Explained with ayahs 144–148
رسول اللہ ﷺ کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کردیا کہ محمد ﷺ بھی شہید ہوگئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں حضور ﷺ کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بےاصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے حضور ﷺ پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ ﷺ کا چہرہ قدرے زخمی ہوگیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کردیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء کی طرح یہ بھی ایک نبی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 104
اس سے یہ بات مسلمانوں کے ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ موت کے خوف سے تمہارا بھاگنا فضول ہے۔ کوئی شخص نہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے وقت سے پہلے مر سکتا ہے اور نہ اس کے بعد جی سکتا ہے۔ لہٰذا تم کو فکر موت سے بچنے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہونی چاہیے کہ زندگی کی جو مہلت بھی تمہیں حاصل ہے اس میں تمہاری سعی و جہد کا مقصود کیا ہے، دنیا یا آخرت ؟
سورة اٰلِ عِمْرٰن 105
ثواب کے معنی ہیں نتیجہ، عمل۔ ثواب دنیا سے مراد وہ فوائد و منافع جو انسان کو اس کی سعی و عمل کے نتیجہ میں اسی دنیا کی زندگی میں حاصل ہوں۔ اور ثواب آخرت سے مراد وہ فوائد و منافع ہیں جو اسی سعی و عمل کے نتیجہ میں آخرت کی…
Read the full tafseer →اس کے بعد دوسری آیت میں بھی حوادث اور مصائب کے وقت ثابت قدم رہنے کی تعلیم دینے کے لئے یہ ارشاد فرمایا کہ ہر انسان کی موت اللہ تعالیٰ کے نزدیک لکھی ہوئی ہے اس کی تاریخ، دن اور وقت معین ہے، نہ اس سے پہلے کسی کو موت آسکتی ہے نہ اس کے بعد وہ زندہ رہ سکتا ہے، پھر کسی کی موت سے ایسے سراسیمہ ہوجانے کے کوئے معنی نہیں۔ آخر میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ اس حادثہ کے ظاہری اسباب میں ایک سبب یہ بھی تھا کہ جن حضرات کو آنحضرت ﷺ نے عقب کی جانب پہاڑی پر نگراں بنا کر بٹھایا تھا، ابتدائی فتح کے وقت عام مسلمانوں کو مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول دیکھ کر ان میں بھی چند حضرات کو یہ خیال پیدا ہوگیا کہ اب فتح ہوگئی، اس…
Read the full tafseer →كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا، اس طرح کی ترکیب ہے جس طرح وعد اللہ یا صنع اللہ الذی اتقن وغیر ہے۔ اس آیت میں کمزور اور منافق قسم کے لوگوں کی دو کمزوریوں کی نشان دہی کی ہے۔
منافقین کی دو خاص کمزوریاں : ایک یہ کہ یہ اس بات پر عقیدہ نہیں رکھتے کہ ہر شخص کی موت کے لیے ایک نوشتہ الٰہی ہے، جب تک اس نوشتہ کی مقررہ مدت پوری نہیں ہوگی اس وقت تک کسی کی موت نہیں آسکتی، اسی طرح جب نوشتہ پورا ہوجائے گا تو کسی کی موت ایک منٹ کے لیے ٹل بھی نہیں سکتی۔ اس وجہ سے خدا کے مقرر کردہ فرائض سے فرار کے بجائے آدمی کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ عزم و جزم کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے اور موت کے معاملے میں اطمینان رکھے کہ اس کا وقت بھی…
Read the full tafseer →145۔ 1 یہ کمزوری اور بذدلی مظاہرہ کرنے والوں کے حوصلوں میں اضافہ کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ موت تو اپنے وقت پر آکر رہے گی، پھر بھاگنے یا بذدلی دکھانے کا کیا فائدہ ؟ اسی طرح محض دنیا طلب کرنے سے کچھ دنیا تو مل جاتی ہے لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، اس کے برعکس آخرت کے طالبوں کو آخرت میں اخروی نعمتیں تو ملیں ہی گی، دنیا بھی اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے۔ آگے مذید حوصلہ افزائی اور تسلی کے لئے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے پیروں کاروں کے صبر اور ثابت قدمی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
