Ash-Shu'araa 26:153

Ash-Shu'araa · from ayah 153

26:153

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۟ۚقَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ‌ۚ

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "You are only of those affected by magic.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:153

انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہنے لگے کہ : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے تم پر تو جادو ہوا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : تم تو ایک سحر زدہ آدمی ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ تم تو بس ایک سحر زدہ معلوم ہوتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس ساری تقریر کے جواب میں ان لوگوں نے پوری ڈھٹائی سے کہا کہ تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے کہ تم پرتو کسی نے سخت جادو کردیا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے جواب دیا کہ (اے صالح) تم نہیں ہو مگر ایک سحرزدہ شخص

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: "You are nothing but one of those who are bewitched;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :You are merely one of those bewitched.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :You are merely one of those bewitched.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "You are only of those bewitched!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Thou art but one of the bewitched;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "You are only of those affected by magic.

— Saheeh International

They said, "You are only bewitched and insane.

— Muhammad Sarwar

They said: You are only of the deluded ones;

— Muhammad Habib Shakir

They said: thou art but one of the bewitched;

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Thou art only one of those bewitched!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:153

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 153–159

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 101 " سحر زدہ " یعنی دیوانہ و مجنون، جس کی عقل ماری گئی ہو۔ قدیم تصورات کے مطابق پاگل پن یا تو کسی جن کے اثر سے لاحق ہوتا تھا یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے وہ جسے پاگل کہنا چاہتے تھے اس کو یا تو " مجنون " کہتے تھے یا مسحور اور مسحر۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–159

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 153–154

آیت 153۔ 154 حضرت صالح کو ان کی قوم کا جواب مسحر میں مسحور سے زیادہ مبالغہ ہے۔ قوم نے حضرت صالح کی اس درد مندانہ تذکیر و تنبیہ کا یہ جواب دیا کہ تم تو ہم کو ایک بالکل ہی سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو کسی نے تم پر ایسا جادو کردیا ہے کہ تمہاری عقل بالکل ہی ماری گئی ہے جس کے سبب سے ہماری اس تہذیب و ترقی میں تمہیں ہر طرف خطرے ہی خطرے نظر آ رہے ہیں اور اس خطرے سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو۔ آخر تمہارے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ہم تمہیں خدا کا رسول مان لیں اور تمہارے ڈرادوں سے مرعوب ہو کر اپنی اس تمام تہذیب و ترقی کی بساط لپیٹ کر رکھ دیں ! تم بھی تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو۔ اگر خدا کو کوئی رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 152–155

155-1یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی ایک دن اونٹنی کے لئے اور ایک دن ان کے لئے پانی مقرر کردیا گیا تھا، اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 141–153

30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 153–154

قالوا انمآ ……(154) ان کا جواب یہ تھا کہ اے صالح تم پر کسی نے جادو کردیا ہے ، اس لئے تو یہ باتیں بغیر سوچے سمجھے کر رہا ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق خدا کی طرف دعوت دینے والے مجنون ہوتے ہیں۔ ما انت الا بشر مثلنا (26 : 153) ” تو ہم جیسے ایک انسان کے سوار اور کیا ہے۔ “ جب بھی انسانوں کے کسی گروہ کے پاس کوئی رسول آیا ہے۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ تم تو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کے بارے میں اور رسالت کے بارے میں کوتاہ بینی سے کام لیا۔ وہ اس بات کو کبھی نہ سجھ سکے کہ رسول بشر کیوں ہوتا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ انسانوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا دراصل انسانیت کے لئے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 153–154

5 یعنی ہم سے کون سی بات تجھ میں زائد ہے جو نبی بن گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے جادو کردیا ہے جس سے تیری عقل ماری گئی (العیاذ باللہ) 6 یعنی اگر نبی ہے اور ہم سے ممتاز درجہ رکھتا ہے تو اللہ سے کہہ کر کوئی ایسا نشان دکھلا جسے ہم بھی تسلیم کرلیں پھر فرمائش کی کہ اچھا پتھر کی اس چٹان میں سے ایک اونٹنی نکال دے جو ایسی اور ایسی ہو۔ حضرت صالح نے دعا فرمائی، حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ نشان دکھلا دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 147–153

