Explained with ayahs 153–159
نبی کا اپنے آپ سے تقابل
ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 102
یعنی بظاہر تو ہم میں اور تجھ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ ہم تجھے خدا کا فرستادہ مان لیں۔ لیکن اگر تو اپنے مامور من اللہ اور مرسل من جانب اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے تو کوئی ایسا محسوس معجزہ پیش کر جس سے ہمیں یقین آجائے کہ واقعی کائنات کے خالق اور زمین و آسمان کے مالک نے تجھ کو ہمارے پاس بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–159
معارف و مسائل
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔
مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
آیت 153۔ 154
حضرت صالح کو ان کی قوم کا جواب
مسحر میں مسحور سے زیادہ مبالغہ ہے۔ قوم نے حضرت صالح کی اس درد مندانہ تذکیر و تنبیہ کا یہ جواب دیا کہ تم تو ہم کو ایک بالکل ہی سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو کسی نے تم پر ایسا جادو کردیا ہے کہ تمہاری عقل بالکل ہی ماری گئی ہے جس کے سبب سے ہماری اس تہذیب و ترقی میں تمہیں ہر طرف خطرے ہی خطرے نظر آ رہے ہیں اور اس خطرے سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو۔ آخر تمہارے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ہم تمہیں خدا کا رسول مان لیں اور تمہارے ڈرادوں سے مرعوب ہو کر اپنی اس تمام تہذیب و ترقی کی بساط لپیٹ کر رکھ دیں ! تم بھی تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو۔ اگر خدا کو کوئی رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
155-1یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی ایک دن اونٹنی کے لئے اور ایک دن ان کے لئے پانی مقرر کردیا گیا تھا، اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →31: نشانی سے مراد معجزہ ہے اور انہوں نے خود فرمائش کی تھی کہ پہاڑ کے اندر سے ایک اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
قالوا انمآ ……(154)
ان کا جواب یہ تھا کہ اے صالح تم پر کسی نے جادو کردیا ہے ، اس لئے تو یہ باتیں بغیر سوچے سمجھے کر رہا ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق خدا کی طرف دعوت دینے والے مجنون ہوتے ہیں۔
ما انت الا بشر مثلنا (26 : 153) ” تو ہم جیسے ایک انسان کے سوار اور کیا ہے۔ “ جب بھی انسانوں کے کسی گروہ کے پاس کوئی رسول آیا ہے۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ تم تو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کے بارے میں اور رسالت کے بارے میں کوتاہ بینی سے کام لیا۔ وہ اس بات کو کبھی نہ سجھ سکے کہ رسول بشر کیوں ہوتا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ انسانوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا دراصل انسانیت کے لئے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
5 یعنی ہم سے کون سی بات تجھ میں زائد ہے جو نبی بن گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے جادو کردیا ہے جس سے تیری عقل ماری گئی (العیاذ باللہ)
6 یعنی اگر نبی ہے اور ہم سے ممتاز درجہ رکھتا ہے تو اللہ سے کہہ کر کوئی ایسا نشان دکھلا جسے ہم بھی تسلیم کرلیں پھر فرمائش کی کہ اچھا پتھر کی اس چٹان میں سے ایک اونٹنی نکال دے جو ایسی اور ایسی ہو۔ حضرت صالح نے دعا فرمائی، حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ نشان دکھلا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”
حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
94 صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا : کونسی نشانی چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگے ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ سامنے والا پہاڑ پھٹے اور اس میں سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو۔ پھر وہ حاملہ اونٹنی ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا۔ پہاڑ پھٹا جس سے ایک عظیم الجثہ اور دیو ہیکل اونٹنی پیدا ہوئی۔ جس نے ان لوگوں کے سامنے بچہ جنا۔ جب قوم کا مطلوبہ معجزہ ظہور میں آگیا۔ تو یہ ان لوگوں کے لئے ایک مصیبت بن گیا۔ کیونکہ اونٹنی اگر کسی کنوئیں یا چشمے پر پانی پینے جاتی تو قوم کے دوسرے جانور اس اونٹنی کے قد و قامت اور ڈیل ڈول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
86۔ نشان یعنی خارق عادت، انبیاء کی دعوت کا اصل جوہر خود ان کی تعلیمات رہی ہیں۔ جاہلی قوموں نے بجائے ان تعلیمات کی قدر کرنے کے ہمیشہ مطالبہ خوارق ومعجزات کا کیا ہے۔ اور پیغمبروں کی بشریت ہی کو ان کی رسالت کا مانع اور اس کے منافی قرار دیا ہے۔ مظہر خدا، فرزند خدا، زوج خدا یہ سب کچھ تو وہ سمجھ سکتے تھے لیکن رسول خدا کا تصور ہی گویا انکی دماغی گرفت سے باہر تھا، آج اولیاء اللہ کو بھی، بہت سے جاہل ان کے لوازم طبعی اور حوائج بشری کی بناء پر کم وقعت و حقیر سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت نمبر 141 تا 159
ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…
Read the full tafseer →ما انت الا بشر مثلنا (بالکل) ہماری طرح آدمی ہو اس کے سوا کچھ نہیں ہو۔ اس لئے نبی نہیں ہو۔
فات بایۃ ان کنت من الصدقین۔ اگر (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو (اپنے قول کے سچا ہونے کی)
کوئی دلیل پیش کرو۔ جب قوم نے دلیل نبوت طلب کی تو حضرت ہود کی دعا سے اللہ نے پتھر کی چٹان کے اندر سے ایک اونٹنی برآمد کردی۔
Read the full tafseer →(154) ورنہ تم نہ فرشتے ہو اور نہ نبی تم تو ہماری طرح کے ایک معمولی سے آدمی ہو جیسا کہ ہم کھاتے پیتے ہیں تم بھی اسی طرح کھاتے پیتے ہو سو اگر تم اپنے دعوی نبوت میں اور اس چیز میں کہ ہم پر عذاب نازل ہوگا سچے ہو تو کوئی معجزہ پیش کرو۔
Read the full tafseer →مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۔۔ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تو ہمارے جیسا بشر ہے اور بشر رسول نہیں ہوسکتا، جیسا کہ تمام پیغمبروں کے امتیوں نے بشر ہونے کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کیا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 94) دوسرا یہ کہ تو ہمارے جیسا ایک بشر ہے، پھر تجھ میں کیا خصوصیت ہے کہ ہمیں چھوڑ کر تجھے رسالت عطا ہوئی ہے۔ (دیکھیے قمر : 25) ”فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ“ اس لیے اپنی اس خصوصیت کی دلیل کے طور پر تجھے کوئی معجزہ پیش کرنا ہوگا، جس سے ثابت ہوجائے کہ واقعی تجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔
یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا :
فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر
اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔
پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم
ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔
3۔…
Read the full tafseer →[ مَآ (نہیں )][ اَنْتَ (تو) ][ اِلَّا ( مگر ) بَشَرٌ (ایک انسان )][ مِّثْلُنَا (ہمارے جیسا ) [ فَاْتِ (پس تو لے آ ) بِاٰيَةٍ (کسی نشانی کو)][ اِنْ ( اگر ) [ كُنْتَ (ہے تو) مِنَ الصّٰدِقِيْنَ (سچوں میں سے) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا
سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔
یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
58:۔ مشرکین نے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک مخصوص پتھر میں سے اونٹنی پیدا ہوا اور اسی وقت اس کے ایک بچہ پیدا ہو جو جسم اور قد و قامت میں اس کے برابر ہو۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کی تو اللہ نے مشرکین کا منہ مانگا معجزہ ظاہر فرما دیا۔ روی انھم قالوا نرید ناقۃ عشراء تخرج من ھذہ الصخرۃ فتلد سقبا فجعل صلح یتفکر فقال جبریل صل رکعتین واسئل ربک النقۃ ففعل فخرجت الناقۃ ونتجت سقبا مثلھا فی العظم (مدارک ج 3 ص 147) ۔ اب بطور ابتلاء ان پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ چشمے سے ایک دن وہ پانی پیا کریں اور اپنے مویشیوں کو پلایا کریں اور دن اونٹنی کے لیے مخصوص رہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔
قوم ثمود کا جواب
آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…
Read the full tafseer →مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا 0ۚ ۖ فَاْتِ بِاٰيَۃٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 154
بشر
وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ،
( ب ش ر ) البشر
اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
قَالُوْٓا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۔ مَـآ اَنْتَ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا صلے ج فَاْتِ بِاٰ یَـۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 153، 154)
(ان لوگوں نے کہا کہ تم تو بس ایک سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو۔ تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو، تو تم کوئی نشانی لائو اگر تم سچے ہو۔ )
الْمُسَحَّرِیْنَ ، مُسَحَّرٌکی جمع ہے، سحرزدہ آدمی کو کہتے ہیں۔ ایک زمانے میں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ دماغی اختلال اور پاگل پن کسی جن کے اثر سے لاحق ہوتا ہے یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے جب وہ کسی کو سحر زدہ قرار دیتے ہیں تو مراد اس سے یہ ہوتی تھی کہ تم پاگل اور مجنون ہو۔
