Aal-i-Imraan 3:142

Aal-i-Imraan · from ayah 142

3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۟اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَلَمَّا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰبِرِيۡنَ

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you think that you will enter Paradise while Allah has not yet made evident those of you who fight in His cause and made evident those who are steadfast?

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 14 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:142

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ﻇاہر نہیں کیا کہ تم سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یونہی) جنت کے اندر جاپہنچو گے ؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ تم (یونہی) جنت میں چلے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو پرکھا ہی نہیں ہے اور نہ ہی صبر کرنے والوں کو جانچا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے جبکہ ابھی تک اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو ممیز نہیں کیا جنہوں نے جہاد کیا اور تاکہ ممیز کرے ثابت قدم رہنے والوں کو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے (اے مسلمانو !) کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو دیکھا (پرکھا اور ظاہر کیا) ہی نہیں، جنہوں نے اس کی راہ میں جہاد کیا، اور جو (راہ حق میں ثابت قدم رہنے والے اور) صابر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

شاید تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور نہ صبر کرنے والوں کو جانا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے، حالانکہ اللہ نے ابھی یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کرنے والے اور (اس کی خاطر) صبر کرنے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Did you think that you would enter Paradise even though Allah has not yet seen who among you strove hard in His way and remained steadfast?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you think that you shall enter Paradise even before Allah knows those of you who carry out Jihad and those who are steadfast.

— Muhammad Taqi Usmani

Do you think that you shall enter Paradise even before Allah knows those of you who carry out Jihad and those who are steadfast.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you think that you will enter Paradise before Allah knows (tests) those of you who performed Jihad and knows (tests) those who are patient

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or deemed ye that ye would enter paradise while yet Allah knoweth not those of you who really strive, nor knoweth those (of you) who are steadfast?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you think that you will enter Paradise while Allah has not yet made evident those of you who fight in His cause and made evident those who are steadfast?

— Saheeh International

Did you think that you could go to Paradise before God knew which of you fought for His cause and which of you bore patience?

— Muhammad Sarwar

Do you think that you will enter the garden while Allah has not yet known those who strive hard from among you, and (He has not) known the patient.

— Muhammad Habib Shakir

Or, deem ye that ye shall enter the Garden while yet Allah hath not known those of you who have striven hard nor yet known the steadfast!

— Abdul Majid Daryabadi

Did ye think that ye would enter Heaven without Allah testing those of you who fought hard (In His Cause) and remained steadfast?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:142

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 137–143

شہادت اور بشارت چونکہ احد والے دن ستر مسلمان صحابی شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے، مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بددل نہ ہوجانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند وبالا مقام بالآخر مومنو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 141–143

سورة اٰلِ عِمْرٰن 102 اشارہ ہے شہادت کے ان تمنائیوں کی طرف جن کے اصرار سے نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 140–143

لہذا فرمایا (ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک الایام نداولھا بین الناس) یعنی اگر تم کو زخم پہنچا تو ان کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں، جس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اور اصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اس عالم میں یہی ہے کہ وہ سختی، نرمی، دکھ، سکھ، تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے کسی باطل قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاصل ہوجائے تو جماعت حقہ کو اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے، اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہوا کرے گی، بلکہ اس شکست کے اسباب کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 142–143

’ علم یعلم ‘ کے مختلف معانی پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ ممیز کرنے اور چھانٹ کر الگ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ کے بعد اس کا مقابل جملہ الذین لم یجاھدوا عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق حذف کردیا گیا ہے وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ میں یَعْلَمَ کے فتحۃ کے بارے میں لوگوں نے مختلف توجیہیں پیش کی ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کا عطف اوپر وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا پر ہے۔ وہاں چونکہ کلام قانون ابتلا کی دوسری حکمتوں کے بیان کی طرف مڑ گیا تھا اس وجہ سے صبر کے ذکر کو مضمونِ جہاد سے وابستہ کردیا لیکن اس کے فتحۃ سے یہ بات آپ سے آپ واضح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

142۔ 1 بغیر قتال کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے ؟ نہیں ! بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورا اتریں گے، ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب بلائے گئے مذید فرمایا، کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ 142۔ 2 یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، یہاں موقع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغہ اعداء میں تم سرفروشی اور صبر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 141–143

