Aal-i-Imraan 3:134

Aal-i-Imraan · from ayah 134

3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ؕ— وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۟ۚالَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who spend [in the cause of Allah] during ease and hardship and who restrain anger and who pardon the people - and Allah loves the doers of good;

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 14 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:134

جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو خوشحالی اور تنگ دستی (ہر حال) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ ایسے ہی نیک لوگوں سے اللہ محبت رکھتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں کے لیے جو کشادگی اور تنگی ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں، غصہ کو ضبط کرنے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو خرچ کرتے ہیں (اپنے مال اللہ کی رضا کیلئے) خوشی میں بھی، اور تنگی میں بھی، اور جو پی جاتے اپنے غصے کو، اور جو عفو (درگزر سے) کام لیتے ہیں لوگوں سے (ان کی خطاؤں اور تقصیرات پر) اور اللہ (پسند فرماتا اور) محبت رکھتا ہے ایسے نیکو کاروں سے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ وہ لوگ ہیں جو فراغت اور تنگی (دونوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور وہ اپنے غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے محسنین کو پسند کرتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ (ان لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے) جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصہ کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں، ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who spend in the way of Allah both in plenty and hardship, who restrain their anger, and forgive others. Allah loves such good-doers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__the ones who spend (for Allah‘s sake) in prosperity and adversity, and those who control anger and forgive people. And Allah loves those who are good in their deeds,

— Muhammad Taqi Usmani

__the ones who spend (for Allah‘s sake) in prosperity and adversity, and those who control anger and forgive people. And Allah loves those who are good in their deeds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who spend (in Allah's cause) in prosperity and in adversity, who repress anger, and who pardon men; verily, Allah loves the Muhsinin (the good-doers).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who spend (of that which Allah hath given them) in ease and in adversity, those who control their wrath and are forgiving toward mankind; Allah loveth the good;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who spend [in the cause of Allah] during ease and hardship and who restrain anger and who pardon the people - and Allah loves the doers of good;

— Saheeh International

who spend their property for the cause of God in prosperity as well as in adversity and who also harness their anger and forgive the people. God loves the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

Those who spend (benevolently) in ease as well as in straitness, and those who restrain (their) anger and pardon men; and Allah loves the doers of good (to others).

— Muhammad Habib Shakir

Those who expend in weal and woe, and the repressors of rage and the pardoners of men; and Allah loveth the doers of good.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who spend (freely), whether in prosperity, or in adversity; who restrain anger, and pardon (all) men;- for Allah loves those who do good;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:134

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 130–136

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 131–134

سورة اٰلِ عِمْرٰن 99 سود خواری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی۔ اور سود دینے والوں میں نفرت، غصہ اور بغض و حسد۔ احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ سود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کے بالکل برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں، اور اللہ کی بخشش اور اس کی جنت اسی دوسری قسم کے اوصاف سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ پہلی قسم کے اوصاف سے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ایسے لوگ (ہیں) جو کہ (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں (ہر حال میں) فراغت میں (بھی) اور تنگی میں (بھی) اور غصہ کے ضبط کرنے والے اور لوگوں (کی تقصیرات) سے درگزر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کو (جن میں یہ خصال ہوں بوجہ اکمل) محبوب رکھتا ہے اور (ایک ان مذکورین کے اعتبار سے دوسرے درجہ کے مسلمان) ایسے لوگ (ہیں) کہ جب کوئی ایسا کام کر گزرتے ہیں جس میں (دوسروں پر) زیادتی ہو یا (کوئی گناہ کر کے خاص) اپنی ذات کا نقصان کرتے ہیں تو (فورا) اللہ تعالیٰ (کی عظمت اور عذاب) کو یاد کرلیتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، (یعنی اس طریقہ سے جو معافی کے لئے مقرر ہے کہ دوسروں پر زیادتی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ الایہ میں اس انفاق کی بعض وہ خصوصیات بیان کردی گئی ہیں جن کے اہتمام کے بغیر نہ تو انفاق کا حق ادا ہوتا ہے اور نہ اس انفاق کو احسان کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان خصوصیات پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں غصہ کو دبانے اور لوگوں سے درگزر کرنے کی جو تاکید ہے اس کا خاص پہلو ہے۔ اس کی توجیہ آیات 262۔ 265 بقرہ کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