48: اس سے اشارہ مال غنیمت کی طرف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف مال غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوگا، اسے مال غنیمت میں سے حصہ تو مل جائے گا، لیکن آخرت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس کے برعکس اگر اصل نیت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی ہوگی تو آخرت کا ثواب حاصل ہوگا، اور مال غنیمت بھی ایک اضافی فائدے کے طور پر ملے گا (روح المعانی)
Read the full tafseer →اس کے بعد نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے فطری خوف کو ایک ٹچ دیتے ہیں یہ ایک نہایت ہی الہامی مس ہے ۔ وہ یکدم اس خوف کو دور کردیتا ہے اور موت وحیات کے بارے میں ایک اٹل حقیقت بیان کردی جاتی ہے ۔ نیز موت کے بعد لوگوں کے ساتھ اللہ کا سلوک اور جزاء وسزا کا ذکر کردیا جاتا ہے۔
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ
” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ جو شخص دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی…
Read the full tafseer →4 جب کوئی شخص بدون حکم الہٰی کے نہیں مرسکتا خواہ کتنے ہی اسباب موت کے جمع ہوں اور ہر ایک کی موت وقت مقرر پر آنی ضرور ہے خواہ بیماری یا قتل سے یا کسی اور سبب سے، تو خدا پر توکل کرنے والوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ اور نہ کسی بڑے یا چھوٹے کی موت کو سن کر مایوس و بددل ہو کر بیٹھ رہنا چاہیئے۔
5 یعنی اگر چاہیں کَمَا قَالَ (عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ) 17 ۔ الاسراء :18)
6 یعنی اس کو آخرت میں یقینا بدلہ ملے گا۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں ان لوگوں پر تعریض ہے جنہوں نے مال غنیمت کی طمع میں عدول حکمی کی۔ اور دوسرے میں انکا ذکر ہے جو برابر فرمانبرداری پر ثابت قدم رہے۔
7…
Read the full tafseer →آیت 145 وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ الاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلاً ط r
ّاجل معین کے ساتھ ہر ایک کا وقت طے ہے۔ لہٰذا انسان کی بہترین محافظ خود موت ہے۔ آپ کی موت کا جو وقت مقرر ہے اس سے پہلے کوئی آپ کے لیے موت نہیں لاسکتا۔
وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَاب الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا ج وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْہَا ط
یہ مضمون سورة البقرۃ کی آیات 200۔ 202 میں حج کے سلسلے میں آچکا ہے۔
Read the full tafseer →132 اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت جرات مندانہ سبق سکھلایا گیا ہے۔ جس سے میدان جنگ میں بہادری اور شجاعت کے جوہر دکھانے میں کئی گناہ اضافہ ہوجاتا ہے جو یہ ہے کہ موت کا تعلق میدان جنگ سے قطعاً نہیں بلکہ وہ گھر پر بھی آسکتی ہے۔ اس کا تو ایک وقت مقرر ہے اب دیکھئے خود رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین نے بیشمار غزوات میں شرکت فرمائی لیکن چونکہ ابھی موت کا وقت نہیں آیا تھا۔ اس لیے صحیح سلامت واپس آتے رہے اور جب موت کا وقت آجاتا ہے تو گھر پر بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح سپہ سالار ہونے کی حیثیت سے حضرت خالد بن ولید کا جو مقام ہے اسے سب جانتے ہیں۔ آپ کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔ جسم کا کوئی…
Read the full tafseer →286 ۔ (اور اس میعاد مقرر کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں پھر آخر شرکت جنگ میں اتنا جی چرانے سے کیا حاصل ؟ ) موت جب بھی آئے گی حکم خدا ہی سے آئے گی اس کے بدون نہیں آسکتی۔ اور پھر جب آئے گی وقت موعود میں آئے گی اس کے قبل نہیں آسکتی۔ خواہ خطرات کیسے ہی شدید ہوں ان حقائق کا اگر استحضار رہے تو موت کا طبعی خوف بھی حد اعتدال پر قائم رہے۔
287 ۔ (جنہوں نے نعمت الہی کا شکریوں ادا کیا اور جنگ میں شریک ہوئے اور جہاد سے جی نہیں چرایا) پہلی آیت میں شاکرین سے وہ لوگ مراد تھے جنہوں نے دین قبول کیا اور اعمال نیک پر قائم رہے۔ یہاں شاکرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان اعمال میں آخرت کی نیت کیے ہوئے جہاد میں…
