Aal-i-Imraan 3:133

Aal-i-Imraan · from ayah 133

3:133

وَسَارِعُوْۤا اِلٰی مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ— اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۟ۙوَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَۙ

اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And hasten to forgiveness from your Lord and a garden as wide as the heavens and earth, prepared for the righteous

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 14 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:133

دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت میں سب آسمان اور زمین آجاتے ہیں، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے، ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت۔ کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کے لیے مسابقت کرو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دوڑو تم لوگ (ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر) اپنے رب (مہربان و غفور) کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف، جس کا عرض (اور پھیلاؤ) آسمانوں اور زمین کے (عرض و پھیلاؤ) کے برابر ہے، جسے تیار کیا گیا ہے ان متقی (اور پرہیزگار) لوگوں کیلئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور مغفرت کی طرف جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے ڈرو اور جنت کی طرف (دوڑو) جس کا عرض سارے آسمان اور زمین ہیں۔ اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت کے حصول کے لیے اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے جس کا پھیلاؤ آسمانوں اور زمین جتنا ہے وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل تقویٰ کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دوڑ کر چلو (اس راہ پر جو) تمہارے رب کی بخشش اور جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And hasten to the for-giveness of your Lord and to a Paradise as vast as the heavens and the earth, prepared for the God-fearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Race with one another towards Forgiveness from your Lord and towards a paradise the width of which spans the heavens and the earth. It has been prepared for the God-fearing,

— Muhammad Taqi Usmani

Race with one another towards Forgiveness from your Lord and towards a paradise the width of which spans the heavens and the earth. It has been prepared for the God-fearing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And march forth in the way (which leads to) forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth, prepared for the Muttaqin (the pious).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And vie one with another for forgiveness from your Lord, and for a paradise as wide as are the heavens and the earth, prepared for those who ward off (evil);

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And hasten to forgiveness from your Lord and a garden as wide as the heavens and earth, prepared for the righteous

— Saheeh International

Hasten to obtain forgiveness from your Lord and to qualify yourselves for Paradise. Paradise, vast as the heavens and the earth, is prepared for the pious

— Muhammad Sarwar

And hasten to forgiveness from your Lord; and a Garden, the extensiveness of which is (as) the heavens and the earth, it is prepared for those who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And vie with each other in hastening to obtain forgiveness from your Lord and toward the Garden whereof the width equalleth the heavens and the earth, gotten ready for the God- fearing

— Abdul Majid Daryabadi

Be quick in the race for forgiveness from your Lord, and for a Garden whose width is that (of the whole) of the heavens and of the earth, prepared for the righteous,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:133

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 130–136

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 131–134

سورة اٰلِ عِمْرٰن 99 سود خواری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی۔ اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بغض و حسد۔ احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ سود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کے بالکل برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں، اور اللہ کی بخشش اور اس کی جنت اسی دوسری قسم کے اوصاف سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ پہلی قسم کے اوصاف سے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت اور مسارعت کا حکم دیا گیا ہے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد یہ دوسرا حکم دیا گیا، یہاں مغفرت سے مراد اسباب مغفرت ہیں، یعنی وہ اعمال صالحہ جو باعث مغفرت الہی ہیں، صحابہ وتابعین سے اس کی تفسیریں مختلف عنوانات سے منقول ہی، مگر معنون اور مضمون سب کا ایک ہی ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی تفسیر " ادائیگی فرض " سے فرمائی۔ حضرت ابن عباس نے " اسلام " سے ابوالعالیہ نے " ہجرت " سے، انس بن مالک نے " تکبیر اولی " سے، سعید بن جبیر نے " اداء طاعت " سے، ضحاک نے " جہاد " سے، عکرمہ نے " توبہ " سے کی ہے، ان تمام اقوال کا حاصل یہی ہے کہ مغفرت سے مراد وہ تمام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جنت کی وسعت کی ایک تمثیل : یعنی سود کے ذریعہ سے اگر بہت تیر ماروگے تو ایک کا دس یا بیس یا سو یا ہزار بنا لوگے اور اس کا نفع بہرحال اسی زندگی تک محدود رہے گا۔ آخرت میں یہ سارا اندوختہ تمہارے جلانے کے لیے ایندھن بنے گا۔ برعکس اس کے اگر اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو اس کے بدلے میں خدا کی مغفرت کے حق دار اور اس کے نتیجے میں ایسی وسیع جنت کے وارث ٹھہروگے جس کی وسعت کے آگے تمام آسمانوں اور پوری زمین کی وسعت گرد ہو کے رہ جائے گی۔ پھر ایک بند گلی کی ایک محدود تنگ نائے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے کے بجائے ابدی زندگی کی یہ ناپید اکنار بادشاہی حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کیوں نہ کرو۔ یہی مضمون سورة حدید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 131–133

