Ash-Shu'araa 26:81

Ash-Shu'araa · from ayah 81

26:81

وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۟ۙوَالَّذِىۡ يُمِيۡتُنِىۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ

اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And who will cause me to die and then bring me to life

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:81

جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ مجھے وفات دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہی مجھے مارے گا، پھر زندہ کرے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے زندہ کرے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہی مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جو مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Who will cause me to die and then will again restore me to life;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and who will make me die, then will give me life,

— Muhammad Taqi Usmani

and who will make me die, then will give me life,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Who will cause me to die, and then will bring me to life.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Who causeth me to die, then giveth me life (again),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And who will cause me to die and then bring me to life

— Saheeh International

He will cause me to die and will bring me back to life.

— Muhammad Sarwar

And He Who will cause me to die, then give me life;

— Muhammad Habib Shakir

And He Who shall cause me to die, and then shall quicken me.

— Abdul Majid Daryabadi

"Who will cause me to die, and then to life (again);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 78–82

خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 81–82

سورة الشُّعَرَآء 59 یہ تیسری وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت درست نہیں ہو سکتی۔ انسان کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ صرف اس دنیا اور اس کی زندگی تک محدود نہیں ہے کہ وجود کی سرحد میں قدم رکھنے سے شروع ہو کر موت کی آخری ہچکی پر وہ ختم ہوجائے، بلکہ اس کے بعد اس کا انجام بھی سراسر خدا ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی خدا جو اس کو وجود میں لایا ہے، آخر کار اسے اس دنیا سے واپس بلا لیتا ہے اور کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس واپسی کو روک سکے۔ آج تک کسی دوا یا طبیب یا دیوی دیوتا کی مداخلت اس ہاتھ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جو انسان کو یہاں سے نکال لے جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–83

خلاصہ تفسیر اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 78–82

آیت 82-78) اپنی قوم کے بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے بعد یہ حضرت ابراہیم نے اس رب حقیق کی صفات بیان فرمائی ہیں جو عبادت و اطاعت کا اصلی حق دار ہے۔ الذین خلقنی فھو یھدین یعنی میری عبادت کا اصلی حق داروہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ بیان واقعہ بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خلق اور ہدایت میں لزوم عقلی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس نے ہمارے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں اور پھر ہمیں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اجاگر کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ اس نے ہمیں نہایت اعلیٰ فطرت پر پیدا کیا اور ہمیں عقل عطا فرمائی جو حق و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

81-1یعنی قیامت والے دن جب سارے لوگوں کو زندہ فرمائے گا، مجھے بھی زندہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–85

17: حضرت ابراہیم ؑ کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–82

الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 79–81

2 یعنی کھلانا پلانا، مارنا جلانا اور بیماری سے اچھا کرنا، سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 81–82

آیت 82 وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ” ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب تھے۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ اس میں کسی کا کچھ اختیار ہے۔ انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوا تھا اور نہ اپنی مرضی سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی دوبارہ زندگی کو بھی روکنے میں بھی مجبور محصن ہے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کرنے کے کرشمے دکھاتا رہتا ہے۔ لہذا دوبارہ پیدائش سے انکار کی معقول وجہ نہیں ہوسکتی۔ اور یہ ایسے کام ہیں۔ جن میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر اللہ کی عبادت میں آخر دوسروں کو کیوں شریک بنایا جاسکتا ہے۔ یا دوسروں کو عبادت کے لائق کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 81–82

61۔ وہی الہ المعاد بھی وہی الہ المعاش بھی، وہی موت وفنا طاری کرنے والا بھی اور وہی جزا وسزا کے لیے دوبارہ جلانے والا بھی، یہ نہیں کہ افناوا اہلاک کا دیوتا کوئی الگ ہو، اور حشر میں داوری کے وقت سامنا کسی اور کا کرنا پڑے، جیسا کہ عموما مشرک ونیم مشرک قوموں نے فرض کیا ہے۔ اور پھر مغفرت کی امیدیں بھی تمامتر اسی خدائے واحد کی ذات سے ہیں، نہ کہ کسی اور سے۔ مشرک اور جاہلی قوموں کو شرک کی ٹھوکریں جب جب لگی ہیں، انہیں صفات ہی سے متعلق لگی ہیں۔ (آیت) ” اطمع ....... الدین “۔ الفاظ آیت کے اندر رعایت ادب کس درجہ موجود ہے ! اول تو پیغمبر صاف صاف اپنے لیے خطیءۃ کا وجود تسلیم کرتے ہیں، محض اجتہادی غلطی کہہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذی یمیتنی ثم یحیین۔ اور وہ جو مجھے موت دے گا پھر (آخرت میں) مجھے زندہ کرے گا 1 ؂۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–82

