب ‘ کے معنی ایڑی کے ہیں۔ انقلب علی عقبیہ پیٹھ پیچھے پھرنے کی تعبیر ہے۔ یہاں اس سے مراد اسلام کو چھوڑ کر پھر جاہلیت کی طرف مڑ جانا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں بہت سے رسول گزرے ہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی اللہ کے ایک رسول ہیں۔ جس طرح کی آزمائشیں اور مصیبتیں دوسرے رسولوں کو پیش آئیں اسی طرح کی آزمائشیں اور مصیبتیں انہیں بھی پیش آسکتی ہیں۔ جس طرح تمام رسولوں کو موت کے مرحلہ سے گزرنا پڑا انہیں بھی ایک دن وفات پانا ہے۔ ان کے رسول ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ وفات نہیں پائیں گے یا قتل نہیں ہوسکتے یا کسی مصیبت یا ہزیمت کا ابتلا انہیں پیش نہیں آسکتا۔ اگر کسی نے اس غلط فہمی کے ساتھ اسلام قبول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

144۔ 1 محمد ﷺ صرف رسول ہی ہیں ' یعنی ان کا امتیاز بھی وصف رسالت ہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دو چار نہ ہونا پڑے 144۔ 2 جنگ احد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد ﷺ قتل کردیئے گئے۔ مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تو اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی ﷺ کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا یا ان پر موت کا وارد ہوجانا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) بھی قتل اور موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ اگر آپ ﷺ بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 144–145

48: اس سے اشارہ مال غنیمت کی طرف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف مال غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوگا، اسے مال غنیمت میں سے حصہ تو مل جائے گا، لیکن آخرت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس کے برعکس اگر اصل نیت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی ہوگی تو آخرت کا ثواب حاصل ہوگا، اور مال غنیمت بھی ایک اضافی فائدے کے طور پر ملے گا (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد ﷺ قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 واقعہ یہ ہے کہ احد میں نبی کریم ﷺ نے بنفس نفیس نقشہ جنگ قائم کیا۔ تمام صفوف درست کرنے کے بعد پہاڑ کا ایک درّہ باقی رہ گیا جہاں سے اندیشہ تھا کہ دشمن لشکر اسلام کے عقب پر حملہ آور ہوجائے۔ اس پر آپ ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو جن کے سردار حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ تھے، مامور فرما کر تاکید کردی کہ ہم خواہ کسی حالت میں ہوں تم یہاں سے مت ٹلنا۔ مسلمان غالب ہوں یا مغلوب، حتٰی کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ان کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ وانا لن نزال غالبین ماثبتم مکانکم (بغوی) ہم برابر اسوقت تک غالب رہیں گے جب تک تم اپنی جگہ قائم رہو گے۔ الغرض فوج کو پوری ہدایت دینے کے بعد جنگ شروع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 144 وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌ ج غزوۂ احد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب کس لیے جنگ کرنی ہے ؟ حضرت عمر رض بھی ان میں سے تھے۔ آپ رض نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے ! یہاں اس طرز عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہارا یہ رویہ غلط تھا۔ محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے ‘ بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہو ‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمد ﷺ تو اللہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

131 جب حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھی درہ چھوڑ کر لوٹ مار میں لگ گئے تو خالد بن ولید (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے ایک دستہ کی کمان کر رہے تھے) پہاڑی کا چکر کاٹ کر اسی درہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ سو سوار ان کے ہمراہ تھے۔ ادھر حضرت عبداللہ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔ دس بارہ تیر انداز بھلا سو سواروں کی یلغار کو کیسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے مقابلہ تو بڑی بےجگری سے کیا مگر سب شہید ہوگئے۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب یعنی درہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک مشرکین کا یہ رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکوں کی جو فوج بھاگ کھڑی ہوئی تھی وہ بھی پیچھے پلٹ آئی اور مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

281 ۔ (اور اس لیے فنا پذیر بھی ہیں۔ کوئی خدایا جزء خدایا مظہر خدا تو ہیں نہیں جو قانون حیات وممات سے بالا تر ہوں) (آیت) ” محمد “ اسم مبارک قرآن میں پہلی بار آیا ہے۔ لفظی معنی ہیں وہ شخص جس کی مدح بہت یا بار بار کی جائے یا جو صفات حسنہ کا مجموعہ ہو۔ یقال فلان محمد اذاکثرت خصالہ المحمودۃ (راغب) اسم علم ہے ہمارے رسول ﷺ اور دنیا کے آخری نبی کا۔ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل اس نام کا رواج بہت کم تھا۔ علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی المتوفی 245 ھ ؁ نے کل سات آدمی اس نام کے گنائے ہیں (کتاب المعتبر صفحہ 130) اور ان میں سے ایک محمد بن سفیان بن مجاشع کی بابت تو یہ کہا ہے کہ ان کے والد نے ایک شامی راہب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 136–144

