Explained with ayahs 146–152
صالح ؑ کی باغی قوم
حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
سورة الشُّعَرَآء 97
یعنی کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے ؟ کیا اس کو کبھی زوال آنا نہیں ہے ؟ کیا تم سے کبھی ان نعمتوں کا حساب نہ لیا جائے گا اور کبھی ان اعمال کی باز پرس نہ ہوگی جن کا تم ارتکاب کر رہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–148
خلاصہ تفسیر
قوم ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی صالح ؑ نے فرمایا کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے، میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے (اور تم جو خوشحالی کی وجہ سے اس درجہ اللہ سے غافل ہو تو) کیا تم کو ان ہی چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جاوے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں، یعنی باغوں میں اور چشموں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گپھے خوب گوندے ہوئے ہیں (یعنی ان کھجوروں میں خوب کثرت سے پھل آتا ہے) اور کیا (اسی غفلت کی وجہ سے) تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (اور فخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
آیت 149-146
نعمت کے ساتھ شکر نعمت نہ ہو تو وہ استدراج ہے
اوپر والی بات بطور تمہید تھی۔ یہ اس اصل خطرے سے حضرت صالح نے قوم کو آگاہ فرمایا جو بالکل سامنے تھا لیکن دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں مغروروں و نظر نہیں آ رہا تھا وہ اپنی مادی فربہی کو اپنی صحت و توانائی گمان کئے بیٹھے تھے۔ حضرت صالح ؑ نے آگاہ فرمایا کہ یہ فربہی صحت نہیں بلکہ ایک ناگہانی موت کا الارم ہے۔ اوپر حضرت ہود کی سرگزشت میں ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ نعمت کے ساتھ اگر شکر نعمت موجود نہ ہو تو وہ استدراج ہے جو بالآخر قوم کے لئے تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف صالح نے اپنی قوم کو توجہ دلائی اور الفاظ سے صاف واضح ہے کہ عین اس دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–146
146-1یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب ؟ استفہام انکاری اور توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–153
30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–150
3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–146
آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”
تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
91 قوم ثمود کا یہ علاقہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھا۔ وادیاں زرخیز تھیں۔ جا بجا میٹھے پانی کے چشمے موجود تھے۔ کھیتیاں اور باغات بکثرت تھے۔ جن میں طرح طرح کے پھل اور اعلیٰ قسم کی کھجور پیدا ہوتی تھی۔ اور پہاڑوں کی تراش کر جو وہ مکان بناتے تھے تو وہ محض ضرورت رہائش پوری کرنے کے لئے نہیں بناتے تھے بلکہ خوبصورت سے خوبصورعت اور اعلیٰ سے اعلیٰ مکان بنانے میں ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا اور اس سے ان کا مقصد اپنے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی جو اس قدر دنیا پر ریجھ گئے ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
84۔ قوم ثمود کی تہذیب و تمدن اور فنون سنگ تراشی وغیرہ پر حاشیے پ 8 سورة الاعراف میں گزر چکے۔ (آیت) ” جنت وعیون۔ زروع ونخل “۔ قوم ثمود عرب کے شمالی ومغربی علاقہ میں جو خوب سرسبز و شاداب تھا آباد تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت نمبر 141 تا 159
ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…
Read the full tafseer →اتترکون فی ما ہہنا امنین۔ کیا تم کو انہی چیزوں میں جو یہاں موجود ہیں یونہی بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
(146 تا 148) کیا تمہیں کو ان ہی نعمتوں میں موت عذاب اور زوال سے بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا یعنی باغوں میں اور پاک پانی کے چشموں میں۔
اور کھیتوں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گچھے خوب گوندھے ہوئے اور خوبصورت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–150
اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَآ اٰمِنِيْنَ۔۔ : قوم عاد کی طرح یہ لوگ بھی اللہ کی عبادت سے کنارہ کش ہوچکے تھے، بتوں کے پجاری اور قیامت کے منکر تھے، جس کے نتیجے میں ان کی ساری تگ و دو دنیا کی آسائشوں کے حصول اور عیش پرستی تک محدود تھی، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے یکسر عاری تھے، ان کے بدترین اور مفسد لوگ ان کے سردار اور راہ نما بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صالح ؑ کو بھیجا، جنھوں نے اوپر والی آیات کے مطابق انھیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ وہ ان سے کسی بھی قسم کی مالی منفعت کے طلب گار نہیں ہیں۔ اس کے بعد انھیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–152
فاتقوا اللہ واطیعون۔ ولا تطیعوا امر المسرفین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نوافر اد ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے رہے اور اصلاح احوال نہ کرتے۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : تیری قوم تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹے گی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو افراد سے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا کام کرنے والے نہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اس ماہ میں تمہارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹے گا اور تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔
پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم
ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔
3۔…
Read the full tafseer →[ اَتُتْرَكُوْنَ : کیا تم لوگ چھوڑ دیے جاؤ گے ][ فِيْ مَا : اس میں جو ][ هٰهُنَآ : یہاں ہے ][ اٰمِنِيْنَ : امن والے ہوتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا
سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔
یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–153
57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–152