133۔ 1 مال و دولت دنیا کے پیچھے لگ کر آخرت تباہ کرنے کی بجائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اور اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کا راستہ اختیار کرو۔ جو متقین کے لئے اللہ نے تیار کیا ہے۔ چناچہ آگے متقین کی چند خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 131–139

45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آیت کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں ان عبادات کو بالکل محسوس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کچھ لوگ ہیں جو کسی انعامی مقابلے میں ایک مقررہ ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ……………” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی مغفرت کی طرف جاتی ہے ‘ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ……………” دوڑ کر چلو اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔ “ دوڑو ! وہ ہے جنت وہاں ہے مغفرت ! أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ……………” جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ “ اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ان اعمال و اخلاق کی طرف جھپٹو جو حسب وعدہ خداوندی اسکی بخشش اور جنت کا مستحق بناتے ہیں۔ 10 چونکہ آدمی کے دماغ میں آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ اور کوئی وسعت نہیں آسکتی تھی اس لئے سمجھانے کے لئے جنت کے عرض کو اسی سے تشبیہ دی گئی۔ گویا بتلا دیا کہ جنت کا عرض زیادہ سے زیادہ سمجھو پھر جب عرض اتنا ہے تو طول کا حال خدا جانے کیا کچھ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 130–133

آیت 130 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوا الرِّبآوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃًص یہاں پر سود مرکب compound interest کا ذکر آیا ہے جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ شراب اور جوئے کی طرح سود کی حرمت کے احکام بھی تدریجاً نازل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ایک مکی سورة ‘ سورة الروم میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سود کی قباحت اور شناعت کو واضح کردیا گیا : وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِج وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ جیسے کہ شراب اور جوئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118۔ 1 سود کی حرمت کا ذکر سورة بقرہ کی آیات 278۔ 279 میں گزر چکا ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو سود کی قباحتوں سے متعارف کرانا اس سے نفرت دلانا اور اس کو یکسر چھوڑ دینے کے لیے ذہنوں کو ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس مقام پر سود کے ذکر کی وجہ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ احد میں ابتداً مسلمان جو شکست سے دوچار ہوئے تو اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کا وہ دستہ جو حضرت عبداللہ بن جبیر کی سر کردگی میں درہ کی حفاظت پر مامور تھا، اس نے جب فتح کے آثار دیکھے تو مال کے طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

266 ۔ (اپنے اعمال کے ذریعہ سے) (آیت) ” الی مغفرۃ من ربکم “۔ ہر مومن کا منتہائے عمل اور منزل مقصود یہی مغفرت پروردگار ہونا چاہیے۔ 267 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام محض ایک سلبی حقیقت کا نام نہیں، محض گناہوں سے بچنا کافی نہیں، بلکہ مسلمانوں کو حکم اس کا بھی ملا ہے کہ اسلام کے ایجابی پہلو کا بھی پورا حق ادا کریں، نیکیوں کی جانب لپکیں اور اس طرح جنت کو حاصل کرکے رہیں جو رضاء الہی کا محل اور ظہور رحمت کامل کا مقام ہے۔ (آیت) ” عرضھا السموت والارض “۔ یعنی وہ بےانتہا وسیع ہے، اس میں سب کی گنجائش ہے۔ وہاں چپقلش اور عدم گنجائش کا احتمال ہی نہیں، جنت کی بجنسہ پیمائش بیان کرنا مقصود نہیں، بلکہ صرف اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 131–134

