Explained with ayahs 49–51
جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ
سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر وثبات کا کیا کہنا ؟ فرعون جیسا ظالم وجابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بےخوف ہو کر اس کی منشا کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہوگئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آگئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہوگئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة الشُّعَرَآء 40
یعنی ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا تو بہرحال ایک نہ ایک دن ضرور ہے۔ اب اگر تو قتل کر دے گا تو اس سے زیادہ کچھ نہ ہوگا کہ وہ دن جو کبھی آنا تھا، آج آجائے گا۔ اس صورت میں ڈرنے کا کیا سوال ؟ ہمیں تو الٹی مغفرت اور خطا بخشی کی امید ہے کیونکہ آج اس جگہ حقیقت کھلتے ہی ہم نے مان لینے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہ کی اور اس پورے مجمع میں سب سے پہلے پیش قدمی کر کے ہم ایمان لے آئے۔
جادوگروں کے اس جواب نے دو باتیں تمام اس خلقت کے سامنے واضح کردیں جسے فرعون نے ڈھنڈورے پیٹ پیٹ کر جمع کیا تھا۔
اول یہ کہ فرعون نہایت جھوٹا، ہٹ دھرم اور مکار ہے۔ جو مقابلہ اس نے خود فیصلے کے لیے کرایا تھا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قَالُوْا لَا ضَيْرَ ۡ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ، یعنی جب فرعون نے جادوگروں کو قبول ایمان پر قتل کی اور ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو جادوگروں نے بڑی بےپروائی سے یہ جواب دیا کہ تم جو کچھ کرسکتے ہو کرلو۔ ہمارا کوئی نقصان نہیں، ہم قتل بھی ہوں گے تو اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے جہاں آرام ہی آرام ہے۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ جادوگر جو عمر بھر جادوگری کے کفر میں مبتلا، اس پر مزید فرعون کے دعویٰ خدائی کو ماننے والے اور اس کی پرستش کرنے والے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ دیکھ کر اپنی پوری قوم کے خلاف، فرعون جیسے ظالم جابر بادشاہ کے خلاف ایمان کا اعلان کردیں یہی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 51-50
لاضیر ضیر کے معنی حرج اور ضرور کے ہیں۔ اور ان کنا اصل میں لان کنا ہے۔ زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ل یہاں حذف ہوگیا ہے۔
فوز ایمان کا کرشمہ
فرعون نے دھمکی تو بہت بڑی دے دی لیکن اس کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اب یہ ساحر وہ ساحر نہیں ہیں جنہوں نے بڑی لجاجت سے اس سے انعام کی درخواست کی تھی بلکہ نور ایمان ایک ہی جھلک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں پہنچ کر فرعون اور اس کی ساری سلطنت کی ان کی نگاہوں میں بال مگس کے برابر بھی وقعت باقی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے بڑی بےخوفی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر ہم کو یہ سزا ملی جس کی دھمکی دی گئی ہے تو اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے، ہم بہرحال اپنے رب ہی…
Read the full tafseer →50-1لاضیر۔ کوئی حرج نہیں یا ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ یعنی اب جو سزا چاہے دے لے، ایمان سے نہیں پھر سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قالوا الاضیر ……المئومنین (26 : 51) ” ۔ “ کچھ پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کی اب کوئی فکر نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ پائوں کاٹے جائیں۔ تشدد اور سولی کی سزا کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ موت اور شہادت سے ہم نہیں ڈرتے ۔ ہمیں تو ان باتوں کی کوئی پروا نہیں ہے ، اگر ہم مر گئے تو ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر اس زمین کی زندگی میں رکھا گیا ہے ؟ ہمارا مطمح نظر تو اب یہ ہے۔
ان یغفرلنا ربنا خطینا (26 : 51) ” کہ ہمارا رب ہمارے خطائیں معاف کر دے۔ “ اور یہ خطائیں اس اعزاز کی وجہ سے معاف کر دے کہ