134۔ 1 محض خوش حالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہی کہ ہر حال اور ہر موقع پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ 134۔ 2 یعنی جب غصہ انہیں بھڑکاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں یعنی اس پر عمل نہیں کرتے اور ان کو معاف کردیتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 131–139

45: جنگ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر انداز صحابہ کا ایک دستہ میدان جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے، جب دشمن پسپا ہوا اور میدان جنگ خالی ہوگیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر اکھٹا کرنا شروع کردیا، تیر اندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہوچکی ہے اور ہمیں مال غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے، ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں اس صفت کی طرف یہاں اشارہ ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے ۔ اس معرکے کے دوران بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید کی جاتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ داروں پر بھی تنقید کی جاتی ہے جو انفاق فی سبیل اللہ سے کنی کتراتے ہیں ۔ اس نکتہ کی تفصیلات نصوص کی تفسیر کے دوران بیان ہوں گی۔ معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں انفاق کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ اور یہاں اس کا بار بار ذکر اس لئے ہوا کہ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دعوت اسلامی کے بعض کارکنوں کا موقف اس کا متقاضی تھا۔ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ……………” جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی نہ عیش و خوشی میں خدا کو بھولتے ہیں نہ تنگی و تکلیف کے وقت خرچ کرنے سے جان چراتے ہیں۔ ہر موقع پر اور ہر حال میں حسب مقدرت خرچ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ سود خوروں کی طرح بخیل اور پیسہ کے پجاری نہیں۔ گویا جانی جہاد کے ساتھ مالی جہاد بھی کرتے ہیں۔ 12 غصہ کو پی جانا ہی بڑا کمال ہے اس پر مزید یہ کہ لوگوں کی زیادتی یا غلطیوں کو بالکل معاف کردیتے ہیں، اور نہ صرف معاف کرتے ہیں، بلکہ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں۔ غالبا پہلے جن لوگوں کی نسبت بددعا کرنے سے روکا تھا، یہاں ان کے متعلق غصہ دبانے اور عفو و در گزر سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز جن بعض صحابہ نے جنگ احد میں عدول حکمی کی تھی، یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 134 الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ یہاں بھی تقابل ملاحظہ کیجیے کہ سود کے مقابلے میں انفاق کا ذکر ہوا ہے۔ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یہ درجۂ احسان ہے ‘ جو اسلام اور ایمان کے بعد کا درجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

119 اگر قرآنی آیات کی ترتیب پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر کہیں دوزخ کا ذکر فرمایا تو اس کے ساتھ ہی جنت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس بھی اسی طرح اگر کہیں اسباب دخول دوزخ کا ذکر فرمایا تو اسی مناسبت سے اسباب دخول جنت کا ذکر فرما دیا اور اس کے برعکس بھی۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ سود خواری، جو دوزخ میں دخول کا سبب ہے، کے بعد جنت اور اس میں داخل ہونے والے پرہیزگاروں کی چند صفات کا ذکر فرمایا۔ ان میں سب سے پہلی صفت انفاق فی سبیل اللہ ہے جو سود خوری کی عین ضد اور معاشرہ پر اس کے اثرات سود کے اثرات کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً سود خوری سے سود خوار میں حرص و طمع، بخل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

268 ۔ آرنلڈ وغیرہ فرنگی فاضلوں نے کہا ہے کہ عرب جیسی تندخو، جنگجو، جدل پیشہ قوم کے سامنے حلم وضبط، صلح ا آشتی کے ایسے معیار پیش کرنا، اور پھر اس تعلیم کو کامیاب بنانا بجائے خود ایک اعجاز ہے۔ (آیت) ” ینفقون “۔ یعنی راہ حق میں، دین کی خدمات میں خرچ کرتے رہتے ہیں، مطلق خرچ کرتے رہنا، چاہے کیسے ہی بیہودہ مقاصد کے لیے ہو، ظاہر ہے کہ شریعت میں ہرگز پسندیدہ نہیں، (آیت) ” فی السرآء والضرآء “۔ یعنی ہر حال اور ہر صورت میں دین اور امت کی مالی ضرورتوں سے متعلق خرچ کرتے ہیں، یہ نہیں کہ خوش حال ہوئے تو مسرفانہ عیش پرستیوں میں پڑکر نیک کاموں سے ہاتھ ہی روک لیا یا تنگدست ہوئے تو ناشکری میں آکر اپنی بساط بھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 131–134

