Ash-Shu'araa 26:78

Ash-Shu'araa · from ayah 78

26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِ ۟ۙالَّذِىۡ خَلَقَنِىۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِۙ‏

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who created me, and He [it is who] guides me.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:78

جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس نے مجھے پیدا کیا ہے، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہ مجھے راہ دے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہ میری رہنماء فرماتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ ہے) جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who created me and Who guides me;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who created me, and who guides me,

— Muhammad Taqi Usmani

who created me, and who guides me,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who has created me, and it is He Who guides me.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who created me, and He [it is who] guides me.

— Saheeh International

He created me and He will guide me.

— Muhammad Sarwar

Who created me, then He has shown me the way:

— Muhammad Habib Shakir

Who hath created me, and He guideth me.

— Abdul Majid Daryabadi

"Who created me, and it is He Who guides me;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 78–82

خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 57 یہ اولین وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ اور صرف ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔ مخاطب بھی اس حقیقت کو جانتے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے، اور انہیں یہ بھی تسلیم تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حتّیٰ کہ اپنے معبودوں کے بارے میں بھی حضرت ابراہیم ؑ کی قوم سمیت تمام مشرکین کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں۔ بجز دہریوں کے اور کسی کو بھی دنیا میں اللہ کے خلق کائنات ہونے سے انکار نہیں رہا۔ اس لیے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی دلیل یہ تھی کہ میں صرف اس کی عبادت کو صحیح و بر حق سمجھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی ہستی میری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–83

خلاصہ تفسیر اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 78–82

آیت 82-78) اپنی قوم کے بتوں کی بےحقیقتی واضح کرنے کے بعد یہ حضرت ابراہیم نے اس رب حقیق کی صفات بیان فرمائی ہیں جو عبادت و اطاعت کا اصلی حق دار ہے۔ الذین خلقنی فھو یھدین یعنی میری عبادت کا اصلی حق داروہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ بیان واقعہ بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خلق اور ہدایت میں لزوم عقلی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف پیدا ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس نے ہمارے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں اور پھر ہمیں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور اجاگر کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ اس نے ہمیں نہایت اعلیٰ فطرت پر پیدا کیا اور ہمیں عقل عطا فرمائی جو حق و…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–79

16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–82

الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی فلاح دارین کی راہ دکھاتا اور اعلیٰ درجہ کے فوائد و منافع کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 78–80

آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ” یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 ان چار آیات میں حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر کیا۔ جن کا تعلق حضرت ابراہیم کی ذات سے ہی نہیں بلکہ ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی یہی وہ صفات ہیں جن کی بنا پر ہر انسان کو صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنا چاہئے۔ پہلی صفت یہ ہے کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور وجود بخشا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ایسی ہے جس کا کسی بھی دور کے مشرکوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ یعنی جب میری تخلیق میں کسی دوسری ہستی کا کچھ حصہ نہیں۔ تو میری عبادت میں کوئی دوسرا کیسے حصہ دار بن سکتا ہے ؟ دوسری صفت یہ ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کرکے تنہا نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ہر ہر مقام پر میری رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 78–80

60۔ یعنی اس خدائے واحد کی ذات تمام صفات کمال کی جامع ہے۔ وہی خالق ہے اور وہی ہادی ومدبر بھی، یہ نہیں کہ خلق کا کام کوئی اور دیوتا کرے اور انتظام وہدایت کا دیوتا کوئی اور ہو۔ کھانا اور پانی دونوں وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک دیوتا زراعت ونباتات کا ہو اور کوئی دیوتا بارش کا۔ صحت وشفا بھی وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ بیماری سے صحت بخشنے کے لیے کوئی الگ دیوی یادیوتا ہو۔ مشرک جاہلی قوموں نے انہی صفات کے لیے برابر الگ الگ دیویوں، دیوتاؤں کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” الا رب العلمین “۔ یہ استثناء اس لیے کہ مشرکین دوسرے دیویوں اور دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ حق تعالیٰ کی بھی پرستش جاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی خلقنی فہو یہدین۔ وہ جس نے مجھے پیدا کیا وہی مجھے ہدایت کرے گا۔ ہر مخلوق کو زندگی کا دنیوی و اخروی راستہ وہی بتاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا (وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی) ابتداء ایجاد سے انتہا ‘ موت تک پوری زندگی اللہ تخلیقی تدریجی رہنمائی فرماتا رہتا ہے تاکہ انسان مفید حیات چیزوں کو حاصل کرتا اور ضرر رساں چیزوں سے بچتا رہے۔ رحم کے اندر بچہ ماں کا فضول خون ناف کے ذریعہ سے چوسنا شروع کرتا ہے اور اس سفر کی انتہا داخلۂ جنت ہے یہ ساری رہنمائی اللہ ہی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 77–78

