Explained with ayahs 90–104
نیک لوگ اور جنت
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 72
اس تمنا کا جواب بھی قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہٗ۔ (الانعام۔ آیت 28) " اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے "۔ رہا یہ سوال کہ انہیں واپسی کا موقع کیوں نہ دیا جائے گا، اس کے وجوہ پر مفصل بحث ہم سورة مؤمنون حواشی 90 تا 92 میں کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
آیت 102-99
پیروئوں کا ماتم اپنی بدبختی پر
اوپر والی بات تو پیرو اپنے لیڈروں کو مخطاب کر کے کہیں گے اور یہ باتیں وہ نہایت حسرت واندوہ کے ساتھ خود اپنے آپ کو ملامت اور پانی بدبختی پر ماتم کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا۔ اگر یہ نہ گمراہ کرتے تو ہم ہدایت پر ہوتے اور یہ روز بد نہ دیکھتے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ مجرمون وہ اپنے لڈیروں کے لئیاستعمال کریں گے۔
فمالنا من شافعین ولا صدیق حمیم یہ اظہار حسرت کے الفاظ ہیں یعنی جن کی شفاعت کی امید پر زندگی بھر ان کی پرستش کی وہ بھی سب ہوا ہوگئے اور جن کا عمر بھر جھنڈا اٹھائے پھرے ان میں سے بھی آج کوئی ہماری حمایت و مدافعت کے لئے نظر نہیں…
Read the full tafseer →12-1اہل کفر و شرک، قیامت کے روز دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اللہ کو خوش کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ اگر انھیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…
Read the full tafseer →2 یعنی اگر ایک مرتبہ ہم کو پھر دنیا کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے تو اب وہاں سے پکے ایماندار بن کر آئیں لیکن یہ کہنا بھی جھوٹ ہے۔ ( وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
69 مجرموں اور جہنمیوں کے اس قول اور اس آرزو کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار آیا ہے اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی مذکور ہے۔ یعنی ان کو اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کام کریں گے جیسے پہلے کرتے رہے ہیں (16: 28 ( کیونکہ انسان کی تو عادت ہی یہ ہے کہ مشکل کے وقت جب جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو بعد میں وہ پھر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے معبودوں کو ہی پکارنے لگ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
70۔ (ہماری توحید وقدرت کا) ” اس ماجرا میں “ یعنی یہی جو اوپر مذکور ہوا۔ حضرت ابراہیم کا قصہ اور قیامت کے دن کا نقشہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →فلوا ان لنا کرۃ فنکون من المؤمنین۔ پس کاش ہم کو ایک بار (دنیا میں) لوٹنا مل جاتا تو ہم (بھی) مؤمنوں (کے گروہ) میں سے ہوجاتے۔
اس آیت میں تو بمعنی لَیْتَ (کاش) کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →(102) سو کیا اچھا ہوتا کہ ہمیں دنیا میں پھر واپس جانا ملتا کہ ہم ایمان لا کر مسلمانوں کے زمرہ میں داخل ہوجاتے۔
Read the full tafseer →فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً۔۔ : کفار کی اس تمنا کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ہے اور یہ بھی کہ ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة بقرہ (167) ، انعام (27، 28) اور مؤمنون (106 تا 108)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
فما لنا من شافعین ہمارے کوئی شفیع نہیں فرشتوں میں سے انبیاء میں سے اور مومنوں میں سے۔ ولا صدیق حیم اور نہ کوئی مشفق دوست ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ کہا کرتے تھے : بھلائیوں کو لازم پکڑو کیونکہ وہ دنیا و آخرت کا سامان ہیں کیا تو جہنمیوں کا قول نہیں سنتا۔ فما لنا من شافعین۔ ولا صدیق حمیم۔ زمحشری نے کہا : شافع کی جمع ذکر کی کیونکہ شفاعت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور صدیق کو واحد ذکر کیا کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ انسان جب ظالم کے ظلم کا شکارہو تو اس کے شہر کی بڑی جماعت اس کی سفارش کے لیے جاتی ہے مقصد اس پر رحم و شفقت کا اظہارہوتا ہے اگرچہ اکثر کو پہلے اس کی پہچان تک نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فما لنا من شافعین “ سے مراد کہ نہ آسمان والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنے والا اور آیت ” ولا صدیق حمیم “ اور نہ زمین والوں میں سے کوئی غمخوار دوست ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا صدیق حمیم “ سے مراد ہے کوئی دوست شفقت کرنے والا نہیں ہے جو سفارش کرے۔
5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فلو ان لنا کرۃ “ یعنی اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کی طرف آیت ” فنکون من المؤمنین “ تو ہم ایمان والے ہوتے یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی سفارش حلال ہوجاتی جیسے ان مومنین کے لیے حلال ہوئی واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →فَلَوْ اَنَّ [ تو کاش کہ ] لَنَا [ ہمارے لئے ہوتی ] كَرَّةً [ ایک اور باری ] فَنَكُوْنَ [ نتیجتاً ہم ہوتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–105
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
42:۔ کاش ! ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیجا جائے تو ہم اخلاص اور صدق نیت سے ایمان لائیں، توحید کو مانیں اور شرک سے دور بھاگیں اور پھر ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے تو ہم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ ان دونوں آیتوں کی تفسیر گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
ربط آیات
اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…
Read the full tafseer →فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّۃً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 102
كر
الْكَرُّ : العطف علی الشیء بالذّات أو بالفعل، ويقال للحبل المفتول : كَرٌّ ، وهو في الأصل مصدر، وصار اسما، وجمعه : كُرُورٌ. قال تعالی: ثُمَّ رَدَدْنا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ [ الإسراء/ 6] ، فَلَوْ أَنَّ لَنا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الشعراء/ 102] ، وَقالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنا كَرَّةً [ البقرة/ 167] ، لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً [ الزمر/ 58] والْكِرْكِرَةُ : رحی زَوْرِ البعیر، ويعبّر بها عن الجماعة المجتمعة، والْكَرْكَرَةُ : تصریف الرّيحِ السّحابَ ، وذلک مُكَرَّرٌ من كَرَّ.