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ محض خوشحالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں یعنی ہرحال اور ہر موقع پر خرچ کرتے ہیں، اور انتقام پر قدرت ہونے کے باوجود زیادتی کو معاف کردیتے ہیں اور غصہ کو ضبط کر جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین ینفقون فی السراء والضراء السَّرَّاء وہ مسرت جو مالدار ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ الضَّرائمال کی کمی۔ (قاموس) یعنی وہ لوگ جو کسی حالت میں راہ خدا میں خرچ کرنے سے باز نہیں رہتے تھوڑا بہت جو کچھ میسر ہو ہر حال میں راہ خدا میں دیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ من جملہ ان اوصاف کے جو اہل تقویٰ کو مستحق جنت بناتے ہیں سب سے اوّل سخاوت کا ذکر اس آیت میں کیا ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : سخی اللہ سے قرب رکھنے والا ہے، جنت سے قرب رکھنے والا ہے، لوگوں سے قرب رکھنے والا ہے، دوزخ سے دور رہنے والا ہے جبکہ کنجوس اللہ سے دور جنت سے دور لوگوں سے دور اور دوزخ سے قریب ہے۔ جاہل سخی عابد بخیل سے اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(134) اب اللہ تعالیٰ ایسے حضرات کی صفات بیان فرماتے ہیں کہ جو حضرات تنگی اور خوشحالی میں اپنے اموال کو راہ اللہ میں خرچ کرتے ہیں، اور غصہ کے جوش وہیجان کو ضبط کرتے ہیں اور غلاموں کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ۔۔ : ان آیات میں اہل جنت کی صفات کا ذکر ہے، چناچہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ خوش حالی اور تنگ دستی ہر حالت میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کاموں اور رضائے الٰہی کے لیے مال صرف کرنے سے انھیں کوئی چیز غافل نہیں کرتی۔ (ابن کثیر) وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظ۔۔ : ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کے بجائے اس پر قابو پالیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پہلوان وہ نہیں جو پچھاڑ دینے والا ہو، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب : 6114، عن أبی ہریرۃ ؓ ] ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 134۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین ینفقون “۔ یہ ان متقین کی صفت ہے جن کے لئے جنت تیار کی گئی ہے اور ظاہر آیت یہ ہے کہ یہ فعل مندوب الیہ کے ساتھ مدح اور تعریف ہے اور السرآء کا معنی آسانی اور والضرآء کا معنی تنگی ہے۔ اور ابن عباس، کلبی اور مقاتل رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے اور عبید بن عمیر اور ضحاک نے کہا ہے کہ ” السرآء “۔ اور الضرآء “ کا معنی خوشحالی اور تنگ دستی ہے، اور صحت وبیماری کی حالت میں بھی یہی کہا جاتا ہے، اور یہ قول بھی ہے کہ ” فی السرآء “ کا معنی ہے زندگی میں اور ” فی الضراء “ سے مراد وہ ہے جس کی وہ موت کے بعد وصیت کرتا ہے، اور یہ بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ یعنی وہ لوگ تنگی میں اور کشادگی میں خرچ کرتے ہیں لفظ آیت ” والکظمین الغیظ “ یعنی پی جانے والے ہیں غصہ کو جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذا ما غضبوا ہم یغفرون “ یعنی اگر وہ کسی کام کے بارے میں غصہ مبتلا ہوجاتے ہیں جو حرام ہوتا ہے تو وہ بخش دیتے ہیں اور (لوگوں کو) معاف کردیتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو تلاش کرتے ہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والعافین عن الناس “ وہ لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا یاتل اولو الفضل منکم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [فِی السَّرَّآئِ : خوشی میں ] [وَالضَّرَّآئِ : اور تکالیف میں ] [وَالْکٰظِمِیْنَ : اور جو روکنے والے ہیں ] [الْغَیْظَ : غیظ کو ] [وَالْعَافِیْنَ : اور جو درگزر کرنے والے ہیں ] [عَنِ النَّاسِ : لوگوں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا : اول اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ (الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) (یہ حضرات خرچ کرتے ہیں تکلیف میں بھی اور خوشی میں بھی) اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔ ہر حال میں خرچ کرتے رہنا چاہیے ایک ہزار روپے میں جو ایک روپے کی حیثیت مالدار کے لیے ہے وہی حیثیت ایک روپے میں سے ایک پیسے کی غریب آدمی کے لیے ہے۔ جن کو اللہ کے لیے خرچ کرنے کا ذوق ہے وہ تنگدستی میں بھی خرچ کرتے ہیں جس کی تعریف فرماتے ہوئے سورة حشر میں فرمایا ہے (وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ) (کہ وہ اپنے نفسوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–136

