Explained with ayahs 176–180
شیعب ؑ
یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
سورة الشُّعَرَآء 115
اصحاب الایکہ کا مختصر ذکر سورة الحجر آیت 78۔ 84 میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مَدْیَن اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورة اعراف میں حضرت شعیب ؑ کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے (وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْباً) ، اور یہاں اصحاب الایکہ کے ذکر میں صرف یہ ارشاد ہوا ہے کہ اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیبٌ (جبکہ ان سے شعیب نے کہا) ، " ان کے بھائی " (اَخُوْھُمْ) کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے بر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–181
خلاصہ تفسیر
اصحاب الائیکہ نے (بھی جن کا ذکر سورة حجر کے اخیر میں گزر چکا ہے) پیغمبروں کو جھٹلایا، جبکہ ان سے شعیب ؑ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے تم لوگ پورا ناپا کرو اور (صاحب حق کا) نقصان مت کیا کرو اور (اسی طرح تولنے کی چیزوں میں) سیدھی ترازو سے تولا کرو (یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو نہ باٹوں میں فرق کیا کرو) اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور سر زمین میں فساد مت مچایا کرو اور اس (خدائے قادر) سے ڈرو جس نے تم کو اور تمام اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
آگے کا مضمون ……آیات 191-176
حضرت شعیب اور ان کی قوم کی سرگزشت کا بیان
آگے حضرت شعیب اور ان کی قوم اصحاب مدین کی سرگزشت ہے۔ جس طرح اوپر حضرت لوط نے اپنی قوم کے اخلاقی فساد پر اس کو متنبہ کیا اسی طرح حضرت شعیب نے اپنی قوم کو اس کے معاشی فساد پر متنبہ کیا لیکن اس قوم نے بھی اپنے رسول کے ساتھ وہی روش اختیار کی جو اس کی پیشرو قوموں نے اختیار کی اور بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوئی جس سے دوسری قومیں دوچار ہوئیں۔ یہ سرگزشت بھی اسی ترجیح پر تمام ہوئی ہے جو اوپر ہر سرگزشت کے خاتمہ پروارد ہوئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
اصحاب ایک سے مردا اہل مدین میں
یکۃ جھاڑی، بن اور جنگل کو کہتے ہیں۔ مدین کے پاس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
176-1اَیْکَۃَ ، جنگل کو کہتے ہیں۔ اس سے حضرت شعیب ؑ کی قوم اور بستی ' مدین ' کے اطراف کے باشندے مراد ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایکہ کے معنی گھنا درخت اور ایسا ایک درخت مدین کے نواحی آبادی میں تھا۔ جس کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔ حضرت شعیب ؑ کا دائرہ نبوت اور حدود دعوت و تبلیغ مدین سے لے کر اس کی نواحی آبادی تک تھا جہاں ایک درخت کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اصحاب الایکہ اور اہل مدین کے پیغمبر ایک ہی یعنی حضرت شعیب ؑ تھے اور یہ ایک ہی پیغمبر کی امت تھی۔ ایکہ چونکہ قوم نہیں بلکہ درخت تھا۔ اس لیے اخوت نسبی کا یہاں ذکر نہیں کیا جس طرح کہ دوسرے انبیاء کے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
38: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف : 85 تا 93 میں گذر گیا ہے۔ تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
2 ابن کثیر نے لکھا ہے کہ " اصحاب ایکہ " وہ ہی قوم مدین ہے۔ " ایکہ " ایک درخت تھا جسے یہ لوگ پوجتے تھے، اسی نسبت سے " اصحاب الایکہ " کہا گیا۔ اور اسی لیے شعیب کو " اَخُوہُمْ " سے تعبیر نہیں فرمایا۔ کیونکہ انبیاء کی اخوت محض قومی و نسبی تعلقات پر مبنی تھی۔ اگر " مدین " کہتے تو " اَخُوہُم " کہنا موزوں تھا۔ جب " اصحاب الایکہ " کہہ کر ایک مذہبی نسبت سے ذکر کیا تو اس حیثیت سے " اَخُوہُم " فرمانا حضرت شعیب کی شان کے مناسب نہ تھا۔ بہرحال " مدین " اور " اصحاب ایکہ " ایک قوم ہے اور شعیب اسی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے پہلے بھی اس کے متعلق کچھ بحث گزر چکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ”
”ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
104 اصحاب الایکہ کون لوگ تھے ؟ اس میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اصحاب الایکہ اور اصحاب مرین دونوں ایک ہی قوم کے نام ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایکہ ایک درخت کا نام تھا جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ اسی نسبت سے انھیں اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان لوگوں کی بستی اور علاقہ اصحاب مرین سے الگ ہے۔ اصحاب الایکہ کا معنی بن والے یعنی یہ بستی ایک لمبی سی بلند جگہ پر آباد تھی۔ جہاں باغات کے جھنڈ بکثرت تھے اور شعیب نے ان دونوں علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
