Explained with ayahs 69–77
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی
تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 55
یعنی میں جب غور کرتا ہوں تو مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اگر میں ان کی پرستش کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔ میں ان کی عبادت کو محض بےنفع اور بےضرر ہی نہیں سمجھتا بلکہ الٹا نقصان وہ سمجھتا ہوں، اس لیے میرے نزدیک تو ان کو پوجنا دشمن کو پوجنا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول میں اس مضمون کی طرف بھی اشارہ ہے جو سورة مریم میں ارشاد ہوا کہ واتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا ہ کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہَمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا۔ (آیت 81۔ 82) انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
آیت 77-75
حضرت ابراہیم کا اعلان برأت
افرء یتم کے اسلوب میں تعجب اور اظہار نفرت و بیزاری کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی ذرا ان چیزوں پر نگاہ تو ڈالو جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے رہے اور جن کی پرستش پر تمہیں بھی ناز ہے۔ یہ بالکل بےحقیقت چیزیں ہیں۔ ان کے بارے میں میرا یہ فیصلہ سن لو کہ یہ ساری چیزیں میری دشمن ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں۔ میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی چیز کی پرستش نہیں کرتا۔ ”یہ چیزیں میری دشمن ہیں“ یعنی یہ شیطان کے ایجاد کئے ہوئے پھندے ہیں اور شیطان بنی نوع انسان کا دشمن ازلی ہے جس کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ خلق خدا کو صراط مستقیم سے روکے۔ یہ حضرت ابراہیم کا وہ اعلان برأت ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76-1اس لئے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی ان سے بیزار ہوں۔
77-2یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–79
16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
قال افرئیتم ……الاقدمون (76)
فانھم ……العلمین (77)
یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔
یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب…
Read the full tafseer →14 یعنی لو ! میں بےخوف و خطر اعلان کرتا ہوں کہ تمہارے ان معبودوں سے میری لڑائی ہے۔ میں ان کی گت بنا کر رہوں گا۔ (وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :57) اگر ان میں کوئی طاقت ہے تو مجھ کو نقصان پہنچا دیکھیں۔ کما قال تعالیٰ فی موضع آخر۔ (وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ رَبِّيْ شَـيْــــًٔـا) 6 ۔ الانعام :80) وقال نوح (علیہ السلام) (فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ ) 10 ۔ یونس :71) وقال ہود (علیہ السلام) (فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ) 11 ۔ ہود :55) اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ”
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
52 حضرت ابراہیم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ بت تمہارے دشمن ہیں بلکہ یوں فرمایا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ تاکہ قوم کے لوگ چڑ نہ جائیں اور ضد بازی پر نہ اتر آئیں۔ اور ان کے دشمن ہونے کا ذکر سورة مریم کی آیت نمبر 82 میں موجود ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو آمنے سامنے لا حاضر کرے گا تو یہی معبود خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان، اپنے عبادت کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور کہیں گے کہ احمقو ! تمہیں ہم کب نے کب کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ تو آخرت میں دشمنی ہوئی اور آج یہ میرے دشمن ہیں۔ لہذا یہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں میں حاضر ہوں، میں دیکھوں گا کہ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
59۔ یعنی یہ معبود اور میرا سہارا تو کیا ہوتے، یہ تو اور دشمن ہیں، انہیں کے ذریعہ سے گمراہی پھیل رہی ہے۔ یہ تو واسطہ شرک اور باعث تباہی و بربادی ہیں۔ عدو کا لفظ صدیق کی طرح واحد وجمع دونوں موقعوں پر آجاتا ہے۔ یہاں جمع کے معنی میں ہے۔ والعدو والصدیق یجیئان فی معنی الوحدۃ والجماعۃ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →فانہم عدولی پس بیشک وہ میرے دشمن ہیں۔