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ محض خوشحالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں یعنی ہرحال اور ہر موقع پر خرچ کرتے ہیں، اور انتقام پر قدرت ہونے کے باوجود زیادتی کو معاف کردیتے ہیں اور غصہ کو ضبط کر جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و سارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ اور تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اِلٰی مغفرۃ کی تشریح میں اِلٰی الاسلام اور عکرمہ کی روایت میں الی التَّوْبَۃِ فرمایا (یعنی مغفرت سے مراد ہے اسلام یا توبہ) ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ٗ نے ادائے فرض اور حضرت انس بن مالک نے نماز کی تکبیر اولیٰ سے تفسیر فرمائی۔ تمام اقوال کا مآل یہ ہے کہ مغفرت سے مراد ہیں ایسے عقائد، اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ جن سے گناہوں کی مغفرت، دوزخ سے رہائی اور ظل رحمت میں پہنچنے کا استحقاق ہوجاتا ہے حضرت ابو امامہ کی روایت کردہ حدیث پہلے گذر چکی ہے : بَادِرُوْا بالْاَعْمَال ھرمًا نَاغِضًا۔۔ حضرت ابوہریرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(133) سود اور تمام گناہوں سے توبہ کرنے میں اپنے پروردگار کی طرف پہل کرو، اور نیک اعمال کرکے اور سود کو چھوڑ کر جنت کی تیاری کرو جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، جو کہ کفر وشرک فواحش اور سود کے ترک کرنے والوں کے لیے بنائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : اہل ایمان کو ان اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا سبب بنتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نیک اعمال سر انجام دینے میں جلدی کرلو، ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے پہلے جو اندھیری رات کے مختلف ٹکڑوں کی طرح (یکے بعد دیگرے) رونما ہوں گے۔ صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی سامان کے عوض بیچ دے گا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب الحث علی المبادرۃ۔۔ : 118، عن أبی ہریرۃ ؓ ] 2 وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ۔۔ : یعنی جس طرح سود خور کافر کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے، اسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 133۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وسارعوا “ حضرت نافع اور ابن عامر نے واؤ کے بغیر (آیت) ” سارعوا “ پڑھا ہے اور اسی طرح اہل مدینہ اور اہل شام کے مصاحف میں ہے (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 547) اور باقی سات نے (آیت) ” وسارعوا “ واؤ کے ساتھ پڑھا ہے، ابو علی نے کہا ہے : دونوں قراتیں رائج اور صحیح ہیں، پس جنہوں نے واؤ کے ساتھ قرات کی ہے انہوں نے جملہ کا عطف جملہ پر کیا ہے اور جنہوں نے واؤ کو چھوڑ دیا ہے وہ اس لئے ہے کہ دوسرا جملہ پہلے کے ساتھ اس طرح ملتبس ہے کہ اسے حرم عطف واؤ کی حاجت اور ضروت ہی نہیں۔ اور المسارعۃ کا معنی المبادرۃ (جلدی کرنا، تیزی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 131–133

(1) عبد بن حمید وابن جریر ابن المنذر نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! بنو اسرائیل اللہ کے نزدیک ہم سے زیادہ عزت والے تھے جب ان میں سے کوئی گناہ کرتا تھا تو صبح کے وقت اس کے گناہ کا کفارہ لکھا ہوتا تھا اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اپنا ناک کاٹ دے یا اپنا کان کاٹ دو یا ایسا ایسا کرو (یہ سن کر) آپ خاموش ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم “ سے لے کر ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبہم “ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر کام کے بارے میں نہ بتاؤں یہ تلاوت فرمائیں۔ (2) ابن المنذر نے انس بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَسَارِعُوْآ : اور تم لوگ لپکو ] [اِلٰی مَغْفِرَۃٍ : ایک ایسی مغفرت کی طرف جو ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ہے ] [وَجَنَّۃٍ : اور ایک ایسی جنت کی طرف ] [عَرْضُہَا : جس کی چوڑائی ] [السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : آسمان اور زمین ہیں ] [اُعِدَّتْ : وہ تیار کی گئی ] [لِلْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر ارشاد فرمایا : (وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) (الآیۃ) کہ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جلدی جلدی آگے بڑھو مسارعت اور مقابلہ کی چیز مغفرت اور جنت ہے اعمال صالحہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ جنت کا طول و عرض : ساتھ ہی جنت کی وسعت کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ (عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ ) کہ جنت کا چوڑاؤ ایسا ہے جیسے تمام آسمانوں اور زمین کی وسعت ہے، انسانوں کی نظر کے سامنے چونکہ آسمان اور زمین ہی طول و عرض کے اعتبار سے سب سے بڑی چیزیں ہیں اس لیے جنت کی وسعت بتانے کے لیے تقریب الی الفہم کے طور پر یہ ارشاد فرمایا کہ جنت کی چوڑائی ایسی ہے جیسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–136

ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔ قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔ (ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

200 وَجَنَّةٌ مَّغْفِرَ ةٌ پر معطوف ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے ای الی اسبابھا من الاعمال الصالحة (روح ص 56 ج 4) یعنی بخشش اور جنت کی طرف دوڑنے سے ایسے اعمال صالحہ کی طرف دوڑنا اور مسابقت کرنا مراد ہے جو استحقاق مغفرت اور دخول جنت کا موجب ہوں۔ مثلا اخلاص توحید، جہاد، انفاق وغیرہ۔ حضرت عثمان ؓ سے منقول ہے کہ یہاں موجب مغفرت سے اخلاص عبادت اور توحید مراد ہے۔ والثالث انہ الاخلاص وھو قول عثمان بن عفان ؓ ووجہہ ان المقصود من جمیع العبادات الاخلاص کما قال وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (کبیر ص 74 ج 3) اور جنت کا آسمانوں اور زمین کے برابر چوڑا ہونا اپنے ظاہر پر محمول ہے یعنی اس جنت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 130–134

گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کا ذکر فرمایا۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی تسلی کے لیے غزوہ بدر کا تذکرہ بھی ہوا۔ کہ اس جنگ میں اللہ نے اپنی خاص مہربانی سے اہل ایمان کے اطمینان اور بشارت کے لیے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ مگر غزوہ احد میں مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگئی تھی لہذا اس میں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر احد کی جنگ میں شریک ہونے والے مشرکین کے حق میں بد دعا کرنے سے اللہ نے منع فرما دیا۔ بدر میں کامیابی کا راز بتایا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا۔ اور صبر اور تقوی کو اختیار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ کامیابی عطا فرمائی۔ ان غزوات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۝ 0 ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۝ 133 ۙ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–136

ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 133–134

وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ ج (اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے) (133 تا 134) ایک مومن کا اصل ہدف اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 131–134

فہم القرآن ربط کلام : سود اور جہنم سے بچنے کا حکم، جنت اور صدقہ کی ترغیب دینے کے بعد جنّتیوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں جنتیوں کے چھ اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 یہ لوگ عسر ویسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ 2 طیش اور غضب کی حالت میں اپنے آپ پر ضبط رکھتے ہیں۔ 3 ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ معافی کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں۔ 4 جب ان سے بری حرکت یا گناہ کی صورت میں اپنے آپ پر زیادتی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس، اس کے عذاب کا خوف اور اس کی ذات کبریا کا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں۔ 5 اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی گناہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 133–134

مسارعت مغفرت و جنت : 133۔ 134: وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآ ئِ وَالضَّرَّآ ئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (اور تم تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف) مدنی اور شامی نے وائو کے بغیر سَارِعُوْٓا پڑھا ہے اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ دیگر قراء نے وائو کو قائم رکھ کر ماقبل پر عطف کیا ہے۔ المسارعۃ الی المغفرۃ والجنۃ کا مطلب ایسے اعمال کی طرف متوجہ ہونا جو ان دونوں تک لے جانے والے ہوں۔ پھر ان اعمال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

