Explained with ayahs 90–104
نیک لوگ اور جنت
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
سورة الشُّعَرَآء 69
یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہوگی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے، جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے، جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آئے ہیں اور ہمیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
آیت 98-96
لیڈروں اور
اختصاء کے معنی آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ہیں۔ یہ جھگڑا جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، کفر و شرک کے علمبردار لیڈروں اور ان کے پیرو وں میں ہوگا۔ پیرو لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم نے تمہاری پیروی میں یہ روز بد دیکھا تو کیا آج تم ہمارے اس عذاب میں کچھ حصہ بٹائو گے ؟ لیڈر جواب دیں گے کہ ہم جیسے خود تھے ویسا ہی ہم نے تم کو بنایا، تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی ! اسی جھگڑے کی طرف اجمال کے ساتھ یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ پیرو اپنے سرپیٹیں گے اور اپنے لیڈروں سے قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم کھلی ہوئی گمراہی میں رہے کہ ہم نے تم کو خداوند عالم کا ہمسر ٹھہرایا۔ اذنسویکم برب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
98-1دنیا میں تو ہر تراشا ہوا پتھر اور، مشرکوں کو خدائی اختیارات کا حامل نظر آتا ہے۔ لیکن قیامت کو پتہ چلے گا کہ یہ کھلی گمراہی تھی کہ وہ انھیں رب کے برابر سمجھتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
19: یعنی ان گمراہوں کے ساتھ ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی دوزخ میں ڈالا جائے گا، ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنہوں نے خود اپنی خدائی کا دعوی کیا تھا، اور بعض پتھر کے بت ہیں، ان کو یہ دکھانے کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا کہ جن کو یہ گمراہ لوگ معبود سمجھتے تھے، ان کا حشر بھی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–101
1 یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کردیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”
جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
68 معبود صرف وہ دوزخ میں پھینکے جائیں گے جو بےجان ہیں مثلاً شجر و حجر اور پتھر یا لکڑی کے بت وغیرہ۔ ان کو پھینکنے کی دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ مشرکوں کی ندامت اور حسرت میں اضافہ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ جہنم کی آگ کو مزید بھڑکائیں۔ اور جاندار اشیاء میں سے صرف وہ بزرگ اور اولیاء حضرات دوزخ میں ڈالے جائیں گے جنہوں نے اپنے مریدوں سے شفاعت کے اور ان کو بخشوانے کے وعدے کر رکھے ہوں گے یا وہ ایسی آرزو رکھتے ہوں کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ وہ ان میں بھی تسلیم کی جائیں۔ یا اگر کوئی شخص ایسی بات کرے تو اسے ناگوار سمجھنے کے بجائے انھیں خوشی محسوس ہو۔ رہے فرشتے یا انبیاء یا توحید پرست بزرگ جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
69۔ (جو رہائی دلانا تو خیر دور رہا، کم ازکم ایسا ہی ہوتا کہ خالی ہمدردی ودلسوزی ہی کی بات کرلے) ان الفاظ میں اہل دوزخ کی بےبسی کا پورا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →اذ نسویکم برب العلمین۔ جب کہ (اے باطل معبودو) ہم تم کو (عبادت میں) رب العالمین کے برابر
قرار دیتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ضمیرا قالوا کی ضمیر کی طرح صرف پجاریوں کی طرف راجع ہو کیونکہ بتوں میں جھگڑنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے (بت بےجان ہیں بولنے کی ان میں اہلیت نہیں ہے) لیکن جب بت بےجان ہوں گے تو ان کو خطاب کرنے کا فائدہ سوائے اپنے افسوس و حسرت کے اظہار اور ندامت کے اور کچھ نہ ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ ان کافروں کا جھگڑا ان بتوں سے ہوگا جو مبدء ضلالت تھے اور وہ خود اپنی گمراہی کا اقرار کریں گے اور اظہار حسرت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(98۔ 99) جب کہ تمہیں کو عبادت میں رب العالمین کے برابر کرتے تھے اور ہمیں تو بس ایمان اور اطاعت سے ان سے بڑے مشرکین نے ہٹایا ہے جو ہم سے پہلے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کی پیروی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
قَالُوْا وَهُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَ۔۔ : ”اِنْ كُنَّا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“ اصل میں ”إِنَّا کُنَّا لَفِيْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ“ ہے۔ دلیل اس کی ”فِيْ“ پر آنے والا لام ہے۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے معبودوں سے جھگڑتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم یقیناً کھلی گمراہی میں تھے، جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے، اس کے بعض اختیارات اور صفات تمہارے لیے بھی مانتے تھے، تمہارے لیے حلال و حرام کرنے کے اختیار کا عقیدہ رکھتے تھے، تمہیں بھی عالم الغیب اور مختار کل سمجھتے تھے، تمہیں بگڑی بنانے والے، فریاد کو پہنچنے والے، اولاد عطا کرنے والے اور شفا دینے والے سمجھتے تھے۔
