Ash-Shu'araa 26:145

Ash-Shu'araa · from ayah 145

26:145

وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ ۚ— اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ؕوَمَاۤ اَسۡـئَلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ‌ۚ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:145

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں تم سے اس کام کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو بس عالم کے رب ہی کے ذمہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں اس کام پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں تم سے کوئی صلہ اس پر نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس پروردگار عالم کے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میری اجرت تو تمام جہانوں کے رب ہی کے ذمے ّ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ اللہ رب العلمین کے ذمے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I ask of you no reward. My reward is with none but the Lord of the Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I do not claim from you any reward for it. My reward is with none but with the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

I do not claim from you any reward for it. My reward is with none but with the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"No reward do I ask of you for it; my reward is only from the Lord of Al-`Alamin."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And I ask of you no wage therefor; my wage is the concern only of the Lord of the Worlds.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

I do not ask for any payment for my preaching. I shall receive my reward from the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

And I do not ask you any reward for it; my reward is only with the Lord of the worlds:

— Muhammad Habib Shakir

And I ask of you no hire therefor; MY hire is but with the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

"No reward do I ask of you for it: my reward is only from the Lord of the Worlds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:145

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 141–145

صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 144–146

سورة الشُّعَرَآء 97 یعنی کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے ؟ کیا اس کو کبھی زوال آنا نہیں ہے ؟ کیا تم سے کبھی ان نعمتوں کا حساب نہ لیا جائے گا اور کبھی ان اعمال کی باز پرس نہ ہوگی جن کا تم ارتکاب کر رہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–148

خلاصہ تفسیر قوم ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی صالح ؑ نے فرمایا کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے، میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے (اور تم جو خوشحالی کی وجہ سے اس درجہ اللہ سے غافل ہو تو) کیا تم کو ان ہی چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جاوے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں، یعنی باغوں میں اور چشموں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گپھے خوب گوندے ہوئے ہیں (یعنی ان کھجوروں میں خوب کثرت سے پھل آتا ہے) اور کیا (اسی غفلت کی وجہ سے) تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (اور فخر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بےنیازی خدمت خلق کے لئے ایک راہ شرط ہے اس میں ترغیب و تودیع اور اظہار بےنیازی کے جو مختلف پہلو ہیں ان کی طرف پیچھے اشارہ ہوچکا ہے۔ بےنیازی خدمت خلق کے لئے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ لوگوں کی زبانیں بند کردینا کسی کے بس میں نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے برملا اس امر کا اعلان فرمایا کہ ہم تم سے کچھ مانگنے کے لئے نہیں بلکہ تمہیں دینے کے لئے آئے ہیں۔ یہ مقام ہے بہت مشکل لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں دعوت حق کو فروغ ایسے ہی بےنیازوں کے ذریعے سے ہوا ہے جو خلق سے کسی صلے کے طالب نہیں ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 142–146

146-1یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب ؟ استفہام انکاری اور توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 141–153

30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 141–145

درس نمبر 166 تشریح آیات 141……تا……159 کذبت ثمود ……رب العلمین (135) وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔ اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 140–150

3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 139–146

آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ” تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 145–146

91 قوم ثمود کا یہ علاقہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھا۔ وادیاں زرخیز تھیں۔ جا بجا میٹھے پانی کے چشمے موجود تھے۔ کھیتیاں اور باغات بکثرت تھے۔ جن میں طرح طرح کے پھل اور اعلیٰ قسم کی کھجور پیدا ہوتی تھی۔ اور پہاڑوں کی تراش کر جو وہ مکان بناتے تھے تو وہ محض ضرورت رہائش پوری کرنے کے لئے نہیں بناتے تھے بلکہ خوبصورت سے خوبصورعت اور اعلیٰ سے اعلیٰ مکان بنانے میں ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا اور اس سے ان کا مقصد اپنے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی جو اس قدر دنیا پر ریجھ گئے ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 140–145

83۔ قوم ثمود اور حضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم “۔” بھائی “ سے مراد وہی وطنی یا نسلی برادری ہے نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ باقی آیتیں اس سلسلہ کی بار بار آچکی ہیں، اور اوپر ان کے حاشیے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما اسلئکم من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ میں تم سے (اس تبلیغ و ہدایت کا) کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا میرا (سارا) معاوضہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 144–145

(144۔ 145) اور اللہ کے حکم اور میرے طریقہ کی پیروی کرو، اور تم سے اس تبلیغ توحید پر کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ اور ثواب تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 141–145

