Ash-Shu'araa 26:111

Ash-Shu'araa · from ayah 111

26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ۟ؕقَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَؕ

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Should we believe you while you are followed by the lowest [class of people]?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:111

انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ لوگ بولے : کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں، حالانکہ بڑے نیچے درجے کے لوگ تمہارے پیچھے لگے ہوئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جو سب سے ذلیل ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ کمینے لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے جواب دیا، کیا ہم تمہیں مان لیں اور حال یہ ہے کہ تمہاری پیروی رذیلوں نے کی ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حضرت نوح کی اس حکمت بھری اور پرسوز تقریر کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں جبکہ تیری پیروی ان ہی لوگوں نے اختیار کر رکھی ہے جو کہ سب سے گھٹیاں ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے تو کیا ہم تمہیں ماننے لگیں درآنحالیکہ تمہارے پیرو تو بس رذیل ہی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : کیا ہم تمہاری بات مانیں جبکہ تمہاری پیروی کرنے والے گھٹیا لوگ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They answered: "Shall we accept you even though it is the meanest of people who follow you?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Shall we put faith in thee, when the lowest (of the people) follow thee?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Should we believe you while you are followed by the lowest [class of people]?"

— Saheeh International

They said, "Should we believe in you when no one has followed you except the lowest ones".

— Muhammad Sarwar

They said: Shall we believe in you while the meanest follow you?

— Muhammad Habib Shakir

They said: shall We believe in thee when the meanest follow thee?

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Shall we believe in thee when it is the meanest that follow thee?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:111

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 111–115

ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 81 یہ لوگ جنہوں نے حضرت نوح کو دعوت حق کا یہ جواب دیا، ان کی قوم کے سردار، شیوخ اور اشراف تھے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اسی قصے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہ مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَراً مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأیِ ، وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ (ہود، آیت 27)۔ " اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہمیں تو تم اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتے کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ان لوگوں نے بےسمجھے بوجھے اختیار کرلی ہے جو ہمارے ہاں کے اراذل ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 111–122

شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خوئے بدرا بہانہ بسیار ! حضرت نوح کی اس مخلصانہ اور درد مندانہ نصیحت کا جواب قوم کے متکبرین نے یہ دیا کہ تمہاری پیروی تو ہماری قوم کے اراذل و انفار نے کی ہے تو ہمارے لئے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اعیان و اشراف ہو کر ان کے پہلو بہ پہلو تمہاری مجلس میں بیٹھیں۔ مطلب یہ کہ اگر ہمیں اپنے قریب لانا چاہتے ہو تو پہلے ان لوگوں کو اپنے سے دور کرو۔ قوم کا یہ معاوضہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں تک حضرت نوح کی دعوت کا تعلق ہے اس کی تردید کے لئے ان متمر دین کے پاس کوئی بات باقی نہیں رہی تھی لیکن وہ کسی صورت میں اپنی شکست ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنی رعونت کی تسکین کے لئے آخر میں یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

111-1الارذلون، ارذل کی جمع ہے، جاہ و مال رکھنے والے، اور اس کی وجہ سے معاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیر سمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 102–111

21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا انومن لک و اتبع الارزذلون (111) ’ یہاں ارزلون سے مراد غرباء فقرئا ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسولوں کی پیروی اختیار کرتے ہیں۔ یہی لوگ ایمان لاتے اور استقامت بھی کرتے ہیں اور ان غرباء کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے یہی بےکار کبرا روکتے ہیں اور یہ اس لئے روکتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی پوزیشن اور ان کا مقام و مرتبہ کہیں آگے سے گر نہ جائے۔ غریب لوگ تو ہمیشہ دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کبرا محروم رہتے ہیں ان کا مقام و مرتبہ انہیں حق سے دور رکھتا ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں ، جھوٹے حالات اور وہی روایات کے خول سے باہر نہیں آسکتے۔ پھر یہ کبرا اور معتربین عقیدہ توحید اختیار کر کے یہ پسند نہیں کرتے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی تھوڑے سے کمینے اور نیچ قوم کے لوگ اپنی نمود کے لیے تیرے ساتھ ہوگئے ہیں، بھلا یہ کیا اونچے کام کریں گے اور ہمارا فضل و شرف کب اجازت دے سکتا ہے کہ ان کمینوں کے دوش بدوش تمہاری مجلس میں بیٹھا کریں، پہلے تو آپ ان کو اپنے یہاں سے کھسکائیے۔ پھر ہم سے بات کرنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 109–111