Read the full tafseer →وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذَنِ اللہِ (الآیۃ) یہ کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کرنے والوں کے حوصلوں میں اضافہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی، پھر بھاگنے یا بزدلی دکھانے سے کیا فائدہ ؟ اسی طرح دنیا طلب کرنے سے بقدر قسمت تو دنیا مل جاتی ہے لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، اس کے برعکس آخرت کے طالبوں کو آخرت میں اخروری نعمتیں تو ملیں گی ہی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں نعمتیں عطا فرمائے گا۔ آگے مزید حوصلہ افزائی کے لئے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے پیروکاروں کے صبر و استقامت کی مثالیں بیان فرمائیں۔
Read the full tafseer →و ما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ یعنی کوئی شخص بغیر اللہ کی مشیت اور حکم کے نہیں مرسکتا یا یہ مطلب کہ جب تک ملک الموت کو کسی کی جان قبض کرنے کی اجازت نہ مل جائے وہ نہیں مرسکتا۔
کتابا موجلا موجَّلا کتابًا کی صفت ہے اور کتاباً مصدر ہے فعل محذوف ہے
یعنی اللہ نے موت کی موقت تحریر لکھ دی ہے لکھے ہوئے وقت سے آگے پیچھے موت نہیں آسکتی۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب اور جنگ کی جرأت دلائی گئی ہے۔
و من یرد ثواب الدنا نوتہ منھا یعنی جو شخص اپنے عمل کا دنیوی بدلہ چاہتا ہے ہم دنیا میں ہی اس کو اپنی مشیت کے مطابق جو کچھ ہم نے اس کے لیے مقدر کردیا ہے دیدیتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو…
Read the full tafseer →(145) کسی بھی شخص کو بغیر حکم خداوندی اور مشیت الہی کے موت آنا ممکن نہیں اس کی زندگی اور روزی کی میعاد لکھی ہوئی ہے، جس میں ایک کو دوسرے پر تقدیم وتاخیر نہیں ہوسکتی اور جو شخص اپنے عمل اور جہاد سے دنیاوی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم دنیا ہی میں اس کی نیت کے مطابق دے دیتے ہیں، البتہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہتا۔
اور جو اپنے عمل اور جہاد سے آخرت میں ثواب چاہتا ہے تو ہم اسے اس کی نیت کے موافق آخرت میں دیتے ہیں اور مومنین کو ہم ان کے ایمان اور جہاد کا جلد ہی نیک بدلا دیں گے۔
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنا اور ان کے ذہن میں یہ بات بٹھانا ہے کہ موت سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے انسان موت کے پنجے سے نجات نہیں پاسکتا، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے، جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ (اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ) میں ”اِذْنٌ“ بمعنی علم ہے، یعنی ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”اِذْنٌ“ بمعنی قضا و قدر ہو۔ الغرض ! تمہیں چاہیے کہ موت سے بھاگنے کی فکر چھوڑ کر بےجگری سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو اور اس جہاد سے تمہارا مقصود آخرت کا ثواب ہونا چاہیے،…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ کتبا مؤجلا “۔ یہ جہاد پر ابھارنا ہے اور اس پر آگاہ کرنا ہے کہ موت لازم اور ضروری ہے اور ہر انسان مقتول ہو یا غیر مقتول وہ مرنے والا ہے جب وہ اپنی (موت کی) لکھی ہوئی مقررہ مدت تک پہنچ جائے، کیونکہ ” مؤجلا “۔ کا معنی الی اجل (مقررہ مدت تک) ہے اور (آیت) ” باذن اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی قضا اور اس کی تقدیر سے۔ اور کتبا مصدر کی بنا پر منصوب ہے یعنی کتب اللہ (آیت) ” کتبا مؤجلا “۔ (اللہ تعالیٰ نے موت کا مقررہ وقت لکھ دیا ہے) اور اجل الموت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ سبحانہ کے علم میں ہے، کہ زندہ کی روح اس کے جسم سے جدا ہوگی، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
(1) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابو عبیدہ کے طریق سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون “ اور وہ کہتے تھے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ “۔
(2) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی نبی جنگ کے دوران شہید کیا گیا ہو۔