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ثمود اور صالح ؑ کا قصہ اس سے پہلے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، حجر (80 تا 84) اور بنی اسرائیل (59) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (45 تا 53) ، ذاریات (43 تا 45) ، قمر (23 تا 31) ، فجر (9) اور شمس (11)۔ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ : صالح ؑ کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود : 62) قوم کا انھیں ”اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ“ کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 144–152

فاتقوا اللہ واطیعون۔ ولا تطیعوا امر المسرفین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نوافر اد ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے رہے اور اصلاح احوال نہ کرتے۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : تیری قوم تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹے گی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو افراد سے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا کام کرنے والے نہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اس ماہ میں تمہارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹے گا اور تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ : اور میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ][ عَلَيْهِ : اس پر ][ مِنْ اَجْرٍ : کوئی بھی اجرت ][ ۚ اِنْ اَجْرِيَ : نہیں ہے میری اجرت ][ اِلَّا : مگر ][ عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 145–153

57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 141–152

قوم ثمود تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ۝ 0ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 14 5ۭ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 141–145

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُـوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍا ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے اللہ کا ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ) حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کی سرگزشت اب قوم ثمود کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 142–151

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 140–146

قوم ثمود کا تذکرہ : 140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ صالح ( علیہ السلام) کی تقریر : اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 137–145

137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 136–145

75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 144–148

12 ۔ اور ” تمہیں کبھی زوال نہ آئے گا اور نہ تم ان اعمال کی بازپرس ہوگی جن کا ارتکاب تم کر رہے ہو۔ “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 138–145

(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 144–147

قوم ہود (علیہ السلام) کی سرکشی اور ہلاکت 1: جس طرح کفر و انکار کی ماہیت یکساں ہے ۔ اسی طرح ایمان ویقین کی حقیقت ایک ہے ۔ جس طرح آدم (علیہ السلام) نے توحید کی اولین شمع روشن کی ۔ اسی طرحانبیا ما بعد نے تفرید کا اجالا پیش کیا ۔ چنانچہ آپ انبیا کی تعلیم میں ایک نوح کی وحدت دیکھیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ ان لوگوں کا منبع ایک ہے ۔ ماخذ ایک ہے ، تعلیم ایک ہے ، اور پیغام ایک ہے اور یہ واقعہ ہے کہ صداقت ہمیشہ حقیقت ہوتی ہے ۔ حضرت ہود نے قوم کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دی تھی ۔ اسی طرح حضرت صالح نے فرمایا : کہ دل میں تبدیلی پیدا کرو ۔ قلب سے دنیا کی محبت نکال دو ۔ اور اس کو معارف ایمان سے معمور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(145) اور میں تم سے اس رسالت کی تبلیغ پر کوئی مزدوری اور اجرت نہیں مانگتا میرا اجر اور میرا صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے یعنی ثمود کے لوگ پہاڑوں میں مکان بنا کر رہتے تھے اور پہاڑوں میں سے بت تراش کر ان کی پوجا کرتے تھے ان کی ہدایت اور ان کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا باقی باتیں انہوں نے بھی وہی فرمائیں جو ان کے پیش رو اپنی اپنی قوم سے فرماچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 137–151

ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صالح (علیہ السلام) نے کہا میں تم سے اجر نہیں چاہتا میرا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے : 145۔ یہ اعلان بھی ان اعلانات میں سے ہے جو ہر نبی ورسول کی طرف سے کیا گیا ‘ دنیا میں کوئی کام ایسا نہیں جو انسان مفت سرانجام دے اور پھر دیتا ہی چلا جائے اور یہ بھی کہ جن لوگوں کے لئے سرانجام دے ان پر کچھ احسان بھی نہ رکھے اور اگر وہ کام لوگ اس کو سرانجام دے لینے دیں تو وہ ان کا مشکور بھی ہو ۔ انبیاء ورسل کے ذمہ ایک ایسا ہی کام لگایا گیا جس کو وہ ہمیشہ مفت سرانجام دیتے رہے اور اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے انہوں نے وہ کام سرانجام دیا وہ ہمیشہ ہی ان سے ناخوش رہے اور نہ صرف یہ کہ ناخوش رہے بلکہ ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 144–146

97 hat is, "Do you consider that your life of indulgence and pleasure is everlasting, and you will never be asked to account for Allah's favours to you and for your own misdeeds?"

Read the full tafseer →