ان کنا اول المئومنین (26 : 51) ” یہ کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بن گئے۔ “ اب ہمیں سابقین اولین کا درجہ حاصل ہے۔
اے…
Read the full tafseer →5 یعنی بہرحال مر کر خدا کے یہاں جانا ہے، اس طرح مریں گے، شہادت کا درجہ ملے گا، یہ سب مضامین سورة " اعراف " وغیرہ میں گزر چکے ہیں۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 51 اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ ”
اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔
اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول علیہ السلام کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
38 مقابلہ سے پہلے جادوگروں کی یہ حالت تھی کہ وہ فرعون سے انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے التجا کر رہے تھے لیکن جب وہ علی وجہ البصبرت صدق دل سے ایمان لے آئے تو ان کے ذہن میں یک لخت انقلاب آگیا۔ جیسے یکدم کسی کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کے ایمان نے ان میں اتنی جرات پیدا کردی تھی کہ اب وہ اسی جابر اور ظالم فرعون کی سولی کی دھمکی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے تھے وہ یک زبان ہو کو بول اٹھے تم جتنا بڑا سلوک ہم سے کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ زیادہ سے زیادہ تم ہمیں مار ہی سکتے ہو۔ اس سے زیادہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکو گے مگر ہمیں جو دولت ایمان میسرآئی ہے وہ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر…
Read the full tafseer →43۔ (جو حقیقی امن و عافیت اور دائمی راحت کا ٹھکانا ہے) ۔ اللہ اللہ توحید کا عقیدہ بھی سکون خاطر بہم پہنچا دینے میں کس درجہ مؤثر ہوتا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →قالوا لاضیر جادوگروں نے کہا (اس میں ہمارا) کوئی ضرر نہیں۔ جادوگروں نے ایسا اس لئے کہا کہ اس قتل اور سخت عذاب سے تو ان کو مرتبۂ شہادت اور اجر جزیل حاصل ہونے والا تھا جس کے مقابلہ میں دنیوی دکھ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
انا الی ابنا منقلبون۔ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہی ہیں۔
تیرے ہاتھوں سے یا کسی اور سبب سے ہم تو مرنے والے ہیں اگر تو قتل کر دے گا تو ہمارے لئے سب سے زیادہ مفید رہو گا۔
Read the full tafseer →(50) انھوں نے جواب دیا جو دنیا میں ہمارے ساتھ برتاؤ کرے گا اس سے ہمارا آخرت میں کوئی نقصان نہیں ہوگا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے عطا کردہ ثواب کے پاس جا پہنچیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قَالُوْا لَا ضَيْرَ۔۔ : ”لَا ضَيْرَ“ کوئی نقصان نہیں۔ ”ضَارَ یَضِیْرُ ضَیْرًا“ اور ”ضَرَّ یَضُرُّ ضَرًّا“ ہم معنی ہیں، یعنی بہرحال اللہ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے، اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] لَا ضَيْرَ ۡ [ کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف نہیں ہے ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِلٰى رَبِّنَا [ اپنے رب کی طرف ] مُنْقَلِبُوْنَ [ لوٹنے والے ہیں ]
ض ی ر
(ض) ضیرا نقصان دینا۔ تکلیف پہنچانا۔
ضیر اسم ذات بھی ہے۔ نقصان ۔ تکلیف۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 50 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا
سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
27:۔ یہ ” لا ضیر “ کی دوسری تعلیل ہے۔ ” ان کنا “ ای لان کنا۔ اور ہمیں اس لیے بھی پرواہ نہیں کیونکہ ہمیں اس بات کی آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمادے کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَا ضَيْرَ 0ۡاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ 50ۚ
ضير
الضَّيْرُ : المَضَرَّةُ ، يقال : ضارّه وضرّه . قال تعالی: لا ضَيْرَ إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ
[ الشعراء/ 50] ، وقوله : لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً [ آل عمران/ 120] .
