Explained with ayahs 49–51
جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ
سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر وثبات کا کیا کہنا ؟ فرعون جیسا ظالم وجابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بےخوف ہو کر اس کی منشا کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہوگئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آگئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہوگئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 38
یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ دکھانا ہے کہ ایک ضدی اور ہٹ دھرم آدمی کس طرح ایک صریح معجزہ دیکھ کر، اور اس کے معجزہ ہونے پر خود جادوگروں کی شہادت سن کر بھی اسے جادو کہے جاتا ہے، اس لیے فرعون کا صرف اتنا ہی فقرہ نقل کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے، لیکن سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے بازی ہارتی دیکھ کر فوراً ہی ایک سیاسی سازش کا افسانہ گھڑ لیا۔ اس نے کہا اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْھَآ اَھْلَھَا " یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے مل کر اس دارالسلطنت میں تیار کی ہے تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)
Read the full tafseer →فرعون کی طرف سے سازش کا ہوا
بھرے میدان میں اس طرح کی شکست سے ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی نہایت سخت رسوائی ہوئی لیکن فرعون آسانی سے شکست ماننے والا آدمی نہیں تھا۔ اس نے حالات کو سنبھالنے کے لئے فوراً ایک سازش کا ہوا کھڑا کردیا۔ ساحروں سے کہا، تم نے میری اجازت کے بغیر اس طرح سب کے سامنے اس شخص پر اپنے ایمان کا جو اعلان کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے۔ تمہاری اور اس کی پہلے سے ملی بھگت تھی کہ اس طرح تم سب کے سامنے اپنی شکست مان لو گے جس سے اس کی دھاک سب کے دلوں پر بیٹھ جائے گی اور ملک کے اندر انقلاب برپا کرنے کی راہ اس شخص کے لئے ہموار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
49-1فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعے وہ فتح و غلبہ کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غور و فکر سے کام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اور تمہارا استاد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →قال امنتم ……اجمعین (26 : 39) ” ۔ “ تم میری اجازت کے بغیر میرے مشورے کے بغیر ہی موسیٰ کی بات مان کر سجدہ ریز بھی ہوگئے۔ یہاں اس نے یہ نہیں کہا امنتم بہ ” تم اس پر ایمان لائے “ بلکہ اس نے امنتم لہ کہا یعنی تم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور میری اجازت کے بغیر جس طرح کوئی شخص جنگی چال چلتا ہے اپنے ارادے کا مالک ہوتا ہے ، وہ اپنے ہدف کو جانتا ہے اور اپنے انجام کا اندازہ کرتا ہے۔ ایسا شخص جو ہر کام منصوبہ بندی سے کرتا ہے وہ اس قدرتی لمحے اور اس قدر تی ٹچ کو نہیں سمجھ سکتا جس کی گرفت میں جادوگروں کے دل آگئے۔ سرکش حکمران ایسے لمحات کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ان کے دل پتھر ہوجاتے ہیں اور وہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
4 یعنی موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے، آپس میں سازش کر کے آئے ہو کہ تم یہ کرنا، ہم یوں کہیں گے اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " تمہارا بڑا " کہا رب کو " یعنی موسیٰ اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو " واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ”
فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا !
اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”
کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
37 فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا اقرار کرلیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہوگیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہذا اب دو تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے ہی اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہیساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادوگر تو پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →42۔ سولی پر چڑھانے اور اعضاء کے قطع کردینے کی سزائیں مصری حکومت میں رائج تھیں، مفصل حاشیہ کے لیے ملاحظہ ہوں سورة اعراف پ 9 کے حاشیے۔ (آیت) ” قبل ان اذن لکم “۔ قبل کے معنی یہاں پیشتر کے نہیں، اور نہ یہ مراد ہے کہ اگر فرعون سے اجازت لے لی جاتی تو وہ اس کی اجازت دے دیتا۔ بلکہ معنی بغیر یابدون کے ہیں، اور قبل کے اس مفہوم نفی پر حاشیہ اس سے قبل گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر فرعون نے کہا میری اجازت
کے بغیر ہی تم نے اس کی بات (یعنی معجزہ) کا یقین کرلیا۔ (حقیقت میں یہ تمہاری سب کی سازش ہے) موسیٰ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔
یعنی فرعون کو یہ اندیشہ ہوگیا کہ لوگ جادوگروں کے ایمان لانے سے بہک جائیں گے اور خیال کرنے لگیں گے کہ جادوگروں کے سامنے حق کا ظہور ہوگیا اس لئے وہ ایمان لے آئے پس قوم کو دھوکہ دینے اور حقیقت کو مشتبہ بنانے کے لئے اس نے کہا میری اجازت کے بغیر تم نے موسیٰ (کی اس کرشمۂ سازی) کا یقین کرلیا۔
اٰمَنْتُمْ میں ہمزۂ استفہام انکاری محذوف ہے۔
عَلَّمَکُمُ السِّحْرَیعنی اسی نے تم کو جادو…
Read the full tafseer →(49) فرعون نے ان سے کہا کیا رب العالمین سے معاذ اللہ میری ذات مراد ہے انہوں نے کہا نہیں بلکہ جو موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کا رب ہے۔
فرعون نے کہا میرے حکم دینے سے پہلے ہی تم حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئے، معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جادو میں تم سب کا استاد ہے ابھی تمہیں حقیقت معلوم ہوجاتی ہے جو میرا تمہارے ساتھ برتاؤ ہوگا میں تمہارا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر کٹواؤں گا اور مصر کی نہر کے کنارے پر تم سب کو سولی پر لٹکواؤں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
قَالُوْا لَا ضَيْرَ۔۔ : ”لَا ضَيْرَ“ کوئی نقصان نہیں۔ ”ضَارَ یَضِیْرُ ضَیْرًا“ اور ”ضَرَّ یَضُرُّ ضَرًّا“ ہم معنی ہیں، یعنی بہرحال اللہ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے، اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگوں نے بات مان لی ] لَهٗ [ اس کی ] قَبْلَ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] اٰذَنَ [ میں اجازت دینا ] لَكُمْ ۚ [ تم لوگوں کو ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ [ تم لوگوں کا وہ بڑا ہے جس نے ] عَلَّمَكُمُ [ سکھایا تم لوگوں کو ] السِّحْرَ ۚ [ جادو کرنا ] فَلَسَوْفَ [ تو یقینا عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ ڛ [ تم لوگ جان لوگے ] لَاُقَـطِّعَنَّ [ میں لازما کاٹوں گا ] اَيْدِيَكُمْ [ تمہارے ہاتھوں کو ] وَاَرْجُلَكُمْ [ اور تمہارے پیروں کو ] مِّنْ خِلَافٍ [ مخالف (طرف) سے ] وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ [ اور میں لازما پھانسی دوں گا تم لوگوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا
سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
25:۔ فرعون جادوگروں کی ناکامی پر سخت پریشان اور پھر ان کے ایمان لانے پر بہت برہم ہوا اور اپنی خفت مٹانے اور رعیت پر اپنی خدائی کا رعب جمانے اور لوگوں کے دلوں سے اس ناکامی کا اثر زائل کرنے اور جادوگروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس نے کہا۔ تم میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ تم سب کا اس فن میں استاد ہے اور تم سب نے مل کر ایک منصوبہ بنا رکھا ہے اور تم جادو کے زور سے میری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ اچھا دیکھو ابھی میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں اور میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ اب تمہارے الٹے ہاتھ پاؤں (یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں) کٹوا کر تمہیں سولی پر لٹکا دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ 0ۚ اِنَّہٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ 0 ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 0ۥۭ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ 49ۚ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →قَالَ اٰمَنْـتُمْ لَـہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَـکُمْ ج اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 5 ط لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَـکُمْ مِّنْ خِلاَفٍ وَّلاَ وُصَلِّبَنَّـکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الشعرآء : 49)