133۔ (آیت)” وسارعوا “ قراء اہل شام و مدینہ والوں نے ” سارع “ بغیر واؤ کے پڑھا ہے (آیت)” الی مغفرۃ من ربکم “ اپنے اعمال میں سبقت کرو اور آگے بڑھو جو مغفرت کو واجب کرنے والا اعمال ہوں ۔ (سابقوا الی مغفرۃ ، کی مختلف تفاسیر) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے میں سبقت کرو ، ایک روایت میں ہے کہ توبہ کی طرف سبقت کرو ، یہی عکرمہ (رح) کا قول ہے ۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا بیان ہے کہ فرائض کے ادا کرنے میں سبقت کرو، ابو العالیہ فرماتے ہیں ہجرت کی طرف سبقت کرو ، ضحاک فرماتے ہیں کہ جہاد کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت کرو، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرو ، انس بن مالک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 130–134

(130 ۔ 134) ۔ احد کی لڑائی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سود کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اسی لڑائی میں ایک بڑا موقع لین دین کا پیش آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے جاتے اپنے ساتھ کے مشرکین سے ابو سفیان نے کہا کہ مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لایا اور ان کے سرگروہ رسول وقت کو اور بقیہ مسلمانوں کو ناحق زندہ چھوڑ آیا۔ اس کا مجھ کو بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت کو پہنچی۔ آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز لڑائی میں جو لوگ گئے وہی لوگ آج پھر مشرکین کے تعاقب میں چلیں۔ اگرچہ لوگ زخمی تھکے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں فورًا اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی جس تعمیل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 131–137

آیت 131-136 اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 131–133

جنت کی وسعت بےکنار ہے قول باری ہے (وجنۃ عرضھا السموت والارض۔ اور جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے) ایک قول ہے کہ جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا (وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض، اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے) جس طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ماخلقکمومابعثکم الاکنفس واحدۃ ، تمھاراپیداکرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کو دوبارہ پیدا کرنے کی طرح ہے) یعنی اس طرح جیسے ایک جان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی وسعت کے بیان کے سلسلے میں عرض کا ذکر فرمایا طول کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ عرض کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

268 اہل ایمان کے لیے مسابقۃ اور مسارعۃ کے اصل میدان کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کے لیے مسابقہ کا اصل میدان دنیاوی زندگی اور اس کا متاع فانی اور حطام زائل نہیں۔ بلکہ آخرت کی زندگی اور وہاں کی نعیم مقیم ہے کہ اس سے سرفرازی ہی اصل سرفرازی اور وہاں کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے نہ کہ حیات دنیا کے ان خزف ریزوں کو سمیٹنا جن کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم اپنے رب کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر دوڑو : کیونکہ { سَارِعُوْا } " مُسَارَعَۃٌ " سے امر کا صیغہ ہے، جو کہ مصدر ہے باب مفاعلہ کا۔ اور اس کا مفہوم یہی ہے کہ مقابلہ اور دوڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 131–133

سود کی ممانعت، بدی کی سزا، نیکی کی جزا تشریح : پچھلی آیات میں غزوہ احد و بدر کا ذکر کیا گیا اور فوراً سود کا ذکر آگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں لڑائیوں میں یہودیوں کا کافی عمل دخل تھا اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا سودی لین دین چل رہا تھا تو اللہ رب العزت نے اس تعلق سے منع کردیا، تاکہ اس تعلق کی وجہ سے بعد میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ ویسے تو سود کے موضوع پر سورة ٔبقرہ میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے، یہاں پھر کہا جارہا ہے کہ سود بڑی بری لعنت ہے، اس کو چھوڑ دینا چاہئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس سے بچنا چاہئے، اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اسی میں انسان کے لیے نجات، بخشش اور کامیابی ہے اور حکم دیا گیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–143

آیات 130- 143 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔ توکل : نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔ زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جس طرح سود خوار کافر کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے اسی طرح تابعدار متقی کے لیے جنت تیار کی گئی ہے اور پھر جنت کے متعلق عر ضھا السموات والا رض فرماکر اس کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ اگر جنت کا عرض آسمان کے برابر ہے تو دوزخ کہاں ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات چھا جائے تو دن کہا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو آپ ﷺ نے فرمایا یہی حال دوزخ کا ہے۔ یعنی تکون حیث شاہ اللہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح ایک جانب رات ہوتی ہے اور دوسری جانب دن ہوتا ہے یہی حال جنت دوزخ کا ہے اس سوال کا یہی جواب حضرت عمر ؓ اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:133) سارعوا۔ جلدی کرو۔ دوڑو۔ سرعت سے کام لو۔ مسارعۃ جس کے معنی دوڑنے اور دوڑانے کے ہیں۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–138

لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138 اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 130 تا 138 گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کرسی کے مقابلے میں یہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایسی ہیں جس طرح بہت بڑے میدان میں ایک انگلی کا چھلا گرا پڑا ہو، اور عرش معلیٰ کرسی سے اتنا بڑا ہے جیسا چھلے سے وہ میدان خیال کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 130–139

[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 132–135

(ف 1) ان آیات میں مسلمان کے نصب العین کو واضح کیا ہے کہ وہ مجسمہ اطاعت ہوتا ہے ، اس کا ہر ارادہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ماتحت ہوتا ہے ، اور وہ دنیا کی دلفریبیوں پر نہیں ریجھتا ، وہ جنت ومغفرت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا ، مغفرت کے معنی مختلف آئے ہیں ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس سے مراد اسلام ہے ، حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ اس سے مقصود ادائے فرائض ہے ، حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں ، پانچ نمازیں ہیں ، سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں ، تکبیر اعلی سے تعبیر ہے ۔ مگر لفظ کی وسعتیں کسی تخصیص کی متحمل نہیں ، ان اقوال میں بھی تضاد نہیں ، ان بزرگوں نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق جس طرز عمل کو زیادہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 132–133

ف 1 اور اے مسلمانو ! اس آگ سے بچو جو دراصل کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے اور دیکھو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور خوشی سے ان کے احکام بجا لایا کرو توقع ہے کہ تم دنیا اور آخرت میں رحم کئے جائو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی دنیا میں ذلت و رسوائی سے اور قیامت میں دوزخ سے بچا سکتی ہے لہٰذا ایمان لانے کے بعد اللہ اور رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو پہلی آیت میں دوزخ سے بچنے کا حکم تھا دوسری آیت میں اس کا علاج ہے اب آگے جنت کی ترغیب اور تقویٰ کی تاکید ہے۔ (تسہیل)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 131–133

ف 5۔ مطلب یہ کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کردیں اور تم کو جنت عنایت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بھلائیوں کی طرف دوڑو کہ بھلائی ہی جنت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے : 246: جنت کیا ہے ؟ انعام الٰہی۔ ظاہر ہے کہ انعام کسی کام کے صلہ میں ہی دیا جاتا ہے۔ جس کام کے صلہ کا یہ انعام ہے وہ کام کیا ہوگا ؟ وہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری جس کا پچھلی آیت میں ذکر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ” الی الاسلام “ اور حضرت عکرمہ نے فرمایا ” الی التوبۃ “ اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ادائے فرض “ اور مفہوم سب کا ایک ہی ہے۔ کیونکہ سب کی مراد تو یہی ہے کہ ” اعمال صالحہ “ جن سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے اور رحمت کے سائے میں پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ پھر سب کا ماحصل کیا ہوا ؟ وہی رسول اللہ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Race towards forgiveness, towards Paradise: The first command was: 'Obey the Messenger'. (132) The second command is: 'Race one another towards Forgiveness from your Lord and towards Paradise.' (133) Here, Forgiveness stands for the means of obtaining forgiveness, that is, good deeds which bring forth forgiveness. There are several exegetic views reported from the blessed Companions and their immediate successors. Though expressed differently, they convey the same theme. Out of the noble Companions and their successors, may Allah be pleased with them all, Sayyidna ` Ali ؓ explained it as the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 131–134

99. The existence of interest in a society generates two kinds of moral disease. It breeds greed and avarice, meanness and selfishness among those who receive interest. At the same time, those who have to pay interest develop strong feelings of hatred, resentment, spite and jealousy. God intimates to the believers that the attributes bred by the spread of interest are the exact opposite of those which develop as a result of spending in the way of God, and that it is through the latter rather than the former that man can achieve God's forgiveness and Paradise. (For further explanation see…

Read the full tafseer →