كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖكَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ
(اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thamud denied the messengers
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖكَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ
(اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Thamud denied the messengers
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا
(اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،
(قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔
قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔
ثمود نے بھی رسولوں کی تکذیب کی
قوم ثمود نے بھی جھٹلایا رسولوں کو
قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
(اسی طرح) قوم ثمود نے رسولوں ؑ کو جھٹلایا
اور قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔
The Thamud gave the lie to the Messengers.
The (people of) Thamud rejected the messengers
The (people of) Thamud rejected the messengers
Thamud denied the Messengers.
(The tribe of) Thamud denied the messengers (of Allah)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Thamud denied the messengers
The tribe of Thamud rejected the Messengers.
Samood gave the lie to the apostles
The Thamud belied the sent ones
The Thamud (people) rejected the messengers.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 141–145
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
سورة الشُّعَرَآء 95 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 73 تا 79۔ ہود، 61۔ 68۔ الحجر، 80۔ 84۔ بنی اسرائیل 59۔ مزید تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں النمل، 45۔ 53۔ الذاریات، 43۔ 45۔ القمر، 23۔ 31۔ الحاقہ، 4۔ 5۔ الفجر، 9۔ الشمس، 11۔ اس قوم کے متعلق قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جو تصریحات کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد کے بعد جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی تھی، جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ (الاعراف آیت 74) مگر اس کی تمدنی ترقی نے بھی بالآخر وہی شکل اختیار کی جو عاد کی ترقی نے کی تھی، یعنی معیار زندگی بلند سے بلند تر اور معیار آدمیت پست سے پست تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–148
خلاصہ تفسیر قوم ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی صالح ؑ نے فرمایا کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے، میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے (اور تم جو خوشحالی کی وجہ سے اس درجہ اللہ سے غافل ہو تو) کیا تم کو ان ہی چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جاوے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں، یعنی باغوں میں اور چشموں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گپھے خوب گوندے ہوئے ہیں (یعنی ان کھجوروں میں خوب کثرت سے پھل آتا ہے) اور کیا (اسی غفلت کی وجہ سے) تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (اور فخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
آگے کا مضمون … آیات 159-141 حضرت صالح کی دعوت کا بیان آگے قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کی سرگزشت ہے اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ انبیاء علہیم السلام کی دعوت میں جو یسکانی رہی ہے وہ بھی اس سے واضح ہے اور ان کی قوموں کے رویے اور ان کے انجام میں جو یک رنگی رہی ہے وہ بھی اس سے نمایاں ہے۔ اب بعینیہ اسی روش کا مظاہرہ اپنے رسول کے ساتھ قریش کر رہے تھے تو آخر ان کا انجام اس سے مختلف کیں ہوتا جو ان کے دوسرے پیشروئوں کا ہوا … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 144-141) قوم کی تہمت کا جواب اور بدعمل لیڈروں کی پیروی سے بعینیہ یہی آیات اوپر وال سرگزشت میں گزر چکی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
141-1ثمود کا مسکن حضر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آجکل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی ﷺ تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–153
30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–145
درس نمبر 166 تشریح آیات 141……تا……159 کذبت ثمود ……رب العلمین (135) وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔ اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–150
3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–146
آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ” تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