قوم ثمود
تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…
Read the full tafseer →اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِيْنَ 14 6ۙ
ترك
تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله :
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25]
( ت ر ک) ترک
الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–148
اَ تُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ھٰـھُنَـآ اٰمِنِیْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنِ ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْـعُـھَا ھَضِیْمٌ۔ (الشعرآء : 126 تا 148)
(کیا تمہیں رہنے دیا جائے گا اس (عیش و طرب) میں جس میں تم یہاں ہو ہر خطرے سے محفوظ۔ باغوں اور چشموں میں۔ کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں۔ )
خوشحالی سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کا ازالہ
دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے لوگ جن بڑی بڑی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں سب سے بڑی خوش فہمی یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے، اس کو کبھی زوال نہیں ہوگا اور نہ کبھی ان نعمتوں کا حساب لیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–151
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔
حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–146
قوم ثمود کا تذکرہ :
140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔
صالح ( علیہ السلام) کی تقریر :
اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
146۔ اتترکون فیماھھنا ، یعنی اس دنیا میں ، آمنین، عذاب سے امن پانے والے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت 141 سے 159
(کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–153
77 پیغمبر کو ان کی قوم کی طرف سے نہایت گستاخانہ اور دلآزار جواب : سو حضرت صالح کو ان کی اس متکبر اور سرکش قوم نے یہ جواب دیا کہ " تم تو محض جادو کے مارے ہوئے شخص ہو "۔ " مسحور " نہیں " مسحّر " قرار دیا۔ جس میں مبالغہ اور زیادتی کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ یعنی تم پر ایسا سخت جادو کردیا گیا کہ تمہاری عقل ہی مار دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہاری بات پر کان دھرا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، صفوۃ وغیرہ وغیرہ) سو ان بدبختوں نے اللہ کے نبی کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے الٹا ان کو ایسا بیہودہ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیات 141 تا 159
اسرار و معارف
قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔
کمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–148
12 ۔ اور ” تمہیں کبھی زوال نہ آئے گا اور نہ تم ان اعمال کی بازپرس ہوگی جن کا ارتکاب تم کر رہے ہو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
(26:146) اتترکون۔ الف استفہام انکاری کے لئے ہے تترکون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ترک یترک (نصر) ترک مصدر کیا تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ کیا تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
فیما ھھنا۔ ما موصولہ ہے اور ھھنا اشارہ قریب ۔ موجودہ حالت تنعم کی طرف ہے۔ باغات، چشمے ۔ سرسبز کھیت۔ اور پر شگوفہ کھجوروں کے اشجار۔ یعنی کیا تم ان باغات و چشموں اور شاداب کھیتوں اور کھجور کے درختوں میں جن کے شگوفے بڑے نرم و نازک ہیں (عیش کرنے کے لئے) محفوظ و بےخطر چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟
امنین : امن کی جمع بےخوف۔ مطمئن، امن میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 :
اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
قوم ہود (علیہ السلام) کی سرکشی اور ہلاکت
1: جس طرح کفر و انکار کی ماہیت یکساں ہے ۔ اسی طرح ایمان ویقین کی حقیقت ایک ہے ۔ جس طرح آدم (علیہ السلام) نے توحید کی اولین شمع روشن کی ۔ اسی طرحانبیا ما بعد نے تفرید کا اجالا پیش کیا ۔
چنانچہ آپ انبیا کی تعلیم میں ایک نوح کی وحدت دیکھیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ ان لوگوں کا منبع ایک ہے ۔ ماخذ ایک ہے ، تعلیم ایک ہے ، اور پیغام ایک ہے اور یہ واقعہ ہے کہ صداقت ہمیشہ حقیقت ہوتی ہے ۔
حضرت ہود نے قوم کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دی تھی ۔ اسی طرح حضرت صالح نے فرمایا : کہ دل میں تبدیلی پیدا کرو ۔ قلب سے دنیا کی محبت نکال دو ۔ اور اس کو معارف ایمان سے معمور…
Read the full tafseer →(146) کیا تم ان نعمتوں میں جو اس وقت تمہارے پاس موجود ہیں یوں ہی بےخوف اور نڈر اور بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیاجائے گا یعنی وہ نعمتیں جو دنیا میں تم کو حاصل ہیں ان دنیوی نعمتوں میں تم کو بےخوفی اور بےفکری کے ساتھ رہنے دیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →کیا تم ان چیزوں کے درمیان ویسے ہی اطمینان سے رہنے دیئے جاؤ گے ؟ ۔
146۔ صالح (علیہ السلام) اب قوم کے لیڈروں اور مذہبی پیشواؤں سے پوچھ رہے ہیں کہ صاحبو ! اتنی بات تو بتاؤ کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دنیوی انعامات دے رکھے ہیں کیا یہ سب ہمیشگی ہیں ؟ کیا انکو کبھی زوال نہیں آنے والا ؟ مقصود یہ ہے کہ آج جن چیزوں کے تم مالک اور لوگ تھے گویا یہ چیزیں موجود تھیں اور ان چیزوں کو ہماری ‘ ہماری کہنے والے کچھ اور لوگ تھے آج جب کہ ان کا نام ونشان بھی نہیں رہا اور یہ چیزیں تمہاری کہلاتی ہیں اور تم ان چیزوں کو ہماری ‘ ہماری کہہ رہے ہو تو آنے والے کل میں ان سب چیزوں کی ملکیت تبدیل ہوچکی ہوچکی ہوگی اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary
Explanation of some difficult words
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾
Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129)
Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
97 hat is, "Do you consider that your life of indulgence and pleasure is everlasting, and you will never be asked to account for Allah's favours to you and for your own misdeeds?"
Read the full tafseer →