Explained with ayahs 136–140
موثر بیانات بھی بےاثر
حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
سورة الشُّعَرَآء 95
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 73 تا 79۔ ہود، 61۔ 68۔ الحجر، 80۔ 84۔ بنی اسرائیل 59۔ مزید تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں النمل، 45۔ 53۔ الذاریات، 43۔ 45۔ القمر، 23۔ 31۔ الحاقہ، 4۔ 5۔ الفجر، 9۔ الشمس، 11۔
اس قوم کے متعلق قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جو تصریحات کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد کے بعد جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی تھی، جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ (الاعراف آیت 74) مگر اس کی تمدنی ترقی نے بھی بالآخر وہی شکل اختیار کی جو عاد کی ترقی نے کی تھی، یعنی معیار زندگی بلند سے بلند تر اور معیار آدمیت پست سے پست تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل
چند مشکل الفاظ کی تشریح
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
آیت 140-139
فرمایا کہ اسطرح انہوں نے ہود ؑ کو جھٹلا دیا جس کے بعد ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ اس کے بعد وہی آیات ترجیح ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخاطبوں کے لئے تہدید و وعید ہے کہ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو تاریخ کی اس سرگزشت میں بہت بڑی نشانی موجود ہے۔ لیکن یہ لوگ ایمان نہ لانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور جو لوگ بہانے ڈھونڈتے ہیں سنت الٰہی کے مطابق ایک وقت خاص تک بہرحال ان کو بھی مہلت ملتی ہے لیکن وہ خدائے عزیز کی پکڑ سے کہاں بھاگ کر جاسکیں گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
141-1ثمود کا مسکن حضر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آجکل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی ﷺ تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
29: قوم عاد اور حضرت ہود ؑ کے مزید تعارف کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 65 اور سورة ہود 50 تا 59
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
فکذبوہ فاھلکنھم
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔
قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–150
3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–146
آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”
تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
89 قوم عاد اولیٰ کے بعد یہی قوم ثمود، جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں، نامور ہوئی۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ قوم موسیٰ کا ذکر فرمایا، پھر قوم ابراہیم کا، پھر قوم نوح کا، پھر قوم عاد اولیٰ کا اور پانچویں نمبر پر قوم عاد ثانیہ کا ذکر ہے۔ اس قوم کے مسکن کو الحجر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین چار سو کلومیٹر لمبا اور تقریباً سو کلومیٹر چوڑا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے اور اس راستہ پر واقع ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے۔ اس قوم کے رنگ ڈھنگ تقریباً وہی تھے جو عاد اولیٰ کے تھے۔ اسی طرح کے تندمند اور قد آور اور مضبوط جسموں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ضرور تھے مگر شرک کی امراض میں بری طرح مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–145
83۔ قوم ثمود اور حضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم “۔” بھائی “ سے مراد وہی وطنی یا نسلی برادری ہے نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ باقی آیتیں اس سلسلہ کی بار بار آچکی ہیں، اور اوپر ان کے حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140
ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →وان ربک لہو العزیز الرحیم اور بلاشبہ آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے۔
Read the full tafseer →(140) اور بیشک آپ کا پروردگار کفار کو سزا دینے میں زبردست ہے اور مومنین پر مہربان ہے کہ انھیں اس عذاب سے نجات دی۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : ظالموں پر عذاب اس کی عزت اور غلبے کا اظہار ہے اور ایمان والوں کی نجات اس کی رحمت کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
وما نحن بمعذبین جو ہم کیا کرتے تھے اس پر ہمیں عذاب نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے خلق اجسام الاولین یعنی ہماری پیدائش نہیں ہے مگر پہلوں کی پیدائش کی طرح جو ہم سے قبل پیدا کیے گئے وہ مر گئے اور جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس میں سے کوئی چیز ان پر نازل نہ ہوئی۔
فکذبوہ فاھلکنھم ہم نے انہیں ریح صرصر سے ہلاک کردیا وہ سرکش تھی جس طرح سورة حاقہ میں آئے گا۔
” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ “ بعض نے کہا : ان پر تین لاکھ اور چند سو ایمان لائے اور باقی ماندہ ہلاک ہوگئے۔
1 ؎؎۔ جامع ترمذی، بابنی الرضاع، باب ما جاء لحق المراۃ علی زوجھا، جلد 1، صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔
2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔
5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] الْعَزِيْزُ [ بالا دست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔
یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
55:۔ یہ پانچویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم صلح “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتترکون الخ ” ما موصولہ ” ھہنا “ صلہ۔ ” اٰمنین “ ، ” تترکون “ کے نائب فاعل سے حال ہے۔ ” فی جنت الخ “ ” فی ما ھہنا “ سے بدل ہے (روح) ۔ کیا تم یہاں دنیا میں، ان باغوں اور چشموں میں، ان سرسبزو شاداب کھیتوں، تروتازہ اور گھنے گچھوں سے لدی ہوئی کھجوروں میں ہمیشہ ہی داد عیش دیتے رہو گے اور خدا کے یہاں حاضر نہیں ہوگے ؟ ” وتنحتون الخ “ یہ ” تترکون “ پر معطوف ہے۔ ” فارھین “ ای اشرین بطرین کما روی عن ابن عباس۔ قال ابو صالح حاذقین وبذالک فسرہ الراغب (روح ج 19 ص 113) ۔ یعنی کیا تم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–140