47: جو لوگ جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اگلی حکیمانہ بات بصورت استفہام انکاری آتی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو درست کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سنت الٰہی کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ فتح وشکست ‘ اعمال اور انکے نتائج کے بارے میں اللہ کا ایک اٹل قانون ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنت کی راہ میں تو کانٹے بھی بچھے ہوئے ہوتے ہیں ‘ مشکلات بھی ہوتی ہیں ‘ اور اس راہ میں مشکلات کو صبر وثبات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ محض خالی خولی تمناؤں اور نیک خواہشات کے ذریعہ یہ گھاٹی عبور نہیں کی جاسکتی ۔ تمہیں اس راہ میں مشکلات انگیز کرنی ہوں گی اور اپنی صفوں کو کمزور لوگوں سے صاف کرنا ہوگا۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جنت کے جن اعلیٰ مقامات اور بلند درجات پر خدا تم کو پہنچانا چاہتا ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ بس یونہی آرام سے وہاں جا پہنچیں گے اور خدا تمہارا امتحان لیکر یہ نہ دیکھے گا کہ تم میں کتنے خدا کی راہ میں لڑنے والے اور کتنے لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں ایسا خیال نہ کرنا۔ مقامات عالیہ پر وہی لوگ فائز کئے جاتے ہیں جو خدا کے راستہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔۔ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 142 اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ گویا ع ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! ابھی تو تمہارے لیے اس راستے میں کڑی سے کڑی منزلیں آنے والی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون ہم سورة البقرۃ کی آیت 214 میں پڑھ آئے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ زیر مطالعہ آیت کا نمبر 142 ہے ‘ یعنی ہندسوں کی صرف ترتیب بدلی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

129 یعنی جنت کے جن اعلیٰ درجات اور مقامات پر اللہ تعالیٰ تمہیں پہنچانا چاہتا ہے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے آرام سے وہاں جاپہنچو گے اور اللہ تمہارا امتحان لے کر یہ نہ دیکھے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والے اور اس میں ثابت قدم رہنے والے کون کون ہیں۔ جنت کے بلند درجات پر تو وہی لوگ فائز ہوں گے جو اللہ کی راہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں بھی اللہ کے دیکھنے یا جاننے سے وہی مراد ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئی یعنی (وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ 140؁ۙ ) 3 ۔ آل عمران :140) کہ مسلمانوں کی پوری جماعت یہ صورت حال بچشم خود ملاحظہ کرے۔ مکی دور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

279 ۔ (ان کے اعمال کے ذریعہ سے) اللہ تعالیٰ کے علم سرمدی میں جو کچھ بھی ہے، اشخاص کا استحقاق تو جنت میں کسی درجہ کے لیے بھی اس مادی دنیا میں اعمال کے بعد ہی ثابت ہوسکتا ہے۔ ام یہاں بل کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اسی لیے ترجمہ میں مفہوم ” شاید “ سے ادا کیا گیا ہے۔ ام بمعنی بل (قرطبی) ام ای بل (جلالین) (آیت) ” ان تدخلوا الجنۃ “ یعنی جنت میں امتیاز خاص کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، خطاب یہاں صحابہ کرام ؓ سے ہے صحابہ کرام ؓ حصول جنت ہی کے مشتاق نہ تھے بلکہ اس کے اعلی درجوں اور مرتبوں کا بھی حوصلہ اور ظرف رکھتے تھے اور ان مدارج کے لیے جہاد کی کڑی کڑی منزلوں سے گزرنا ناگزیر تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 136–144