آیت 111 قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ” حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سردار اور اشراف آپ علیہ السلام کی دعوت حق کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم آپ کو کیسے مان لیں جبکہ آپ کی پیروی اختیار کرنے والے تو ہمارے کمیّ کمین ہیں ‘ ہمارے معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لوگ ہیں جنہیں حقیر اور رذیل سمجھا جاتا ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

75 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر نبی کی دعوت کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ جنہیں عموماً چودھری، اشراف یا شیوخ کہا جاتا ہے اور قرآن ان کا ذکر ملا اور مترفین کے الفاظ سے کرتا ہے۔ اور یہ لوگ انبیاء کی مخالفت محض اس لئے کرتے ہیں کہ انھیں نبی پر ایمان لانے کی صورت میں مطاع کے بجائے مطیع بننا پڑتا ہے۔ لہذا ابتداء میں نبیوں پر ایمان وہی لوگ لاتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ نہیں ہوتا اور جنہیں یہ اشراف عموماً حقیر اور کمینہ مخلوق تصور کرتے ہیں۔ دوسری یہ بات کہ یہ اشراف اس بات میں اپنی ہتک اور توہین سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان لا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ پیغمبروں، داعیان حق اور مصلحوں پر شروع شروع میں ایمان لانے والے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے والے زیادہ تر غیب غربا عوام الناس ہی ہوتے ہیں، کہ ان پر حب جاہ وحب ریاست کی تہیں بہت ہلکی چڑھی ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح پر ابتدائی ایمان لانے والے تو تاریخ کی شہادت ہے کہ غریب مچھیرے (ماہی گیر) ہی تھے، اور خود ہمارے رسول کریم ﷺ کی دعوت پر ابتدائی لبیک کہنے والوں میں رؤسا وامراء سے کہیں زیادہ عوام وغرباء تھے (آیت) ’ الارذلون “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی آبادی کے ایک حصہ کو نیچ اور اچھوت قرار دینے کا مرض مشرک جاہلی قوموں میں شروع سے چلا آرہا ہے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض اہل اللہ سے جو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انؤمن لک واتبعک الارذلون۔ کہنے لگے کیا ایسی صورت میں ہم تم پر ایمان لاسکتے ہیں جب کہ کمینے لوگ تمہارے متبع ہیں۔ ارذل (بروزن اعور) کی جمع سالم ارذلون ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے ارذل کمینہ۔ کم عزت۔ بیضاوی نے لکھا ہے جس کی عزت کم ہو اور مال بھی کم ہو وہ ارذل ہے۔ بغوی نے ترجمہ کیا ہے نچلے طبقہ والے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سنار۔ عکرمہ نے کہا کپڑا بننے والے اور موچی۔ قوم نوح کے یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ بہت سخیف العقل احمق تھے ان کے پیش نظر صرف حقیر متاع دنیا تھا وہ نادار مؤمنوں کے متعلق یہی رائے رکھتے تھے کہ صرف مال کے لالچ اور کچھ اونچا اٹھنے کے لئے وہ ایمان لائے ہیں۔ غور و خوض اور فکر و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(111) وہ کہنے لگے اے نوح ؑ کیا ہم تمہاری تصدیق کریں گے، حالانکہ رذیل اور کمزور آدمی تمہارے ساتھ ہوئے ہیں ان کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم تم پر ایمان لے آئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ۔۔ : ”الْاَرْذَلُوْنَ“ ”أَرْذَلُ“ (اسم تفضیل) کی جمع سالم ہے، سب سے کمتر، نیچ، ذلیل، جن کے پاس جاہ و مال نہ ہو، غریب، محتاج۔ ان میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیر سمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بات کہنے والے نوح ؑ کی قوم کے سردار تھے۔ دیکھیے سورة ہود (27) اس سے معلوم ہوا کہ نوح ؑ پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ہمارے نبی ﷺ پر ایمان لانے والے بھی ایسے ہی لوگ تھے۔ حدیث ہرقل میں ہے کہ اس نے ابوسفیان سے سوال کیا : (فَأَشْرَاف النَّاسِ یَتَّبِعُوْنَہُ أَمْ ضُعَفَاءُھُمْ ؟) ”اونچے لوگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 111–122

قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُـوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَنُؤْمِنُ لَكَ [ کیا ہم مان لیں تیری بات ] وَ [ اس حال میں کہ ] ا اتَّبَعَكَ [ تیری پیروی کرتے ہیں ] الْاَرْذَلُوْنَ [ حقیر لوگ ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 111 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان نہ لانے کی وجہ ان کی قوم نے یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں ۔ اس میں ارشاد فرما دیا کہ تم لوگ مال و دولت اور عزت وجاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو تو یہ غلط ہے۔ شرافت ورذالت کا مدار دراصل اعمال و اخلاق پر ہے۔ تم نے جن پر حکم لگا دیا کہ یہ سب رذیل ہیں، یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 109–111