(فرعون نے کہا تم نے اس کو مان لیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں، ضرور یہ تمہارا بڑا (گرو) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تو تم عنقریب جان لو گے میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ )
فرعون کی سیاست کاری
ساحرانِ مصر کا اس طرح برملا ایمان کا اعلان کرنا اور اعترافِ حق میں سجدہ ریز ہوجانا، یہ ایسی بات تھی جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن
ربط کلام : جادوگروں کے ایمان لانے کا اعلان سن کر فرعون کا الزام اور اس کی دھمکیاں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے۔ لیکن فرعون نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے شاطرانہ انداز میں اعلان کیا کہ دراصل موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے۔ اسی نے تمہیں جادو سکھایا اور تمہارے ساتھ مل کر سازش کی ہے۔ جس بنا پر تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو۔ لہٰذا تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں، یاد رکھو کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت پر کاٹ ڈالوں گا اور ہر صورت تمہیں سولی پر لٹکاؤں…
Read the full tafseer →فرعون کی دھمکی اور ساحروں کا مؤمنانہ جواب :
49: قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ ٰاذَنَ لَکُمْ (فرعون نے کہا میری اجازت کے بغیر تم ایمان لے آئے ہو) اس پر اِنَّہٗ لَکَبِیْرُ کُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ (حقیقت میں وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا) تم نے ایک سازش پر موافقت کرلی ہے۔ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (تم عنقریب جان لو گے) اس فعل کی سزا جو تم نے کیا ہے پھر اس نے تصریح کرتے ہوئے کہا۔ لَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ (میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوا دونگا) اس مخالفت کی وجہ سے جو تم سے ظاہرہوئی ہے۔ وَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(49 تا 51) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدہ میں گر پڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے ان کو یوں ڈرایا تھا کہ تمہارے اس جرم کی جو سزا تجویز کی جائے گی وہ تم کو معلوم ہوجائے گی اب وہ سزا کا حکم سنایا اور کہا کہ پہلے میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ خاص ایک نئی سزا تھی جو فرعون نے نکالی تھی کہ جس پر خفا ہوتا تھا اس کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹا کرتا تھا مفسرین سلف کا اس باب میں اختلاف ہے کہ فرعون نے جس سزا کا ڈراوا جادوگروں کو دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
32 قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ان سچے ایمانداروں نے فرعون کی اس ہولناک دھمکی کے جواب میں پورے اطمینان سے کہا کہ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سو جب جانا بہرطور اسی کے پاس ہے تو اگر شہادت کے ذریعے جانا نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ۔ ایمان کی قوت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ کہاں کفر کی حالت میں پہلے ہی قدم پر یہی جادوگر یہ سوال کرتے تھے کہ جیتنے پر ہمیں کیا صلہ و انعام ملے گا ؟ اور کہاں ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اب یہی لوگ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →3 ۔ اور تم سب استاد اور شاگردوں نے سازش کر کے یہ کھیل کھیلا۔ یا کہ لوگوں کو دکھلانے کے لئے استاد سے ہار گئے تاکہ سب لوگ استاد کے معتقد ہوجائیں اور پھر ہماری بادشاہی چھین لو۔ (کبیر) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” تمہارا بڑا “ کہنا رب کو۔ یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو۔ (موضح) واللہ اعلم۔
4 ۔ یعنی دایاں ہاتھ تو بائیں ٹانگ اور بایاں ہاتھ تو دائیں ٹانگ۔
Read the full tafseer →(26:49) قبل۔ یہاں پیشتر کے معنی میں نہیں بلکہ بدوں یا بغیر کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
اذن لکم : اذن واحد متکلم مضارع۔ نصب بوجہ ان ہے۔ اذن مصدر۔ (باب سمع) اذن یاذن اذن ۔ ل حکم دینا۔ اجازت دینا۔ قبل ان اذن لکم بغیر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔
انہ میں ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر۔ دراصل وہی تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔
فلسوف تعلمون۔ میںتعقیب کا ہے لام تاکید کے لئے آیا ہے عبارت یوں ہے فلانتم سوف تعلمون وبال ما فعلم سو تم جلدی ہی اپنے کئے کی سزا پولو گے۔
