Explained with ayahs 213–220
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ
خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 137
یعنی دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پروا نہ کرو اور اس ذات کے بھروسے پر اپنا کام کیے چلے جاؤ جو زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ جس کی پشت پر اس کی تائید ہو اسے دنیا میں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اور اس کا رحیم ہونا اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ جو شخص اس کی خاطر اعلائے کلمۃ الحق کے کام میں جان لڑائے گا اس کی کوششوں کو وہ کبھی رائیگاں نہ جانے دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…
Read the full tafseer →یعنی اس اعلان برأت کے نتائج کی پرواہ نہ کرو بلکہ اپنے رب عزیز و رحیم پر پورا بھروسہ رکھو کہ وہ آگے کے مراحل میں، ہر مشکل اور ہر خطرے میں، تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مدد فرمائے گا۔ وہ عزیز ہے، اس وجہ سے جو کچھ وہ کرنا چاہے گا کر ڈالے گا۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور رحیم ہے اس وجہ سے وہ اپنے ان بندوں کو اپنی رحمت سے نوازے گا جو اس کی خاطر اپنے عزیزوں قریبوں کو چھوڑیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس اعلان برٹت کے بعد پیغمبر اور اس کے ساتھی اپنے ماحول سے کٹ کر ایک نئے ماحلو سے جڑتے ہیں اور یہ نیا ماحول بالکل پردہ خفا میں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتا ہے۔ اپنوں کو دمشن بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–219
219-1یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–222
50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–220
و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم…
Read the full tafseer →8 یعنی نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں اور کتنے ہی ہوں تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ سب سے بیزار ہو کر ایک خدا پر بھروسہ رکھ جو زبردست بھی ہے کسی کی اس کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی، اور مہربانی فرمانے والا بھی۔ چناچہ اپنی مہربانی سے تیرے حال پر ہر وقت نظر عنایت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
آیت 218 الَّذِیْ یَرٰٹکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ”
اس سے آپ ﷺ کا تہجد کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔ واضح رہے کہ تہجد کا حکم آپ ﷺ کو بالکل ابتدائی دور میں ہی دے دیا گیا تھا : یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا المزمل ”اے چادر میں لپٹنے والے ! قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا“۔ تو گویا یہاں اسی حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ تہجد کے لیے ہمارے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم بیشک آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر آپ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الانعام ”اسے…
Read the full tafseer →129 یعنی اس اللہ پر بھروسہ کیجئے جو نہ ماننے والوں اور اس راہ میں روڑے انکانے والوں پر غالب ہے اور انھیں سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور مومنوں کے حق میں جو کافروں کے ہاتھوں نشانہ ستم بنے ہوئے ہیں۔ رحیم بھی ہے وہ ان مظلوموں کی ضرور مدد کرے گا۔ اور ان کی محنتوں اور قربانیوں کا انھیں پورا بدلہ عطا کرنے کے علاوہ انھیں اپنے انعامات سے بھی نوازے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–219
116۔ (اور وہی ہر ضرر سے آپ کی حفاظت کے لئے کافی ہے) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آپ ﷺ ضرر حقیقی سے ہمیشہ محفوظ رہے اور متوکل کو جو ضرر پہنچتا ہے، وہ صرف ضرر صوری ہوتا ہے، جس کے اندر ہزاروں نفع ہوتے ہیں، جن کا ظہور خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں، اور مقام توکل صوفیہ کے ہاں ایک معروف ومسلم مقام ہے۔ (آیت) ” یرک حین تقوم “۔ یعنی حالت نماز میں اے تقوم الی صلاتک میں اکثر المفسرین (معالم) اللہ دیکھتا تو بہرحال اور ہر وقت ہی رہتا ہے، یہاں حالت نماز سے متعلق تخصیص ہے۔ (آیت) ” یرک “۔ کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عنایت خاص کی نظر سے دیکھتا رہتا ہے۔ تقلب کے لفظی معنی گھومنے پھرنے الٹ پلٹ کے ہیں۔ التقلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →و توکل علی العزیز الرحیم۔ اور اللہ غالب مہربان پر بھروسہ کرو۔
توکل کا معنی ہے اپنا کام (مکمل طور پر) دوسرے کے سپرد کردینا اور ایسا کرنا نہ عقلاً جائز ہے نقلاً صحیح۔ ہاں اگر جس کی سپردگی میں کام دیا ہو وہ نفع پہنچانے اور ضرر کو دفع کرنے پر کامل قدرت رکھتا ہو بھروسہ کرنے کے اقوال کو سنت اور تمام احوال کو دیکھتا ہو اور انجام سے باخبر ہو اور بھروسہ کرنے والے کا ہر وقت نگراں ہو تو اس کی سپردگی میں اپنے کام دیئے جاسکتے ہیں اسی لئے فرمایا عَلَی العزیز یعنی اس اللہ پر اعتماد رکھو جو اپنے دشمنوں پر غالب ان کو مقہور کرنے والا اور اپنے دوستوں کی مدد کرنے والا ہے الرحیمجو رحیم ہے تمہارے اوپر بھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–220