( ض ی ر ) الضیر ( ض ) کے معنی مضرت اور گزند کے ہیں اور ضارہ وضرہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کسی کو نقصان اور تکلیف پہنچانا۔ قرآن میں ہے ؛ لا ضَيْرَ إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الشعراء/ 50] کچھ نقصان ( کی بات ) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ اور فرمایا ؛ لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً [ آل عمران/ 120] ان کا فریب تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قَالُوْا لاَ ضَیْرَ ز اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰـنَـآ اَنْ کُنَّـآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 50، 51)
(انھوں نے جواب دیا کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ )
ایمان کی حیرت انگیز قوت
حیرت ہوتی ہے کہ یہ جواب وہ لوگ دے رہے ہیں جو اس معرکے کے آغاز میں نہایت لجاجت سے فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کا مطالبہ کررہے تھے، گویا کہ ان کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا ہدف درہم و دینار یا وہ عزت و شہرت تھی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : جادوگردوں کی طرف سے فرعون کی دھمکیوں کا جواب۔
ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں اعلان کیا کہ تمہاری دھمکیوں اور سزا کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مرنے کے بعد ہم اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ کیونکہ ہم اس پر پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کو یہ بھی کہا کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے رب اور اس کے دلائل پر تجھے ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتا ہے کرلے۔ تیری سزا اس دنیا کی زندگی تک ہے ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ…
Read the full tafseer →50: قَالُوْا لَاضَیْرَ (انہوں نے کہا کوئی ضرر نہیں) اس میں ضیرؔ ضرر کے معنی میں ہے۔ اور لاؔ کی خبر محذوف ہے ای فی ذلک نمبر 2۔ ہم پر کوئی ضرر نہیں۔ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (بیشک ہم تو اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(49 تا 51) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدہ میں گر پڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے ان کو یوں ڈرایا تھا کہ تمہارے اس جرم کی جو سزا تجویز کی جائے گی وہ تم کو معلوم ہوجائے گی اب وہ سزا کا حکم سنایا اور کہا کہ پہلے میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ خاص ایک نئی سزا تھی جو فرعون نے نکالی تھی کہ جس پر خفا ہوتا تھا اس کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹا کرتا تھا مفسرین سلف کا اس باب میں اختلاف ہے کہ فرعون نے جس سزا کا ڈراوا جادوگروں کو دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
32 قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ان سچے ایمانداروں نے فرعون کی اس ہولناک دھمکی کے جواب میں پورے اطمینان سے کہا کہ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سو جب جانا بہرطور اسی کے پاس ہے تو اگر شہادت کے ذریعے جانا نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ۔ ایمان کی قوت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ کہاں کفر کی حالت میں پہلے ہی قدم پر یہی جادوگر یہ سوال کرتے تھے کہ جیتنے پر ہمیں کیا صلہ و انعام ملے گا ؟ اور کہاں ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اب یہی لوگ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے۔ اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(26:50) ضمیر۔ ڈر۔ ضرر۔ مضرت۔ ضار یضر کا مصدر ہے جس کے معنی نقصان کرنے اور ضرر پہنچانے کے ہیں۔
منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ منقلب واحد انقلاب مصدر قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ لوٹ کر جانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(ف 1) حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدے میں گرپڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے سزا کا حکم سنایا کہ پہلے میں تمہارا یک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا کیونکہ تم نے میری مرضی کے خلاف کام کیا ہے فرعون کی دھمکی کا جواب جادوگروں نے یہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں ہم کو تو اپنے رب کے پاس لوٹ کر ہی جانا ہے اور ہم اس موقعہ پر حاضرین میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوکر اللہ تعالیٰ کی جناب میں حاضر ہوئے ہیں تو ہم کو دنیا کے عذاب کا کچھ خوف نہیں بلکہ ہم تو اللہ کی ذات سے یہ امید ہے کہ نادانی سے اتنے دنوں تک اللہ کی نافرمانی کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
