Explained with ayahs 137–143
شہادت اور بشارت
چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
سورة اٰلِ عِمْرٰن 102
اشارہ ہے شہادت کے ان تمنائیوں کی طرف جن کے اصرار سے نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–143
لہذا فرمایا (ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک الایام نداولھا بین الناس) یعنی اگر تم کو زخم پہنچا تو ان کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں، جس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اور اصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اس عالم میں یہی ہے کہ وہ سختی، نرمی، دکھ، سکھ، تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے کسی باطل قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاصل ہوجائے تو جماعت حقہ کو اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے، اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہوا کرے گی، بلکہ اس شکست کے اسباب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
’ علم یعلم ‘ کے مختلف معانی پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ ممیز کرنے اور چھانٹ کر الگ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ کے بعد اس کا مقابل جملہ الذین لم یجاھدوا عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق حذف کردیا گیا ہے وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ میں یَعْلَمَ کے فتحۃ کے بارے میں لوگوں نے مختلف توجیہیں پیش کی ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کا عطف اوپر وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا پر ہے۔ وہاں چونکہ کلام قانون ابتلا کی دوسری حکمتوں کے بیان کی طرف مڑ گیا تھا اس وجہ سے صبر کے ذکر کو مضمونِ جہاد سے وابستہ کردیا لیکن اس کے فتحۃ سے یہ بات آپ سے آپ واضح…
Read the full tafseer →143۔ 1 یہ اشارہ ان صحابہ کی طرف ہے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے ایک احساس محرومی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ میدان کارزار گرم ہو تو کافروں کی سرکوبی کر کے جہاد کی فضیلت حاصل کریں۔ انہی صحابہ نے جنگ احد میں جوش و جہاد سے کام لیتے ہوئے مدینہ سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا لیکن جب مسلمانوں کی فتح کافروں کے اچانک حملے سے شکست میں تبدیل ہوگئی (جس کی تفصیل پہلے گزر چکی) تو یہ پرجوش مجاھدین بھی سراسیمگی کا شکار ہوگئے اور بعض نے راہ فرار اختیار کی۔ (جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی) اور بہت تھوڑے لوگ ہی ثابت قدم رہے (فتح القدیر)۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے ' تم دشمن سے مڈھ بھیڑ کی آرزو مت کرو اور اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
47: جو لوگ جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ……………” تم موت کی تمنائیں کررہے تھے ‘ مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ “
یہاں قرآن مجید ان کو ایک بار پھر موت کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے ‘ جس کی وہ تمنائیں کیا کرتے تھے ۔ اور پھر جس کا معائنہ وہ معرکہ احد کے میدان میں کرچکے تھے اور اس منظر کے سامنے انہیں اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ ذرا ان حقائق کے ساتھ جو عملی میدان میں درپیش آئے ہیں ‘ ان الفاظ وکلمات کا مقابلہ کریں جو ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →6 جو صحابہ بدر کی شرکت سے محروم رہ گئے تھے شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی موقع لائے جو ہم بھی خدا کی راہ میں مارے جائیں اور شہادت کے مراتب حاصل کریں۔ انہی حضرات نے احد میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے ان کو فرمایا کہ جس چیز کی پہلے تمنا رکھتے تھے وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آچکی اب آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا کیسا ؟ حدیث میں ہے کہ لقاء عَدو کی تمنا مت کرو اور جب ایسا موقع پیش آجائے تو ثابت قدم رہو۔
Read the full tafseer →آیت 143 وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ
