Ash-Shu'araa 26:99

Ash-Shu'araa · from ayah 99

26:99

وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ ۟وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ

اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And no one misguided us except the criminals.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:99

اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہمیں تو ان بڑے بڑے مجرموں نے ہی گمراہ کیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہمیں مجرموں نے اس گمراہی میں ڈالا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم کو تو بس مجرموں نے گمراہ کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہمیں گمراہی کے اس گڑھے میں نہیں ڈالا مگر ان بڑے مجرموں نے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم کو تو بس ان (بڑے) مجرموں نے گمراہ کیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں گمراہ کیا ہمیں لیکن ان مجرموں نے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is none but those steeped in guilt who led us into this error,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and it is only the sinners who misguided us.

— Muhammad Taqi Usmani

and it is only the sinners who misguided us.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And none has brought us into error except the criminals."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And no one misguided us except the criminals.

— Saheeh International

Only the sinful ones made us go astray.

— Muhammad Sarwar

And none but the guilty led us astray;

— Muhammad Habib Shakir

And none led us astray except the Culprits.

— Abdul Majid Daryabadi

"'And our seducers were only those who were steeped in guilt.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–104

نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 95–99

سورة الشُّعَرَآء 69 یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہوگی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے، جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے، جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آئے ہیں اور ہمیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–104

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 99–102

آیت 102-99 پیروئوں کا ماتم اپنی بدبختی پر اوپر والی بات تو پیرو اپنے لیڈروں کو مخطاب کر کے کہیں گے اور یہ باتیں وہ نہایت حسرت واندوہ کے ساتھ خود اپنے آپ کو ملامت اور پانی بدبختی پر ماتم کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا۔ اگر یہ نہ گمراہ کرتے تو ہم ہدایت پر ہوتے اور یہ روز بد نہ دیکھتے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ مجرمون وہ اپنے لڈیروں کے لئیاستعمال کریں گے۔ فمالنا من شافعین ولا صدیق حمیم یہ اظہار حسرت کے الفاظ ہیں یعنی جن کی شفاعت کی امید پر زندگی بھر ان کی پرستش کی وہ بھی سب ہوا ہوگئے اور جن کا عمر بھر جھنڈا اٹھائے پھرے ان میں سے بھی آج کوئی ہماری حمایت و مدافعت کے لئے نظر نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

99-1یعنی وہاں جا کر احساس ہوگا کہ ہمیں دوسرے مجرموں نے گمراہ کیا۔ دنیا میں انھیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کام گمراہی ہے۔ بدعت ہے شرک ہے تو نہیں مانتے نہ غور وفکر سے کام لیتے ہیں کہ حق و باطل ان پر واضح ہو سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–101

20: مجرموں سے یہاں مراد وہ بڑے بڑے سردار ہیں جو کفر پر قائم رہے، اور انہیں دیکھ کر دوسروں نے بھی کفر اختیار کیے رکھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–102

وازلفت ……من المومنین (98) جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 94–101

1 یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کردیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–105

اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 99–102

69 مجرموں اور جہنمیوں کے اس قول اور اس آرزو کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار آیا ہے اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی مذکور ہے۔ یعنی ان کو اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کام کریں گے جیسے پہلے کرتے رہے ہیں (16: 28 ( کیونکہ انسان کی تو عادت ہی یہ ہے کہ مشکل کے وقت جب جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو بعد میں وہ پھر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے معبودوں کو ہی پکارنے لگ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 97–101

69۔ (جو رہائی دلانا تو خیر دور رہا، کم ازکم ایسا ہی ہوتا کہ خالی ہمدردی ودلسوزی ہی کی بات کرلے) ان الفاظ میں اہل دوزخ کی بےبسی کا پورا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما اضلنا الا المجرمون۔ اور ہم کو تو بس مجرموں نے گمراہ کیا۔ مقاتل نے کہا المجرمون سے مراد ہیں شیاطین۔ کلبی نے کہا گمراہ اسلاف مراد ہیں جن کی تقلید ان کافروں نے کی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 98–99