آیت نمبر 144 تا 148 ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ما محمد الا رسول اور محمد ﷺ نہیں ہیں مگر رسول یعنی خدا نہیں ہیں جن کا مرنا اور فنا ہونا ناممکن ہو اور نہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔ محمد ﷺ (کا مادہ حمد ہے اور مصدر تحمید) قاموس میں ہے حمد کا معنی ہے شکر، رضا، جزا، ادائے حق اور تحمید کا معنی ہے پیہم حمد کرنا پس محمد ﷺ کا معنی ہوا وہ شخص جس کی پیہم حمد کی جائے میں کہتا ہوں محمد ﷺ وہ شخص ہے جس کی پیہم غیر متنا ہی حمد کی جائے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے محمد ﷺ وہ شخص ہے جو تمام محامد کا جامع ہو کیونکہ حمد کا مستحق صرف وہی شخص ہوتا ہے جو کامل الصفات ہو اور تحمید کا درجہ حمد سے زیادہ ہے (باب تفعیل میں باب مجرد سے زیادہ قوت اور کثرت ہونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(144) صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ احد کے دن ہمیں یہ اطلاع ملی کہ خدانخواستہ آپ شہید کردیے گئے آپکی جدائی کے عظیم صدمہ و پریشانی سے وقتی طور پر ہم حوصلہ چھوڑ گئے اور ظاہرا ہمیں شکست ہوگئی، اللہ تعالیٰ اس چیز کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اسی طرح اگر آپ انتقال فرما جائیں یا شہید کردیے جائیں تو کیا تم اپنے پہلے والے دین کی طرف لوٹ جاؤ گے اور جو شخص اپنے سابقہ دین کی طرف پھرجائے گا تو اس کا یہ لوٹنا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ مومنین کو ان کے ایمان اور جہاد کے عوض جلد ہی نیک بدلہ دے گا۔ شان نزول : (آیت) ”وما محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ : جنگ احد میں بعض صحابہ نے تو مرتبۂ شہادت حاصل کرلیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے لگے، رسول اللہ ﷺ بھی زخمی ہوگئے اور کسی شیطان نے آپ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، صحابہ کرام ؓ کے دل اس افواہ سے ٹوٹ گئے اور وہ ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن و تشنیع کے نشتر چبھونے شروع کردیے کہ اگر محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے ؟ ! اس پر یہ آیات اتریں : (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ) ”نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔“ اس میں حصر قلب ہے کہ محمد ﷺ کے متعلق تم نے جو سمجھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کے مالک ہیں، ایسا نہیں، وہ محض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت) ” وما محمد الا رسول، قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا، وسیجزی اللہ الشکرین، وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ کتبا مؤجلا، ومن یرد ثواب الدنیا نؤتہ منھا، ومن یرد ثواب الاخرۃ نؤتہ منا وسنجزی الشکرین، وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین، وما کان قولھم الا ان قالو ربنا اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین، فاتھم اللہ ثواب الدنیا “۔ (1) (اسباب النزول “۔ صفحہ 83) اس میں ما نافیہ ہے اور اس کا ما بعد مبتدا اور خبر ہے، اور ما…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ہر حال میں دین پر ثابت قدم رہنا (1) ابن المنذر نے کلیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو حضرت عمر ؓ نے خطبہ دیا اور وہ منبر پر سورة آل عمران پڑھتے تھے اور یہ فرماتے تھے یہ غزوہ احد کے بارے میں ہے پھر فرمایا ہم احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوگئے میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور میں نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے میں نے کہا کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنوں گا کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے مگر اس کی گردن ماردوں گا (یعنی اس کو قتل کر دوں گا) میں نے دیکھا تو اچانک رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے (اس پر) یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “۔ (2)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا مُحَمَّدٌ : اور نہیں ہیں محمد ] [اِلاَّ : مگر ] [رَسُوْلٌ : ایک رسول ] [قَدْ خَلَتْ : گزرے ہیں ] [مِنْ قَـبْلِہِ : ان ؐ سے پہلے ] [الرُّسُلُ : رسول (لوگ) ] [اَفَائِنْ : تو کیا اگر ] [مَّاتَ : وہ ﷺ بےجان ہوجائیں گے ] [اَوْ قُتِلَ : یا قتل کیے جائیں گے ] [انْقَلَبْتُمْ : تو تم لوگ پلٹ جائو گے ] [عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ : اپنی ایڑیوں پر ] [وَمَنْ : اور جو ] [یَّنْقَلِبْ : پلٹے گا ] [عَلٰی عَقِبَیْہِ : اپنی دونوں ایڑیوں پر ] [فَلَنْ یَّضُرَّ : تو وہ ہرگز نقصان نہیں کرے گا ] [اللّٰہَ : اللہ کا شَیْئًا : کچھ بھی ] [وَسَیَجْزِی : اور عنقریب جزا دے گا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الشّٰکِرِیْنَ : شکر کرنے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر پر پریشان ہونے والوں کو تنبیہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ حضرات صحابہ ؓ کو ابتداءً غزوہ احد میں فتح حاصل ہوگئی لیکن جب فتح یابی دیکھ کر ان تیر انداز حضرات نے اپنی جگہ چھوڑ دی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا تھا تو مشرکین نے واپس ہو کر حملہ کیا اور ستر مسلمان شہید ہوگئے جن میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی تھے اور وہ حضرات بھی جو پہاڑی پر استقامت کے ساتھ جمے رہے۔ آنحضرت ﷺ کو بھی اس موقعہ میں تکلیف پہنچی آپ کے دندان مبارک میں ایک پتھر آکر لگا جس سے سامنے کے بعض دندان مبارک شہید ہوگئے اور چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ اسی موقع پر ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 137–145

رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔ قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

213 یہ بھی مومنین کے لیے زجر ہے جنگ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر کی امارت میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ لشکر کی پشت پر متعین فرمایا تاکہ دشمن پیچھے سے آکر حملہ نہ کرسکے۔ اور ان کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو فتح ہو یا شکست وہ ہر حال میں اسی جگہ ڈٹے رہیں اور یہاں سے ہرگز نہ ہلیں ادھر جنگ شروع ہوگئی اورحضور ﷺ اور صحابہ نے مشرکین پر ایسا زبردست حملہ کیا کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ سب بھاگ نکلے۔ جب تیرانداز دستہ نے دیکھا کہ میدان مشرکین سے خالی ہوچکا ہے اور مسلمان فتحیاب ہو کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہماری فتح ہوچکی ہے اس لیے اب یہاں ٹھہرے رہنے کی ضرورت نہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 144–145

ربط آیات : سلسلہ کلام غزوہ احد کے تمعلق ہی چل رہا ہے۔ اس سے پہلے ارشاد ہوچکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں سستی نہ دکھاؤ۔ اور کوئی تکلیف پہنچنے پر غمگین بھی نہ ہو۔ اگر تم ایمان کے تقاضوں پر پورا اتروگے ، تو غلبہ تمہیں ہی حاصل ہوگا ، تم احد میں تکلیف پہنچنے پر رنجیدہ خاطر ہو ، تو اس قسم کی تکلیف تو دشمنوں کو بھی پہنچ چکی ہے۔ فرمایا کہ ہم زمانے کے دلوں کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں۔ کبھی کسی گروہ کا پلہ بھاری ہوتا ہے ، کبھی کسی کا۔ اللہ تعالیٰ نے اذیت پہنچنے میں بھی حکمت رکھی ہے۔ اس میں بھی بہت سی مصلحتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ممتاز کرنا چاہتا ہے۔ اور بعض کو شہادت کے درجے پر فائز کرنا چاہتا ہے یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝ 0 ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝ 0 ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْہِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللہَ شَـيْـــًٔـا۝ 0 ۭ وَسَيَجْزِي اللہُ الشّٰكِرِيْنَ۝ 144 حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 137–144

ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔ تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّاللّٰہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (محمد ﷺ ! تو بس ایک رسول ہیں، گزر چکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول، تو کیا اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید کردیئے جائیں تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤ گے ؟ جو پھرے گا الٹے پائوں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور جلدی اجر دے گا اللہ شکر کرنے والوں کو) (144) آیت کا پس منظر اس آیت کریمہ کا بھی ایک پس منظر ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے شروع میں کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 143–144