یہاں روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو نئے نئے ایمان لائے تھے اور ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو شہادت چاہیے اور ہم تو کھلے میدان میں جا کر مقابلہ کریں گے۔ ان کے جذبات پر تھوڑا سا تبصرہ ہو رہا ہے کہ اس وقت تو جو شِ قتال اور ذوق شہادت کا اظہار ہو رہا تھا ‘ اب تم نے موت دیکھ لی ہے نا ! تو یہ ہے موت جسے انسان اتنی آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →130 اس آیت میں غزوہ احد کا ایک دوسرا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ مسلمان ابتداًء شکست سے دوچار ہوئے تھے جو صحابہ ؓ غزوہ بدر میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے وہ شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ اگر پھر اللہ نے ایسا موقع فراہم کیا تو ہم اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کے مراتب حاصل کریں گے۔ مشورہ کے وقت ایسے ہی صحابہ ؓ نے زور دیا تھا کہ جنگ مدینہ سے باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے، لیکن جب شکست ہوئی تو ایسے صحابہ ؓ میں سے بھی کچھ لوگ بھاگ نکلے۔ اس آیت میں انہیں لوگوں سے خطاب ہے کہ جو چیز تم چاہتے تھے وہی تمہیں پیش آئی ہے۔ اب پیچھے ہٹنے کا کیا مطلب ہے ؟ اسی سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →280 ۔ (پھر اب اس سے خوف وہراس کیوں ہے ؟ ) خطاب صحابہ ؓ کی ایک جماعت سے ہے۔ الخطاب للمومنین وظاھرہ العموم والمراد الخصوص (بحر) خوطب بہ الذین لم یشھدوا بدرا (مدارک) الخطاب للذین لم یشھدوا بدرا وتمنوا ان یشھد وامع رسول اللہ ﷺ (بیضاوی) معرکہ بدر میں مسلمانوں کی غیر متوقع بلکہ خلاف توقع کا میابی سن کر بعض اشخاص کو خیال پیدا ہوا کہ افسوس ہے ہم اس موقع پر حاضر نہ تھے، اب کاش کوئی معرکہ پھر اس قسم کا پیش آئے تو ہم بھی اپنی جانوں کی بازیاں لگا لگا کر شہداء بدر کا سا مرتبہ حاصل کریں، یہاں انہی کو جواب دیا جارہا ہے کہ پہلے تو یہ ہمت تھی، سو اب ایسی پست ہمتی کا اظہار کیوں ہورہا ہے ! (آیت) ” ویعلم الصبرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–144
آیت نمبر 144 تا 148
ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…
Read the full tafseer →و لقد کنتم تمنون الموت اور تم بلاشبہ اللہ کی راہ میں مرنے کی تمنا کیا کرتے تھے یا موت سے مراد ہے لڑائی کیونکہ لڑائی موت کا ایک سبب ہے یعنی تم لڑائی کی تمنا کیا کرتے تھے۔
من قبل ان تلقوہ موت یا لڑائی کو دیکھنے اور اس کی شدت کا معاینہ کرنے سے پہلے۔
فقدرائیتموہ و انتم تنظرون اب تم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یعنی تمہارے بھائی بند تمہارے سامنے مارے گئے اور تم نے خود دیکھ لیا۔ آیت میں زجر ہے اس امر پر کہ پہلے لڑائی کی تمنا کیا کرتے تھے پھر لڑائی ہوئی تو بزدل بن کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یا زجر ہے تمنا شہادت پر کیونکہ شہادت مسلمین کی تمنا کا معنی ہے غلبۂ کفار کی تمنا۔
ابن ابی حاتم نے ربیع کا قول نقل…
Read the full tafseer →(143) تم (میں سے چند جوشیلے مسلمان) احد کے واقعہ سے پہلے (جذبہ جہاد کے سبب) لڑائی میں مرجانے (شہید ہوجانے) کی تمنا کر رہے تھے اور پھر احد کے دن کفار کی تلواریں دیکھ کر ان سے خوب لڑے بھی اور پھر بالاخر ان سے ظاہرا عارضی) شکست کھاگئے اور (باوجود کوشش کے) نبی کریم ﷺ کے ساتھ (پوری طرح) ثابت قدم نہ رہ سکے۔
شان نزول : (آیت) ”ولقد کنتم تمنون الموت“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے عوفی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام میں سے کچھ حضرات کہتے تھے کاش ہم کفار کو پھر اس طرح قتل کریں جیسا کہ بدر کے دن قتل کیا تھا اور کاش بدر جیسا دن پھر پیش آئے اور اس میں ہم کفار کو تہہ تیغ کریں اور بہت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَـمَنَّوْنَ الْمَوْتَ : یہاں موت کا معنی جنگ یا شہادت ہے۔ (بغوی) جن لوگوں کو جنگ بدر میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ دشمن سے مقابلے کا موقع ملے تو ہم بھی شہداء بدر کا درجہ حاصل کرلیں، مگر جب جنگ احد میں موقع ملا تو دشمن کے اچانک حملے کی وجہ سے ثابت قدم نہ رہ سکے اور بعض بھاگ نکلے۔ اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہاری تمنا کے مطابق اب یہ موقع آیا تو تمہیں چاہیے تھا کہ پوری جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کرتے اور پامردی کا ثبوت دیتے۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو، بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 143۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد کنتم تمنون الموت “۔ یعنی تم تو شہادت کی آرزو کرتے تھے اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو، اعمش نے ” من قبل ان تلاقوہ “ پڑھا ہے یعنی قتل سے پہلے اور یہ کہا گیا ہے : اس سے پہلے کہ تم اسباب موت سے ملاقات کرو “۔ اور یہ اس لئے کہ ان میں سے بہت سے غزوہ بدر میں حاضر نہیں تھے تو وہ اس دن کی آرزو اور تمنا کر رہے تھے جس میں جنگ ہوگی، تو جب احد کا دن آیا تو وہ شکست کھا گئے اور ان میں وہ بھی تھے جو مضبوط رہے اور ڈٹے رہے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے، اور ان میں سے حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا انس بن نضر ؓ بھی تھے، کیونکہ جب مسلمان بکھرے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ کاش ہم کو بھی اسی طرح قتل کردیا جاتا جیسے بدری صحابہ کو قتل کردیا گیا ہم بھی شہادت پاتے اور بدر کے دن کی طرح ہمارے لیے بھی یہ دن آتا کہ ہم اس میں مشرکوں سے لڑتے اور ہم اس میں خیر کو پاتے اور ہم شہادت کو اور جنت کو اور (جنت والی) زندگی کو اور رزق کو تلاش کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو احد کی شہادت سے نوازا تو ان دعا کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ بچا وہی جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا (اسی پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ فقد رایتموہ…
Read the full tafseer →[وَلَـقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ : اور بیشک تم لوگ تمنا کرچکے تھے ] [الْمَوْتَ : موت کی ] [مِنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے
اَنْ : کہ ] [تَلْقَوْہُ : تم لوگ سامنے آتے اس کے ] [فَقَدْ رَاَ یْتُمُوْہُ : تو تم لوگ دیکھ چکے اس کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَنْظُرُوْنَ : آنکھوں دیکھتے ہو ]
نوٹ : آیت 140 میں ایام کو گردش دینے کا ایک مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ ہم میں سے کون سچ مچ ایمان لایا ہے۔ پھر آیت 142 میں ایک دوسرے پیرائے میں اس کا اعادہ کیا گیا کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ یہ نہ جان لے کہ کس نے اس کی راہ میں جدوجہد کی اور کون ثابت قدم رہا۔…
Read the full tafseer →شہادت کی آرزو کرنے والوں سے خطاب :
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) (اور اس میں شک نہیں کہ تم لوگ موت کے سامنے آنے سے پہلے اس کی آرزو کرتے تھے سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا اس حال میں کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہے) اس میں ان حضرات صحابہ سے خطاب ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے۔ بدر میں جنگ کی صورت پیش آجائے گی یہ بات ان کے ذہن میں نہ تھی، اس لیے وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے جب وہاں معرکہ پیش آیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت نازل ہوئی جس میں بعض صحابہ شہید بھی ہوئے تو یہ پیچھے رہ جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔
قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…
Read the full tafseer →212 اَنْ تَلْقَوْهٗ اور رَاَیْتُمُوْهُ میں ضمیر منصوب الموت کی طرف راجع ہے اور الموت سے موت شہادت مراد ہے۔ المراد بالموت ھنا الموت فی سبیل اللہ تعالیٰ وھی الشہادۃ (روح ص 71 ج 4) اس آیت میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں اس غیر حاضری پر سخت نادم ہوئے اور تمنا کرنے لگے کاش کہ اب ہمیں اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ملے اور ہم بھی شہادت کی سعادت عظمی حاصل کرلیں۔ لیکن جب ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنگ احد میں اپنی تمنائے شہادت پورا کرنے کا موقع دیا تو ان میں سے بہت سوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ثابت قدم نہ رہ سکے اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر و عتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
ربط آیات :
غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں میں جو کمزوری واقع ہوگئی تھی۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض احکام نازل فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری سے منع فرمایا۔ غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ غصے کو دبانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی۔ ہر خوشی اور تکلیف میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اور پھر اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے تائب ہونے کا طریقہ بتلایا۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کی وعید کو یاد کرکے اس سے بخشش طلب کرے ، گناہ کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی برائی سے رک جائے ، اس پر اصرار نہ کرے۔ جو کوئی ان احکام پر عمل پیرا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَـمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ 0 ۠ فَقَدْ رَاَيْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ 143 ۧ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ .
و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–144
ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔
تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْـکُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ ص فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ ع
(کیا تم گمان رکھتے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ نے ممیز نہیں کیا ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا تاکہ ممیز کردے ثابت قدم رہنے والوں کو۔ اور تم آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو، سو اب تم نے اسے دیکھ لیا اور تم ( آنکھوں سے) مشاہدہ کررہے تھے) (142 تا 143)
ایک غلط فہمی کا ازالہ
ایک مومن اور کافر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
فہم القرآن
ربط کلام : احد میں نبی محترم ﷺ کی شہادت کی خبر کی وجہ سے بعض صحابہ بددل ہوئے جس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی ہیں اصل مشن تو ان کی دعوت ہے جسے جاری رہنا اور رکھنا چاہیے۔
جنگی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ میدان جنگ میں جونہی فوج کا سپہ سالار زخمی ہو کر گرا۔ اس کے گرنے کے ساتھ ہی بڑے بڑے بہادروں اور جنگجوؤں کے قدم اکھڑ گئے۔ سپہ سالار کا گرنا اور مرنا تو بڑی بات ہے فوج کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو لڑنے والوں کے حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں۔ غزوۂ احد میں اسلامی فوج کا پرچم ہی سر نگوں نہیں ہوا بلکہ جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے اور رسول کریم ﷺ کے بارے میں یہ آواز اٹھی کہ…
Read the full tafseer →تمنائے موت پر توبیخ :
143: وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ (البتہ تم موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کو دیکھنے سے پہلے۔ اس میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جو بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے اور ان کے دل میں تڑپ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی معرکہ میں حاضر ہوں تاکہ شہادت کی سعادت پاسکیں اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اصرار کیا کہ ان کو لیکر مشرکین کی طرف نکلیں۔ حالانکہ آپ کی رائے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کی تھی۔ مطلب یہ ہوا کہ تم موت کی تمنا اسکے مشاہدے سے پہلے کرتے تھے اور اس کی شدت کو پہچاننے سے پہلے تمنا…
Read the full tafseer →143۔ (آیت)” ام حسبتم “۔ استفہام انکاری ہے ام منقطعہ ہے کہ کیا تم گمان کرتے ہو ۔ (آیت)” ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ “ ” ولما “ بمعنی ” لم “ کے ہے یعنی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتیاز ابھی تک نہیں کیا (آیت)” الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین “۔
Read the full tafseer →تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جو صحابہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ آرزو کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی ویسا دن دکھائے اللہ تعالیٰ نے احد کا دن دکھایا اور تیر اندازوں کے گھاٹی چھوڑ دینے کے سبب سے جس کا ذکر اوپر گذرا مسلمانوں کی شکست ہوگئی تو اکثر وہ آرزو کرنے والے لوگ ثابت قدم نہ رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی 1۔ تاکہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے جان بازی کا عہد کیا اور وقت پر اپنے عہد کو پور انہ کیا ان کی آنکھیں ذرا نیچے ہوں اور آئندہ پھر کبھی ایسا نہ کریں بلکہ اپنے عہد کے موافق جس طرح کی جان بازی انس ابن نضر ؓ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
آیت 139-142
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لئے فرماتا ہے : (ولاتھنوا ولاتحزنوا) یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لئے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لئے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–145
جہاد کی ترغیب
قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…