قوم کا جواب
قومِ ثمود نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے معجزہ طلب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اونٹنی اور اس کا بچہ کو نمودار کیا۔ جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آچکی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے…
Read the full tafseer →154: مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَاْتِ بِاٰیَۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (توُ تو ہم جیسا انسان ہے پس تو ایک نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے) اپنے دعویٰ رسالت و نبوت میں۔
Read the full tafseer →154۔ بلکہ ، ماانت الابشرمثلنا فات بایۃ، جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مطابق کوئی دلیل لے آؤ، ان کنت من الصادقین، کہ آپ کو ہماری طرف رسول بناکربھیجا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت 141 سے 159
(کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →78 پیغمبر کی نبوت کا انکار ان کی بشریت کی بنا پر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ تم تو ہم ہی جیسے ایک بشر ہو۔ تو پھر تم نبی اور رسول کس طرح ہوسکتے ہو ؟۔ یعنی ان کے یہاں نبوت اور بشریت میں منافات تھی کہ یہ دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ پس جو بشر ہوگا وہ نبی نہیں ہوسکتا اور جو نبی ہوگا وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اور یہی غلط فہمی آج بھی بہت سے لوگوں میں موجود ہے۔ اور بہت سے جاہل مسلمان بھی یہی سمجھتے اور ایسا کہتے ہیں۔ اور ان کے نزدیک بھی رسالت اور بشریت دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان لوگوں نے بشریت کو دیکھتے ہوئے انبیائے کرام کی نبوت و رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیات 141 تا 159
اسرار و معارف
قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔
کمال…
Read the full tafseer →4 ۔ پھر ہمیں چھوڑ کر تم پر وحی کیوں نازل کی گئی۔ نیز دیکھئے۔ ( سورة قمر :25)
Read the full tafseer →26:154) فات ب اتی یاتی ب لاناء سے امر کا صیغہ واحد مذکر تو لے آ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 :
اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–160
ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔
حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔
ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…
Read the full tafseer →(154) تو تو صرف ہم ہی جیسا ایک آدمی ہے لہٰذا اگر تو سچا ہے تو اپنی نبوت کی کوئی نشانی اور معجزہ پیش کر یعنی تم پر کسی نے بار بار جادو کیا ہے اس لئے تو نبی نہیں ہوسکتا نیز ہم ہی جیسا بش رہے بھلا کہیں بشر بھی پیغامبر ہوسکتا ہے اچھا نبی ہے تو کوئی دلیل پیش کر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
ف 3۔ جو بوجہ خلاف عادت پیدا ہونے کے معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →تو ہمارے جیسا انسان ہی تو ہے کوئی نشانی دکھا دے اگر تو سچا ہے :
154۔ زیر نظر آیت میں قوم نے صالح (علیہ السلام) پر دو مزید لگائے ہیں ایک تو یہ کہ ” تو ہماری ہی طرح کا ایک بشر ہے “ اور دوسرا یہ کہ ” اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی ہم کو دکھا “ گویا ان کے خیال کے مطابق ایک تو کسی نبی ورسول کا بشر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نبی ورسول نہیں کیونکہ رسول بھی بشر نہیں ہو سکتا اور جب یہ بشر ہے تو رسول کیونکر ہوا اور دوسرا یہ کہ صالح (علیہ السلام) ان کے پاس ابھی تک کوئی نشانی نہیں پیش کرسکا تھا حالانکہ وہ خود بذاتہ اور اس کا کلام جو وہ کہہ رہا تھا اتنی بڑی نشانی تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے انکو مزید کسی نشانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–165
Commentary
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149]
According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِهِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth.
Useful vocations are…
Read the full tafseer →102 That is, "We cannot believe you to be a Messenger from God because you are just like us and we see no distinction in you. However, if you are true in your claim that God has appointed you as His Messenger, you should present such a clear miracle as should make us believe that you have really been sent by the Creator and Master of the universe.
Read the full tafseer →