[12] یہ ذکر اس وقت کا ہے جب حضرت موسیٰ کو تبلیغ کرتے ایک عرصہ گزر گیا اور فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر سلسلہ آزار جاری رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
نشہ ایمان اور حلاوت اسلامی
1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ جادوگر موسیٰ کے معجزات و کمالات کے قائل ہوگئے ہیں ۔ اور غیر متوقع طور پر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔ تو سخت گھبرایا ۔ اور غصے سے بےتاب ہوگیا ۔ کہنے لگا ۔ کہ تم نے بغیر میری اجازت کے موسیٰ و ہارون کے مسلک کو قبول کرلیا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ یہ بڑاجادوگر ہے اور تمہارا استاد ہے ۔ تم نے پہلے سے آپس میں سمجھوتہ کر رکھا ہی وجہ ہے کہ موسیٰ کے غالب آتے ہی تم تبدیلی مذہب کا اعلان کردیا ۔ بہ بہت بھاری جرم ہے ۔ میں تمہیں سخت عبرتناک سزا دوں گا ۔ تمہارے ہاتھ پاؤں آرا سے ترچھے کٹوادوں گا ۔ اور تم سب کو بالآخر سولی پر چڑھوا دوں گا ۔ انہوں نے اس دھمکی…
Read the full tafseer →50۔ ان نو مسلم یعنی جو ابھی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے پروردگار پر ایمان لائے تھے جادوگروں نے کہا کوئی ضرر اور نقصان نہیں یقینا ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یعنی ہم موت سے ڈرتے نہیں مرنے کے بعد تو اپنے مالک کے پاس پہونچ جائیں گے جہاں ہر قسم کا آرام میسر ہوگا لہٰذا ہمیں کوئی نقصان نہیں الموت حبہ یوصل الحبیب الی الحبیب خالص ایمان کی یہی شان ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔
5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔
Read the full tafseer →کل کے ساحروں اور آج کے مومنوں نے اس سزا کو بخوشی قبول کرلیا :
50۔ ایمان کا نشہ بھی ایسا نہیں کہ وہ ایسی گیدڑبھبکیوں سے ہرن ہوجائے وہ جن لوگوں کو چڑھ جاتا ہے ان کو موت زندگی دکھائی دیتی ہے اور وہ اس زندگی کو موت سمجھنے لگتے ہیں جس کا انجام بہرحال موت ہے یہی حال ان ایمان مست لوگوں کو ہوا جو کل کے ساحر اور آج کے سچے مومن تھے انہوں نے بھی فرعون کے اس اعلان پر جو اس نے ان کی سزا کے لئے کیا ذرا پروا نہ کی بلکہ ان کی جرات و شجاعت کے خفیہ جذبات بیدار ہوگئے اور انہوں نے تمام خطرات سے بےنیاز ہو کر اعلان کردیا کہ ہمیں تیری اس سزا کی ذرا پروا نہیں اور ہم اپنے حقیقی پروردگار کی طرف لوٹنے کے لئے ہر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, "There is no harm. We are to return to our Lord. (26:50)
When the Pharaoh threatened the magicians to kill them, and to cut their limbs and to crucify them, the magicians replied rather indifferently, the gist of their reply was, ` You do whatever you can. We shall lose nothing. Even if we are killed we will go back to our Lord, where there is nothing but comfort'.
It is worth noting here that the magicians who had involved all their lives practicing the sinful sorcery and who believed in the Pharaoh's claim to be a god,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
40 That is, "We have to return to our Lord in any case. If you kill us now, we shall present ourselves before Him just today, and we have nothing to worry in this. We rather expect that we shall be forgiven our sins and errors because out of this eatire gathering we were the first to believe as soon as reality became known to us."
This reply of the magicians made two things absolutely clear to the people who had been gathered together by Pharaoh heralds
: First, that Pharaoh was a dishonest obdurate and deceitful person. When he saw that Moses had come out successful in the contest which he…
Read the full tafseer →