آیت نمبر 144 تا 148 ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے 1 ؂۔ استفہام انکاری اور ام منقطعہ ہے۔ و لما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین حالانکہ تمہارے مجاہدوں کا اللہ نے (لوگوں کی نظر میں) امتیاز ابھی تک نہیں کیا اور نہ صبر کرنے والوں کا امتیاز کیا۔ یعنی ابھی تک نہ تم نے جہاد کیا 2 ؂۔ دوسرے یَعْلَمَ سے پہلے اَنْ مضمر ہے اور واؤ جمع کے لیے ہے جیسے لاتاکُلِ السَّمَکَ وَ تَشْرَبَ اللَّبَنَ یعنی مچھلی اور دودھ کو ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو حالت جزم میں قرار دے کر مفتوح پڑھا جائے کیونکہ دو ساکن جمع ہیں اور ساکن سے پہلے حرف (لام) پر فتح ہے۔ ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(142) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جنت میں بغیر جہاد ہی کے داخل ہوجاؤ گے، ابھی اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر تو ان لوگوں کو دیکھا (آزمایا) ہی نہیں، جنھوں نے احد کے دن خوب خوب جہاد کیا اور نہ ان لوگوں کو جو اپنے نبی کے ساتھ مل کر کفار کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا۔۔ : بعض سلف نے اس کا معنی کیا ہے ابھی تک اللہ نے ظاہر نہیں کیا“ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماضی، حال اور مستقبل ہر بات کا علم ہے، اس لیے یہ ترجمہ کہ ”ابھی تک اللہ نے نہیں جانا۔“ درست نہیں، مگر ”عَلِمَ یَعْلَمُ“ کا معنی تو جاننا ہی ہوتا ہے، ظاہر کرنے کے لیے تو ”لَمَّا یُظْہِرِ اللّٰہُ“ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی بھی ہیں اور کچھ حادث بھی ہیں، مثلاً پیدا کرنا، سننا اور جاننا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمن : 29 ] ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ خالق تو وہ ازل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 142۔ ام بمعنی بل ہے، اور کہا گیا ہے : میم زائدہ ہے اور معنی : اے وہ جو احد کے دن شکست خوردہ ہوئے کیا تم گمان رکھتے ہو کہ تم اسی طرح جنت میں داخل ہوجاؤ گے جیسے وہ داخل ہوئے جو شہید کردیئے گئے اور انہوں نے زخم اور قتل کے درد پر صبر اختیار کیا اس کے بغیر کہ تم انکے راستے پر چلو اور انکے صبر کی طرح صبر کرو ؟ نہیں، یہاں تک (آیت) ” یعلم اللہ الذین جھدوا منکم “۔ یعنی (تم میں سے جنہوں نے جہاد کیا اللہ تعالیٰ کے بارے) علم شہادت (حاصل کرلے) تاکہ اس پر جزا واقع ہو۔ اور معنی ہے : اور تم نے جہاد نہیں کیا کہ وہ تم سے اسے جان لے۔ اس میں لما بمعنی لم ہے اور سبیویہ نے لم اور لما کے درمیان فرق کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–143

(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ کاش ہم کو بھی اسی طرح قتل کردیا جاتا جیسے بدری صحابہ کو قتل کردیا گیا ہم بھی شہادت پاتے اور بدر کے دن کی طرح ہمارے لیے بھی یہ دن آتا کہ ہم اس میں مشرکوں سے لڑتے اور ہم اس میں خیر کو پاتے اور ہم شہادت کو اور جنت کو اور (جنت والی) زندگی کو اور رزق کو تلاش کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو احد کی شہادت سے نوازا تو ان دعا کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ بچا وہی جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا (اسی پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ فقد رایتموہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ حَسِبْتُمْ : کیا تم لوگوں نے خیال کیا ] [اَنْ تَدْخُلُوا : کہ تم لوگ داخل ہو گے ] [الْجَنَّـۃَ : جنت میں ] [وَ : حالانکہ ] [لَمَّا یَعْلَمِ : ابھی تک نہیں جانا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جنہوں نے ] [جٰہَدُوْا : جدوجہد کی ] [مِنْکُمْ : تم میں سے ] [وَیَعْلَمَ : اور تاکہ وہ جان لے ] [الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کیا جنت میں بغیر جہاد اور صبر کے داخل ہوجاؤ گے ؟ پھر ارشاد فرمایا (اَم حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) (الآیۃ) (کیا تم نے یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا علم نہ ہو جنہوں نے جہاد کیا، اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہ جان لے جو صبر کرنے والے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تم جنت کے طلب گار ہو جنت حاصل کرنے کے لیے محنت، مشقت، جہاد اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے جنت میں جانے کی آرزو رکھنے والوں کو ان سب چیزوں کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حسب موقع ان چیزوں میں اپنی جانوں کو لگا دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ وہ تم کو ان تکالیف میں مبتلا کرے پھر وہ تمہاری جہاد والی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 137–145

رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔ قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

