Explained with ayahs 130–136
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
سورة اٰلِ عِمْرٰن 99
سود خواری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی۔ اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بغض و حسد۔ احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ سود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کے بالکل برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں، اور اللہ کی بخشش اور اس کی جنت اسی دوسری قسم کے اوصاف سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ پہلی قسم کے اوصاف سے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور خوشی سے کہا مانو اللہ کا اور (اس کے) رسول ﷺ کا امید ہے کہ تم رحم کئے جاؤ گے (یعنی قیامت میں) اور دوڑو طرف مغفرت کے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے (نصیب) ہو اور (دوڑو) طرف جنت کے (مطلب یہ ہے کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کردیں اور تم کو جنت عنایت ہو اور وہ جنت ایسی ہے) جس کی وسعت ایسی (تو) ہے (ہی) جیسے سب آسمان اور زمین (اور زیادہ کی نفی نہیں، چناچہ واقع میں زائد ہونا ثابت ہے اور) وہ تیار کی گئی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں دو مسئلے زیادہ اہم ہیں۔ اول پہلی آیت کا مضمون جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ کا ٹکڑا اس سیاق میں اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اس تنبیہ کے بعد بھی جو لوگ سود خوری پر مصر رہیں گے وہ کافر ہیں اور ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے اس نکتہ پر ہم سورة بقرہ میں بحث کرچکے ہیں۔ درحقیقت ایسے لوگ اپنی آگ کے لیے اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ایندھن خود فراہم کر چھوڑتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی آگ بالکل تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
133۔ 1 مال و دولت دنیا کے پیچھے لگ کر آخرت تباہ کرنے کی بجائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اور اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کا راستہ اختیار کرو۔ جو متقین کے لئے اللہ نے تیار کیا ہے۔ چناچہ آگے متقین کی چند خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–139
45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…
Read the full tafseer →اس کے بعد یہ آخری تاکید کی جاتی ہے وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ……………” اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کی امید ہوسکے ۔ “ یہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا عام حکم ہے ‘ اور اس طاعت عامہ پر اللہ کے رحم کو موقوف کیا گیا ہے لیکن سودی کاروبار کی ممانعت کے بعد بطور نتیجہ اس رحمت خداوندی کا ذکر خالی از حکمت نہیں ہے۔ اس میں ایک خاص مفہوم اور اشارہ بھی مطلوب ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی ایسے معاشرے میں جس کی اقتصادیات سودی نظام پر استوار ہوں قطعاً اللہ اور رسول کی اطاعت ممکن نہیں رہتی ۔ نیز اس دل میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کا جذبہ ہی نہیں رہتا جو سود کھاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
8 رسول ﷺ کا حکم ماننا بھی فی الحقیقت خدا ہی کا حکم ماننا ہے کیونکہ اس نے حکم دیا ہے کہ ہم پیغمبر کا حکم مانیں اور ان کی پوری اطاعت کریں۔ جن احمقوں کو اطاعت اور عبادت میں فرق نظر نہ آیا وہ اطاعت رسول ﷺ کو شرک کہنے لگے۔ چونکہ جنگ احد میں رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تھی (جیسا کہ آگے آتا ہے) اس لئے آیندہ کے لئے ہوشیار کیا جاتا ہے۔ کہ خدا کی رحمت اور فلاح و کامیابی کی امید اسی وقت ہوسکتی ہے جب اللہ و رسول کے کہنے پر چلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
آیت 130 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوا الرِّبآوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃًص
یہاں پر سود مرکب compound interest کا ذکر آیا ہے جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ شراب اور جوئے کی طرح سود کی حرمت کے احکام بھی تدریجاً نازل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ایک مکی سورة ‘ سورة الروم میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سود کی قباحت اور شناعت کو واضح کردیا گیا : وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِج وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ جیسے کہ شراب اور جوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
118 اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کام بلا تاخیر کئے جائیں، جو اللہ کی مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں اور وہ تمام اعمال صالحہ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا بذات خود اللہ کی بخشش کا بہت بڑا سبب ہے۔ استغفار کے لیے کتاب و سنت میں بہت سی دعائیں منقول ہیں اور ایک دعائے استغفار کو تو رسول اللہ ﷺ نے سید الاستغفار فرمایا : آپ نے یہ استغفار صحابہ کرام ؓ کو سکھلایا اور صبح و شام نمازوں کے بعد یہ استغفار پڑھا کرتے تھے۔ اس استغفار کے الفاظ یہ ہیں : (اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لاَاِلَہَ الاَّاَنْتَ خَلَقْتَنِی وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ…