ترہیب وتحذیر از نار آخرت وترغیب براعمال جنت۔ قال اللہ تعالی۔ یا ایھا الذین امنو لا تاکلو۔۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ العالمین۔ (ربط) ظاہر میں ان آیات کا ماقبل سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جداگانہ اور مستقل کلام ہے جس میں اللہ نے امرونہی اور ترغیب وترہیب کو جمع کیا ہے مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کو بیان فرمایا ہے اور بعض علماء نے ان آیات کا ماقبل کے ساتھ اتصال اور ربط بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں صبر اور تقوی کا حکم تھا اور کفار کے ساتھ دوستی اور خلط ملط اور ان کو راز دار بنانے کی ممانعت تھی اب ان آیات میں پھر صبر اور تقوی کو بیان کرتے ہیں کہ صبر اور تقوی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

201 یہ اَلْمُتَّقِیْنَ کی نعت ہے اور فریق اعلیٰ کی پہلی صفت ہے اس میں ترغیب الی الانفاق کا پہلی بار اعادہ کیا گیا ہے۔ ظرف یُنْفِقُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور سَرَّاء سے فراخی اور ضَرَّاء سے تنگدستی مراد ہے۔ عن ابن عباس فی العسر والیسر (ابن جریر ص 57 ج 4) یعنی وہ ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خواہ دولت مند ہوں یا مفلوک الحال ہوں۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ یہ فریق اعلیٰ کی دوسری صفت ہے۔ کظم الغیظ کے معنی غصہ پی جانے اور ضطب کرنے کے ہیں یعنی وہ لوگ غصے کی حالت میں مغلوب الغضب نہیں ہوجاتے بلکہ غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر قابو پالیتے ہیں اور اس کو عملی جامہ نہیں پہناتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 130–134

گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کا ذکر فرمایا۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی تسلی کے لیے غزوہ بدر کا تذکرہ بھی ہوا۔ کہ اس جنگ میں اللہ نے اپنی خاص مہربانی سے اہل ایمان کے اطمینان اور بشارت کے لیے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ مگر غزوہ احد میں مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگئی تھی لہذا اس میں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر احد کی جنگ میں شریک ہونے والے مشرکین کے حق میں بد دعا کرنے سے اللہ نے منع فرما دیا۔ بدر میں کامیابی کا راز بتایا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا۔ اور صبر اور تقوی کو اختیار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ کامیابی عطا فرمائی۔ ان غزوات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۝ 0 ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 134 ۚ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–136

ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 133–134

وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ ج (اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے) (133 تا 134) ایک مومن کا اصل ہدف اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 131–134

فہم القرآن ربط کلام : سود اور جہنم سے بچنے کا حکم، جنت اور صدقہ کی ترغیب دینے کے بعد جنّتیوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں جنتیوں کے چھ اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 یہ لوگ عسر ویسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ 2 طیش اور غضب کی حالت میں اپنے آپ پر ضبط رکھتے ہیں۔ 3 ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ معافی کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں۔ 4 جب ان سے بری حرکت یا گناہ کی صورت میں اپنے آپ پر زیادتی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس، اس کے عذاب کا خوف اور اس کی ذات کبریا کا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں۔ 5 اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی گناہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 133–134