(80 تا 82) اور جس وقت میں بھوکا اور پیاسا ہوتا ہوں تو خوب کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے دنیا میں موت دے گا پھر قیامت کے روز مجھے زندہ کرے گا اور جس سے مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری غلط کاری کو قیامت کے دن معاف فرمائے گا حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا تھا کہ میں بیمار ہوں اور قوم سے کہہ دیا تھا کہ بڑے بت نے ایسا کیا ہوگا اور اپنی بیوی کو بادشاہ کی وجہ سے بہن کہہ دیا تھا (غالبا حضور خداوندی میں ان چیزوں کو بھی غلطی میں شمار فرما رہے ہیں)۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْ يُمِيْـتُـنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ : یہ دونوں حصر کے بغیر ہیں، کیونکہ ان میں حصر کی ضرورت نہیں تھی کہ کہا جائے وہی مجھے موت دے گا اور وہی مجھے زندہ کرے گا، کیونکہ سب مانتے ہیں کہ مارنا یا زندہ کرنا صرف ”رب العالمین“ کا کام ہے، اور کسی کا یہ دعویٰ ہی نہیں۔ ابراہیم ؑ کے دور کے جبار نے جو کہا تھا : (اَنَا اُحْیٖ وَاٗمِیْت) [ البقرۃ : 258 ] (میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں) وہ محض اس کی ڈھٹائی اور بےشرمی تھی، اس کے دعوے کو کسی نے وقعت ہی نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 79–81

والذین یمیتنی ثم یحیین احیاء سے مراد بعث ہے وہ موت کو اسباب کی طرف منسوب کرتے اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا اللہ تعالیٰ کی ذات ہی موت اور زندگی عطاء کرتی ہے۔ سب ( یھدین اور یشفین) یاء متکلم کے بغیر ہیں کیونکہ آیات کے سروں کا حذف اچھا ہے تاکہ سب متفق ہوجائیں۔ ابن ابی اسحاق نے اپنی جلالت اور لغت عربی میں اپنے مقام کے اعتبار سے سب میں یاء متکلم پڑھی ہے کیونکہ یاء اسم ہے نون علت کی وجہ سے داخل ہوئی۔ اگر یہ سوال کیا جائے یہ تو تمام مخلوق کی صفت ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے کیسے ہدایت پر دلیل بنایا ہے اور کسی غیر نے اس سے ہدایت نہ پائی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے ذکر کیا تاکہ اطاعت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–85

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔ سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْ [ اور وہ جو ] يُمِيْـتُـنِيْ [ موت دے گا مجھ کو ] ثُمَّ [ پھر ] يُحْيِيْنِ [ وہ زندگی دے گا مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–83

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–83

37:۔ ” حکما “ سے کمال علمی ” والحقنی بالصلحین “ سے کمال عملی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مجھے حکمت اور کمال علم عطا فرما اور کمال عمل کی توفیق عطا فرما کر اپنے برگزیدہ بندوں کی معیت سے سرفراز فرما۔ ” واجعل لی لسان صدق الخ “ ” لسان صدق “ یعنی ذکر خیر، آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھنا تاکہ وہ نیک کاموں میں میری اقتداء کرتی رہیں اور مجھے اجر ملتا رہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ” لسان صدق “ سے کلمہ صادقہ یعنی دعوی توحید مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون “ (زخرف رکوع 3) ۔ ممکن ہے آخرین سے امت محمدیہ مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ آخر زمانہ میں ایک پیغمبر معبوث…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–89

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْ يُمِيْـتُـنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ۝ 81ۙ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–82

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَیَھْدِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ ۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ یُمْیِتُـنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۔ وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِٓیْئَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الشعرآء : 78 تا 82) (جس نے مجھے پیدا فرمایا، پھر وہ میری رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔ اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن میرے گناہ معاف کرے گا۔ ) ربِ حقیقی کی چند صفات رب العالمین میری پرستش اور بندگی کا اس لیے مستحق ہے کہ اس نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–83