Read the full tafseer →265 ۔ (دنیا اور آخرت، دونوں میں) (آیت) ” لعل “۔ پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” واطیعوا “۔ یعنی اللہ اور رسول کی اطاعت خوش دلی کے ساتھ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ محض خوشحالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں یعنی ہرحال اور ہر موقع پر خرچ کرتے ہیں، اور انتقام پر قدرت ہونے کے باوجود زیادتی کو معاف کردیتے ہیں اور غصہ کو ضبط کر جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →واطیعوا اللہ والرسول لعلکم ترحمون اور رحمت کی امید رکھتے ہوئے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ بہر حال آگ کی تخلیق اصل میں کافروں کے لیے اور عارضی طور پر اہل ایمان کے لیے قرار دی جائے یا کافروں کے لیے الگ اور گنہگار مؤمنوں کے لیے الگ تخلیق مانی جائے دونوں صورتوں میں اس آیت کا مضمون فرقۂ مرجیۂ کے مسلمہ کے خلاف ہے مرجیۂ قائل ہیں کہ اگر ایمان موجود ہو تو پھر کسی گناہ سے کوئی ضرر نہ ہوگا۔
اکثر مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اللہ کی طرف سے لَعَلَّ اور عسٰی کا استعمال تحقیق کے لیے ہے (امید کا مفہوم نہیں ہے کیونکہ امید وہ کرتا ہے جس کو کسی بات کا انتظار ہو اور وہ بات حاصل نہیں ہوئی ہو اور اللہ کے لیے حالت…
Read the full tafseer →(132) حرمت سود اور سود کے چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت ہو اور عذاب خداوندی سے تمہیں نجات ملے۔
Read the full tafseer →وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار تو وہ شخص ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں۔ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر نافرمان کے لیے بھی عتاب موجود ہے۔ (رازی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
آیت نمبر 130۔ تا 132۔
قولی تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ سود کھانے سے یہ نہیں قصہ احد کے درمیان جملہ معترضہ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : مجھے اس بارے میں روایت کردہ کوئی شے یاد نہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت مجاہد نے بیان کیا ہے : وہ ایک مدت تک بیع کرتے تھے اور جب مدت مقررہ گزر جاتی تو وہ اسے مؤخر کرنے کی شرط پر ثمن میں اضافہ کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” یایھال الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ (میں کہتا ہوں) تمام گناہوں میں سے ربا کو خاص کیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جنگ کی اجازت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
(1) عبد بن حمید وابن جریر ابن المنذر نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! بنو اسرائیل اللہ کے نزدیک ہم سے زیادہ عزت والے تھے جب ان میں سے کوئی گناہ کرتا تھا تو صبح کے وقت اس کے گناہ کا کفارہ لکھا ہوتا تھا اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اپنا ناک کاٹ دے یا اپنا کان کاٹ دو یا ایسا ایسا کرو (یہ سن کر) آپ خاموش ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم “ سے لے کر ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبہم “ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر کام کے بارے میں نہ بتاؤں یہ تلاوت فرمائیں۔
(2) ابن المنذر نے انس بن…
Read the full tafseer →[وَاَطِیْعُوا : اور تم لوگ اطاعت کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کی ] [وَالرَّسُوْلَ : اور ان رسول ﷺ ‘ کی ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ ] [تُرْحَمُوْنَ : تم لوگ رحم کیے جائو
Read the full tafseer →پھر ارشاد فرمایا : (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) (یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا رحم لانے والی چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔
قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔
(ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی…
Read the full tafseer →199 نہ صرف سود کے احکام میں بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر وانوہی میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی اطاعت کا طریقہ وہی اختیار کرو جو اس کے رسول نے اپنے اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل سے قائم کیا ہے لہذا اللہ کی اطاعت کے لیے اس کے رسول کی اطاعت نہایت ضروری اور لابدی ہے اور رسول کی اطاعت سے متعلق فرما کر بتا دیا کہ رحمت کی امید صرف فرمانبرداروں کو رکھنی چاہئے نہ کہ نافرمانوں کو۔ ان آیتوں سے اہل سنت کے مسلک کی تائید اور فرقہ مرجئہ کے خیال باطل کی تردید ہوتی ہے اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ ایمان کے بعد اعمال صالحہ کا بجالانا اور گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے اور معاصی کا ارتکاب کرنے والے مومنوں کو عذاب ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کا ذکر فرمایا۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی تسلی کے لیے غزوہ بدر کا تذکرہ بھی ہوا۔ کہ اس جنگ میں اللہ نے اپنی خاص مہربانی سے اہل ایمان کے اطمینان اور بشارت کے لیے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ مگر غزوہ احد میں مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگئی تھی لہذا اس میں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر احد کی جنگ میں شریک ہونے والے مشرکین کے حق میں بد دعا کرنے سے اللہ نے منع فرما دیا۔ بدر میں کامیابی کا راز بتایا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا۔ اور صبر اور تقوی کو اختیار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ کامیابی عطا فرمائی۔ ان غزوات…
Read the full tafseer →وَاَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 132 ۚ
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ
قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت
اس جنگ میں دوسری غلطی جیسا کہ گزارش کی گئی ہے مسلمانوں سے یہ سرزد ہوئی کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے احکام کو نظر انداز کیا اور آپ ﷺ کے تاکیدی احکام کے باوجود اپنے مورچے چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔ اس لیے فرمایا کہ :
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ
(اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے)
مسلمانوں کا جو گروہ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کمزوری دکھاتا ہے وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ کے رحم کا مستحق نہیں ہوتا۔ جس طرح سودی لین دین کرنے والا مسلمان ہوتے ہوئے بھی جہنم کا سزاوار ہوجاتا ہے اسی لیے فرمایا (اس آگ سے بچو جو کافر لوگوں کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
فہم القرآن
ربط کلام : سود اور جہنم سے بچنے کا حکم، جنت اور صدقہ کی ترغیب دینے کے بعد جنّتیوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔
یہاں جنتیوں کے چھ اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 یہ لوگ عسر ویسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ 2 طیش اور غضب کی حالت میں اپنے آپ پر ضبط رکھتے ہیں۔ 3 ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ معافی کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں۔ 4 جب ان سے بری حرکت یا گناہ کی صورت میں اپنے آپ پر زیادتی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس، اس کے عذاب کا خوف اور اس کی ذات کبریا کا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں۔ 5 اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی گناہ…
Read the full tafseer →اللہ کی رضا میں وقار و بلندی ہے :
132: وَاَطِیْعُـوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے)
فائدہ : اس آیت میں مرجئہ فرقہ کی اس بات کی تردید ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان دہ نہیں اور آگ سے بالکل اہل ایمان کو سزا نہ دی جائے گی۔
ہم اہلسنّت کے نزدیک کفار کے علاوہ گناہگار ایمان والوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ لیکن بالآخر ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
مفسرین (رح) کا ارشاد :
لعل اور عسیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے مواقع پر تحقیق کیلئے آتا ہے یعنی بیم آمیزامید کیلئے ہے عارف کا مل سے یہ بات مخفی نہیں کہ…
Read the full tafseer →132۔ (آیت)” واطیعوا اللہ والرسول لعلکم ترحمون “۔ تاکہ تم رحم کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
(130 ۔ 134) ۔ احد کی لڑائی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سود کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اسی لڑائی میں ایک بڑا موقع لین دین کا پیش آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے جاتے اپنے ساتھ کے مشرکین سے ابو سفیان نے کہا کہ مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لایا اور ان کے سرگروہ رسول وقت کو اور بقیہ مسلمانوں کو ناحق زندہ چھوڑ آیا۔ اس کا مجھ کو بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت کو پہنچی۔ آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز لڑائی میں جو لوگ گئے وہی لوگ آج پھر مشرکین کے تعاقب میں چلیں۔ اگرچہ لوگ زخمی تھکے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں فورًا اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی جس تعمیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
آیت 131-136
اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
جنت کی وسعت بےکنار ہے
قول باری ہے (وجنۃ عرضھا السموت والارض۔ اور جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے) ایک قول ہے کہ جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا (وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض، اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے) جس طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ماخلقکمومابعثکم الاکنفس واحدۃ ، تمھاراپیداکرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کو دوبارہ پیدا کرنے کی طرح ہے) یعنی اس طرح جیسے ایک جان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی وسعت کے بیان کے سلسلے میں عرض کا ذکر فرمایا طول کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ عرض کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
267 بڑھتا چڑھتا سود کھانے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ بڑھتا چڑھتا سود مت کھاؤ "۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا اور جیسا کہ سود مرکب یعنی سود درسود کی خاصیت ہے، اور { اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً } یعنی بڑھتے چڑھتے سود کی یہ قید احترازی اور بیان شرط کے طور پر نہیں، بلکہ بیان واقع اور تقبیح مزید کیلئے ہے۔ ( ابن کثیر، روح، کبیر، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور غزوہ احد کے احوال کے بیان کے درمیان سود کی اس حرمت و ممانعت، اور مکارم اخلاق کے ذکر میں یہ درس ہے، کہ ایمان وتقویٰ ہی کے ذریعے مومن جہاد کے قابل ہوسکتا ہے، اور اپنے دشمن پر فتح و غلبہ پا کر اس کو زیر کرسکتا ہے، جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
سود کی ممانعت، بدی کی سزا، نیکی کی جزا
تشریح : پچھلی آیات میں غزوہ احد و بدر کا ذکر کیا گیا اور فوراً سود کا ذکر آگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں لڑائیوں میں یہودیوں کا کافی عمل دخل تھا اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا سودی لین دین چل رہا تھا تو اللہ رب العزت نے اس تعلق سے منع کردیا، تاکہ اس تعلق کی وجہ سے بعد میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ ویسے تو سود کے موضوع پر سورة ٔبقرہ میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے، یہاں پھر کہا جارہا ہے کہ سود بڑی بری لعنت ہے، اس کو چھوڑ دینا چاہئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس سے بچنا چاہئے، اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اسی میں انسان کے لیے نجات، بخشش اور کامیابی ہے اور حکم دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–143