(3) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے حسن اور ابراہیم رحمۃ اللہ عنہ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” قتل معہ “۔
(4) عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” وکاین من…
Read the full tafseer →[وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے (ممکن) ] [لِنَفْسٍ : کسی جان کے لیے ] [اَنْ : کہ ] [تَمُوْتَ : وہ بےجان ہو ] [اِلاَّ : مگر ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [کِتٰـبًا مُّؤَجَّلاً : ایک لکھے ہوئے مقررہ وقت پر ] [وَمَنْ : اور جو
یُّرِدْ : ارادہ کرتا ہے ] [ثَوَابَ الدُّنْیَا : دنیا کے بدلے کا ] [نُؤْتِہٖ : تو ہم دیتے ہیں اس کو ] [مِنْہَا : اس میں سے ] [وَمَنْ : اور جو ] [یُّرِدْ : ارادہ کرتا ہے ] [ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ : آخرت کے بدلے کا ] [نُؤْتِہٖ : تو ہم دیتے ہیں اس کو ] [مِنْہَا : اس میں سے ] [وَسَنَجْزِی : اور عنقریب ہم جزا دیں گے ] [الشّٰکِرِیْنَ : شکر کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا) (الآیۃ) یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی جان اللہ کے حکم کے بغیر مرجائے۔ یعنی جس کو بھی موت آئے گی اللہ کے حکم سے آئے گی اور اجل مقرر کے مطابق آجائے گی جس کی جو اجل یعنی موت کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے موت نہیں آسکتی اور اس وقت سے ٹل بھی نہیں سکتی جو اس کے لیے مقرر ہے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 75: ج 4) فرماتے ہیں کہ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور قتل کے ڈر سے جہاد کو چھوڑ دینے پر ملامت کی گئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہو کہ نبی اکرم ﷺ کی موت کی جو خبر سنی اس میں استبعاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
رجوع بسوئے قصہ احد وتسلیہ اہل اسلام بہ گونہ گوں۔
قال اللہ تعالی۔ قد خلت من قبلکم۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الشاکرین۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں واقعہ احد کا بیان تھا اب پھر قصہ احد کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں کی ہزیمت کے اسباب کو بھی بیان فرمایا کہ صبر اور تقوی اور اطاعت رسول میں تقصیر کی وجہ سے فتح کے بعد تم کو یہ ہزیمت پیش آئی مگر ساتھ ہی ساتھ بار بار تسلی بھی دی گئی کہ تم مت گھبراؤ فی الحال اگرچہ کفار کو غلبہ ہوا مگر انجام کار تم ہی غالب رہو گے اور بار بار حضرات صحابہ کی اس لغزش کے عفو اور معافی کا اعلان فرمایا تاکہ حضرات صحابہ کے ٹوٹے ہوئے دل دوبارہ جڑجائیں اور محبین اور مخلصین کو جو…
Read the full tafseer →215 پھر مضمون جہاد کا اعادہ ہے یہاں سے وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ تک مختلف طریقوں سے ترغیب الی القتال ہے۔ ھذا حض علی الجھاد واعلام ان الموت لا بد منہ (قرطبی ص 226 ج 4) یعنی موت کے ڈر سے جہاد مت ترک کرو کیونکہ موت تو ہر حال میں اپنے مقررہ وقت پر آئے گی خواہ تم گھر ہی کیوں نہ بیٹھے رہو اور اس لیے پھر بہتر یہی ہے کہ تم خدا کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جاؤ اور رتبہ شہادت حاصل کرو۔
216 جہاد کرنے سے گھاٹے میں کوئی بھی نہیں رہتا کیونکہ موت تو ہر حال میں آکر رہے گی۔ خواہ گھر بیٹھا رہے یا جہاد میں شریک ہو۔ جہاد سے اگر کسی کی غرض ثواب دنیا یعنی مال غنیمت ہو تو اسے اس سے جو اس کا مقدر ہے مل جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
ربط آیات :
