Ash-Shu'araa 26:110

Ash-Shu'araa · from ayah 110

26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ ۟ؕفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So fear Allah and obey me."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:110

پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرادری کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا تم اللہ سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم لوگ ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so, fear Allah and obey me.

— Muhammad Taqi Usmani

so, fear Allah and obey me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"So have Taqwa of Allah, and obey me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So keep your duty to Allah, and obey me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So fear Allah and obey me."

— Saheeh International

Have fear of God and obey me."

— Muhammad Sarwar

So guard against (the punishment of) Allah and obey me.

— Muhammad Habib Shakir

So fear Allah and obey me.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–110

بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 80 اس فقرے کی تکرار بےوجہ نہیں ہے۔ پہلے یہ ایک اور مناسبت سے فرمایا گیا تھا اور یہاں ایک دوسری مناسبت سے اس کو دہرایا گیا ہے۔ اوپر اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ سے فاتَّقُوا اللہَ کے فقرے کی مناسبت یہ تھی کہ جو شخص اللہ کی طرف سے ایک امانت دار رسول ہے، جس کی صفت امانت سے تم لوگ خود بھی واقف ہو، اسے جھٹلاتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اور یہاں مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ سے اس فقرے کی مناسبت یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی ذاتی فائدے کے بغیر محض اصلاح خلق کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی نیت پر حملہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اس بات کو اتنا زور دے کر بیان کرنے کی وجہ یہ تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

معارف و مسائل طاعات پر اجرت لینے کا حکم وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور تبلیغ پر اجرت لینا درست نہیں ہے اس لئے سلف صالحین نے اجرت لینے کو حرام کہا ہے لیکن متاخرین نے اس کو بحالت مجبوری جائز قرار دیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل آیت وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا کے تحت میں بیان ہوچکی ہے۔ فائدہ اس جگہ فاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ کی آیت دو دفعہ تاکید کے لئے اور یہ بتلانے کے لئے لائی گئی ہے کہ اطاعت رسول اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لئے صرف رسول کی امانت و دیانت یا صرف تبلیغ وتعلیم پر اجرت نہ طلب کرنا ہی کافی تھا لیکن جس رسول میں یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 109–110

آیت 109۔ 110 حقیقت پر غور کرنے کی ترغیب اور اظہار بےنیازی اس فقرے میں مخاطبوں کو حقیقت پر غور کرنے کے لئے ترغیب بھی ہے اور ساتھ ہی بےنیازی کا اظہار بھی۔ مطلب یہ ہے کہ میں یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں محض تمہاری خیر خواہی کے لئے پیش کر رہا ہوں میں اس پر تم سے کسی صلے اور معاوضے کا طالب نہیں ہوں کہ تم اس سے گھبرا کر میری باتیں سننے سے گریز کرو۔ اگر تم میری باتیں سنو اور مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔ اس میں میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے اور وہ مجھے اس سے محروم نہ فرمائے گا۔ خواہ تم میری بات مانو یا نہ مانو۔ تو میں تم سے پھر کہتا ہوں کہ اللہ کے غضب سے ڈرو اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

110-1یہ تاکید کے طور پر بھی ہے اور الگ الگ سبب کی بنا پر بھی، پہلے اطاعت کی دعوت، امانت داری کی بنیاد پر تھی اور اب یہ دعوت اطاعت عدم طمع کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 102–111

21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاثقوا اللہ و اطیعون (110) لیکن لوگ ان پر عجیب اعتراض کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں تمام رسولوں پر یہ اعتراض کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 109–111

آیت 111 قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ” حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سردار اور اشراف آپ علیہ السلام کی دعوت حق کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم آپ کو کیسے مان لیں جبکہ آپ کی پیروی اختیار کرنے والے تو ہمارے کمیّ کمین ہیں ‘ ہمارے معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لوگ ہیں جنہیں حقیر اور رذیل سمجھا جاتا ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