211 ترغیب الی الجہاد کے بعد یہ مومنوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے اور علم سے یہاں بھی بدستور اظہار اور تمییز مراد ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے احد میں کمزوری دکھائی اور شکست خوردہ ہو کر بھاگ نکلے تھے یہاں فتح وشکست کے الٹ پھیر کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے۔ جو مداولت کی مذکورہ تینوں علتوں کا نتیجہ ہے۔ خطاب للمنھزمین یوم احد وھو کلام مستانف لبیان ماھی الغایۃ القصوی من المداولۃ والنتیجۃ لما ذکر من العلل الثلث الاول (روح ص 70 ج 4) یعنی تم احد کی شکست وریخت اور جراحات سے اس قدر کیوں دلگیر ہو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت کے اعلیٰ درجات ابتلاء وامتحان، میدان جنگ میں کشت وخون اور صبر و استقامت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 139–143

ربط آیات : غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں میں جو کمزوری واقع ہوگئی تھی۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض احکام نازل فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری سے منع فرمایا۔ غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ غصے کو دبانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی۔ ہر خوشی اور تکلیف میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اور پھر اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے تائب ہونے کا طریقہ بتلایا۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کی وعید کو یاد کرکے اس سے بخشش طلب کرے ، گناہ کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی برائی سے رک جائے ، اس پر اصرار نہ کرے۔ جو کوئی ان احکام پر عمل پیرا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ۝ 142 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 137–144

ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔ تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 142–143

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْـکُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ ص فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ ع (کیا تم گمان رکھتے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ نے ممیز نہیں کیا ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا تاکہ ممیز کردے ثابت قدم رہنے والوں کو۔ اور تم آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو، سو اب تم نے اسے دیکھ لیا اور تم ( آنکھوں سے) مشاہدہ کررہے تھے) (142 تا 143) ایک غلط فہمی کا ازالہ ایک مومن اور کافر میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 140–142

فہم القرآن ربط کلام : آزمائش سے قوموں کے کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے احد کی عارضی شکست اسی سلسلہ کی کڑی سمجھنا چاہیے۔ دنیا کی یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آدمی کا مقصد جتنا بلند اور اہم ہوتا ہے اتنی ہی وہ محنت اور اس کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو سر بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے جس کا ما حصل جنت ہے۔ یہ مقصد عظیم خالی دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مال لٹانا، پیٹ پر پتھر باندھنا ‘ گھر بار چھوڑنا ‘ اولاد قربان کرنا اور جسم کٹواتے ہوئے صابر و شاکر رہنا پڑتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہوا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت میں داخلہ بلا جہاد و مجاہدہ نہیں : 142: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (کیا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے) یہ استفہام انکاری ہے اور اَمْ منقطعہ ہے۔ یعنی مت ایسا خیال کرو۔ وَلَمَّایَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہِدُوْا مِنْکُمْ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مجاہدوں کا ابھی تک امتیاز نہیں کیا) یعنی ابھی تک تم نے جہاد نہیں کیا کہ تمہارا مجاہد ہونا معلوم ہوتا کیونکہ علم کا تعلق تو معلوم سے ہے۔ تو نفی علم کو نفی متعلق علم کی جگہ لایا گیا ہے۔ کیونکہ علم کی نفی سے متعلق علم کی نفی خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 142۔: (آیت)” ولیمحص اللہ الذین امنوا “۔ تاکہ وہ تمہیں گناہوں سے پاک صاف کر دے ۔ (آیت)” ویمحق الکافرین “۔ تاکہ کافروں کو فناء کر دے ہلاک کر دے ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کافر تمہیں قتل کرتے ہیں تو اس میں تمہارا اعزاز ہے کہ تمہیں شہادت کا رتبہ دے کر گناہوں سے تلافی ہوگی اور اگر تم کافروں پر غلبہ پاؤ گے تو کافروں کو مٹانے اور ان کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 137–142

(137 ۔ 142) ۔ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو یہ خیال گذرا کہ ہم اسلام کی تائید میں لڑتے ہیں اور حق پر ہیں اور ہمارے دشمن اور مخالف لوگ ناحق پر ہیں اور دین الٰہی کو مٹانا چاہتے ہیں پھر ہماری شکست اور ان کی فتح کیوں اور کس مصلحت الٰہی سے ہوئی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی اور کافروں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں ہر وقت کام کا وقت مقرر ہے ابھی ان دین الٰہی کے دشمنوں کی تباہی کا وقت نہیں آیا ہے جب وقت مقرر آجائے تو کچھ ان میں سے اپنے حال کی اصلاح کر کے مسلمان ہوجائیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہیں گے فورا جس طرح اگلے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 139–143