لاقطعن لام تاکید کا اقطعن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(ف 1) حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدے میں گرپڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے سزا کا حکم سنایا کہ پہلے میں تمہارا یک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا کیونکہ تم نے میری مرضی کے خلاف کام کیا ہے فرعون کی دھمکی کا جواب جادوگروں نے یہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں ہم کو تو اپنے رب کے پاس لوٹ کر ہی جانا ہے اور ہم اس موقعہ پر حاضرین میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوکر اللہ تعالیٰ کی جناب میں حاضر ہوئے ہیں تو ہم کو دنیا کے عذاب کا کچھ خوف نہیں بلکہ ہم تو اللہ کی ذات سے یہ امید ہے کہ نادانی سے اتنے دنوں تک اللہ کی نافرمانی کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 46 صفحہ 384۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
نشہ ایمان اور حلاوت اسلامی
1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ جادوگر موسیٰ کے معجزات و کمالات کے قائل ہوگئے ہیں ۔ اور غیر متوقع طور پر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔ تو سخت گھبرایا ۔ اور غصے سے بےتاب ہوگیا ۔ کہنے لگا ۔ کہ تم نے بغیر میری اجازت کے موسیٰ و ہارون کے مسلک کو قبول کرلیا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ یہ بڑاجادوگر ہے اور تمہارا استاد ہے ۔ تم نے پہلے سے آپس میں سمجھوتہ کر رکھا ہی وجہ ہے کہ موسیٰ کے غالب آتے ہی تم تبدیلی مذہب کا اعلان کردیا ۔ بہ بہت بھاری جرم ہے ۔ میں تمہیں سخت عبرتناک سزا دوں گا ۔ تمہارے ہاتھ پاؤں آرا سے ترچھے کٹوادوں گا ۔ اور تم سب کو بالآخر سولی پر چڑھوا دوں گا ۔ انہوں نے اس دھمکی…
Read the full tafseer →49۔ فرعون یہ دیکھ کر گھبرایا اور اپنا پر سٹیج قائم کرنے کی غرض سے جادوگروں کو خطاب کرتے ہوئے کہنے لگا اس سے پیشتر کہ میں تم کو اس پر ایمان لانے کی اجازت دو تم اس پر ایمان لے آئے ۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سب کا بڑا استاد ہے جس تے تم کو جادو سکھایا ہے تم کو ابھی اپنی اس حرکت کا نتیجہ معلوم ہواجاتا ہے اور تم یقینا ابھی جان لوگے میں تم سب کے یقینا ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوائوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا۔ یعنی فرعون کو اندیشہ ہوا کہ کہیں عام لوگ اسلام نہ قبول کرلیں اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان نہ لے آئیں اس لئے جادوگروں کو دھمکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔
5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔
Read the full tafseer →فرعون نے ساحران مصر کو سازشی اور غدار قرار دے دیا :
49۔ فرعون اور بھرے میلہ میں اس کی یہ حالت اور واضح شکست نے اس وقت کیا سماں باندھ دیا ہوگا لیکن اکثر لوگ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد پھر بھی خاموشی ہی اختیار کرتے ہیں خصوصا جب کہ شکست کھانے والی کوئی بڑی طاقتور جماعت ہو اور یہی معاملہ اس جگہ ہوا اس کو شکست نہ ماننا تھی اور نہ مانی بلکہ الٹا اس نے اپنے ہی بلائے گئے ساحران مصر کو سازشی اور غدارقرار دیا کہ اچھا ہم تو سمجھ ہی سکے کہ تم لوگ تو دراصل موسیٰ کے ساتھ اندر سے ملے ہوئے تھے اور یہ جو کچھ ہوا تم لوگوں کی ملی بھگت سے ہوا ۔ میرا رب ہونا آج کی بات نہیں تمہارا باپ دادا سے تسلیم ہوتا چلا آرہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ (By the majesty of the Pharaoh - 26:44). This was an expression of pledge from the magicians, which was in vogue in the olden times. It is unfortunate that similar oaths have now become common among the Muslims as well, which are even more evil and vile, for instance, 'by the king,' 'by the head of yours,' 'by the beard of yours,' 'by the grave of your father' etc. It is not permitted to make an oath of this nature under the Islamic law (because swearing in the name of someone other than Allah is a sin). Rather, it will not be wrong to say that swearing a true oath in…
Read the full tafseer →38 This only shows the extreme obstinacy and obduracy of Pharaoh, who even after witnessing a clear miracle and the testimony of the magicians on it, was still insisting that it was magic. But according to Al-A`raf: 123, Pharaoh said, "Indeed it was a plot you conspired in the capital to deprive the rightful owners of their power." Thus he tried to make the people believe that the magicians had yielded to Moses not because of the miracle but due to a conspiracy with Moses before they entered the contest, so that they might seize political power and enjoy its fruits together.
39 This horrible…
Read the full tafseer →