آیت 153 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ” یعنی آپ علیہ السلام پر یقیناً جادو یا آسیب کے اثرات ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 152–153

93 حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت پر جب چند کمزور قسم کے لوگ ایمان لے آئے۔ تو چودھری لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے لگے کہ ان لوگوں کے سہارے تم انقلاب لانا چاہتے ہو ؟ کیا تمہاری عقل تو جواب نہیں دے گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ پھر جب صالح (علیہ السلام) کے پیروکاروں میں کچھ مزید اضافہ ہوگیا۔ تو چودھریوں کو کچھ فکر لاحق ہونے لگی اور ان کا انداز کلام بھی بدل گیا۔ کہنے لگے : تم بھی ہمارے ہی جیسے آدمی ہو آخر تم میں وہ کون سی زائد خوبی ہے کہ ہم تجھے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ ہاں اگر تم واقعی اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی نشانی پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 153–154

86۔ نشان یعنی خارق عادت، انبیاء کی دعوت کا اصل جوہر خود ان کی تعلیمات رہی ہیں۔ جاہلی قوموں نے بجائے ان تعلیمات کی قدر کرنے کے ہمیشہ مطالبہ خوارق ومعجزات کا کیا ہے۔ اور پیغمبروں کی بشریت ہی کو ان کی رسالت کا مانع اور اس کے منافی قرار دیا ہے۔ مظہر خدا، فرزند خدا، زوج خدا یہ سب کچھ تو وہ سمجھ سکتے تھے لیکن رسول خدا کا تصور ہی گویا انکی دماغی گرفت سے باہر تھا، آج اولیاء اللہ کو بھی، بہت سے جاہل ان کے لوازم طبعی اور حوائج بشری کی بناء پر کم وقعت و حقیر سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انما انت من المسحرین۔ (قوم ثمود نے) کہا تم خالص جادو زدہ لوگوں میں سے ہو (یعنی تم پر جادو کردیا گیا ہے کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو) یہ ترجمہ مجاہد اور قتادہ کا ہے۔ لیکن کلبی نے بروایت ابو صالح بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا مُعَلَّلِیْنبہلائے ہوئے عرب کہتے ہیں سَحَرَہٗاس کو کھانا پانی دے کر بہلا دیا اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم کھانا کھاتے ہو پانی پیتے ہو فرشتے نہیں ہو بلکہ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(153) ان لوگوں نے کہا کہ تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ : ”مَسْحُوْرِیْنَ“ جن پر جادو کیا گیا ہو۔ ”لْمُسَحَّرِيْنَ“ باب تفعیل سے ہے، اس میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔“ جب وہ لوگ صالح ؑ کی دعوت پر کوئی اعتراض نہ کرسکے تو عامۃ الناس کو بیوقوف بنانے کے لیے کہنے لگے، زبردست جادو کی وجہ سے تیری عقل ماری گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 153–159

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ][ اِنَّمَآ اَنْتَ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ][ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ : جادو کیے ہوئے لوگوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 145–153

57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–159

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔ قوم ثمود کا جواب آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ۝ 15 3ۚ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] والثاني : استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ، والثالث : ما يذهب إليه الأغتام «1» ، وهو اسم لفعل يزعمون أنه من قوّته يغيّر الصّور والطّبائع، فيجعل الإنسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 153–154