(214 تا 220) اور آپ اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے اور مومنین کے ساتھ مشفقانہ پیش آئیے اور اگر یہ قریش آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیجیے کہ میں تمہارے افعال واقوال سے بیزار ہوں اور آپ اس اللہ پر جو کہ دشمنوں کو سزا دینے پر قادر اور آپ پر اور تمام مسلمانوں پر مہربان ہے توکل رکھیے، آپ جس وقت کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز شروع کرنے کے بعد قیام رکوع و سجود میں نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشت وبرخاست کو دیکھتا ہے یا یہ کہ جب کہ آپ اپنے آباء کی اصلاب اطہار میں رہے اس سے واقف ہے۔
وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واخفض جناحک…
Read the full tafseer →ۚ وَتَوَكَّلْ عَلَي الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ : جب ہر نافرمانی کرنے والے سے براءت کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی فرمایا کہ نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں یا کتنے ہوں، تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لیے سب سے بیزار ہو کر اس مالک پر بھروسا رکھ، جو عزیز (سب پر غالب) بھی ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی کی پیش نہیں جاتی اور رحیم (بےحد رحم والا) بھی کہ اس کی بےحساب رحمت ہمیشہ اپنوں پر متوجہ رہتی ہے۔ توکل کا معنی اپنا کام اس کے سپرد کردینا جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–220
( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ )
وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–217
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت ” وانذر عشیرت الاقربین “ نازل ہوئی تو آپ نے اپنے گھروالوں اور اپنے خاندان والوں سے اسکام کا آغاز فرمایا تو یہ کام مسلمانوں پر بھاری گزرا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے لیے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آؤ اور فرمایا آیت ” فان عصوک فقل انی بریء مما تعملون “ (یعنی اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو فرمادیجیے کہ میں بری ہوں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو ان کو اس کام کا حکم…
Read the full tafseer →ۚ وَتَوَكَّلْ [ اور آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي الْعَزِيْزِ [ بالادست پر ] الرَّحِيْمِ [ ہمیشہ رحم کرنے والے پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–222
شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں
مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ابطال کہانت
وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔
گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
75:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…
Read the full tafseer →وَتَوَكَّلْ عَلَي الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ 217ۙ
وكل
والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال :
تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51]
( و ک ل) التوکل ( تفعل )
اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–219
تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–220
وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ الَّذِیْ یَرٰ کَ حِیْنَ تَـقُوْمُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الشعرآء : 217 تا 220)
(اور بھروسہ کیجیے خدائے عزیزورحیم پر۔ جو آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور دیکھ رہا ہوتا ہے آپ کی آمد وشد کو سجدہ کرنے والوں میں۔ بیشک وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
نافرمانوں سے اعلانِ براءت کے بعد یقینا دشواریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ اس ذات پر بھروسہ کیجیے جو عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ اس نے پہلے بھی ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کا رسالت مآب ﷺ پر یہ الزام تھا کہ آپ پر شیطان نازل ہوتا ہے جو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں آپ پر پڑھتا ہے۔
اسی سورة 210 تا 212 میں کفار کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر شیطان نہیں اترتے نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو دعوت اور اس کا طریقہ کار بتلایا گیا ہے۔ اب کفار کے الزام کا دوسرے انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ میرے نبی ﷺ پر نزول شیطان کا الزام لگانے والو ! سنو میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ہر جھوٹے اور گناہ گار پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ وہی شیطان کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹے لوگوں پر مشتمل…
Read the full tafseer →217: وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ (اور زبردست اور نہایت رحم والی ذات پر بھروسہ کریں) جو اپنی عزت و جلال سے تمہارے دشمنوں کو مقہور اور اپنی رحمت سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تیرے تمام نافرمانوں کے نشر کیلئے بھی وہ کافی ہے۔
توکل :
التوکلؔ آدمی اپنا معاملہ اس کے سپرد کرے جس کو ان کے معاملہ پر اقتدارحاصل ہو۔ اور اس کے نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہو۔ علماء کا قول : متوکل وہ ہے اگر اس کو سخت معاملہ پیش آئے تو وہ اس کو دور کرنے کیلئے اس چیز کو استعمال نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والی ہو۔