75 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر نبی کی دعوت کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ جنہیں عموماً چودھری، اشراف یا شیوخ کہا جاتا ہے اور قرآن ان کا ذکر ملا اور مترفین کے الفاظ سے کرتا ہے۔ اور یہ لوگ انبیاء کی مخالفت محض اس لئے کرتے ہیں کہ انھیں نبی پر ایمان لانے کی صورت میں مطاع کے بجائے مطیع بننا پڑتا ہے۔ لہذا ابتداء میں نبیوں پر ایمان وہی لوگ لاتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ نہیں ہوتا اور جنہیں یہ اشراف عموماً حقیر اور کمینہ مخلوق تصور کرتے ہیں۔ دوسری یہ بات کہ یہ اشراف اس بات میں اپنی ہتک اور توہین سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان لا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 108–110

72۔ یعنی توحید اور عقائد حقہ کے قائل ہوجاؤ۔ (آیت) ” وما ....... العلمین “۔ یہ مضمون کئی بار پیشتر بھی بیان ہوچکا ہے۔ پیغمبر اپنی تبلیغ کی کوئی فیس نہیں طلب کیا کرتے، نہ نقد میں نہ جنس میں، نہ مال سے نہ جاہ سے، انہیں رضائے الہی کی دولت ہر دنیوی فیس اور معاوضہ سے مستغنی کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتقوا اللہ واطیعون۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ تکرار آیت تاکید کے لئے ہے۔ اس تکرار سے یہ بات ظاہر کرنا بھی ہے کہ امانت دار ہونے کا تقاضا ہے کہ نوح کی بات مانی جائے اور ان کی دعوت قبول کی جائے نیز طلبگار اجرت نہ ہونا اور روپیہ کا لالچ نہ ہونا بھی موجب اطاعت ہے۔ ان دونوں میں اوصاف میں سے ہر وصف مستقل طور پر موجب اطاعت ہے اور حضرت نوح کے اندر تو دونوں اوصاف موجود تھے اس لئے آپ کی اطاعت کا وجوب بدرجۂ اولیٰ ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 109–110

(109۔ 110) اور میں توحید کی تبلیغ پر تم سے کوئی دنیوی صلہ بھی نہیں مانگتا، میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ : یہ آیت دوبارہ آئی ہے، اس کے تکرار میں حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں رسول امین کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کو جھٹلانے پر اللہ سے ڈرایا ہے اور اس آیت میں اس رسول کو جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرایا ہے جو پیغامِ الٰہی پہنچانے میں کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ فرمایا، ایسے بےلوث خیر خواہ کو جھٹلاتے ہوئے اللہ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 105–110

(کذبت قوم نوح المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت فرمایا جب کہ قوم مذکر ہے کیونکہ مراد ہے کذبت جماعۃ قوم نوح۔ المرسلین فرمایا کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسل کو جھٹلایا کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور ان کے بعد رسولوں کے آنے کی جو خبردی اس کو جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنس کا ذکر کیا مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سورة فرقان میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اذقال لھم احواھم نوح ان کے جداعلیٰ کے بیٹے، وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مجانست کی اخوت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاتَّقُوا [ پس تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 109–111