آیات 130- 143
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔
توکل :
نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔
زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار تو وہی شخص ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں اس میں ہر نافرمان کے لیے عتاب ہ وسکتا ہے۔ کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
(3:131) اعدت۔ ماضی مجہول صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اعداد (افعال) سے جس کے معنی تیار کرنے کے ہیں عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعدت وہ تیار کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–138
لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138
اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔
تشریح : آیت نمبر 130 تا 138
گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جنت و دوزخ پیدا ہو چکیں، موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–139
[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
(ف 1) ان آیات میں مسلمان کے نصب العین کو واضح کیا ہے کہ وہ مجسمہ اطاعت ہوتا ہے ، اس کا ہر ارادہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ماتحت ہوتا ہے ، اور وہ دنیا کی دلفریبیوں پر نہیں ریجھتا ، وہ جنت ومغفرت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا ،
مغفرت کے معنی مختلف آئے ہیں ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس سے مراد اسلام ہے ، حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ اس سے مقصود ادائے فرائض ہے ، حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں ، پانچ نمازیں ہیں ، سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں ، تکبیر اعلی سے تعبیر ہے ۔
مگر لفظ کی وسعتیں کسی تخصیص کی متحمل نہیں ، ان اقوال میں بھی تضاد نہیں ، ان بزرگوں نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق جس طرز عمل کو زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
ف 1 اور اے مسلمانو ! اس آگ سے بچو جو دراصل کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے اور دیکھو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور خوشی سے ان کے احکام بجا لایا کرو توقع ہے کہ تم دنیا اور آخرت میں رحم کئے جائو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی دنیا میں ذلت و رسوائی سے اور قیامت میں دوزخ سے بچا سکتی ہے لہٰذا ایمان لانے کے بعد اللہ اور رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو پہلی آیت میں دوزخ سے بچنے کا حکم تھا دوسری آیت میں اس کا علاج ہے اب آگے جنت کی ترغیب اور تقویٰ کی تاکید ہے۔ (تسہیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
ف 5۔ مطلب یہ کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کردیں اور تم کو جنت عنایت ہو۔
Read the full tafseer →اطاعت رسول ﷺ ہی رحمت کا باعث ہے :
اس آیت نے رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ انسانوں پر واضح کردیا اور صدر اول کے مسلمانوں کی کامیابیوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ قرآن کریم کی اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے جس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ رحمت الٰہی کے حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی و جروری ہے اسی طرح خود نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں جن لوگوں نے آپ ﷺ کی صحیح معنوں میں فرمنابرداری کی ان کو بام عروج پر پہنچا کر دنیا پر یہ بات عملاً ثابت کردی گئی اور پھر مسلمان کہلانے والوں نے بھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو چھوڑ دیا تو اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ان کو اسی بام عروج سے…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verse, Muslims were commanded to abstain from interest-based dealings, a sin which deprives them of the quality of Taqwa, (the fear of Allah, the sense of responsibility before Him).
The present verses stress the positive aspects of Taqwa and complement the earlier subject along with the promise of reward for those who observe it. Worth remembering throughout one's life is the second point which will serve him well if taken as the guiding light and the constant orientation. Allah Almighty has made it clear in these verses that the obedience to Allah and His…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
99. The existence of interest in a society generates two kinds of moral disease. It breeds greed and avarice, meanness and selfishness among those who receive interest. At the same time, those who have to pay interest develop strong feelings of hatred, resentment, spite and jealousy. God intimates to the believers that the attributes bred by the spread of interest are the exact opposite of those which develop as a result of spending in the way of God, and that it is through the latter rather than the former that man can achieve God's forgiveness and Paradise. (For further explanation see…
Read the full tafseer →