قول جنید (رح) : تو کل یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوجائو اور اس کے ماسوا سے…
Read the full tafseer →217۔ و توکل ، قراء اہل مدینہ اور شام کے قراء نے فتوکل) فاء کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں بھی مذکور ہے ان کے علاوہ باقی قراء نے واؤ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ علی العزیز الرحیم، اس اللہ پر اعتماد کریں جو تمہارے دشمنوں کے مکروفریب کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–224
(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–220
آیت 217 سے 220
جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسا اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لئے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : ( و توکل علی العزیز الرحیم) ” اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔ “ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لئے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–217
113 اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھو جو انتہائی زبردست نہایت مہربان ہے "۔ لہذا اس کی کوئی پرواہ نہ کرو کہ کون ساتھ دیتا ہے اور کون مخالف بنتا ہے۔ اور بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھو کہ اس عزیز و رحیم کی حمایت ہر لحاظ سے کافی ہے ۔ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْھَانُہٗ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم بھروسہ ہمیشہ اسی عزیز و رحیم ذات پر رکھو کہ اس عزیز و زبردست کی نصرت و حمایت اور مدد جب شامل حال رہے گی تو پھر کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔ اور وہی رحیم و مہربان ہے جو اپنے بندوں کو اپنی رحمت و عنایت سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
9 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے یہی معنی کئے ہیں۔ (شوکانی) اس کے دوسرے معنی ساتھیوں کی دیکھ بھال بھی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ یاد میں ہیں یا غافل۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–217
(26:216) عصوک : عصوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ عصوا معصیۃ اور عصیان مصدر سے ہے۔ عصوا دراصل عصیوا تھا یاء متحرک ماقبل مفتوح اس لئے یاء کو الف سے بدلا۔ واؤ اور یاء دو ساکن جمع ہوئے لہٰذا الف جو یاء کے بدل میں تھا گرگیا۔ اور عصوا رہ گیا۔ انہوں نے تیرا کہنا نہ مانا۔ انہوں نے تیری نافرمانی کی۔ انہوں نے تیری اطاعت نہ کی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–227
لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 :
عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 :
نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
[36] اٹھنے سے مراد نماز کے لئے بھی اٹھنا ہوسکتا ہے اور تبلیغ رسالت کے لئے اٹھنا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
حل لغات :۔ عشیرتک ۔ عشیرۃ کے معنی کنبے اور قبیلے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(217) اور آپ اس زبردست اور بہت رحم کرنے والے پر بھروسہ رکھیے اور توکل کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–220
ف 1۔ پس جب اس کو علم بھی کامل ہے اور آپ پر مہربان بھی ہے اور اس کو سب کچھ قدرت ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے، وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا۔ (فائدہ) جو ضرر متوکل کو پہنچتا ہے وہ صوری ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں، جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے اللہ پر بھروسہ رکھیں جو غلبہ والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی :
217۔ یہ وہ تسلی کے الفاظ ہیں جو پیچھے سے اس سورت میں بیان کی گئی ساری دعوتوں کے اختتام پر بولے گئے ہیں اس جگہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے بھی کہے گئے ہیں جن کا مقصد دراصل یہ ہے کہ جب کسی سے اعلان بیزاری کیا جاتا ہے تو اس کے جزبز ہونے سے ایک خطرہ کا لاحق ہونا بھی فطرت انسانی کا خاصہ ہے اس لئے تسلی دی جا رہی ہے کہ پروا نہ کرو آپ کا رب غالب آنے والا ہے جو تم دعوت دے رہے یہ دعوت آپ کی ذاتی دعوت تو نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے رب کریم کی طرف سے دعوت دینے کا آپ کو حکم ملا ہے اس طرح سارے حالات سے بھی وہ خوب واقف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾
And warn the nearest people of your clan, -26:214.
` Ashirah'o, عَشِيرَۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…
Read the full tafseer →137 That is, "You should not care at all for any worldly power, howsoever big and strong, but should continue to perform your mission with complete trust in that Being Who is Mighty as well as Merciful. He is Mighty and, therefore, anybody enjoying His support, cannot be overcome by any other power; He is Merciful and, therefore, He will not let go waste the sacrifices and efforts of the one who struggles for the sake of raising His Word in the world. "
Read the full tafseer →