46:۔ مشرکین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تجھے ماننے والے تو بہت گھٹیا اور پست طقبہ کے لوگ ہیں اگر ہم بھی تم پر ایمان لے آئیں تو پھر ہمیں ان رذیل لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا ہوگا۔ یہ بات ہم برداشت نہیں کرسکتے سرمایہ دار اور دولت مند طبقے کی خواہ وہ حسب و نسبت کے اعتبار سے کتنا ہی پست ہو ہمیشہ سے یہی ذہنیت رہی ہے کہ غریب اور مفلس طبقہ کو انہوں نے ہمیشہ حقیر و ذلیل سمجھا ہے۔ خواہ حسب و نسب اور محاسن اخلاق کے اعتبار سے وہ کتنا ہی شریف اور بلند ہو۔ یا ” ارذلون “ سے منافق مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ صرف ظاہر میں تجھ پر ایمان لائے ہیں اور باطن میں تیرے دین کے مخالف ہیں وہ حاصلہ و ما وظیفتی الا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۝ 1 10ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 110) (تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) اس آیت کے تکرار کا سبب ایک ہی رکوع میں اس آیت کا دوبارہ آنا بعض دفعہ وجدان پر گراں گزرتا ہے اور آدمی اسے تکرار سمجھ کر بدمزہ بھی ہوتا ہے، لیکن ایسا احساس قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ان آیات میں اس فقرے کی تکرار بےوجہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ فقرہ لانے کا سبب یہ تھا کہ اس سے پہلے رسول امین کے حوالے سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی صداقت پر دلیل قائم کی گئی تھی۔ وہ دلیل چونکہ ناقابلِ انکار ہے اس لیے اس کے بعد فرمایا کہ ایسی واضح اور مضبوط دلیل کے بعد بھی اگر تم میری نبوت سے انکار کرتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 108–111

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے اور ان کی امانت کا اعتراف کرنے کے باوجود قوم کا جواب۔ قوم کا جواب یہ تھا کہ اے نوح کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں ؟ جبکہ تجھ پر ایمان لانے والے معاشی اعتبار سے غریب سماجی حوالے سے گھٹیا لوگ ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواباً ارشاد فرمایا مجھے کیا معلوم کہ کون کیا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے کاش تم شعور سے کام لو۔ میں ان کے پیشہ کی وجہ سے انھیں اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتا کیونکہ میرے ذمہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ دین کی تاریخ یہ ہے کہ اس کے ماننے والے۔ ابتداً غریب لوگ ہوا کرتے ہیں جنہیں معاشرے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : اجْرِیَ مدنی، شامی، ابو عمرو ‘ حفص نے نصب سے پڑھا ہے۔ اسی طرح میں اس کو چاہتا ہوں۔ 110: فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطِیعُوْنِ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو) اس کو دوبارہ لائے تاکہ ان کے دلوں میں بات بیٹھ جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے ہر ایک ایک علت سے متعلق ہے۔ علت ِاوّل : نوح (علیہ السلام) کا ان کے مابین امانت سے معروف ہونا۔ علت ِدوم : ان سے طمع کے الزام کو مٹانا۔ گویا اس طرح فرمایا کہ جب تم میری رسالت و امانت کو پہچان چکے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اذا عرفتم رسالتی و امانتی فاتقوا اللّٰہ پھر جب تم بدلے سے میرا بریٔ الذمہ ہونا معلوم کرچکے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اذاعرفتم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 110–111

63 ابنائے دنیا کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو قوم نوح کے ان متکبر منکروں نے اپنے متکبرانہ انداز میں حضرت نوح کی اس مخلصانہ اور پرسوز دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم آپ کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ آپ کی پیروی کرنے والے ایسے گھٹیا لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ابنائے دنیا کا کل کی طرح آج بھی یہی حال اور یہی شیوہ ہے کہ وہ سعادت و شقاوت کو دنیاوی دولت و ثروت کے مادی معیار پر جانچتے پرکھتے ہیں۔ اور محنت و عمل کو وہ باعث رذالت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک کے یہاں اس کا مدارو معیار تقویٰ و کردار ہے۔ سو اس بارے اس کا اصولی ارشاد اپنی کتاب حکیم میں اس طرح صاف وصریح طور پر موجود ہے ۔ {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ اور اس قسم کے الزام نہ لگائو… یہ اس لئے فرمایا کہ قوم کے سردار حضرت نوح ( علیہ السلام) کو الزام دیتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ ما ھذا الا بشر مثلکم ان یتفضل علیکم۔ یہ تم جیسا ایک آدمی ہے جو تمہارا بڑا بننا چاہتا ہے۔ (مومنون :4) پہلی آیت میں اپنی اطاعت کا حکم امین ہونے کی بنا پر دیا ہے اور اس آیت میں بےتلمع اور بےغرض ہونے کی بنا پر۔ اس سے تکرار کی حکمت سمجھ میں آجاتی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 109–110

