Explained with ayahs 78–82
خلیل اللہ کی تعریف
حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
سورة الشُّعَرَآء 58
یہ دوسری وجہ ہے اللہ اور اکیلے اللہ ہی کے مستحق عبادت ہونے کی۔ اگر اس نے انسان کو بس پیدا ہی کر کے چھوڑ دیا ہوتا اور آگے اس کی خبر گیری سے وہ بالکل بےتعلق رہتا، تب بھی کوئی معقول وجہ اس امر کی ہو سکتی تھی کہ انسان اس کے علاوہ کسی دوسری طرف بھی سہارے ڈھونڈنے کے لیے رجوع کرتا۔ لیکن اس نے تو پیدا کرنے کے ساتھ رہنمائی، پرورش، نگہداشت، حفاظت اور حاجت روائی کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے۔ جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہوجاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اتارنے کا طریقہ سکھا دیتی ہے۔ پھر اس تربیت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
آیت 82-78)
اپنی قوم کے بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے بعد یہ حضرت ابراہیم نے اس رب حقیق کی صفات بیان فرمائی ہیں جو عبادت و اطاعت کا اصلی حق دار ہے۔
الذین خلقنی فھو یھدین یعنی میری عبادت کا اصلی حق داروہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ بیان واقعہ بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خلق اور ہدایت میں لزوم عقلی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس نے ہمارے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں اور پھر ہمیں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اجاگر کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ اس نے ہمیں نہایت اعلیٰ فطرت پر پیدا کیا اور ہمیں عقل عطا فرمائی جو حق و…
Read the full tafseer →80-1بیماری کو دور کر کے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی بلکہ اپنی طرف کی یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
17: حضرت ابراہیم ؑ کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
2 یعنی کھلانا پلانا، مارنا جلانا اور بیماری سے اچھا کرنا، سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ”
یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔
Read the full tafseer →56 حضرت ابراہیم نے بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی طرف فرمائی تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اپنی کسر نفسی کی بنا پر ایسا کہا۔ ورنہ بیماری اور شفا سب کچھ اللہ ہی طرف سے ہوتا ہے۔ اب بیماری اور شفا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاندار کی طبیعت ہے اس کی سب سے بڑی معالج ہوتی ہے۔ بدن میں کسی مقام پر بھی کوئی نقص واقع ہوجائے تو طبیعت فوراً ادھر متوجہ ہوجاتی ہے۔ باہر سے کوئی آفت پڑنے کا خطرہ ہو تو ہر جاندار سے بلا ارادہ ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں۔ جو اس کی اس آفت سے حفاظت کرسکیں اور دوائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب طبیعت کی مدافعت سے معاملہ بڑھ جائے اور دوائی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
60۔ یعنی اس خدائے واحد کی ذات تمام صفات کمال کی جامع ہے۔ وہی خالق ہے اور وہی ہادی ومدبر بھی، یہ نہیں کہ خلق کا کام کوئی اور دیوتا کرے اور انتظام وہدایت کا دیوتا کوئی اور ہو۔ کھانا اور پانی دونوں وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک دیوتا زراعت ونباتات کا ہو اور کوئی دیوتا بارش کا۔ صحت وشفا بھی وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ بیماری سے صحت بخشنے کے لیے کوئی الگ دیوی یادیوتا ہو۔ مشرک جاہلی قوموں نے انہی صفات کے لیے برابر الگ الگ دیویوں، دیوتاؤں کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” الا رب العلمین “۔ یہ استثناء اس لیے کہ مشرکین دوسرے دیویوں اور دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ حق تعالیٰ کی بھی پرستش جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →واذا مرضت فہو یشفین۔ اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا عنایت کرتا ہے۔ بیماری اور