سلسلہ کلام غزوہ احد کے تمعلق ہی چل رہا ہے۔ اس سے پہلے ارشاد ہوچکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں سستی نہ دکھاؤ۔ اور کوئی تکلیف پہنچنے پر غمگین بھی نہ ہو۔ اگر تم ایمان کے تقاضوں پر پورا اتروگے ، تو غلبہ تمہیں ہی حاصل ہوگا ، تم احد میں تکلیف پہنچنے پر رنجیدہ خاطر ہو ، تو اس قسم کی تکلیف تو دشمنوں کو بھی پہنچ چکی ہے۔ فرمایا کہ ہم زمانے کے دلوں کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں۔ کبھی کسی گروہ کا پلہ بھاری ہوتا ہے ، کبھی کسی کا۔ اللہ تعالیٰ نے اذیت پہنچنے میں بھی حکمت رکھی ہے۔ اس میں بھی بہت سی مصلحتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ممتاز کرنا چاہتا ہے۔ اور بعض کو شہادت کے درجے پر فائز کرنا چاہتا ہے یہ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُـوْتَ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا 0 ۭ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا 0 ۚ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْھَا 0 ۚ وَسَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ 145
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–151
ترکیب : ان تموت اسم کان الا باذن اللّٰہ خبر کتابا مفعول مطلق ہے ای کتب ذلک کتابا ‘ مؤجلا اس کی صفت ہے۔ کاین اصل میں اے تھا کاف اس پر داخل ہوگیا اور نون خلاف قیاس تنوین کا لکھ دیا اب یہ بمعنی کم ہے۔ من نبی اس کا بیان قتل نبی کی صفت یہ کاین مبتدا اور خبر محذوف ای فی الدنیا قولہم اسم کان الا ان قالوا خبر وقیل العکس۔ ان شرطیہ تطیعوا شرط یردوکم جواب اللّٰہ مبتداء مولاکم خبر بما اشرکوا بسنلقی سے متعلق ہے اور ما مصدریہ مثوی مفعل ہے ثویت سے لام کلمہ ی ہے۔
تفسیر : جنگ احد میں جبکہ وہ جماعت تیر اندازوں کی کہ جس کو نبی ﷺ نے گھاٹی پر بٹھایا تھا مشرکین کے پیچھے لوٹ کے لئے دوڑ پڑی۔ ادھر سے خالد بن ولید جو…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰباً مُّؤَجَّلاً ط وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْھَا ط وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ۔
( اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق۔ جو دنیا کا صلہ چاہتے ہیں ہم انھیں دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو آخرت کا صلہ چاہتے ہیں ہم انھیں آخرت میں سے دیں گے۔ اور ہم خوب جزا دیں گے شکر ادا کرنے والوں کو) (145)
بعض حقائق اعتراف کے باوجوداستحضار سے محروم رہتے ہیں
بعض حقائق ایسے ہیں جو نوک زباں رہتے ہیں۔ لیکن اس کا صحیح احساس دل و دماغ میں نہیں ہوتا۔ انہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : رسول اللہ ﷺ کی موت کا اشارہ دے کر ہر کسی کا مرنا یقینی بتلایا ہے اور حوصلہ دیا ہے کہ موت سے ڈرنا اور موت کی وجہ سے نیکی کے کام اور جہاد سے پیچھے ہٹنا گناہ ہے۔
موت ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کوئی شخص محفوظ نہیں۔ موت کا وقت اور اس کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔ کوئی ذی روح اس ضابطے سے بچ نہیں سکتا۔ جب موت یقینی ‘ اس کا وقت مقرر اور اس کی جگہ متعین کردی گئی ہے تو اس سے ڈرنے کا کیا مطلب ؟ اسلام نے موت کا تصور اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے انسان میں بیک وقت شجاعت اور احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان جان لے کہ اس نے مر کر ملیا میٹ نہیں ہونا بلکہ اپنے ایک ایک عمل کا اللہ…
Read the full tafseer →ہر ایک کی موت مشیت سے ہے :
145: وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰـبًا مُّؤَجَّلًا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ۔ وَمَاکَانَ (جائز نہیں) لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (کسی نفس کے لئے کہ اس کو موت آئے مگر اللہ تعالیٰ کے اذن سے) اذن سے مراد علم ہے۔ یا ملک الموت کو اسکے قبض روح کی اجازت دینا مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کی موت کا آنا ناممکن ہے۔
اس میں جہاد پر آمادہ کیا گیا اور دشمن کا سامنا کرنے پر برانگیختہ کیا گیا اور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 145۔:
(آیت)” وماکان لنفس ان تموت “۔ اخفش فرماتے ہیں کہ لنفس میں لام منقولہ ہے ۔ ” تموت “ سے عبارت اس طرح تھی (آیت)” وماکان لنفس ان تموت “۔ کسی جان کے لیے نہیں کہ وہ مرجائے اللہ کی مشیت کے بغیر ۔ ” الا باذن اللہ “ اللہ کے فیصلے اور قدرت سے بعض نے کہا اس کے علم کے بغیر بعض نے کہا اس کے حکم کے بغیر ” کتابا مؤجلا “۔ ہر نفس کے لیے اس کا وقت مقررہ لکھا جا چکا ہے اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں کرسکتا ، ” کتابا “ منصوب مصدر ہونے کی وجہ سے عبارت یہ ہوگی ۔” کتب کتابا “ ۔۔۔۔ ” ومن یرد ثواب الدنیا نوتہ منھا “۔ جو شخص اس نیکی کا بدلہ دنیا میں لینا چاہتا ہے ہم اس کو اپنی مشیت کے مطابق جو کچھ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