Read the full tafseer →286 غزؤہ احد کے شرکاء کے لئے ایک خاص تنبیہ : یعنی یہ کہ اس سے پہلے تو تم لوگ خود اس کی تمنا کیا کرتے تھے، تو اب جبکہ تمہاری یہ تمنا پوری ہو رہی ہے اور موت تمہارے سامنے آگئی ہے تو اب تمہارے لئے اس سے جی چرانے، یا کمزوری دکھانے، اور پیچھے ہٹنے کا کیا موقع ہوسکتا ہے۔ پس تم ثابت قدم رہو اور پامردی سے دشمن کا مقابلہ کرو کہ عزت و غلبہ تمہارے ہی لئے ہے اور تمہاری ہر حالت خیر ہی خیر کی ہے۔ حضرت حسن ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ حضرات کہا کرتے تھے کہ اگر ہمیں اللہ کے رسول کے ساتھ کبھی جہاد کا موقع مل جائے تو ہم ایسے اور ایسے کارنامے دکھائیں گے۔ سو غزؤہ احد کے موقع پر جب ان کو اس کا موقع ملا…
Read the full tafseer →مرنے کی آرزو
تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت ان صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہیں جو کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے تھے تو وہ تمنا کرتے رہے کہ کاش پھر ایسا موقع آئے کہ ہم بھی اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کا رتبہ حاصل کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہیں کہ لو اب جہاد تمہارے سامنے موجود ہے۔ آگے بڑھو اور باطل کے ساتھ پوری قوت اور بہادری سے ٹکرا جاؤ اور اپنا شوق شہادت پورا کرلو۔ سچا مسلمان تو وہ ہے جو جیتا ہے تو رب کے لیے مرتا ہے تو رب کے لیے۔ علامہ اقبال نے کیا تعریف کی ہے مرد مسلمان کی۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
مطلب یہ ہے کہ اقبال اللہ کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →ف 4 الموت جنگ یا شہادت۔ (معالم) جن لوگوں کو جنگ بدر میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ دشمن سے مقا بلہ کا موقع ملے تو ہم بھی شہدا بدر کا درجہ حاصل کرلیں مگر جب جنگ احد میں یہ موقع ملا تو ثابت قدم ہ رہے اور مقابلہ سے بھاگ نکلے۔ْ اس آیت میں صحابہ ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تمہاری تمنا کہ مطابق اب یہ موقع آیا ہے تو تمہیں چاہیے تھا کہ پوری جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کرتے اور پا مردی کا ثبوت دیتے۔ حدیث میں ہے کہ دشمن سے مڈ بھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کر ور لیکن اگر مڈبھیٹ ہو تو ثابت قد رہو اور جان لو جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ ( ابن کثیر از صحیحین )
Read the full tafseer →(3:143) کنتم تمنون۔ ماضی استمراری۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمنون اصل میں تتمنون تھا۔ ت کو ت میں مدغم کردیا گیا ہے ۔ تمنی سے مضارع یتمنی م ن ی مادہ۔ باب تفعل ۔ تم تمنا کیا کرتے تھے۔ تم آرزو کیا کرتے تھے۔
تلقوہ۔ لقی۔ یلقی (سمع) لقاء سے جمع مذکر حاضر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب راجع الی الموت ہے۔ تم اس سے ملاقی ہو۔ تم اس سے ملو۔ تم اس سے ملاقات کرو۔ تم اس کو اپنے مقابل پاؤ۔ یہاں موت سے مراد جہاد میں شہادت ہے۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں جنگ و جدل سے قبل تم آرزو کیا کرتے تھے کہ تمہیں بھی ایسی شہادت کا موقعہ میسر آئے جو شہدائے بدر کو آیا تھا۔ تو لو اب اس جنگ (جنگ احد) میں تم اسے اپنے سامنے پا رہے ہو۔ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 143
لاتھنوا (تم سست نہ ہو) لاتحزنوا (تم رنجیدہ نہ ہو) الاعلون (بلند (رہوگے) ان یمسسکم ( اگر تمہیں پہنچا ہے) قرح (زخم) مس القوم (پہنچا ایک قوم کو) نداول (ہم گھماتے رہتے ہیں) لیمحص (تاکہ وہ نکھاردے) یمحق (وہ مٹاتا ہے) ام حسبتم (کیا تم سمجھ
بیٹھے) ان تلقوہ (یہ کہ تم اس سے ملو) رایتموہ (تم نے اس کو دیکھ لیا)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 143
ان آیتوں میں مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ انبیاء کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب ان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپرہوجاتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! تم ہمت…
Read the full tafseer →عہد کرکے پھرجانے کا ذکر
