Ash-Shu'araa 26:218

Ash-Shu'araa · from ayah 218

26:218

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۟ۙالَّذِىۡ يَرٰٮكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ‏

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who sees you when you arise

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:218

جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو تمہیں اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو تجھے دیکھتا ہے، جب تو کھڑا ہوتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو آپ کو اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس خدا پر تمہیں دیکھتا ہے اس وقت جب تم اٹھتے ہو اور دیکھتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو دیکھتی ہے آپ کو اس وقت بھی کہ جب آپ کھڑے ہوتے ہیں اور جو نگاہ رکھے ہوئے ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جو آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو دیکھتا ہے آپ ﷺ کو جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب آپ قیام کرتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who observes you when you rise (to pray)

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Who sees you when you stand (in prayer,)

— Muhammad Taqi Usmani

Who sees you when you stand (in prayer,)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who sees you when you stand up.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who seeth thee when thou standest up (to pray)

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who sees you when you arise

— Saheeh International

who can see whether you stand up

— Muhammad Sarwar

Who sees you when you stand up.

— Muhammad Habib Shakir

Who seeth thee when thou standest up

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:218

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 213–220

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 138 اٹھنے سے مراد راتوں کو نماز کے لیے اٹھنا بھی ہوسکتا ہے اور فریضۂ رسالت ادا کرنے کے لیے اٹھنا بھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 214–223

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 218–220

آیت 220-218 یہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی شب خیزی، فکرمندی اور طلب رضائے الٰہی میں سرگرمی و مستعدی کی نہایت شاندار ودل نواز انداز میں تعریف و تحسین ہے کہ اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھو جو تمہیں اس وقت دیکھتا ہے جب تم شب میں تہجد کے لئے اٹھتے ہو اور اس سے دعا و مناجات کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ مند ہوں۔ تمہاری یہ ساری سرگرمیاں تمہارے رب کے علم میں ہیں۔ وہ سمیع وعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کے علم میں ہیں تو یہ ضائع جانے والی نہیں۔ تمہارا رب عزیز و رحیم ہر مشکل میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ حین تقوم کی تاویل میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں اور ان میں سے ہر قول کی صحت کا احتمال ہے لیکن تقلبک فی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 215–219

219-1یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 214–222

50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 217–220

و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 218–219

9 یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور متوسلین کی خبر لیتا ہے کہ خدا کی یاد میں ہیں یا غافل (موضح) یا تو جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اور جماعت کی نماز میں نقل و حرکت (رکوع وسجود وغیرہ) کرتا ہے، اور مقتدیوں کی دیکھ بھال رکھتا ہے اور بعض سلف نے کہا کہ ساجدین سے آپ ﷺ کے آباء مراد ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے نور کا ایک نبی کی صلب سے دوسرے نبی کی صلب تک منتقل ہونا اور آخر میں نبی ہو کر تشریف لانا بلکہ بعض مفسرین نے اس لفظ سے حضور ﷺ کے والدین کے ایمان پر استدلال کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 217–218

آیت 218 الَّذِیْ یَرٰٹکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ” اس سے آپ ﷺ کا تہجد کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔ واضح رہے کہ تہجد کا حکم آپ ﷺ کو بالکل ابتدائی دور میں ہی دے دیا گیا تھا : یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا المزمل ”اے چادر میں لپٹنے والے ! قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا“۔ تو گویا یہاں اسی حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ تہجد کے لیے ہمارے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم بیشک آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر آپ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الانعام ”اسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

130 یعنی جب آپ نماز کے لئے رات کو اٹھتے ہیں یا کسی بھی نماز میں قیام کی حالت میں ہوتے ہیں یا تبلیغ رسالت کے فریضہ کی انجام دہی کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 217–219