(98۔ 99) جب کہ تمہیں کو عبادت میں رب العالمین کے برابر کرتے تھے اور ہمیں تو بس ایمان اور اطاعت سے ان سے بڑے مشرکین نے ہٹایا ہے جو ہم سے پہلے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کی پیروی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَضَلَّنَآ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ : ان مجرموں سے مراد وہ سردار اور و ڈیرے ہیں جنھوں نے انھیں گمراہ کیا تھا۔ پیروکاروں اور معتقدوں کی طرف سے انھی لوگوں کو نشانۂ ملامت بنایا جا رہا ہوگا جنھیں وہ دنیا میں اپنا پیشوا اور بزرگ مانتے تھے، ان کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے، ان کی نذریں نیازیں چڑھاتے تھے، قیامت کو جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہوگا کہ آگے چلنے والے ہمیں کہاں لے آئے اور خود کہاں ہیں تو یہی پیروکار انھیں مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت کریں گے۔ قرآن نے کئی مقامات پر یہ نقشہ کھینچا ہے، تاکہ لوگ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہ چلیں اور تقلید کے بجائے تحقیق سے کام لیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–99

(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380 وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 99–104

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فما لنا من شافعین “ سے مراد کہ نہ آسمان والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنے والا اور آیت ” ولا صدیق حمیم “ اور نہ زمین والوں میں سے کوئی غمخوار دوست ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا صدیق حمیم “ سے مراد ہے کوئی دوست شفقت کرنے والا نہیں ہے جو سفارش کرے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فلو ان لنا کرۃ “ یعنی اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کی طرف آیت ” فنکون من المؤمنین “ تو ہم ایمان والے ہوتے یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی سفارش حلال ہوجاتی جیسے ان مومنین کے لیے حلال ہوئی واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَآ اَضَلَّنَآ [ اور گمراہ نہیں کیا ہم کو ] اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ [ مگر مجرموں نے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–105

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 95–99

41:۔ افسوس جن کو دنیا میں ہم خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے آج ان میں سے کوئی بھی ہماری سفارش نہیں کر رہا اور نہ کوئی دوست کام آتا نظر آرہا ہے۔ ” فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم من الذین کنا نعدھم شفعاء واصدقاء لانھم کانوا یعتقدون فی اصنامہم انھم شفعاءھم عند اللہ تعالیٰ وکان لھم اصدقاء من شیاطین الجن (کبیر ج 6 ص 532) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–104

ربط آیات اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَضَلَّنَآ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ۝ 99 جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ(…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 95–105

ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔ تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 96–99

قَالُوْا وَھُمْ فِیْھَا یَخْتَصِمُوْنَ ۔ تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَمَـآ اَضَلَّـنَـآ اِلاَّ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (الشعرآء : 96 تا 99) (وہ اہل جہنم آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ خدا کی قسم، ہم کھلی گمراہی میں گرفتار تھے۔ جبکہ تم کو خداوندِعالم کا ہمسر ٹھہر اتے رہے۔ اور نہیں گمراہ کیا ہمیں مگر ان مجرموں نے۔ ) اختصام کے معنی آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ہیں۔ لیڈروں اور پیروکاروں میں جھگڑا قرآن کریم نے اور بھی بعض مواقع پر اہل جہنم کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا ہے کہ جہنم میں جب وہ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کی پیروی نے ان کو برباد کیا اور جنھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–102

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا انتہائی مایوسی کے عالم میں دنیا میں پلٹ جانے کا مطالبہ کرنا : جہنمی جب جہنم میں اپنے بڑوں اور معبودوں کے ساتھ جھگڑا کریں گے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ خواہ مخواہ ہم پر الزام لگاتے ہو تم تو خود گمراہ تھے۔ (الصّٰفٰت : 32) برے مرید، ور کرر اور مقتدی حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن کو ہم سفارشی سمجھتے رہے آج ہمارے لیے سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جن کو ہم اپنا بہی خواہ اور مخلص سمجھتے تھے آج کوئی خیر خواہی اور بھائی چارہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کاش ! ہمیں ایک بار دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر ایک رب پر ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

99: وَمَآ اَضَلَّنَآ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ (اور ہمیں مجرمین نے گمراہ کیا) یعنی ان کے وہ رؤساء جنہوں نے ان کو گمراہ کیا۔ نمبر 2۔ ابلیس اور اس کا لشکر اور جنہوں نے شرک کی بنیاد ڈالی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

99۔ ومااضلنا ، انہوں نے توہ میں گمراہی کی طرف مائل کیا۔ ” الاالمجرمون، مقاتل کا بیان ہے کہ ، المجرمون، سے مراد شیاطین کلبی کا بیان ہے کہ اس سے گمراہ اسلاف مراد ہیں جن کی تقلید ان کافروں نے کی تھی۔ ابوالعالیہ اور عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے اور ابن آدم کا پہلا بیٹا قابیل ہے۔ کیونکہ اس نے قتل کو ایجاد کیا تھا، اور دوسرے گناہوں کا بھی ارتکاب کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–101