قَالُوْٓا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۔ مَـآ اَنْتَ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا صلے ج فَاْتِ بِاٰ یَـۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 153، 154) (ان لوگوں نے کہا کہ تم تو بس ایک سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو۔ تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو، تو تم کوئی نشانی لائو اگر تم سچے ہو۔ ) الْمُسَحَّرِیْنَ ، مُسَحَّرٌکی جمع ہے، سحرزدہ آدمی کو کہتے ہیں۔ ایک زمانے میں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ دماغی اختلال اور پاگل پن کسی جن کے اثر سے لاحق ہوتا ہے یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے جب وہ کسی کو سحر زدہ قرار دیتے ہیں تو مراد اس سے یہ ہوتی تھی کہ تم پاگل اور مجنون ہو۔ قوم کا جواب قومِ ثمود نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 152–155

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے معجزہ طلب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اونٹنی اور اس کا بچہ کو نمودار کیا۔ جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آچکی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم کا جواب : 153: قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ منَ الْمُسَحَّرِیْنَ (کہنے لگے بیشک تمہیں تو جادو کردیا گیا) المسحرؔ (جو سحر کی وجہ سے مغلوب العقل ہوجائے) ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ السَّحر سے ہے یعنی بہلایا ہوا ہے اور کھاتا پیتا انسان ہے فرشتہ نہیں (قول ابن عباس ؓ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

153۔ قالوا انما انت من المسحرین، مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ تم جادوزدہ لوگوں میں سے ہو، اور تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ کلبی نے بروایت ابوصالح سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا ہے مخلوق میں سے طعام اور شراب دے کر ان کو بہلاتے ہیں جیسا کہ عرب کہتے ہیں سحرۃ، اس کو کھانا پینادے کر بہلادیا۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم کھانا کھاتے ہو، پانی پیتے ہو ، فرشتے نہیں ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 146–153

77 پیغمبر کو ان کی قوم کی طرف سے نہایت گستاخانہ اور دلآزار جواب : سو حضرت صالح کو ان کی اس متکبر اور سرکش قوم نے یہ جواب دیا کہ " تم تو محض جادو کے مارے ہوئے شخص ہو "۔ " مسحور " نہیں " مسحّر " قرار دیا۔ جس میں مبالغہ اور زیادتی کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ یعنی تم پر ایسا سخت جادو کردیا گیا کہ تمہاری عقل ہی مار دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہاری بات پر کان دھرا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، صفوۃ وغیرہ وغیرہ) سو ان بدبختوں نے اللہ کے نبی کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے الٹا ان کو ایسا بیہودہ اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 152–153

3 ۔ ” اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور تو بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ “ یا تو بھی ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج ہے پھر رسول کیسے بن گیا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:153) المسحرین ۔ اسم مفعول جمع مذکر تسحیر مصدر (باب تفعیل) جادو زدہ جن پر جادو کردیا گیا ہو۔ سحر جادو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(153) قوم نے جواب دیا سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تو سحر زدہ اور جادو کا مارا ہوا ہے اور جادو کے مارے لوگوں میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے صالح تو ایک سحر زدہ آدمی ہے : 153۔ ہر قوم نے اپنے نبی ورسول کو یہ الزام دیا ہے اور اگر ہر قوم نے نہیں تو بہرحال اکثر اقوام نے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ جب ہر نبی ورسول نے یہ اعلان کیا کہ لوگوں میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا تم بات کو کم از کم سن لو چونکہ انہوں نے ایک بھی ایسا نہیں دیکھا تھا جو بغیر کسی معاوضہ کے کسی کا کام کرے اس لئے انہوں نے یہ اعلان سنتے ہی جھٹ یہ الزام دیا کہ ہو نہ ہو یہ کوئی پاگل ہے کیونکہ اس نے جو اعلان کیا ہے یہ عقل مندوں کا سا نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قوم تقریبا یہ اعلان سن کر بوکھلا جاتی کوئی تو یہ کہتا کہ یہ سحرزدہ ہے اور کوئی یہ ثابت کرتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

101 "Enchanted person": Mad and insane person who has lost reasoning power. According to the ancient conceptions, madness was either due to the influence of a jinn or magic. That is why a mad person was either called majnun (one under the influence of a jinn) or one enchanted by magic.

Read the full tafseer →