اپنا دشمن کہنے سے درپردہ یہ مراد ہے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں تم کو ان کی پوجا کرنے سے ایسا ضرر پہنچے گا جو کسی شخص کو اپنے دشمن سے نہیں پہنچتا۔ مہربان واعظ کی نصیحت کرنے کا یہ مؤثر طریقہ ہی ہے کہ پہلے وہ اپنی ذات کو مخاطب کرتا ہے اور مقصد ہوتا ہے دوسروں کو نصیحت کرنا۔ اسی قسم کا استعمال دوسری آیت میں آیا ہے فرمایا ہے وَمَالِی لاَ اَعْبد الِّذی فطرنی یعنی کیا وجہ کہ تم اپنے خالق کی عبادت نہ کرو۔
جمادات کی طرف دشمن ہونے کی نسبت مجازی ہے یا تو اس وجہ سے کہ وہ ضرر پہنچانے کا ذریعہ ہیں یا اس وجہ سے کہ قیامت کے دن وہ دشمن بن جائیں گے اللہ نے فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(77۔ 78) البتہ ان میں سے وہ جو رب العالمین کی عبادت کرتا ہے کہ جس نے مجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسی نے مجھے دین پر ثابت قدمی عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : ”عَدُوٌّ“ ”فَعُوْلٌ“ کے وزن پر ہے، واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے، اس لیے ”فَاِنَّھُم“ میں جمع کی خبر ہونے کے باوجود واحد آیا ہے۔ یعنی تم اور تمہارے قدیم ترین آبا و اجداد جن چیزوں کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ سب چیزیں میری دشمن ہیں۔ ہاں، اگر ان میں سے کوئی ”رب العالمین“ کی بھی عبادت کرتا رہا ہے، تو صرف ”رب العالمین“ میرا دوست ہے۔
3 یہاں ایک سوال ہے کہ بتوں کے دشمن تو ابراہیم ؑ تھے، بتوں نے ان سے کیا دشمنی کرنا تھی ؟ تو یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ میں ان کا دشمن ہوں، یہ کیوں فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں ؟ اس کے دو جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
(واتل علیھم نبا۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ المستدرک للحاکم، جلد 2 ص 439، دارالکتب العلمیۃ
واتل علیھم نبا ابراہیم مشرکوں کو ان کی انتہائی جہالت پر آگاہ کیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعتقاد و دین سے اعراض کرنے والے تھے جب کہ وہ ان کے جد اعلیٰ تھے۔ نبا کا معنی خبر ہے یعنی اے محمد ! ان پر اس کی خبر، اس کی گفتگو اور قوم جن کی عبادت کرتی تھی اس پر عیب لگانے کو بیان کر دیجئے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ ان پر حجت لازم کردی جائے۔ جمہور قراء دوسرے ہمزے میں تخفیف کرتے ہیں، یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ میں دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں جس طرح آدم۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
ابراہیم کا اپنے والد سے مکالمہ
1۔ عبد بن حید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فنظل لہا عکفین “ یعنی عبادت کرنے والے آیت ” قال ہل یسمعونکم اذ تدعون “ یعنی کیا تمہارے معبودوں نے تم کو کوئی جواب دیا جب تم ان کو پکارتے ہو۔
2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یسمعونکم “ یعنی کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں
Read the full tafseer →فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک وہ سب ] عَدُوٌّ [ دشمن ہیں ] لِّيْٓ [ میرے ] اِلَّا [ سوائے ] رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
36:۔ اسی نے پیدا کیا ہے اور وہی دین و دنیا کے منافع و مصالح کی طرف راہنمائی فرماتا ہے ” والذی ہو یطعمنی الخ “ میرا روزی رساں بھی وہی ہے ” واذا مرضت الخ “ بیماری سے شفاء بھی وہی عطا کرتا ہے۔ ” والذی یمیتنی الخ “ موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ ” والذی اطمع الخ “ اور اسی سے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطا سے درگذر فرمائے گا۔ خطا سے کوئی خاص خطا مراد نہیں ملکہ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے کوئی خلاف اولیٰ کام سرزد ہوگیا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر چونکہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ فرمانبردار اور اس سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں اس لیے وہ عمل کی معمولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
ربط آیات
گزشتہ تین رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات باتفصیل بیان فرمائے۔ اس سورة مبارکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات ان کی فرعون کی طرف روانگی سے شروع ہوئے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی ظالم قوم کو میرا پیغام توحید سنائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تائید چاہی اور ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، شدید کہ وہ مجھے بھی نہ مار ڈالیں ۔ اللہ نے تسلی دی تو آپ فرعون کے پاس پہنچے ۔ اپنی رسالت کا اعلان کیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا ۔ فرعون نے آپ پر بچپن میں کیے گئے احسانات یا دلائے اور…