(77۔ 78) البتہ ان میں سے وہ جو رب العالمین کی عبادت کرتا ہے کہ جس نے مجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسی نے مجھے دین پر ثابت قدمی عطا فرمائی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ : ”يَهْدِيْنِ“ اصل میں ”یَھْدِیْنِيْ“ ہے، آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے یاء حذف کردی گئی ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔ آئندہ آیات کے اندر ”يَسْقِيْنِ“ ، ”يَشْفِيْنِ“ اور ”يُحْيِيْنِ“ میں بھی یاء محذوف ہے۔ یہاں سے ابراہیم ؑ نے رب العالمین کی وہ صفات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے وہ عبادت کا حق دار ہے، یعنی ”رب العالمین“ وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ یہاں ”الَّذِيْ خَلَقَنِيْ“ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا) کے بعد ”فَهُوَ يَهْدِيْنِ“ (پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے) حصر کے ساتھ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پیدا کرنے کا دعویٰ اللہ تعالیٰ کے سوا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(الذی خلقنی فھو یھدین۔۔۔۔۔۔۔۔ ) الذی خلقتنی فھو یھدین یعنی دین کی طرف میری رہنمائی کرتا ہے۔ والذین ھو یطعمنی ویسقین یعنی وہ مجھے رزق دیتا ہے۔ ھو ضمیر کا دخول اس امر پر تنبیہ ہے کہ اس کے سوا نہ کوئی کھلاتا ہے اور نہ پلاتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : زید ھو الذی فعل کذا یعنی زید کے علاوہ کسی نے ایسا عمل نہیں کیا۔ واذا مرضت فھویشفین حضرت ابراہیم نے مرضت ادب کی رعایت کرتے ہوئے کہا ورنہ مرض اور شفاء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس کی مثل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم کا قول ہے۔ وما انسنیہ الا الشیطین ( الکہف : 63 )

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–85

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔ سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْ [ وہ جس نے ] خَلَقَنِيْ [ پیدا کیا مجھ کو ] فَهُوَ [ تو وہ ہی ] يَهْدِيْنِ [ ہدایت دیتا ہے مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–83

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 76–78

36:۔ اسی نے پیدا کیا ہے اور وہی دین و دنیا کے منافع و مصالح کی طرف راہنمائی فرماتا ہے ” والذی ہو یطعمنی الخ “ میرا روزی رساں بھی وہی ہے ” واذا مرضت الخ “ بیماری سے شفاء بھی وہی عطا کرتا ہے۔ ” والذی یمیتنی الخ “ موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ ” والذی اطمع الخ “ اور اسی سے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطا سے درگذر فرمائے گا۔ خطا سے کوئی خاص خطا مراد نہیں ملکہ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے کوئی خلاف اولیٰ کام سرزد ہوگیا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر چونکہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ فرمانبردار اور اس سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں اس لیے وہ عمل کی معمولی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–89

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَہُوَيَہْدِيْنِ۝ 78ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–82

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَیَھْدِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ ۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ یُمْیِتُـنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۔ وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِٓیْئَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الشعرآء : 78 تا 82) (جس نے مجھے پیدا فرمایا، پھر وہ میری رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔ اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن میرے گناہ معاف کرے گا۔ ) ربِ حقیقی کی چند صفات رب العالمین میری پرستش اور بندگی کا اس لیے مستحق ہے کہ اس نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–83