(26:109) علیہ : ای علی تبلیغ ھذا۔ اس دعوت الی الحق اور وعظ و نصیحت کا ۔ اجر۔ صلہ۔ اجرت۔ معاوضہ۔ بدلہ۔ مزدوری۔ ان۔ نافیہ ہے۔ علی رب العالمین۔ پروردگار عالم کے ذمہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–112

(ف 1) ان آیتوں میں سب سے پہلے نوح سے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکر فرمایا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا اور دیگر تمام انبیاء کو بھی جھٹلایا، ایک نبی کو جھٹلانا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کرنا حقیقت میں سب انبیاء کو جھٹلانا ہے اس میں سب کے حکم کی نافرمانی پائی گئی اور سب کی تکذیب کی۔ جب ان کے ہم قوم بھائی نوح نے یہ کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور بتوں کو پوجتے ہو۔ بیشک میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں میری امانت اور دیانت پر تم لوگ بھی اتفاق کرتے ہو ہمیشہ سے تم میں رہتاسہتا ہوں کسی اور ملک یا اور قوم یا اور زبان کا آدمی نہیں پس تم اللہ سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–113

حضرت نوح 1: ان آیات میں حضرت نوح کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے حیرت انگیز استقلال کے ساتھ قوم کے کفر اور ان کی سرکشی کا مقابلہ کیا ۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک مسلسل رشدوہدایت کی دعوت دی اور اپنے خلوص اور محبت سے مجبور ہوکر باکمال دلسوزی منکرین حق کو سچائی کی طرف بلایا ۔ ان کا زمانہ ٹھیک طور پر تو معلوم نہیں تاریخ کی اصطلاح میں یہ آدم ثانی ہیں ۔ البتہ بائیبل اور قرآن سے ان کے تبلیغی کارناموں پر روشنی پڑتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے یہ اس دور کے داعی ہیں ۔ جب کہ انسانوں کی عمریں طبعاًبہت زیادہ طویل ہوتی تھیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ حضرت نوح نے قوم سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ تم کیوں پاکبازی کی زندگی بسر نہیں کرتے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(110) سو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو یعنی اس ادائے رسالت پر جب تم سے کوئی دنیوی فائدہ بھی حاصل نہیں کرتا تو اس بےغرضی اور بےنفسی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت و پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 106–115

ف 1۔ اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو : 110۔ میں نے تو تم کو پہلے بھی یہی کہا تھا کہ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو اور اب بھی یہی کہتا ہوں اور بار بار کہوں گا کیونکہ اللہ کا ڈر رکھنا والے ہی صحیح معنوں میں فرمانبردار بندے ہو سکتے ہیں ۔ انبیاء ورسل کی دعوت سے کیڑے نکالنے والے اور ان پر طرح طرح کے الزام لگانے اور دراصل اپنے دلوں میں اللہ کر ڈر نہیں رکھتے اور ایسے نڈر ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور تمہارا نقصان میرا ہی نقصان ہے کیونکہ تم میرے خاندان کے چشم وچراغ ہو ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

Commentary وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ And I do not claim from you any reward for it. - 26:109 It is learnt from this verse that charging and acceptance of wages against religious teachings and preaching is not right. Therefore, the righteous elders have ruled it as forbidden, but the later generations have allowed it under compelling circumstances. Its full details have been given under the explanation of the verse لَا تَشْتَرُ‌وا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا do not take a paltry price for My signs" - 2:41. Special note Here the verse فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ (So, fear…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

80 Repetition of this sentence is not without reason. In the first case Iv. I U8), it implied this: "You should fear Allah if you treat as false a true and trustworthy Messenger from Him, whom you yourselves have been regarding as a true and trustworthy tnan in the past." Here it means: "You should fear Allah if you doubt the intention of a person who is working sincerely only for the reformation of the people without any personal interest." This thing has been stressed because the chiefs of Prophet Noah's people, in order to find fault with his message of Truth, accused him of struggling…

Read the full tafseer →