مسارعت مغفرت و جنت : 133۔ 134: وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآ ئِ وَالضَّرَّآ ئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (اور تم تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف) مدنی اور شامی نے وائو کے بغیر سَارِعُوْٓا پڑھا ہے اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ دیگر قراء نے وائو کو قائم رکھ کر ماقبل پر عطف کیا ہے۔ المسارعۃ الی المغفرۃ والجنۃ کا مطلب ایسے اعمال کی طرف متوجہ ہونا جو ان دونوں تک لے جانے والے ہوں۔ پھر ان اعمال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

134۔ (آیت)” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ آسانی اور تنگی میں ، مؤمنین کے پہلے اوصاف جو جنت کو واجب کردیتے ہیں وہ سخاوت ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سخی اللہ کے قریب ہے جنت کے قریب ہے لوگوں کے قریب ہے اور آگ سے بعید ہے اور بخیل اللہ سے دور ، جنت سے دور لوگوں سے دور ، آگ کے قریب ہے اور جاہل سخی اللہ کے ہاں محبوب ہے عابد بخیل سے ۔ (آیت)” والکاظمین الغیظ “ بھر بھر کر غصہ آنے کے باوجود اپنے نفس کو روکنے والا کظم کہا جاتا ہے کسی چیز کو روکنا اس کے بھرپور ہونے کے بعد ” کظم الغیظ “ کہا جاتا ہے غصہ کی وجہ سے انسان کو بھر پور ہوجانا پھر اس کو روک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 130–134

(130 ۔ 134) ۔ احد کی لڑائی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سود کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اسی لڑائی میں ایک بڑا موقع لین دین کا پیش آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے جاتے اپنے ساتھ کے مشرکین سے ابو سفیان نے کہا کہ مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لایا اور ان کے سرگروہ رسول وقت کو اور بقیہ مسلمانوں کو ناحق زندہ چھوڑ آیا۔ اس کا مجھ کو بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت کو پہنچی۔ آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز لڑائی میں جو لوگ گئے وہی لوگ آج پھر مشرکین کے تعاقب میں چلیں۔ اگرچہ لوگ زخمی تھکے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں فورًا اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی جس تعمیل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 131–137

آیت 131-136 اس تفسیر کے مقدمہ میں گزر چکا ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات میں اور دوسروں میں اوامرو نواہی کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو سب سے پہلے بندہ مومن پر یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی حدود کو پہچانے کہ وہ کیا چیز ہے جس پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم کی اطاعت کرسکے۔ جب اسے اس حکم کی حدود کی معرفت حاصل ہوجائے تو اپنی طاقت اور امکان بھر اپنی ذات اور دوسروں پر اس حکم کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ اسی طرح جب اسے کسی امر سے روک دیا جائے تو وہ اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے کہ کیا چیز اس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

غصہ پی جانا اور لوگوں سے درگزرکرنا پسند یدہ اعمال ہیں قول باری ہے (الذین ینفقون فی السّراء والضرّاء والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس، جو ہر حال میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصورمعاف کردیتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے (فی السرّاء والضّراء) کی تفسیر میں فرمایا تنگ دستی اور فراخی میں یعنی مال کی قلت اور کثرت دونوں حالتوں میں، ایک قول ہے کہ خوشی اور غم دونوں حالتوں میں وہ اپنامال نیکی کی راہوں میں خرچ کرتے ہیں کوئی حالت انھیں انفاق سے باز نہیں رکھ سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تنگدستی اور فراخی دونوں حالتوں میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

270 راہ خدا میں ہر حال میں خرچ کرنے کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جنت ان خوش نصیبوں کے لیے ہوگی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں خوشی میں بھی اور تنگی میں بھی۔ یعنی وہ ہر حال میں خرچ کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل مقصود رضائے خداوندی کا حصول اور جنت کی حقیقی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی وفائز المرامی ہی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی اصل مطلوب ہے جتنا بھی ممکن ہوسکے۔ چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقّ تَمْرَۃٍ " (المراغی وغیرہ) ۔ یعنی تم لوگ دوزخ کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے ممکن ہو اور سائل کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 134–136