(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 99–103

58 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کی اس سرگزشت اور ان کی اپنی قوم کے ساتھ اس مدلل کلام میں بڑی بھاری نشانی ہے جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور یہ ایسی ٹھوس اور واضح حقیقت ہے جو عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس قصہ میں عقل و فکر کے دریچوں کو وا کرنے والی بڑی بھاری نشان ہے جو واضح کرتی ہے کہ توحید خداوندی ہی اصل دین ہے جو عقل و فطرت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 99–100

9 ۔ یعنی جن جن کو ہم دنیا میں اپنا سفارشی سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ان کا دامن تھام لیں گے تو ہمارا بیڑا پار ہے آج ان میں سے کوئی نظر نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 99–100

(26:99) اضلنا۔ اضل۔ ماضی واحد مذکر غائب، اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ اس نے ہم کو بہکایا۔ اس نے ہم کو گمراہ کیا۔ المجرمین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ معرفہ۔ کافر۔ گنہگار۔ مجرم لوگ۔ یعنی شیاطین جنہوں نے معبودان باطل کی پوجا کے لئے بہکایا

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–101

(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–102

[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 95–100

ف 3: گمراہوں اور مشرکوں سے کہا جائے گا ۔ کہ وہ تمہارے معبودوں میں باطل کہاں ہیں ۔ کیا آج وہ اس بےچارگی اور بےکسی میں تمہاری مدد کرسکتے ہیں ۔ اور تم کو جہنم کے عذاب سے بچا سکتے ہیں اور یا وہ خود کو اللہ کے غقضب سے اور غصہ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟ لاکلام آج کسی شخص میں جرات نہیں ۔ کہ اس کے غیظ وغضب کا سامنا کرسکے ۔ آج تمام معبود ان باطل کو ان کے عقیدتمندوں کے ساتھ جہنم میں اوندھے منہ گرادیا جائے گا ۔ اور تمام ابلیسی لشکر آگ میں جھونک دیا جائے ۔ آج وہ لوگ معلوم کریں گے کہ یہ بت پرستی محض فریب نفس کی ترنگیاں تھیں ۔ ورنہ حاکم وقار اور مختار و قادر ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ یہ لوگ اس وقت اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(99) اور ہم کو تو بس ان بڑے مجرموں نے گمراہ کیا تھا یعنی جب سب جہنم میں داخل کردئیے جائیں گے تو وہاں آپس میں سخت تو تو میں میں ہوگی اور وہاں یہ گمراہ مشرک اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ہم نے تم کو رب العالمین کا شریک بنانے میں بڑی سخت غلطی کی اور یہ بھی کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا بڑا سبب یہ ہمارے سردار شیاطین ہوئے جو آج ہماری طرح بےیارو مددگار جہنم میں پڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 92–102

ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہیں گے کہ ہم کو ان مجرموں ہی نے بہکایا تھا : 99۔ آج مریدین اپنی بدبختی کا ماتم کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا تھا ، غور کرو کہ وہ اس وقت کس بیزاری کے عالم میں ہوں گے کہ رات دن جن کی سکیموں پر چلتے تھے اور جن کے پاؤں کے نیچے آنکھیں بچھاتے تھے ‘ جن کو اپنا پیشوا اور لیڈر سمجھتے تھے جن کے برابر بیٹھنا گناہ تصور کرتے تھے اور جن کے برابر چلنا حرام سمجھتے تھے ‘ جن کے لئے سپیشل کھانے تیار کرایا کرتے تھے ‘ جن کے استقبال کے لئے دوسروں لوگوں کو بھی مدعو کیا کرتے تھے آج ان کو اپنے مونہوں سے مجرم قرار دے رہے ہیں کہ کیا منظر ہوگا وہ جب اپنی خدمتیں کرانے والے اپنے خدمت گاروں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–108

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89] This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–99

69 This is how the followers will treat their religious leaders and guides, whom they served and revered like deities in the world, whose words and patterns of behaviour they took as authoritative and before whom they presented all sorts of offerings in the world. In the Hereafter when the people will find that their guides had misled them and caused their ruin as well as their own, they will hold them responsible for it and will curse them. The Qur'an has presented this horrible scene of the Hereafter at several places so as to admonish the blind followers to see and judge carefully whether…

Read the full tafseer →