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 140ۧ
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزۃ
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ترکیب : : آمنین حال من ضمیر تترکون فی جنات الخ بدل من فیماھھنا باعادۃ الجار ھضیم لطیف لین تنحتون نحت تراشیدن فرھین حال۔
قوم ثمود کے عادات : یہ پانچواں قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی کنارہ میں تھی۔ ان کے ہاں باغ اور کھیتی اور پانی کے جاری چشمے اور عمدہ کھجوریں پیدا ہوتی تھیں یہ ملک نہایت سرسبز اور شاداب تھا اس قوم کو بڑی فارغ البالی حاصل تھی باغوں اور کھیتوں میں عیش کیا کرتے تھے مگر بدبخت بت پرست تھے رہزانی اور غارتگری اور چوری اور دیگر فواحش میں سخت مبتلا تھے قیامت اور روز جزا کے منکر اور ان میں بیہودہ لوگ ان کے پیر تھے ان کے نسبت فرماتا ہے الذین یفسدون فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
فَکَذَّبُوْہُ فَاَھْلَـکْـنٰـھُمْ ط اِنّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوْالْعَزِیْزُالرَّحِیْمْ ۔ (الشعرآء : 139، 140)
(آخر کار انھوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا، اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں، اور بیشک تمہارا رب وہ غالب اور مہربان ہے۔ )
تکذیب کا نتیجہ
جب قوم ہود نے تکذیب میں انتہا کردی حتیٰ کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی زندگی کے درپے ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ کی سنت حرکت میں آئی تو اس قوم کو ہلاک کردیا گیا۔ بعض دیگر مواقع پر قرآن کریم نے بتایا ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–141
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔
قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–146
قوم ثمود کا تذکرہ :
140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔
صالح ( علیہ السلام) کی تقریر :
اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140
یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–145
75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ
تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140
اسرار و معارف :
ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–142
10 ۔ ” جو اس کے علاوہ دوسروں کی پرستش کرتے اور ان کے حکموں پر چلتے ہو۔ “ قوم ثمود کی آبادی ” حجر “ کے علاقہ میں تھی جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے اور آج کل اسے ” مدائن صالح “ کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–145
(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 :
اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 :
سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
ف 1: حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب قوم سے کہا ۔ کہ مادیت پرستی میں اس قدر غلو کرنا تمہاری ہلاکت کا باعث ہوگا ۔ تو وہ ہنسے ۔ اور کہا ۔ کہ جناب آپ کے وعظ کا ہمارے دلوں پر قطعاً کوئی اثر نہیں ۔ ہم تو عیش و عشرت کی زندگی کو ایک معمولی اور ناگریز بات جانتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں یہ بہت بڑا جرم نہیں ۔ پہلی قوموں میں اس نوع کے جذبات موجود تھے ۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ۔ کہ ہم عذاب الٰہی سے ڈریں ۔ اور خائف ہوں ۔
قوم کے ان متبکرانہ جواب پر حضرت ہود بالکل مایوس ہوگئے ۔ تب اللہ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور ان کی الٹ دی گئیں اور تفاخر وتکبر کے علم سرنگوں کردیئے گئے ۔
نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ عاد کی تمام شان و شوکت خاک…
Read the full tafseer →(140) اور بیشک آپ کا پروردگار بڑی قوت کا مالک اور نہایت رحم والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ آپ کا رب بڑے غلبے والا اور بہت پیار کرنے والا ہے :
140۔ زیر نظر آیت آیت تیسری بار اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ آیت 104 ‘ 122 اور 140 میں یہاں بیان کی جارہی ہے اور ابھی مزید آگے آئے گی ، اس آیت سے بار بار نصیحت دی جا رہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اگر چاہتا تو کوئی قوم یا کوئی شخص جبھی جہالت کی کوئی بات کرتا پکڑ لیا جاتا اس کو پکڑتے کچھ دیر نہیں لگتی کہ وہ دم بھر میں ان کی ساری نخوتوں کو پامال کر کے رکھ دے اسئے کہ وہ عزیز ہے لیکن وہ تو عزیز ہونے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے اس لئے وہ ہر ایک کو ایک وقت تک مہلت دیتا آیا ہے ‘ دے رہا ہے اور دیتا رہے گا پھر جو کوئی اس مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary
Explanation of some difficult words
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾
Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129)
Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
95 For comparison, see Al-A'raf: 73-79, Hud: 61-68, AI-Hijr: 80-84, Bani Isra'il 59; and for further details, see An-Naml . 45-53, Az-Zariyat: 43-45, AI-Qamar: 23-31, AI-Haqqah: 4-5, Al-Fajr: 9, and Ash-Shams: 11. _Thamud achieved power and glory after the destruction of 'Ad and as far as progress in civilization is concerned, they followed in the footsteps of their predecessors. In their case, too, the standards of living went on rising higher and higher and the standards of humanity continued to fall lower and lower, suffering one deterioration after the other. On the one hand, they erected…
Read the full tafseer →