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت ہے کہ بعض صحابہ کہا کرتے تھے کہ کاش بعد جیسی لڑائی پھر ہو تو ہم بھی کافروں سے لڑ کر اپنے دل کی ہوس نکالیں۔ یا تو شہید ہو کر ثواب پائیں یا زندہ واپس آئیں تو مال لائیں اور غازی کہلائیں۔ جب جنگ احد ہوئی تو بعض آدمیوں کے سوا سب بھاگ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی تاکہ عہد کو پورا نہ کرنے پر ان کی آنکھیں نیچی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
[51] اللہ کے علم میں تو سب کچھ ہے لیکن جنت کا مستحق قرار پانا اعمال کے بعد ہی ثابت ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
گمان باطل :
(ف 1) اسلام قبول کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام باطل قوتوں کے ساتھ جنگ چھڑ جائے ، اس لئے کہ جو شخص حق نواز ہوگا ‘ ضرور ہے کہ طاغوت کا دشمن ہو ، شیطان کی دوستی اور اسلام یہ دو مختلف چیزیں ہیں جو کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں اس لئے جو مومن ہے اور جس کا نصب العین جنت کا حصول ہے ، وہ اس گمان باطل میں نہ مبتلا رہے کہ بغیر جہاد کئے اور مصیبتیں جھیلے خدا کی رضا کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
ان آیات میں مسلمانوں کو عام جماعت کو مخاطب کیا ہے کہ تم غزوہ احد سے پہلے شوق شہادت میں بےچین تھے ، اب تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں نہیں اٹھ کر اپنی عزیمیت وقوت کا ثبوت دیتے اور کیوں ثابت نہیں کردیتے کہ ہم…
Read the full tafseer →ف 1 ہاں تو اے مسلمانو ! کیا تم نے یہ خیال کر رکھا ہے اور تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم یوں ہی جنت میں بغیر کسی آزمائش و امتحان کے داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظاہری طور پر جانا ہی نہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور ان مسلمانوں کو نمایاں نہیں فرمایا جنہوں نے تم میں جہاد کیا ہو اور نہ ابھی ان کو ظاہری طور پر دیکھا اور نہ نمایاں کیا جو مصائب پر ثابت قدم رہنے والے اور جہاد کی تکالیف کو برداشت کرنے والے ہیں اور بلاشبہ تم تو موت کی ملاقات کرنے اور موت کے سامنے آنے سے پہلے موت کی بڑی تمنا اور شہید ہو کر مرنے کی بڑی آرزو کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اب تو تم نے اس موت کو اپنی کھلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–143
ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →تمنا موت کی دو صورتیں اسلام میں جائز اور درست رکھی گئی ہے :
260: موت کی ایک تمنا جو اسلام نے جائز اور درست رکھی ہیں یہ ہے کہ انسان یہ خواہش رکھے کہ مجھے میدان جنگ میں شہادت نصیب ہو۔ اس نظریہ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو اور جہاد کرتے ہوئے شہادت پا جاتے اور دوسرے موت کی تمنا یہ ہے کہ ایک آدمی قرآن و سنت سے اپنے مخالف کو دلائل دے اور اپنا موقف ثابت کر دے لیکن مخالف بضد ہو کر نہ تو اس کے دلائل کو تسلیم کرے اور نہ ہی اس کے دلائل کا شافی جواب دے۔ پھر اس طرح بات ختم ہونے کی طرف نہ آئے تو وہ اپنے مخالف کو دعوت مباہلہ دے دے جس میں اللہ تعالیٰ سے دعا طلب کی جائے کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اس کو موت دے دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–143
The second verse that follows gives consolation to Muslims from another angle. It has been said that if Muslims were wounded or hurt in that particular battle, so also were those fighting against them. If seventy Muslim men were martyred with many wounded, is it not that they had condemned an identical number of their enemies to Hell, and wounded many, a year ago? Then, in this very battle, many a men from the enemy ranks were killed and wounded initially. So, when the text says:
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
102. This is with reference to those Companions who had urged the Prophet to go out of Madina and take on the enemy there because of their ardent desire for martyrdom. (See Ibn Sa'd, Tabaqat, vol. 2, p. 38 - Ed.)
Read the full tafseer →