Read the full tafseer →فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ 77ۙ
عدو
العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال :
رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123]
( ع د و ) العدو
کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
قَالَ اَفَرَئَ یْـتُمْ مَّا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ اَنْـتُمْ وَاٰبَـآؤُ کُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ۔ فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّلِّیْٓ اِلاَّ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 75 تا 77)
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جن کی تم پرستش کیا کرتے ہو۔ تم بھی اور تمہارے گزشتہ آبائواجداد بھی۔ یہ سب میرے تو دشمن ہیں بجز اللہ رب العالمین کے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اعلانِ براء ت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہا کہ جس طرح تمہاری ہر بات کسوٹی پر، پرکھی جاتی ہے، اسی طرح تمہارے آبائواجداد بھی نقدوجرح سے گزرتے ہیں۔ سب کے لیے رہنمائی غور و فکر میں ہے۔ کسی بھی بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–77
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی نفی کرنے کے بعد رب العالمین کا تعارف کرواتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہنمائی فرمائی وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ میں جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ وہی مجھے مارے گا اور وہی مجھے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر رب العالمین کی نو صفات کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذات باری تعالیٰ کے احترام کے پیش نظر بیماری کو اپنی طرف…
Read the full tafseer →77: فَاِنَّھُمْ (پس بیشک وہ) یعنی اصنام عَدُوٌّ لِّیْ (میرے دشمن ہیں) عد و اور صدیق ؔ یہ دونوں لفظ واحد و جمع کیلئے مستعمل ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر تم پوجا کرو تو قیامت کے دن وہ میرے دشمن ہونگے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیھم ضدًا ] مریم : 82[
قول فراء : یہ کلام مقلوب کی قسم ہے مطلب اس طرح ہے : فانی عدولھم ( کہ میں ان کا دشمن ہوں) حالانکہ آپ کے قول میں عدوٌلی ہے عدولکم نہیں۔ ان کی زیادہ خیر خواہی کرتے ہوئے قبولیت حق کی دعوت دی ہے اگر آپ فانہم عدولکم فرماتے تو کلام سے یہ مقصد پورا نہ ہوتا۔
اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (مگر رب العالمین ) ۔
نحو : یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →77۔ فانھم عدولی، وہ میرے دشمن ہیں۔ یہاں پر ہر معبود کو اکیلاذکر کیا ہے۔ کیونکہ ان کو ہر ایک کے ساتھ دشمنی نہوتی ہے۔
سوال : بتوں کے ساتھ عداوت کا ذکر کیا ہے حالانکہ وہ تو بےجان ہیں ؟
جواب : قیامت کے دن وہ دشمن بن جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، سیکفرون بعبادتھم ویکون علیھم ضدا، بعض نے کہا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہمارے پاس آسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی جہت سے کوئی نفع حاصل ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص نہ ان سے دشمنی مول لے سکتا ہے اونہ ہی ان کی جانب سے کوئی نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ الارب العالمین، اس استثناء میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا کہ یہ استثناء منقطع ہے۔ گویا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
8 ۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ اس لئے وہی دنیا و آخرت میں میرا دوست، مربی اور مالک ہے اور وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ میں اس کی عبادت کروں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ” رب العالمین “ کے کسی شریک بغیر لائق عبادت ہونے پر دلائل دینا شروع کئے جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(26:76) الاقدمون ۔ : اقدم کی جمع ہے اقدم افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ قدم سے جس کے معنی آگے ہونے اور سبقت کرنے کے ہیں۔ یعنی تم سے اگلے اور پہلے لوگ۔