نیک لوگوں کی صفات تشریح : پچھلی آیات میں جنت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک اور صالح لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے ان آیات میں نیک اور صالح انسانوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ متقی انسان کی صفات یہ ہیں۔ -1 وہ امیر ہوں یا غریب، خوشحال ہوں یا تنگ حال اپنا مال اور طاقت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ -2 غصہ پی جاتے ہیں اور قوی تر شخص وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو پالے۔ -3 وہ خطا کرنے والے کو معاف کردیتے ہیں وہ جانتے ہیں اللہ معاف کرنیوالا ہے اور وہ معاف کرنے والوں کو بےحد پسند کرتا ہے۔ -4 وہ احسان کرکے جتاتے نہیں۔ -5 اگر وہ بھول کر کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لیتے ہیں۔ -6 جانتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–143

آیات 130- 143 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا لا تاکلوالربو……………اعدت للکفرین۔ توکل : نیز توکل کا اطلاق مومن کے جملہ کردار پر ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے اپنائو ! کہ میدان میں لڑنا جہاد اصغر ہے اور پوری عمر اپنی خواہشات کو مرضیات باری کے تابع رکھنا جہاد اکبر ہے کہ مسلسل اور طویل جنگ ہے۔ زندگی میں عموماً حصول رزق ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد انسانی کوششیں گردش کرتی ہیں اس میں حلال و حرام کی تمیز اور حصول رزق کے جائز ذرائع اختیار کرنا اصل کام ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ سود کو قطعی طور پر چھوڑ دو اور دوگنا چوگنا کرکے اگرچہ بہت زیادہ آمدن کا امکان ہے مگر حرام ہو کر خلاف تقویٰ ہے۔ نیز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اب ان آیات میں اہل کتاب میں اہل جنت کی صفات کا ذکر ہے چناچہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ خوشحالی اور تنگدستی ہر حالت میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کا موں اور رضائے الہٰی کے لیے مال صرف کرنے سے انہیں کوئی چیز غافل نہیں کرتے3 اب ان آیات میں اہل جنت کی صفات کا ذر کر ہے چناچہ ان کی پہلی صفات یہ ہے کہ خوشحالی اور تنگدستی ہر حالت میں وہ اپنی استعاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کاموں اور رضائے الہٰی کے لیے مال صرف کرنے سے انہیں کوئی چیز غافل نہیں کرتی۔ (ابن کثیر ) 4 ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کی بجائے اس پر قابو پالیتے ہیں کہ۔۔ ایک روایت میں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:134) السرائ۔ خوشی ۔ خوشحالی۔ الضراء کا متضاد۔ الضرائ۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ مرض۔ بیماری۔ مصیبت۔ کا ظمین۔ کا ظم کی جمع ہے کظم۔ کظوم۔ مصدر۔ (ضرب) غصہ روکنے والے غصہ پی جانے والے۔ کظوم۔ وہ اونٹ جس نے جگالی کرنی چھوڑ دی ہو کظم السقاء اس نے پانی بھر کر مشک کا منہ باندھ دیا۔ کظم الباب اس نے دروازہ میں قفل لگا دیا۔ العافین۔ عفاعن۔ معاف کرنا۔ عفو سے۔ معاف کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–138

لغات القرآن آیت نمبر 130 تا 138 اضعافاً (دوگنا) مضاعفة (دوگنے سے بھی زیادہ) سارعوا (تم دوڑو) عرضھا (اس کا پھیلاؤ) السرآء (خوشی، راحت) الضراء (تکالیف، پریشانیاں) الکاظمین (برداشت کرنے والے، پی جانے والے) العافین (معاف کردینے والے) فاحشة (بےحیائی) ظلموا انفسھم (اپنے نفسوں پر ظلم و زیادتی کی) لم یصروا (ضد نہیں کرتے) علیٰ مافعلوا (اس پر جو انہوں نے کیا) نعم (بہترین) اجرالعٰلمین (کام کرنے والوں کا بدلہ) سنن (طریقے) سیروا (تم چلوپھرو) عاقبة (انجام) بیان (وضاحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 130 تا 138 گذشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ صبر وتقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اور اس آیت میں غصہ کو ٹال جانے کا جو ذکر ہے اس کی نسبت امام مسند احمد بن حنبل وغیرہ میں روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو غصہ آوے اور باوجود طاقت بدلہ لینے کے وہ اپنے غصہ کو پی جاوے اور بدلہ نہ لیوے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اختیار دیوے گا کہ جنت کی جس حور کو وہ چاہے پسند کرلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 130–139