3 یاد رہے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380
وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
1۔ ابن جریر وابن المنذنر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی وہ جہنم میں جمع کیے جائیں گے آیت ” ہم والغاوٗن “ سے مراد ہے عرب کے مشرکین اور ان کے معبود باطلہ
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکو فیہا “ سے مراد ہے کہ وہ پھینکے جائیں گے۔
3۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی آگ میں ڈالے جائیں گے۔” ہم “ یعنی معبود باطل ” والغاون “ یعنی قریش کے مشرکین آیت ” وجنود ابلیس “ سے مراد ہے ابلیس کی اولاد۔
4۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →اِذْ [ جب ] نُسَوِّيْكُمْ [ ہم برابر کرتے تھے تم کو ] بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ رب العالمین کے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 98 ۔ کی تفسیر میں ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ یعنی ہم تمہارے احکام کی اس طرح اطاعت کرتے رہے جس طرح خداوند عالم کے احکام کی اطاعت کرنی چاہیے تھی۔ (منقول از تدبر قرآن) ۔ ضروری ہے کہ آیت کے اس مفہوم کو ذہن میں رکھ کر ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور دیکھے کہ موجودہ دور کے تہذیبی تصادم میں وہ کہاں کھڑا ہے اور اس ضمن میں اس کا رویہ قیامت کے دن اس کو کہاں لے جا کے کھڑا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ترقی پسندی کے شرک سے اپنی امان میں رکھے اور ہمیں قلب سلیم عطا فرمائے۔
نوٹ۔ 2: حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–105
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
41:۔ افسوس جن کو دنیا میں ہم خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے آج ان میں سے کوئی بھی ہماری سفارش نہیں کر رہا اور نہ کوئی دوست کام آتا نظر آرہا ہے۔ ” فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم من الذین کنا نعدھم شفعاء واصدقاء لانھم کانوا یعتقدون فی اصنامہم انھم شفعاءھم عند اللہ تعالیٰ وکان لھم اصدقاء من شیاطین الجن (کبیر ج 6 ص 532) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
ربط آیات
اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…
Read the full tafseer →اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 98
سوا ( مساوات برابر)
الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل،
وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله :
وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ،
( س و ی ) المسا واۃ
کے معنی وزن کیل یا مسا حت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں
التسویۃ کے معنی کسی چیز کو ہموار کرنے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–105
ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔
تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
قَالُوْا وَھُمْ فِیْھَا یَخْتَصِمُوْنَ ۔ تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَمَـآ اَضَلَّـنَـآ اِلاَّ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (الشعرآء : 96 تا 99)
(وہ اہل جہنم آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ خدا کی قسم، ہم کھلی گمراہی میں گرفتار تھے۔ جبکہ تم کو خداوندِعالم کا ہمسر ٹھہر اتے رہے۔ اور نہیں گمراہ کیا ہمیں مگر ان مجرموں نے۔ )
اختصام کے معنی آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ہیں۔
لیڈروں اور پیروکاروں میں جھگڑا
قرآن کریم نے اور بھی بعض مواقع پر اہل جہنم کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا ہے کہ جہنم میں جب وہ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کی پیروی نے ان کو برباد کیا اور جنھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا انتہائی مایوسی کے عالم میں دنیا میں پلٹ جانے کا مطالبہ کرنا :
جہنمی جب جہنم میں اپنے بڑوں اور معبودوں کے ساتھ جھگڑا کریں گے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ خواہ مخواہ ہم پر الزام لگاتے ہو تم تو خود گمراہ تھے۔ (الصّٰفٰت : 32)
برے مرید، ور کرر اور مقتدی حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن کو ہم سفارشی سمجھتے رہے آج ہمارے لیے سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جن کو ہم اپنا بہی خواہ اور مخلص سمجھتے تھے آج کوئی خیر خواہی اور بھائی چارہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کاش ! ہمیں ایک بار دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر ایک رب پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