(144 ۔ 148) ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابن نذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں جو کچھ اس آیت کے شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے کہہ اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید بھی ہوگئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑتے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اس شان نزول کی روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے۔ حاصل معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
آیت 144-145
(وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل) یعنی وہ رسولوں میں سے کوئی انوکھا رسول نہیں ہیں بلکہ وہ ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی ذمہ داری اپنے رب کا پیغام پہنچانا اور اس کے احکام کا نفاذ تھا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے اور نہ ان کی بقاء اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے لئے کوئی شرط تھی۔ بلکہ تمام امتوں پر یہ چیز فرض تھی کہ وہ ہر وقت اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم) ” کیا پس اگر ان کو موت آگئی یا قتل کردیئے گئے، تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے ؟ “ یعنی یہ نبی ایمان اور جہاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–145
جہاد کی ترغیب
قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل…
Read the full tafseer →290 موت کا ایک وقت مقرر ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جو کہ لکھا ہوا ہے۔ تو پھر موت سے ڈرنے اور جہاد سے جی چرانے کا کیا فائدہ ؟ کہ وقت سے پہلے اور اللہ کے اذن کے بغیر اس نے آنا نہیں اور اپنے وقت پر اس نے ٹلنا نہیں۔ سو وہ تو اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گی۔ تو ایسے میں اس سے ڈرنے کی بجائے خواہش اور کوشش اس کی ہو کہ شہادت کی موت ملے تاکہ اس طرح حیات جاودانی اور جنت کی سدابہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوسکے جو کہ سب سے بڑی سعادت ہے۔ اور یہی نشانی ہوتی ہے مومن صادق کی نہ یہ کہ انسان موت سے ڈرنے اور شہادت سے بھاگنے اور بچنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہ راہ بہرحال ناکامی اور…
Read the full tafseer →موت کا مقرر ہونا اور بدلہ کا ملنا
تشریح : یہاں بھی غزوہ احد کے ایک واقعہ کا حوالے دیتے ہوئے حکمت کی دو باتیں سمجھائی گئی ہیں جو تمام مسلمانوں کے لیے ہیں۔ 50 تیر انداز جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے درہ پر مقرر تھے جن میں سے صرف دس تیر انداز اپنے سردار عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ درہ سے نہ ہٹے، گویا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی پوری پوری فرمانبرداری کی، موت سے نہیں گھبرائے اور مال غنیمت کے لالچ میں فرض کو نہیں بھولے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ موت سے ڈر کر غلط راستہ اختیار مت کرو۔ کیونکہ موت کا دن، وقت اور جگہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے۔ کچھ لوگ جو بھی کام کرتے ہیں دنیاوی فائدہ کو سامنے رکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
آیات 144- 148
اسرارو معارف
وما محمد الارسول………………وسنجزی الشکرین۔
نیز محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اللہ کے کسی بھی وصف ہیں شریک نہیں کہ صفات الوہیت کے حامل ہوں بلکہ ان سے قبل بھی بہت سے اللہ کے رسول گزر چکے ہیں کہ رسول دنیا میں اللہ کا پیغام بندوں تک لاتے ہیں اور اپنا فریضہ ادا فرما کر قانون قدرت کے مطابق اس دارفانی سے گزر جاتے ہیں۔