( ک ر ر ) الکر۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–105
ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔
تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ ۔ وَلاَ صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ۔ فَلَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 100 تا 102)
(تو نہ اب کوئی ہمارا سفارشی ہے۔ اور نہ کوئی غمخوار دوست۔ پس اگر ہمارے اختیار میں ہوتا دنیا میں واپس جانا تو ہم اہل ایمان میں سے ہوتے۔ )
حسرت کا اظہار
یہ اظہارِ حسرت کے الفاظ ہیں، یعنی ہم دنیا میں جن کی شفاعت کی امید لگائے بیٹھے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن تھام لینے سے آخرت میں کسی غم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج ان میں سے کوئی بھی یہاں موجود نہیں، سب ہوا ہوگئے۔ کوئی بھی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں۔ جن کا عمر بھر جھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا انتہائی مایوسی کے عالم میں دنیا میں پلٹ جانے کا مطالبہ کرنا :
جہنمی جب جہنم میں اپنے بڑوں اور معبودوں کے ساتھ جھگڑا کریں گے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ خواہ مخواہ ہم پر الزام لگاتے ہو تم تو خود گمراہ تھے۔ (الصّٰفٰت : 32)
برے مرید، ور کرر اور مقتدی حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن کو ہم سفارشی سمجھتے رہے آج ہمارے لیے سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جن کو ہم اپنا بہی خواہ اور مخلص سمجھتے تھے آج کوئی خیر خواہی اور بھائی چارہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کاش ! ہمیں ایک بار دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر ایک رب پر ایمان…
Read the full tafseer →102: فَلَوْ اَنَّ لَنَاکَرَّ ۃً (پس کاش ہم کو ایک بار واپسی لوٹنا میسر آجاتا) کرہؔ سے مراد دنیا کی طرف لوٹنا ہے۔ فَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (پس ہم ضرور مؤمنین میں سے ہوجاتے)
نحو : لوؔ کا جواب محذوف ہے اور وہ لفعلنا کیت و کیت ہے۔ نمبر 2۔ لو ایسے مقام پر تمنی کیلئے ہے گویا اس طرح کہا گیا ہے فلیت لنا کرۃً کاش ہمارے لئے لوٹنا ہو کیونکہ لوؔ اور لیتؔ قریب المعنیٰ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
101۔ ولاصدیق حمیم۔ یا کوئی قریبی رشتہ دار جو ہماری سفارش کرے گا، کفار لوگ اس وقت کہیں گے جب مومنین کی سفارش فرشتے انبیاء ، اور دیگر مومنین کریں گے ۔ صدیق وہ دوست جو محبت میں سچاہو دین کی شرط کے ساتھ۔
حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ فرماتے ہیں ن کہ میں نے خود حضرت محمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی جنت کے اندر چلاجائے گا، اور کہے گامیرافلاں دوست کا کیا ہوا ؟ اس وقت اس جنتی کادوست جہنم میں ہوگا۔ اللہ حکم دے گا، اس کے دوست کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جاؤ اس کے بعد جو لوگ دوزخ میں رہ جائیں گے وہ کہیں گے ، فمالنا من شافعین ولاصدیق حمیم۔ حسن کا قول ہے کہ اپنے مومن دوستوں کی تعداد زیادہ رکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
102 تا 104:۔ اوپر کی آیتوں کے موافق جب کہ جنت طرح طرح کی نعمتوں سے آراستہ کی جاوے گی جس آراستگی کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت 4 ؎ میں مختصر طور پر یوں فرمایا ہے کہ ایک کمان کی لکڑی کی لمبائی برابر جگہ بھی جنت میں تمام دنیا اور تمام دنیا کی نعمتوں سے بہتر ہے اور اسی طرح دوزخ میں طرح طرح کے عذاب مہیا کئے جاویں گے جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ترمذی 5 ؎ کی صحیح روایت میں اس طرح فرمایا ہے کہ دوزخ کے تھور کے دودھ کا ایک قطرہ بھی دنیا میں آن پڑے تو تمام اہل دنیا کی زیست دشوار ہوجائے اس جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مختصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