اعترافِ جرم :
97، 98: تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ اِذْ نُسَوِّیْکُمْ (اللہ تعالیٰ کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے جب کہ ہم تمہیں برابر قرار دیتے تھے) نسویکمؔ کا معنی بتوں کا برابر قرار دینا۔ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (رب العالمین کے ساتھ) عبادت میں۔
Read the full tafseer →98۔ اذ نسویکم، ہم تمہارے لیے شمار کرتے تھے۔ برب العالمین، تمہاری عبادت کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →57 پیرؤوں کا اپنی گمراہی کا کھلا اور صاف اقرار و اعتراف : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ایسے پیروکار وہاں پر اپنی گمراہی کا کھلا اقرار و اعتراف کریں گے مگر وہ بےسود اور لا حاصل ہوگا۔ بہرکیف اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اس موقع وہ مشرک پیرو کہیں گے کہ ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ ہم نے تم لوگوں کو رب العالمین کے برابر ٹھہرا رکھا تھا۔ یعنی اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں۔ سو ہم تمہاری اسی طرح تعظیم و تکریم کیا کرتے تھے جیسے اس معبود برحق کی کی جاتی ہے جو کہ اصل اور حقیقی حقدار ہے ہر قسم کی عبادت کا۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور تمہاری اطاعت بھی ہم لوگ بےچون و چرا اسی طرح کیا کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
8 ۔ یا تمہارے لئے وہ اختیارات اور صفات تسلیم کرتے تھے جو دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں جیسے اشیا کی حلت و حرمت کا اختیار اور بیمار کو شفایاب کرنا وغیرہ حدیث میں ہے :” یہ مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور جو فلاں شخص چاہے بلکہ یوں کہو جو اللہ چاہے اور پھر فلاں شخص چاہے۔ (ابو دائود)
Read the full tafseer →(26:98) اذ۔ جب ۔ جس وقت۔ ظرف زمان ہے۔
نسویکم۔ مضارع جمع متکلم۔ تسویۃ (تفعیل) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تم کو (عبادت میں رب العالمین کے) برابر گردانتے تھے۔ کم ضمیر جمع مذکر اصنام کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–100
ف 3: گمراہوں اور مشرکوں سے کہا جائے گا ۔ کہ وہ تمہارے معبودوں میں باطل کہاں ہیں ۔ کیا آج وہ اس بےچارگی اور بےکسی میں تمہاری مدد کرسکتے ہیں ۔ اور تم کو جہنم کے عذاب سے بچا سکتے ہیں اور یا وہ خود کو اللہ کے غقضب سے اور غصہ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟ لاکلام آج کسی شخص میں جرات نہیں ۔ کہ اس کے غیظ وغضب کا سامنا کرسکے ۔ آج تمام معبود ان باطل کو ان کے عقیدتمندوں کے ساتھ جہنم میں اوندھے منہ گرادیا جائے گا ۔ اور تمام ابلیسی لشکر آگ میں جھونک دیا جائے ۔ آج وہ لوگ معلوم کریں گے کہ یہ بت پرستی محض فریب نفس کی ترنگیاں تھیں ۔ ورنہ حاکم وقار اور مختار و قادر ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ یہ لوگ اس وقت اپنے…
Read the full tafseer →(98) جس وقت ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ برابری کا درجہ دیا کرتے تھے اور تم کو رب العالمین کے مساوی سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–102
ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →ہم نے تم کو جہانوں کے رب کے برابر ٹھہرایا تھا :
98۔ اب ان کی عقل ٹھکانے آئی ہے اور پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ” ہم نے تم کو جہانوں کے رب کے برابر ٹھہرایا تھا “ یعنی وہ مقام جو صرف اور صرف جہانوں کے رب ہی کے لئے سزاوار تھا ہم نے تم کو اس مقام پر لاکھڑا کیا تھا اور تمہاری باتوں کو وقعت دی تھی جو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے رب کی باتوں کو دینی چاہئے تھی یہ لوگ کون ہیں جن کو وہ مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں ؟ وہی جو ان کے دراصل گمراہ کنندہ تھے اور انہی کی باتوں اور احکام کو وہ دنیا میں اہمیت دیتے رہے تھے لیکن جب بولنے کا وقت تھا نہیں بولے اور جب بولنے کی کوئی قیمت نہیں رہی اب بول رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
69 This is how the followers will treat their religious leaders and guides, whom they served and revered like deities in the world, whose words and patterns of behaviour they took as authoritative and before whom they presented all sorts of offerings in the world. In the Hereafter when the people will find that their guides had misled them and caused their ruin as well as their own, they will hold them responsible for it and will curse them. The Qur'an has presented this horrible scene of the Hereafter at several places so as to admonish the blind followers to see and judge carefully whether…
Read the full tafseer →