اگر آپ ﷺ کا انتقال ہوجائے یا آپ ﷺ شہید ہوجائیں تو آپ کا پیغام اور آپ کا لایا ہوا دین تو چھوڑ نہ دیا جائے گا۔ بلکہ اس پر عمل بدستور جاری رہے گا اور فیوضات وبرکات مرتب ہوتے رہیں گے یہ تو درست نہیں کہ پیغمبر کی موت کے بعد اس کا اتباع ترک کردیا جائے تو کیا…
Read the full tafseer →ف 1 جب منافقین نے یہ افواہ اڑائی کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے اب اپنا آبائی دین اختیار کرلو یا صحابہ ؓ کرام جب جنگ احد سے واپس آئے اور ان میں سے کچھ صحابہ شہید ہوچکے تھے تو منافقین نے کہا لو کانوا عندنا ماماتوا وما قتلوا کہ اگر ہو مدینہ میں رہتے قتل نہ ہوتے۔ پس اس قسم کے شبہات کو رفع کرنے کے لئے یہ بات نازل ہوئی (کبیر) اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ابھار نا اور ان کے زہن میں یہ بات بٹھا نا ہے کہ موت سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے انسان موت کے پنچہ سے نجات نہیں پاسکتا، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو موت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے جس میں تقدم تاخر نہیں ہوسکتا۔ پس اذن بمعنی علم ہے یعنی ہر شخص کی موت کا وقت…
Read the full tafseer →(3:145) کتابا مؤجلا۔ کتابا حکم ازلی۔ قانون ۔ فریضہ ۔ اللہ کی کتاب ، قرآن۔ تحریر لوح محفوظ۔ مؤجلا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ تاجیل۔ مصدر (تفعیل) اجل مادہ مؤجلا مقرر الوقت وہ جس کا وقت مقرر ہو۔ تاجل۔ وقت دینا۔ مہلت دینا۔ وقت مقرر کرنا ۔ دیر کرنا۔ کتاب مؤجلا۔ موصوف و صفت ہیں۔ یہ یا تو موت کی تعریف ہے کہ موت ایسا تحریر شدہ امر ہے جس کا وقت مقرر ہے یا اذن اللہ کی تعریف ہے کہ اذن اللہ ایک ایسا حکم ہے کہ جس کے نفاذ کا وقت مقرر شدہ ہے۔
نؤتہ منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ دینا کے لئے ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب ثواب کے لئے ہے یا من کی طرف راجع ہے۔ منھا میں من۔ فی کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
لغات القرآن آیت نمبر 144 تا 148
افان (پھر اگر) مات (مرگیا (مرجاتا) انقلبتم (کیا تم پلٹ جاتے) ینقلب (پلٹ جائے گا) سیجزی (عنقریب وہ بدلہ دے گا) کتابا مؤجلا (مدت لکھی ہوئی ہے (مدت مقرر کردی گئی ہے) نؤت (ہم دیتے ہیں) کاین (کتنے ہی) ربیون (اللہ والے) ماوھنوا (نہ وہ سست ہوئے) ما استکانوا (نہ وہ تھکے) اسرافنا (ہماری زیادتی) ثبت (ثابت رکھ) حسن (بہترین) ۔
تشریح : آیت نمبر 144 تا 148
یہ آیات غزوۂ احد کے فوراً بعد 3 ھ میں اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ صحابہ ؓ کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی طور پر فتح شکست میں بدل گئی اور رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور صحابہ کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید ہو بھی گئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کا یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور ان کے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعضے نبی شہید ہوگئے، لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے۔ جس طرح اپنے نبی کے رو برو تھے، اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔
مسائل القرآن : اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت اپنے مقررہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–151
[52] جنگ احد میں جب رسول اکرم ﷺ زخمی ہوگئے تو کسی مخالف نے یہ افواہ اڑا دی کہ نعوذ باللہ آپ مارے گئے۔ یہ سن کر بہت سے مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے۔ بعضوں نے کہا کہ جب پیغمبر نہ رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ۔ جو منافق تھے انہوں نے علانیہ کہنا شروع کردیا کہ یہ اگر نبی ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ جنگ میں مارے جاتے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
تلقین عزیمت :