94۔ (آیت) ” اصحب لئیکۃ “۔ پر حاشیہ سورة الحجر پ 14 میں گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →کذب اصحب الئکۃ المرسلین۔ بن والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا (جھوٹا قرار دیا) ۔
ایکہ درختوں کی گھنی جھاڑی بن۔ مدین کے قریب ایک گھنا جنگل تھا جس میں کچھ لوگ رہتے تھے یہ گروہ مدین والوں سے الگ تھا۔ اللہ نے حضرت شعیب کو جس طرح مدین والوں کی ہدایت پر مامور کیا تھا اسی طرح اس جنگل کے باشندوں کی ہدایت کے لئے بھی مقرر کیا تھا حضرت شعیب اہل مدین میں سے تھے اصحابہ ایکہ میں سے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
(176۔ 177) قوم شعیب ؑ نے بھی حضرت شعیب ؑ اور تمام پیغمبروں کو جھٹلایا جب کہ حضرت شعیب ؑ نے ان سے فرمایا کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ”اَلْءَیْکَۃُ“ درختوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں، یہ جھنڈ مدین کے اردگرد واقع تھے۔ شعیب ؑ مدین والوں اور اصحاب الایکہ دونوں کی طرف مبعوث تھے، مگر چونکہ ان کی رہائش مدین میں تھی اور ان کا نسبی تعلق بھی اہل مدین سے تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کا انتخاب بستیوں میں رہنے والے سے کیا ہے (دیکھیے یوسف : 109) اس لیے مدین کے ذکر میں شعیب ؑ کو ان کا بھائی قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا) [ الأعراف : 85 ] ”اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔“ جب کہ اصحاب الایکہ کے ذکر میں فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →كَذَّبَ [ جھٹلایا ] اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ [ گھنے درخت والوں نے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–176
63:۔ یہ ساتویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم شعیب “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نسبی تعلق چونکہ اہل مدین سے تھا اصحاب الایکہ سے نہیں تھا اس لیے یہاں ” اخوھم شعیب “ نہیں فرمایا اور جہاں اہل مدین کی طرف ان کی بعثت کا ذکر کیا وہاں فرمایا۔ ” والی مدین اخاھم شعیبا “ (ھود رکوع 8) لم یقل ھنا اخوھم شعیب لانہ لم یکن من نسبھم بل کان من نسب اھل مدین ففی الحدیث ان شعیبا اخا مدین ارسل الیھم والی اصحاب الایکۃ (مدارک ج 3 ص 148) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَۃِ الْمُرْسَلِيْنَ 17 6ۚۖ
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة،
ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔
کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…
Read the full tafseer →کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 176)
(اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ )
اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ کی تحقیق
ایکۃ … جھاڑی اور جنگل کو کہتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ اور اَصْحٰبُ مَدْیَنْ دو الگ الگ قومیں ہیں۔ اور حضرت شعیب کی بعثت ان دونوں کی طرف ہوئی، لیکن جمہور مفسرین دونوں کو ایک ہی کہتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ مدین کے پاس ایک جنگل بھی تھا، اس لیے اَصْحٰبُ مَدْیَنْ کو اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ بھی کہا جاتا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا ہے، اسے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔
اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِکا مختصر ذکر سورة الحجر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ…
Read the full tafseer →قوم شعیب۔ :
176: کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (اصحاب ِایکہ نے جھٹلایا) الایکۃ ؔ یہ ہمزہ اور جر کے ساتھ درختوں کی گھنی جھاڑی۔
قول خلیل۔ :
لَئیْکَۃ وحجازی و شامی قراء نے اسی طرح پڑھا ہے اور سورة صٓ میں اسی طرح ہے اس صورت میں یہ ایک شہر کا نام ہے ایک قول یہ ہے اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہیں۔ جب وادیاں ان پر تنگ ہوگئیں تو گھنے جنگل میں انہوں نے ڈیرے ڈال لیے۔
قولِ فیصل :
مگر صحیح قول یہ ہے کہ یہ اصحاب مدین سے الگ لوگ ہیں۔ باہر جنگل میں ایک نامی درختوں کے جھنڈ میں مقیم تھے اور ان کے اکثر درخت گوگل کے تھے۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ یہاں اخوھم شعیب نہیں کہا کیونکہ ان سے آپ کانسبی…
Read the full tafseer →تفسیر۔
176۔ کذب اصحاب الایکۃ المرسلین۔ اس سے مراد قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) ہے ۔ قراء عراقین نے پڑھا ہے کہ یہ ، الایکۃ، اور سو رہ ص میں ہمزہ اور سکون لام ہے اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، لی کہ، پڑھا ہے لام کے فتحہ کے ساتھ اور تاء بغیرہمزہ کے۔ ا سکوشہر کا نام بتلایا ہے یہ منصرف نہیں ہے اور سورة الحجر اور سو رہ ق میں اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ، وہاں دنوں جگہوں پر ہمزہ اور کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ والای کہ، درختوں کا جھنڈ ، گھنے درخت مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