116۔ (اور وہی ہر ضرر سے آپ کی حفاظت کے لئے کافی ہے) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آپ ﷺ ضرر حقیقی سے ہمیشہ محفوظ رہے اور متوکل کو جو ضرر پہنچتا ہے، وہ صرف ضرر صوری ہوتا ہے، جس کے اندر ہزاروں نفع ہوتے ہیں، جن کا ظہور خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں، اور مقام توکل صوفیہ کے ہاں ایک معروف ومسلم مقام ہے۔ (آیت) ” یرک حین تقوم “۔ یعنی حالت نماز میں اے تقوم الی صلاتک میں اکثر المفسرین (معالم) اللہ دیکھتا تو بہرحال اور ہر وقت ہی رہتا ہے، یہاں حالت نماز سے متعلق تخصیص ہے۔ (آیت) ” یرک “۔ کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عنایت خاص کی نظر سے دیکھتا رہتا ہے۔ تقلب کے لفظی معنی گھومنے پھرنے الٹ پلٹ کے ہیں۔ التقلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی یرک حین تقوم۔ جو تم کو دیکھتا ہے جس وقت تم کھڑے ہوتے ہو۔ یعنی لوگوں کو توحید کی طرف بلانے کے لئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہو یا جس وقت تم نماز کے لئے اٹھتے ہو۔ کذا قال المفسرون۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 214–220

(214 تا 220) اور آپ اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے اور مومنین کے ساتھ مشفقانہ پیش آئیے اور اگر یہ قریش آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیجیے کہ میں تمہارے افعال واقوال سے بیزار ہوں اور آپ اس اللہ پر جو کہ دشمنوں کو سزا دینے پر قادر اور آپ پر اور تمام مسلمانوں پر مہربان ہے توکل رکھیے، آپ جس وقت کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز شروع کرنے کے بعد قیام رکوع و سجود میں نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشت وبرخاست کو دیکھتا ہے یا یہ کہ جب کہ آپ اپنے آباء کی اصلاب اطہار میں رہے اس سے واقف ہے۔ وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واخفض جناحک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 218–220

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔۔ : یعنی اس عزیز و رحیم پر بھروسا رکھ جو ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے، اس وقت بھی جب تو کھڑا ہوتا ہے، رات قیام میں کھڑا ہو یا دعوت و جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے، یا کسی بھی کام کے لیے اور تیرے صحابہ میں تیرے گھومنے پھرنے کو بھی دیکھ رہا ہے جن کا خاص وصف ساجدین ہے، فرمایا : (تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ) [ الفتح : 29 ] ”تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 214–220

( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ ) وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 218–220

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو) نماز کے لیے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یراک حین تقوم “ (یعنی جب تم کھڑے ہوتے ہو) اپنے بستر سے یا اپنی مجلس سے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی وہ تم کو دیکھتا ہے) جہاں بھی تو ہوتا ہے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الذی یرک حین تقوم “ (یعنی جب تو کھڑا ہوتا ہے) اپنی نماز میں آیت ” الذی یرک حین تقوم “ یعنی جیسے انبیاء چلتے پھرتے تھے تجھ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْ [ وہ جو ] يَرٰىكَ [ دیکھتا ہے آپ ﷺ کو ] حِيْنَ تَقُوْمُ [ جب آپ ﷺ قیام کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 214–222

شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 210–223

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 214–218

75:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 210–223

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۝ 218ۙ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 211–219

تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 217–220

وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ الَّذِیْ یَرٰ کَ حِیْنَ تَـقُوْمُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الشعرآء : 217 تا 220) (اور بھروسہ کیجیے خدائے عزیزورحیم پر۔ جو آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور دیکھ رہا ہوتا ہے آپ کی آمد وشد کو سجدہ کرنے والوں میں۔ بیشک وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی نافرمانوں سے اعلانِ براءت کے بعد یقینا دشواریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ اس ذات پر بھروسہ کیجیے جو عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ اس نے پہلے بھی ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 217–221

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا رسالت مآب ﷺ پر یہ الزام تھا کہ آپ پر شیطان نازل ہوتا ہے جو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں آپ پر پڑھتا ہے۔ اسی سورة 210 تا 212 میں کفار کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر شیطان نہیں اترتے نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو دعوت اور اس کا طریقہ کار بتلایا گیا ہے۔ اب کفار کے الزام کا دوسرے انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ میرے نبی ﷺ پر نزول شیطان کا الزام لگانے والو ! سنو میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ہر جھوٹے اور گناہ گار پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ وہی شیطان کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹے لوگوں پر مشتمل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