آیت 139-142 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لئے فرماتا ہے : (ولاتھنوا ولاتحزنوا) یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لئے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لئے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 135–145

جہاد کی ترغیب قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

285 جنت سے سرفرازی کیلئے ابتلاء و آزمائش کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے [ اے مسلمانو ] یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو دیکھا پرکھا ہی نہیں جنہوں نے اس کی راہ میں جہاد کیا اور جو صبر کرنے والے ہیں۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا کہ تم لوگ ابتلاء و آزمائش کے مراحل سے گزرے بغیر یونہی جنت اور اس کی نعمتوں سے سرفراز ہوجاؤ، بلکہ اس کے لئے تمہیں ابتلاء و آزمائش کی بھٹی سے گزرنا ہوگا، تاکہ کھرا کھوٹا الگ ہوجائے، اور معرکہ احد کی یہ اتھل پتھل بھی اسی آزمائش کا ایک حصہ ہے۔ لہٰذا تمہیں اس پر نہ تعجب ہونا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 139–142

عارضی شکست اور مسلمانوں کا غلبہ تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ احد کی جنگ میں اگر تمہیں نقصان پہنچا ہے تو فکر نہ کرو اگر تم اللہ وحدہ لاشریک کے فرمانبردار بن کر رہو گے تو یقین رکھو رب العالمین تمہیں ضرور فتح عطا کرے گا اور اللہ رب العزت نے فرمایا کہ زندگی نام ہے دکھ اور سکھ کا کیونکہ اللہ کے اس کام میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر تمہیں نقصان ہوا ہے تو کافروں کو بھی بےحد نقصان اٹھانا پڑا ہے اگر وہ اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں تو تم کیوں ہمت ہار رہے ہو ؟ ایمان کو مضبوط رکھو اور دکھ پریشانی سے ہرگز نہ گھبراؤ۔ اللہ پر بھروسہ رکھو کیونکہ تمہارے پاس تو توکل کا بہت بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–143

آیات 130- 143 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔ توکل : نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔ زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یہاں ام بمعنی بل ہے (قرطبی) ابھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں جو کچھ تھا اسے ظاہر نہیں کیا اور کھول کر انہیں دکھا یا کہ کون جہاد کرتے اور لڑائی میں ثا بت قدم رہتے ہیں کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش سے پہلے تم کو جنت میں لعلی ٰ مراتب مل جائیں گے مطلب یہ ہے کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلی ٰ مرابت حاصل نہیں ہوسکتے۔ (وحیدی بتصرف )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:142) لما یعلم اللہ۔ میں یعلم مضارع مجزوم بوجہ لما کے ہے متحرک کرنے کے لئے میم کو کسرہ دیا گیا۔ ابھی جانا ہی نہیں اللہ نے یعنی آزما کر دیکھا ہی نہیں ۔ ویعلم الصبرین۔ میں میم پر فتح بوجوہ ذیل ہے۔ (1) واؤ حرف عطف ہے اور یعلم الصبرین کا یعلم اللہ پر عطف ہے۔ دراصل یہاں بھی مجزوم تھا۔ لیکن التقاء ساکنین کی وجہ سے میم سے قبل لام کی فتح کی رعایت سے اسے فتح دیا گیا۔ (2) واؤ۔ واو الصرف ہے جس کے بعد ان پوشیدہ ہوتا ہے لہٰذا واؤ کے بعد اور یعلم سے پہلے ان مقدر ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن۔ (3) امام حسن ؓ کی قرأت میں یہاں بھی یعلم کی میم کو زیر ہے۔ کیونکہ واؤ عاطفہ ہے اور یہ یعلم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 139–143

لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 143 لاتھنوا (تم سست نہ ہو) لاتحزنوا (تم رنجیدہ نہ ہو) الاعلون (بلند (رہوگے) ان یمسسکم ( اگر تمہیں پہنچا ہے) قرح (زخم) مس القوم (پہنچا ایک قوم کو) نداول (ہم گھماتے رہتے ہیں) لیمحص (تاکہ وہ نکھاردے) یمحق (وہ مٹاتا ہے) ام حسبتم (کیا تم سمجھ بیٹھے) ان تلقوہ (یہ کہ تم اس سے ملو) رایتموہ (تم نے اس کو دیکھ لیا) تشریح : آیت نمبر 139 تا 143 ان آیتوں میں مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ انبیاء کی سنت اور ان کے ماننے والوں کا طریقہ ہی یہ ہے کہ جب ان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپرہوجاتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! تم ہمت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 137–142

حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 142–143

[51] اللہ کے علم میں تو سب کچھ ہے لیکن جنت کا مستحق قرار پانا اعمال کے بعد ہی ثابت ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 141–143

گمان باطل : (ف 1) اسلام قبول کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام باطل قوتوں کے ساتھ جنگ چھڑ جائے ، اس لئے کہ جو شخص حق نواز ہوگا ‘ ضرور ہے کہ طاغوت کا دشمن ہو ، شیطان کی دوستی اور اسلام یہ دو مختلف چیزیں ہیں جو کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں اس لئے جو مومن ہے اور جس کا نصب العین جنت کا حصول ہے ، وہ اس گمان باطل میں نہ مبتلا رہے کہ بغیر جہاد کئے اور مصیبتیں جھیلے خدا کی رضا کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو عام جماعت کو مخاطب کیا ہے کہ تم غزوہ احد سے پہلے شوق شہادت میں بےچین تھے ، اب تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں نہیں اٹھ کر اپنی عزیمیت وقوت کا ثبوت دیتے اور کیوں ثابت نہیں کردیتے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 141–142

ف 3 اے مسلمانو ! اگر تم کو اس غزوئہ احد میں کچھ زخم اور صدمہ و پریشانی لاحق ہوئی تو گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گزشتہ سال کا فر قوم کو بھی اسی قسم کا زخم اور صدمہ پہونچ چکا ہے اور ہم ان ایام کو یعنی زمانہ کے حوادثات اور غالب و مغلوب ہونے کو ان لوگوں کے درمیان باری باری ادلتے بدلتے رہا کرتے ہیں تمہارے ساتھ یہ معاملہ اس سال اس لئے کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہری طور پر بھی جان لیں اور ان کو دوسروں سے متمیز کردیں اور نیز تم میں سے بعض کو شہید بنانا اور شہادت کا مرتبہ عطا فرمانا تھا اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں یعنی کافروں اور مشرکوں کو پسند نہیں کرتا اور کسی حال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 134–143

ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آزمائش کے وقت ثابت قدم رہنا ہی دعویٰ ایمان کی تصدیق ہے : 259: کیا تمہارا خیال ہے کہ خالی دعویٰ ایمان کے ساتھ ہی تم جنت میں داخل کردیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تک تو وہ وقت نہیں آیا وہ تمہاری آزمائش بھی کرلی جاتی یہ پہلا ہی موقع ہے کہ تمہاری ثابت قدمی کا امتحان ہو ا ہے۔ جس سے یہ بات روشن ہوچکی ہے کہ کون لوگ ہیں جو راہ حق میں پوری پوری کوشش کرنے والے ہیں اور اس طرح کی مشکلوں اور شدتوں کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ اللہ نے نہیں جانا یعنی اللہ نے ظاہر نہیں کیا۔ علم الٰہی میں جو کچھ اس کے ظاہر ہونے کا مطلب اور۔ علم الٰہی میں جو کچھ ہونا ہے سب موجود ہے لیکن علم الٰہی میں جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 140–143

The second verse that follows gives consolation to Muslims from another angle. It has been said that if Muslims were wounded or hurt in that particular battle, so also were those fighting against them. If seventy Muslim men were martyred with many wounded, is it not that they had condemned an identical number of their enemies to Hell, and wounded many, a year ago? Then, in this very battle, many a men from the enemy ranks were killed and wounded initially. So, when the text says: إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْ‌حٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْ‌حٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 141–143

102. This is with reference to those Companions who had urged the Prophet to go out of Madina and take on the enemy there because of their ardent desire for martyrdom. (See Ibn Sa'd, Tabaqat, vol. 2, p. 38 - Ed.)

Read the full tafseer →