[47] جنگ احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس لئے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لئے زر پرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے اندر حرص بیحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں سود خوروں کیخلاف نفرت و غصہ اور بغض۔ احد کی شکست میں ان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 132–135

(ف 1) ان آیات میں مسلمان کے نصب العین کو واضح کیا ہے کہ وہ مجسمہ اطاعت ہوتا ہے ، اس کا ہر ارادہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ماتحت ہوتا ہے ، اور وہ دنیا کی دلفریبیوں پر نہیں ریجھتا ، وہ جنت ومغفرت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا ، مغفرت کے معنی مختلف آئے ہیں ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس سے مراد اسلام ہے ، حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ اس سے مقصود ادائے فرائض ہے ، حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں ، پانچ نمازیں ہیں ، سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں ، تکبیر اعلی سے تعبیر ہے ۔ مگر لفظ کی وسعتیں کسی تخصیص کی متحمل نہیں ، ان اقوال میں بھی تضاد نہیں ، ان بزرگوں نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق جس طرز عمل کو زیادہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جلدی جلدی چلو اور دوڑو جس کی وسعت اور پھیلائو ایسا ہے جیسے سب آسمان و زمین کا پھیلائو وہ جنت اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے یہ خدا سے ڈرنے والے وہ لوگ ہیں جو خوشحالی اور تنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور خیرات کیا کرتے ہیں خواہ عیش اور فارغ البالی کی حالت میں ہوں یا تنگ دستی اور پریشانی میں مبتلا ہوں اور وہ غصہ کے ضبط کرنے والے اور لوگوں کی تقصیرات سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ ایسے نیک کرداروں اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بہت پسند فرماتاے۔ اوپر کی آیتوں میں سود کھانے کی ممانعت فرمائی تھی پھر منہیات سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 134–143

ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے فی سبیل اللہ مال خرچ کرتے ہیں : 247: ان متقی انسانوں کا پہلا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ وہ جس حال میں بھی ہوں تنگ دست ہوں یا خوشحال وہ اپنی بساط کے مطابق خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے سے ان کی مراد کسی دوسرے کی خوشنودگی ہرگز نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مطلوب رضائے الٰہی ہوتا ہے۔ ہاں ! رضائے الٰہی کو حاصل کرنے والے سخی لوگ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ” سخی اللہ سے قرب رکھنے والا ہے۔ جنت سے قرب رکھنے والا ہے۔ لوگوں سے قرب رکھنے والا ہے۔ اور دوزخ سے دور رہنے والا ہے اور کنجوس اللہ سے دور رہنے والا ہے۔ لوگوں سے دور رہنے والا اور دوزخ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary God-fearing Muslims can be identified by the traits of their character and the marks of their manner. So many benefits lie hidden behind their example and practice. This is the subject of the present verses. Allah Almighty has made God-fearing Muslims to live as models for others. For instance, the Holy Qur'an has, at so many places, emphasised the need to seek guidance and benefit from the company of the men of Allah. The verse: صِرَ‌اطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (the path of those whom You have blessed - 1:6) from Surah al-Fatihah clearly indicates that the straight and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 131–134

99. The existence of interest in a society generates two kinds of moral disease. It breeds greed and avarice, meanness and selfishness among those who receive interest. At the same time, those who have to pay interest develop strong feelings of hatred, resentment, spite and jealousy. God intimates to the believers that the attributes bred by the spread of interest are the exact opposite of those which develop as a result of spending in the way of God, and that it is through the latter rather than the former that man can achieve God's forgiveness and Paradise. (For further explanation see…

Read the full tafseer →