فانھم عدولی۔ بیشک یہ میرے دشمن ہیں کیونکہ اگر میں اب ان کی عبادت کرتا ہوں تو یوم قیامت ان کی پرستش مجھے عذاب عظیم میں مبتلا کر دے گی۔ یا یہ مرے دشمن بایں وجہ ہیں کہ اس دنیا میں ان کی پرستش گمراہی اور شرک کے دروازے کھول رہی ہے جو انجام کار تباہی اور بربادی کا باعث بنے گی۔
وقیل ھو من المقلوب المراد فانی عدولہم۔ یا یہ ترکیب مقلوب ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ میں ان کا دشمن ہوں۔
عدو۔ انھم کی خبر ہے قاعدہ کے لحاظ سے یہ جمع (اعدائ) چاہیے لیکن عدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–86
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
[15] یعنی میں ان کی عبادت میں سراسر اپنا نقصان دیکھتا ہوں۔ یہ تو باعث تباہی و بربادی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
ف 1:۔ یہ تو میرے اور تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔ ان کی عبادت اور پرستش کرنا خود اپنی ذات سے عداوت کرنا ہے ۔ ہاں اللہ اپنے ماننے والوں کا دوست ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ مجھے اسی نے خلعت وجود بخشا ۔ اور وہی دین ودنیا کی مشکلات میں میری راہ نمائی کرتا ہے ۔ وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے ۔ اور جب میں بیمار پڑتا ہوں ۔ تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے ۔ وہی مجھے مارے گا ۔ اور قیامت کے دن پھر مجھے زندہ کرلے گا ۔ اسی میں یہ متوقع ہوں ۔ کہ قیامت کے دن میری لغزشوں پر خط عفو کھینچ دے گا ۔ اور مجھے اپنی آغوش رحمت میں لے لیگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو بتایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو روز مرہ کی ضروریات کو…
Read the full tafseer →77۔ یہ تمام باطل معبود جن کی تم پرستش کرتے ہو یہ میرے مخالف اور میری تبلیغ کے لئے باعث ضرر ہیں مگر ہاں رب العالمین میرا دوست اور میرا مددگار ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت عمدہ پیرائے سے بتوں کی مذمت کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی جانب متوجہ کیا ان کو مخالف اور معاند اور دشمن قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی دوستی اور مدد کا اعلان فرمایا اور معبودان باطلہ کے وجود کو توحید کا دشمن ٹھہرایا اور آگے اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان شروع کردیا تاکہ قوم کی توجہ ناقص سے ہٹ کر کامل کی جانب لگ جائے بتوں کی پوجا ضرر رساں ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سراسرنافع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
ف 6۔ یعنی اگر ان کی عبادت کی جاوے، خواہ نعوذ باللہ میں کروں یا تم کرو، تو بجز ضرر کے اور کوئی نتیجہ نہیں۔
7۔ وہ ایسا ہے کہ وہ اپنے عابدین کا دوست ہے، اور اس کی عبادت سرتاسر نافع ہے۔
Read the full tafseer →اگر تم نہیں بولتے تو میرا اعلان برات کان کھول کر سن لو :
77۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب والد اور قوم کی طرف سے کوئی واضح جواب نہ ملا تو انہوں نے اپنی بیزاری کا اعلان کردیا یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے بیزاری کا اعلان کس سے کیا ؟ ان لوگوں سے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے تھے یعنی والد اور اپنی قوم کے لوگ یا جن کی وہ پرستش کرتے تھے ؟ یہ ان نظریات کی جو آپ کے والد اور آپ کی قوم کے تھے ؟ ہمارے مفسرین کی اکثریت کا بیان یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کی بیزاری یا دشمنی کا اعلان کیا ہے کہ میں ان بتوں سے بیزار ہوں یا ان سے دشمنی رکھتا ہوں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ایسا کہنے اور سمجھنے سے بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →55 That is "When I consider them, I see that if I worship them, I shall ruin myself both in this world and in the Hereafter. As their worship is clearly harmful, worshipping them is worshipping one's enemy." These words of Prophet Abraham bear a close connection with verses 81, 82 of Surah Maryam, which say: "These people have set up other gods than Allah so that they may become their supporters. But they will have no supporter; all of them will not only disown their worship but also become their opponents (on the Day of Judgment)."
It should be noted that Prophet Abraham did not say, "They…
Read the full tafseer →