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور فریادیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہیں۔ جن میں انسان کی بڑی بڑی حاجات کا ذکر ہے انہیں درج ذیل آیات میں ملاحظہ فرمائیں (البقرۃ : 126، 127، 128، 129) (سورۃ ابراہیم : 37 تا 41) (الصافات : 101) ۔ یہاں ان کی چھ دعاؤں کا تذکرہ ہے جن میں ایک دعا کے سوا باقی تمام دعائیں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ 1۔ میرے رب مجھے حکمت اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ 2۔ میرے رب مجھے آخرت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرما۔ 3۔ میرے رب میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھنا۔ 4۔ میرے رب مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنانا۔ 5۔ میرے رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

78: اَلَّذِیْ خَلَقَنِیْ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا) ٹھہرنے کی مقررہ جگہ میں رکھ کر فَھُوَیَھْدِیْنِ (پس وہی میری راہنمائی کرنے والے ہیں) دنیاوی راستوں اور مصالح دین کی جانب یھدینی کو صیغہ مستقبل سے لایا گیا ہے حالانکہ عنایت تو پہلے گزر چکی کیونکہ یھدینیؔ اہم و افضل اور کامل واکمل کا احتمال رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا اپنی خدمت کے اسباب کیلئے پس وہی میری راہنمائی آداب خلّت کی طرف فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

78۔ الذی خلقنی فھویھدین، اور وہ ہدایت کے راستے کی طرف ، نجات کے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–85

69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–81

45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 78–80

9 ۔ بیماری ہو یا کوئی اور چیز سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے مگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ازراہ ادب بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:78) الذی اسم موصول۔ مبتدائ۔ خلقنی۔ ماضی واحد مذکر غائب نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم صفت ہے الذی کی فھو مبتدا ثانی۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب ی ضمیر واحد متکلم محذوف، خبر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–82

ف 1:۔ یہ تو میرے اور تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔ ان کی عبادت اور پرستش کرنا خود اپنی ذات سے عداوت کرنا ہے ۔ ہاں اللہ اپنے ماننے والوں کا دوست ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ مجھے اسی نے خلعت وجود بخشا ۔ اور وہی دین ودنیا کی مشکلات میں میری راہ نمائی کرتا ہے ۔ وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں ۔ تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے ۔ وہی مجھے مارے گا ۔ اور قیامت کے دن پھر مجھے زندہ کرلے گا ۔ اسی میں یہ متوقع ہوں ۔ کہ قیامت کے دن میری لغزشوں پر خط عفو کھینچ دے گا ۔ اور مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے لیگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو بتایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو روز مرہ کی ضروریات کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

78۔ رب العالمین ایسا ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا اور عدم محض سے وجود بخشا اور وہی تمام کاموں میں میری رہنمائی فرماتا ہے یعنی جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی اور سب سے آخر میں نبی کریم ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے ظاہر ہوا۔ والذی قدر فھدیٰ سبحان اللہ ! انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم میں کیسی یکسانیت ہے آگے حق تعالیٰ کی مزید صفات فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میرا اللہ وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور میری راہنمائی فرمائی ہے : 78۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی شان ربوبیت کے مختلف مظاہر کی طرف ان کو رغبت دلا رہے ہیں تاکہ وہ ایک ایک بات کو پیش نظر رکھ کر غور کریں کہ کیا ان کے معبودوں میں سے بھی کوئی ایسی شان رکھتا ہے تاکہ خود ہی فیصلہ کریں کہ ہمارے معبودوں میں سے کوئی ایک بھی اس شان کا مالک نہیں آپ نے زیر نظر آیت میں اپنے اللہ کی دو شانوں کا ذکر کیا کہ میرا رب تو وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو کسی کا خالق ہو بلکہ تو سب کے سب مخلوق ہیں اور جو خود مخلوق ہیں وہ کسی کے خالق کیا ہوں گے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57 This is the first reason for which AIlah, and One Allah alone, is worthy of man's worship. The people also knew and believed that Allah alone was their Creator without any partner. Not only they but all the polytheists of the world also have always held the belief that even the deities they worshipped were the creation of Allah, and except for the atheists none have ever denied that Allah is the Creator of the whole universe. This argument of Prophet Abraham implied that being a creature, he could only worship his Creator, Who was alone worthy of his worship, and none else, because none…

Read the full tafseer →