86 اصحاب الایکۃ کا ذکر اور ان سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بن والوں نے بھی جھٹلایا رسولوں کو "۔ " ایکہ " درخت کو یا درختوں کے ایک جھنڈ کو کہتے ہیں۔ جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یہ اصحاب مدین ہی ہیں۔ یا کوئی دوسری قوم ؟ اس بارے میں مفسرین کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے ان کو دو علیحدہ قومیں قرار دیا۔ مگر بعض محققین کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی قوم تھے۔ مگر یہاں چونکہ ان کی نسبت ایکہ کی طرف کی گئی ہے جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس لحاظ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا چونکہ ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس لئے یہاں " اخوھم " نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
5 ۔ یعنی مدین یا اس علاقہ کے رہنے والوں نے جہاں اب شہر تبوک آباد ہے۔ (دیکھئے سورة الحجر آیت 78)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(26:176) اصحب الئیکۃ۔ اہل ایکہ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–179
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) یہ حضرت شعیب اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ نوح (علیہ السلام) اور انبیاء کے موافق تھی اسی طرح بن والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا یامدین کے قریب کچھ کنوئی آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو، اصحاب الایکہ ، یعنی بن والے کہتے ہیں، یہ لوگ بت پرست تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
[28] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة الحجر حاشیہ 23 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–178
ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔
کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →(176) بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–182
ف 3۔ یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو، اور نہ باٹوں میں فرق کیا کرو۔
Read the full tafseer →اصحاب ایکہ نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور تکذیب کا مزہ چکھا :
176۔ اصحاب ایکہ کون ہیں ؟ یہ لوگ شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہیں جن کو ” مدین “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، مدین قبیلہ کا نام ہے کیونکہ مدین دراصل سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطورا کے بطن سے تھا اس لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ خاندان بنو قطورا کے نام سے معروف ہوا ۔ مدین اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے علاتی بھائی سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے پہلوہی میں آباد ہوگیا تھا اور یہی خاندان آگے چل کر ایک بڑا قبیلہ بن گیا اور شعیب (علیہ السلام) بھی چونکہ اسی نسب اور قبیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–181
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
and subjected them to a terrible rain. So evil was the rain of those who were warned. - 26:173
This verse has confirmed that if a man commits sodomy, he may be punished with throwing a wall on him or by throwing him down from a high place, as suggested by Hanafi scholars, because the people of Lut (علیہ السلام) were destroyed in a similar manner. Their township was lifted and thrown on the ground. (Shami Kitab Al-Hudud)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
115 The people of Aiykah have been briefly mentioned in vv. 78-84 of Surah AI-Hijr. More about them here. There is a difference of opinion among the commentators as to whether the Midianites and the people of Aiykah were two different tribes or one and the same people. One group holds that they were different tribes and gives the argument that in Surah Al-A'raf Prophet Shu'aib has heen "brother elf the MIdIanIteS" (v. RS), whereas here, with regard to the people of. Aiykah, he has not been called so. The other group holds that they were one and the same people on the ground that the moral…
Read the full tafseer →