فہم القرآن ربط کلام : احد میں نبی محترم ﷺ کی شہادت کی خبر کی وجہ سے بعض صحابہ بددل ہوئے جس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی ہیں اصل مشن تو ان کی دعوت ہے جسے جاری رہنا اور رکھنا چاہیے۔ جنگی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ میدان جنگ میں جونہی فوج کا سپہ سالار زخمی ہو کر گرا۔ اس کے گرنے کے ساتھ ہی بڑے بڑے بہادروں اور جنگجوؤں کے قدم اکھڑ گئے۔ سپہ سالار کا گرنا اور مرنا تو بڑی بات ہے فوج کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو لڑنے والوں کے حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں۔ غزوۂ احد میں اسلامی فوج کا پرچم ہی سر نگوں نہیں ہوا بلکہ جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے اور رسول کریم ﷺ کے بارے میں یہ آواز اٹھی کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

144: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِِہِ الرُّسُلُ اَفَاپنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ۔ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ۔ جب ابن قمیّہ نے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارا تو آپ کا سامنے والا نچلا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ آپ کے قتل کے درپے تھا۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے آپ کی طرف سے دفاع کیا۔ وہ لشکر کے علم بردار تھے۔ چناچہ اس نے حضرت مصعب ؓ کو شہید کردیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ چناچہ اس نے کہنا شروع کردیا میں نے محمد ﷺ کو قتل کردیا اور ایک شخص نے پکار کر کہا محمد (ﷺ) قتل ہوگئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

144۔ (آیت)” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ “۔ مسلمانوں میں سے بعض لوگ اس کی تمنا کرتے تھے کہ بدر کے دنوں کی طرح کوئی دن آئے تاکہ ہم قتال کریں اور ہم شہادت کا رتبہ حاصل کریں ، اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے احد کا دن دیا (آیت)” تمنون الموت “ موت کے سبب کی تمنا کر رہے تھے اور وہ ہے جہاد کرنا موت سے پہلے (آیت)” فقد رائیتموہ “ یعنی تم اس کے اسباب دیکھ لو (آیت)” وانتم تنظرون “ اگر یہ کہا جائے کہ اس فرمان کا کیا معنی ہے کہ پہلے (آیت)” فقد رائیتموہ “ فرمایا پھر اس کے بعد (آیت)” وانتم تنظرون “ فرمایا حالانکہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے ، دونوں کا ذکر تاکید کے طور پر ہے پہلے ” رائیتموہ “ سے مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 144–148

(144 ۔ 148) ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابن نذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں جو کچھ اس آیت کے شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے کہہ اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید بھی ہوگئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑتے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اس شان نزول کی روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے۔ حاصل معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 144–147

آیت 144-145 (وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل) یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقاء اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لئے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم) ” کیا پس اگر ان کو موت آگئی یا قتل کردیئے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے ؟ “ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 135–145

جہاد کی ترغیب قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

287 محمد اللہ کے رسول ہیں اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ محمد نہیں ہیں مگر ایک رسول۔ یعنی ان میں الوہیت کا کوئی شائبہ نہیں کہ ان پر موت طاری نہ ہو سکے۔ یعنی یہ حصر اضافی ہے الوہیت کی نفی کے اعتبار سے۔ روایات میں ہے کہ احد میں جب مسلمان کفار کے اچانک عقبی حملے کی وجہ سے افراتفری کا شکار ہوگئے، تو اس موقع پر کسی شیطان نے آواز لگائی کہ محمد قتل ہوگئے " اِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ " تو اس سے مسلمانوں کے ہوش اڑ گئے۔ ہمتیں ٹوٹ گئیں۔ اور ان کی صفوں میں طرح طرح کی باتیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ بعض کمزور لوگوں نے کہا کاش کہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہمارے لئے ابوسفیان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حضرت محمد ﷺ رسول الٰہی تشریح : اس آیت میں پھر غزوہ احد کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ غزوہ احد بہت سی حکمتوں اور عبرتوں کا سبب بنا اسی لیے اس کا ذکر باربار مختلف موضوعات کے تحت کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں یہ حکمت کی بات بتائی گئی ہے کہ جب غزوہ احد میں باقی بہت نقصان ہوا اسی طرح رسول اللہ ﷺ زخمی ہوگئے، جس پر لوگوں نے مشہور کردیا کہ آپ ﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ اس خبر نے مسلمانوں کو اور بھی پریشان کردیا اور انہوں نے سوچا اب تو ہمارا جینا یا ہمارا ایمان پر قائم رہنا بےکار ہے۔ رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور سب کو معلوم ہوگیا کہ آپ زندہ ہیں۔ اس پر لوگ دوبارہ ایک جگہ جمع ہو کر زور دارحملے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 144–148