46:۔ مشرکین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تجھے ماننے والے تو بہت گھٹیا اور پست طقبہ کے لوگ ہیں اگر ہم بھی تم پر ایمان لے آئیں تو پھر ہمیں ان رذیل لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا ہوگا۔ یہ بات ہم برداشت نہیں کرسکتے سرمایہ دار اور دولت مند طبقے کی خواہ وہ حسب و نسبت کے اعتبار سے کتنا ہی پست ہو ہمیشہ سے یہی ذہنیت رہی ہے کہ غریب اور مفلس طبقہ کو انہوں نے ہمیشہ حقیر و ذلیل سمجھا ہے۔ خواہ حسب و نسب اور محاسن اخلاق کے اعتبار سے وہ کتنا ہی شریف اور بلند ہو۔ یا ” ارذلون “ سے منافق مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ صرف ظاہر میں تجھ پر ایمان لائے ہیں اور باطن میں تیرے دین کے مخالف ہیں وہ حاصلہ و ما وظیفتی الا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ۝ 11 1ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَـکَ وَاتَّـبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 111) (انھوں نے جواب دیا کہ کیا ہم تم پر ایمان لے لائیں، حالانکہ تمہاری پیروی صرف گھٹیا لوگ کررہے ہیں) خوئے بدرا بہانہ بسیار حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں آپ ( علیہ السلام) کی قوم کے متکبرین اور رئوسا نے جواب دیا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) پر کیسے ایمان لاسکتے ہیں جبکہ تم پر ایمان لانے والے ایسے لوگ ہیں جو خاندانی لحاظ سے بڑے گھٹیا ہیں، مالی لحاظ بڑے مفلس اور گنگال ہیں، معاشرے میں انھیں کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ رہے اونچے طبقہ کے بااثر اور خوشحال لوگ ان میں سے کوئی شخص بھی آپ ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 108–111

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے اور ان کی امانت کا اعتراف کرنے کے باوجود قوم کا جواب۔ قوم کا جواب یہ تھا کہ اے نوح کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں ؟ جبکہ تجھ پر ایمان لانے والے معاشی اعتبار سے غریب سماجی حوالے سے گھٹیا لوگ ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواباً ارشاد فرمایا مجھے کیا معلوم کہ کون کیا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے کاش تم شعور سے کام لو۔ میں ان کے پیشہ کی وجہ سے انھیں اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتا کیونکہ میرے ذمہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ دین کی تاریخ یہ ہے کہ اس کے ماننے والے۔ ابتداً غریب لوگ ہوا کرتے ہیں جنہیں معاشرے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1 1: قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ (کہنے لگے کیا ایسی صورت میں ہم تم پر ایمان لاسکتے ہیں۔ جبکہ تمہاری اتباع کرتے ہیں) ۔ نحو : وائو حالیہ ہے۔ اور اس کے بعد قدؔ مضمر ہے۔ اس کی دلیل قراءت یعقوب میں واتباعُک جمع تابع جیسے شاہد و اشہاد موجود ہے یاتَبَع بطل و ابطال کی طرح ہے۔ اَلْاَرْذَلُوْنَ (رذیل) ۔ کمینے، الرذالۃ : کمینگی، خسات، انہوں نے ان کو رذیل اس لئے کہا کیونکہ نسب اعلی نہ تھے اور دنیا کا مال بھی ان کے پاس قلیل تھا۔ ایک قول یہ ہے : وہ کم درجہ پیشے والے تھے حالانکہ صناعت میں دیانت ہو تو کوئی عیب نہیں اصل غنی تو غنائے دین ہے اور اصل نسب بھی نسبت تقویٰ ہے۔ مومن کو رذیل کہنا جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

111۔ قالوانومن لک واتبعک الارذلون، یعقوب نے ، واتباعک الارذلون، پڑھا ہے۔ اس سے مراد نچلے طبقہ کے لوگ ہیں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد سنار ہیں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کپڑے بننے والے موچی مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 110–111

