Explained with ayahs 176–180
شیعب ؑ
یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
سورة الشُّعَرَآء 116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–181
خلاصہ تفسیر
اصحاب الائیکہ نے (بھی جن کا ذکر سورة حجر کے اخیر میں گزر چکا ہے) پیغمبروں کو جھٹلایا، جبکہ ان سے شعیب ؑ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے تم لوگ پورا ناپا کرو اور (صاحب حق کا) نقصان مت کیا کرو اور (اسی طرح تولنے کی چیزوں میں) سیدھی ترازو سے تولا کرو (یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو نہ باٹوں میں فرق کیا کرو) اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور سر زمین میں فساد مت مچایا کرو اور اس (خدائے قادر) سے ڈرو جس نے تم کو اور تمام اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
آگے کا مضمون ……آیات 191-176
حضرت شعیب اور ان کی قوم کی سرگزشت کا بیان
آگے حضرت شعیب اور ان کی قوم اصحاب مدین کی سرگزشت ہے۔ جس طرح اوپر حضرت لوط نے اپنی قوم کے اخلاقی فساد پر اس کو متنبہ کیا اسی طرح حضرت شعیب نے اپنی قوم کو اس کے معاشی فساد پر متنبہ کیا لیکن اس قوم نے بھی اپنے رسول کے ساتھ وہی روش اختیار کی جو اس کی پیشرو قوموں نے اختیار کی اور بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوئی جس سے دوسری قومیں دوچار ہوئیں۔ یہ سرگزشت بھی اسی ترجیح پر تمام ہوئی ہے جو اوپر ہر سرگزشت کے خاتمہ پروارد ہوئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
اصحاب ایک سے مردا اہل مدین میں
یکۃ جھاڑی، بن اور جنگل کو کہتے ہیں۔ مدین کے پاس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
181-1یعنی جب تم لوگوں کو ناپ کردو تو اسی طرح پورا دو ، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کرلیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
38: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف : 85 تا 93 میں گذر گیا ہے۔ تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
3 یعنی معاملات میں خیانت اور بےانصافی مت کرو جس طرح لینے کے وقت پورا ناپ تول کرلیتے ہو دیتے وقت بھی پورا ناپ تول کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →105 یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے ہاں آٹھ دس سال تربیت حاصل کی تھی۔ پانچویں نسبت پر حضرت یعقوب سے جا ملتے ہیں۔ شجرہ نسب یہ ہے شعیب بن میکیل بن بشجر بن لاومی بن یعقوب (علیہ السلام)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
95۔ (یعنی نہ ڈنڈی مارا کرو، نہ تولنے کے بانٹوں میں گڑبڑ کیا کرو) ہدایات قرآنی کی مخاطب یہ کوئی زراعت پیشہ، تجارت پیشہ قوم تھی۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی، خیانت میں مبتلا، تعلیم انہیں تجارتی اخلاقی وستائستگی کی دی جارہی ہے۔ حاشیے سورة الاعراف پ 8 وسورۃ الحجرپ 14 وسورۂ ہود پ 12 میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →اذ قال لہم شعیب الا تتقون۔ جب کہ شعیب نے ان سے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے)
نہیں ڈرتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
(176۔ 177) قوم شعیب ؑ نے بھی حضرت شعیب ؑ اور تمام پیغمبروں کو جھٹلایا جب کہ حضرت شعیب ؑ نے ان سے فرمایا کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ”اَلْءَیْکَۃُ“ درختوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں، یہ جھنڈ مدین کے اردگرد واقع تھے۔ شعیب ؑ مدین والوں اور اصحاب الایکہ دونوں کی طرف مبعوث تھے، مگر چونکہ ان کی رہائش مدین میں تھی اور ان کا نسبی تعلق بھی اہل مدین سے تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کا انتخاب بستیوں میں رہنے والے سے کیا ہے (دیکھیے یوسف : 109) اس لیے مدین کے ذکر میں شعیب ؑ کو ان کا بھائی قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا) [ الأعراف : 85 ] ”اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔“ جب کہ اصحاب الایکہ کے ذکر میں فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ [ جب کہا ] لَهُمْ [ ان سے ] شُعَيْبٌ [ شعیب (علیہ السلام) نے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [ کیا تم لوگ تقوی اختیار نہیں کرو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
64:۔ شرکم کے علاوہ ان لوگوں میں ایک خرابی یہ تھی کہ وہ ناپ تول میں بد دیانتی کرتے تھے۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ناپ درست رکھو اور کم ناپ کر لوگوں کی حق تلفی نہ کرو۔ ” و زنو بالقسطاس الخ “ اور صحیح ترازو سے تولا کرو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پیمانے اور باٹ کم و بیش مقدار کے بنا رکھے تھے۔ لیتے وقت زیادہ مقدار والے پیمانے اور باٹ استعمال کرتے اور دیتے وقت کم مقدار والے۔” ولا تبخسوا الناس الخ “ اس طرح بد دیانتی سے لوگوں کے حقوق غصب نہ کرو۔ ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “ اور قتل و غارت اور ڈکیتی سے ملک میں بد امنی اور بےچینی نہ پھیلاؤ۔ ” واتقوا اللہ الذی خلقکم الخ “ اس اللہ سے ڈرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ 17 7ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–180
اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
(الشعرآء : 177 تا 180)
(یاد کرو جب شعیب (علیہ السلام) نے تم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ )
یہ آیات اوپر انبیائے کرام کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔
شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔
قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی…
Read the full tafseer →177: اِذْقَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (جبکہ ان کو شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
177۔ اذقال لھم شعیب، یہاں پر بھائی کہہ کر خطاب نہیں کیا، گیا چون کہ وہ اصحاب ایکہ کے نسب میں سے نہیں تھے اور جب مدین کا ذکر کیا تو اس وقت ارشاد فرمایا ، اخاھم شعیبا، کیونکہ یہ ان کے نسبی بھائی تھے اللہ تعالیٰ نے مدین کو ان کی قوم کی طرف نبی بناکربھیجا تھا اور شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب الایکہ کی طرف بھیجا ، الاتتقون،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
87 حضرت شعیب کی دعوت و تبلیغِ حق کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب نے بھی اپنی قوم کو یہی دعوت دی کہ تم " اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو "۔ یہ ارشاد ہر پیغمبر کی تقریر میں بطور قدر مشترک خاص طور پر شامل رہا ہے۔ کیونکہ یہ درحقیقت پورے دین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ اس میں اصول و فروع سب آگئے۔ اللہ سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا اصل الاصول اور دین کی سب سے اہم بنیاد ہے۔ اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ پیغمبر کی تعلیمات کی پیروی کی جائے۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیائے کرام کی مخالفت فساد فی الارض اور ہلاکت و بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی لئے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
6 ۔ اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(26:176) اصحب الئیکۃ۔ اہل ایکہ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) یہ حضرت شعیب اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ نوح (علیہ السلام) اور انبیاء کے موافق تھی اسی طرح بن والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا یامدین کے قریب کچھ کنوئی آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو، اصحاب الایکہ ، یعنی بن والے کہتے ہیں، یہ لوگ بت پرست تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–178
ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔
کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →(177) جبکہ ان لوگوں سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں حضرت شعیب اہل مدین کے پیغمبر ہیں یہ بن جس میں کیکر کے درخت کثرت سے تھے مدین کے قریب تھا اور یہاں بہت سی بستیاں آباد تھیں اس لئے ان بستیوں کی تبلیغ بھی ان کے سپرد کردی ہوگی انہوں نے فرمایا ڈرتے نہیں یعنی عذاب الٰہی سے ڈرو اور شرک کی وجہ سے جن خرابیوں میں مبتلا ہوگئے ہو ان کو چھوڑ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–182
ف 3۔ یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو، اور نہ باٹوں میں فرق کیا کرو۔
Read the full tafseer →شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ لوگو ! تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ :
177۔ شعیب (علیہ السلام) جب اپنی قوم میں مبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب صرف افراد وا احاد ہی میں نہیں پایا جاتا بلکہ ساری قوم گرداب ہلاکت میں مبتلا ہے اور اپنی بداعمالیوں میں اس قدر سرمست وسرشار ہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے معصیت اور گناہ ہے بلکہ وہ اپنے ان اعمال کو باعث فخر سمجھتے ہیں ، ان کی بہت سی بداخلاقیوں اور نافرمانیوں سے قطع نظر جن قبیح امور نے خصوصیت کے ساتھ ان میں رواج پالیا تھا ان کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–181
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
and subjected them to a terrible rain. So evil was the rain of those who were warned. - 26:173
This verse has confirmed that if a man commits sodomy, he may be punished with throwing a wall on him or by throwing him down from a high place, as suggested by Hanafi scholars, because the people of Lut (علیہ السلام) were destroyed in a similar manner. Their township was lifted and thrown on the ground. (Shami Kitab Al-Hudud)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…
Read the full tafseer →