آیات 144- 148 اسرارو معارف وما محمد الارسول………………وسنجزی الشکرین۔ نیز محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اللہ کے کسی بھی وصف ہیں شریک نہیں کہ صفات الوہیت کے حامل ہوں بلکہ ان سے قبل بھی بہت سے اللہ کے رسول گزر چکے ہیں کہ رسول دنیا میں اللہ کا پیغام بندوں تک لاتے ہیں اور اپنا فریضہ ادا فرما کر قانون قدرت کے مطابق اس دارفانی سے گزر جاتے ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا انتقال ہوجائے یا آپ ﷺ شہید ہوجائیں تو آپ کا پیغام اور آپ کا لایا ہوا دین تو چھوڑ نہ دیا جائے گا۔ بلکہ اس پر عمل بدستور جاری رہے گا اور فیوضات وبرکات مرتب ہوتے رہیں گے یہ تو درست نہیں کہ پیغمبر کی موت کے بعد اس کا اتباع ترک کردیا جائے تو کیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 جن گا احد میں بعض صحابہ ؓ نے تو مرتبہ شہادت حاصل کیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے گلے آنحضر ﷺ بھی زخمی ہوگئے او کسی شیطان نے آپ ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی صحابہ ؓ اس افواہ سے انتہائی شکستہ خاطر ہوگئے اور ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن طنز کے نشتر حپھبو نے شروح کردیئے کہ اگر محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو قتل کیوں ہوتے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ کیا پیغمبر کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہو (ابن کثیر قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور اشارات نکلتی ہے کہ حضرت ﷺ کی وفات پر بعض لوگ پھر جاویں گے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:144) افائن۔ أ استفہامیہزائد۔ ان اگر نہیں۔ تاکید و تحقیق۔ ان کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ شرطیہ۔ ان تعذبھم فانھم عبادک (5:118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ ریتے بندے ہیں۔ ان ینتھوا یغفرلہم ما قد سلف (8:38) اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہوچکا۔ (2) ان مخففہ۔ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوکر ان بن گیا۔ یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے اس کے بعد لام مفتوح کا آنا لازمی ہے جیسے ان کان اصحب الایکۃ لظالمین ۔ (15:78) بلاشبہ اصحاب الایکہ ظالم تھے۔ ان کاد لیضلنا عن الھتنا (25:42) تو ضرور یہ ہم کو ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا۔ (3) ان نافیہ۔ یہ جملہ اسمیہ پر بھی آتا ہے اور جملہ فعلیہ پر بھی۔ ان یتبعون…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 144–148

لغات القرآن آیت نمبر 144 تا 148 افان (پھر اگر) مات (مرگیا (مرجاتا) انقلبتم (کیا تم پلٹ جاتے) ینقلب (پلٹ جائے گا) سیجزی (عنقریب وہ بدلہ دے گا) کتابا مؤجلا (مدت لکھی ہوئی ہے (مدت مقرر کردی گئی ہے) نؤت (ہم دیتے ہیں) کاین (کتنے ہی) ربیون (اللہ والے) ماوھنوا (نہ وہ سست ہوئے) ما استکانوا (نہ وہ تھکے) اسرافنا (ہماری زیادتی) ثبت (ثابت رکھ) حسن (بہترین) ۔ تشریح : آیت نمبر 144 تا 148 یہ آیات غزوۂ احد کے فوراً بعد 3 ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ صحابہ ؓ کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی طور پر فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور صحابہ کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 144–148

جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید ہو بھی گئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کا یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور ان کے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعضے نبی شہید ہوگئے، لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے۔ جس طرح اپنے نبی کے رو برو تھے، اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔ مسائل القرآن : اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت اپنے مقررہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 144–151

[52] جنگ احد میں جب رسول اکرم ﷺ زخمی ہوگئے تو کسی مخالف نے یہ افواہ اڑا دی کہ نعوذ باللہ آپ مارے گئے۔ یہ سن کر بہت سے مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے۔ بعضوں نے کہا کہ جب پیغمبر نہ رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ۔ جو منافق تھے انہوں نے علانیہ کہنا شروع کردیا کہ یہ اگر نبی ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ جنگ میں مارے جاتے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 144–146