218: الَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ (جو تمہیں دیکھتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں) تہجد ادا کرتے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

218۔ الذی یراک حین تقوم، اپنی نماز کے لیے جب کھڑے ہوں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ تم اس طرح کھڑے ہو کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے کہ تم کہاں کھڑے ہو۔ بعض نے کہا کہ جب تم ان کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 215–224

(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 217–220

آیت 217 سے 220 جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسا اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لئے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : ( و توکل علی العزیز الرحیم) ” اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔ “ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لئے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

114 اللہ تعالیٰ کی عنایت و نگرانی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بھروسہ ہمیشہ اسی عزیز و رحیم خدائے مہربان پر رکھو " جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں "۔ یعنی جب آپ رات کو اٹھتے ہیں یا دن کو سو کر اٹھتے ہیں۔ یا کسی مجلس سے دعوت الی اللہ کی غرض سے اٹھیں۔ یا اور کسی کام کے لئے۔ اس کی عنایت و رحمت بھری نظریں بہرحال آپ ﷺ پر ہوتی ہیں کہ { حِیْنَ تُقُوْمُ } کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا } ۔ (الطور : 48) ۔ کہ بیشک آپ ﷺ ہماری نگاہ عنایت میں ہوتے ہیں۔ اور جب اس عزیز و رحیم کی نگاہ آپ پر اور آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 217–218

9 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے یہی معنی کئے ہیں۔ (شوکانی) اس کے دوسرے معنی ساتھیوں کی دیکھ بھال بھی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ یاد میں ہیں یا غافل۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 218–220

(26:218) تقوم مضارع واحد مذکر حاضر۔ قیام مصدر۔ (باب نصر) تو کھڑا ہوتا ہے تو اٹھتا ہے۔ ای تقوم الی الصلوۃ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ تقلبک۔ مضاف مجاف الیہ۔ تقلب بروزن (تفعیل) مصدر ہے۔ پھرنا۔ آنا جانا ۔ گھومنا۔ الٹنا پلٹنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرا گھومنا۔ تیرا پھرنا ۔ تیرا آنا جانا۔ تقلب منصوب بوجہ مفعول یری کے ہے۔ السجدین۔ سجدہ کرنے والے بمعنی نمازی۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 214–223

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 214–218

[36] اٹھنے سے مراد نماز کے لئے بھی اٹھنا ہوسکتا ہے اور تبلیغ رسالت کے لئے اٹھنا بھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 215–220

ف 1۔ پس جب اس کو علم بھی کامل ہے اور آپ پر مہربان بھی ہے اور اس کو سب کچھ قدرت ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے، وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا۔ (فائدہ) جو ضرر متوکل کو پہنچتا ہے وہ صوری ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں، جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب آپ اٹھتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے : 218۔ نماز کیا ہے ؟ مخلوق کا اپنے دل و زبان اور ہاتھ پاؤں سے اپنے خالق کے سامنے بندگی اور عبودیت کا اظہار اس رحمن ورحیم کی یاد اور اس کے لئے بےانتہا احسانات کا شکریہ ۔ حسن ازل کی حمد وثنا اور اس کی یکتائی اور برائی کا اقرار یہ اپنے محبوب سے مہجور روح کا خطاب ہے جو اپنے آقا کے حضور میں جسم وجان کی بندگی ہے ، یہ انسان کے اندرونی احساسات کا عرض نیاز ہے یہ ہمارے دل کے ساز کا فطری ترانہ ہے یہ خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کی گرہ اور وابستگی کا شیرازہ ہے ‘ یہ بےقرار روح کی تسکین ‘ مضطرب قلب کی تشفی اور مایوس دل کی دوا ہے ‘ یہ فطرت کی آواز ہے ‘ یہ حساس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 214–223

وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿214﴾ And warn the nearest people of your clan, -26:214. ` Ashirah'o, عَشِيرَ‌ۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…

Read the full tafseer →