شفا دونوں کا خالق اللہ ہی ہے لیکن بلحاظ ادب مریض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی۔ حضرت خضر کے قول کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے فَاَرُدْتَ اَنْ اَعِیْبَہَا میں نے ارادہ کیا کہ اس کشتی کو عیب دار کر دوں۔ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یّّبْلُغَا اَشُدَّ ہُمَاآپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی بھرپور طاقت کو پہنچ جائیں (اوّل آیت میں ارادۂ عیب کی نسبت حضرت خضر نے اپنی طرف کی تقاضاء ادب یہی تھا اور دوسری آیت میں ارادہ کی نسبت اللہ کی طرف کی تقاضاء معرفت یہی تھا۔ مترجم) ۔
حضرت ابراہیم نے بیمارہونے کو اپنا فعل اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(80 تا 82) اور جس وقت میں بھوکا اور پیاسا ہوتا ہوں تو خوب کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے دنیا میں موت دے گا پھر قیامت کے روز مجھے زندہ کرے گا اور جس سے مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری غلط کاری کو قیامت کے دن معاف فرمائے گا حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا تھا کہ میں بیمار ہوں اور قوم سے کہہ دیا تھا کہ بڑے بت نے ایسا کیا ہوگا اور اپنی بیوی کو بادشاہ کی وجہ سے بہن کہہ دیا تھا (غالبا حضور خداوندی میں ان چیزوں کو بھی غلطی میں شمار فرما رہے ہیں)۔
Read the full tafseer →وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ : یعنی وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، مگر میں جب اس کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر کر بیمار ہوتا ہوں، یا اپنی کسی اور غلطی کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو پھر مجھے شفا دے دیتا ہے۔ یہ پچھلی آیت کے ساتھ ایک لطیف مطابقت ہے۔ بعض طبیبوں کا کہنا ہے کہ اگر مردوں سے پوچھا جائے، تمہاری موت کا سبب کیا ہوا تو اکثر یہی کہیں گے کہ زیادہ کھانے سے، بدہضمی سے۔
3 اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، مگر ابراہیم ؑ نے یہاں بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ ”جب میں بیمار ہوتا ہوں“ اور شفا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ ”فَهُوَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
والذین یمیتنی ثم یحیین احیاء سے مراد بعث ہے وہ موت کو اسباب کی طرف منسوب کرتے اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا اللہ تعالیٰ کی ذات ہی موت اور زندگی عطاء کرتی ہے۔ سب ( یھدین اور یشفین) یاء متکلم کے بغیر ہیں کیونکہ آیات کے سروں کا حذف اچھا ہے تاکہ سب متفق ہوجائیں۔ ابن ابی اسحاق نے اپنی جلالت اور لغت عربی میں اپنے مقام کے اعتبار سے سب میں یاء متکلم پڑھی ہے کیونکہ یاء اسم ہے نون علت کی وجہ سے داخل ہوئی۔ اگر یہ سوال کیا جائے یہ تو تمام مخلوق کی صفت ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے کیسے ہدایت پر دلیل بنایا ہے اور کسی غیر نے اس سے ہدایت نہ پائی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے ذکر کیا تاکہ اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔
سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب کبھی ] مَرِضْتُ [ میں بیمار ہوتا ہوں ] فَهُوَ [ تو وہ ہی ] يَشْفِيْنِ [ شفا دیتا ہے مجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
37:۔ ” حکما “ سے کمال علمی ” والحقنی بالصلحین “ سے کمال عملی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مجھے حکمت اور کمال علم عطا فرما اور کمال عمل کی توفیق عطا فرما کر اپنے برگزیدہ بندوں کی معیت سے سرفراز فرما۔ ” واجعل لی لسان صدق الخ “ ” لسان صدق “ یعنی ذکر خیر، آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھنا تاکہ وہ نیک کاموں میں میری اقتداء کرتی رہیں اور مجھے اجر ملتا رہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ” لسان صدق “ سے کلمہ صادقہ یعنی دعوی توحید مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون “ (زخرف رکوع 3) ۔ ممکن ہے آخرین سے امت محمدیہ مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ آخر زمانہ میں ایک پیغمبر معبوث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَيَشْفِيْنِ 80۠ۙ
مرض
الْمَرَضُ : الخروج عن الاعتدال الخاصّ بالإنسان، وذلک ضربان :
الأوّل : مَرَضٌ جسميٌّ ، وهو المذکور في قوله تعالی: وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ
[ النور/ 61] ، وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] .
والثاني : عبارة عن الرّذائل کالجهل، والجبن، والبخل، والنّفاق، وغیرها من الرّذائل الخلقيّة .