تلقین عزیمت : (ف 1) جب غزوہ احد میں بھاگڑ مچی اور عبداللہ ابن قیمہ نے یہ مشہور کردیا کہ رسالتمآب ﷺ شہید ہوگئے ہیں تو بعض مسلمان ہمتیں ہار بیٹھے اور جم کر نہ لڑ سکے ، حضور ﷺ نے فرمایا ” الی عباد اللہ “ کہ خدا کے بندو ادھر آؤ ، لوگ حضور کے گردا گرد جمع ہوگئے ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ تمہیں ہوگیا جو تم بھاگ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا ، ہم نے جب سنا کہ آپ ﷺ ہم میں نہیں رہے تو ہم گھبرا گئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ محمد ﷺ کی حیثیت ایک پیغمبر سے زائد نہیں ، اس سے پہلے بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں ، ہوسکتا ہے آپ اس دنیا کو چھوڑ جائیں ، کیا اس صورت میں تم دین مستقیم کو چھوڑ دو گے ؟ دوسرے لفظوں میں بتانا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور محمد ﷺ صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی تو ہیں بلاشبہ آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں تو پھر اگر وہ وفات پاجائیں یا فرض کرو وہ شہید ہی کر دئیے جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل جہاد سے یا اسلام سے واپس لوٹ جائو گے اور جو شخص بھی اپنے دین سے اور خواہ جہاد سے الٹا پھر جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہ پہنچائے گا اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نیک عوض اور صلہ عطا فرمائے گا جو شکر گزار رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گذر چکے ہیں پھر اگر وہ اپنی طبعی موت سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ جب غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور سر مبارک زخمی ہوا تو اس وقت کسی دشمن نے پکار دیا کہ محمد ﷺ قتل کیے گئے مسلمان لڑائی بگڑجانے سے بدحواس اور منتشر ہو ہی رہے تھے اس خبر سے اور بھی کمر ٹوٹ گئی کسی نے یہ تجویز کیا کہ اب کفار سے امن لے لینا چاہیے بعض ہمت ہار کر بیٹھ رہے اور ہاتھ پاوں چھوڑ دیے اور بعض بھاگ کھڑے ہوئے بعض منافق بولے کہ اگر محمد ﷺ نہیں رہے تو پھر اپنا پہلاہی دین کیوں نہ اختیار کرلیا جائے بعض نے کہا کہ اگر نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے اور بعض نے کہا کہ اگر آپ ہی نہ رہے تو ہم رہ کر کیا کریں گے جس پر آپ نے جان دی اس پر ہم کو بھی جان دی دینی چاہیے اور اگر آپ قتل…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

محمد ﷺ کیا ہیں ؟ اللہ کے ایک رسول ہیں : 262: جنگ احد میں کسی مخالفت نے یہ بات پکار دی تھی کہ پیغمبر اسلام ﷺ مارے گئے۔ یہ سن کر بہت سے مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے۔ بعض مسلمانوں نے کہا کہ جب پیغمبر ہی نہ رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ ؟ کچھ لوگ جو ایمان کے کمزور تھے یا ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ اگر وہ نبی ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ جنگ میں مارے جاتے۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا۔ ” محمد “ حمد سے سے ہے اور یہ سب سے زیادہ مشہور اسم ہمارے نبی کریم ﷺ کا ہے جس کے معنی ہیں ” وہ جس کی قابل تعریف خصلتیں بہت ہی بڑھی ہوئی ہیں۔ “ آپ ﷺ کا نام محمد آپ ﷺ کا نام احمد رکھا اور اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Related to the battle of Uhud, these verses recount events which have a particular significance of their own for several reasons. As such, the Holy Qur'an devotes four to five sections of the Surah 'Al ` Imran to the sequence of victory and defeat at the battle of Uhud and to the natural points of guidance underlying these. In the first verse out of those appearing above, the warning which is rather frightening, given to the noble Companions on an act of indiscretion by some of them, actually settles a matter of principle. A little deliberation shows that there was a secret behind…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

103. When the rumour of the Prophet's martyrdom spread during the battle, it disheartened most of the Companions. The hypocrites who were in the Muslim camp began to advise the believers to approach 'Abd Allah b. Ubayy so that he might secure protection for them from Abu Sufyan. Some went so far as to say that had Muhammad really been the Messenger of God he would not have been put to death, and for that reason they counselled people to revert to their ancestral faith. It is in this context that the Muslims are now told that if their devotion to the truth is wholly bound up with the person of…

Read the full tafseer →