89 قوم عاد اولیٰ کے بعد یہی قوم ثمود، جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں، نامور ہوئی۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ قوم موسیٰ کا ذکر فرمایا، پھر قوم ابراہیم کا، پھر قوم نوح کا، پھر قوم عاد اولیٰ کا اور پانچویں نمبر پر قوم عاد ثانیہ کا ذکر ہے۔ اس قوم کے مسکن کو الحجر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین چار سو کلومیٹر لمبا اور تقریباً سو کلومیٹر چوڑا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے اور اس راستہ پر واقع ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے۔ اس قوم کے رنگ ڈھنگ تقریباً وہی تھے جو عاد اولیٰ کے تھے۔ اسی طرح کے تندمند اور قد آور اور مضبوط جسموں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ضرور تھے مگر شرک کی امراض میں بری طرح مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–145
83۔ قوم ثمود اور حضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم “۔” بھائی “ سے مراد وہی وطنی یا نسلی برادری ہے نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ باقی آیتیں اس سلسلہ کی بار بار آچکی ہیں، اور اوپر ان کے حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…
Read the full tafseer →کذبت ثمود المرسلین۔ (قوم) ثمود نے پیغمبروں کو جھوٹا بتایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
(141 تا 143) قوم ثمود نے بھی حضرت صالح ؑ کو اور جن انبیاء کی حضرت صالح ؑ نے ان کو خبر دی سب کو جھٹلایا جب کہ ان کے نبی حضرت صالح ؑ نے فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو، میں اللہ کی طرف سے امانت دار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو کہ توبہ کرو اور ایمان لاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–145
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ثمود اور صالح ؑ کا قصہ اس سے پہلے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، حجر (80 تا 84) اور بنی اسرائیل (59) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (45 تا 53) ، ذاریات (43 تا 45) ، قمر (23 تا 31) ، فجر (9) اور شمس (11)۔ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ : صالح ؑ کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود : 62) قوم کا انھیں ”اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ“ کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
(کذبت ثمود المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) اتثر کون فی ماھھنا امنین یعنی دنیا میں موت اور عذاب سے امن میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ بڑے معمر لوگ تھے عمارات ان کی عمروں کے ساتھ باقی نہیں رہتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے واستعمر کم فیھا (ہود : 61) حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں شرمندہ کیا اور فرمایا : کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم دنیا میں موت کے بغیر باقی رہو گے۔ فی جنت وعیون۔ وزروع ونخل طلعھا ھضیم زمخشری نے کہا : اگر تو کہے جنت کے بعد نخل کیوں فرمایا جب کہ جنات کھجور کے درختوں کو پہلے شامل ہوتا ہے جس طرح نعم کا لفظ اونٹوں کو شامل ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…
Read the full tafseer →[ كَذَّبَتْ : جھٹلایا ][ ثَمُوْدُ : ثمود نے ][ الْمُرْسَلِيْنَ : بھیجے ہوؤں کو ]
Read the full tafseer →قوم ثمود کا حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلانا اور تکذیب و انکار کے جرم میں ہلاک ہونا اس رکوع میں قوم ثمود کی سر کشی اور بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے انہوں نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی سمجھایا بجھایا، قوم عاد کی طرح ان لوگوں نے بھی ضد وعناد اور سرکشی پر کمر باندھ لی، حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں یہ بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں امین ہوں تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور یہ فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوب نعمتیں دی ہیں انہیں یاد کرو نا شکرے نہ بنو اس نے تمہیں باغ دیئے چشمے عطا فرمائے، کھیتیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
55:۔ یہ پانچویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم صلح “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتترکون الخ ” ما موصولہ ” ھہنا “ صلہ۔ ” اٰمنین “ ، ” تترکون “ کے نائب فاعل سے حال ہے۔ ” فی جنت الخ “ ” فی ما ھہنا “ سے بدل ہے (روح) ۔ کیا تم یہاں دنیا میں، ان باغوں اور چشموں میں، ان سرسبزو شاداب کھیتوں، تروتازہ اور گھنے گچھوں سے لدی ہوئی کھجوروں میں ہمیشہ ہی داد عیش دیتے رہو گے اور خدا کے یہاں حاضر نہیں ہوگے ؟ ” وتنحتون الخ “ یہ ” تترکون “ پر معطوف ہے۔ ” فارھین “ ای اشرین بطرین کما روی عن ابن عباس۔ قال ابو صالح حاذقین وبذالک فسرہ الراغب (روح ج 19 ص 113) ۔ یعنی کیا تم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–152