(ف 1) جب غزوہ احد میں بھاگڑ مچی اور عبداللہ ابن قیمہ نے یہ مشہور کردیا کہ رسالتمآب ﷺ شہید ہوگئے ہیں تو بعض مسلمان ہمتیں ہار بیٹھے اور جم کر نہ لڑ سکے ، حضور ﷺ نے فرمایا ” الی عباد اللہ “ کہ خدا کے بندو ادھر آؤ ، لوگ حضور کے گردا گرد جمع ہوگئے ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ تمہیں ہوگیا جو تم بھاگ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا ، ہم نے جب سنا کہ آپ ﷺ ہم میں نہیں رہے تو ہم گھبرا گئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ محمد ﷺ کی حیثیت ایک پیغمبر سے زائد نہیں ، اس سے پہلے بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں ، ہوسکتا ہے آپ اس دنیا کو چھوڑ جائیں ، کیا اس صورت میں تم دین مستقیم کو چھوڑ دو گے ؟ دوسرے لفظوں میں بتانا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ف 3 اور بغیر اذن الٰہی اور بدون اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی جاندار کا مرنا اس کو موت آنا ممکن نہیں خواہ طبعاً مرے یا قتل کیا جائے ہر ایک کی موت کا وقت لکھا ہوا ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی اور جو شخص اپنے اعمال کا بدلہ اور نتیجہ دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کے حصہ میں سے اپنی مشیت کے موافق دیدیتے ہیں اور جو شخص آخرت کا ثواب اور اخری بدلہ چاہتا ہے تو ہم اس کو آخرت کے ثواب کا حصہ دیدیتے ہیں اور ہم عنقریب ایسے شکر گزاروں کو اچھا بدلہ اور نیک صلہ عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ موت کا ایک مقررہ وقت لکھا ہوا ہے اور کوئی کسی طرح میرے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
ف 1۔ پس اسی کی دوستی پر اکتفاء کرو اور اسی کا مددگار سمجھو دوسرا مخالف اگر نصرت کی بھی تدبیر بتلائے خلاف حکم خداوندی تو عمل مت کرو۔
Read the full tafseer →ہر ذی نفس کے لیے ایک میعاد مقرر کردی گئی ہے وہ اس میعاد سے پہلے نہیں مر سکتا :
265: اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ تم کو چاہیے کہ حوادث و مصائب کے وقت ثابت قدم رہو اور یاد رکھو کہ ہر انسان کی موت اللہ تعالیٰ کے نزدیک لکھی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخ ، دن اور وقت معین ہے نہ اس سے پہلے کسی کو موت آسکتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد وہ زندہ رہ سکتا ہے پھر کسی کی موت سے ایسے سراسیمہ ہوجانے کے کوئی معنی نہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں دوری جگہ ارشاد فرمایا کہ :
قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِالْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا (الاحزاب : 16:33) ” اے پیغمبر اسلام…
Read the full tafseer →The need to learn that crucial lesson has been taken up in the second verse as well. In order to teach steadfastness under calamities and hardships, it has been said that the death of every human being lies written with Allah Almighty. Fixed is its date, the day and the time. Death cannot come to take one away before that, nor could one continue to live after that. If so, getting scared about a certain death means nothing.
Now, towards the end, there comes an admonition about one of the apparent causes of this incident. As stated earlier, the Companions who were posted by the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →104. The purpose of this directive is to bring home to the Muslims that it would be futile for them to try to flee from death. No one can either die before or survive the moment determined for death by God. Hence one should not waste one's time thinking how to escape death. Instead, one should take stock of one's activities and see whether one's efforts have either been directed merely to one's well-being in this world or to well-being in the Hereafter.
105. The word thawab denotes recompense and reward. The 'reward of this world' signifies the totality of benefits and advantages which a man…
Read the full tafseer →