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور فریادیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہیں۔ جن میں انسان کی بڑی بڑی حاجات کا ذکر ہے انہیں درج ذیل آیات میں ملاحظہ فرمائیں (البقرۃ : 126، 127، 128، 129) (سورۃ ابراہیم : 37 تا 41) (الصافات : 101) ۔ یہاں ان کی چھ دعاؤں کا تذکرہ ہے جن میں ایک دعا کے سوا باقی تمام دعائیں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ 1۔ میرے رب مجھے حکمت اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ 2۔ میرے رب مجھے آخرت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرما۔ 3۔ میرے رب میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھنا۔ 4۔ میرے رب مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنانا۔ 5۔ میرے رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تعبیر کی خوبصورتی : 81: وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ (اور وہ ذات جو مجھے موت دے گی پھر وہ مجھے زندہ کرے گی) یہاں اذامتؔ نہیں فرمایا کیونکہ موت ابتلاء کی قید اور دارالفناء سے نکلنے اور بقاء کے باغ میں وعدہ لقاء کیلئے داخلے کا نام ہے۔ ثم اور فاء کا فرق : یہاں ثمؔ لایا گیا کیونکہ فناء کے عرصہ پر احیاء ہے گزشتہ آیات میں شفاء اور ہدایت پر فاء ؔ کو داخل کیا کیونکہ مخلوق کو باری باری حاصل ہوتی ہیں دونوں ساتھ ساتھ میسر نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

81۔ والذی یمیتنی ثم یحیین۔ ثم یہاں پر تراخی کے لیے ہے کہ وہ مجھے دنیا میں موت دے گا اور آخرت میں زندہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–85

69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–81

45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 81–82

10 ۔ یعنی اگر مجھ سے کسی معاملہ میں بھول یا اپنے مرتبہ کے لحاظ سے کوتاہی ہوجائے تو اسی کی مہربانی سے معافی کی توقع (بمعنی یقین) ہے کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:81) یمیتنی۔ مضارع واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ امانۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ مجھے موت دیتا ہے۔ یحیین۔ مضارع واحد مذکر غائب احیاء افعال نون وقایہ ی متکلم ضمیر مفعول ۔ وہ مجھے زندہ کرتا ہے یا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–82

ف 1:۔ یہ تو میرے اور تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔ ان کی عبادت اور پرستش کرنا خود اپنی ذات سے عداوت کرنا ہے ۔ ہاں اللہ اپنے ماننے والوں کا دوست ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ مجھے اسی نے خلعت وجود بخشا ۔ اور وہی دین ودنیا کی مشکلات میں میری راہ نمائی کرتا ہے ۔ وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں ۔ تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے ۔ وہی مجھے مارے گا ۔ اور قیامت کے دن پھر مجھے زندہ کرلے گا ۔ اسی میں یہ متوقع ہوں ۔ کہ قیامت کے دن میری لغزشوں پر خط عفو کھینچ دے گا ۔ اور مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے لیگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو بتایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو روز مرہ کی ضروریات کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 79–82

ف 1۔ یہ تمام تر صفات اس لئے سنائیں کہ قوم کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مجھے پیدا کرنے والا اور مارنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : 81۔ انسان کی ابتدائی تخلیق کس نے کی ؟ اللہ نے وہ بتدریج کی یا یک ہی بار اس کا ڈھانچا بنا کھڑا کیا نتیجہ دونوں نظریوں کا یہی ہے کہ خالق اللہ ہے جو اس نے اس طرح تخلیق کیا بلاشبہ وہ مخلوق تھی اور خالق اس کا اللہ ہے ہاں ! عرف اسلامی کے مطابق وہ تخلیق کسی کی اولاد نہیں تھی پھر اولاد ہونے کے لئے اس نے ایک ضابطہ مقرر فرمایا کہ وہ زوجین سے ہوگی اور اس سلسلہ کا نام توالد وتناسل کا فطری طریقہ رکھا گیا اور اس فطری طریقہ سے جو آگے نسل چلی اس کو اولاد کا نام دیا گیا ۔ اب ظاہر ہے کہ مخلوق کے دو طریقے ہوئے ایک طریقہ اول اور دوسرا طریقہ دوم ، اب اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

59 The third reason for worshipping none but Allah is that man's relation with his God is not merely confined to this worldly life, which will end at death, but extends to life-after-death also. The same God Who brought him into existence, recalls him and there is no power which can stop his return froth the world. No remedy, no physician no god or goddess has ever been able to catch the hand which takes man out of this world. Even all those men who were made deities and worshipped, could not ward off their own deaths. Onlv Allah judges and decides when a particular person is to be recalled…

Read the full tafseer →