58 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کی اس سرگزشت اور ان کی اپنی قوم کے ساتھ اس مدلل کلام میں بڑی بھاری نشانی ہے جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور یہ ایسی ٹھوس اور واضح حقیقت ہے جو عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس قصہ میں عقل و فکر کے دریچوں کو وا کرنے والی بڑی بھاری نشان ہے جو واضح کرتی ہے کہ توحید خداوندی ہی اصل دین ہے جو عقل و فطرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
11 ۔ یعنی غور کرنے والوں کے لئے سامان عبرت ہے۔
12 ۔ یا ” ان قریش میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ “ زیادہ صحیح مطلب یہی دوسرا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم لے لوگ تو سب کے سب کافر و مشرک تھے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:102) فلو۔ یہاں لو شرطیہ بھی ہوسکتا ہے یعنی اگر ہمارے لئے ممکن ہوتا دوبارہ (دنیا میں) جانا فنکون (جزائ) تو ہم اہل ایمان سے ہوتے۔ اور لو تمنائی بھی ہوسکتا ہے کاش ہمیں (دنیا میں) دوبارہ جانا ملتا فنکون من المؤمنین (جواب تمنا) تو ہم مومن ہو جاتے
کرۃ : الکر اصل میں مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو بالذات یا بالفعل پلٹانا یا موڑ دینا۔ کر کے بعد ۃ وحدت کی ہے جس کے معنی ہیں ایک بار لوٹنا۔ ایک پھیرا۔ ایک مرتبہ واپسی۔ یہاں اس کے معنی ہیں عالم آخرت سے لوٹ کر ایک بار پھر دنیا میں جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں توعاقبت کے منکر لوگ دوزخ کے عذاب سے بےخوف ہیں میدان حشر میں جب وہ عذاب دیکھیں گے تو یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ پھر دنیا میں پیدا کیے جائیں اور نیک کام کرکے جس طرح نیک کام کرنے والوں کو اس عذاب سے نجات مل گئی ہے اسی طرح ان کو بھی اس عذاب سے نجات مل جائے مگر یہ خواہش ان کی اللہ کے علم میں ہے کہ اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں پیدا کیا گیا تو پھر یہ ایسے ہی گمراہی کے کام کریں گے فرمایا کہ جب دوزخ میں منہ کے بل ڈالے جایں گے اس وقت یہ بدلوگ قسمیں کھاکھا کر اپنی گمراہی پر افسوس کریں گے اور کبھی بدل لوگ شیطان یا گمراہ کرنے والے دوست جنہوں نے بہکایا تھا ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
حل لغات :۔ حمیم ۔ مخلص ۔ خویش ۔
Read the full tafseer →(102) پس کیا اچھا ہوتا کہ ہم کو دنیا میں پھر واپس جانا مل جاتا تو ہم بھی ایمان والوں میں س ہوجاتے ۔
یعنی نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہے جو سفارش کرکے اس عذاب سے پیچھا چھڑائے اور نہ کوئی مخلص اور غم خوار دوس جو کم سے کم ہمدردی کرکے ہمارے غم کو ہلاک کرے کیا اچھا ہو اگر ہم کو پھر واپس ہونے کا ایک موقعہ مل جائے تو ہم بھی ایمان لا کر ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–102
ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →ان کی حسرت کا آخری کلمہ کہ کاش ہمیں ایک بار واپس جانے کی اجازت مل جاتی :
102۔ ان کی حسرت بھری کہانی جو انہوں نے اپنی زبانی سنانا شروع کی ہے اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے کہا جا رہا ہے کہ جب ان کے معبودان باطل ان کو دیکھ کر آنکھیں پھیر جائیں گے تو وہ ان کو پہچان کر ان کو مخاطب کرتے ہوئے خوب اپنے دل کی بھڑاس نکالیں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے ‘ انکو مجرم قرار دیں گے جب ان کی سفارش کے لئے بھی کوئی آگے نہیں بڑھے گا اور کسی گہرے دوست کو ان کی حالت زار دیکھ کر بھی ان پر ترس نہیں آئے گا اور وہ عین مایوسی کی حالت میں آخری بات جو کہیں گے وہ یہ ہوگی کہ ” اے میرے رب ! مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →72 That Qur'an has given an answer to this kind of longing and desire as well:".. evenif they be sent back to the earthly life, they would do all that they had beenforbidden to do." (Al-An`am: 28). As for the reasons why they will not be allowed to return to the world, please see E.N.'s 90-92 of Al-Mu'minun above.
Read the full tafseer →