نحو قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ، أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] . وذلک نحو قوله : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَیَھْدِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ ۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ یُمْیِتُـنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۔ وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِٓیْئَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الشعرآء : 78 تا 82)
(جس نے مجھے پیدا فرمایا، پھر وہ میری رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔ اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن میرے گناہ معاف کرے گا۔ )
ربِ حقیقی کی چند صفات
رب العالمین میری پرستش اور بندگی کا اس لیے مستحق ہے کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور فریادیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہیں۔ جن میں انسان کی بڑی بڑی حاجات کا ذکر ہے انہیں درج ذیل آیات میں ملاحظہ فرمائیں (البقرۃ : 126، 127، 128، 129) (سورۃ ابراہیم : 37 تا 41) (الصافات : 101) ۔
یہاں ان کی چھ دعاؤں کا تذکرہ ہے جن میں ایک دعا کے سوا باقی تمام دعائیں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔
1۔ میرے رب مجھے حکمت اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ 2۔ میرے رب مجھے آخرت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرما۔
3۔ میرے رب میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھنا۔ 4۔ میرے رب مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنانا۔
5۔ میرے رب…
Read the full tafseer →80: وَاِذَامَرِضْتُ (اور جب میں بیمار ہوتا ہوں) ابرہیم (علیہ السلام) نے یہاں اس طرح نہیں فرمایا : امرضنیؔ۔ کیونکہ زبانی تذکرہ سے یہاں شکر مقصود ہے اسی لئے اس کی طرف اس چیز کی نسبت نہیں کی جو ضیر و نقصان کی متقاضی تھی (یہ کمال ادب ہے) ۔ قول ابن عطاء (رح) : جب میں مخلوق کو دیکھ کر بیمارہوتا ہوں تو مشاہدہ حق سے مجھے وہ شفاء دیتا ہے۔ فَھُوَ یَشْفِیْنِ (وہ شفاء بخشتا ہے ! )
قول جعفر صادق (رح) : جب میں رؤیت افعال سے بیمار پڑجاتا ہوں تو وہ افضال کے احسان سے اس کا ازالہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →80۔ واذا مرضت، مرض کی اضافت اپنی طرف کردی کیو کہ مرض اور شفا اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ یہ بطور حسن ادب کے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت خضر نے فرمایا، فاردت ان اعیبھا، اور فرمایا، فاراد ربک ان یبلغا، اشدھما، فھو یشفین، اور وہ ہی مجھے میرے مرض سے شفادیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
9 ۔ بیماری ہو یا کوئی اور چیز سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے مگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ازراہ ادب بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:80) یشفین۔ مضارع واحد مذکر غائب شفاء مصدر نون وقایہ ی محذوف ضمیر مفعول واحد متکلم۔ وہ مجھے شفاء دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–86
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
[16] یعنی قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
ف 1:۔ یہ تو میرے اور تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔ ان کی عبادت اور پرستش کرنا خود اپنی ذات سے عداوت کرنا ہے ۔ ہاں اللہ اپنے ماننے والوں کا دوست ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ مجھے اسی نے خلعت وجود بخشا ۔ اور وہی دین ودنیا کی مشکلات میں میری راہ نمائی کرتا ہے ۔ وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں ۔ تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے ۔ وہی مجھے مارے گا ۔ اور قیامت کے دن پھر مجھے زندہ کرلے گا ۔ اسی میں یہ متوقع ہوں ۔ کہ قیامت کے دن میری لغزشوں پر خط عفو کھینچ دے گا ۔ اور مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے لیگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو بتایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو روز مرہ کی ضروریات کو…
Read the full tafseer →80۔ اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھ کو شفا دیتا اور اچھا کردیتا ہے۔ یعنی رزق رسانی کا بھی وہی مالک ہے اور جس بیماری میں موت مقدر نہ ہو اس میں شفا دینے کا بھی وہی مالک یہاں کمال ادب کی رعایت رکھتے ہوئے مرض کو اپنی طرف اور شفاء کو اس کی جانب منسوب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ف 1۔ یہ تمام تر صفات اس لئے سنائیں کہ قوم کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت ہو۔
Read the full tafseer →جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہ مجھے صحت دیتا ہے :
80۔ حقیقت میں جس طرح نفع ونقصان اللہ کی طرف سے ہے بالکل اسی طرح بیماری اور صحت کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن وہ ادب جو انبیاء کرام سکھانے کے لئے آتے ہیں اس میں یہ بےادبی ہے کہ بیماری کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف کی جائے اس لئے نہایت ہوشیاری اور ادب کے ملحوظ کا خاطر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بیماری کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی اس لئے کہ آپ بتانا چاہتے ہیں کہ بیماری یقینا کسی بےاحتیاطی کے نتیجہ میں آتی ہے اور بےاحتیاطی ہمیشہ انسان سے ہو ہی جاتی ہے کیونکہ انسان بلاشبہ بےحتیاطیوں اور بداعتدالیوں کا مجموعہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
58 The second reason for worshipping Allah and Allah alone is that Allah had not become unconcerned with man after creating him and let him alone to see other supporters for help, but had also taken the responsibility of making arrangements for his guidance, protection and fulfilment of his needs. The moment a human child is born, milk is produced for it in the breasts of its mother, and some unseen power teaches it the way to suck it and take it down the throat. From the first day of his life till his death, the Creator has provided in the world around him all necessary means required for…
Read the full tafseer →