63 ابنائے دنیا کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو قوم نوح کے ان متکبر منکروں نے اپنے متکبرانہ انداز میں حضرت نوح کی اس مخلصانہ اور پرسوز دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم آپ کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ آپ کی پیروی کرنے والے ایسے گھٹیا لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ابنائے دنیا کا کل کی طرح آج بھی یہی حال اور یہی شیوہ ہے کہ وہ سعادت و شقاوت کو دنیاوی دولت و ثروت کے مادی معیار پر جانچتے پرکھتے ہیں۔ اور محنت و عمل کو وہ باعث رذالت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک کے یہاں اس کا مدارو معیار تقویٰ و کردار ہے۔ سو اس بارے اس کا اصولی ارشاد اپنی کتاب حکیم میں اس طرح صاف وصریح طور پر موجود ہے ۔ {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی کمینے، غریب، روٹیوں کے محتاج اور معمولی قسم کے پیشہ ور جن کو سوسائٹی میں کچھ بھی عزت ووقعت حاصل نہیں ہے۔ مزید دیکھئے سرہ ہود : 27 ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:111) الارزلون۔ کمین لوگ۔ رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے زیادہ نکما۔ رذیل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–112

(ف 1) ان آیتوں میں سب سے پہلے نوح سے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکر فرمایا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا اور دیگر تمام انبیاء کو بھی جھٹلایا، ایک نبی کو جھٹلانا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کرنا حقیقت میں سب انبیاء کو جھٹلانا ہے اس میں سب کے حکم کی نافرمانی پائی گئی اور سب کی تکذیب کی۔ جب ان کے ہم قوم بھائی نوح نے یہ کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور بتوں کو پوجتے ہو۔ بیشک میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں میری امانت اور دیانت پر تم لوگ بھی اتفاق کرتے ہو ہمیشہ سے تم میں رہتاسہتا ہوں کسی اور ملک یا اور قوم یا اور زبان کا آدمی نہیں پس تم اللہ سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–113

حضرت نوح 1: ان آیات میں حضرت نوح کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے حیرت انگیز استقلال کے ساتھ قوم کے کفر اور ان کی سرکشی کا مقابلہ کیا ۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک مسلسل رشدوہدایت کی دعوت دی اور اپنے خلوص اور محبت سے مجبور ہوکر باکمال دلسوزی منکرین حق کو سچائی کی طرف بلایا ۔ ان کا زمانہ ٹھیک طور پر تو معلوم نہیں تاریخ کی اصطلاح میں یہ آدم ثانی ہیں ۔ البتہ بائیبل اور قرآن سے ان کے تبلیغی کارناموں پر روشنی پڑتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے یہ اس دور کے داعی ہیں ۔ جب کہ انسانوں کی عمریں طبعاًبہت زیادہ طویل ہوتی تھیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ حضرت نوح نے قوم سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ تم کیوں پاکبازی کی زندگی بسر نہیں کرتے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(111) اس پر قوم کے لوگوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ کو مان لیں حالانکہ چند رذیل لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں رذیل کہا پیشہ وروں کو اور ان کے پاس بیٹھنے کو عار بتایا کہ ہم ان کے پاس نہیں بیٹھ سکتے یہ کفر کا خاص شیوہ ہے کہ پیشہ ورہ خدمت گزاروں کو ذلیل اور اچھوت سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 106–115

ف 1۔ اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے وڈیروں نے کہا کہ ہم تیرے لئے کیسے ایمان لائیں جبکہ تیرے پیرورذیل لوگ ہیں : 111۔ ذرا غور سے کام لیا جائے تو بات خود بتا دیتی ہے کہ میرے کہنے والے کون لوگ ہیں یہاں بھی بات پر غور کرنے ہی سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا کہ ” ہم تجھے کیسے مان لیں جب کہ تیری پیروی ہم میں سے رذیل ترین لوگ کر رہے ہیں ۔ “ وہ بلاشبہ آپ کی قوم کے سردار ‘ مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر ہی ہوسکتے ہیں جن کے پاس مال و دولت کے ڈھیر ہوتے ہیں اور بڑے بڑے خاندانوں اور برادریوں میں وہ سرکردہ لوگ گنے جاتے ہیں اور انہی وسائل کی بنا پر وہ غریب لوگوں کو رذیل اور کمین خیال کرتے ہیں ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 111–127

Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْ‌ذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112) It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

81 This answer to Prophet Noah's message of Truth was given by the chiefs, elders and nobles of his people as mentioned in Hud: 27: "In answer to this, those chiefs of his people, who had rejected his message, said, 'We see that you are no more than a mere man like ourselves, and we also see that only the meanest from among us have become your followers without due consideration, and we find nothing in you that might give you superiority over us'." This shows that those who believed in Prophet Noah were mostly the poor people, and ordinary workmen, or some youth who enjoyed no position in…

Read the full tafseer →