قوم ثمود تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ 14 1ۚۖ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ترکیب : : آمنین حال من ضمیر تترکون فی جنات الخ بدل من فیماھھنا باعادۃ الجار ھضیم لطیف لین تنحتون نحت تراشیدن فرھین حال۔ قوم ثمود کے عادات : یہ پانچواں قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی کنارہ میں تھی۔ ان کے ہاں باغ اور کھیتی اور پانی کے جاری چشمے اور عمدہ کھجوریں پیدا ہوتی تھیں یہ ملک نہایت سرسبز اور شاداب تھا اس قوم کو بڑی فارغ البالی حاصل تھی باغوں اور کھیتوں میں عیش کیا کرتے تھے مگر بدبخت بت پرست تھے رہزانی اور غارتگری اور چوری اور دیگر فواحش میں سخت مبتلا تھے قیامت اور روز جزا کے منکر اور ان میں بیہودہ لوگ ان کے پیر تھے ان کے نسبت فرماتا ہے الذین یفسدون فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–145
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُـوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍا ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے اللہ کا ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ) حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کی سرگزشت اب قوم ثمود کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–141
فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–146
قوم ثمود کا تذکرہ : 140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ صالح ( علیہ السلام) کی تقریر : اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–145
75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–142
10 ۔ ” جو اس کے علاوہ دوسروں کی پرستش کرتے اور ان کے حکموں پر چلتے ہو۔ “ قوم ثمود کی آبادی ” حجر “ کے علاقہ میں تھی جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے اور آج کل اسے ” مدائن صالح “ کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–145
(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
ف 1: حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب قوم سے کہا ۔ کہ مادیت پرستی میں اس قدر غلو کرنا تمہاری ہلاکت کا باعث ہوگا ۔ تو وہ ہنسے ۔ اور کہا ۔ کہ جناب آپ کے وعظ کا ہمارے دلوں پر قطعاً کوئی اثر نہیں ۔ ہم تو عیش و عشرت کی زندگی کو ایک معمولی اور ناگریز بات جانتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں یہ بہت بڑا جرم نہیں ۔ پہلی قوموں میں اس نوع کے جذبات موجود تھے ۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ۔ کہ ہم عذاب الٰہی سے ڈریں ۔ اور خائف ہوں ۔ قوم کے ان متبکرانہ جواب پر حضرت ہود بالکل مایوس ہوگئے ۔ تب اللہ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور ان کی الٹ دی گئیں اور تفاخر وتکبر کے علم سرنگوں کردیئے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ عاد کی تمام شان و شوکت خاک…
Read the full tafseer →(141) قبیلہ ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →ثمود قوم نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا : 141۔ قوم عاد کے بعد قوم ثمود کی باری آگئی یہ لوگ قوم عاد ہی کا بقیہ تھے یا اس سے کوئی الگ تھلک قوم تھی ۔ مؤرخیں ومفسرین نے مختلف رائیں قائم کی ہیں بہرحال یہ بات واضح ہے کہ ثمود کا زمانہ عاد کے بعد ہے ۔ یہ بستیاں کہاں تھیں اور یہ لوگ کونسا مسکن رکھتے تھے ؟ قرآن کریم سے جو معلوم ہے وہ تو بالکل واضح ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ حجاز اور شام کے درمیان کی وادی قری تک جو میدان نظر آتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت ہے اور یہ علاقہ آج کل ” فج الناقہ “ کے نام سے معروف کیا گیا ہے ، قوم ثمود کے نبی ورسول صالح (علیہ السلام) تھے لیکن قوم عاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
95 For comparison, see Al-A'raf: 73-79, Hud: 61-68, AI-Hijr: 80-84, Bani Isra'il 59; and for further details, see An-Naml . 45-53, Az-Zariyat: 43-45, AI-Qamar: 23-31, AI-Haqqah: 4-5, Al-Fajr: 9, and Ash-Shams: 11. _Thamud achieved power and glory after the destruction of 'Ad and as far as progress in civilization is concerned, they followed in the footsteps of their predecessors. In their case, too, the standards of living went on rising higher and higher and the standards of humanity continued to fall lower and lower, suffering one deterioration after the other. On the one hand, they erected…
Read the full tafseer →